Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 29

سورة الروم

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۲۹﴾

But those who wrong follow their [own] desires without knowledge. Then who can guide one whom Allah has sent astray? And for them there are no helpers.

بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ظالم تو بغیر علم کے خواہش پرستی کر رہے ہیں ، اسے کون راہ دکھائے جسے اللہ تعالٰی راہ سے ہٹا دے ان کا ایک بھی مددگار نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا ... Nay, but those who do wrong follow..., (meaning, the idolators), ... أَهْوَاءهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ... ...their own lusts without knowledge. means, in their worship of false gods without knowledge. ... فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ... Then who will guide him whom Allah has sent astray, means, no one can guide them if Allah has decreed that they will be misguided. ... وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ And for such there will be no helpers. means, there is no one who can save them from the power of Allah or grant them a way out, for what He wills, happens and what He does not will, does not happen.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

291یعنی اس حقیقت کا انھیں خیال ہی نہیں ہے کہ وہ علم سے بےبہرہ اور ضلالت کا شکار ہیں اور اسی بےعلمی اور گمراہی کی وجہ سے وہ اپنی عقل کو کام میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اپنی نفسانی خواہشات اور آرائے فاسدہ کے پیروکار ہیں۔ 292کیونکہ اللہ کی طرف سے ہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جس کے اندر ہدایت کی طلب اور آرزو ہوتی ہے، جو اس طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں، انھیں گمراہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 293یعنی ان گمراہوں کا کوئی مددگار نہیں جو انھیں ہدایت سے بہرہ ور کر دے یا ان سے عذاب پھیر دے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] بات یہ نہیں کہ ان مشرکوں کو حقیقت کی سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ شرک کے اس دھندے میں ان کے بہت سے دنیوی مفادات وابستہ ہیں۔ مہنتوں اور پروہتوں اور مجاوروں کو ایسے ہی عقائد کی وجہ سے نذرانے وصول ہوتے ہیں اور یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ جس میں کچھ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔ وہ اپنے مریدوں یا عبادت گزاروں کو کئی قصے کہانیاں گھڑ کر سناتے، ان کی بزرگی اور اولیائی کی شان سے ڈراتے دھمکاتے اور انھیں نذرانے دینے پر مجبور بنا دیتے ہیں۔ نیز یہ لوگ اپنے مریدوں کو شفاعت کی خوشخبریاں سناتے رہتے ہیں۔ کہ فلاں پر صاحب سے اپنا وابستہ کرلینا ہی ان کی شفاعت اور اخروی نجات کی ضمانت ہے۔ اس طرح عابد و معبود دونوں مذہب کے نام پر حقیقتاً اپنی ہی خواہش نفس کے پیچھے لگے ہوتے ہیں۔ اور اللہ کا قانون ہی یہ ہے کہ انسان جس طرح کا طرز زندگی اختیار کرنا چاہے۔ اللہ اسے ویسی ہی توفیق دے دیتا ہے اور جو لوگ نہ خود غور و فکر کریں نہ انبیاء کی بات مانیں، محض اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور وہم و گمان پر جمے رہنا چاہیں اللہ ایسے لوگوں کو انھیں کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ زبردستی ہدایت دینا اللہ کا دستور نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ : یعنی آیات کو کھول کر بیان کرنے کا فائدہ ان لوگوں کو ہے جو عقل کے پیچھے چلیں، مگر یہ لوگ جنھوں نے شرک کے ارتکاب کا ظلم کیا، جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں، یہ عقل کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں اور شرک کا اصل وہ خواہشیں اور آرزوئیں ہی ہیں جو شیطان اپنے پیچھے چلنے والوں کے دلوں میں پیدا کردیتا ہے۔ جن کا نہ انھیں علم ہوتا ہے اور نہ حقیقت میں کہیں ان کا وجود ہوتا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (١١٢ تا ١٢٠) اور سورة نجم (٢٣ تا ٢٥) ۔ فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ) [ البقرۃ : ٢٦ ] ” اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ “ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ : یہاں ایک سوال ہے کہ جب ” وَمَا لَہُمْ مِّنْ نَّاصِرٍ “ کہنے سے ہر قسم کے مددگار کی زیادہ تاکید کے ساتھ نفی ہوجاتی ہے، تو ” نصرین “ کا لفظ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ مفسر ابو السعود نے اس کا جواب یہ دیا ہے : ” عَلٰی مَعْنَی لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْھُمْ نَاصِرٌ وَاحِدٌ عَلٰی مَا ھُوَ قَاعِدَۃُ مُقَابَلَۃِ الْجَمْعِ بالْجَمْعِ “ ” یعنی ان میں سے کسی ایک کا کوئی ایک مدد کرنے والا نہیں ہوگا، جیسا کہ جمع کے مقابلے میں جمع کا قاعدہ ہے۔ “ قرآن مجید میں ایک ہی بات مختلف اسالیب کے ساتھ بیان ہوتی ہے، کیونکہ تنوّع میں حسن ہوتا ہے۔ ایک اسلوب یہ ہے جو اس آیت میں اختیار کیا گیا ہے، دوسرا اسلوب واحد کے لفظ کے ساتھ نفی کا ہے، وہ بھی متعدد مقامات پر استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : ( لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا ) [ البقرۃ : ١٢٣ ] ” جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی۔ “ اور فرمایا : (وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ ) [ محمد : ١١ ] ” اور اس لیے کہ جو کافر ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں۔ “ اور فرمایا : (فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ ) [ الطارق : ١٠ ] ” تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَہْوَاۗءَہُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ۝ ٠ ۚ فَمَنْ يَّہْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللہُ۝ ٠ ۭ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۝ ٢٩ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں هوى الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى، فقال تعالی: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] ، وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وقوله : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] فإنما قاله بلفظ الجمع تنبيها علی أنّ لكلّ واحد هوى غير هوى الآخر، ثم هوى كلّ واحد لا يتناهى، فإذا اتّباع أهوائهم نهاية الضّلال والحیرة، وقال عزّ وجلّ : وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] أي : حملته علی اتّباع الهوى. ( ھ و ی ) الھوی ( س ) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفساتی خواہشات میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہدیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف ومنزلت سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخر ت میں اسے ھاویۃ دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گی ۔ الھوی ( ض ) کے معنی اوپر سے نیچے گر نے کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] اسکا مرجع ہاویہ ہے : ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ ھوت انہ کیطرف ایک محاورہ ہے اور بعض کے نزدیک دوزخ کے ایک طبقے کا نام ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اسکا ٹھکانا جہنم ہے اور بعض نے آیت وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ( ہوا ہو رہے ہوں گے ۔ میں ھواء کے معنی خالی یعنی بےقرار کئے ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خواہشات انسانی کی اتباع کی سخت مذمت کی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔ الھوی ( بفتح الہا ) کے معنی پستی کی طرف اترنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل ھوی ( بھم الہا ) کے معنی بلندی پر چڑھنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) ( 457 ) یھوی مکار مھا ھوی الاجمال اس کی تنگ گھائیوں میں صفرہ کیطرح تیز چاہتا ہے ۔ الھواء آسمان و زمین فضا کو کہتے ہیں اور بعض نے آیت : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہور رہے ہوں گے ۔ کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے یعنی بےقرار ہوتے ہیں ھواء کی طرح ہوں گے ۔ تھا ویٰ ( تفاعل ) کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے مھروۃ یعنی گڑھے میں گرنے کے ہیں ۔ اھواء اسے فضا میں لے جا کر پیچھے دے مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] اور اسی نے الٹی بستیوں کو دے پئکا ۔ استھوٰی کے معنی عقل کو لے اڑنے اور پھسلا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] جیسے کسی کی شیاطین ( جنات ) نے ۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دیا ہو ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

بلکہ ان کافروں یعنی یہود و نصاری اور مشرکین نے اپنے شرکیہ خیالات کا بلا کسی صحیح دلیل و حجت کے اتباع کر رکھا ہے۔ سو جس کو اللہ ہی اپنے دین سے گمراہ کرے اس کو کون دین کے راستے پر لاسکتا ہے۔ اور ان یہود و نصاری اور مشرکین کا عذاب الہی سے کوئی بھی حفاظت کرنے والا نہ ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَمَنْ یَّہْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط) ” اگر کسی کی ہٹ دھرمی کی سزا کے طور پر اللہ ہی نے اس کی گمراہی پر مہر ثبت کردی ہو تو وہ ہدایت کیسے پاسکتا ہے ؟ (وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) ” اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں دین کی بنیاد اور اصل روح بیان ہوئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

41 That is, "When a person neither thinks on the right lines himself, nor is prepared to listen to a well-wisher, his intellect comes under the curse of Allah. After this everything that can help reasonable person to reach the Truth, only helps this stubborn and ignorant person to be involved more and more deeply in further deviation and error. This is what has been conveyed in the word "leading astray". When a truth-loving person invokes Allah for the grace of guidance, AIlah creates for him maximum means of the guidance according to the sincerity of his invocation. And when a strayed person insists on his deviation, Allah creates for him the means which mislead him further and further away from the Truth. "

سورة الروم حاشیہ نمبر : 41 یعنی جب کوئی شخص سیدھی سیدھی عقل کی بات نہ خود نہ سوچے اور نہ کسی کے سمجھانے سے سمجھنے کے لیے تیار ہو تو پھر اس کی عقل پر اللہ کی پھٹکار پڑ جاتی ہے اور اس کے بعد ہر وہ چیز جو کسی معقول آدمی کو حق بات تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے ، وہ اس ضدی جہالت پسند انسان کو الٹی مزید گمراہی میں مبتلا کرتی چلی جاتی ہے ۔ یہی کیفیت ہے جسے بھٹکانے کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ راستی پسند انسان جب اللہ سے ہدایت کی توفیق طلب کرتا ہے تو اللہ اس کی طلب صادق کے مطابق اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اسباب ہدایت پیدا فرما دیتا ہے ، اور گمراہی پسند انسان جب گمراہ ہی ہونے پر اصرار کرتا ہے تو پھر اللہ اس کے لیے وہی اسباب پیدا کرتا چلا جاتا ہے جو اسے بھٹکا کر روز بروز حق سے دور لیے چلے جاتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: یعنی اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں اسے ہدایت کی توفیق نہ دی ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:29) بل حرف اضراب ہے بمعنی بلکہ۔ یعنی یہ عقل سے تو کام لیتے نہیں بلکہ بےانصافی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنی خواہشات کا اتباع کر رہے ہیں۔ یھدی : یھدی یھدی ھدایۃ (ضرب) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب وہ ہدایت کرتا ہے۔ من یھدی میں من سوالیہ ہے۔ کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ من اضل اللہ : من موصوفہ ہے اضل ماضی صیغہ واحد مذکر غائب۔ اضلال (افعال) مصدر جس کو اللہ نے گمراہ کیا۔ (اللہ کی طرف سے اضلال یا گمراہی ان لوگوں کی کج روی کے لازمی نتیجہ کے طور پر ہے) مالہم نہیں ہے ان کے لئے (ہم صیغہ جمع باعتبار معنی ہے۔ ایسے لوگوں کا کوئی (حمائیتی) نہ ہوگا۔ ای لمن اضل اللہ تعالیٰ یعنی جن کو (پیہم نافرمانی کے باعث) اللہ گمراہ کر دے) ۔ من نصرین : من نفی کی مزید تاکید کے لئے آیا ہے۔ ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اللہ تعالیٰ کی طر گمراہی کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ وہ ہر چیز کا خلاق ہے ورنہ انسان کی گمراہی کا سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بل اتبع الذین ۔۔۔۔۔ لھم من نصرین (29) ہوائے نفس کا پھر نہ کوئی معیار ہوتا ہے اور نہ کوئی ضابطہ ہوتا ہے۔ بس نفس انسانی کی بدلتی ہوئی خواہشات آگے آگے ہوتی ہیں اور انسان ان کے پیچھے ہوتا ہے۔ جس طرف میلان ہوا ، اسی طرف ڈھل گیا۔ جہاں کوئی ڈر ہوا ، رک گیا ، جہاں ذرا بھی امید اور لالچ پیدا ہوا دوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ نہ ایسا شخص کسی حد پر رکتا ہے ، نہ حق و باطل کا محافظ رکھتا ہے اور نہ حلال و حرام کی تمیز کرتا ہے اور نہ اپنے تصورات و اعمال کو کسی ترازو میں تولتا ہے ۔ جب کوئی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں رہتی ، ایسا شخص گمراہی کی راہوں پر اس قدر دور چلا جاتا ہے کہ واپسی کی کوئی امید نہیں رہتی۔ فمن یھدی من اضل اللہ (30: 29) ” اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو “۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ شخص ہوائے نفس کا مطیع فرمان ہوگیا ہے۔ وما لھم من نصرین (30: 29) ” ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا “۔ جو ان کو اس برے انجام سے بچا سکتا ہے۔ اب ان لوگوں کی بات ختم ہوجاتی ہے جو اس دنیا میں بدلتی ہوئی خواہشات کی بندگی کرتے ہیں اور جن میں ہر وقت اضطراب رہتا ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے دین حق پر قائم رہیں جو دین فطرت ہے۔ جو مضبوط دین ہے اور اس دین اور لوگوں کی فطرت کے درمیان مکمل موافقت ہے ، کیونکہ فطرت کا خالق اور لوگوں کا خالق اور اس دین کا شارع ایک ہے۔ یہ وہ واحد اور نظریہ اور طرز عمل ہے جو صراط مستقیم پر لے جاتا ہے۔ اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ جس طرح کفار کی راہیں ہر وقت بدلتی رہتی ہیں۔ ہر روز کی خواہشات کے لیے ایک نیا دین ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی اس قدر دلائل کے بعد مسئلہ توحید میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں لیکن اس کے باوجود مشرکین ان میں غور و فکر نہیں کرتے بلکہ خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتے ہوئے بلا دلیل وحجت اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ الذین ظلموا سے مشرکین مراد ہیں والذین ظلموا ھم المشرکون (بحر ج 7 ص 171) ۔ ان معاندین کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور ان سے توفیق ہدایت سلب کرلی گئی ہے اس لیے اب انہیں کوئی بھی راہ راست پر نہیں لاسکتا اور نہ ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی بچا سکتا ہے۔ فمن یھدی الخ استفہام انکاری ہے۔ ای لایقدر علی ہدایتہ احد (ابو السعود ج 5 ص 722) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

29۔ سمجھانے کے باوجود یہ لوگ حق کی پیروی نہیں کرتے بلکہ یہ ظالم اور ناانصاف لوگ بغیر کسی صحیح دلیل کے اپنی نفسانی خواہشات اور خیالات کی پیروی کرتے ہیں سو جس کو اللہ تعالیٰ بےرا ہ رکھے اس کو کون راہ دکھا سکتا ہے اور کون صحیح راہ پر لگا سکتا ہے اور ایسے گمراہوں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا ۔ یعنی یہ لوگ ان دلائل کا قاطعہ کو نہیں مانتے بلکہ یہ ظالم اپنی نفسانی خواہشات پر بدون کسی صحیح دلیل کے چلتے ہیں بدی پر چونکہ جم چکے ہیں اور ظلم کے اور شرک کے خوگر ہوچکے ہیں ، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کا ہاتھ ان کے سروں پر سے اٹھا لیا ہے۔ اسی کو فرمایا من اضل اللہ اور اللہ تعالیٰ جب کسی نالائق پر سے اپنادست ہدایت اٹھا لے تو پھر اس کو کون راہ پر لگا سکتا ہے اور عذاب کے وقت ان کا کوئی مدد گار نہ ہوگا ۔