Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 81

سورة آل عمران

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾

And [recall, O People of the Scripture], when Allah took the covenant of the prophets, [saying], "Whatever I give you of the Scripture and wisdom and then there comes to you a messenger confirming what is with you, you [must] believe in him and support him." [ Allah ] said, "Have you acknowledged and taken upon that My commitment?" They said, "We have acknowledged it." He said, "Then bear witness, and I am with you among the witnesses."

جب اللہ تعالٰی نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے ۔ فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمّہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے ، فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Taking a Pledge From the Prophets to Believe in Our Prophet, Muhammad Allah states that He took a pledge from every Prophet whom He sent from Adam until `Isa, that when Allah gives them the Book and the Hikmah, thus acquiring whatever high grades they deserve, then a Messenger came afterwards, they would believe in and support him. Even though Allah has given the Prophets the knowledge and the Prophethood, this fact should not make them refrain from following and supporting the Prophet who comes after them. This is why Allah, the Most High, Most Honored, said, وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا اتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ... And (remember) when Allah took the covenant of the Prophets, saying: "Take whatever I gave you from the Book and Hikmah." meaning, if I give you the Book and the Hikmah, ... ثُمَّ جَاءكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُوْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي ... "and afterwards there will come to you a Messenger confirming what is with you; you must, then, believe in him and help him." Allah said, "Do you agree (to it) and will you take up Isri!" Ibn Abbas, Mujahid, Ar-Rabi, Qatadah and As-Suddi said that; `Isri' means, "My covenant." Muhammad bin Ishaq said that, إِصْرِي (Isri) means, "The responsibility of My covenant that you took," meaning, the ratified pledge that you gave Me. ... قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ They said: "We agree." He said: "Then bear witness; and I am with you among the witnesses." فَمَن تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ

انبیاء سے عہد و میثاق یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک کے تمام انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا کہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کتاب و حکمت دے اور وہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھر اس کے بعد اسی کے زمانے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم آجائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی نصرت و امداد کرنا اس کا فرض ہو گا یہ نہ ہو کہ اپنے علم و نبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی اتباع اور امداد سے رک جائے ، پھر ان سے پوچھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو؟ اور اسی عہد و میثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو ۔ سب نے کہا ہاں ہمارا اقرار ہے تو فرمایا گواہ رہو اور میں خود بھی گواہ ہوں ۔ اب اس عہد و میثاق سے جو پھر جائے وہ قطعی فاسق ، بےحکم اور بدکار ہے ، حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں٠ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ اس کی زندگی میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجے تو اس پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی امداد کرے اور اپنی امت کو بھی وہ یہی تلقین کرے کہ وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تابعداری میں لگ جائے ، طاؤس حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں نبیوں سے اللہ نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں ، کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ تفسیر اوپر کی تفسیر کے خلاف ہے بلکہ یہ اس کی تائید ہے اسی لئے حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے لڑکے کی روایت مثل روایت حضرت علی اور ابن عباس کے بھی مروی ہے ۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ میں نے ایک دوست قریظی یہودی سے کہا تھا کہ وہ تورات کی جامع باتیں مجھے لکھ دے اگر آپ فرمائیں تو میں انہیں پیش کروں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ ثابت نے کہا کہ تم نہیں دیکھتے کہ آپ کے چہرہ کا کیا حال ہے؟ تو حضرت عمر کہنے لگے میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر محمد کے رسول ہونے پر خوش ہوں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دور ہوا اور فرمایا قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر حضرت موسیٰ تم میں آجائیں اور تم ان کی تابعداری میں لگ جاؤ اور مجھے چھوڑ دو تو تم سب گمراہ ہو جاؤ تمام امتوں میں سے میرے حصے کی امت تم ہو اور تمام نبیوں میں سے تمہارے حصے کا نبی میں ہوں ، مسند ابو یعلی میں لکھا ہے اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو وہ خود گمراہ ہیں تو تمہیں راہ راست کیسے دکھائیں گے بلکہ ممکن ہے تم کسی باطل کی تصدیق کر لو یا حق کی تکذیب کر بیٹھو اللہ کی قسم اگر موسیٰ بھی تم میں زندہ موجود ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے اور کچھ حلال نہ تھا ، بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا ، پس ثابت ہوا کہ ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور امام اعظم ہیں جس زمانے میں بھی آپ کی نبوت ہوتی آپ واجب الاطاعت تھے اور تمام انبیاء کی تابعداری پر جو اس وقت ہوں آپ کی فرمانبرداری مقدم رہتی ، یہی وجہ تھی کہ معراج والی رات بیت المقدس میں تمام انبیاء کے امام آپ ہی بنائے گئے ، اسی طرح میدان محشر میں بھی اللہ تعالیٰ کی فیصلوں کو انجام تک پہنچانے میں آپ ہی شفیع ہوں گے یہی وہ مقام محمود ہے جو آپ کے سوا اور کو حاصل نہیں تمام انبیاء اور کل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیر لیں گے بالاخر آپ ہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ اپنے درود و سلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ بھیجتا رہے قیامت کے دن تک آمین ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

81۔ 1 یعنی ہر نبی سے یہ وعدہ لیا گیا کہ اس کی زندگی اور دور نبوت میں اگر دوسرا نبی آئے گا تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہوگا جب نبی کی موجودگی میں آنے والے نئے نبی پر خود اس نبی کو ایمان لانا ضروری ہے تو ان کی امتوں کے لئے تو اس نئے نبی پر ایمان لانا بطریق اولیٰ ضروری ہے بعض مفسرین نے اس کا یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ یعنی حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بابت تمام نبیوں سے عہد لیا گیا کہ اگر ان کے دور میں وہ آجائیں تو اپنی نبوت ختم کر کے ان پر ایمان لانا ہوگا لیکن یہ واقعہ ہے پہلے معنی میں ہی یہ دوسرا مفہوم از خود آجاتا ہے اس لئے الفاظ قرآن کے اعتبار سے پہلا مفہوم ہی زیادہ صحیح ہے اس مفہوم کے لحاظ سے بھی یہ بات واضح ہے کہ نبوت محمدی کے سراج منیر کے بعد کسی بھی نبی کا چراغ نہیں جل سکتا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) تورات کے اوراق پڑھ رہے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دیکھ کر غضب ناک ہوئے اور فرمایا کہ " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہو کر آجائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کے پیچھے لگ جاؤ تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ (مسند احمد بحوالہ ابن کثیر) بہرحال اب قیامت تک واجب الاتباع صرف محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور نجات انہی کی اطاعت میں منحصر ہے نہ کہ کسی امام کی اندھی تقلید یا کسی بزرگ کی بیعت میں۔ جب کسی پیغمبر کا سکہ اب نہیں چل سکتا تو کسی اور کی ذات غیر مشروط اطاعت کی مستحق کیوں کر ہوسکتی ہے ؟ اصر بمعنی عہد اور ذمہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧١] اللہ تعالیٰ نے ایک عہد تو تمام بنی آدم سے عالم ارواح میں لیا تھا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت نمبر ١٧٧ میں آتا ہے اور دوسرا عہد انبیاء سے لیا گیا تھا۔ جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور مفسرین کی رائے کے مطابق یہ عہد بھی عالم ارواح میں ہی لیا گیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں کوئی ایسا نبی آئے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق کرتا ہو تو تمہیں اس پر ایمان بھی لانا ہوگا اور اس کی مدد بھی کرنا ہوگی۔ یہ حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے اس حکم کی بجا آوری کی توثیق بھی کرائی۔ بیشمار انبیاء تو ایسے ہیں جو ہم عصر تھے۔ جسے حضرت ابراہیم اور لوط، حضرت موسیٰ اور ہارون، حضرت عیسیٰ اور یحییٰ وغیرہ وغیرہ اور یہ سب دعوت الی اللہ کے کام میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار تھے۔ پھر جو عہد انبیاء سے لیا گیا تھا اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہر نبی کی امت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہود پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ عیسیٰ اور دوسرے انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے کام میں مددگار ثابت ہوتے۔ اسی طرح یہود، نصاریٰ اور مشرکین مکہ (جو اپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیرو کار سمجھتے تھے) سب پر یہی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاتے اور ان کے معاون و مددگار ثابت ہوتے۔ پھر یہ بات صرف اس عہد تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ہر نبی کی کتاب میں بعد میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی جاتی رہی اور اس نبی اور اس کی امت سے اسی قسم کا عہد لیا جاتا رہا۔ واضح رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کے انبیاء سے یہ عہد لیا گیا تھا اور ان کی کتابوں میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی گئی تھی۔ لیکن آپ سے اس قسم کا عہد نہیں لیا گیا کیونکہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ نہ ہی قرآن و حدیث میں کسی آنے والے نبی کی بشارت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے اور بیشمار احادیث صحیحہ سے یہ بات واضح ہے کہ آپ کے بعد تاقیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ضرور نازل ہوں گے۔ مگر اس وقت ان کی حیثیت آپ کے متبع کی ہوگی یعنی وہ شریعت محمدیہ کی ہی اتباع کریں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ ۔۔ : ان آیات سے مقصود ایسے دلائل کی وضاحت ہے جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کے بعد ہر نبی سے عہد لیا کہ وہ اپنے بعد آنے والے نبی کی تصدیق اور اس کی مدد کرے گا اور اس بارے میں کسی قسم کی گروہ بندی اور عصبیت اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اگر وہ نبی اس کی زندگی میں آجائے تو بذات خود اس پر ایمان لائے گا اور اگر اس کی وفات کے بعد آئے تو وہ اپنی امت کو بعد میں آنے والے نبی پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کا حکم دے کر جائے گا۔ اس اعتبار سے گویا موسیٰ (علیہ السلام) سے عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا ہے۔ طبری اور ابن ابی حاتم میں حسن سند کے ساتھ ابن عباس (رض) کا قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد لیا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری زندگی میں آجائیں تو تم ان پر ایمان لاؤ گے۔ ابن کثیر (رض) فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر کوئی الگ نہیں بلکہ پہلی تفسیر ہی میں شامل ہے۔ بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور واجب الاتباع ہیں، اب آپ کے سوا کسی اور نبی کی اتباع جائز نہیں۔ ” اِصْرٌ“ کسی چیز کے باندھنے اور زبردستی بند کرنے کو کہتے ہیں، یعنی بھاری بوجھ۔ اسی طرح مؤکد عہد کو بھی ” اِصْرٌ“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کو باندھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء سے یہ عہد اور اقرار لیا، انھیں اس کی شہادت کا حکم دیا اور خود بھی شہادت دی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا (حضرات) انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں (اور) پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آوے جو مصداق ( اور موافق) ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب اور شریعت میں) ہے (یعنی دلائل معتبرہ عند الشرع سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو تم ضرور اس رسول (کی رسالت) پر (دل سے) اعتقاد بھی لانا اور (ہاتھ پاؤں سے) اس کی مدد بھی کرنا (پھر یہ عہد بیان کر کے ارشاد فرمایا کہ آیا تم نے قرار کیا اور لیا اس (مضمون) پر میرا عہد (اور حکم قبول کیا) وہ بولے کہ ہم نے اقرار کیا، ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ بھی رہنا (کیونکہ گواہی سے پھرنے کو ہر شخص ہر حال میں برا سمجھتا ہے، بخلاف اقرار کرنے والے کے کہ بوجہ صاحب غرض ہونے کے اس کا پھرجانا زیادہ مستبعد نہیں ہوتا، اسی طرح تم صرف اقراری نہیں بلکہ گواہ کی طرح اس پر قائم رہنا) اور میں (بھی) اس (مضمون) پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ( یعنی واقعہ کی اطلاع اور علم رکھنے والا) ہوں، سو جو شخص (امتوں میں سے) روگردانی کرے گا (اس عہد سے) بعد اس کے (کہ انبیاء تک سے عہد لیا گیا اور امتیں تو کس شمار میں ہیں) تو ایسے ہی لوگ (پوری) نافرمانی کرنے والے (یعنی کافر) ہیں، کیا (دین اسلام سے جس کا عہد لیا گیا ہے روگردانی کر کے) پھر (اس) دین خداوندی کے سوا اور کسی طریقہ کو چاہتے ہیں حالانکہ حق تعالیٰ (کی یہ شان ہے کہ ان) کے (حکم کے) سامنے سب سر افگندہ ہیں جتنے آسمانوں میں (ہیں) اور (جتنے) زمین میں ہیں (بعضے) خوشی (اور اختیار سے) اور (بعضے) مجبوری سے اور (اول تو اس عظمت ہی کا مقتضی یہ تھا کہ کوئی ان کے عہد کی مخالفت نہ کرے خاص کر جبکہ آئندہ سزا کا بھی ڈر ہو چنانچہ) سب خدا ہی کی طرف (قیامت کے روز) لوٹائے (بھی) جاویں گے (اور اس وقت مخالفین کو سزا ہوگی) (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (دین اسلام کے اظہار کے لئے خلاصہ کے طور پر یہ) فرمادیجیے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس (حکم) پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا اور اس (حکم) پر جو (حضرت) ابراہیم و اسماعیل و یعقوب (علیہم السلام) اور اولاد یعقوب (میں جو نبی گزرے ہیں ان) کی طرف بھیجا گیا اور اس (حکم و معجزہ) پر بھی جو (حضرت) موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے نبیوں کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے (سو ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں، اور ایمان بھی) اس کیفیت سے کہ ہم ان (حضرات) میں سے کسی ایک میں بھی (ایمان لانے کے معاملہ میں) تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان رکھیں اور کسی پر نہ رکھیں) اور ہم تو اللہ ہی کے مطیع ہیں (اس نے ہی دین ہم کو بتلایا ہم نے اختیار کرلیا) ۔ معارف و مسائل : اللہ تعالیٰ کے تین عہد : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے تین طرح کے عہد لئے ہیں۔ ایک کا ذکر سورة اعراف میں (الست بربکم۔ ٧: ١٧٢) کے تحت کیا گیا ہے، اس عہد کا مقصد یہ تھا کہ تمام بنی نوع انسان خدا کی ہستی اور ربوبیت عامہ پر اعتقاد رکھے کیونکہ مذہب کی ساری عمارت اسی سنگ بنیاد پر ہے، جب تک یہ اعتقاد نہ ہو، مذہبی میدان میں عقل و فکر کی رہنمائی کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی، اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ اپنے مقام پر آئے گی۔ دسرے کا ذکر (واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ۔ ٣: ١٨٧) سے کیا گیا، یہ عہد صرف اہل کتاب کے علماء سے لیا گیا تھا کہ وہ حق کو نہ چھپائیں، بلکہ صاف اور واضح طور پر بیان کریں۔ تیسرے عہد کا بیان واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ سے کیا گیا ہے اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ (تفسیر احمدی) میثاق سے کیا مراد ہے اور یہ کہاں ہوا ؟ میثاق کہاں ہوا ؟ یا تو عالم ارواح میں ہوا یا دنیا میں بذریعہ وحی ہوا، دونوں احتمال ہیں۔ (بیان القرآن) میثاق کیا ہے ؟ اس کی تصریح تو قرآن نے کردی ہے۔ لیکن یہ میثاق کس چیز کے بارے میں لیا گیا ہے اس میں اقوال مختلف ہیں۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد تمام انبیاء سے صرف محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں لیا تھا کہ اگر وہ خود ان کا زمانہ پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور ان کی تائید و نصرت کریں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی یہی ہدایت کر جائیں۔ حضرت طاؤس، حسن بصری اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ میثاق انبیاء سے اس لئے لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی تائید و نصرت کریں۔ (تفسیر ابن کثیر) اس دوسرے قول کی تائید اللہ تعالیٰ کے قول (واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم واخذنا منھم میثاقا غلیظا۔ ٣٣: ٧۔ احزاب) سے بھی کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ یہ عہد ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کے لئے لیا گیا تھا۔ (تفسیر احمدی) درحقیقت مذکورہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں ہے، اس لئے دونوں ہی مراد لی جاسکتی ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر) تمام انبیاء سے ایمان کے مطالبے کا فائدہ : بظاہر یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو علیم وخبیر ہیں ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی نبی کی موجودگی میں تشریف نہیں لائیں گے تو پھر انبیاء کے ایمان لانے کا کیا فائدہ ؟ ذرا غور کیا جائے تو فائدہ بالکل ظاہر معلوم ہوگا کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات والا صفات پر ایمان قبول کرنے کا پختہ ارادہ کریں گے تو اسی وقت سے ثواب پائیں گے۔ (صاوی بحوالہ جلالین) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت عامہ : ( واذ اخذ اللہ میثاق النبیین) ان آیات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ پختہ عہد لیا کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے جو یقینا پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا، تو پہلے نبی کے لئے ضروری ہے کہ پچھلے نبی کی سچائی اور نبوت پر ایمان خود بھی لائے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کرے، قرآن کے اس قاعدہ کلیہ سے روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی اسی طرح کا عہد انبیاء سے لیا ہوگا جیسا کہ علامہ سبکی (رح) اپنے رسالہ |" التعظیم والمنۃ فی لتومنن بہ ولتنصرنہ |" میں فرماتے ہیں کہ |" آیت میں رسول سے مراد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات والا صفات کے بارے میں تائید و نصرت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد نہ لیا ہو، اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور تائید و نصرت کی وصیت نہ کی ہو، اور اگر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت انبیاء کے زمانے میں ہوتی تو ان سب کے نبی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہوتے اور وہ تمام انبیاء آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں شمار ہوتے، اس سے معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان محض نبی الامت ہی کی نہیں ہے بلکہ نبی الانبیاء کی بھی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے تو وہ بھی قرآن حکیم اور تمہارے نبی ہی کے احکام پر عمل کریں گے۔ (تفسیر ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت |" عامہ اور شاملہ |" ہے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں سابقہ تمام شریعتیں مدغم ہیں، اس بیان سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اشاد |" بعثت الی الناس کافۃ |" کا صحیح مفہوم بھی نکھر کر سامنے آجاتا ہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ سمجھنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے قیامت تک کے لئے ہے صحیح نہیں، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا زمانہ اتنا وسیع ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی نبوت سے پہلے شروع ہوتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ |" کنت نبیا و ادم بین الروح والجسد |" محشر میں شفاعت کبری کے لئے پیش قدمی کرنا اور تمام بنی آدم کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھنڈے تلے جمع ہونا اور شب معراج میں بیت المقدس کے اندر تمام انبیاء کی امامت کرانا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسی سیاست عامہ اور امامت عظمی کے آثار میں سے ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَۃٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ۝ ٠ ۭ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ۝ ٠ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا۝ ٠ ۭ قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰہِدِيْنَ۝ ٨١ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ وثق وَثِقْتُ به أَثِقُ ثِقَةً : سکنت إليه واعتمدت عليه، وأَوْثَقْتُهُ : شددته، والوَثَاقُ والوِثَاقُ : اسمان لما يُوثَقُ به الشیء، والوُثْقَى: تأنيث الأَوْثَق . قال تعالی: وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] ، حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] والمِيثاقُ : عقد مؤكّد بيمين وعهد، قال : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] ، وَإِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثاقَهُمْ [ الأحزاب/ 7] ، وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] والمَوْثِقُ الاسم منه . قال : حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] ( و ث ق ) وثقت بہ اثق ثقتہ ۔ کسی پر اعتماد کرنا اور مطمئن ہونا ۔ اوثقتہ ) افعال ) زنجیر میں جکڑنا رسی سے کس کر باندھنا ۔ اولوثاق والوثاق اس زنجیر یارسی کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو کس کو باندھ دیا جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] اور نہ کوئی ایسا جکڑنا چکڑے گا ۔ حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] یہ ان تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو ( جو زندہ پکڑے جائیں ان کو قید کرلو ۔ المیثاق کے منیق پختہ عہدو پیمان کے ہیں جو قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا ۔ وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] اور عہد بھی ان سے پکالیا ۔ الموثق ( اسم ) پختہ عہد و پیمان کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] وَما لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 74] ، وَكَفى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفى بِاللَّهِ نَصِيراً [ النساء/ 45] ، ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ [ التوبة/ 116] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی إِقْرَارُ : إثبات الشیء، قال : وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحامِ ما نشاء إِلى أَجَلٍ [ الحج/ 5] ، وقد يكون ذلک إثباتا، إمّا بالقلب، وإمّا باللّسان، وإمّا بهما والإقرار بالتّوحید وما يجري مجراه لا يغنی باللّسان ما لم يضامّه الإقرار بالقلب، ويضادّ الإقرار الإنكار، وأمّا الجحود فإنما يقال فيما ينكر باللّسان دون القلب، وقد تقدّم ذكره قال : ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ البقرة/ 84] ، ثُمَّ جاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلى ذلِكُمْ إِصْرِي قالُوا أَقْرَرْنا [ آل عمران/ 81] ، الاقرار ( افعال) کے معنی کسی چیز کو ٹھہرا دینے کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحامِ ما نشاء إِلى أَجَلٍ [ الحج/ 5] اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ۔ اور کبھی اس کے معنی ثابت کرنا بھی آجاتے ہیں اور اقرار کبھی دل سے ہوتا ہے اور کبھی زبان سے اور کبھی ان دونوں سے ۔ توحید اور دیگر ایمانیات کے بارے میں صرف زبان سے اقرار کرلینا کافی نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے ساتھ دل سے بھی اقرار نہ کرنے ۔ اقراء کی ضد انکار آتی ہے اور حجود صرف زبان سے انکار کردینے پر بولا جاتا ہے خواہ دل سے اسے تسلیم ہی کیوں نہ کرتا ہو جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ البقرة/ 84] پھر تم نے اقرار کرلیا اور تم اس بات ک گواہ ہو ۔ ثُمَّ جاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلى ذلِكُمْ إِصْرِي قالُوا أَقْرَرْنا [ آل عمران/ 81] پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے ۔ تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا ۔ اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی ( اور عہد لینے کے بعد ) پوچھا کہ بھلاتم نے اقرار کیا اور اقرار پر میرا ذمہ لیا ۔ انہوں نے کہا ہاں ہم نے اقرار کیا ۔ أصر الأَصْرُ : عقد الشیء وحبسه بقهره، يقال : أَصَرْتُهُ فهو مَأْصُورٌ ، والمَأْصَرُ والمَأْصِرُ : محبس السفینة . قال اللہ تعالی: وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ [ الأعراف/ 157] أي : الأمور التي تثبطهم وتقيّدهم عن الخیرات وعن الوصول إلى الثواب، وعلی ذلك : وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنا إِصْراً [ البقرة/ 286] ، وقیل : ثقلا «3» . وتحقیقه ما ذکرت، والإِصْرُ : العهد المؤكّد الذي يثبّط ناقضه عن الثواب والخیرات، قال تعالی: أَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلى ذلِكُمْ إِصْرِي [ آل عمران/ 81] . الإصار : الطّنب والأوتاد التي بها يعمد البیت، وما يَأْصِرُنِي عنک شيء، أي : ما يحبسني . والأَيْصَرُ : کساء يشدّ فيه الحشیش فيثنی علی السنام ليمكن رکوبه . ( ا ص ر ) الاصر ۔ ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز میں گرہ لگانے اور اس کو زبردستی روک لینا کے ہیں اصر یا صر اصرا فھو ماصور اور ماصر وماصر بندر گاہ پر جہاز کھڑا کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ { وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ } ( سورة الأَعراف 157) اور ان پر سے بوجھ ۔۔۔ اتارتے ہیں ۔ یہاں اصر سے وہ دشواریاں مراد ہیں جو خیرات اور ثواب تک پہنچے سے ان کے لئے رکاوٹ بنی ہوئی تھیں اور آیت :۔ { وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا } [ البقرة : 286] میں بھی اصر اسی معنی پر محمول ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ اصر کے معنی بوجھ کے ہیں ۔ لیکن اس کی حقیقیت وہی ہے جو ہم نے بیان کردی ہے ۔ نیز اصر اس عہد موکد کو بھی کہے ہیں جو خلاف ورزی کرنے والے کو ثواب اور خیرات سے روک دے چناچہ قرآن میں ہے :۔ { أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي } [ آل عمران : 81] بھلا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا پختہ عہد لیا ۔ الاصار رسی یا میخ جن کے سہارے پر خیمہ کو کھڑا کیا جاتا ہے ۔ مایاصرنی عتک شیئ مجھے تیرے پاس پہنچنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے ۔ الایصر۔ وہ کمبل جس میں خشک گھاس بھر کر اونٹ کی کوہان کے گرد لپیٹا جاتا ہے تاکہ اس پر آسانی کے ساتھ سواری ہوسکے ۔ شاهِدٌ وقد يعبّر بالشهادة عن الحکم نحو : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] ، وعن الإقرار نحو : وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] ، أن کان ذلک شَهَادَةٌ لنفسه . وقوله وَما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] أي : ما أخبرنا، وقال تعالی: شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] ، أي : مقرّين . لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] ، وقوله : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] ، فشهادة اللہ تعالیٰ بوحدانيّته هي إيجاد ما يدلّ علی وحدانيّته في العالم، وفي نفوسنا کما قال الشاعر : ففي كلّ شيء له آية ... تدلّ علی أنه واحدقال بعض الحکماء : إنّ اللہ تعالیٰ لمّا شهد لنفسه کان شهادته أن أنطق کلّ شيء كما نطق بالشّهادة له، وشهادة الملائكة بذلک هو إظهارهم أفعالا يؤمرون بها، وهي المدلول عليها بقوله : فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] ، اور کبھی شہادت کے معنی فیصلہ اور حکم کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] اس کے قبیلہ میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا ۔ اور جب شہادت اپنی ذات کے متعلق ہو تو اس کے معنی اقرار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہو تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ چار بار خدا کی قسم کھائے ۔ اور آیت کریمہ : ما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق ( اس کے لے آنے کا ) عہد کیا تھا ۔ میں شھدنا بمعنی اخبرنا ہے اور آیت کریمہ : شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں گے ۔ میں شاھدین بمعنی مقرین ہے یعنی کفر کا اقرار کرتے ہوئے ۔ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی ۔ اور ایت کریمہ ؛ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ ۔ میں اللہ تعالیٰ کے اپنی وحدانیت کی شہادت دینے سے مراد عالم اور انفس میں ایسے شواہد قائم کرنا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ (268) ففی کل شیئ لہ آیۃ تدل علی انہ واحد ہر چیز کے اندر ایسے دلائل موجود ہیں جو اس کے یگانہ ہونے پر دلالت کر رہے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ باری تعالیٰ کے اپنی ذات کے لئے شہادت دینے سے مراد یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کو نطق بخشا اور ان سب نے اس کی وحدانیت کا اقرار کیا ۔ اور فرشتوں کی شہادت سے مراد ان کا ان افعال کو سر انجام دینا ہے جن پر وہ مامور ہیں ۔ جس پر کہ آیت ؛فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] پھر دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں ۔ دلاکت کرتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨١) اب اللہ تعالیٰ اس عہد ومیثاق کا ذکر فرماتے ہیں جو اس نے تمام انبیاء کرام (اور ان کی قوموں سے) لیا کہ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد فرمائیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر ایک نبی سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت وصفت اور آپ کے فضائل کو بیان کرے گا جب کہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی کتاب دوں گا، جس میں حلال و حرام تمام چیزوں کا بیان ہوگا اور پھر تم اس بات کا اپنی امت سے بھی عہد لوگے کہ اگر تمہارے پاس ایسا رسول آئے جو تمہاری کتابوں کی توحید کے بیان میں تصدیق کرنے والا ہو تو ضرور تم لوگ اس پر اور اس کے فضائل پر ایمان لاؤ گے اور اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں اس کی مدد کرو گے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، آیاتم نے اقرار کیا اور میرا یہ عہد قبول کیا ؟ تمام انبیاء کرام نے عرض کیا، بیشک ہم نے اس چیز کو قبول کیا ارشاد ہوا، اس اقرار نامہ پر گواہ رہنا اور میں بھی اس گواہ ہوں ، اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام سے اس چیز کا عہد لیا اور خود بھی اس چیز پر گواہ بنے چناچہ ہر ایک نبی نے اپنی امت کے سامنے اس چیز کو بیان کیا اور ہر ایک نے اپنی امت سے اس چیز پر عہد لیا اور خود انبیاء کرام بھی اس کے گواہ بنے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨١ (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاق النَّبِیّٖنَ ) (لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ ‘ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط) اس لیے کہ انبیاء و رسل کا ایک طویل سلسلہ چل رہا تھا ‘ اور ہر نبی نے آئندہ آنے والے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کی پیشین گوئی کی ہے اور اپنی امت کو اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اور یہ بھی ختم نبوت کے بارے میں بہت بڑی دلیل ہے کہ ایسی کسی شے کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسا کوئی عہد لیا گیا ہو یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کو کسی بعد میں آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو ‘ بلکہ اس کے برعکس قرآن میں صراحت کے ساتھ آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خاتم النبییّن فرمایا گیا ہے اور متعدد احادیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت دے کر گئے ہیں اور دیگر انبیاء کی کتابوں میں بھی بشارتیں موجود ہیں۔ انجیل برنباس کا تو کوئی صفحہ خالی نہیں ہے جس میں آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت نہ ہو ‘ لیکن باقی انجیلوں میں سے یہ بشارتیں نکال دی گئی ہیں۔ (قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ط) ( قَالُوْآ اَقْرَرْنَا ط) انبیاء و رسل سے یہ عہد عالم ارواح میں لیا گیا۔ جس طرح تمام ارواح انسانیہ سے عہد الستلیا گیا تھا (اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی) اسی طرح جنہیں نبوت سے سرفراز ہونا تھا ان کی ارواح سے اللہ تعالیٰ نے یہ اضافی عہد لیا کہ میں تمہیں نبی بنا کر بھیجوں گا ‘ تم اپنی امت کو یہ ہدایت کر کے جانا کہ تمہارے بعد جو نبی بھی آئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد اور نصرت کرنا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

69. A party of the People of the Book would fain lead you astray, whereas in truth they lead none astray except themselves, but they do not realize it.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :69 مطلب یہ ہے کہ ہر پیغمبر سے اس امر کا عہد لیا جاتا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو عہد پیغمبر سے لیا گیا ہو وہ لامحالہ اس کی پیرووں پر بھی آپ سے آپ عائد ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ جو نبی ہماری طرف سے اس دین کی تبلیغ و اقامت کے لیے بھیجا جائے جس کی تبلیغ و اقامت پر تم مامور ہوئے ہو ، اس کا تمہیں ساتھ دینا ہو گا ۔ اس کے ساتھ تعصب نہ برتنا ، اپنے آپ کو دین کا اجارہ دار نہ سمجھنا ، حق کی مخالفت نہ کرنا ، بلکہ جہاں جو شخص بھی ہماری طرف سے حق کا پرچم بلند کرنے کے لیے اٹھایا جائے اس کے جھنڈے تلے جمع ہو جانا ۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہر نبی سے یہی عہد لیا جاتا رہا ہے اور اسی بنا پر ہر نبی نے اپنی امت کو بعد کے آنے والے نبی کی خبر دی ہے اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ہے ۔ لیکن نہ قرآن میں نہ حدیث میں ، کہیں بھی اس امر کا پتہ نہیں چلتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عہد لیا گیا ہو یا آپ نے اپنی امت کو کسی بعد کے آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(81 ۔ 82) ۔ یہ وہی معاہدہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں گذرا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نبی سے اس کے ما بعد میں آنے والے نبی کی بابت یہ عہد کیا ہے کہ اگر پہلا نبی ما بعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پائے تو خود اس پر ایمان لائے جب ضرورت پڑے اس کی مدد کرے ورنہ اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جائے یہ معاہدہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوتا ہے چناچہ اس معاہدہ کی بنا پر اوپر کی حدیث میں آپ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر میرے زمانہ میں موسیٰ و ” عیسیٰ (علیہما السلام) “ زندہ ١ ہوتے تو وہ بھی میری فرماں برداری قبول کرتے، اس معاہدہ کو یاد دلا کر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب مشرکین مکہ سب کو یوں قائل کیا ہے کہ یہود اگرچہ اپنے آپ کو شریعت موسوی کا پابند کہتے ہیں۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے معاہدہ اور وصیت کے خلاف ہیں ہیں۔ اسی طرح شریعت عیسوی اور ملت ابراہیمی کی پابندی کے مدعیوں کا حال ہے۔ لیکن ان کو یہ یاد رہے کہ یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کی گواہی سے مکمل ہوا ہے جس کی خلاف ورزی کے وبال کا کچھ ٹھکانہ نہیں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ لفظ اصر سے مراد وہی معاہد ہے جس کا ذکر میثاق کے لفظ سے فرمایا ہے۔ اصر کے معنی سخت اور شدید معاہدہ کے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:81) اس آیۃ میں میثاق النبیین کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ نبیوں کے بارے میں میثاق لیا گیا۔ دوسرا وہ میثاق جو نبیوں سے لیا گیا تھا۔ بعض مفسرین نے پہلا مطلب اختیار کیا ہے اور ان میں حضرت شاہ ولی اللہ (رح) بھی ہیں اور بعضوں نے دوسرا مطلب اختیار کیا ہے۔ لیکن پہلا مطلب زیادہ قرین قیاس ہے۔ دوسرے مطلب کی صورت میں ماحاصل یہ ہوگا کہ اللہ نے نبیوں میں سے ہر ایک نبی سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر کوئی دوسرا رسول اس کے عہد میں مبعوث ہو تو اس کا فرض ہے کہ اس کی تصدیق کرے۔ اور اس کا ساتھ دے۔ تاریخ میں کب اور کہاں ایسے حالات معرض وجود میں آئے کہ ایک امت کی جانب ایک رسول کتاب و حکمت لے کر آیا ہو اور اس کی حیات ہی میں ایک دوسرا رسول کتاب و حکمت کے ساتھ مبعوث ہوا ہو۔ اگر کبھی دو نبی ایک ہی وقت میں ایک ہی امت کی طرف بھیجے گئے تو دوسرا محض پہلے کی تائید اور نصرت کی خاطر مبعوث ہوا۔ اور جہاں تک اس آیت سے یہ مطلب اخذ کرنے کا سوال ہے کہ اس سے مراد تمام انبیاء سے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی پیروی کا اقرار لیا گیا تھا تو امام رازی نے اس بارے میں ایک بہت معقول سوال اٹھایا ہے کہ رسول مقبول کی بعثت کے وقت تمام انبیاء فوت ہوچکے تھے وہ کیسے ایسے وثاق کے مکلف ہوسکتے تھے۔ لہٰذا جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) کا موقف ہے وہ درست ہے کہ یہ میثاق ہر امت سے لیا گیا کہ ان میں سے ہر ایک کو بذریعہ رسول کتاب و حکمت دی گئی ہے لیکن جب کبھی اس کے بعد کوئی اور رسول منجانب اللہ کتاب و حکمت لے کر آئے جو پہلی کی تصدیق و تائید میں ہو تو اس وقت کی امت پر فرض ہوگا کہ نئے آنے والے رسول کی پیروی کرے اور اس کے ساتھ تعاون کرے کیونکہ اصل دین ایک ہی ہے اور جتنے بھی خدا کے رسول ہیں سب اسی کی دعوت دینے والے ہیں۔ واذ اخذ اللہ میثاق النبیین۔ اور یاد کرو جب ہم نے نبیوں کے بارے میں عہد لیا تھا۔ لتؤمنن بہ ولتنصرنہ۔ ہر دو فعل مضارع معروف بالام تاکید ونون ثقلیہ ہیں۔ تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔ اصری میرا عہد۔ چونکہ عہد کی ذمہ داری کا بھی انسا پر بوجھ ہوتا ہے اسلئے اصر کا استعمال عہد کے معنی میں بھی ہوتا ہے جمع اصار

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس آیت میں اہل کتاب کو متنہ کرنا ہے کہ تم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لاکر دراصل اس عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمہارے انبیا ( علیہ السلام) اور ان کے ذریعہ تم سے لیا گیا ہے۔ اب بتا و کہ تمہارے فاسق ہونے میں کوئی شک وشبہ ہوسکتا ہے۔ (کبیر) سامنے سرنگوں ہے اور اختیا ری وغیرہ اختیاری طور پر اس کے تابع فرمان ہے تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت، دین اللہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ کیوں اختیا کرتے ہیں۔ ان کو چاہیئے کہ اگر نجات اخروی چاہتے ہیں تو جو اللہ تعالیٰ کا دین اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر مبعوث ہوئے اس کو اختیار کر کوئی کرلیں۔ نیز دیکھئے حا آیت :84 ۔ )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 81 91 اسرارومعارف واذاخذ اللہ میثاق النبیین…………………وھوفی الاخرۃ من الخسرین۔ اور یہ نبی جس کا انکار کرنے کے لئے یہود طرح طرح کی حیلہ جو ئیاں کر رہے ہیں یہ تو ایسی عظیم ہستی ہے کہ تمام نوع انسانی کا نبی ہے۔ نہ صرف نبی الامت ہے بلکہ نبی الانبیاء اور امام المرسلین ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اللہ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہو یعنی تم بحیثیت نبی کے مبعوث کئے جائو۔ یاد رہے کہ کتاب کے ساتھ ہر جگہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کتاب الٰہیہ کے معانی بھی من جانب اللہ حکمت کے نام سے انبیاء کو تعلیم کئے جاتے ہیں اور کوئی ایسا معنی جو پیغمبر کے ارشاد کردہ معانی کے مطابق نہ ہو ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ تمہارے پاس اللہ کا رسول آئے جو تمہاری بھی تصدیق کرنے والا ہو تو تمہیں ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی۔ فرمایا ” کیا تم نے عہد کرلیا ؟ “ عرض کیا ، کرلیا یا اللہ ! تو حکم ہوا کہ گواہ رہو ، میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ اصل فیضان باری جو مخلوق کو نصیب ہوا ، اس سارے کا واحد واسطہ محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ستودہ صفات ہے کہ تمام عطا یا کی اصل رحمت ہے خواہ ولایت ہو یا نبوت یا رسالت یا قرب الٰہی کے منازل ہوں یا جنت الفردوس جملہ بخشش کی بنیاد رحمت ہے اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجسم رحمت۔ بقول علامہ سبکی (رح) کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خود ایمان لانے کا عہد نہ کیا ہو یا اپنی امت کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور تائید ونصرت کی تاکید نہ فرمائی ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت عامہ ہے بعثت الی الناس کافۃ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا زمانہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر قیامت تک ساری انسانیت کو محیط ہے اسی لئے ہر مرنے والے سے جہاں اللہ کی ربوبیت اور اپنے نبی کے بارے نیز دین کے بارے سوال ہوتا ہے وہاں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی ضرور پوچھا جاتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس آدمی کے درمیان حجابات اٹھا دیئے جاتے ہیں جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم ام میں تشریف رکھتے تھے۔ اب روضہء اطہر میں تشریف فرما ہیں۔ اگرچہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں دفن ہوا یا عہد نوح (علیہ السلام) میں۔ ہر ایک سے سوال ہوتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہچان کی بنیاد ایمان ہے : یہ بھی پتہ چلا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچاننا ایمان کے ساتھ ہوگا جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے صدیوں پہلے گزرے اگر ان کا ایمان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا تو ضرور پہچان لیں گے اور ایسے لوگ جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا بھی مگر ایمان نصیب نہیں ہوا۔ برزخ کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنے اور پہچاننے کی سعادت سے محروم رہیں گے کہ من جانب اللہ تو حجابات اٹھا دیئے جاتے ہیں مگر ان کا جو فعل اختیاری ہے تاریکی کی دیوار بن جاتا ہے۔ ارشاد ہوا اس کے بعد بھی اگر کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ مانے اور روگردانی کرے تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ارشاد کردہ دین کے علاوہ کوئی دین تلاش کرنا یا اپنانا چاہتے ہیں حالانکہ ارض وسما میں جو کچھ بھی ہے جو کوئی بھی ہے ، اپنی پسند یا مجبوراً سب کے سر اسی کی بارگاہ میں جھکے ہوئے ہیں اور بالآخر سب کو اسی کے در پر حاضر ہونا ہے۔ اے مخاطب ! تو کہہ دے کہ ہم تو اللہ پہ ایمان لائے اور اس بات کو حق مانا جو ہم پہ نازل ہوئی جو کچھ ہم سے پہلے حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب (علیہما السلام) اور ان کی اولاد پہ نازل ہوا۔ نیز جو کچھ ہم سے پہلے حضرت موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) کو عطا ہوا یا جو بھی انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے بخشا گیا ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور انبیاء میں ہرگز تفریق نہیں کرتے کہ کسی کا مانیں کسی کا انکار کردیں اور ہم تو اللہ ہی کے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہیں اور یہی اسلام ہے کہ ہر نبی کی دعوت اپنے وقت میں قابل اتباع اور ہمیشہ کے لئے ایمان کے لائق تھی۔ ہر نبی نے توحید کی دعوت دی۔ اپنی نبوت کا اقرار لیا۔ اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اقرار لیا۔ عبادات وفروعات ہر عہد اور ہر قوم کے لئے اپنے تھے اس طرح جب بھی کوئی نبی مبعوث ہوا اس کی اطاعت کا نام اسلام ہے۔ اور اب تمام انبیاء کے ساتھ ایمان اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اسلام ہے۔ اب خواہ کوئی ہو اس کے سوا کوئی بھی دوسری راہ اپنا نا چاہے تو ہرگز قبول نہ ہوگا بلکہ وہی شخص ابدی اور دائمی نقصان اٹھانے والا ہوگا اور ہمیشہ کی بربادی کا شکار۔ کیف یھدی اللہ قوما……………ومالھم من نصرین۔ اب ایسے لوگوں کو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاچکے یعنی اپنے نبی اور کتاب کی وساطت سے مان چکے اور گواہی دے چکے کہ اللہ کا رسول سچا ہے اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات قاہرہ اور دلائل باہرہ کو دیکھا ، سنا مگر انکار کردیا اور کافر ہوگئے۔ یعنی کفروابعد ایمانھم۔ تو ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں فرماتا۔ سیدھے راستے پر بخشش اور جنت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا۔ ایسے لوگوں کی سزا تو یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی ، اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے۔ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی طرف سے ان پر لعنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ کبھی ان کے عذاب میں کمی واقع ہوگی اور نہ کبھی دم لینے دیا جائے گا۔ ہاں ! ایک صورت ہے کہ اس ظلم سے باز آجائیں ، توبہ کرلیں اور اپنی عقیدۃً وعملاً اصلاح کرلیں۔ تو یقینا اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ ! کیا وسعت ہے رحمت باری کی جس کی انتہا نہیں کہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد بھی توبہ کرلے تو مغفرت سے محروم نہ رہے گا۔ اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوئے اصل مراد تو اہل کتاب ہی ہیں کہ اپنی کتاب کے مطابق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہ ایمان رکھتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے منتظر تھے مگر جب وقت آیا تو کافر ہوگئے اور پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ ایسوں کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی یعنی انہیں توبہ کی توفیق بھی نہ ملے گی کہ گناہوں کی بھی ایک حد ہے اس کے بعد دل اس قدر سیاہ ہوگا کہ توبہ کی توفیق ہی نہیں ملتی۔ ایسے ہی لوگ رہ گم کردہ ہیں اور یقینا جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی پر مرے تو اگر وہ اس قدر دولت مند بھی ہوں کہ زمین کے برابر سونا ان کے پاس ہو پھر آخرت میں ساتھ بھی لے جائیں ، جو دونوں امر محال ہیں تو بھی اسے بدلہ میں دے کر اپنی جان نہیں بچا سکتے۔ یعنی کفر پہ موت آجائے تو پھر نجات کا کوئی راستہ نہیں ابدالآباد جہنم میں رہنا ہوگا۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ایسے لوگوں کی سزا بھی دردناک ہوگی اور کوئی ان کا مددگار بھی نہ ہوگا۔ نہ کوئی سفارش یا شفاعت کرے گا اور نہ مددوحمایت۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 81 تا 91 لتومنن (البتہ تم ضرور ایمان لاؤگے) لن یقبل (ہرگز قبول نہ کیا جائے گا) لتنصرن (البتہ تم ضرور مدد کروگے) لایخفف (کمی نہ کی جائے گی) اصری (میرا بوجھ) لن تقبل (ہرگز قبول نہ کی جائے گی) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) الضآلون (گمراہ ہونے والے) طوع (خوشی سے) ملء الارض (زمین بھر) کرہ (زبردستی) لوافتدٰی (اگر وہ بدلہ میں دے) یبتغ (تلاش کرے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 81 تا 91 پچھلی آیات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اس کی تردید کردی ہے کہ انبیاء کرام اپنا بندہ بنانے نہیں آتے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انبیاء کرام لوگوں کو اللہ والا بنانے آتے ہیں۔ ان آیات میں یہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ کوئی نبی اپنی بندگی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ صرف اہل اللہ کی عبادت و بندگی کا طریقہ سکھاتا ہے ۔ البتہ انبیاء کرام کا یہ حق ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں ، ان کے طریقوں کو اپنائیں ، ان کے حکم کی پیروی کریں اور ان کے ساتھ اعانت کا رویہ اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ہے وہ سب ایک ہی دین کے مبلغ رہے ایک نے دوسرے کی تردید نہیں بلکہ ہر بعد آنے والے نے اپنے سے پہلے انبیاء کرام کی تصدیق کی ہے۔ یہ تو ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ انبیاء کی اعانت کرے لیکن خود اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے بھی اس کا عہد لیا ہے کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا کوئی نبی آئے تو پہلا نبی بعد میں آنے والے نبی کے متعلق بتائے۔ اور اس کی بھی تاکید اور ہدایت کرجائے کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لاکر اس کی اعانت وامداد کی جائے ۔ چناچہ تمام انبیاء کرام اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے رہے۔ اور انبیاء کرام کے علاوہ خود حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل اور اپنی اپنی امتوں کو اس بات کی خوشخبری دی کہ ہمارے بعد ایک ایسے نبی آنے والے ہیں جو تمام نبیوں کے سردار ہوں گے یہ بشارتیں آج بھی ان آسمانی کتابوں میں موجود ہیں جن میں انبیاء کرام نے اپنے ماننے والے والوں کو اس بات کی تاکید کی ہے کہ وہ ان آخری نبی پر ایمان لے آئیں جو بڑی عظمتوں والے ہٰں اور ان کے ساتھ امداد واعانت کریں۔ وہ یہودی اور عیسائی ان خوشخبریوں کا مصداق نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جانتے تھے مگر بغض وعناد کی وجہ سے کھل کر اس کا اعتراف نہیں کرتے تھے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنی ضد چھوڑ کر محض اللہ کی رضا کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وصیتوں پر عمل کریں اسی میں ان کی نجات ہے۔ ان آیات ہی سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ختم نبوت کا مسئلہ بھی واضح حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے۔ کیونکہ اور انبیاء کرام کی طرح اگر آپ کے بعد بھی کوئی نبی یا رسول آنے والا ہوتا تو آپ اس کے لئے تاکید فرماتے۔ اس کی نشانیاں بتاتے۔ اس کے برخلاف آپ نے فرمایا کہ لوگو ! میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے کوئی رسول نہیں ہے۔ اللہ نے میرے اوپر دین کو بھی مکمل کردیا ہے اور نبوت کو بھی۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی آخر الزماں خاتم الانبیاء ہیں آپ کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی رسول آہی نہیں سکتا ۔ آپ کے بعد جو بھی نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ اس کے ماننے والوں کو اس سے توبہ کرنی چاہئے۔ ورنہ اللہ کے عذاب سے پچنا ممکن نہ ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ انبیاء سے تو اس عہد کا لیا جانا قرآن مجید میں مصرح ہے باقی ان کی امم سے یا تو اسی وقت لیا گیا ہوگا یا انبیاء علہیم السلام کے ذریعہ سے لیا گیا ہو اور محل اس عہد کا یا تو اول عالم ارواح ہو یا صرف دنیا میں وحی سے لیا گیا ہو اہل کتاب کو یہ عہد اس لیے سنایا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت دلائل سے ثابت ہے تو لامحالہ اس عہد کے مضمون میں داخل ہے پھر تم پر یقینا آپ کی تصدیق اور نصرت فرض ہے اور یہی حاصل ہے اسلام کا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں اور یہودیوں کے الزام ‘ بہانے اور جھوٹ کی تردید۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام لے کر اور عیسائی جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے کہتے ہیں۔ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اپنے انبیاء کے علاوہ کسی نبی پر ایمان نہ لائیں۔ ان کی کذب بیانی کی تردید کرتے ہوئے اس عہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت انبیائے کرام سے لیا تھا کہ میں تمہیں کتاب و حکمت سے سرفراز کروں گا۔ لیکن ایک آخر الزمان پیغمبر آنے والا ہے جو تمہاری شریعتوں کی تائید کرے گا۔ جس کے دور میں وہ پیغمبر آئے اس نبی کا فرض ہوگا کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت و حمایت کرے۔ فرمایا کہ کیا تم اس بات کا اقرار اور میرے ساتھ وعدہ کرتے ہو ؟ تمام انبیاء نے بیک زبان ہو کر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے ہوئے اس کی مدد کریں گے۔ فرمایا پھر گواہ رہنا اور میں بھی اپنی شہادت تمہارے ساتھ ثبت کرتا ہوں۔ یاد رکھنا ! کہ جس نے اس عہد سے انحراف کیا وہ نافرمان سمجھا جائے گا۔ چناچہ ہر نبی اور رسول نے اپنے دور نبوت میں اپنی امت کو ہدایت کی کہ جوں ہی خاتم المرسلین تشریف لائیں تو تمہارا فرض ہوگا کہ تم میری نبوت چھوڑ کر اس پر ایمان لا کر اس کی نصرت و حمایت کرنا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے لیے حضرت ابراہیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعامانگی اور اپنی دعا میں اس تمنا کا اظہار کیا کہ بارالٰہ ! وہ آخری نبی مکہ معظمہ میں مبعوث فرمانا۔ اس طرح انہوں نے علاقے اور ایک شہر کی نشاندہی فرما دی (البقرۃ : ١٢٩) ان کے بعد آپ کی رسالت کا ہر نبی اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے آپ کے اسم گرامی سے بنی اسرائیل کو آگاہ فرمایا اس آخری رسول کا نام نامی اسم گرامی احمد ہوگا۔ (الصف : ٦) بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ عہد انبیاء سے لینے کے بجائے ان کی وساطت سے ان کی امتوں سے لیا گیا تھا۔ حالانکہ قرآن مجید دوٹوک انداز میں واضح کررہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عہد انبیاء سے براہ راست لیا تھا۔ دراصل ان حضرات کو ” فَمَنْ تَوَلّٰی “ (کہ تم میں سے عہد سے پھر جائے) کے الفاظ سے مغالطہ ہوا ہے اس لیے کہ نبی تو عام آدمی کے ساتھ عہد شکنی نہیں کرتا چہ جائے کہ اللہ کے ساتھ انبیاء کی وعدہ خلافی کے بارے میں کچھ کہا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کے بارے میں یہ سوچنا گناہ ہے لیکن بات کی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید نے کئی مقامات پر یہ اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یہ انداز اس لیے بھی اپنایا گیا کہ معاملہ رب ذوالجلال کے ساتھ ہورہا ہے۔ لہٰذا یہ عہد انبیائے عظام سے ہوا کیونکہ خالق کو اپنی مخلوق پر حق ہے کہ جس طرح چاہے خطاب فرمائے۔ یہاں عہد کے بجائے میثاق کا لفظ استعمال فرمایا جو اہمیت کے اعتبار سے بلند درجہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اس طرح بھی خطاب فرمایا ہے : (لَءِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ) [ الزمر : ٦٥] ” اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے اعمال برباد ہوجائیں گے۔ “ (وَلَوْ أَشْرَکُوْالَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ الانعام : ٨٨] ” اور اگر یہ تمام انبیاء بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے اعمال ضائع ہوجاتے۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وصیت ” میں دنیا میں اس لیے آیا ہوں کہ اس اللہ کے رسول کی آمد کے لیے راستہ ہموار کروں جو دنیا کو نجات دلائے گا۔ لیکن خبردار ! دھوکہ نہ کھانا، کیونکہ بیشمار جھوٹے نبی آئیں گے جو میرا نام لیں گے اور میری انجیل میں ملاوٹ کریں گے۔ “ [ برناباس۔ باب ٧١] ” وہ تمہارے وقتوں میں نہیں آئے گا بلکہ تمہارے کچھ عرصے کے بعد آئے گا جب کہ میری انجیل مسترد کردی جائے گی۔۔ وہ دنیا سے بت پرستی کا خاتمہ کرے گا اور ان لوگوں سے بدلہ لے گا جو مجھے آدمی سے بڑھ کر کچھ اور تصور کریں گے۔ “ [ برناباس۔ باب ٧١] مسائل ١۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا تمام انبیاء نے اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی شہادت ثبت فرمائی۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ایک دوسرے کے مصدّق تھے : ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے انبیاء کی تصدیق کی۔ (الصافات : ٣٧) ٢۔ قرآن پہلی کتب کا مصدق ہے۔ (آل عمران : ٣) ٣۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی تصدیق کی۔ (آل عمران : ٥٠) ٤۔ حضرت یحییٰ ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے مصدق تھے۔ (آل عمران : ٣٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی خوفناک اور پختہ معاہدہ لیا ‘ اور اس معاہدے پر وہ خود گواہ بن گیا اور اپنے تمام نبیوں کو اس پر گواہ بنایا یہ معاہدہ تمام رسولوں سے لیا گیا تھا ۔ مضمون یہ تھا کہ جس رسول کو بھی کتاب و حکمت دی جائے اس کا فرض یہ ہوگا کہ وہ اس کے بعد آنیوالے رسول کی تائید کردے اگر بعد میں آنے والا رسول خود اس کی تعلیمات کی توثیق وتائید کررہا ہو ۔ تائید کے ساتھ سابقہ رسول کا یہ بھی فرض ہے کہ اس کی نصرت کرے اور اس کی شریعت کی اطاعت کرے ۔ یہ معاہدہ اللہ اور ہر رسول کے مابین طے پایا تھا۔ قران کریم نے تاریخ انسانی کے طویل ترین دفتر کو لپیٹ کر تمام رسولوں کو ایک جگہ جمع کردیا ۔ وہ ایک ہی منظر میں سب جمع ہیں ۔ اللہ جل شانہ ان کو ایک ساتھ خطاب فرما رہے ہیں تو کیا انہوں نے اس معاہدے کا اقرار کرلیا اور اللہ کی بھاری ذمہ داری کو قبول کرلیا ۔ اللہ تعالیٰ سوال فرماتے ہیں قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي……………” کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو ؟ “ وہ سب جواب دیتے ہیں ۔ قَالُوا أَقْرَرْنَا……………” ہم اقرار کرتے ہیں۔ “…………پس رب ذوالجلال اس معاہدے پر خود بھی گواہ بن جاتے ہیں اور ان کو بھی گواہ بناتے ہیں ۔ قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ……………” فرمایا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ “ یہ ایک عظیم اور دہشت انگیز منظر ‘ جس کی تصویر کشی قرآن کرتا ہے ‘ اسے دیکھ کر دل کانپ اٹھتے ہیں ‘ اس منظر میں تمام انبیاء ورسل جناب باری میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ معززین ارض کا یہ قافلہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ‘ ایک دوسرے پر تکیہ لگائے کھڑا ہے اور سب کے سب لوگ عالم بالا کی ربانی ہدایت کے منتظر ہیں ۔ یہ سب اسی حقیقت اور سچائی کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایک ہے اور جس کے بارے میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ پوری انسانیت کی تعمیر اس کی اساس پر کی جائے جس میں کوئی انحراف نہ ہو ‘ کوئی دوئی نہ ہو ‘ کوئی تعارض نہ ہو اور کوئی تصادم نہ ہو ‘ اس سچائی کے نمائندے وہ لوگ ہیں جو لوگوں میں سے برگزیدہ ہیں ۔ ان میں سے ہر برگزیدہ اس سچائی کو دوسرے برگزیدہ کی طرف منتقل کرتا چلاآیا ہے ۔ اس طرح وہ اپنی ذات کو بھی آنیوالے مختار کی طرف منتقل کرتا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ نبی کی ذات اس کی اپنی نہیں ہوتی ہے ۔ نہ اس مہم میں اس کا کوئی ذاتی مقصد یاخواہش ہوتی ہے ‘ نہ نبی ذاتی اور شخصی عزت و تکریم کے لئے کام کرتا ہے وہ تو بندہ مختار ہوتا ہے اور ایک ذمہ دار مبلغ ہوتا ہے۔ یہ ذات باری ہی ہے جو مختلف ادوار میں مختلف نسلوں کی طرف دعوت اسلامی کو منتقل کرتا چلا آتا ہے اور مختاران رسل اسے جس طرح چاہتے ہیں چلاتے ہیں ۔ دین کے اس تصور اور اللہ کے ساتھ اس سلسلے میں طے ہونے والے اس عہد کے نتیجے میں اللہ کا دین خالص ہوجاتا ہے ۔ اس میں کوئی ذاتی عصبیت نہیں داخل ہوتی ۔ یعنی رسول کی ذات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ رسول کی قوم کا اس دین پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس کے پیروکاروں اور ان کے خاندانوں کے مخفی اثرات سے بھی یہ دین پاک وصاف ہوتا ہے۔ اسی طرح متبعین کی ذات اور ان کی قوم قبیلے کی شخصیت کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ دین اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں ہر معاملہ اللہ کے اختیار میں ہوتا ہے ‘ دین بھی ایک اور اللہ بھی ایک ‘ اور اسی ایک دین کو لیکر انسانیے کی تاریخ میں قافلہ رسل بھی ایک ‘ جو نہایت ہی معزز اور ممتاز قافلہ ہے ۔ اس حقیقت کے سائے میں ہمارے سامنے اب وہ لوگ کھل کر آجاتے ہیں جو اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہیں ۔ یہ لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان نہیں لاتے ۔ اور پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ان کا کہنایہ ہے کہ وہ اپنے دین کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے ‘ حالانکہ خود ان کے دین کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نبی آخرالزماں پر ایمان لائیں اور اس کی نصرت اور تائید کے لئے اٹھیں ۔ لیکن یہ لوگ محض تعصب کی وجہ سے یہ ایمان نہیں لاتے ۔ اس لئے کہ یہ دین ان تک جن رسولوں نے پہنچایا ہے ان سے تو اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی پختہ عہد لیا ہے اور انہوں نے اپنے رب کے ساتھ یہ عہد باندھا ہے اور یہ عہد برسرعام اور اجلاس میں طے پایا کہ وہ نبی آخرالزمان کی نصرت کریں گے ۔ اس لئے جو لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان نہیں لاتے وہ درحقیقت فاسق اور بدکار ہیں ۔ وہ عہد شکن ہیں ۔ وہ اس کائنات کے اسی نظام کو توڑنے والے ہیں ۔ جو اپنے رب کا فرماں بردار ہے ‘ جو ناموس قدرت کا مطیع فرمان ہے ۔ اس لئے کہ یہی ناموس اس پوری کائنات کا مدبر ہے ۔ اور یہ پوری کائنات اس کی مشیئت پر چل رہی ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا عہد لینا ان دو آیتوں میں اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے لیا۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ عہد لیا کہ تمہاری موجودگی میں جو دوسرا کوئی نبی آئے گا اس پر ایمان لانا اور اپنی امت کو بھی اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا تبلیغ کرنا اور اس نبی کی مدد کرنا۔ اگر تمہاری موجودگی میں کوئی نبی نہ آئے تو اپنی امت کو تاکید کردینا کہ اس نبی پر ایمان لانا جو میرے بعد آئے اور اس کی تصدیق اور اس کی مدد کرنا۔ اسی سلسلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جبکہ رسول کی تنوین تنکیر کے لیے ہو اور بعض مفسرین نے یوں بیان فرمایا کہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ تمہاری موجودگی میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں گے تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور اپنی امتوں کو بھی اس کا حکم دینا کہ ان میں سے جو بھی ان کا زمانہ پالے ان پر ایمان لائے اور ان کی مدد کرے۔ (معالم التنزیل صفحہ ٣٢٢: ج ١) عہد لے کر اللہ تعالیٰ نے تاکیداً فرمایا (ءَ اَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ) (کیا تم نے اقرار کرلیا اور اس پر تم نے میرا مضبوط عہد لے لیا) سب نے عرض کیا کہ ہاں ہم نے اس کا اقرار کرلیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ یہ عہد حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی لیا اور ان کے واسطے سے ان کی امتوں سے بھی لیا۔ اس عہد کو جن لوگوں نے پورا نہ کیا ان کے بارے میں فرمایا : (فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) کہ جس نے اس عہد کے بعد رو گردانی کی عہد کو پورا نہ کیا کسی بھی ایک نبی کو جھٹلایا تو ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے نافرمان ہیں اور نافرمانی کے بدترین مرتبہ میں ہیں کیونکہ وہ کافر ہیں۔ (قال فی الروح ای الخار جون فی الکفر الی افحش مراتبہ) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے تو اللہ کی نافرمانی کا صدور ہو ہی نہیں سکتا۔ ان کی امتوں نے اس عہد سے منہ موڑا اور کفر اختیار کیا۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے اور یہود و نصاریٰ دونوں قومیں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کی منکر ہو کر کفر پر مصر رہیں۔ خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت : شیخ ابو الحسن تقی الدین السبکی (رح) کا مستقل ایک رسالہ ہے جو آیت بالا کی تفسیر سے متعلق ہے اس رسالہ کا نام التعظیم والمنّۃ فی لَتُؤْمِنُنَّ بَہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہٗہے جو فتاویٰ سبکی میں صفحہ ٣٨: ج ١ سے شروع ہے۔ علامہ سبکی فرماتے ہیں کہ مفسرین نے فرمایا ہے کہ رسول مصدق سے مراد اس آیت میں ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور کوئی نبی ایسا نہیں جس سے اللہ نے یہ عہد نہ لیا ہو کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کروں گا اگر وہ تمہارے زمانہ میں آئیں تو تم ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور اپنی امت کو اس کی وصیت کرنا۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اور اخذ میثاق میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جس عظمت شان کا بیان ہے وہ پوشیدہ نہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر انبیاء کرام کے زمانہ میں آپ کی بعثت ہوتی تو آپ ان کے لیے بھی مرسل ہوتے اور اس طرح سے آپ کی نبوت اور رسالت تمام مخلوق کو عام ہوگئی۔ آدم (علیہ السلام) سے لے کر اخیر زمانے تک۔ اور اس طرح سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتیں سب آپ کی امت میں داخل ہیں۔ اور آپ کا ارشاد ہے بعثت الی الناس کافۃً صرف انہیں لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو آپ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک ہوں گے بلکہ ان لوگوں سے بھی متعلق ہے جو آپ سے پہلے تھے۔ اور اس سے آپ کے ارشاد کنت نبیا و آدم بین الروح والجسد کا معنی بھی واضح ہوجاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

116 حصہ دوم۔ حصہ اول میں توحید کو عقلی اور نقلی دلائل سے واضح کیا گیا اور ساتھ ہی توحید سے متعلق اہل کتاب کے شبہات کا جواب دیا گیا۔ اب یہاں سے حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ونبوت کا اثبات شروع ہوتا ہے آپ کی صداقت کے دلائل کے ساتھ ساتھ ان تمام شبہات و اعتراضات کا ازالہ بھی کردیا گیا ہے جو اہل کتاب یہودونصاریٰ کی طرف سے آپ کی رسالت پروارد کیے جاتے تھے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس عہد کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی پیشگوئی فرمانے کے بارے میں تمام انبیاء (علیہم السلام) سے لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر پیغمبر سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ آخر الزمان پیغمبر پر ایمان لائے۔ یعنی اسے اللہ کا سچا نبی مانے اور اپنی امت کو اس کی آمد کی اطلاع دے اور انہیں حکم دے کہ اگر وہ اس کا زمانہ پائیں تو اس پر ایمان لائیں۔ حضرت شیخ (رح) کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے بد عہد نبوت ملنے کے ساتھ ساتھ لیا گیا۔ یہ عہد ومیثاق آپ کی سچائی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ چناچہ اہل کتاب کے سامنے پہلے اسے ہی پیش فرمایا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ پیغمبر ہیں۔ جن پر ایمان لانے کا عہد تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں سے لیا گیا۔ سوائے اہل کتاب تورات وانجیل میں تمہارے پیغمبروں سے بھی یہ عہد لیا جاچکا ہے اور تورات وانجیل پر ایمان لانے کا دعویٰ کر کے تم بھی اس پیغمبر پر ایمان لانے کا عہد کرچکے ہو وہ معہود پیغمبر اب آچکا ہے لہذا اس پر ایمان لاؤ اور ہر طریقہ سے اس کی نصرت اور مدد کرو۔ 117 اِصْرٌ کے لغوی معنی بوجھ کے ہیں اور مراد اس سے عہد ہے۔ اَقْرَرْتُمْ سے انبیاء (علیہم السلام) کا اپنا اقرار مراد ہے اور اَخَذْتُمْ عَلیٰ ذَالِکُمْ اِصْرِیْ سے امتوں سے عہد لینا مراد ہے۔ معناہ ھل اخذتم علی ذالکم اصری علی الامم والامر بکسر الہمزۃ العہد (روح ج 3 ص 212) تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اللہ نے پختہ عہد واقرار لیا اور آخر میں فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے اقرار پر گواہ بن جاؤ اور میں بھی تمہارے اقرار اور شہادت پر گواہ ہوں۔ فلیشہد بعضکم علی بعض بالاقرار وانا علی اقرارکم واشھاد بعضکم بعضا من الشاھدین (کبیر ج 2) ص 731)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے یہ عہد لیا کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم و حکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی اور ایسا رسول آئے جو اس چیز کی جو تمہارے پاس موجود ہو ، یعنی جو کتاب اور علم میں نے تم کو عطا کیا اس کی تصدیق کرنے والا ہو تو تم ضرور اس کی رسالت پر ایمان بھی لانا اور اس کی مدد بھی کرنا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لینے کے بعد ارشاد فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس بات پر میرے عہد اور میرے فرمان کو قبول کیا رسولوں نے عرض کیا ہاں اے خدا ! ہم نے اقرار کیا اور آپ کے فرمان کو قبول کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اچھا تم اپنے اس اقرار کے گواہ رہنا اور میں تمہارے ساتھ تمہارے اس اقرار پر گواہ ہوں ( تیسیر) اصرا کے معنی ہیں پختہ عہد عہد سے مراد یہ ہے کہ عالم ارواح میں ہر پیغمبر سے عہد لیا گیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر پیغمبر سے اس عالم میں بذریعہ وحی عہد لیا ہو ۔ انبیاء (علیہم السلام) سے جو عہد لیا گیا ہے ظاہر ہے کہ ہر پیغمبر کی امت بھی اس میں شریک ہے کیونکہ اس حکم کی عمومیت ظاہر ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر کو تو اس نبی پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کا حکم دیا جائے اور اس کی امت کو نظر انداز کردیا جائے یا تو اس عہد میں نیتوں کی امتیں بھی داخل ہیں اور یا یہ کہ حضرت حق تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے عہد لیا اور ہر ہر نبی نے اپنی اپنی امت سے اسی مضمون پر عہد لیا ۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس عہد سے یہاں انبیاء کی امتیں مراد ہیں ۔ جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود کی ایک قرأت سے ظاہر ہوتا ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ عہد تو انبیاء سے لیا گیا اور ان کی امتیں اس عہد میں طبعا ً شامل ہیں ۔ مصدق لمامعکم کے یہاں بھی دو مطلب ہیں ایک تو وہی جو مشہور ہے یعنی تمہاری کتاب اور تمہارے مسلک کی تصدیق کرتا ہو اور اس کو سچا بتاتا ہو ۔ دوسرا مطلب یہ کہ تمہاری کتاب اور تمہارے علم میں جو اس نبی کی علامت بتائی گئی ہو اس کے موافق ہو اور اس پیشین گوئی کا مصداق ہو تو اس کو تسلیم کرنا اور اس کی ہر طرح مدد کرنا اس آیت میں جس رسول کا ذکر ہے اس سے مراد بظاہر صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس ہے۔ جیسا کہ حضرت علی (رض) کا قول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عہد ہر نبی کے متعلق ہو یعنی بعد کے آنے والے پر پہلے آنے والے سے عہد لیا گیا ہو۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نبی آخر الزمان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق عہد لیا گیا ہو ۔ خلاصہ یہ ۔ 1۔ کہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے اصالتا ً اور ان کی امتوں سے تبعا ً یہ عہد لیا گیا ۔ 2۔ کتاب اور حکمت دینے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مستقل کتاب ہو یا کوئی صحیفہ ہو یا کم از کم علم شریعت ہو جس سے کوئی نبی خالی نہیں۔ 3۔ جاء کم کا مطلب یہ ہے کہ وہ نبی تمہارے زمانے میں آجائے تو تم اور تمہاری امت اس کی توثیق و تائید کرے اور اگر تمہارے بعد آئے تو پھر تمہاری امت کو چاہئے کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے۔ 4۔ تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ جس کام کی تبلیغ پر ہم نے تم کو مامور کیا ہے اسی دین کی وہ تبلیغ کرتا ہو بہرحال مطلب یہ ہے کہ بھلا کوئی نبی جو مامور من اللہ ہے وہ شرک و کفر کی کس ۔۔۔۔ طرح تعلیم دے سکتا ہے البتہ عام لوگوں کو یہ حکم دے دیا جاتا ہے کہ وہ انبیاء پر ایمان لائیں اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور نبیوں کی مدد کریں ۔ عام لوگوں کا تو ذکر ہی کیا ہے ہم تو ہر پیغمبر سے اس قسم کا قول وقرار لے چکے ہیں کہ جب کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے اور دلائل شرعیہ سے اس کی نبوت ثابت ہو تو پہلے نبی کو چاہئے کہ وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے اور چونکہ سب سے آخر میں حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لانے والے تھے اس لئے ہر پیغمبر کا عہد آپ کی نبوت و اعانت کو شامل تھا اسی واسطے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کو بھی مری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا اور چونکہ نبی آخر الزماں کا دور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد واقع ہوا اور اس عالم میں جس کو عالم شہادت کہتے ہیں آپ کی تشریف آوری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہوئی اس لئے خود حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کو اطلاع بھی دی اور خود قیامت کے قریب جب آپ آسمان سے نازل ہوں گے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کے موافق فیصلے فرمائیں گے۔ والحمد للہ علی ذلک آخر میں اس عہد پر مزید اقرار لیا گیا ہے۔ گواہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اقرار سے پھرنا نہیں تم اور تمہاری امت دونوں اس پر قائم رہنا ۔ حضرت حق تعالیٰ کی شہادت کا مطلب یہ ہے کہ میں اس تمام عہد و پیمان سے واقف اور با خبر ہوں یہ بھی مزید توثیق و تاکید کے لئے فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ نے اقرار لیا نبیوں کا یعنی نبیوں کے مقاصد میں بنی اسرائیل سے قرار لیا۔ ( مواضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد انبیاء کی وساطت سے ان کی امتوں سے لیا گیا تھا۔ بہر حال اگر نبیوں سے لیا گیا تب بھی لا محالہ ان کی امتیں شامل ہیں اور اگر امتوں سے لیا گیا تب امتیں ذمہ دار ہیں ۔ غرض جو آنے والے نبی کو پائیں ان پر اس کی امداد و اعانت اور اس کی توثیق و تائید ضروری ہے اب آگے نقص عہد پر تنبیہ اور وعید کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہے۔ ( تسہیل)