Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 40

سورة الروم

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ ثُمَّ رَزَقَکُمۡ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ؕ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّفۡعَلُ مِنۡ ذٰلِکُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۴۰﴾  7

Allah is the one who created you, then provided for you, then will cause you to die, and then will give you life. Are there any of your "partners" who does anything of that? Exalted is He and high above what they associate with Him.

اللہ تعالٰی وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو ۔ اللہ تعالٰی کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ... Allah is He Who created you, then provided food for you, means, He is the Creator and Provider. He brings man forth from his mother's womb naked and knowing nothing, not able to see or hear, and having no strength. Then He provides him with all these things, giving him household effects, clothing, wealth, possessions and earnings. ... ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ... then will cause you to die, means, after this life. ... ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ... then (again) He will give you life. means, on the Day of Resurrection. ... هَلْ مِن شُرَكَايِكُم ... Is there any of your partners, means, those whom you worship instead of Allah, ... مَّن يَفْعَلُ مِن ذَلِكُم مِّن شَيْءٍ ... that do anything of that, meaning, none of them are able to do any of that. But Allah is the One Who is Independent in His powers of creation, provision, and giving life and death. Then He will resurrect His creation on the Day of Resurrection. This is why, after all this He says: ... سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ Glory be to Him! And Exalted be He above all that they associate. meaning, exalted and sanctified and glorified be He far above having any partner, peer, equal, son or father, for He is the One, the Unique, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was He begotten, and there is none comparable unto Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٦] یعنی جب تمہارے بنائے ہوئے معبودوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا ہو یا تمہارے رزق کا ذمہ دار ہو یا تمہیں مار سکتا ہو یا تمہیں دوبارہ زندگی بخش سکتا ہو تو پھر آخر یہ ہیں کس کام کے ؟ اور کس لحاظ سے تم انھیں اللہ کے شریک بناتے ہو ؟ واضح رہے کہ مشرکین مکہ ان چار باتوں میں سے پہلی تین باتوں کے قائل تھے کہ جو امور اس آیت میں مذکور ہوئے ہیں۔ یہ صرف اللہ ہی کے کارنامے ہیں اور ان میں ان کے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ۔۔ : یہاں سے کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے پھر سلسلۂ کلام توحید اور آخرت کی طرف پھر گیا ہے۔ هَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ : کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو اس میں سے کچھ بھی کرسکے ؟ ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتے تو پھر انھیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ۝ ٠ ۭ ہَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ۝ ٠ ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝ ٤٠ ۧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی معنی مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں بڑھاپے کی حالت میں ضعیف کردیا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : (ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق) اور ہم جس کی عمر زیادہ کردیتے ہیں اسے اس کی خلقت میں الٹا کردیتے ہیں۔ نیز یہ ارشاد بھی ہے : (ومنکم من یرد الی ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیئا) اور تم میں وہ بھی ہیں جنہیں نکمی عمر تک پہنچادیا جاتا ہے جس سے وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے باوجود بیخبر ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح قوت وطاقت سے عاری اور عقل وفہم سے خالی زندہ رہتے ہیں۔ جیسا کہ ایک بچہ زندگی گزارتا ہے بلکہ ان کی حالت بچے کی حالت سے بھی بدتر ہوتی ہے کیونکہ بچے کے عقل و فہم اور طاقت وقوت میں بلوغت کے ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ کمال انسانیت کی حد کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس بوڑھا انسان جوں جوں بڑھاپے کے اندر قدم آگے بڑھاتا ہے اس کی کمزوری اور بیخبر ی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کو نکمی عمر کا نام دیا ہے اور اسے کمزور ی اور ضعف کا قرین وشریک قرار دیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (ثم جعل من بعدہ قوۃ ضعفا وشیبۃ) اس کی نظیر وہ قول باری ہے جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زبان سے ادا کیا گیا ہے (رب انی وھن العظم منی واشتعل الراس شیبا) اے میرے پروردگار ! میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ ہی وہ ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں بچہ کی صورت میں پیدا کیا اور پھر تمہارے اندر روح پھونک کر تمہیں باہر نکالا اور پھر تمہیں مرنے تک پاکیزہ رزق دیا اور پھر تمہاری مدت پوری ہونے پر تمہیں موت دیتا ہے اور پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن تمہیں زندہ کرے گا۔ اے مکہ والو اب بتاؤ تو سہی کہ کیا تمہارے معبودوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کرسکے لہٰذا ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ شرک و اولاد سے پاک اور ان کے شریک کردہ بتوں سے بالا و برتر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(ہَلْ مِنْ شُرَکَآءِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْءٍ ط) ” اے گروہ مشرکین ! کیا تمہارے لات ‘ منات اور عزیٰ میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی ایک کام بھی سر انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو ؟ دراصل مشرکین مکہ خود ہی یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہے اور زندگی و موت کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ لات و منات وغیرہ کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا : (ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط) ( یونس : ١٨) کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش سے آخرت میں وہ چھوٹ جائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

61 From here again the discourse turns to the theme of Tauhid and the Hereafter for the admonition of the disbelievers and the mushriks. 62 That is, "He provided all the various means in the earth for your sustenance and made such arrangements that everyone should receive something from the circulation of the provision." 63 That is, "If those whom you have set up as deities can neither create, nor provide sustenance, nor have power over life and death, nor can raise you back to life after death, then what for have you set them up as your deities?"

سورة الروم حاشیہ نمبر : 61 یہاں سے پھر کفار و مشرکین کو سمجھانے کے لیے سلسلہ کلام توحید و آخرت کے مضمون کی طرف پھر جاتا ہے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 62 یعنی زمین میں تمہارے رزق کے لیے جملہ وسائل فراہم کیے اور ایسا انتظام کردیا کہ رزق کی گردش سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ حصہ پہنچ جائے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 63 یعنی اگر تمہارے بنائے ہوئے معبودوں میں سے کوئی بھی نہ پیدا کرنے والا ہے ، نہ رزق دینے والا ، نہ موت و زیست اس کے قبضہ قدرت میں ہے ، اور نہ مرجانے کے بعد وہ کسی کو زندہ کردینے پر قادر ہے ، تو آخری لوگ ہیں کس مرض کی دوا کہ تم نے انہیں معبود بنا لیا ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٠ تا ٥١۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا ہے کہ ان مشرکوں سے دریافت کیا جائے کہ انکا جینا ان کا مرنا جیتے جی انکا رزق کون سی چیز ان کے بتوں کے اختیار میں ہے اور جب آنکھوں دیکھتے ان کے بتوں کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے تو عبادت کے وقت ان بتوں کو یہ لوگ جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ذرا ان کو نادم ہونا چاہئے کہ ایسی بےاختیار اور عاجز چیز کو جو خود دوسرے کے اختیار اور قابو میں ہو معبود ہونے کا کونسا حق حاصل ہے ان آیتوں کی شان نزول طبرانی ١ ؎ نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت سے جو بیان کی ہے اس کی حاصل یہ ہے کہ تمام ملت ابراہیمی کو مشرکین مکہ نے بگاڑ کر فقط ایک حج کو عبادت کے نام سے باقی رکھا تھا اس میں طواف کے وقت اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کے نام لے لے کر چلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس شرک سے نادم ہونے کے لیے یہ شرک کی مذمت کی آیتیں جگہ جگہ قرآن شریف میں نازل فرمائی ہیں اب مشرکوں کو شرک کا الزام دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ زمین میں قحط وبا اور دریا میں جہازوں کشتیوں کے ڈوبنے کے وبال جو آتے ہیں وہ لوگوں کے اسی طرح کے گناہوں کے سبب سے آتے ہیں جس طرح قریش جان بوجھ کر شرک کرتے تھے پھر قریش کو پچھلی امتوں کا حال یاد دلا کر یہ ڈرایا ہے کہ اگر شرک سے باز نہ آؤ گے تو پچھلی امتوں کی طرح غارت ہوجاؤ گے پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ خطاب کر کے فرمایا ہے جس خطاب میں امت بھی داخل ہے کہ دین پر قائم رہتا چاہیے تاکہ اللہ کے دین میں فتور نہ پڑے اور اس فتور کے سبب سے وبال نہ آجاوے پھر ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر اور بادلوں کے سبب سے مینہ جو برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اسی طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کر کے ان جسموں میں پھر روح بھونکے گا صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین میں کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بنکر تیار ہوجاویں گے پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا جس سے ان پتلوں میں روح پھونک دی جاوے گی حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح اب مینہ سے دریا میں موتی کا اور زمین میں طرح طرح کی پیدا وار کا جسم پیدا ہوجاتا ہے اسی طرح حشر کے دن کے ایک مینہ سے انسان کا جسم پیدا ہوگا اسی مشابہت کے سب سے اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ قرآن شریف میں زمین کی پیدا وار سے حشر کی تشبیہ بیان فرمائی ہے مینہ اور ہوا کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ تسلی بھی فرمائی کہ اے رسول اللہ کے اگر یہ مشرک لوگ اللہ کی قدرت کی نشانیوں پر دھیان نہ کریں گے تو اس طرح کی قدرت کے منکر پہلی آیتوں کا جو انجام ہوچکا وہی ان کا ہوگا تاکہ دشمنوں کی ہلاکت سے دینداروں کو ایک طرح کی مدد مل جاوے کیوں کہ اس طرح کی مدد ہمیشہ سے اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے آخر کو فرمایا منہ کے برسنے اور پیدا وار کے زور پکڑ جانے کے بعد اگر اللہ کی قدرت سے کوئی ایسی مخالف ہوا چل جاوے جس سے کھیتی خراب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے مینہ برسانے کے احسان کو بھول کر ایسی ناشکری کرنے لگتے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کبھی کوئی احسان ہی نہیں کیا :۔ (١ ؎ تفسیر الدرالمنثور ص ١٥٥ ج ٥)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:40) ہل من شرکائکم : ہل استفہام انکاری ہے۔ من تبعیضیہ ہے۔ شرکائکم مضاف مضاف الیہ ہے۔ تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایک۔ من ذلکم۔ ان کاموں میں سے کوئی ۔ یہ شئی کی صفت ہے من تبعیض کا ہے کوئی شئی۔ (یہاں صفت کو موصوف سے مقدم لایا گیا ہے) شئی یفعل کا مفعول ہے کیا تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی جو ان کاموں میں کچھ بھی کرسکتا ہو۔ تعالیٰ : ماضی واحد مذکر غائب تعالیٰ (تفاعل) مصدر سے۔ بمعنی وہ برتر ہے۔ وہ بلند ہے۔ باب تفاعل مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے عما : عن اور ما سے مرکب ہے ما موصولہ ہے۔ اس چیز سے جسے۔ یشرکون۔ (جیسے) وہ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اشتراک (باب افعال) سے مصدر ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اور ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتے تو پھر انہیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سورة الرّوم کی پہلی دس آیات کے بعد کسی نہ کسی انداز میں مسلسل اللہ کی توحید کے دلائل دیے گئے ہیں اب پھر اسی عنوان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سابقہ آیات میں یہ بتلایا گیا ہے جب مشرک کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے۔ مصیبت ٹل جائے تو مشرک اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ حالانکہ اسے معلوم ہے کہ اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے وہی سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ وہی موت دینے والا ہے اور وہی موت کے بعد سب کو زندہ کرے گا کیا کوئی ہے جو ان کاموں میں اس کا شریک ہو ؟ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا ہر دور کے مشرک اعتراف کرتے آرہے ہیں اور قیامت تک اعتراف کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جب ان کاموں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی مخلوق میں کوئی بھی اس کا شریک کار نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا تو پھر مشرک کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ ” اللہ “ ہر قسم کے شرک سے پاک اور اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے تمام مخلوقات سے اعلیٰ اور بےمثال ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُرَاہُ یَقُول اللّٰہُ شَتَمَنِیْ ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِیْ ، وََکَذَّبَنِیْ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُ ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِیْ کَمَا بَدَأَنِیْ ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالٰی (وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں۔ وہ میری تکذیب کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے لائق نہیں اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے اولاد بنا رکھی ہے اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کیا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا ہے۔ “ مشرک کا گناہ : (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدِ افْتَرآی اِثْمًا عَظِیْمًا) [ النساء : ٤٨] ” یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کرنے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہتان باندھا اور بہت بڑا گناہ کیا۔ “ مسائل ١۔ ” اللہ “ ہی سب کو پیدا کرتا ہے اور وہی سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ ٢۔ ” اللہ “ ہی موت دینے والا اور وہی دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ ٣۔ ” اللہ تعالیٰ “ مشرکوں کے شرکاء اور ان کے بدترین عقیدہ سے پاک اور بلندوبالا ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی خالق، مالک، رازق اور وہی موت وحیات کا مالک ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٢) ٢۔ ” اللہ “ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : ٤) ٣۔ ” اللہ “ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٤۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : ٢٠) ٥۔ ” اللہ “ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : ١٨٩) ٦۔ ” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : ٥٤) ٧۔ لوگو ! اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : ١) ٨۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذّاریات : ٥٨) ٩۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سبا : ٣٩) ١٠۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : ١٣٢) ١١۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٢) ١٢۔ اللہ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا۔ (البقرۃ : ٧٣) ١٣۔ اللہ تعالیٰ چوپاؤں اور تمام انسانوں کو رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : ٦٠) ١٤۔ اللہ تعالیٰ ہی مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کرتا ہے۔ (آل عمران : ٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (40 – 42) اللہ ان کی زندگی کی حقیقی صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے ایسے حالات ان کے سامنے پیش فرماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک نہیں ہے کہ ان حالات کا موجد اللہ ہے ، یا ایسے حالات جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان کے مزعومہ خدا اور الٰہ ان حالات کے موجد ہیں ، یا شریک ہیں ، یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ وہی ہے جو تمہارا رزاق ہے ، وہی تمہیں مارتا ہے ، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے ، اس کا وہ اقرار کرتے تھے ، جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی وہ یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے کہ ان کے مزعومہ الٰہ ان کو رزق دیتے ہیں۔ رہا مارنا تو وہ اس بات کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے تھے کہ اللہ ہی مارنے والا ہے۔ رہا مسئلہ بعث بعد الموت کا تو اس میں وہ شک کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مسلمات کے ساتھ بعث بعد الموت کو بھی فہرست مسلمات میں پیش فرماتے ہیں تاکہ ان کا شعور جاگ اٹھے۔ اور اس طرح وہ اس کے قائل ہوجائیں۔ یہ براہ راست ان کی فطرت اور وجدان سے ہمکلامی ہے۔ اگرچہ ان کی فطری سوچ کے اندر انحراف آگیا تھا لیکن اگر فطرت کو اصل حالات پر چھوڑا جائے اور انسان فطری انداز میں سوچے تو بعث بعد الموت کے عقیدے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان سے پوچھتے ہیں۔ ھل من شرکاء کم ۔۔۔۔۔ من شئ (30: 40) ” کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے ، جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو “۔ اس سوال کے جواب کا انتظار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تردید کے لیے ہے اور ساتھ ساتھ سرزنش بھی جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ بس اس کے بعد یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ اس قسم کے شریکوں سے پاک ہے۔ سبحنہ وتعلیٰ عما یشرکون (30: 40) ” اللہ پاک ہے ، بہت بالا و برتر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانی زندگی کی اصلاح و فساد کا تعلق لوگوں کے اعمال سے ہے۔ جب لوگوں کے دل بگڑ جائیں ، ان کے اعمال خراب ہوں اور ان کے عقائد خراب ہوں تو اس سے نظام ارضی میں خلل پڑجاتا ہے اور خشکی اور تری دونوں اس فساد کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ لوگوں کی اقدار حیات پر یہ فساد غالب آجاتا ہے۔ ظھر الفساد ۔۔۔۔۔ ایدی الناس (30: 41) ” خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے “۔ دنیا کے نظام میں فساد کا ظہور اور اس کا پھیل جانا بےمقصد نہیں ہوتا۔ اور نہ اچانک بطور اتفاق ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر اور اس کے قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ لیذیقھم بعض الذی عملوا (30: 41) ” تاکہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال گا “۔ یعنی جب وہ ایسے اعمال کر رہے ہوں جو شر و فساد کا باعث ہوں اور جب اس عمومی فساد کی لپیٹ میں وہ آجاتے ہیں اور اس کی جلن اور تپش محسوس کرتے ہیں تو امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ لعلھم یرجعون (30: 41) ” شاید کہ وہ باز آجائیں “۔ اور عزم کرلیں کہ ہم اس فساد کا مقابلہ کریں گے اور اللہ کی طرف رجوع کرکے عمل صالح شروع کردیں گے اور زندگی کے راست اور درست نظام کو اپنا لیں گے۔ اس سبق کے آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو زمانہ ما قبل کے مشرکین کو نصیب ہوا۔ اہل مکہ ان میں سے اکثر کے انجام سے واقف بھی تھے کیونکہ وہ اپنے سفروں میں ان کے آثار دیکھا کرتے تھے۔ یہ آثار امام مبین پر تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چوتھی آیت میں پھر توحید کی طرف متوجہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا ہے پھر تمہیں رزق دیا، اس رزق کو کھاتے پیتے ہو اور زندہ رہتے ہو، پھر اس زندگی کے بعد تمہیں موت دے گا پھر زندہ فرمائے گا، اسی کی قدرت کے یہ سب مظاہرے ہیں اور وہی مستحق عبادت ہے، وحدہٗ لا شریک ہے تم لوگوں نے جو اس کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جسے ان چیزوں پر قدرت ہو ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی یہ کام نہیں کرسکتا، جب اس کے علاوہ کوئی بھی قدرت رکھنے والا نہیں ہے تو پھر عبادت میں دوسروں کو شریک کیوں کرتے ہو، (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (وہ ان کے شرک سے پاک ہے اور برتر ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31:۔ یہ توحید پر دسویں عقلی دلیل ہے۔ تم سب کا خالق و رازق اللہ تعالیٰ ہے اور موت وحیات بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ جن برگزیدہ ہستیوں اور اللہ کے جن نیک اور صالح بندوں کو تم نے اللہ کے سوا کارساز سمجھ رکھا ہے کیا ان میں سے کسی ایک نے اس سارے جہان میں کوئی ایک ہی چیز پیدا کی ہے یا پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یا کسی کی روزی ان میں سے کسی کے اختیار میں ہے یا کسی کی موت اور زندگی ان میں سے کسی کے قبضہ و تصرف میں ہے ؟ ظاہر ہے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے مشرکین کا بھی اعتقاد تھا کہ ان کے مزعومہ کارساز ان کاموں میں سے کوئی کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سبحانہ وتعالی الخ۔ جب یہ صفتیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں تو پھر وہ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے، صفات کارسازی اور کمالاتِ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

40۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو اس نے رزق دیا پھر تم کو وہ موت دیتا ہے پھر تم کو وہ دوبارہ زندہ کرے گا بھلا کیا تمہارے خود ساختہ شرکاء جن کو تم خدا کو شریک سمجھتے ہو ان میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام کرسکے وہ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے بہت پاک اور بالاتر ہے یعنی وہی تم کو پیدا کرتا ہے پیدا کرنے کے بعد وہی تمہاری روزی کا سامان کرتا ہے اور تم کو روزی دیتا ہے پھر موت بھی اسی کے قبضے میں ہے اسی کے حکم سے مرتے ہو پھر دوبارہ زندگی بھی اسی کے اختیار میں ہے خواہ وہ زندگی عالم برزخ کی ہو یا قیامت کی زندگی ، اچھا اب بتائو یہ تمہارے خود ساختہ شریک جن کو تم نے میری الوہیت میں شریک کر کھا ہے بھلا کیا ان میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان امور مذکورہ میں سے کوئی کچھ کرسکے اور جب نہ ان کے قبضے میں پیدا کرنا نہ روزی دینا نہ مارنا اور نہ دوبارہ زندہ کرنا جب ان کاموں میں سے کوئی کام بھی یہ نہیں کرسکتے تو ان کا شریک ٹھہرانا باطل اور گمراہی ۔ سبحنہ و تعالیٰ عما یشرکون