Commentary Several verses earlier, the text was dealing with the people of the Book, their false beliefs and their doubts. Then, appeared the mention of بیت اللہ Baytullah and Hajj. Now once again, the people of the Book are the addressees. These verses relate to a particular event. There was a Jew, Shammas ibn Qays, who harboured a chronic malice against Muslims. Once, when he saw two Ansar tribes, Aws and Khazraj, gathered to¬gether amiably at one place, his malevolence got the better of him and he went about looking for ways to sow seeds of discord between them. Finally, he set up a man suggesting to him that these two tribes have fought much long-drawn war in pre-Islam days and both parties had recited poetical compositions highlighting their tribal pride. So why not recite these self-congratulating poetical compositions while both sit together. The moment these poems were recited there, emotions rose high, there were charges and counter-charges to the limit that the place and time of a fresh war was all set. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard about this, he came to them and said: &What is all this? Here I am present amidst you and you are doing this after having become Muslims and after having become united and friendly with each other. This is sheer ignorance. Do you want, in this state of yours, to revert to kufr?& They took the warning to their hearts. They knew this was a slip caused by شیطان Satan. They embraced each other, wept and repented. These verses were revealed in the background of this event. This event appears in Ruh al-Ma&ani as narrated by Ibn Ishaq while there are others who narrate it from Zaid ibn Aslam. This subject continues through several verses after this. Here, the verses begin with an admonition to the people of the Book who had engineered this in triage, and this admonition has been done with great eloquence when, before admonishing them for what they did, they were taken to task for their disbelief as well, which meant that it would have made better sense if they themselves had taken to the right path, and become Mus¬lims, rather than devoting themselves to distract others to the wrong track. Following this, Muslims have been addressed, and served with a word of caution, especially when they have by their side, the Book and the Messenger of Allah, two powerful, never-failing sources, which would help them stay firm in their belief. The expression وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّـهِ ,&translated as &And whoever holds on to Allah& means one who stays firm in, and totally committed to, his ایمان &iman or faith, for اعتصام &i` tisam&, the act of holding on to Allah firmly, denotes that one should affirm His Being and His Attributes, be staunchly faithful to what He has ordained, and in the process, be sure not to be lured into supporting the position of any adversary whoever that may be. One who acts in this manner &is surely guided to the straight path&. It means that such a person is on the &straight path&, and being on the &straight path& is the key to all that is good and beneficial which the Word of Allah promises to him.
ربط آیات : اوپر سے اہل کتاب کے عقائد فاسدہ اور ان کے شبہات پر کلام چل رہا تھا، درمیان میں بیت اللہ اور حج کا تذکرہ آیا، آگے پھر اہل کتاب ہی سے خطاب ہے جس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے ہے، کہ ایک یہودی شماس بن قیس مسلمانوں سے بہت کینہ رکھتا تھا، اس نے ایک مجلس میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کو ایک جگہ مجتمع و متفق دیکھا تو حسد سے بےچین ہوگیا، اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ایک شخص سے کہا کہ ان دونوں قبیلوں میں اسلام سے پہلے جو ایک بڑی جنگ عرصہ دراز تک رہ چکی ہے، اور اس کے متعلق فریقین کے فخریہ اشعار ہیں وہ اشعار ان کی مجلس میں پڑھ دیئے جائیں۔ چناچہ اشعار کا پڑھنا تھا فورا ایک آگ سی بھڑک اٹھی، اور آپس میں چناں چنیں ہونے لگی، یہاں تک کہ موقع اور وقت لڑائی کا پھر مقرر ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اندہیر ہے، میرے ہوتے ہوئے پھر مسلمان ہونے اور باہم متفق و مانوس ہونے کے بعد یہ کیا جہالت ہے، کیا تم اسی حالت میں کفر کی طرف عود کرنا چاہتے ہو ؟ سب متنبہ ہوئے اور سمجھا کہ یہ شیطانی حرکت تھی، اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر بہت روئے اور توبہ کی، اس واقعہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس واقعہ کو روح المعانی میں بروایت ابن اسحاق اور ایک جماعت نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے، یہ مضمون کئی آیتوں تک چلا گیا ہے، جس میں اول ملامت ہے ان اہل کتاب پر جنہوں نے یہ کارروائی کی تھی اور یہ ملامت بڑی بلاغت سے کی گئی، کہ اس فعل پر ملامت ہے پہلے ان کے کفر پر بھی ملامت کی، جس کا حاصل یہ ہوا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ خود بھی مسلمان ہوجائے نہ یہ کہ دوسروں کے گمراہ کرنے کی فکر میں لگ رہے، پھر خطاب و فہمائش مسلمانوں کو ہے۔ خلاصہ تفسیر : (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (ان اہل کتاب سے) فرما دیجیے کہ اے اہل کتاب تم (بعد ظہور حجت حقانیت اسلام کے) کیوں انکار کرتے ہو اللہ تعالیٰ کے احکام کا (اصول و فروع اس میں سب آگئے) حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کی اطلاع رکھتے ہیں (تم کو اس سے بھی ڈر نہیں لگتا، اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے یہ بھی) فرما دیجیے کہ اے اہل کتاب کیوں (ہٹانے کی کوشش کرتے) ہو اللہ کی راہ (یعنی اس کے دین حق) سے ایسے شخص کو جو (اس دین حق کے ہونے پر) ایمان لاچکا اس طور پر کہ کجی ( کی باتیں) ڈھوندتے ہو اس راہ کے (اندر پیدا کرنے کے) لئے (جیسا کہ قصہ مذکورہ میں کوشش کی تھی کہ اس کارروائی سے ان کے دین کے اندر بوجہ نااتفاقی کہ گناہ بھی ہے اور اجتماعی قوت کی بربادی بھی، اور یہ کہ ان بکھیڑوں میں پڑ کر دین حق سے ان کو بعد ہوجاوے گا) حالانکہ تم خود بھی (اس حرکت کے قبیح ہونے کی) اطلاع رکھتے ہو، اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں (وقت معین پر اس کی سزا دیں گے) اے ایمان والو اگر تم کہنا مانو گے کسی فرقہ کا ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی ہے (یعنی اہل کتاب میں سے) تو وہ لوگ تمہارے ایمان لائے پیچھے (اعتقادا یا عملا) کافر بنادیں گے اور (بھلا) تم کفر کیسے کرسکتے ہو (یعنی تمہارے لئے کب روا ہوسکتا ہے) حالانکہ (اسباب مانع کفر کے پورے جمع ہیں کیونکہ) تم کو اللہ تعالیٰ کے احکام (قرآن میں) پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اور (پھر) اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں (اور دونوں قوی ذرائع ہیں ایمان پر قائم رہنے کے، پس تم کو چاہئے کہ ان دونوں ذریعوں کی تعلیم تلقین کے موافق ایمان پر اور ایمان کی باتوں پر قائم رہو) اور (یاد رکھو کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کو مضبوط پکڑتا ہے (یعنی ایمان پر پورا قائم رہتا ہے، کیونکہ اللہ کو مضبط پکڑنا یہی ہے کہ اس کی ذات وصفات کی تصدیق کرے، اس کے احکام کو مضبوط پکڑے، کسی دوسرے مخالف کی موافقت نہ کرے) تو (ایسا شخص) ضرور راہ راست کی ہدایت کیا جاتا ہے (یعنی وہ راہ راست پر ہوتا ہے، اور راہ راست پر ہونا اصل ہے ہر صلاح و فلاح کی، پس اس میں ایسے شخص کے لئے ہر صلاح کی بشارت و وعدہ ہے) ۔