Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 98

سورة آل عمران

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۸﴾

Say, "O People of the Scripture, why do you disbelieve in the verses of Allah while Allah is Witness over what you do?"

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہلِ کتاب تم اللہ تعالٰی کی آیتوں کے ساتھ کُفر کیوں کرتے ہو ؟جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Chastising the People of the Book for Their Disbelief and Blocking the Path of Allah Allah says, قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأيَاتِ اللّهِ وَاللّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ Say: "O People of the Scripture (Jews and Christians)! Why do you reject the Ayat of Allah, while Allah is Witness to what you do!" In this Ayah Allah criticizes the disbelieving People of the Book for refusing the truth, rejecting Allah's Ayat and hindering those who seek to believe from His path, although they know that what the Messenger was sent with is the truth from Allah.

کافروں کا انجام اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یکہ رسول کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بے ایمانی پر بضد تھے اس لئے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ ۔۔ : اہل کتاب کے شبہات کی تردید کرنے کے بعد اب انھیں ڈانٹ پلائی جا رہی ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ حق پر خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں ان میں طرح طرح کے فتنے اور شوشے چھوڑ کر حق کی راہ میں کجی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ ” تبغونہا عوجا “ کا مطلب ہے : ” تَبْغُوْنَ فِیْہَا عِوَجًا “ (تم اس دین میں کوئی نہ کوئی کجی تلاش کرتے ہو) اور پھر یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے یہ کرتوت خوب معلوم ہیں، تمہیں اپنے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ ” سَبِيْلِ اللّٰهِ “ سے مراد یہاں اسلام ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Several verses earlier, the text was dealing with the people of the Book, their false beliefs and their doubts. Then, appeared the mention of بیت اللہ Baytullah and Hajj. Now once again, the people of the Book are the addressees. These verses relate to a particular event. There was a Jew, Shammas ibn Qays, who harboured a chronic malice against Muslims. Once, when he saw two Ansar tribes, Aws and Khazraj, gathered to¬gether amiably at one place, his malevolence got the better of him and he went about looking for ways to sow seeds of discord between them. Finally, he set up a man suggesting to him that these two tribes have fought much long-drawn war in pre-Islam days and both parties had recited poetical compositions highlighting their tribal pride. So why not recite these self-congratulating poetical compositions while both sit together. The moment these poems were recited there, emotions rose high, there were charges and counter-charges to the limit that the place and time of a fresh war was all set. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard about this, he came to them and said: &What is all this? Here I am present amidst you and you are doing this after having become Muslims and after having become united and friendly with each other. This is sheer ignorance. Do you want, in this state of yours, to revert to kufr?& They took the warning to their hearts. They knew this was a slip caused by شیطان Satan. They embraced each other, wept and repented. These verses were revealed in the background of this event. This event appears in Ruh al-Ma&ani as narrated by Ibn Ishaq while there are others who narrate it from Zaid ibn Aslam. This subject continues through several verses after this. Here, the verses begin with an admonition to the people of the Book who had engineered this in triage, and this admonition has been done with great eloquence when, before admonishing them for what they did, they were taken to task for their disbelief as well, which meant that it would have made better sense if they themselves had taken to the right path, and become Mus¬lims, rather than devoting themselves to distract others to the wrong track. Following this, Muslims have been addressed, and served with a word of caution, especially when they have by their side, the Book and the Messenger of Allah, two powerful, never-failing sources, which would help them stay firm in their belief. The expression وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّـهِ ,&translated as &And whoever holds on to Allah& means one who stays firm in, and totally committed to, his ایمان &iman or faith, for اعتصام &i` tisam&, the act of holding on to Allah firmly, denotes that one should affirm His Being and His Attributes, be staunchly faithful to what He has ordained, and in the process, be sure not to be lured into supporting the position of any adversary whoever that may be. One who acts in this manner &is surely guided to the straight path&. It means that such a person is on the &straight path&, and being on the &straight path& is the key to all that is good and beneficial which the Word of Allah promises to him.

ربط آیات : اوپر سے اہل کتاب کے عقائد فاسدہ اور ان کے شبہات پر کلام چل رہا تھا، درمیان میں بیت اللہ اور حج کا تذکرہ آیا، آگے پھر اہل کتاب ہی سے خطاب ہے جس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے ہے، کہ ایک یہودی شماس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا، اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ مجتمع و متفق دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا، اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے، اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار ہیں وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھ دیئے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا فورا ایک آگ سی بھڑک اٹھی، اور آپس میں چناں چنیں ہونے لگی، یہاں تک کہ موقع اور وقت لڑائی کا پھر مقرر ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اندہیر ہے، میرے ہوتے ہوئے پھر مسلمان ہونے اور باہم متفق و مانوس ہونے کے بعد یہ کیا جہالت ہے، کیا تم اسی حالت میں کفر کی طرف عود کرنا چاہتے ہو ؟ سب متنبہ ہوئے اور سمجھا کہ یہ شیطانی حرکت تھی، اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئے اور توبہ کی، اس واقعہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس واقعہ کو روح المعانی میں بروایت ابن اسحاق اور ایک جماعت نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے، یہ مضمون کئی آیتوں تک چلا گیا ہے، جس میں اول ملامت ہے ان اہل کتاب پر جنہوں نے یہ کارروائی کی تھی اور یہ ملامت بڑی بلاغت سے کی گئی، کہ اس فعل پر ملامت ہے پہلے ان کے کفر پر بھی ملامت کی، جس کا حاصل یہ ہوا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ خود بھی مسلمان ہوجائے نہ یہ کہ دوسروں کے گمراہ کرنے کی فکر میں لگ رہے، پھر خطاب و فہمائش مسلمانوں کو ہے۔ خلاصہ تفسیر : (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (ان اہل کتاب سے) فرما دیجیے کہ اے اہل کتاب تم (بعد ظہور حجت حقانیت اسلام کے) کیوں انکار کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے احکام کا (اصول و فروع اس میں سب آگئے) حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کی اطلاع رکھتے ہیں (تم کو اس سے بھی ڈر نہیں لگتا، اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے یہ بھی) فرما دیجیے کہ اے اہل کتاب کیوں (ہٹانے کی کوشش کرتے) ہو اللہ کی راہ (یعنی اس کے دین حق) سے ایسے شخص کو جو (اس دین حق کے ہونے پر) ایمان لاچکا اس طور پر کہ کجی ( کی باتیں) ڈھوندتے ہو اس راہ کے (اندر پیدا کرنے کے) لئے (جیسا کہ قصہ مذکورہ میں کوشش کی تھی کہ اس کارروائی سے ان کے دین کے اندر بوجہ نااتفاقی کہ گناہ بھی ہے اور اجتماعی قوت کی بربادی بھی، اور یہ کہ ان بکھیڑوں میں پڑ کر دین حق سے ان کو بعد ہوجاوے گا) حالانکہ تم خود بھی (اس حرکت کے قبیح ہونے کی) اطلاع رکھتے ہو، اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں (وقت معین پر اس کی سزا دیں گے) اے ایمان والو اگر تم کہنا مانو گے کسی فرقہ کا ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی ہے (یعنی اہل کتاب میں سے) تو وہ لوگ تمہارے ایمان لائے پیچھے (اعتقادا یا عملا) کافر بنادیں گے اور (بھلا) تم کفر کیسے کرسکتے ہو (یعنی تمہارے لئے کب روا ہوسکتا ہے) حالانکہ (اسباب مانع کفر کے پورے جمع ہیں کیونکہ) تم کو اللہ تعالیٰ کے احکام (قرآن میں) پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اور (پھر) اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں (اور دونوں قوی ذرائع ہیں ایمان پر قائم رہنے کے، پس تم کو چاہئے کہ ان دونوں ذریعوں کی تعلیم تلقین کے موافق ایمان پر اور ایمان کی باتوں پر قائم رہو) اور (یاد رکھو کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کو مضبوط پکڑتا ہے (یعنی ایمان پر پورا قائم رہتا ہے، کیونکہ اللہ کو مضبط پکڑنا یہی ہے کہ اس کی ذات وصفات کی تصدیق کرے، اس کے احکام کو مضبوط پکڑے، کسی دوسرے مخالف کی موافقت نہ کرے) تو (ایسا شخص) ضرور راہ راست کی ہدایت کیا جاتا ہے (یعنی وہ راہ راست پر ہوتا ہے، اور راہ راست پر ہونا اصل ہے ہر صلاح و فلاح کی، پس اس میں ایسے شخص کے لئے ہر صلاح کی بشارت و وعدہ ہے) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ۝ ٠ ۤۖ وَاللہُ شَہِيْدٌ عَلٰي مَا تَعْمَلُوْنَ۝ ٩٨ شَّهِيدُ وأمّا الشَّهِيدُ فقد يقال لِلشَّاهِدِ ، والْمُشَاهِدِ للشیء، وقوله : مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : من شهد له وعليه، وکذا قوله : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] شھید یہ کبھی بمعنی شاہد یعنی گواہ آتا ہے چناچہ آیت مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اسکے ساتھ ( ایک) چلانے والا اور ( ایک ، گواہ ہوگا ۔ میں شہید بمعنی گواہ ہی ہے جو اس کے لئے یا اس پر گواہی دیگا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو لوگوں کا حال بتانے کو گواہ طلب کریں گے ۔ میں بھی شہید بمعنی شاہد ہی ہے عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٨۔ ٩٩) اے اہل کتاب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا کس لیے انکار کرتے ہو حالانکہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کفر و گناہ کے چھپانے کو جانتا ہے اور کیوں ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے دین سے ہٹانے کی کوشش میں لگے رہتے ہو جو کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لا چکا ہے، اور اب اسے تم کجی اور گمراہی کے تلاش کرنے کی وجہ سے ہٹاتے ہو ؟ اللہ کے سامنے یہ راز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہاری کفر و گناہ کی پوشیدہ کاروائیوں تک کو جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(98 ۔ 99) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے پہلے تو ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلایا اور جب ملت ابراہیمی کے موافق ان سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج ادا کرنے کو کہا تو حج سے انہوں نے انکار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کے حکم کے تابع ہیں استطاعت کی حالت میں ان پر حج فرض ہے اور اہل کتاب کی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے منکر ہیں اللہ کو ان کے انکار کی کچھ پرواہ نہیں۔ مگر اللہ ان کے کاموں سے غافل نہیں ہے وقت مقررہ پر اپنے کئے کی سزا پائیں گے۔ اس آیت میں اہل کتاب کو یہ بھی تنبیہ ہے کہ وہ تورات اور انجیل پر ایمان لانا اگرچہ بیان کرتے ہیں لیکن ان کا بیان غلط ہے کیونکہ اگر ان کا بیان صحیح ہوتا تو ان کتابوں میں نبی آخر الزمان کے اوصاف کی جو آیات تھیں ان کو چھپا کر ان آیات الٰہی اور نبی آخر الزماں کے منکر کیوں ہوتے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بانئ کعبہ تسلیم نہ کرنا اور ملت ابراہیم سے انحراف کرنا کفر ہے۔ اہل کتاب ایسے حقائق کا انکار کرتے ہیں جو قیامت تک زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں اور رہیں گے۔ یعنی بیت اللہ کا مرکز ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت کا مرجع قرار پانا ‘ زم زم کی برکات اور اس کا ہر وقت رواں دواں رہنا ‘ مقام ابراہیم کی شکل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشانات ثبت ہونا ‘ صفا اور مروہ کا حضرت ہاجرہ[ کی سعی کی خاموش گواہی دینا۔ زمین کی چھاتی پر نسل در نسل کروڑہا انسانوں کا خاندان ابراہیم کی خدمات کی شہادت دینا۔ اتنی عظیم اور زندہ وجاوید شہادتوں کو مسترد کردینے والی قوم کو قرآن مجید اہل کتاب کے معزز لفظ سے پکارتے ہوئے بار بار متوجہ کرتا ہے کہ اے اہل کتاب ! اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کیوں کرتے ہو اور ہدایت یافتہ لوگوں کو منحرف کرنے کی کوشش کے کیوں درپے ہو ؟ جبکہ تمہارا ضمیر قرآن مجید کی تصدیق ‘ نبی آخر الزّماں کا اعتراف اور شعائر اللہ کی شہادت دیتے ہوئے تمہارے کفر پر تمہیں ملامت کرتا ہے۔ مسائل ١۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حقائق کا انکار کرتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ انسان کی ہر حرکت کو جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ گواہ ہے : ١۔ اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الحج : ١٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل پر گواہ ہے۔ (یونس : ٤٦) ٣۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (الاعلیٰ : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ تہدید اور اس قسم کا ڈراوا اس سورت میں اور ایسی ہی دوسری سورتوں میں باربار آیا ہے ۔ اس کا پہلا اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ اہل کتاب کو اپنے موقف کی اصلیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اصل حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا مومن اور بڑا دیندار ظاہر کرتے ہیں ‘ جبکہ فی الحقیقت وہ اہل کفر میں سے ہیں ‘ کیونکہ وہ اللہ کی نازل کردہ آیات قرآنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے جو شخص اللہ کے کسی بھی جزء کا انکار کرے گا ‘ گویا وہ سب کتاب کا انکار کرے گا ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اگر وہ خود ان کے پاس محفوظ کتاب پر ایمان لائے ہوتے تو وہ لازماً ہر آنے والے رسول پر نازل ہونے والی ہدایات پر ایمان لائے ہوتے ۔ اس لئے کہ دین کی حقیقت ایک ہے ۔ جو شخص بھی اس حقیقت کو پالے وہ ان تمام رسولوں پر ایمان لائے گا جو بعد میں آئیں اور ان سے بیعت لیں ۔ یہ ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے جس سے چاہئے کہ وہ کانپ اٹھیں اور انہیں ان کی عاقبت کے بارے میں شک لاحق ہوجائے اور وہ اپنے انجام کی فکر کریں ۔ اس کا دوسرا اثر یہ ہے کہ جماعت مسلمہ میں سے بعض لوگ جو اہل کتاب سے ان کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھاتے تھے ‘ ان کی آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں کہ اللہ خود اہل کتاب کی حقیقت ان کے سامنے کھول کر بیان فرماتے ہیں اور ان پر صریحاً کفر کا فتویٰ دیتے ہیں ‘ اس لئے اس کے بعد کسی کے لئے کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ اہل کتاب غلط ہیں اور اہل اسلام سچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس قدر شدید الفاظ میں ڈراتے ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں۔ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ……………” اللہ ان تمام حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جو تم کررہے ہو۔ “ اور وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ……………” تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے۔ “ یہ ایک خوفناک تنبیہ ہے ۔ جب ایک انسان اس بات کو محسوس کرلے کہ اس کے اعمال پر اللہ گواہ ہے اور یہ کہ وہ اس کے اعمال سے غافل نہیں ہے اور عمل بھی کیسا ؟ خالص کفر ‘ خالص دھوکہ ‘ خالص فساد اور خالص گمراہ کرنا تو اس کے دل میں خوف کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو ریکارڈ پر لاتے ہیں کہ وہ جس حق کا انکار کرتے ہیں درحقیقت وہ جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہوئے لوگوں کو اس ھق سے دور روکتے ہیں ۔ جبکہ وہ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ……… ” حالانکہ تم اس پر گواہ ہو ۔ “ یعنی انہیں اس بات پر پورا یقین تھا کہ وہ جس حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں وہ حق ہے اور وہ جس بات سے عوام الناس کو روکتے ہیں اس میں ان کی بھلائی ہے ۔ اور ان کا یہ رویہ انتہائی قابل نفرت ہے ۔ اس لئے ایسے کردار والے کسی شخص پر نہ تو کوئی اعتماد کرنا مناسب ہے اور نہ ایسے شخص کا ہمنشین ہونا مناسب ہے ۔ ایسے شخص کا صحیح علاج یہ ہے کہ اس کے ساتھ پوری طرح نفرت کا مظاہرہ کیا جائے اور اس پر بھرپور تنقید کی جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کی شرارت سے مسلمانوں میں انتشار، اور مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا حکم تفسیر درمنثور صفحہ ٥٧: ج ٢ میں ان آیات کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ شاس بن قیس ایک بوڑھا یہودی تھا جو بہت بڑا کافر تھا، یہ مسلمانوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا اور بہت سخت حاسد بھی تھا۔ صحابہ (رض) کی ایک مجلس پر گزرا جس میں اوس اور خزرج کے حضرات جمع تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ (اوس اور خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں لڑائیاں رہتی تھی) اس حاسد کو ان حضرات کا انس اور محبت کے ساتھ جمع ہونا اور آپس میں ان کی صلح ہونا بہت ناگوار ہوا۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ تو جا کر ان کے پاس بیٹھ جا اور ان کو ان کی پرانی لڑائیاں یاد دلا دے اور ان کے سامنے بعض اشعار پڑھ دے جو یوم بعاث کے سلسلہ میں انہوں نے کہے تھے (بعاث ایک زبردست جنگ ہوئی تھی جس میں اوس کو خزرج پر غلبہ ہوا تھا) وہ نوجوان اس مجلس میں چلا گیا اور اس نے ایسی ہی باتیں کیں جن کی وجہ سے اوس اور خزرج کو پرانی باتیں یاد آگئیں اور جھگڑے شروع ہوگئے اور ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں لڑنے بھی لگے، اور دونوں فریق میں لڑائی ٹھن گئی۔ پتھریلی زمین میں (جس کو اہل مدینہ حرہ کہتے ہیں) لڑنے کا اعلان ہوگیا اور دونوں قبیلے آپس میں جمع ہونے لگے۔ حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ قصہ معلوم ہوا آپ مہاجرین کو ساتھ لے کر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت تم اللہ سے ڈرو کیا تم جاہلیت کے دعوے کو لے کر اٹھ رہے ہو اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں اس کے بعد کہ اللہ نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی اور اسلام کے ذریعہ تم کو عزت دی اور جاہلیت کی چیزوں کو ختم فرما دیا اور تمہیں کفر سے بچا دیا اور تمہارے درمیان الفت پیدا کردی کیا تم اسی حالت پر واپس ہونا چاہتے ہو، جس پر تم حالت کفر میں تھے۔ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سن کر دونوں قبیلوں کو احساس ہوا کہ یہ جو کچھ تم سے صادر ہوا اور جنگ کا ارادہ ہوا یہ شیطانی حرکت ہے اور دشمن کی مکاری ہے لہٰذا انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے اور رونے لگے اور آپس میں ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔ پھر فرمانبر دار ہو کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلے آئے۔ اللہ نے دشمن کی مکاری کو ختم فرما دیا۔ اور شاس بن قیس کے بارے میں دو آیات : (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَا تَعْمَلُوْنَ ) نازل فرمائیں اور وہ دو آدمی آپس میں لڑ پڑے تھے (جن میں ایک کا نام اوس اور دوسرے کا نام جبار تھا) ان کے بارے میں اور جو لوگ لڑنے کے لیے ان کے ساتھ ہوگئے تھے ان کے بارے (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا) سے لے کر (متعدد آیات) (عَذَابٌ عَظِیْمٌ) تک نازل فرمائیں۔ ان آیات میں اول تو یہودیوں کو خطاب فرمایا جن میں شاس بن قیس بھی شامل ہے کہ تم لوگ اللہ کی آیات کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ کو سب معلوم ہے جو تمہارا کردار ہے اور ایمان لانے والوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو ؟ اللہ کی راہ میں ٹیڑھا پن اور کجی کیوں تلاش کرتے ہو حالانکہ تم اپنے اعمال پر خود گواہ ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے۔ یہ حسد اور کینہ دونوں تمہیں دنیا میں لے ڈوبے اور آخرت میں بھی لے ڈوبیں گے تم اپنی فکر کرو حسد اور حقد (کینہ) سے باز آؤ اور کفر اور بداعمالی کو چھوڑو۔ پھر اہل ایمان کو خطاب فرمایا جن میں اوس اور جبار بھی شامل ہیں کہ اگر تم اہل کتاب کے ایک فریق کی بات مانو گے تو وہ تم کو ایمان پر نہ رہنے دیں گے تم کو کفر میں واپس کر کے چھوڑ دیں گے۔ دشمن کی بات کو سمجھ کر چلنا چاہیے۔ کافر تمہارے ایمان سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے نیز فرمایا کہ تم کیسے کفر اختیار کرسکتے ہو حالانکہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور تمہارے اندر اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہے ان آیات اور رسول کی تعلیمات کو چھوڑو گے تو دشمن تم کو قابو کرلے گا اور دین کفر پر لگا دے گا۔ تم اللہ کو مضبوطی سے پکڑو جس نے اللہ کو مضبوطی سے پکڑا اس کو صحیح اور سیدھے راستے کی ہدایت مل گئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

141 پہلے اہل کتاب کے شبہات کا جواب دیا۔ اب یہاں سے انہیں زجر فرمایا۔ اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ تمہیں تمہاری بد اعمالیوں پر پوری پوری سزا دے گا۔ اور اہل کتاب سے یہودونصاریٰ کے علماء مراد ہیں۔ جیسا کہ حضرت حسن سے مروی ہے۔ قال الحسن ھم علماء اھل الکتاب الخ (کبیر ص 20 ج 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اے پیغمبر آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے اے اہل کتاب تم لوگ آیات الٰہی اور احکام خداوندی کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو اور حقائق واقعیہ کے قبول کرنے سے کلبوں انکار کرتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان تمام کارروائیوں سے جو تم کرتے ہو باخبر اور آگاہ ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو وہ ان سب پر مطلع ہے اور یہ سب کچھ اس کے روبرو ہو رہا ہے۔ (تیسیر) شہید کے معنی موجود اور حاضر ہونے کے ہیں یہاں مراد یہ ہے کہ جو تم کر رہے ہو اس کی موجودگی میں کر رہے ہو پھر بھی تم کو اس کی نافرمانی کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔ بغوی نے اس آیت کے شان نزول میں شماس بن قیس کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے یہ بڑا متعصب تھا اور مسلمانوں کی ترقی کو بڑے خطرے کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اسلام سے پہلے مدینہ کے دو مشہور قبیلے اوس اور خزرج میں بڑی دشمنی تھی اور ان میں بڑی کٹا چھنی رہتی تھی آئے دن لڑائیاں ہوتی تھیں لیکن مسلمان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان میں الفت پیدا کردی اور سب آپس میں بھائی بھائی ہوگئے اور کفر کے زمانے کی دشمنی اور وہ تمام اشعار جو ایک دوسرے کی ہجو میں کہا کرتے تھے سب بھول بھال گئے اور ان دونوں قبیلوں کے کچھ لوگ آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ شماس نے ان کو اس طرح گھل مل کر باتیں کرتے دیکھا تو جل گیا اور اس کو یہ فکر دامن گیر ہوا کہ کسی طرح ان میں پھوٹ ڈلوائی جائے چناچہ اس نے ایک شخص کو فریقین کے اشعار دے کر بھیجا اور یہ ہدایت کی کہ ان کی مجلس میں جا کر یہ اشعار پڑھ دے۔ اشعار زمانہ جاہلیت کے فخریہ اور ہجو آمیز اشعار تھے اس نے جا کر وہ اشعار وہاں پڑھ دیئے۔ اشعار پڑھنے سے وہ بھولا ہوا منظر ایک دم سامنے آگیا اور فریقین میں جوش پیدا ہوگیا اور لڑائی کے لئے فریقین آمادہ ہوگئے اور ایک تاریخ مقرر ہوگئی۔ نئی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب معلوم ہوا تو آپ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور اور ان کو سمجھایا تب لوگوں کو تنبیہہ ہوئی اور وہ سمجھے کہ ہم سے بڑی غلطی ہوئی اور ہم شیطانی حرکت پر آمادہ ہوگئے پھر اس تنبیہہ پر بہت نادم ہوئے اور آپس میں ملکر روئے اور سب نے توبہ کی۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں پہلے ان پر ملامت فرمائی اور ان کے کفر پر اور دوسرے مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر ان کی مذمت فرمائی۔ چناچہ آگے کی آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ الفاظ میں عموم ہے جیسا کہ قرآن کا قاعدہ ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس واقعہ کے علاوہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور بہکانے کے اور طریقے بھی اختیار کرتے ہوں گے بہرحال ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)