Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 74

سورة آل عمران

یَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۷۴﴾

He selects for His mercy whom He wills. And Allah is the possessor of great bounty.

وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کر لے اور اللہ تعالٰی بڑے فضل والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He selects for His mercy whom He wills and Allah is the Owner of great bounty. meaning, He has endowed you, O believers, with tremendous virtue, in that He honored your Prophet Muhammad over all other prophets, and by directing you to the best Shariah there is.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

74۔ 1 اس آیت کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں ایک یہ یہود کے بڑے بڑے علماء جب اپنے شاگردوں کو یہ سکھاتے کہ دن چڑھتے ایمان لاؤ اور دن اترتے کفر کرو تاکہ جو لوگ فی الواقع مسلمان ہیں وہ بھی متذبذب ہو کر مرتد ہوجائیں تو ان شاگردوں کو مزید یہ تاکید کرتے تھے کہ دیکھو صرف ظاہرا مسلمان ہونا حقیقتاً اور واقعتًا مسلمان نہ ہوجانا بلکہ یہودی ہی رہنا اور یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ جیسا دین جیسی وحی و شریعت اور جیسا علم وفضل تمہیں دیا گیا ہے ویسا ہی کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے یا تمہارے بجائے کوئی اور حق پر ہے جو تمہارے خلاف اللہ کے نزدیک حجت قائم کرسکتا ہے اور تمہیں غلط ٹھہرا سکتا ہے اس معنی کی رو سے جملہ معترضہ کو چھوڑ کر عند ربکم تک کل یہود کا قول ہوگا دوسرے معنی یہ ہیں کہ اے یہودیو ! تم حق کو دبانے اور مٹانے کی یہ ساری حرکتیں اور سازشیں اس لیے کر رہے ہو کہ ایک تمہیں اس بات کا غم اور جلن ہے کہ جیسا علم وفضل وحی و شریعت اور دین تمہیں دیا گیا تھا اب ویسا ہی علم وفضل اور دین کسی اور کو کیوں دے دیا گیا۔ دوسرا تمہیں یہ اندیشہ اور خطرہ بھی ہے کہ اگر حق کی یہ دعوت پنپ گئی اور اس نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں تو نہ صرف یہ کہ تمہیں دنیا میں جو جاہ و وقار حاصل ہے وہ جاتا رہے گا بلکہ تم نے جو حق چھپا رکھا ہے اس کا پردہ بھی فاش ہوجائے گا اور اس بنا پر یہ لوگ اللہ کے نزدیک بھی تمہارے خلاف حجت قائم کر بیٹھیں گے۔ حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دین و شریعت اللہ کا فضل ہے اور یہ کسی کی میراث نہیں بلکہ وہ اپنا فضل جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اسے معلوم ہے کہ یہ فضل کس کو دینا چاہیے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٥] ان کی ان سب کوششوں اور شرارتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا۔ بیشک ایک وقت تھا جب اللہ نے تمہیں تمام جہان والوں پر عزو شرف بخشا تھا۔ لیکن اب تم مسلسل فتنہ انگیزیوں اور بدعہدیوں کی وجہ سے اس قابل نہیں رہے۔ فضل و شرف کا مالک اللہ ہے اور اب جسے اس نے مناسب اور مستحق سمجھا اسے اس نے دے دیا۔ فضل و شرف کے ٹھیکیدار تم نہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ تم جیسا تنگ نظر نہیں ہے کہ فضل و شرف کے اہل لوگوں کو فضل و شرف عطا نہ فرمائے، بلکہ وہ بڑا وسیع النظر ہے۔ سب کچھ جاننے والا اور وہی فضل و شرف عطا کرنے والا ہے اور وہ یہ بھی خوب جانتا ہے کہ تم اب اس عزوشرف کے اہل نہیں رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝ ٧٤ خص التّخصیص والاختصاص والخصوصيّة والتّخصّص : تفرّد بعض الشیء بما لا يشارکه فيه الجملة، وذلک خلاف العموم، والتّعمّم، والتّعمیم، وخُصَّان الرّجل : من يختصّه بضرب من الکرامة، والْخاصَّةُ : ضدّ العامّة، قال تعالی: وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [ الأنفال/ 25] ، أي : بل تعمّكم، وقد خَصَّهُ بکذا يخصّه، واختصّه يختصّه، قال : يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 74] ، وخُصَاصُ البیت : فرجة، وعبّر عن الفقر الذي لم يسدّ بالخصاصة، كما عبّر عنه بالخلّة، قال : وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كانَ بِهِمْ خَصاصَةٌ [ الحشر/ 9] ، وإن شئت قلت من الخصاص، والخُصُّ : بيت من قصب أو شجر، وذلک لما يرى فيه من الخصاصة . ( خ ص ص ) التخصیص والاختصاص والخصومیۃ والتخصیص کسی چیز کے بعض افرادکو دوسروں سے الگ کرکے ان کے ساتھ خصوصی برتاؤ کرنا یہ ۔ المعمو والتعمم والتعمیم کی ضد ہے ۔ خصان الرجل ۔ جن پر خصوصی نوازش کرتا ہو۔ الخاصۃ ۔ یہ عامۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [ الأنفال/ 25] اور اس فتنے سے ڈر و وجو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں یعنی ) بلکہ سب پر واقع ہوگا ۔ خصہ بکذا واختصہ ۔ کسی کو کسی چیز کے ساتھ مختص کرنا ۔ قرآن میں ہے :۔ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشاءُ [ آل عمران/ 74] جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کرلیتا ہے ۔ خصاص البیت مکان میں شگاف کو کہتے ہیں ۔ اسی سے خصاصۃ اس فقر اور احتیاج کو کہتے ہیں جو ختم نہ ہوئی ہو ۔ اس قسم کے فقر کو خلۃ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كانَ بِهِمْ خَصاصَةٌ [ الحشر/ 9] اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو ۔ لہذا آپ اسے خصاص سے ماخوذ قرار دے سکتے ہیں ۔ الخص ۔ بانس یا لکڑی کا جھونپڑ اور اسے خص اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں جھرکے نظر آتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنوی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٤ (یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط) (وَاللّٰہُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ) اگلی آیت میں حکمت دعوت کے اعتبار سے بہت اہم نکتہ موجود ہے کہ برے سے برے گروہ کے اندر بھی کہیں نہ کہیں کوئی اچھے افراد لازماً ہوتے ہیں۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کا تذکرہ بھی کرتا رہے کہ ان میں اچھے لوگ بھی ہیں ‘ تاکہ ایسے لوگوں کے دلوں کے اندر نرمی پیدا ہو۔ اسی طرح فرد کا معاملہ ہے کہ برے سے برے آدمی کے اندر کوئی اچھائی بھی موجود ہوتی ہے۔ آپ اگر اسے حق کی دعوت دے رہے ہیں تو اس میں جو اچھائی ہے اس کو مانیے ‘ تاکہ اسے معلوم ہو کہ اسے مجھ سے کوئی دشمنی نہیں ہے ‘ میری جو بات واقعی اچھی ہے اس کو یہ تسلیم کر رہا ہے ‘ لیکن جو بات غلط ہے اس کو ردّ کر رہا ہے۔ اس طرح اس کے دل میں کشادگی پیدا ہوگی اور وہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

63. That is, God knows who deserves to be honoured and exalted.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :63 یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ کون فضل و شرف کا مستحق ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:74) یختص۔ مضارع واحد مذکر غائب مخصوص فرماتا ہے۔ ذوا الفضل العظیم۔ الفضل موصوف العظیم صفت۔ صفت موصوف مل کر مضاف الیہ۔ ذو مضاف۔ فضل عظیم کا مالک۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جب اہل اسلام نے یہ سنا تو ان کے دل میں اللہ کے فضل وکرم کا احساس پیدا ہوا ۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ انہیں ایک عظیم ڈیوٹی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اور انہیں مخصوص طور پر یہ اعزاز دیا گیا ہے ۔ تو انہوں نے اپنے اس اعزاز کو بڑی دلچسپی کے ساتھ قائم رکھا۔ بڑی مضبوطی اور عزم سے اسے تھام لیا ۔ بڑی قوت اور ثابت قدمی سے اس کی مدافعت کی ۔ وہ حاسدوں اور مکاروں کی سازشوں کے مقابلے میں چوکنے ہوگئے ۔ قرآن کریم کا یہی انداز تربیت تھا ۔ اس لئے کہ یہ حکیم ودانا کا کلام ہے ۔ اور آج بھی امت مسلمہ کے لئے یہی عنصر موجب اصلاح وتربیت ہوسکتا ہے ۔ ہر زمانے اور ہر نسل میں ۔ آگے بڑھ کر مزیدحالات اہل کتاب کی بابت بیان ہوتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے طرز عمل میں کس قدر تناقص پایا جاتا ہے ۔ اور قطعی طور پر بتادیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا دین یعنی اسلام کن صحیح اور سچے اقدار پر استوار ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے اندر باہمی معاملات میں کس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ چونکہو ہ واسع العطا یا اور ہر شخص کی حالت سے پوری طرح واقف ہے اس لئے اپنے نقل و رحمت کیلئے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب فضل ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اس کی رحمت اس کے قبضے میں ہے وہ جس کو چاہے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے نوازے اگر اس نے نبی اسماعیل کو نبوت عطا فرما دی تو اس پر حسد اور جلن کی کوئی وجہ نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعض یہود نے آپس میں مشورت کی کہ تم صبح کو جا کر ظاہر میں مسلمان ہو جائو اور شام کو پھر جائو تو شاید مسلمان بھی پھر جاویں ۔ جانیں کہ یہ لوگ منصف تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین میں آئے تھے پھر کچھ ایسی غلطی پانی کہ پھرگئے اور آپس میں کہا کہ دل سے ہرگز یقین نہ کرلو مگر اپنے دین والوں کی بات تا کسی کے دل میں سچ اسلام نہ آجائے سو اللہ تعالیٰ نے ان کا فریب کھول دیا ۔ فرمایا تو کہہ ہدایت دی جو اللہ دے تمہارے فریب سے کوئی گمراہ نہ ہوگا مگر تم یہ حسد کرتے ہو کہ آگے نبوت اور بزرگی بنی اسرائیل میں تھی اب اور فرقے میں کیوں ہوئی یاد ین کی مدد گاری میں ہماری مقابل اور کوئی کیوں ہوا سو یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہا دیا کی کو حق نہیں۔ ( مواضح القرآن) حضر ت شاہ صاحب (رح) نے جو خلاصہ بیان فرمایا ہے اس کا مطلب بالکل صاف ہے۔ لا تومنوا اور یحاجو کم میں شاہ صاحب (رح) نے ایک قول اختیار کرلیا ہے ہم عرض کرچکے ہیں کہ مختلف معنی کی گنجائش ہے ۔ جو چاہے اختیار کرلیا جائے ۔ نتیجہ کے اعتبار سے تقریباً سب کا ایک ہی مفاد ہے اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب کی اس خیانت کا ذکر تھا جو وہ دین میں کرتے تھے۔ اب آگے انکی اس خیانت کا ذکر ہے جو وہ مال میں کیا کرتے تھے اور چونکہ مال کے معاملہ میں سب یکساں نہ تھے اس لئے دونوں فریق کا ذکر فرماتے ہیں ۔ معاملات کا تعلق بھی دین سے ہے معاملات میں بھی وہی برا ہوتا ہے جو دینی اعتبار سے کمزور ہوتا ہے اور معاملات کی کمزوری بھی اس میں ہوتی ہے جس کا دین ضعیف ہوتا ہے اس لئے آگے کا مضمون سابقہ مضمون کے ساتھ مربوط ہے۔ ( تسہیل)