Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 77

سورة آل عمران

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَشۡتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ اَیۡمَانِہِمۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَ لَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾

Indeed, those who exchange the covenant of Allah and their [own] oaths for a small price will have no share in the Hereafter, and Allah will not speak to them or look at them on the Day of Resurrection, nor will He purify them; and they will have a painful punishment.

بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالٰی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں اللہ تعالٰی نہ ان سے بات چیت کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا ، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

There is No Share in the Hereafter for Those Who Break Allah's Covenant Allah says; إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً ... Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths, Allah states that whoever prefers the small things of this short, soon to end life, instead of fulfilling what they have promised Allah by following Muhammad, announcing his description (from their books) to people and affirming his truth, then, ... أُوْلَـيِكَ لاَ خَلَقَ لَهُمْ فِي الاخِرَةِ ... they shall have no portion in the Hereafter. They will not have a share or part in the Hereafter's rewards, ... وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللّهُ وَلاَ يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... Neither will Allah speak to them nor look at them on the Day of Resurrection, with His mercy. This Ayah indicates that Allah will not speak words of kindness nor look at them with any mercy. ... وَلاَ يُزَكِّيهِمْ ... nor will He purify them, from sins and impurities. Rather, He will order them to the Fire. ... وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ and they shall have a painful torment. There are several Hadiths on the subject of this Ayah, some of which follow. The First Hadith Imam Ahmad recorded that Abu Dharr said, "The Messenger of Allah said, ثَلَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم There are three persons whom Allah will not speak to, look at on the Day of Resurrection or purify, and they shall taste a painful torment. I said, `O Messenger of Allah! Who are they, may they gain failure and loss?' He said, repeating this statement thrice, الْمُسْبِلُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ وَالْمَنَّان `The Musbil (man whose clothes reach below the ankles), he who swears while lying so as to sell his merchandize and the one who gives charity and reminds people of it."' This was also recorded by Muslim, and the collectors of the Sunan. Another Hadith Imam Ahmad recorded that Adi bin Amirah Al-Kindi said, "Imru' Al-Qays bin Abis, a man from Kindah, disputed with a man from Hadramut in front of the Messenger of Allah concerning a piece of land. The Prophet required the man from Hadramut to present his evidence, but he did not have any. The Prophet required Imru' Al-Qays to swear to his truthfulness, but the man from Hadramut said, `O Messenger of Allah! If you only require him to swear, then by the Lord of the Ka`bah (Allah), my land is lost.' The Messenger of Allah said, مَنْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَحَدٍ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَان Whoever swears while lying to acquire the property of others, will meet Allah while He is angry with him." Raja' one of the narrators of the Hadith, said that; the Messenger of Allah then recited, إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً (Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths...). Imru' Al-Qays said, `What if one forfeits this dispute, what will he gain, O Messenger of Allah?' The Prophet answered, `Paradise.' Imru' Al-Qays said, `Bear witness that I forfeit all the land for him."' An-Nasa'i also recorded this Hadith. Another Hadith Imam Ahmad recorded that Abdullah said that the Messenger of Allah said, مَنْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِى مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَان Whoever takes a false oath to deprive a Muslim of his property will meet Allah while He is angry with him. Al-Ash`ath said, "By Allah! This verse was revealed concerning me. I owned some land with a Jewish man who denied my right, and I complained against him to the Messenger of Allah. The Prophet asked me, `Do you have evidence?' I said, `I don't have evidence.' He said to the Jew, `Take an oath then.' I said, `O Allah's Messenger! He will take a (false) oath immediately, and I will lose my property.' Allah revealed the verse, إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلً (Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths...)." The Two Sahihs recorded this Hadith. Another Hadith Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, ثَلَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ مَنَعَ ابْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ يَعْنِي كَاذِبًا وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَه Three persons whom Allah shall not speak to on the Day of Resurrection, or look at, or purify them, and they shall taste a painful torment. They are: a man who does not give the wayfarer some of the water that he has; a man who swears, while lying, in order to complete a sales transaction after the `Asr prayer; and a man who gives his pledge of allegiance to an Imam (Muslim Ruler), and if the Imam gives him (something), he fulfills the pledge, but if the Imam does not give him, he does not fulfill the pledge. Abu Dawud and At-Tirmidhi also recorded this Hadith, and At-Tirmidhi graded it Hasan Sahih.

جھوٹی قسم کھانے والے یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں نہ آپ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اسی طرح جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان بدکاریوں سے وہ اس ذلیل اور فانی دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان سے اللہ تعالیٰ کوئی پیار محبت کی بات کرے گا نہ ان پر رحمت کی نظر ڈالے گا نہ انہیں ان کے گناہوں سے پاک صاف کرے گا بلکہ انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے گا اور وہاں وہ دردناک سزائیں بھگتتے رہیں گے ، اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں جن میں سے کچھ یہاں بھی ہم بیان کرتے ہیں ( ١ ) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن سے تو نہ اللہ جل شانہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت سے دیکھے گا ، اور نہ انہیں پاک کرے گا ، حضرت ابو ذر نے یہ سن کر کہا یہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ یہ تو بڑے گھاٹے اور نقصان میں پڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر جواب دیا کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا ، جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا ، دے کر احسان جتانے والا ، مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے ( ٢ ) مسند احمد میں ہے ابو احمس فرماتے ہیں میں حضرت ابو ذر سے ملا اور ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان فرماتے ہیں تو فرمایا سنو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ تو بول نہیں سکتا جبکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن لیا ہو تو کہئے وہ حدیث کیا ہے؟ جواب دیا یہ کہ تین قسم کے لوگوں کو اللہ ذوالکرم دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو دشمن تو فرمانے لگے ہاں یہ حدیث میں نے بیان کی ہے اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے پوچھا کس کس کو دوست رکھتا ہے فرمایا ایک تو وہ جو مردانگی سے دشمنان اللہ سبحانہ کے مقابلے میں میدان جہاد میں کھڑا ہو جائے یا تو اپنا سینہ چھلنی کروا لے یا فتح کر کے لوٹے ، دوسرا وہ شخص جو کسی قافلے کے ساتھ سفر میں ہے بہت رات گئے تک قافلہ چلتا رہا جب تھک کر چور ہوگئے پڑاؤ ڈالا تو سب سو گئے اور یہ جاگتا رہا اور نماز میں مشغول رہا یہاں تک کہ کوچ کے وقت سب کو جگا دیا ۔ تیسرا وہ شخص جس کا پڑوسی اسے ایذاء پہنچاتا ہو اور وہ اس پر صبر و ضبط کرے یہاں تک کہ موت یا سفر ان دونوں میں جدائی کرے ، میں نے کہا اور وہ تین کون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہے فرمایا بہت قسمیں کھانے والا تاجر ، اور تکبر کرنے والا فقیر اور وہ بخیل جس سے کبھی احسان ہو گیا ہو تو جتانے بیٹھے ، یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ( ٣ ) مسند احمد میں ہے کندہ قبیلے کے ایک شخص امروالقیس بن عامر کا جھگڑا ایک حضرمی شخص سے زمین کے بارے میں تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ حضرمی اپنا ثبوت پیش کرے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا تو آپ نے فرمایا اب کندی قسم کھا لے تو حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کی قسم پر ہی فیصلہ ٹھہرا تو رب کعبہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا آپ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم سے کسی کا مال اپنا کرلے گا تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اللہ اس سے ناخوش ہو گا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو امروالقیس نے کہا یا رسول اللہ اگر تو کوئی چھوڑ دے تو اسے اجر کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت تو کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے کہ میں نے وہ ساری زمین اس کے نام چھوڑی ، یہ حدیث نسائی میں بھی ہے ( ٤ ) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال چھین لے تو اللہ جل جلالہ سے جب ملے گا تو اللہ عزوجل اس پر سخت غضبناک ہو گا ، حضرت اشعث فرماتے ہیں اللہ کی قسم میرے ہی بارے میں یہ ہے ایک یہودی اور میری شرکت میں ایک زمین تھی اس نے میرے حصہ کی زمین کا انکار کر دیا میں اسے خدمت نبوی میں لایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تیرے پاس کچھ ثبوت ہے میں نے کہا نہیں آپ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھالے میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال لے جائے گا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے ۔ ( ٥ ) مسند احمد میں ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی مرد مسلم کا مال بغیر حق کے لے لے وہ اللہ ذوالجلال سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا ، وہیں حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے آئے اور فرمانے لگے ابو عبدالرحمن آپ کوئی سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ ہم نے دوہرا دی تو فرمایا یہ حدیث میرے ہی بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ، میرا اپنے چچا کے لڑکے سے ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا جو اس کے قبضے میں تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہم اپنا مقدمہ لے گئے تو آپ نے فرمایا تو اپنی دلیل اور ثبوت لا کہ یہ کنواں تیرا ہے ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا میں نے کہا یا حضرت میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں اور اگر اس قسم پر معاملہ رہا تو یہ تو میرا کنواں لے جائے گا میرا مقابل تو فاجر شخص ہے اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بھی بیان فرمائی اور اس آیت کی بھی تلاوت کی ( ٦ ) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا ، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ فرمایا اپنے ماں باپ سے بیزار ہونے والے اور ان سے بےرغبتی کرنے والی لڑکی اور اپنی اولاد سے بیزار اور الگ ہونے والا باپ اور وہ شخص کہ جس پر کسی قوم کا احسان ہے وہ اس سے انکار کر جائے اور آنکھیں پھیر لے اور ان سے یکسوئی کرے ( ٧ ) ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا سودا بازار میں رکھا اور قسم کھائی کہ وہ اتنا بھاؤ دیا جاتا تھا تاکہ کوئی مسلمان اس میں پھنس جائے ، پس یہ آیت نازل ہوئی ، صحیح بخاری میں بھی یہ روایت مروی ہے ۔ ( ٨ ) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین شخصوں سے جناب باری تقدس و تعالیٰ قیامت والے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دکھ درد کے عذاب ہیں ایک وہ جس کے پاس بچا ہوا پانی ہے پھر وہ کسی مسافر کو نہیں دیتا دوسرا وہ جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہے تیسرا وہ بادشاہ مسلمان سے بیعت کرتا ہے اس کے بعد اگر وہ اسے مال دے تو پوری کرتا ہے اگر نہیں دیتا تو نہیں کرتا ہے یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

77۔ 1 مذکورہ افراد کے برعکس دوسرے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جو عہد الٰہی اور اپنی قسموں کو پس پشت ڈال کر تھوڑے سے دینی مفادات کے لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے دوسرے وہ لوگ ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سودا بیچتے ہیں یا کسی کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مثلاً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص کسی کا مال ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا نیز فرمایا تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ان میں ایک وہ شخص ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنا سودا بیچتا ہے۔ متعدد احادیث میں یہ باتیں بیان کی گئی ہیں۔ (ابن کثیرو فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٧] اللہ کے عہد اور قسموں کے بدلے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لینے کی بہت سی صورتیں ممکن ہیں ان میں دو صورتوں کا ذکر تو بخاری میں آیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں بعینہ ہم احادیث کے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔ ١۔ اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے حق میں اتری۔ میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں میرا کنواں تھا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ & گواہ لاؤ & ورنہ اس سے قسم لے لو۔ میں نے عرض کیا : & یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! & وہ تو قسم کھاجائے گا۔ & آپ نے فرمایا : & جو شخص کسی مسلمان کا مال مار لینے کی نیت سے خواہ مخواہ جھوٹی قسم کھائے تو جب وہ اللہ سے ملے گا تو اس وقت اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ (بخاری، کتاب التفسیر) ٢۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے کہ & ایک شخص نے بازار میں اپنا مال رکھا اور ایک مسلمان کو پھانسنے کے لیے جھوٹی قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس مال کی اتنی قیمت ملتی تھی۔ (حالانکہ یہ بات غلط تھی) تب اللہ نے یہ آیت نازل کی & (بخاری، کتاب التفسیر) باقی صورتیں مثلاً فقہی موشگافیاں یا کتاب اللہ میں تحریف یا غلط تاویل کرکے غلط فتویٰ دینا اور ان کے عوض مال وصول کرنا، کسی سے کوئی چیز عاریتاً لے کر مکر جانا اور قسم اٹھا لینا، غرض کہ بددیانتی کی جتنی بھی اقسام ہوسکتی ہیں ان سب پر اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ جب قرآن کریم یا احادیث میں کسی جرم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال ہوں کہ قیامت کے دن اللہ اس سے کلام نہیں کرے گا یا دیکھے گا بھی نہیں یا اس پر اللہ کا غضب ہوگا یا انہیں پاک نہیں کرے گا، تو ایسے گناہ یقینا کبیرہ گناہ ہوا کرتے ہیں۔ مگر ایسے جرائم کرنے کے باوجود یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ قیامت کے دن یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے۔ انہی کی طرف نظر عنایت ہوگی اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل انہیں لگ گیا ہے وہ بھی ان کے بزرگوں کے صدقے ان پر سے دھو ڈالا جائے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ ۔۔ : عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں کچھ سامان تجارت لا کر رکھا، پھر اس پر قسم کھا کر کہا کہ میں نے اس سامان کے اتنے روپے دیے، حالانکہ اس نے اتنے روپے نہیں دیے تھے (یا کہا کہ مجھے اس سامان کے اتنے روپے مل رہے تھے، حالانکہ اسے اتنے روپے نہیں مل رہے تھے) قسم کا مقصد یہ تھا کہ کسی مسلمان کو اس میں پھنسا لے تو اس پر یہ آیت اتری : (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا) [ بخاری، البیوع، باب ما یکرہ من الحلف فی البیع : ٢٠٨٨، ٤٥٥١ ] یعنی جو لوگ بدعہدی، خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ایسا ناراض ہوگا کہ نہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ ہوگا، نہ اللہ ان سے کلام کرے گا، نہ انھیں (نظر رحمت سے) دیکھے گا، نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس شخص نے پکی قسم کھائی، تاکہ اس کے ساتھ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غصے ہوگا۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں (زیر تفسیر) یہ آیت اتاری۔ [ بخاری، التفسیر، باب ( إن الذین یشترون بعہد اللہ ۔۔ : ٤٥٤٩ ] ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تین شخص ایسے ہیں جن سے نہ تو اللہ تعالیٰ کلام کرے گا، نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ (وہ یہ ہیں) اپنے کپڑے کو لٹکانے والا، احسان کر کے جتلانے والا اور اپنے سودے کو جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم الإسبال ۔۔ : ١٠٦، عن أبی ذر (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللہِ وَاَيْـمَانِہِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا اُولٰۗىِٕكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللہُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَلَا يُزَكِّـيْہِمْ۝ ٠ ۠ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ٧٧ شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ يَمِينُ ) قسم) في الحلف مستعار من الید اعتبارا بما يفعله المعاهد والمحالف وغیره . قال تعالی: أَمْ لَكُمْ أَيْمانٌ عَلَيْنا بالِغَةٌ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ [ القلم/ 39] ، وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] ، وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ التوبة/ 12] ، إِنَّهُمْ لا أَيْمانَ لَهُمْ [ التوبة/ 12] وقولهم : يَمِينُ اللهِ ، فإضافته إليه عزّ وجلّ هو إذا کان الحلف به . ومولی اليَمِينِ : هو من بينک وبینه معاهدة، وقولهم : ملك يَمِينِي أنفذ وأبلغ من قولهم : في يدي، ولهذا قال تعالی: مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 33] وقوله صلّى اللہ عليه وسلم آله : «الحجر الأسود يَمِينُ اللهِ» «1» أي : به يتوصّل إلى السّعادة المقرّبة إليه . ومن اليَمِينِ : تُنُووِلَ اليُمْنُ ، يقال : هو مَيْمُونُ النّقيبة . أي : مبارک، والمَيْمَنَةُ : ناحيةُ اليَمِينِ. الیمین بمعنی دایاں ہاتھ سے استعارہ کے طور پر لفظ یمین قسم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ عرب قسم کھاتے یا عہد کرتے وقت اپنا دایاں ہاتھ دوسرے کے دائیں ہاتھ پر مارتے تھے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَمْ لَكُمْ أَيْمانٌ عَلَيْنا بالِغَةٌ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ [ القلم/ 39] یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن چلی جائیں گی ۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا ۔ وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ التوبة/ 12] اگر عہد کرن کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ۔ اور عربی محاورہ ویمین اللہ ( اللہ کی قسم ) میں) یمین کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے کی جاتی ہے ۔ کہ قسم کھانے والا اللہ کے نام کی قسم کھاتا ہے ۔ اور جب ایک شخص دوسرے سے عہدو پیمان باندھتا ہے تو وہ اس کا موالی الیمین کہلاتا ہے اور کسی چیز پر ملک اور قبضہ ظاہر کرنے کے لئے فی یدی کی نسبت ملک یمینی کا محاورہ زیادہ بلیغ ہے ۔ اسی بنا پر غلام اور لونڈیوں کے بارے میں قرآن نے اس محاورہ کی اختیار کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 33] جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں ۔ اور حدیث میں حجر اسود کی یمین اللہ کہا گیا ہے (132) کیونکہ اس کے ذریعہ قرب الہی کی سعادت حاصل کی جاتی ہے ۔ یمین سے یمن کا لفظ ماخوذ ہے جو خیروبرکت کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ محاورہ ہے ۔ ھومیمون ۔ النقیبۃ وہ سعادت مند ہے اور میمنۃ کے معنی دائیں جانب بھی آتے ہیں ۔ ثمن قوله تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] . الثَّمَنُ : اسم لما يأخذه البائع في مقابلة البیع، عينا کان أو سلعة . وکل ما يحصل عوضا عن شيء فهو ثمنه . قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَناً قَلِيلًا [ آل عمران/ 77] ، ( ث م ن ) الثمن اصل میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو فروخت کرنے والا اپنی چیز کے عوض خریدار سے وصول کرتا ہے خواہ وہ زر نقد ہو یا سامان ۔ قرآن میں ہے :۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اسے تھوڑی سی قیمت یعنی چند درہموں پر بیچ ڈالا ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ خَلَاقُ : ما اکتسبه الإنسان من الفضیلة بخلقه، قال تعالی: ما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ [ البقرة/ 102] ، وفلان خلیق بکذا، أي : كأنّه مخلوق فيه، ذلک کقولک : مجبول علی كذا، أو مدعوّ إليه من جهة الخلق . وخَلَقَ الثوبُ وأَخْلَقَ ، وثوب خَلَقٌ ومُخْلَق وأخلاق، نحو حبل أرمام وأرمات، وتصوّر من خَلُوقَة الثوب الملامسة، فقیل : جبل أَخْلَق، وصخرة خَلْقَاء، وخَلَقْتُ الثوب : ملّسته، واخلولق السحاب منه، أو من قولهم : هو خلیق بکذا، والخلوق : ضرب من الطّيب . الخلاق ۔ وہ فضیلت جو انسان اپنے اخلاق سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ [ البقرة/ 102] ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ۔ فلان خلیق بکذا ۔ فلاں اس کا اہل ہے گویا وہ خوبی اس میں پیدا کی گئی ہے جیسا کہ فلاں مجبول علیٰ کذا ومدعو الیہ من جھۃ الخلق کا محاورہ ہے ۔ خلق الثوب واخلق کپڑے کا پرانا ہوجانا اور پرانے کپڑے کو خلق ومخلق اخلاق کہاجاتا ہے جیسا کہ حبل ارمام وارمات کا محاور ہ ہے اور کپڑے کے پرانا پونے سے ملائم اور چکنا ہونے کا معنی لیا جاتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے :۔ جبل اخلق و صخرۃ خلقاء ( چکنا پہاڑ یا چکنا پتھر ) خلقت الثوب ۔ میں نے کپڑے کو پرانا کیا اخلولق السحاب ( ان تمطن امید ہے کہ بارش ہوگئی ۔ یہ یا تو خلقت الثوب سے ماخوذ ہے اور یا ھوخلیق بکذا کے محاورہ سے لیا گیا ہے ۔ الخلوق ۔ ایک قسم کا خوشبو ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ کلام الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، فَالْكَلَامُ يقع علی الألفاظ المنظومة، وعلی المعاني التي تحتها مجموعة، وعند النحويين يقع علی الجزء منه، اسما کان، أو فعلا، أو أداة . وعند کثير من المتکلّمين لا يقع إلّا علی الجملة المرکّبة المفیدة، وهو أخصّ من القول، فإن القول يقع عندهم علی المفردات، والکَلمةُ تقع عندهم علی كلّ واحد من الأنواع الثّلاثة، وقد قيل بخلاف ذلک «4» . قال تعالی: كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلام کا اطلاق منظم ومرتب الفاظ اور ان کے معانی دونوں کے مجموعہ پر ہوتا ہے ۔ اور اہل نحو کے نزدیک کلام کے ہر جز پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے ۔ خواہ وہ اسم ہو یا فعل ہو یا حرف مگر اکثر متکلمین کے نزدیک صرف جملہ مرکبہ ومفیدہ کو کلام کہاجاتا ہے ۔ اور یہ قول سے اخص ہے کیونکہ قول لفظ ان کے نزدیک صرف مفرد الفاظ پر بولاجاتا ہے اور کلمۃ کا اطلاق انواع ثلاثہ یعنی اسم فعل اور حرف تینوں میں سے ہر ایک پر ہوتا ہے ۔ اور بعض نے اس کے برعکس کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] یہ بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں زكا ( تزكية) وبِزَكَاءِ النّفس وطهارتها يصير الإنسان بحیث يستحقّ في الدّنيا الأوصاف المحمودة، وفي الآخرة الأجر والمثوبة . وهو أن يتحرّى الإنسان ما فيه تطهيره، وذلک ينسب تارة إلى العبد لکونه مکتسبا لذلک، نحو : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها[ الشمس/ 9] ، وتارة ينسب إلى اللہ تعالی، لکونه فاعلا لذلک في الحقیقة نحو : بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] ، وتارة إلى النّبيّ لکونه واسطة في وصول ذلک إليهم، نحو : تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] ، يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] ، وتارة إلى العبادة التي هي آلة في ذلك، نحو : وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] ، لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ، أي : مُزَكًّى بالخلقة، وذلک علی طریق ما ذکرنا من الاجتباء، وهو أن يجعل بعض عباده عالما وطاهر الخلق لا بالتّعلّم والممارسة بل بتوفیق إلهيّ ، كما يكون لجلّ الأنبیاء والرّسل . ويجوز أن يكون تسمیته بالمزکّى لما يكون عليه في الاستقبال لا في الحال، والمعنی: سَيَتَزَكَّى، وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] ، أي : يفعلون ما يفعلون من العبادة ليزكّيهم الله، أو لِيُزَكُّوا أنفسهم، والمعنیان واحد . ولیس قوله : «للزّكاة» مفعولا لقوله : «فاعلون» ، بل اللام فيه للعلة والقصد . وتَزْكِيَةُ الإنسان نفسه ضربان : أحدهما : بالفعل، وهو محمود وإليه قصد بقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] ، وقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى[ الأعلی/ 14] . والثاني : بالقول، كتزكية العدل غيره، وذلک مذموم أن يفعل الإنسان بنفسه، وقد نهى اللہ تعالیٰ عنه فقال : فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] ، ونهيه عن ذلک تأديب لقبح مدح الإنسان نفسه عقلا وشرعا، ولهذا قيل لحكيم : ما الذي لا يحسن وإن کان حقّا ؟ فقال : مدح الرّجل نفسه . اور تزکیہ نفس سے ہی انسان دنیا میں اوصاف حمیدہ کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت میں اجر وثواب بھی اسی کی بدولت حاصل ہوگا اور تزکیہ نفس کا طریق یہ ہے کہ انسان ان باتوں کی کوشش میں لگ جائے جن سے طہارت نفس حاصل ہوتی ہے اور فعل تزکیہ کی نسبت تو انسان کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ اس کا اکتساب کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] کہ جس نے اپنی روح کو پاک کیا ( وہ ضرور اپنی ) مراد کو پہنچا ۔ اور کبھی یہ اللہ تعالےٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے کیونکہ فی الحقیقت وہی اس کا فاعل ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے ۔ اور کبھی اس کی نسبت نبی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] کہ اس سے تم ان کو ( ظاہر میں بھی ) پاک اور ( باطن میں بھی ) پاکیزہ کرتے ہو ۔ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] وہ پیغمبر انہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں بذریعہ تعلیم ( اخلاق رذیلہ ) سے پاک کرتا ہے : ۔ اور کبھی اس کی نسبت عبادت کی طرف ہوتی ہے کیونکہ عبادت تزکیہ کے حاصل کرنے میں بمنزلہ آلہ کے ہے چناچہ یحیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] اور اپنی جناب سے رحمدلی اور پاگیزگی دی تھی ۔ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا [ مریم/ 19] تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا بخشوں یعنی وہ فطرتا پاکیزہ ہوگا اور فطرتی پاکیزگی جیسا کہ بیان کرچکے ہیں ۔ بطریق اجتباء حاصل ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو عالم اور پاکیزہ اخلاق بنا دیتا ہے اور یہ پاکیزگی تعلیم وممارست سے نہیں بلکہ محض توفیق الہی سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اکثر انبیاء اور رسل کے ساتھ ہوا ہے ۔ اور آیت کے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ لڑکا آئندہ چل کر پاکیزہ اخلاق ہوگا لہذا زکیا کا تعلق زمانہ حال کے ساتھ نہیں بلکہ استقبال کے ساتھ ہے قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] اور وہ جو زکوۃ دیا کرتے ہیں ۔ یعنی وہ عبادت اس غرض سے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاک کر دے یا وہ اپنے نفوس کو پاک کرنے کی غرض سے عبادت کرتے ہیں والما ل واحد ۔ لہذا للزکوۃ میں لام تعلیل کے لیے ہے جسے لام علت و قصد کہتے ہیں اور لام تعدیہ نہیں ہے حتیٰ کہ یہ فاعلون کا مفعول ہو ۔ انسان کے تزکیہ نفس کی دو صورتیں ہیں ایک تزکیہ بالفعل یعنی اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرنا یہ طریق محمود ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] اور آیت : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى [ الأعلی/ 14] میں تزکیہ سے یہی مراد ہیں ۔ دوسرے تزکیہ بالقول ہے جیسا کہ ایک ثقہ شخص دوسرے کے اچھے ہونیکی شہادت دیتا ہے ۔ اگر انسان خود اپنے اچھا ہونے کا دعوے ٰ کرے اور خود ستائی سے کام لے تو یہ مذموم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تزکیہ سے منع فرمایا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] اپنے آپ کو پاک نہ ٹھہراؤ ۔ اور یہ نہی تادیبی ہے کیونکہ انسان کا اپنے منہ آپ میاں مٹھو بننا نہ تو عقلا ہی درست ہے اور نہ ہی شرعا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک دانش مند سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی بات ہے جو باوجود حق ہونے کے زیب نہیں دیتی تو اس نے جواب دیا مدح الانسان نفسہ کہ خود ستائی کرنا ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قسم کھانے کی اہمیت و کیفیت قول باری ہے (ان الذین یشترون بعھد اللہ وایمانھم ثمنا قلیلا، بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پربیچ ڈالتے ہیں۔ ) اعمش نے سفیان ثوری سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من حلف علی یمین تقطع بہ مال امری مسلہ وھوفاجرفیھا لقی اللہ وھو علیہ غضبان، جو شخص جھوٹی قسم اٹھاکر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے گا تو خدا کے حضور جب حاضر ہوگا خدا کو اس پر غصہ آرہا ہوگا) اشعث بن قیس کہتے ہیں۔ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی ، ہوایہ کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا تھا جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہ تنازعہ پہنچاتو آپ نے مجھ سے ثبوت طلب کیا میں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ فریق مخالف کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر تو قسم اٹھالے گا۔ اس کے بعد اشعث نے حضرت عبداللہ بن مسعودوالی روایت بیان کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام مالک نے علاء بن عبدالرحمن سے انہوں نے معبدبن کعب سے انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ کعب سے اور انہوں نے حضرت ابوامامہ سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من اقتطع حق مسلہ بیمینہ حرم اللہ علیہ الجنۃ واو جب لہ النار، جس شخص نے قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق دیالیا اللہ اس پر جنت حرام کردے گا اور اس پر جہنم واجب کردے گا) لوگوں نے عرض کیا خواہ معمولی شئی کیوں نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا خواہ پیلو کے درخت کی ایک لکڑی یاشاخ ہی کیوں نہ ہو، شعبی نے علقمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا تھا کہ (من حلف علی یمین صبرلیقتطع بھامال اخیہ لقی اللہ وھوعلیہ غضبان جس شخص نے اپنے بھائی کا مال ہتھیانے کے لیے لازم کو دینے والی قسم اٹھائی تو جب وہ اللہ کے حضور حاضر ہوگا تو اللہ کو اس پر غصہ آرہا ہوگا۔ ظاہر آیت اور یہ روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ایک شخص قسم اٹھاکر اس مال کا حقدار نہیں بن سکتا جو ظاہرا کسی اور کی ملکیت ہو نیز یہ کہ جس شخص کے قبضے میں کوئی چیز ہو اور اس کے بارے میں اس کا دعوی ہو کہ یہ اس کی ہے تو ظاہراوہ چیز اس کی ہحا ہوگی حتی کہ اس کا کوئی اور دعویدار پیدا ہوجائے درج بالا آیت اور روایات اس بات سے مانع ہیں کہ کوئی شخص قسم اٹھا کر کسی ایسی چیز کا حقداربن جائے جو ظاہری طورپر کسی اور کی ہو۔ اگر اس کی قسم نہ ہوتی تو وہ اس چیز کا مستحق ہی نہ ہوتا۔ کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ اس نے ایسے مال کا ارادہ نہیں کیا جو عنداللہ بھی اس کا ہے۔ بلکہ ایسے مال کا جوظاہری طورپر عندالناس یعنی لوگوں کے خیال کے مطابق اس کا ہوسکتا ہے۔ درحقیقت ہمارے نزدیک ملکیتوں کا ثبوت ظاہر کے لحاظ سے ہوتا ہے حقیقت کے لحاط سے نہیں۔ اس میں ان لوگوں کے قول کے بطلان کی دلیل ہے جو قسم کو رد کردینے کے قائل ہیں۔ اس لیے کہ وہ اپنی قسم کے ذریعے ایسی چیز کا حق داربن جاتا ہے۔ جو ظاہرا دوسرے کی ہوتی ہے۔ قسمیں حق ثابت کرنے لیے نہیں بلکہ جھگڑاختم کرنے کے لیے ہوتی ہیں اس میں یہ بھی دلالت موجود ہے کہ قسمیں اس واسطے نہیں ہوتیں کہ ان سے حق ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ جھگڑاختم کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ الحوام بن حوشب ابراہیم بن اسماعیل سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن ابی اوفی (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ایک شخص نے فروخت کے لیئے کوئی سامان پیش کیا پھر لاالہ الا اللہ کا کلمہ پڑھتے ہوئے یہ قسم کھائی کہ مجھے تو اس سامان کی اتنی قیمت مل رہی تھی جبکہ حقیقت میں یہ بات نہیں تھی اس کا مقصد صرف کسی مسلمان کو پھانسنا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ان الذین یشترون بعھد اللہ، تاآخر آیت حسن بصری اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ آیت علمائے یہود کے ایک گروہ کے متعلق نازل ہوئی جس نے یہ حرکت کی تھی کہ اپنے ہاتھوں سے ایک تحریر لکھ کر حلف اٹھالیا کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے پھر اس کے متعلق دعوی یہ کیا کہ اس میں یہ حکم بھی ہے کہ ان پڑھوں یعنی غیر یہودی لوگوں کے متعلق ہم سے کوئی بازپر س نہیں ہوگی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٧) اب اس قسم کے یہودیوں کا انجام بیان فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس عہد کو جو انہوں نے اللہ سے کیا اور اپنی ان قسموں کو جو انبیاء کرام کے ساتھ کھائیں حقیر سے کچھ دنیاوی نفع کے بدلے میں توڑتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے جنت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ان عہد شکن لوگوں سے اللہ تعالیٰ کلام فرمائے گا اور نہ ان پر کسی بھی درجے میں رحمت فرمائے گا اور نہ یہودیت سے ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے ایسا درد ناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور کہا گیا کہ یہ آیت کریمہ عبدان بن اشوع اور امرأالقیس کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ ان دونوں میں باہمی خصومت (دشمنی) تھی۔ شان نزول : (آیت ) ” ان الذین یشترون بعہد اللہ “ (الخ) امام بخاری (رح) ومسلم (رح) نے اشعت (رض) سے روایت کیا ہے کہ میری اور ایک یہودی کی مشترک زمین تھی، اس نے میرا حصہ دینے سے انکار کیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ موجود ہیں، میں نے کہا نہیں پھر آپ نے اس یہودی سے کہا کہ قسم کھا، اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ تو جھوٹی قسم کھا کر میرا بھی حصہ لے جائے گا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح ) اور امام بخاری (رح) نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص بازار میں سامان لایا اور اللہ کی قسم کھائی کہ وہ جس قیمت پر فروخت کر رہا ہے اس پر دوسرا انہیں دے گا تاکہ مسلمانوں میں سے کوئی اس کی باتوں کے جال میں آجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ دونوں حدیثوں میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں، کیوں کہ ممکن ہے کہ دونوں واقعے ایک ساتھ آیت کریمہ کے نزول کا سبب ہوں۔ اور ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ یہود میں سے حی بن اخطب اور کعب بن اشرف وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے توریت میں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف اور صفت بیان فرمائی تھی، ان لوگوں نے اس کو چھپا لیا تھا اور اس میں تبدیلی کر کے قسمیں کھاتے تھے کہ یہی منجانب اللہ ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں اس معنی کا بھی امکان ہے مگر زیادہ صحیح وہی شان نزول ہے جو بخاری میں مروی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٧ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً ) یعنی جب وہ دیکھتے ہیں کہ لوگ ہماری بات میں کچھ شک کر رہے ہیں تو خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہے ۔ (وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ) ۔ یہ مضمون بھی تقریباً پورا سورة البقرۃ (آیت ١٧٤) میں آچکا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

65. The reason is that, despite their worst crimes, they still thought that on the Day of Judgement they alone would be honoured with God's favour, and that towards them alone He would turn His gracious attention. They also entertained the belief that if they had been stained by any trace of sin, it would be washed away by the grace of their pious elders. Such people are warned here that the treatment meted out to them in the Next Life will be altogether contrary to their expectations.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :65 سبب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے ایسے سخت اخلاقی جرائم کر نے کے بعد بھی اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے روز بس یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے ، انہی کی طرف نظر عنایت ہو گی ، اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل دنیا میں ان کو لگ گیا ہے وہ بھی بزرگوں کے صدقے میں ان پر سے دھو ڈالا جائے گا ، حالانکہ دراصل وہاں ان کے ساتھ بالکل برعکس معاملہ ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

صحیحین اور صحاح کی کتابوں میں میں روایت ہے کہ اشعث بن قیس (رض) صحابی اور ایک یہودی میں کچھ زمین کا قضیہ تھا اس کی فریاد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائی گئی آپ نے پوچھا اس دعوے کے ثبوت کے گواہ ہیں۔ اشعث بن قیس (رض) نے کہا نہیں۔ گواہ تو نہیں ہیں۔ آپ نے یہودی سے کہا کہ تو اپنے دعوے پر قسم کھا۔ اشعث بن قیس (رض) نے کہا کہ حضرت یہ یہودی فور ً ا جھوٹی قسم کھا کر میری زمین دبا لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٣ اور فرما دیا دنیا کی تھوڑی سی طمع کے لئے جو کوئی جھوٹی قسم کھائے گا۔ وہ عقبیٰ میں جنت کی بڑی بڑی نعمتوں سے محروم رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا اس پر ایسا غصہ اور غضب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے اس کی طرف نہ دیکھے گا۔ اور نہ اس سے بات کرے گا اور نہ اس کے کسی گناہ سے در گذر فرمائے گا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ٹخنے سے نیچے پائجامہ رکھنے والا جھوٹی قسم کھانے والا صدقہ دے کر احسان جتانے والا ان تین شخصوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا ایسا غصہ ہوگا کہ ان سے اللہ تعالیٰ تعالیٰ نہ بات کرے گا نہ ان کے گناہوں سے در گذر کرے گا۔ سو اس شان نزول کے جو متفق علیہ ١ حدیث میں ہے۔ اور شان نزول اس آیت کی حدیث اور معتبر شان نزول وہی ہے جو متفق علیہ حدیث کی رو سے بیان کی گئی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 عبد اللہ بن ابی اوفیٰ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بازار میں سامان لگا یا اور جھوٹی قسمیں کھا کر بیجنے لگا تاکہ کوئی مسلمان خریدے اور اسے دھوکادے سکے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جو لوگ بد عہدی خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے مسلمانوں کا مال ہضم کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائی قیامت دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال سے ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوں گے اور ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں کریں گے ان میں سے ایک وہ ہے جو جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہے ، (ابن کثیر۔ شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سلسلہ کلام گزشتہ سے پیوستہ۔ اہل کتاب عہدشکن اور ایمان فروش ہیں دنیوی مفاد کے لیے عہد توڑنے اور ایمان فروشی کی سزا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، دین اور اس کی عظمت کے مقابلے میں دنیا کی بادشاہت اور دولت کی کوئی حیثیت نہیں۔ دین میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عہد اور حکم کو دنیا کی خاطر چھوڑنا عہد اور دین بیچنے کے مترادف ہے۔ اس جرم میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو قسموں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نام کو ڈھال اور دنیاوی مفاد کا ذریعہ بناتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بازار میں اپنا سودا لگایا اور دوسرے مسلمان کو یہ کہہ کر سودا فروخت کیا کہ اللہ کی قسم ! مجھے اس کا اتنا منافع ملتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یشترون الخ ] دین کے نام پر سیاسی، مالی اور سماجی مفادات اٹھانا دین کو بیچنے کے برابر ہے۔ اہل کتاب کے علماء کا یہ بھی شیوہ تھا کہ انہوں نے دین کو محض پیشہ کے طور پر اختیار کر رکھا تھا۔ وہ تعلیم وتعلّم اور تبلیغ و اشاعت کا اتنا ہی کام کرتے تھے۔ جتنا ان کو معاوضہ ملتا اور فائدہ پہنچتا۔ ایسے مذہبی مجرموں کے لیے پانچ سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے 1 ان کے لیے آخرت میں کوئی اجر نہیں ہوگا 2 اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا 3 اللہ تعالیٰ انہیں نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا 4 انہیں گناہوں سے پاک نہیں کیا جائے گا 5 ان کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مسائل ١۔ آخرت کے مقابلے میں پوری دنیا حقیر اور قلیل ہے۔ ٢۔ دین کے بدلے دنیا کمانے والوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کو اذّیت ناک عذاب دیں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کے عہد کے عوض دنیا کمانے والوں کو تنبیہ یہودیوں سے جو اللہ تعالیٰ کا عہد تھا کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اس عہد کو انہوں نے اپنے عوام سے چھپایا اور بدل بھی دیا۔ کیونکہ جو صفات تورات شریف میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پڑھی تھیں ان کو واقعی طور پر جاننے کے باو جود بھی تغیر و تبدل کردیا اور اپنے عوام کو بتایا کہ جو صفات ہم نے پڑھی ہیں وہ ان پر منطبق نہیں ہوتیں اور اس طرح اپنے عوام کو اپنی جانب کرکے اپنی ریاست باقی رکھی۔ اور اپنے عوام سے رشوت لیتے رہے۔ یہ عہد خداوندی کے عوض حقیر دنیا حاصل کرنا ہوا۔ حضرت عکرمہ (رض) نے فرمایا کہ یہ آیت ابو رافع اور کنانہ اور حیی اور ان کے علاوہ دیگر رؤساء یہود کے بارے میں نازل ہوئی ان لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان صفات کو چھپا دیا جو تورات شریف میں مذکور تھیں اور ان کو بدل کر دوسری صفات اپنے قلم سے لکھ دیں اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے تاکہ رشوتیں اور کھانے پینے کے طریقے جو جاری کر رکھے تھے وہ ہاتھ سے نہ جائیں۔ اور ان کے اتباع سے جو کچھ ملتا تھا وہ ملتا رہے۔ جھوٹی قسم اور اس کا و بال : یہودی مالیات کے سلسلے میں جھوٹی قسمیں بھی کھا جاتے تھے اور اس طرح کی حرکتیں دوسرے لوگوں سے بھی صادر ہوتی ہیں اس لیے کسی جماعت کا نام لینے کے بجائے عمومی بات ذکر فرما دی کہ جو لوگ ایسا ایسا کریں گے ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر سخت غصہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ فرمائے گا۔ اور ان کی طرف نظر رحمت سے بھی نہیں دیکھے گا۔ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے فرمائیں۔ صاحب روح المعانی صفحہ ٢٠٤: ج ٣ میں لکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے خود حساب لے، بلکہ فرشتے ان سے بات کریں گے اور حساب لیں گے۔ ولا یزکیھم کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ ٣١٩: ج ١ میں فرماتے ہیں ای لا یثنی علیھم بالجمیل ولایطھر ھم من الذنوب کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھائی کے ساتھ یاد نہ فرمائے گا اور انہیں گناہوں سے پاک نہ کرے گا۔ اور حافظ ابن کثیر صفحہ ٣٧٥: ج ١ میں لکھتے ہیں کہ ای من الذنوب و الادناس ویامربھم الی النار یعنی اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کو دوزخ میں بھیج دے گا۔ (نہ ان کی مغفرت ہوگی جس سے گناہ معاف ہوں اور نہ یہ ہوگا کہ کچھ مدت کے لیے دوزخ میں بھیج کر گناہوں کی سزا دے کر پاک صا ف کر کے جنت میں بھیجا جائے جیسا کہ بعض گنہگار اہل اسلام کے ساتھ ہوگا) (وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے جس سے کبھی نہ نکلیں گے۔ صحیح بخاری صفحہ ٣٦٦: ج ١ میں ہے کہ حضرت اشعث بن قیس (رض) نے بیان فرمایا کہ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان زمین کے بارے میں مخاصمت تھی اس نے انکار کردیا اور کہا کہ تمہارا کوئی حق نہیں۔ میں اسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے گیا۔ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں میں نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے یہودی سے فرمایا کہ تو قسم کھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر آیت نازل فرمائی (اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا) (الآیۃ) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص جھوٹی قسم کھالے تاکہ کسی کا مال اس کے ذریعہ حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی تصدیق نازل فرمائی۔ اس کے بعد حضرت ابن مسعود (رض) نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔ روای حدیث حضرت ابو وائل (شاگرد ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت اشعث سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن مسعود نے آج تم سے کیا بیان کیا میں نے ان سے حدیث بالا بیان کردی اور عرض کردیا کہ آخر میں انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت اشعث نے فرمایا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری صفحہ ٣٦٨: ج ١) حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) نے بیان فرمایا کہ ایک شخض مال بیچنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس نے اللہ کی قسم کھالی کہ میں نے اس کے عوض اتنا اتنا مال دیا ہے (اور یہ جھوٹ تھا۔ کیونکہ اس نے اتنا مال نہیں دیا تھا جتنا اس نے بتایا۔ تاجروں کی عادت ہوتی ہے کہ زیادہ نفع کمانے کے لیے گاہک کے سامنے جھوٹی قسم کھا جاتے ہیں کہ میں نے تو خود اتنے میں خریدا ہے) اس پر آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا) نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری صفحہ ٣٦٧: ج ١) مذکورہ بالا روایات سے آیت کے چند اسباب نزول معلوم ہوئے بیک وقت چند چیزیں جمع ہوگئی ہوں جو آیت نازل ہونے کا سبب بن گئیں اس میں کوئی بعد نہیں۔ آیت شریفہ میں اللہ کے عہد کو بدلنے والوں اور جھوٹی قسم کھا کر دوسروں کا مال حاصل کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے اور ان کی آخرت کی سزا ذکر کی ہے۔ آیت کا مضمون عام ہے اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس طرح کی حرکت کرے۔ حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہ فرمائے گا۔ ان کے لیے عذاب الیم ہے حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا ان کا برا ہو اور نقصان میں پڑیں۔ کون ہیں یہ لوگ یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا اپنے کپڑوں کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا اور (کسی کو کچھ دے کر) احسان جتانے والا۔ اور اپنی بکری کے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ چالو کرنے والا۔ (صحیح مسلم) نیز حضرت ابو ہریرۃ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قسم سودا بکوا دیتی ہے اور برکت کو ختم کردیتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٢٤٣: ج ١ از بخاری و مسلم) بہت سے لوگ حاکم کے ہاں جھوٹا مقدمہ لے جاتے ہیں بعض مرتبہ مدعی جھوٹا ہوتا ہے اور جھوٹے گواہ پیش کردیتا ہے اور بعض مرتبہ مدعی علیہ جھوٹا ہوتا ہے وہ جھوٹی قسم کھا جاتا ہے۔ حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اس چیز کا دعویٰ کیا جو اس کی نہیں ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور ایسا شخص اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔ (رواہ مسلم) حضرت عبداللہ بن انیس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور ماں باپ کو تکلیف دینا ہے۔ جھوٹی قسم کھانا ہے اور جس کسی شخص نے بھی اپنی بات پر جمتے ہوئے قسم کھائی اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی جھوٹی بات داخل کردی تو وہ قسم قیامت کے دن تک اس کے لیے سیاہ داغ بن جائے گی۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٣٢٨)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

106 تخویف اخروی : عہد اللہ سے مراد ایمان و اطاعت کا عہد ہے یہ عہد شکنی پر وعید اخروی ہے یعنی جو لوگ دنیا کے معمولی سے مفاد کی خاطر اللہ کے عہد اطاعت اور آپس کے حلفی معاملات کی پرواہ نہیں کرتے، اللہ سے کیے ہوئے عہد اور بندوں سے طے شدہ معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ آخرت میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے ایفائے عہد اور محافظت یمین پر دنیا کے حقیر مفاد کو ترجیح دی۔ اور ایفاء ومحافظت کی صورت میں جو آخرت کا اجر وثواب ان کیلئے مقدر تھا اس سے محروم ہوگئے۔ 107 ۔ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ کے خطاب شفقت و محبت اور اس کی نگاہ رحمت سے بھی محروم رہیں گے اور اس کے عفوعام سے بھی کوئی حصہ نہیں پائیں گے۔ اس لیے وہ گناہوں کی نجاست اور آلودگی سے پاک نہیں ہوسکیں گے اور نار جہنم کا دردناک عذاب پائیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ یقینا جو لوگ عہد خداوندی اور نیز اپنی قسموں کو معمولی قیمت کے عوض فروخت کر ڈالتے ہیں اور جو عہد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اس کے مقابلے میں حقیر معاوضہ لے لیتے ہیں اور اسی طرح جو قسمیں وہ کسی معاملے پر کھاتے ہیں ان قسموں کے مقابلے میں بھی حقیر معاوضہ لے لیتے ہیں تو ایسے لوگوں کو آخری میں کوئی حصہ نہ ملے گا اور یہ آخرت کی نعمتوں سے بالکل محروم رہیں گے اور نہ خدا تعالیٰ قیامت کے روز ان سے مہربانی کے ساتھ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف رحمت و محبت سے دیکھے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلائش سے پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ ( تیسیر) عہد خداوندی سے ہر قسم کے احکام مراد ہیں کیونکہ ہر بندہ فطری طور پر اس امر کا مکلف ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ہم دوسرے بارے میں عہد کی حقیقت عرض کرچکے ہیں ۔ مطلب نہیں کہ ہر شخص نے کوئی عہد نامہ لکھا ہے بلکہ جس طرح ہر شخص طبعا ً جانتا ہے کہ ماں کی اطاعت کرنا اور اس کی خدمت بجا لانا ضروری ہے یا حاکم کی اطاعت کرنا ضروری ہے یا مونسپلٹی جو سڑکیں اور روشنی کا انتظام کرتی ہے اس کو ٹیکس دینا ضروری ہے حالانکہ ہر شخص سے کوئی عہد نہیں کیا جاتا اسی طرح فطری طور پر ہر شخص سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات واجب الاطاعت ہے اور یہود و نصاریٰ تو چونکہ توریت اور انجیل پر ایمان رکھتے تھے اور کتب سماویہ پر ایمان لانا ایک قسم کا صاف وصریح عہد تھا۔ نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کا لیکن یہود و نصاریٰ نے محض دنیوی لالچ کی وجہ سے عہد شکنی کی اور جو عہد توریت و انجیل کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے لیا تھا انہوں نے اس کے مقابلے میں قلیل و حقیر معاوضہ لے کر اس کے خلاف کیا ۔ بہر حال فطری عہد مراد ہو یا وہ عہد ہو جو اہل کتاب نے توریت و انجیل پر ایمان لانے سے کیا تھا یا آپس میں کسی معاملہ پر قسم کھائی اور پھر دنیوی نفع کی غرض سے اپنی قسم کے خلاف کریں اور قسموں کے مقابلے میں حقیر معاوضہ حاصل کرلیں تو ایسے لوگوں کے لئے یہ وعید فرمائی ہے۔ ثمن قلیل فرمایا دنیا کے نفع کو اور یہ واقعہ ہے کہ دنیا کا کتنا ہی بڑا فائدہ کیوں نہ ہو آخرت کے مقابلے میں قلیل اور حقیر ہی ہے۔ اسی کو آیت میں اشترا سے تعبیر کیا ہے گویا جو لوگ دنیوی فوائد کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے عہد شکنی کرتے ہیں اور اپنی قسموں کو توڑتے ہیں گویا وہ تھوڑا مول لے کر اللہ تعالیٰ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو بیچ ڈالتے ہیں۔ لا خلاق کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی نعمتوں میں سے ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا کلام اور نظر سے مراد یہ ہے کہ شفقت آمیز کلام نہیں ہوگا اور نہ رحمت بھری نگاہ سے ان کو دیکھا جائے گا ۔ تزکیہ سے مراد یا تو گناہوں سے پاک کرنا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدح اور تعریف نہیں فرمائے گا جیسا کہ تفسیر مظہری نے اس کی تصریح کی ہے اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کی تعریف کرنا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کے گناہ بخش دیئے جائیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو معاملہ قیامت کے دن مؤمنین کے ساتھ ہوگا وہ ان عہد شکنوں اور قسمیں کھا کر قسموں کو توڑنے والوں کے ساتھ نہیں ہوگا بلکہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ملاقات اس شان اور اس حال کے ساتھ ہوگی کہ وہ ان پر غضبناک ہوگا کلام نہ کرنا اور نگاہ بھر کر نہ دیکھنا کنایہ ہے غصے اور غضب سے آیت زیر بحث میں دو گناہ ذکر کئے گئے ہیں ۔ ایک اللہ تعالیٰ سے عہد کر کے پھرنا اور ایک قسمیں کھا کر توڑنا بظاہر ایک کا تعلق حقوق اللہ سے اور دوسرے کا تعلق حقوق العباد سے ہے ۔ حقوق اللہ کے سلسلے میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی بندہ کفر و شرک سے پاک ہو تو اس کے باقی جرائم کو نظر انداز کردیا جائے لیکن حقوق العباد کے مواخذے سے اس وقت تک چھٹکارا غیر ممکن ہے جب تک صاحب حق عنہا معاف نہ کرے۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں کہ تین دیوان یعنی تین رجسٹر ہیں۔ ایک رجسٹر تو ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں اور ایک رجسٹر ایسا ہے کہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا ۔ اور تیسرا رجسٹر وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ جو رجسٹر حضر ت حق کے نزدیک کچھ زیادہ اہم اور قابل التفات نہیں ہے وہ کسی بندے کا اپنی جان پر ان معاملات میں ظلم کرنا ہے جو بندے اور خدا کے درمیان ہیں اور وہ رجسٹر جس کی مغفرت اور بخشش نہیں ہوگی وہ کفر و شرک کا رجسٹر ہے اور وہ رجسٹر جس کی کوئی بات چھوڑی نہ جائے گی وہ بندوں کے باہمی حقوق میں جن کا قصاص اور بدلہ ضرور لیا جائے گا ۔ حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ اعمال کی تین قسمیں ہیں ایک تو کفر و شرک وہ تو ناقابل مغفرت ہیں ۔ دوسرے کفر و شرک کے علاوہ دوسری کوتاہیاں تو وہ اس قابل ہیں کہ ان کو نظر انداز کردیا جائے اور وہ چاہے تو اپنی رحمت سے ان کو معاف کر دے۔ تیسرے وہ حقوق جو بندوں سے تعلق رکھتے ہیں تو حقوق العباد میں۔۔۔ سے کوئی چیز معاف نہیں کی جائیگی بلکہ ہر ایک کا بدلہ لیا جائے گا ۔ آیت زیر بحث کا تعلق بظاہر یہود سے ہے کہ انہوں نے کفر کیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف اور آپ کی نعت کو چھپایا لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ آیت کا نزول اشعت بن قیس اور انکے چچا اور بھائی کے قصے میں ہوا ہو یا اشعت بن قیس اور ایک یہودی کے بارے میں ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امری القیس بن عابس کندی اور ربیعہ بن عیدان حضرمی کے جھگڑے میں نازل ہوئی ہو ۔ ان تمام جھگڑوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اشعت بن قیس کا ایک کنواں ان کے چچا زار بھائی کی زمین میں تھا انہوں نے بھائی کے خلاف دعویٰ کیا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اشعت تیرے پاس شہادت ہے اشعت نے انکار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھرے تیرے بھائی کی قسم پر فیصلہ ہوگا ۔ اشعت نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ تو قسم کھا ۔۔۔۔ جائے گا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر کوئی شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال کھائے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہوگا ۔ دوسرے واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اشعت کی ایک زمین یہودی کے پاس تھی ان سے انکار کردیا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا آپ نے شہادت طلب کی ۔ اشعت نے کہا میرے پاس گواہ تو نہیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر مدعا علیہ کی قسم پر فیصلہ ہوگا ۔ اشعت نے کہا جناب وہ تو جھوٹی قسم کھالے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ تیسرے واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ قیس بن عابس کندی اور ربیعہ حضرمی کا بھی ایک قصہ زمین کا تھا حضرمی نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ات کندی نے میری زبان دبالی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیرے پاس شہادت ہے ۔ حصرمی نے انکار کیا ۔ آپ نے فرمایا کندی کی قسم پر فیصلہ ہوگا ۔ حضرمی نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ شخص فاجر ہے اس کی جھوٹی قسم کھا لینا کیا مشکل ہے۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کے مال پر قبضہ کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ جذام کے مرض میں مبتلا ہوگا ، اس پر یہ آیتیں نارل ہوئیں۔ بہر حال آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ان سب واقعات کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اگرچہ بظاہر سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا تعلق یہود کی عہد شکنی سے اور اپنے عہد و پیماں سے پھرجانے کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ حدیث میں آتا ہے تین شخص ایسے ہیں جن سے نہ تو اللہ تعالیٰ کلام کرے گا ، نہ ان کا و نگاہ بھر کے دیکھے گا نہ ان کے گناہوں سے ان کو پاک کرے گا ۔ ایک تو وہ شخص جو برسانی پانی پر قبضہ کرلیتا ہے اور کسی مسافر کو پانی نہیں لینے دیتا یعنی جنگل میں جو پانی گڑھوں میں برسات کا کھڑا ہوجاتا ہے اس پر قبضہ کرلیتا ہے اور کسی مسافر کو نہیں لینے دیتا ۔ دوسرا وہ شخص جو عصر کی نماز کے بعد جھوٹی قسم کھا کر مال فروخت کرتا ہے تا کہ کسی مسلمان کا مال قسم کے پردے میں دھوکہ دے کر جائے۔ تیسرے وہ جو دنیوی اغراض کے خیال سے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کرلیتا ہے اگر وہ مطلب پورا ہوگیا تو بیعت پر قائم رہا اگر وہ غرض پوری نہ ہوئی تو امام سے بغاوت کردی ۔ یہ حدیث مختلف الفاظ سے تمام کتب احادیث میں آئی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ یہود میں صفت تھی کہ ان سے اللہ تعالیٰ نے اقرار لیا تھا اور قسمیں دی تھیں کہ ہر نبی کے مدد گار رہیو۔ پھر غرض دنیا کے واسطے پھرگئے اور جو کوئی جھوٹی قسم کھا وے دنیا ملنے کے واسطے اس کا یہی حال ہے۔ ( موضح القرآن) اب آگے یہود کی بعض اور شرارتوں کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)