Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 10

سورة الروم

ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤی اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ کَانُوۡا بِہَا یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۰﴾٪  4

Then the end of those who did evil was the worst [consequence] because they denied the signs of Allah and used to ridicule them.

پھر آخر ش برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا اس لئے کہ وہ اللہ تعالٰی کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then evil was the end of those who did evil, because they denied the Ayat of Allah and made a mockery of them. This is like the Ayat: وَنُقَلِّبُ أَفْيِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُوْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِى طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time, and We shall leave them in their trespass to wander blindly. (6:110) فَلَمَّا زَاغُواْ أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ So when they turned away, Allah turned their hearts away. (61:5) فَإِن تَوَلَّوْاْ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ And if they turn away, then know that Allah's will is to punish them for some sins of theirs. (5:49) It was said that the meaning of the phrase ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاوُوا السُّوأَى (Then evil was the end of those who did evil), is that; evil was their inevitable end, because they rejected the signs of Allah and made fun of them. This is the view of Ibn Jarir, which he recorded from Ibn Abbas and Qatadah. Ibn Abi Hatim also recorded it from them and from Ad-Dahhak bin Muzahim. This is the apparent meaning -- and Allah knows best -- of the phrase: وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِوُون (and made a mockery of them).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101سوآی بروزن فعلی سوء سے اسوأ کی تانیث ہے ی سے حسنی احسن کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] یہ ان کے ظلم اور زیادتی کی آخری حد تھی۔ نہ انہوں نے اپنے اندر کی شہادت پر غور کیا، نہ نظام کائنات میں غور کیا اور رسولوں نے انھیں جب اصل حقائق سے آگاہ کیا تو انھیں صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ ان کا اور اللہ کی آیات کا مذاق بھی اڑانے لگے۔ جب ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی اور عملی طور پر اس ظلم اور زیادتی میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے تو انھیں ان کی بداعمالیوں کی سزا بھی اتنی ہی بری ملی جس حد تک ان کے اعمال برے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى ۔۔ : ” السُّوْۗآٰى“ ” أَسْوَأُ “ کا مؤنث ہے جو اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں بلکہ مراد مبالغہ ہے، یعنی بہت ہی برا۔ ” ان کذبوا “ سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا۔ ” ثم “ کا لفظ لانے میں اشارہ ہے کہ ان قوموں کو بہت مہلت دی گئی، پھر آخر کار ان کا انجام بہت ہی برا ہوا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ وَكَانُوْا بِہَا يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ ١٠ۧ عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ اسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ، وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] ، ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] ، إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] ، وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] والِاسْتِهْزَاءُ من اللہ في الحقیقة لا يصحّ ، كما لا يصحّ من اللہ اللهو واللّعب، تعالیٰ اللہ عنه . وقوله : اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] أي : يجازيهم جزاء الهزؤ . ومعناه : أنه أمهلهم مدّة ثمّ أخذهم مغافصة «1» ، فسمّى إمهاله إيّاهم استهزاء من حيث إنهم اغترّوا به اغترارهم بالهزؤ، فيكون ذلک کالاستدراج من حيث لا يعلمون، أو لأنهم استهزء وا فعرف ذلک منهم، فصار كأنه يهزأ بهم كما قيل : من خدعک وفطنت له ولم تعرّفه فاحترزت منه فقد خدعته . وقد روي : [أنّ الْمُسْتَهْزِئِينَ في الدّنيا يفتح لهم باب من الجنّة فيسرعون نحوه فإذا انتهوا إليه سدّ عليهم فذلک قوله : فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 34] «2» وعلی هذه الوجوه قوله عزّ وجلّ : سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 79] . الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ۔ تھے وہ ان کو گھر لے گی ۔ ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] اور ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے ۔إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] کہ جب تم ( کہیں ) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہوراہا ہے ا اور ان کی ہنسی ارائی جاتی ہے ۔ وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے ہے ۔ حقیقی معنی کے لحاظ سے استزاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف صحیح نہیں ہے جیسا کہ لہو ولعب کا استعمال باری تعالیٰ کے حق میں جائز نہیں ہے لہذا آیت : ۔ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15]( ان ) منافقوں سے ) خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسر کشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ میں یستھزئ کے معنی یا تو استھزاء کی سزا تک مہلت دی اور پھر انہیں دفعتہ پکڑ لیا یہاں انہوں نے ھزء کی طرح دھوکا کھا یا پس یا اس مارج کے ہم معنی ہے جیسے فرمایا : ۔ ان کو بتریج اس طرح سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا ۔ اور آہت کے معنی یہ ہیں کہ جس قدر وہ استہزار اڑا رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے استہزار سے باخبر ہے تو گو یا اللہ تعالیٰ بھی ان کا مذاق اڑارہا ہے ۔ مثلا ایک شخص کسی کو دھوکہ دے ۔ اور وہ اس کے دھوکے سے باخبر ہوکر اسے اطلاع دیئے بغیر اسے سے احتراز کرے تو کہا جاتا ہے ۔ خدعنہ یعنی وہ اس کے دھوکے سے باخبر ہے ۔ ایک حدیث میں ہے ۔ ان للستھزبین فی الدنیا الفتح لھم باب من الجنتہ فیسر عون نحوہ فاذا انتھرا الیہ سد علیھم ۔ کہ جو لوگ دنیا میں دین الہٰی کا مذاق اڑاتے ہیں قیامت کے دن ان کے لئے جنت کا دروازہ کھولا جائیگا جب یہ لوگ اس میں داخل ہونے کے لئے سرپ دوڑ کر وہاں پہنچیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائیگا چناچہ آیت : ۔ فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 34] تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے ۔ میں بعض کے نزدیک ضحک سے یہی معنی مراد ہیں اور آیت سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 79] خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب تیار ہے ۔ میں بھی اسی قسم کی تاویل ہوسکتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تھا آخرت میں بدلے میں دوزخ ہی ملے گی محض اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم کی تکذیب کر رہے ہیں اور آیات خداوندی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:10) اساء وا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے برا کیا۔ اساء ۃ (افعال) مصدر۔ السواے برا فعل۔ اسوء کی تانیث ہے بروزن احسن حسنی۔ ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسواے : عاقبۃ (تاء کی فتح کے ساتھ) کان کی خبر مقدم ہے اور السوء اس کا اسم۔ عبارت یوں ہوگی : کانت السوای عاقبۃ الذین اساء وا جنہوں نے برا کیا ان کا انجام برا ہوا۔ اور بعض نے عاقبۃ کی تاء کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں عاقبۃ کان کا اسم ہوگا اور السوء یاس کی خبر، ان لوگوں کی عاقبت جنہوں نے برا کیا بہت بری ہوئی اس صورت میں کان کا صیغہ مؤنث ہونا چاہیے تھا یعنی کانت عاقبۃ ۔۔ لیکن عاقبۃ مؤنث غیر حقیقی ہونے کی وجہ سے کان کی تذکیر جائز ہے۔ ان کذبوا بایت اللہ میں ان بمعنی لان۔ بان ۔ لاجل کیونکر۔ کانوا یستھزء ون۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب ۔ وہ استہزا (مذاق) کیا کرتے تھے۔ ان کذبوا بایت اللہ وکانوا بھا یستھزء ون۔ علت ہے حکم بالا کی ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ وہ انجام سزائے دوزخ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ ) (الآیۃ) پھر دنیاوی ہلاکت کے بعد موت کے بعد بھی برے کاموں میں لگنے والوں کا برا انجام ہوگا، کیونکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ہی نہیں ان کا مذاق بھی اڑایا، ان کے اپنے اعمال ہی موت کے بعد عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، قولہ تعالیٰ : ثم کان عاقبۃ الذین اسآؤا بنصب ” العاقبۃ “ واضافتہ الی الموصول ونصبھا علیٰ انھا خبر کان وقولہ تعالیٰ : ” السوء “ تانیث الاسوء کالحسنیٰ تانیث الاحسن، وھی مرفوعۃ علیٰ انھا اسم کان وھذا علی قرأۃ حفص ومن وافقہ وقرء الحرمیان وأبو عمرو ” عاقبۃ “ بالرفع علیٰ انہ اسم کان و ” السوء “ بالنصب علی الخبریۃ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاآی) عاقبہ کی نصب کے ساتھ ہے اور موصول کی طرف مضاف ہے اور یہ منصوب اس لیے ہے کہ یہ کان کی خبر ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول السُّوٓءُ یہ اَلْاَسْوَء کی تانیث ہے جیسے (اَلْحُسْنٰی اَلْاَحْسَنُ ) کی تانیث ہے اور یہ السوء مرفوع ہے اس لیے کہ یہ کان کا اسم ہے اور امام حفص اور ان کے موافقین کی قرأت کے مطابق ہے اہل حرم اور ابو عمرو نے عاقبۃ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس بنیاد پر کہ یہ کان کا اسم ہے اور السوءَ کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ یہ کان کی خبر ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

10۔ آخر کار ان لوگوں کا انجام جنہوں نے برا کیا تھا برا ہی ہوا اس سبب سے کہ ان لوگوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور وہ ان آیات کے ساتھ ٹھٹا کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں یعنی دلائل و احکام کا مذاق اڑایا کرتا تھے۔ یعنی برا کرنے والوں کا برا ہوا ان کی آخرت تباہ ہوئی ۔ اور عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک قوم کو جن باتوں پر سزا ملی سب کو وہی ملتی ہے سب کی فنا بھی ایک کی فنا سے سمجھو اور سب کی سزا بھی ایک کی سزا سے بوجھو۔ 12