Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 21

سورة الروم

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱﴾

And of His signs is that He created for you from yourselves mates that you may find tranquillity in them; and He placed between you affection and mercy. Indeed in that are signs for a people who give thought.

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنْ ايَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا ... And among His signs is this that He created for you wives from among yourselves, meaning, `He created females of your own kind, to be wives for you.' ... لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا ... that you may find repose in them, This is like the Ayah, هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا It is He Who has created you from a single person, and He has created from him his wife, in order that he might enjoy the pleasure of living with her. (7:189) This refers to Hawwa'. Allah created her from Adam, from the short rib on his left. If Allah had made all of Adam's progeny male, and created the females from another kind, such as from Jinn or animals, there would never have been harmony between them and their spouses. There would have been revulsion if the spouses had been from a different kind. ... وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ... and He has put between you affection and mercy. Out of Allah's perfect mercy He made their wives from their own kind, and created love and kindness between them. For a man stays with a woman because he loves her, or because he feels compassion towards her if they have a child together, or because she needs him to take care of her, etc. And Allah reminds: ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لاَيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ Verily, in that are indeed signs for a people who reflect.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

211یعنی تمہاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ وہ تمہاری بیویاں بنیں اور تم جوڑا جوڑا ہوجاؤ زوج عربی میں جوڑے کو کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرد عورت کے اور عورت مرد کے لیے زوج ہے۔ عورتوں کے جنس بشر ہونے کا مطلب ہے کہ دنیا کی پہلی عورت۔ حضرت حوا کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا۔ پھر ان دونوں سے نسل انسانی کا سلسلہ چلا۔ 212مطلب یہ ہے کہ اگر مرد اور عورت کی جنس ایک دوسرے سے مختلف ہوتی، مثلاً عورتیں جنات یا حیوانات میں سے ہوتیں، تو ان سے سکون کبھی حاصل نہ ہوتا جو اس وقت دونوں کے ایک ہی جنس سے ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ ایک دوسرے سے نفرت وحشت ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کمال رحمت ہے کہ اس نے انسانوں کی بیویاں، انسان ہی بنائیں۔ 212مَوَدَّۃ یہ ہے کہ مرد بیوی سے بےپناہ پیار کرتا ہے اور ایسے ہی بیوی شوہر سے۔ جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔ ایسی محبت جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے، دنیا میں کسی بھی دو شخصوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ اور رحمت یہ ہے کہ مرد بیوی کو ہر طرح کی سہولت اور آسائش بہم پہنچاتا ہے، جس کا مکلف اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور ایسے ہی عورت بھی اپنے قدرت و اختیار کے دائرہ میں۔ تاہم انسان کو یہ سکون اور باہمی پیار انہی جوڑوں سے حاصل ہوتا ہے جو قانون شریعت کے مطابق باہم نکاح سے قائم ہوتے ہیں اور اسلام انہی کو جوڑا قرار دیتا ہے۔ غیر قانونی جوڑوں کو وہ جوڑا ہی تسلیم نہیں کرتا بلکہ انھیں زانی اور بدکار قرار دیتا ہے اور ان کے لئے سزا تجویز کرتا ہے۔ آج کل مغربی تہذیب کے علم بردار شیاطین ان مذموم کوششوں میں مصروف ہیں کہ مغربی معاشروں کی طرح اسلامی ملکوں میں بھی نکاح کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے بدکار مرد و عورت کو جوڑا تسلیم کروایا جائے اور ان کے لیے سزا کے بجائے وہ حقوق منوائے جائیں جو ایک قانونی جوڑے کو حاصل ہوتے ہیں۔ (قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ۡ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ ) 63 ۔ المنفقون :4) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] یعنی مٹی کے پتلے سے ہی اس کا جوڑا پیدا کرتا ہے جو انسانیت کے لحاظ سے ایک ہی جنس ہے۔ لیکن جسمانی ساخت کے لحاظ سے یہ دو قسمیں ہیں۔ جو دونوں ایک دوسرے کے طالب بھی ہیں اور مطلوب بھی۔ مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور دونوں میں ایک دوسرے کے لئے اس قدر کشش رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے سے الگ رہ کر سکون حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ پھر اللہ تعالیٰ کس جوڑے کو لڑکے ہی عطا کرتا جاتا ہے اور کسی کو لڑکیاں ہی لڑکیں اور کسی ملی جلی اولاد دیتا ہے مگر نوع انسانی پر کبھی کوئی ایسا دور نہیں آیا کہ دنیا میں مرد اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ انھیں بیویاں نہ مل سکیں اور یا عورتیں اس کثیر تعداد میں پیدا ہوجائیں اور مردوں کی تعداد ان کے مقابلہ میں اتنی کم ہو کہ عورتوں کو کوئی خاوند ہی میسر نہ آئے۔ گویا مرد و عورت کی تخلیق میں بھی اللہ تعالیٰ اس تناسب کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ تو بقائے نوع کے لئے ضروری ہے۔ پھر مرد اور عورت کے اسی جذبہ کے نتیجہ میں ہی بقائے نسل انسانی کا راز مضمر ہے۔ اسی سے خاندان اور قبیلے بنتے ہیں اور تمدن اور معاشرت کی داغ بیل پڑتی ہے۔ پھر ان زوجین (میاں، بیوی) میں اس قدر محبت رکھ دی کہ وہ ایک دوسرے پر فنا ہونے کو تیار ہوتے ہیں اور پیدا ہونے والی اولاد کے حق میں دونوں شفیق رحیم ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہی احساسات و جذبات ان دونوں میں اس حد تک پیدا ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے مقدس رشتہ ازدواج کو تازیست نباہنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ اب ذرا غور کیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ زوجین میں یہ جذبات و احساسات پیدا نہ کرتا تو کیا زمین کی آبادی یا نسل انسانی کی بقا ممکن تھی۔ اور کیا یہ کام اللہ کے سوا کوئی دوسرا الٰہ کرسکتا ہے ؟ یا بےجان، بےشعور اور اندھے مادے کے اتفاقات سے یہ ممکن ہے کہ وہ ان حکمتوں اور مصلحتوں کا لحاظ رکھ سکے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی کمال قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہاری خاطر (نہ کہ اپنے کسی فائدے کے لیے) خود تمھی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کی طرف جاکر سکون حاصل کرو۔ ” سَکَنَ عِنْدَہُ “ کا معنی ہے جسمانی طور پر کسی کے پاس جا کر رہنا اور ” سَکَنَ إِلَیْہِ “ قلبی اور روحانی طور پر کسی کے پاس راحت و سکون پانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی ہے کہ ہمارے والد ماجد آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہ کر بھی، جہاں ہر نعمت موجود تھی، سکون اسی وقت حاصل ہوا جب اللہ تعالیٰ نے خود ان کی ذات سے ان کی بیوی اور ہماری ماں حوا [ کو پیدا فرمایا، جیسا کہ فرمایا : ( هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ) [ الأعراف : ١٨٩ ] ” وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جاکر) سکون حاصل کرے۔ “ آدم (علیہ السلام) کے بعد ان کی اولاد کے سکون کے لیے مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے جوڑے بنادیا۔ یہ اس کی قدرت کا کمال ہے کہ مردوں اور عورتوں کی پیدائش ہمیشہ اس اعتدال اور توازن سے رہی ہے کہ ان کی باہمی زوجیت کی ضرورت پوری ہوتی رہتی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مرد اتنے زیادہ ہوجائیں کہ انھیں بیوی نہ مل سکے یا عورتیں اتنی بڑھ جائیں کہ انھیں خاوند نہ مل سکیں، اور یہ بھی اس کی حکمت ہے کہ مرد کو عورت اور عورت کو مرد کے پاس ہی سکون حاصل ہوسکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود انسانوں میں سے ان کے جوڑے پیدا فرمائے۔ معلوم ہوا وہ تمام کہانیاں یکسر افسانے ہیں جن میں انسانوں اور جنوں کے درمیان زوجیت اور توالد و تناسل کا ذکر ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ راہب اور جوگی جو انسانی فطرت سے جنگ کر کے عورتوں سے قطع تعلق کے ساتھ سکون تلاش کرتے رہے یا کر رہے ہیں، سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ فطرت سے جنگ کا انجام ہمیشہ شکست ہوتا ہے۔ جس طرح بھوک کے وقت کھانا اللہ تعالیٰ سے تعلق کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ انسان کی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، اسی طرح شادی اللہ تعالیٰ سے تعلق کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ انسان کے لیے سکون کا باعث اور اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ اولاد آدم میں سب سے زیادہ متقی شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَاءُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِيْ فِي الصَّلاَۃِ ) [ نساءي، عشرۃ النساء، باب حب النساء : ٣٣٩١، عن أنس ] ” دنیا میں سے میرے لیے عورتیں اور خوشبو محبوب بنادی گئیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنادی گئی۔ “ یاد رہے ! یہ سکون مرد اور عورت کے نکاح کے تعلق ہی سے حاصل ہوسکتا ہے، کیونکہ زوجیت کا جائز طریقہ یہی ہے۔ بدکاروں کو یہ نعمت میسر نہیں آسکتی۔ کافر اقوام نے اللہ کے احکام سے بغاوت کر کے نکاح کے بغیر مرد عورت کے زندگی گزارنے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اس سے انھیں وہ سکون کبھی حاصل نہیں ہوسکتا جو خاوند اور بیوی کو حاصل ہوتا ہے، اور ان ملعونوں کا تو ذکر ہی کیا جو مردوں کی مردوں سے یا عورتوں کی عورتوں سے ہوس پوری کر کے، یا کتوں بلیوں اور دوسرے جانوروں سے سکون حاصل کرنے کی ناکام و نامراد کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ یہ انسانوں ہی نہیں جانوروں کی فطرت کے بھی خلاف ہے۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً ۔۔ : یعنی مرد عورت کی زوجیت میں سکون کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوستی اور رحمت رکھ دی ہے۔ دنیا میں عشق کی بیشمار داستانیں مشہور ہیں اور ہر طرف اسی کا شور اور ہنگامہ ہے، مگر حقیقی دوستی اور محبت جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاوند اور بیوی کے درمیان پیدا ہوتی ہے، ناجائز عشق اور حرام محبت میں گرفتار لوگ اس کی بو بھی نہیں پاسکتے۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی نہیں کہ وہ مرد اور عورت جو ایک دوسرے سے پوری طرح واقف بھی نہیں ہوتے، نکاح کے بعد صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے مودّت اور محبت کے ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں جو زندگی بھر قائم رہتا اور دن بدن مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّیْنِ مِثْلَ النِّکَاحِ ) [ ابن ماجہ، النکاح، باب ما جاء في فضل النکاح : ١٨٤٧، عن ابن عباس و صححہ البوصیري و الألباني ] ” ہم نے دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی چیز نہیں دیکھی۔ “ اس حدیث کی شرح میں ملا علی قاری لکھتے ہیں : ” یعنی جب عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے محبت ہوجائے تو ہم نے ان کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی، کیونکہ اس سے محبت میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جب کہ زنا کے نتیجے میں محبت کے بجائے عداوت اور بغض پیدا ہوتا ہے۔ “ وَّرَحْمَةً : اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں سے ایک نشانی دوستی اور محبت کے ساتھ ساتھ وہ رحم اور مہربانی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان رکھ دی ہے کہ وہ تندرستی اور صحت و جوانی میں بھی اور بڑھاپے اور بیماری میں بھی ایک دوسرے پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔ جب کہ عاشقوں اور بدکاروں کا عشق کتنا ہی شور انگیز ہو، حسن کے ڈھلنے کے ساتھ ہوا میں بکھر جاتا ہے اور اس میں محبوب پر رحم کے بجائے اصل جذبہ اپنی ہوس پوری کرنا اور خالص خود غرضی ہوتا ہے۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ : ” فِيْ ذٰلِكَ “ (اس میں) سے مراد پچھلی آیت اور اس آیت میں مذکور چیزیں ہیں، یعنی تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کرنے میں، تمہارے زمین کے اندر بشر کی صورت میں پھیل جانے میں، تمہارے سکون کے لیے خود تمھی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کرنے میں اور تمہارے درمیان دوستی اور رحمت کا جذبہ پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی قدرت اور اس کے آخرت قائم کرنے پر دلالت کرنے والی بہت سی نشانیاں ہیں، مگر صرف ان لوگوں کے لیے جو ان چیزوں میں غور و فکر کریں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Second sign of the divine omnipotence Allah Ta’ ala has created women in the same genus as that of man and they are made their wives as lifelong partners. Men and women are created from the same matter, yet there is a world of difference in their built, appearance, looks, character, habits, morals, disposition etc. If one seeks to recognize God, even this creation provides an excellent example of His supreme power. The wisdom behind the creation of this particular sex is said to be لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا (So that you may find tranquility in them - 21). If one ponders, it becomes evident that all the requirements of men from women end up in drawing peace of mind, tranquility and comfort. The Holy Qur&an has put all that in one word. The verse has thus indicated that the total outcome of married life is peace of mind and comfort; the couple that enjoys it is successful in the object of its creation, while the family that is deprived of peace of mind and tranquility is unsuccessful in its married life. This is also true that the very foundation of a successful married life rests on a lawful marriage. If one probes into the societies that developed illicit ways of living together without the bond of marriage, he will certainly discover that the life of such people is devoid of peace and tranquility. Living like animals to fulfill lust may provide temporary pleasure, but not the lasting peace of mind and comfort one draws from a proper married life. The object of married life is tranquility for which mutual love and affection is the key The present verse has declared that the object of married life of man and woman is peace of mind. This could be achieved only when there is a mutual recognition of each other&s rights and a sincere effort to fulfill them. Otherwise the demand for meeting one&s own rights only will lead to domestic brawls and shattering of peace. One course for the fulfillment of these rights could have been to lay stress only on legislation and imposing laws, as has been done in the case of other rights of the people, where it is prohibited to usurp the rights of others and after due warnings the punishments have been prescribed, and it is advised to show sympathy and sacrifice toward others. However, it is a common experience that people cannot be corrected only by giving them a set of laws, unless they are accompanied by nurturing taqwa and Allah&s fear in the hearts. That is why the Holy Qur&an, whenever it gives any injunctions regarding the social life of man, comes with the directions of وَاخْشَوْا اتَّقُوا اللَّـهَ (Fear Allah) as a complement to those injunctions. Mutual relations between man and woman are of such a delicate and sensitive nature that neither a law can ensure the fulfillment of their respective rights completely, nor can any court do full justice to it. It is for this reason that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has selected those verses of the Qur&an for the khutbah (sermon) of nikah in which stress is laid on piety, fear of Allah and the Hereafter. Only these qualities in the spouses could stand as a guarantor for the fulfillment of mutual rights. In addition to this, Allah Ta’ ala has not made the conjugal rignts merely a matter of rules and regulations, but also a natural and emotional requirement of every man and woman. It is on the same pattern as the mutual rights of parents and children are safeguarded by the natural love they have for each other. Allah Ta’ ala has filled the hearts of parents with such a natural love that they are compelled to protect their children more than their own-selves. Similarly, a degree of natural love is put in the hearts of children for their parents. The same thing is done in the case of spouses, for which it is said وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَ‌حْمَةً (And He has created love and kindness between you - 30:21), that is, Allah Ta’ ala has not restricted-the relationship between spouses to a legal and religious relationship, but has filled their hearts with love and compassion. The literal meaning of wudd and mawaddah is &liking&, which results in love and affection. Here Allah Ta’ ala has used two words - one is mawddah (love or friendship) and the other rahmah (kindness). It is possible that mawaddah (love) refers to the young age when spouses are attracted towards each other with love and affection, while rahmah refers to the old age when passions subside and compassion for each other takes over. (Qurtubi) After that it is saidإِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُ‌ونَ (Surely in this there are signs for a people who reflect - 30:21). Although this verse has mentioned only one sign, but at the end of the verse, the word &signs& in plural is used. The reason for this is that conjugal relationship, which is being discussed here, has many aspects, religious and mundane benefits. If all these benefits are taken into consideration, it appears that this relationship contains a number of signs of the divine omnipotence. Third sign of divine omnipotence The people living on earth are divided into many races, having different physical features and colours. Some are white, while others are black, brown, and yellow. Rather many have multitude of in-between shades of colours, because of inter-marriages among those having different colours. They speak different languages with many different dialects. The creation of the sky and earth is no doubt a great Divine masterpiece, but the difference of &tongues& between human beings is also an equally astonishing Divine marvel. The difference of &tongues& mentioned in this verse includes the difference of languages. There are hundreds of languages spoken in different parts of the world. Some of them are so much at variance from each other that there seems to be absolutely no link between them. Then, it also includes the difference of accents, pronunciations and the qualities of voices. Allah&s omnipotence has created the voice of each individual distinguishable from that of the others. The voices of men are clearly distinct from those of women, and the voices of children, from those of aged people, and so on, although the apparatus of speech, i.e. the tongue, the lips, the throat etc. are the same in all human beings. تَبَارَ‌كَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ

دوسری آیت قدرت : یہ ہے کہ انسان ہی کی جنس میں اللہ تعالیٰ نے عورتیں پیدا کردیں جو مردوں کی بیبیاں بنیں، ایک ہی مادہ سے ایک ہی جگہ میں ایک ہی غذا سے پیدا ہونے والے بچوں میں یہ دو مختلف قسمیں پیدا فرما دیں جن کے اعضاء وجوارح، صورت و سیرت، عادات و اخلاق میں نمایاں تفاوت و امتیاز پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت و حکمت کے لئے یہ تخلیق ہی کافی نشانی ہے۔ اس کے بعد عورتوں کی اس خاص نوع کی تخلیق کی حکمت و مصلحت یہ بیان فرمائی لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا یعنی ان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمہیں ان کے پاس پہنچ کر سکون ملے۔ مرد کی جتنی ضروریات عورت سے متعلق ہیں ان سب میں غور کیجئے تو سب کا حاصل سکون قلب اور راحت و اطمینان نکلے گا، قرآن کریم نے ایک لفظ میں ان سب کو جمع فرما دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ازدواجی زندگی کے تمام کاروبار کا خلاصہ سکون و راحت قلب ہے جس گھر میں یہ موجود ہے وہ اپنی تخلیق کے مقصد میں کامیاب ہے جہاں قلبی سکون نہ ہو اور چاہے سب کچھ ہو وہ ازدواجی زندگی کے لحاظ سے ناکام و نامراد ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ باہمی سکون قلب صرف اسی صورت سے ممکن ہے کہ مرد و عورت کے تعلق کی بنیاد شرعی نکاح اور ازدواجی پر ہو، جن ممالک اور جن لوگوں نے اس کے خلاف کی حرام صورتوں کو رواج دیا اگر تفتیش کی جائے تو ان کی زندگی کو کہیں پرسکون نہ پائیں گے، جانوروں کی طرح وقتی خواہش پوری کرلینے کا نام سکون نہیں ہو سکتا۔ ازدواجی زندگی کا مقصد سکون ہے جس کے لئے باہمی الفت و محبت اور رحمت ضروری ہے : اس آیت نے مرد و عورت کی ازدواجی زندگی کا مقصد سکون قلب قرار دیا ہے اور یہ جب ہی ممکن ہے کہ طرفین ایک دوسرے کا حق پہچانیں اور ادا کریں، ورنہ حق طلبی کے جھگڑے خانگی سکون کو برباد کردیں گے۔ اس ادائے حقوق کے لئے ایک صورت تو یہ تھی کہ اس کے قوانین بنا دینے اور احکام نافذ کردینے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ جیسے دوسرے لوگوں کے حقوق کے معاملہ میں ایسا ہی کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی حق تلفی کو حرام کر کے اس پر سخت وعیدیں سنائی گئیں سزائیں مقرر کی گئیں، ایثار و ہمددی کی نصیحت کی گئی لیکن تجربہ شاہد ہے کہ صرف قانون کے ذریعہ کوئی قوم اعتدال پر نہیں لائی جاسکتی جب تک اس کے ساتھ خدا کا خوف نہ ہو، اسی لئے معاشرتی معاملات میں احکام شرعیہ کے ساتھ ساتھ پورے قرآن میں ہر جگہ اتَّقُوا اللّٰهَ ، وَاخْشَوْا وغیرہ کے کلمات بطور تکملہ کے لائے گئے ہیں۔ مرد و عورت کے باہمی معاملات کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ ان کے حقوق باہمی پورے ادا کرانے پر نہ کوئی قانون حاوی ہوسکتا ہے نہ کوئی عدالت ان کا پورا انصاف کرسکتی ہے اس لئے خطبہ نکاح میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کریم کی وہ آیات انتخاب فرمائی ہیں جن میں تقوی اور خوف خدا اور آخرت کی تلقین ہے کہ وہی درحقیقت زوجین کے باہمی حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے۔ اس پر ایک مزید انعام حق تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ازدواجی حقوق کو صرف شرعی اور قانونی نہیں رکھا بلکہ طبعی اور نفسانی بنادیا۔ جس طرح ماں باپ اور اولاد کے باہمی حقوق کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ فرمایا، کہ ان کے قلوب میں فطرةً ایک ایسی محبت پیدا فرما دی کہ ماں باپ اپنی جان سے زیادہ اولاد کی حفاظت کرنے پر مجبور ہیں اور اسی طرح اولاد کے قلوب میں بھی ایک فطری محبت ماں باپ کی رکھ دی گئی ہے۔ یہی معاملہ زوجین کے متعلق بھی فرمایا گیا۔ اس کے لئے ارشاد فرمایا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ، یعنی اللہ تعالیٰ نے زوجین کے درمیان صرف شرعی اور قانونی تعلق نہیں رکھا بلکہ ان کے دلوں میں مودت اور رحمت پیوست کردی۔ وُدَّ اور مودت کے لفظی معنی چاہنے کے ہیں جس کا ثمرہ محبت و الفت ہے۔ یہاں حق تعالیٰ نے دو لفظ اختیار فرمائے ایک مودت دوسرے رحمت ممکن ہے اس میں اشارہ اس طرف ہو کہ مودت کا تعلق جوانی کے اس زمانے سے ہو جس میں طرفین کی خواہشات ایک دوسرے سے محبت و الفت پر مجبور کرتی ہیں اور بڑھاپے میں جب یہ جذبات ختم ہوجاتے ہیں تو باہمی رحمت و ترحم طبعی ہوجاتا ہے۔ (کما ذکرہ القرطبی عن البعض) اس کے بعد فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ ، یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں، یہاں ذکر تو ایک نشانی کا کیا گیا ہے اور اس کے آخر میں اس کو آیات اور نشانیاں فرمایا، وجہ یہ ہے کہ ازدواجی تعلق جس کا ذکر اس میں کیا گیا اس کے مختلف پہلوؤں پر اور ان سے حاصل ہونے والے دینی اور دنیوی فوائد پر نظر کی جائے تو یہ ایک نہیں بہت سی نشانیاں ہیں۔ تیسری آیت قدرت : آسمان و زمین کی تخلیق اور انسانوں کے مختلف طبقات کی زبانیں اور لب و لہجہ کا مختلف ہونا اور مختلف طبقات کے رنگوں میں امتیاز ہونا ہے کہ بعض سفید ہیں بعض سیاہ بعض سرخ بعض زرد، اس میں آسمان و زمین کی تخلیق تو قدرت کا عظیم شاہکار ہے ہی، انسانوں کی زبانیں مختلف ہونا بھی ایک عجیب کرشمہ قدرت ہے۔ زبانوں کے اختلاف میں لغات کا اختلاف بھی داخل ہے، عربی، فارسی، ہندی، ترکی، انگریزی وغیرہ کتنی مختلف زبانیں ہیں، جو مختلف خطوں میں رائج ہیں اور ایک دوسرے سے بعض تو ایسی مختلف ہیں کہ کوئی باہمی ربط و مناسبت بھی معلوم نہیں ہوتی اور اس اختلاف السنہ میں لب و لہجہ کا اختلاف بھی شامل ہے کہ قدرت حق نے ہر فرد انسان مرد، عورت، بچے، بوڑھے کی آواز میں ایسا امتیاز پیدا فرمایا ہے کہ ایک فرد کی آواز کسی دوسرے فرد سے ایک صنف کی آواز دوسری صنف سے پوری طرح نہیں ملتی، کچھ نہ کچھ امتیاز ضرور رہتا ہے۔ حالانکہ اس آواز کے آلات زبان، ہونٹ، تالو، حلق، سب میں مشترک اور یکساں ہیں۔ تبارک اللہ احسن الخالقین

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً۝ ٠ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۝ ٢١ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نرا اور پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نرا اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علا وہ دوسری اشیائیں سے جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مما ثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] اور خر کار اس کی دو قسمیں کیں یعنی مرد اور عورت ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] فكر الْفِكْرَةُ : قوّة مطرقة للعلم إلى المعلوم، والتَّفَكُّرُ : جولان تلک القوّة بحسب نظر العقل، وذلک للإنسان دون الحیوان، قال تعالی: أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ ما خَلَقَ اللَّهُ السَّماواتِ [ الروم/ 8] ، أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ [ الأعراف/ 184] ، إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ [ الرعد/ 3] ( ف ک ر ) الفکرۃ اس قوت کو کہتے ہیں جو علم کو معلوم کی طرف لے جاتی ہے اور تفکر کے معنی نظر عقل کے مطابق اس قوت کی جو لانی دینے کے ہیں ۔ اور غور فکر کی استعداد صرف انسان کو دی گئی ہے دوسرے حیوانات اس سے محروم ہیں اور تفکرفیہ کا لفظ صرف اسی چیز کے متعلق بولا جاتا ہے جس کا تصور دل ( ذہن میں حاصل ہوسکتا ہے ۔ قرآن میں ہے : أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ ما خَلَقَ اللَّهُ السَّماواتِ [ الروم/ 8] کیا انہوں نے اپنے دل میں غو ر نہیں کیا کہ خدا نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اس کی علامت قدرت وحدانیت سے یہ امر ہے کہ تمہارے فائدے کے لیے اس نے تمہاری جنس کی بیویاں بنائیں یہ کہ تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ رہ کر آرام سے ہے اور تم دونوں میں محبت و ہمدردی پیدا کی کہ یہ بیوی کو خاوند سے محبت اور خاوند کو بیوی کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے یا یہ کہ چھوٹے کو بڑے کے ساتھ محبت اور بڑے کو چھوٹے پر شفقت اور اس کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے ان مذکورہ امور میں عقل مندوں کے لیے قدرت خداوندی کی نشانیاں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 That is, "The Creator's perfect wisdom is such that He has not created man in one sex only but in two sexes, which are identical in humanity, which have the same basic formula of their figure and form, but the two have been created with different physical structures, different mental and psychological qualities, and different emotions and desires. And then there has been created such a wonderful harmony between the two that each is a perfect counterpart of the other. The physical and psychological demands of the one match squarely with the physical and psychological demands of the other. Moreover, the Wise Creator is continuously creating the members of the two sexes in such a proportion since the dawn of the creation that in no nation and in no region has it ever happened that only boys or only girls may have been born. This is one thing in which human intelligence has absolutely no part to play. Man cannot at aII influence the course of nature according to which girls continue to be born with the feminine qualities and the boys with the masculine qualities, which are perfectly complimentary to each other, nor has he any means by which he may change the proportion in which men and women continue to be born everywhere in the world. The working of this system and' arrangement so harmoniously and perpetually in the birth of millions and billions of human beings since thousands of years cannot be accidental either, nor the result of the. common will of many gods. This is a clear indication of the reality that One Wise Creator and One only, in the beginning made a most appropriate design of a man and a woman by His Infinite Wisdom and Power and then made arrangements that precisely in accordance with that design countless men and countless women should be born along with their separate individual qualities in the right proportion." 29 That is, "This system has not come about by chance, but the Creator has brought it about deliberately with the object that the man should find fulfilment of the demands of his nature with the woman and the woman. with the man, and the two should find peace and satisfaction in association and attachment with each other. This is the wise arrangement which the Creator has made the means of the survival of the human race, on the one hand, and of bringing the human civilization into existence, on the other. If the two sexes had been created on different patterns and designs, and the state of agitation which changes into peace and tranquillity only through union and attachment between the two had not been placed in each, the human race might have survived like sheep and goats, but there was no possibility of the birth of a civilization. Contrary to all other species of animal life; the fundamental factor that has helped create human civilization is that the Creator by His wisdom has placed a desire and a thirst and a lodging in the two sexes for each other, which remains unsatisfied unless the two live in complete attachment and association with each other. This same desire for peace and satisfaction compelled them to make a home together. This same desire brought families and clans into being, and this same desire made social life possible for man. In the development of social life man's mental capabilities have certainly been helpful, but they were not its real motives. The real motivating force was the same longing with which man and woman were endowed and which compelled them to establish the '"home". Can anyone possessed of common sense say that this masterpiece of wisdom has come about by chance through the blind forces of nature? Or, that it has been arranged so by many gods, and countless men and women have been continuously coming into being with the same natural longing since thousands of years? This is a Sign of the wisdom of One Wise Being, and of One only, which the people devoid of common sense only can refuse to acknowledge. 30 "Love" here means sexual love, which becomes the initial motive for attraction between man and woman, and then keeps them attached to each other. "Mercy" implies the spiritual relationship which gradually develops in the matrimonial life, by virtue of which they become kindly, affectionate and sympathetic towards each other; so much so that in old age, sexual love falls into the background and the two partners in life prove to be even more compassionate towards each other than they were when young. These two are the positive forces which the Creator has created in man to support the initial longing of his nature. That longing and restlessness only seeks peace and satisfaction and brings the man and the woman into contact with each other. After that these two forces emerge and bind the two strangers brought up in different environments so intimately together that the two remain attached to each other through every thick and thin of life. Evidently, this love and mercy which is being experienced by millions and millions of people in their lives, is not anything material, which may be weighed and measured, nor can it be traced back to any of the constituent element of human body, nor the cause of it birth and growth found out in a laboratory. The only explanation of this can be that the human self has ban endowed with it by a Wise Creator, Who has done so of His own will to serve a special purpose.

سورة الروم حاشیہ نمبر : 28 یعنی خالق کا کمال حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی بلکہ اسے دو صنفوں ( Sexes ) کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں ، جن کی بناوٹ کا بنیادی فارمولا بھی یکساں ہے ، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت ، مختلف ذہنی و نفسی اوصاف اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں ۔ اور پھر ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے ، ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب ہیں ۔ مزید برآں وہ خالق حکیم ان دونوں صنفوں کے افراد کو آغاز آفرینش سے برابر اس تناسب کے ساتھ پید کیے چلا جارہا ہے کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم یا کسی خطہ زمین میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوئے ہوں ، یا کہیں کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں ۔ یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا قطعا کوئی دخل نہیں ہے ۔ انسان ذرہ برابر بھی نہ اس معاملہ میں اثر انداز ہوسکتا ہے کہ لڑکیاں مسلسل ایسی زنانہ خصوصیات اور لڑکے مسلسل ایسی مردانہ خصوصیات لیے ہوئے پیدا رہیں جو ایک دوسرے کا ٹھیک جوڑ ہوں ، اور نہ اس معاملہ ہی میں اس کے اپس اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی پیدائش اس طرح مسلسل ایک تناسب کے ساتھ ہوتی چلی جائے ۔ ہزار ہا سال سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کی پیدائش میں اس تدبیر و انتظام کا اتنے متناسب طریقے سے پیہم جاری رہنا اتفاقا بھی نہیں ہوسکتا اور یہ بہت سے خداؤں کی مشترک تدبیر کا نتیجہ بھی نہیں ہوسکتا ۔ یہ چیز صریحا اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ایک خالق حکیم ، اور ایک ہی خالق حکیم نے اپنی غالب حکمت و قدرت سے ابتداء مرد اور عورت کا ایک موزوں ترین ڈیزائن بنایا ، پھر اس بات کا انتظام کیا کہ اس ڈیزائن کے مطابق بے حد و حساب مرد اور بے حد و حساب عورتیں اپنی الگ الگ انفرادی خصوصیات لیے ہوئے دنیا بھر میں ایک تناسب کے ساتھ پیدا ہوں ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 29 یعنی یہ انتظام الل ٹپ نہیں ہوگیا ہے بلکہ بنانے والے نے بالارادہ اس غرض کے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس ، اور عورت اپنی فطرت کی مانگ مرد کے پاس پائے ، اور دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہوکر ہی سکون و اطمینان حاصل کریں ۔ یہی وہ حکیمانہ تدبیر ہے جسے خالق نے ایک طرف انسانی نسل کے برقرار رہنے کا ، اور دوسری طرف انسانی تہذیب و تمدن کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنایا ہے ۔ اگر یہ دونوں صنفیں محض الگ الگ ڈیزائنوں کے ساتھ پیدا کردی جاتیں اور ان میں وہ اضطراب نہ رکھ دیا جاتا جو ان کے باہمی اتصال و وابستگی کے بغیر مدبل بسکون نہیں ہوسکتا ، تو انسانی نسل تو ممکن ہے کہ بھیڑ بکریوں کی طرح چل جاتی ، لیکن کسی تہذیب و تمدن کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہ تھا ۔ تمام انواع حیوانی کے برعکس نوع انسانی میں تہذیب و تمدن کے رونما ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ خالق نے اپنی حکمت سے مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لیے وہ امنگ ، وہ پیاس ، وہ اضطراب کی کیفیت رکھ دیی جسے سکون میسر نہیں آتا جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جڑ کر نہ رہیں ۔ یہی سکون کی طلب ہے جس نے انہیں مل کر گھر بنانے پر مجبور کیا ۔ اسی کی بدولت خاندان اور قبیلے وجود میں آئے ۔ اور اسی کی بدولت انسان کی زندگی میں تمدن کا نشو و نما ہوا ۔ اس نشو و نما میں انسان کی ذہنی صلاحیتیں مددگار ضرور ہوئی ہیں مگر وہ اس کی اصلی محرک نہیں ہیں ۔ اصل محرک یہی اضطراب ہے جسے مرد و عورت کے وجود میں ودیعت کر کے انہیں گھر کی تاسیس پر مجبور کردیا گیا ۔ کون صاحب عقل یہ سوچ سکتا ہے کہ دانائی کا یہ شاہکات فطرت کی اندھی طاقتوں سے محض اتفاقا سرزد ہوگیا ہے؟ یا بہت سے خدا یہ انتظام کرسکتے تھے کہ اس گہرے حکیمانہ مقصد کو ملحوظ رکھ کر ہزارہا برس سے مسلسل بے شمار مردوں کو یہ خاص اضطراب لیے ہوئے پیدا کرتے چلے جائیں؟ یہ تو ایک حکیم اور ایک حکیم کی حکمت کا صریح نشان ہے جسے صرف عقل کے اندھے ہی دیکھنے سے انکار کرسکتے ہیں ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 30 محبت سے مراد یہاں جنسی محبت ( Sexual Love ) ہے جو مرد اور عورت کے اندر جذب و کشش کی ابتدائی محرک بنتی ہے اور پھر انہیں ایک دوسرے سے چسپاں کیے رکھتی ہے ۔ اور رحمت سے مراد وہ روحانی تعلق ہے جو ازدواجی زندگی میں بتدریج ابھرتا ہے ، جس کی بدولت وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ، ہمدرد و غم خوار اور شریک رنج و راحت بن جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب جنسی محبت پیچھے جا پڑتی ہے اور بڑھاپے میں یہ جیون ساتھی کچھ جوانی سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے حق میں رحیم و شفیق ثابت ہوتے ہیں ۔ یہ دو مثبت طاقتیں ہیں جو خالق نے اس ابتدائی اضطراب کی مدد کے لیے انسان کے اندر پیدا کی ہیں جس کا ذکر اوپر گزرا ہے ۔ وہ اضطراب تو صرف سکون چاہتا ہے اور اس کی تلاش میں مرد و عورت کو ایک دوسرے کی طرف لے جاتا ہے ۔ اس کے بعد یہ دو طاقتیں آگے بڑھ کر ان کے درمیان مستقل رفاقت کا ایسا رشتہ جوڑ دیتی ہیں جو دو الگ ماحولوں میں پرورش پائے ہوئے اجنبیوں کو ملا کر کچھ اس طرح پیوستہ کرتا ہے کہ عمر بھر وہ زندگی کے منجدھار میں اپنی کشتی ایک ساتھ کھینچتے رہتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ محبت و رحمت جس کا تجربہ کروڑوں انسانوں کو اپنی زندگی میں ہو رہا ہے ، کوئی مادی چیز نہیں ہے جو وزن اور پیمائش میں آسکے ، نہ انسانی جسم کے عناصر ترکیبی میں کہیں اس کے سرچشمے کی نشان دہی کی جاسکتی ہے ، نہ کسی لیبارٹری میں اس کی پیدائش اور اس کے نشو و نما کے اسباب کا کھوج لگایا جاسکتا ہے ۔ اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک خالق حکیم نے بالارادہ ایک مقصد کے لیے پوری مناسبت کے ساتھ اسے نفس انسانی میں ودیعت کردیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: عام طور پر نکاح سے پہلے میاں بیوی الگ الگ ماحول میں پرورش پاتے ہیں، لیکن نکاح کے بعد ان میں ایسا گہرا رشتہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پچھلے طرز زندگی کو خیر باد کہہ کر ایک دوسرے کے ہورہتے ہیں، ان کے درمیان یک بیک وہ محبت پیدا ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے، جوانی میں ان کے درمیان محبت کا جوش ہوتا ہے اور بڑھاپے میں اس پر رحمت اور ہمدردی کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:21) من انفسکم۔ تم ہی میں سے۔ یعنی تمہاری ہی جنس سے۔ ازواجا۔ جوڑے۔ زوج کی جمع۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نر یو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔ یہاں ازواجا سے مراد بیویاں ہیں (منصوب بوجہ مفعول ہونے کے) ۔ لتسکنوا الیہا۔ لام تعلیل کا ہے۔ تسکنوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ لام کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا ہے۔ سکن الی۔ آرام لینا۔ آرام حاصل کرنا۔ لتسکنوا الیہا تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ازواجا کے لئے ہے۔ مودۃ۔ مصدر۔ ودیود (باب سمع) محبت، دوستی، ولی۔ رغبت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ یعنی تمہاری جنس سے۔ 7 ۔ یعنی مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس اور عورت اپنی فطرت کے تقاضے مرد کے پاس پائے اور اس طرح دونوں مل کر سکون و اطمینان حاصل کریں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” کسی جانور کا جوڑا مقرر نہیں کیا صرف انسان کا جوڑا مقرر ٹھہرایا اس میں نسل کے سوا نسیت اور چین ہے اور پیار و محبت تا جہاں کی بستی ہو۔ جو کوئی جوڑا مقرر نہ کرے یعنی زنا کرے، نکاح نہ کرے وہ انسان سے حیوان ہوا۔ “ (موضح) 8 ۔ حالانکہ بسا اوقات نکاح سے پہلے میاں بیوی میں شناسائی تک نہیں ہوتی مگر رشتہ نکاح میں منسلک ہوجانے کے بعد یہ حالت ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے پر جان چھڑکنے کو تیار ہوتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم ال قرآن ربط کلام : تخلیق انسانی کا دارومدار میاں بیوی کے ملاپ پر ہے اس لیے اب میاں بیوی کے تعلقات کا ذکر ہوتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی تسکین اور نسل کو جاری رکھنے کے لیے اسی سے اس کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا۔ پھر مستقل طور پر میاں، بیوی کا رشتہ قائم فرمایا۔ اس رشتہ کے تین بنیادی تقاضے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ناپید ہوجائے۔ تو ازدواجی زندگی بےلطف، بےقراری اور ناہمواری کا شکار ہوجاتی ہے 1 میاں بیوی کے درمیان پُر سکون ماحول ہونا چاہیے جو باہمی اتحاد اور اعتماد کے بغیر ممکن نہیں۔ 2 اتحاد اور سکون باہمی محبت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ 3 باہمی محبت واحترام کے لیے لازم ہے کہ ایک دوسرے کیساتھ شفقت و مہربانی کا روّیہ اختیار کیا جائے جس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کی کوتاہی کو معاف کیا جانا چاہیے۔ میاں، بیوی کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نتیجہ ہے یہ جتنا بہتر ہوگا اتنا ہی اچھا اثر اولاد کی تربیت پر پڑے گا میاں بیوی معاشرے کا بنیادی یونٹ ہیں اس یونٹ کو مضبوط اور بہتر سے بہترین ہونا چاہیے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تم میں وہ شخص بہتر ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے۔ میاں، بیوی کے رشتہ میں اللہ کی قدرت ملاحظہ فرمائیں کہ کتنے جوڑے ہیں جو نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو جانتے تک نہ تھے بلکہ ان کے خاندان بھی ایک دوسرے کے واقف نہیں تھے۔ میاں، بیوی کا جوڑا صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ اس لیے محاورہ ہے کہ ” رشتے زمین پر نہیں آسمانوں پر طے ہوتے ہیں۔ “ جونہی میاں، بیوی کا رشتہ قائم ہوتا ہے دونوں خاندانوں میں بھائی چارہ اور میاں، بیوی کے درمیان اس قدر گہرا تعلق قائم ہوجاتا ہے کہ جو لڑکی والدین کے گھر سے باہر ایک رات رہنا بھی سوچ نہیں سکتی۔ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے کے بعد والدین کے گھر آئے تو واپس جانے کے لیے بیتاب ہوتی ہے۔ جوں جوں اولاد ہوتی ہے توں توں والدین سے تعلق کم ہوتا چلا جاتا ہے یہ اللہ کی قدرت نہیں تو اور کیا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اپنی بیویوں کی قدر کیا کرو کیونکہ ” اللہ “ کے حکم سے ان کا وجود اور عزت وناموس تمہارے لیے جائز قرارپایا ہے۔ ( عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللَّہ۔۔ ) [ رواہ مسلم : باب حَجَّۃِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔ اللہ کے حکم سے تمہاری بیویوں کی شرم گاہیں تمہارے لیے حلال قرار پائی ہیں۔۔ “ (خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہٖ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَھْلِیْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب عن رسول اللہ ] ” وہی شخص اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہے اور میں تم سے اپنے گھر والوں کے بارے میں بہت بہتر ہوں۔ “ (عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْقُشَیْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَاحَقُّ زَوْجَۃِ أَحَدِنَا عَلَیْہِ قَالَ أَنْ تُطْعِمَھَاإِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوَھَا إِذَا اکْتَسَیْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَھْجُرْ إِلَّا فِی الْبَیْتِ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ] ” حضرت حکیم بن معاویہ (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم پر ہماری بیویوں کے کیا حقوق ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب کھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے جب کپڑے پہنے تو اسے بھی پہنائے منہ پر نہ مارے ‘ نہ گالی دے اور اسے نہ چھوڑ مگر گھر میں۔ “ مسائل ١۔ میاں، بیوی کا رشتہ ” اللہ “ کی قدرت کی نشانی ہے۔ ٢۔ میاں، بیوی کے درمیان محبت و مہربانی کا معاملہ ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن میاں، بیوی کا تعلق اور حقوق : ١۔ میاں، بیوی آپس میں لباس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ (البقرۃ : ١٨٧) ٢۔ بیوی نسل انسانی کا ذریعہ ہیں۔ (النساء : ١) ٣۔ بیوی سکون کا باعث ہے۔ (الروم : ٢١) ٤۔ بیوی خاوند کی نائب ہے اور خاوند گھر کا منتظم ہے۔ (النساء : ٣٤) ٥۔ بیوی کو بہترین طریقے سے رکھنا چاہیے اور اچھے طریقے سے چھوڑنا چاہیے۔ ( البقرۃ : ٢٣١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن ایتہ ان خلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لقوم یتفکرون (30: 21) لوگوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے جذبات جنس مخالف کے ساتھ کیا ہوتے ہیں۔ دونوں اجناس کے شعور اور اعصاب ایک دوسرے کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور اپنے جذبات اور میلانات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے لیے بےپناہ کشش رکھتے ہیں۔ یہ جذبات اور میلانات ان کو بیشمار کاموں اور مشقتوں پر آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن جس ذات حکیم نے یہ سب کچھ کیا ہے اس کے دست قدرت کی طرف میاں بیوی کے رجحانات جاتے ہی نہیں۔ جس خالق نے ان نفوس کے اندر یہ کشش اور یہ میلان رکھا ہے اسے کوئی یاد بھی نہیں کرتا۔ حالانکہ میاں بیوی کے اس تعلق کی وجہ سے انسان کے جسم ، اس کی روح ، اس کے اعصاب بلکہ اس کی پوری زندگی کے اندر کوئی سکون اور ٹھہراؤ اور سنجیدگی پیدا ہوجاتی ہے اور اس تعلق سے انسان جسمانی اور روحانی لذت بھی حاصل کرتا ہے اور یہ لذت مرد اور عورت دونوں کے لیے برابر ہوتی ہے۔ یہاں قرآن نے نہایت ہی لطیف اور نازک انداز بیان اختیار کیا ہے اور نہایت ہی اشاراتی پیرایہ میں میاں بیوی کے تعلق کو ظاہر کیا ہے۔ گویا قرآن دل کی گہرائیوں اور احساس و شعور کی تہوں میں تصویر کھینچ رہا ہے۔ لتسکنوا الیھا (30: 21) ” تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو “۔ وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ (30: 21) ” تمہارے درمیان الفت اور باہم نرمی کے جذبات پیدا کر دئیے “۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (30: 21) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں “۔ اور جب وہ فکر کریں گے تو ان کو معلوم ہوگا کہ مرد اور عورت کی اصناف کی تخلیق کے اندر خالق نے کیا کیا حکمتیں رکھی ہوئی ہیں۔ طبیعی لحاظ سے دونوں کو کس طرح ایک دوسرے کے مواق اور تکمیلی بنایا ہے۔ کس طرح دونوں ایک دوسرے کی فطری ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے نفسیاتی ، عقلی اور جسمانی لحاظ سے تکمیل کا درجہ رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے اطمینان ، استقرار اور سکون کی جگہ ہیں۔ دونوں کے اجتماع سے تکمیل ہوجاتی ہے اور ایک خود مختار یونٹ وجود میں آجاتا ہے۔ اس یونٹ کے اندر محبت اور رحمت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی جسمانی ، نفسیاتی ، اعصابی اور طبیعی تشکیل ہی ایسی ہے کہ ایک دوسرے کے سوا ادھوری ہے۔ مرد عورت کی خواہشات کی تسکین کا محل ہے اور عورت مرد کی خواہشات کی تسکین کی جگہ ہے۔ اس طرح دونوں کا اتحاد یکجہتی اور ملاپ اس کرہ ارض پر صدور حیات کا ذریعہ ہے۔ اس سے زندگی کی فصل کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دوم : یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑے پیدا فرما دئیے جو تم ہی میں سے ہیں یعنی عورت مرد جو آپس میں شرعی نکاح کے ذریعہ زوجین بن جاتے ہیں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے۔ اگر وہ بیویاں پیدا نہ فرماتا تو انسان کو زندگی گزارنا دو بھر ہوجاتا۔ بیویوں کے تذکرہ میں جو (خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ) فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عورتیں جو تمہاری بیویاں ہیں یہ تمہاری ہی جنس سے ہیں، اگر یہ ہم جنس نہ ہوتیں تو الفت کے ساتھ زندگی نہ گزرتی، اسی لیے (لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا) بھی فرمایا، مطلب یہ ہے کہ ان بیویوں کی تخلیق تمہارے لیے ہے تاکہ تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے تمہیں سکون حاصل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیوی وہ ہونی چاہیے جس کے پاس جانے اور رہنے اور زندگی گزارنے سے سکون اور چین نصیب ہو۔ جب میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے آرام و راحت کا خیال رکھتے ہیں تو اچھی طرح زندگی گزرتی ہے، جن عورتوں کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ نافرمانی کرتی ہیں، بات بات میں لڑتی جھگڑتی ہیں وہ مرد کے لیے وبال بن جاتی ہیں۔ مزید فرمایا : (وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ) (اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا فرما دی) یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے کہ میاں بیوی میں ایسا تعلق پیدا فرما دیتا ہے کہ صرف شرعی قانونی ہی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے دل میں الفت بھی پیدا فرما دیتا ہے اور رحمت بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے چاہنے والے اور ایک دوسرے کے خیر خواہ اور ہمدرد اور رحمت کا برتاؤ کرنے والے بن جاتے ہیں۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ شوہر کہاں کا بیوی کہاں کی، جب نکاح ہوجاتا تو ایک دوسرے میں بےمثال محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے، (لَمْ تَرَ لِلْمُتَعَابَیْنِ مَثْلَ النِّکَاحِ ) ١ ؂ (کہ اے مخاطب دو محبت کرنے والوں میں نکاح سے بڑھ کر تو نے کوئی چیز نہیں دیکھی) چونکہ نکاح والی زندگی ہے اور اس میں جذبات نفسانیہ کی تسکین کے علاوہ ایک دوسرے کے ساتھ نباہنے کے جذبات بھی ہوتے ہیں اور عموماً زندگی بھر ساتھ رہنے کی نیت ہوتی ہے اس لیے مومن مرد اور عورت آپس میں میل و محبت سے رہنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور آپس میں اونچ نیچ کو نباہتے ہوئے زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہاں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ (مَّوَدَّۃً ) کا تعلق جوانی کے زمانہ سے ہے جس میں دونوں کی خواہشات آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور (رَحْمَۃً ) کا تعلق بڑھاپے سے ہے جب جذبات شہوانیہ ختم ہوجاتے ہیں تو آپس میں صرف رحمت ہی کا تعلق رہ جاتا ہے اور طبعی طور پر ایک دوسرے پر رحم کھاتے ہیں کہ جس کے ساتھ اتنی لمبی زندگی گزاری ہے اس کے اعذار اور امراض کے زمانہ میں خدمت کرنی چاہیے اور اس کے کام آنا چاہیے۔ نکاح سے پہلے بھی یہ دیکھ لینا ہے کہ عورت میل و محبت کے ساتھ رہنے والی ہے یا نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے (تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّیْ مَکَاثِرَ بِکُمُ الْاُمَمَ ) (ایسی عورت سے نکاح کرو جو محبت کے ساتھ گزارہ کرنے والی ہو اور جس سے اولاد زیادہ ہو کیونکہ میں دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا) ٢ ؂ عورت کے خاندان کی عورتوں کے احوال جاننے سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ خاندان کثیر الاولاد ہے کہ نہیں۔ ) نکاح کے برخلاف جو نفسانی تعلق مردوں اور عورتوں میں پیدا ہوجاتا ہے جس کا مظاہرہ زنا کاری کی صورت میں ہوتا ہے، اس سے آپس میں محبت پیدا نہیں ہوتی، ایک نفسانی اور مطلب بر آری کا تعلق ہوتا ہے یہ تعلق کٹتا رہتا ہے، جہاں جس سے مطلب نکلتا دیکھا اسی سے جوڑ لگالیا پھر جب جی چاہا تعلق توڑ دیا۔ جیسا کہ انگلینڈ میں اس کا عام مزاج اور رواج بن گیا ہے وہاں زنا کار مرد اور عورت جو آپس میں دوست (فرینڈ) بنتے ہیں وہ جھوٹی دوستی ہوتی ہے، آپس میں محبت اور رحمت کے وہ جذبات نہیں ہوتے جو شرعی نکاح کی وجہ سے دلوں میں رچ بس جاتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ مومن بندہ کو خوف خدا کی نعمت حاصل ہونے کے بعد نیک بیوی سے بڑھ کر کوئی نعمت حاصل نہیں ہوئی، اگر اس بیوی کو حکم دے تو فرمانبرداری کرے اور اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کرے اور اگر وہ اس سے متعلق کوئی قسم کھا بیٹھے تو اسے قسم میں سچا کردے (ایسا معاملہ نہ کرے جس سے اس کی قسم ٹوٹ جائے) اور اگر شوہر کہیں چلا جائے تو اپنی جان میں اور اس کے مال میں اس کی خیرخواہی کرے۔ ٣ ؂ (یعنی اس کی خیانت نہ کرے) مرد کو بھی چاہیے کہ نباہنے اور آرام پہنچانے کی فکر رکھے اگر کوئی بات ناگوار ہو تو اسے ٹال دے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کوئی مومن مرد اپنی مومن بیوی سے بغض نہ رکھے اگر اس کی کوئی خصلت ناگوار ہوگی تو دوسری خصلت پسند آجائے گی۔ (رواہ مسلم) (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) (بلاشبہ ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں) یعنی میاں بیوی کے ١ ؂ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٢٦٨۔ ٢ ؂ رواہ ابو داؤد و النسائی کما فی المشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٢٦٨۔ ٣ ؂ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٢٦٨۔ مذکورہ تعلق کے مختلف پہلوؤں پر اور ان سے حاصل ہونے والے دینی اور دنیاوی مقاصد پر نظر کی جائے تو بہت سی نشانیاں سمجھ آسکتی ہیں۔ سوم : آسمان اور زمین کی تخلیق کا اور

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

21۔ اور اس کے نشان ہائے قدرت و حکمت سے آسمان و زمین کا بنانا اور تمہاری بولیوں کا اور تمہاری رنگتوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا بھی ہے بلا شبہ اس بات میں اور ان چیزوں میں جاننے والوں اور اہل دانش کے لئے بڑی نشانیاں اور بڑے پتے ہیں ۔ یعنی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا تمہاری بولیوں کا الگ الگ ہونا کہ ہندوستانی کو اہل عرب نہ سمجھیں اور عرب کی بولی یورپ میں نہ سمجھی جائے جاپان کی بولی انگلستان میں نہ سمجھی جائے۔ ایسا ہی رنگوں کا اختلاف کوئی کالا کوئی گورا ، کوئی سانوالا، ہر ایک کی رنگت خدا سے ایک کا ناک نقشہ الگ۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں جن میں اہل علم اور اہل دانش کے لئے بڑی نشانیاں ہیں اور ان امور میں بڑے پتے کی باتیں ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب انسان ایک ماں باپ سے بنائے ملا کر بسائے پھر جدا بولیاں کردیں ، ایک ملک کا آدمی دوسرے ملک میں جیسے جانور۔ 12