Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 15

سورة الروم

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمۡ فِیۡ رَوۡضَۃٍ یُّحۡبَرُوۡنَ ﴿۱۵﴾

And as for those who had believed and done righteous deeds, they will be in a garden [of Paradise], delighted.

جو ایمان لا کر نیک اعمال کرتے رہے وہ تو جنت میں خوش و خرم کر دیئے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then as for those who believed and did righteous good deeds, such shall be honored and made to enjoy a luxurious life in a Garden of Delight. Mujahid and Qatadah said, "This means, they will enjoy a life of luxury." Allah says about the disbelievers: وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِأيَاتِنَا وَلِقَاء الاْأخِرَةِ فَأُوْلَيِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

151یعنی انھیں جنت میں اکرام و انعام سے نوازا جائے گا، جن سے وہ مذید خوش ہونگے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۔۔ : ” رَوْضَةٍ “ میں تنوین تعظیم اور تفخیم کے لیے ہے، عظیم اور عالی شان باغ، مراد جنت ہے۔ ” يُّحْبَرُوْنَ “ ” حَبَرَہُ یَحْبُرُہُ “ جب کسی کو ایسا خوش کیا جائے کہ اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھے اور ” تَحْبِیْرٌ“ مزین کرنا، چمکا دینا۔ یعنی ایمان اور عمل صالح والے لوگ عظیم اور عالی شان باغ یعنی جنت میں خوش کیے جائیں گے، انھیں کھانے پینے، رہنے اور دوستوں، بیویوں اور دل میں آنے والی ہر خواہش پوری ہونے کی خوشی عطا کی جائے گی اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی زیارت کی خوشی نصیب ہوگی، جس سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہوگی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary فَهُمْ فِي رَ‌وْضَةٍ يُحْبَرُ‌ونَ (They will be in a garden, extremely delighted - 30:15). Yuhbarun (يُحْبَرُ‌ونَ ) is derived from hubur, (حَبُور)which means happiness, joy, or delight. This word encompasses all types of delight, which the dwellers of paradise will draw from the bounties of Paradise. The Holy Qur&an has not specified this, and has rather kept it generalized. At another place it is said فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّ‌ةِ أَعْيُنٍ (32:17) that is, ` no one knows in this world what delight and joy is in store for them (the people of Paradise) in Paradise&. While explaining this verse some commentators have mentioned various delightful things, which all fall under the category of joy and delight.

معارف و مسائل فَهُمْ فِيْ رَوْضَةٍ يُّحْبَرُوْنَ ، يُّحْبَرُوْنَ حبور سے مشتق ہے جس کے معنی سرور اور خوشی کے ہیں اور اس لفظ کے عموم میں ہر طرح کا سرور داخل ہے جو نعمائے جنت سے اہل جنت کو حاصل ہوگا۔ قرآن کریم میں اس کو یہاں بھی عام رکھا گیا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ یہ ارشاد ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ یعنی کسی شخص کو دنیا میں معلوم نہیں کہ اس کے لئے جنت میں آنکھوں کی ٹھنڈک (اور راحت و سرور) کے کیا کیا سامان جمع ہیں۔ بعض مفسرین نے جو خاص خاص سرور کی چیزوں کو اس آیت کے تحت میں ذکر کیا ہے وہ سب اسی اجمال میں داخل ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَہُمْ فِيْ رَوْضَۃٍ يُّحْبَرُوْنَ۝ ١٥ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ روض الرَّوْضُ : مستنقع الماء، والخضرة، قال : فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] ، وباعتبار الماء قيل : أَرَاضَ الوادي، واسْتَرَاضَ ، أي : كثر ماؤه، وأَرَاضَهُمْ : أرواهم . والرِّيَاضَةُ : كثرة استعمال النّفس ليسلس ويمهر، ومنه : رُضْتُ الدّابّة . وقولهم : افعل کذا ما دامت النّفس مُسْتَرَاضَةً أي : قابلة للرّياضة، أو معناه : متّسعة، ويكون من الرّوض والْإِرَاضَةِ. وقوله : فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] ، فعبارة عن رِيَاضِ الجنة، وهي محاسنها وملاذّها . وقوله : فِي رَوْضاتِ الْجَنَّاتِ [ الشوری/ 22] ، فإشارة إلى ما أعدّ لهم في العقبی من حيث الظاهر، وقیل : إشارة إلى ما أهّلهم له من العلوم والأخلاق التي من تخصّص بها، طاب قلبه . ( ر و ض ) الروض اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہو اور سرسبز بھی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] باغ بہشت میں ان کی خاطر داریاں ہو رہی ہوں گی ۔ اور پانی کے جمع ہونے کے اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ أَرَاضَ الوادي، واسْتَرَاضَ : وادی میں پانی وافر ہوگیا اور اراضھم کے معنی ہیں اس نے لوگوں کو سیراب کردیا ۔ الریاضۃ کسی سے بکثرت کوئی کام لینا تاکہ اسے اس میں سدھاؤ اور مہارت پیدا ہوجائے اسی سے رضت الدابۃ ہے یعنی سواری کو سدھانا اور مطیع کرنا افعل کذا ما دامت النّفس مُسْتَرَاضَة ۔ کے معنی ہیں کہ اس وقت تک یہ کام کرو جب تک نفس محنت کے قابل رہے یا اس میں وسعت رہے اور یہ اراضۃ یا روض سے مشتق ہوگا اور آیت کریمہ : ۔ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] میں روضۃ سے جنت کے سبزہ زار یعنی اس کے محاسن اور لذات مراد ہیں اور آیت فِي رَوْضاتِ الْجَنَّاتِ [ الشوری/ 22] میں ( صیغہ جمع سے ) ان ظاہری نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں اصحاب جنت کے لئے تیار کی گئیں ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ان علوم واخلاق کی طرف اشارہ ہے جن میں تخصیص حاصل کرلینے سے انسان کا دل پاکیزہ ہوجاتا ہے ۔ حبر الحِبْرُ : الأثر المستحسن، ومنه ما روي :«يخرج من النّار رجل قد ذهب حبره وسبره» أي : جماله وبهاؤه، ومنه سمّي الحبر، وشاعر مُحَبِّر، وشعر مُحَبَّر، وثوب حَبِير : محسّن، ومنه : أرض مِحْبَار والحبیر من السحاب، وحَبِرَ فلان : بقي بجلده أثر من قرح، والحَبْر : العالم وجمعه : أَحْبَار، لما يبقی من أثر علومهم في قلوب الناس، ومن آثار أفعالهم الحسنة المقتدی بها، قال تعالی: اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ [ التوبة/ 31] ، وإلى هذا المعنی أشار أمير المؤمنین رضي اللہ عنه بقوله :( العلماء باقون ما بقي الدّهر، أعيانهم مفقودة، وآثارهم في القلوب موجودة) وقوله عزّ وجلّ : فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] ، أي : يفرحون حتی يظهر عليهم حبار نعیمهم . ( ح ب ر ) الحبر ۔ وہ نشان جو عمدہ اور خوبصورت معلوم ہو حدیث میں ہے کہ آگ سے ایک آدمی نکلے گا جس کا حسن و جمال اور چہرے کی رونق ختم ہوچکی ہوگی اسی سے روشنائی کو حبرۃ کہا جاتا ہے ۔ شاعر محتبر عمدہ گو شاعر شعر محبر عمدہ شعر ۔ ثوب حبیر ملائم اور نیا کپڑا ۔ ارض محبار جلد سر سبز ہونے والی زمین ( الجمع محابیر ) الحبیر ( من اسحاب ) خوبصورت بادل ۔ حبر فلان اس کے جسم پر زخم کا نشان باقی ہے ۔ الحبر عالم کو کہتے ہیں اسلئے کہ لوگوں کے حلوں پر اس کے علم کا اثر باقی رہتا ہے ۔ اور افعال حسنہ میں لوگ اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت علیٰ نے فرمایا کہ علماء تاقیامت باقی رہیں گے اگرچہ ا ن کی شخصیتیں اس دنیا سے فنا ہوجاتی ہیں لیکن ان کا آثار لوگوں دلوں پر باقی رہتے ہیں حبر کی جمع اجار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ [ التوبة/ 31] انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ کے سوا خدا بنالیا ہے ۔ اور آیت کریمہ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ [ الروم/ 15] کے معنی یہ ہیں کہ وہ جنت میں اس قدر خوش ہوں گے کہ وہاں کی نعمتوں کی ترو تازگی کا اثر ان کے چہروں پر ہویدا ہوگا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ایک جماعت جنت میں جائے گی تو دوسری دوزخ میں چناچہ جو لوگ ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تھے وہ جن کے باغوں میں مسرور اور صاحب اعزاز ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

19 "A Garden": A garden of bliss and perfect happiness as a reward and source of everlasting joy. 20 The word yuhbarun in the original implies this: "They will be lodged in it with honour, will remain happy and be provided with every kind of pleasure."

سورة الروم حاشیہ نمبر : 19 ایک باغ کا لفظ یہاں اس باغ کی عظمت و شان کا تصور دلانے کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ عربی زبان کی طرح اردو میں بھی یہ انداز بیان اس غرض کے لیے معروف ہے ۔ جیسے کوئی شخص کسی کو ایک بڑا اہم کام کرنے کو کہے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ تم نے یہ کام اگر کردیا تو میں تمہیں ایک چیز دوں گا ، تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ چیز عدد کے لحاظ سے ایک ہوگی ، بلکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس کے انعام میں تم کو ایک بڑی قیمتی چیز دوں گا جسے پا کر تم نہال ہوجاؤ گے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 20 اصل میں لفظ يُّحْبَرُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے مفہوم میں مسرت ، لذت ، شان و شوکت اور تکریم کے تصورات شامل ہیں ۔ یعنی وہاں بڑی عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے ، خوش و خرم رہیں گے اور ہر طرح کی لذتوں سے شام کام ہوں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:15) روضۃ : الروض اصل میں اس زمین کو کہتے ہیں جہاں پانی جمع ہو اور سرسبز بھی ہو چناچہ کہا جاتا ہے اراض الوادی وادی میں پانی وافر ہوگیا۔ باغ و سبزہ زار کو روضۃ کہتے ہیں اس کی جمع ریاض ہے قرآن مجید میں روضت آئی ہے۔ مثلاً والذین امنوا وعملوا الصلحت فی روضت الجنت (42:22) روضت الجنت باغات کی پربہار جگہیں۔ یہاں روضہ سے مراد جنت ہے اور تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ یحبرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ حبر یحبر حبرا (باب نصر) مصدر۔ ان کو خوش کیا جائے گا۔ ان کی عزت کی جاوے گی۔ ان کو نعمتیں دی جائیں گی۔ الحبر وہ نشان جو عمدہ اور خوبصورت معلوم ہو چناچہ حدیث شریف میں ہے یخرج رجل من النار قد ذھب حبرہ۔ آگ سے ایک آدمی نکلے گا جس کا حسن و جمال اور چہرے کی رونق ختم ہوچکی ہوگی۔ اسی سے روشنائی کو حبر کہا جاتا ہے۔ حبر فلان اس کے جسم پر زخم کا نشان باقی ہے۔ الحبر عالم کو کہتے ہیں اس لئے کہ لوگوں کے دلوں پر اس کے علم کا اثر باقی رہتا ہے۔ اور افعال حسنہ میں لوگ اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں اس کی جمع احبار ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ (9:31) انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا ہے۔ علامہ جوہری رقمطراز ہیں :۔ ای ینعمون ویکرمون ویسرون۔ وہ انعام و اکرام سے نوازے جائیں گے اور شاداں وفرحاں ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ یعنی ان کی خوب خاطرداری اور مہمان نوازی ہوگی اور ہر لمحہ تازہ سرور حاصل ہوتا رہے گا۔ بعض نے لکھا ہے کہ ” یحبون “ کے معنی ہیں ” ان کو گیت اور نغموں سے لذت اندوز کیا جائے گا۔ بہرحال ” یحبون “ کا لفظ ہر قسم کی خوشی اور انعام و اکرام کو شامل ہے۔ (قرطبی۔ کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن مختلف جماعتیں ہوں گی، مومنین باغوں میں مسرور ہوں گے، مجرمین بدحال ہوں گے ان آیات میں اول تو یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر جب سب مرجائیں گے تو دوبارہ زندہ فرما دے گا اور یہ دوبارہ زندہ ہونا قیامت کے دن ہوگا، مرنے والے زندہ ہو کر اس دن حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس کے بعد مجرمین کی حالت بیان فرمائی کہ جب قیامت قائم ہوگی تو وہ ناامید ہوجائیں گے، ان مجرموں میں مشرک بھی ہوں گے جنہوں نے دنیا میں مخلوق کو عبادت میں اللہ کا شریک بنا رکھا تھا اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے لیے سفارش کریں گے ان میں سے کوئی بھی ان کی سفارش نہیں کرے گا نہ کرسکے گا بلکہ شفاعت کے امیدوار خود ہی منکر ہوجائیں گے اور یوں کہیں گے کہ ہم تو مشرک تھے ہی نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن حاضر ہونے والے مختلف حالتوں میں ہوں گے، اہل ایمان کی حالت اہل کفر کی حالت سے مختلف ہوگی، جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ تو بہشت کے باغوں میں مسرور اور خوش و خرم ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا اور قیامت کے دن کی ملاقات کو نہ مانا، یہ لوگ عذاب میں حاضر کردئیے جائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15۔ سو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے تو وہ بہشت میں مسرور اور خوشحال ہو گے۔ یعنی ان کی خوب آئو بھگت ہوگی اور خاطر تواضع ہو رہی ہوگی ۔