Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 9

سورة آل عمران

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ٪﴿۹﴾  9

Our Lord, surely You will gather the people for a Day about which there is no doubt. Indeed, Allah does not fail in His promise."

اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ، یقیناً اللہ تعالٰی وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He then recited, رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ > "Our Lord! Let not our hearts deviate (from the truth) after You have guided us, and grant us mercy from You. Truly, You are the Bestower." The Ayah continues, رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لاَّ رَيْبَ فِيهِ ... "Our Lord! Verily, it is You Who will gather mankind together on the Day about which there is no doubt" meaning, they say in their supplication: O our Lord! You will gather Your creation on the Day of Return, judge between them and decide over what they disputed about. Thereafter, You will reward or punish each according to the deeds they did in this life. ... إِنَّ اللّهَ لاَ يُخْلِفُ الْمِيعَادَ Verily, Allah never breaks His Promise."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] یعنی عقل صحیح رکھنے والے بھی اور ٹیڑھی سوچ رکھنے والے، متشابہات کے پیچھے پڑنے والے، خود گمراہ ہونے والے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے مومن و مشرک سب کو اکٹھا کرکے اور ان پر حجت قائم کرکے ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ایمان بالآخرت، ایمان بالغیب کا ایسا اہم جزو ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدلنے میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا یاددہانی کے طور پر اس نظریہ آخرت کو (رَاسِخُوْنَ فِیْ الْعِلْمِ ) اور مومنوں کی دعا کا حصہ بنادیا گیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩ (رَبَّنَآ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْبَ فِیْہِ ط) (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لہٰذا جو اس نے بتایا ہے وہ ہو کر رہے گا اور قیامت کا دن آکر رہے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:9) المیعاد۔ وعدہ۔ ظرف زمان بھی ہے وقت وعدہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یہاں تک محاجہ باللسان کا بیان تھا آگے محاجہ بالسنان کا بیان اور لقمہ شمشیر و زیر نگیں ہونے کی وعید ہے، جو صراحة اس آیت میں مذکور ہے۔ قل للذین کفروا اور اس سے پہلے کی آیت بطور تمہید کے ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12 یہ بھی راسخین کی دعا ہی کا حصہ ہے۔ اس میں اعتراف ہے کہ قیامت ضرورآئے گی اور اللہ تعالیٰ تمام بنی آدم کو حشر میں جمع کرے گا۔ اور سب سے حساب لے گا۔ اللہ کے نیک بندے ہر وقت فکر آخرت میں لگے رہتے ہیں اور خدا کے سامنے حساب و کتاب کے نظارے سے ہر وقت ترساں اور لرزاں رہتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ اے ہمارے پروردگار ! جب تو ہم کو ہدایت کرچکا اور تو نے ہم کو سیدھی راہ پر لگا دیا تو ہدایت کرنے کے بعد ہمارے قلوب کو کج نہ کر اور ہمارے دلوں کو زیع اور کجی میں مبتلا نہ کر اور ہم کو اپنے پاس سے خاص رحمت عطا کر یقینا تو بڑا فیاض اور بہت عطا کرنے والا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! یقینا تو سب لوگوں کو میدان حشر میں اس دن جمع کرنے والا ہے جس دن کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتا ۔ جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا کرتا ہے اور چونکہ قیامت کا اس نے وعدہ فرمایا ہے لہٰذا یہ ضرور پورا ہوگا ۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے اپنی کتاب نازل فرما کر اور اپنے رسول کو بھیج کر ہماری ہدایت کا سامان کردیا اور ہم کو محکم اور متشابہ پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرما دی تو اب اس کرم نوازی کے بعد ہم کو دین حق اور راہ راست سے گمراہی اور اہل باطل کی راہ کی طرف مائل نہ کیجیو اور ہمارے قلوب ان لوگوں کی طرح کج نہ کیجئو جو متشابہ کے پیچھے محض فتنہ و فساد کی غرض سے پڑے رہتے ہیں اور آیا ت متشابہات کی نئی نئی توجیہات و تاویلات اختراع کیا کرتے ہیں اور ہم کو اپنے خزانے سے خاص رحمت جسے توفیق اور تثبیت کہتے ہیں عطا فرما دے۔ کیونکہ آپ بڑے داتا اور بڑے بخش کنندہ ہیں آپ سے جو مانگا جائے وہ آپ عنایت کرتے ہیں اور یہ توفیق و تثبیت ہم اس لئے طلب کر رہے ہیں کہ ہم کو قیامت کے آنے کا یقین ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس دن آپ سب لوگوں کو میدان قیامت میں جمع فرمائیں گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا و سزا کا حکم دیں گے یہ آپ نے وعدہ فرمایا ہے اور آپ کا وعدہ ٹلا نہیں کرتا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ کوئی دل ایسا نہیں ہے جو رحمن کی دونوں انگلیوں کے مابین نہ ہو اگر وہ اس کو سیدھا رکھنا چاہئے تو سیدھا رکھتا ہے اور چاہے تو اس کو ٹیڑھا کردیتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عام طور سے فرمایا کرتے تھے یا مثبت القلوب ثبت قلبی علی ونیک اے قلوب کے ثابت رکھنے والے ، میرے قلب کو اپنے دین پر ثابت رکھو۔ ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں ہے فرمایا رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قلب کی مثال ایسی ہے جیسے ایک پر کسی جنگل میں پڑا ہو اور ہوائیں اس کو الٹتی پلٹتی رہتی ہوں اب آگے دین حق کے منکروں کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو لوگ ان واضح آیات دلائل کے بعد حق کا انکار کرتے ہیں ان کا دنیا وآخرت ہیں میں کیسا برا انجام ہونے والا ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)