Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 48

سورة الروم

اَللّٰہُ الَّذِیۡ یُرۡسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَیَبۡسُطُہٗ فِی السَّمَآءِ کَیۡفَ یَشَآءُ وَ یَجۡعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الۡوَدۡقَ یَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِہٖ ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿ۚ۴۸﴾

It is Allah who sends the winds, and they stir the clouds and spread them in the sky however He wills, and He makes them fragments so you see the rain emerge from within them. And when He causes it to fall upon whom He wills of His servants, immediately they rejoice

اللہ تعالٰی ہوائیں چلاتا ہے وہ ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالٰی اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں اس کے اندر سے قطرے نکلتے ہیں اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر وہ پانی برساتا ہے تو وہ خوش خوش ہو جاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Revival of the Earth is a Sign of the Resurrection Here Allah explains how He creates the clouds that rain the water. اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا ... Allah is He Who sends the winds, so that they raise clouds, either from the sea, as was mentioned by more than one (of the scholars), or from whatever Allah wills. ... فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاء كَيْفَ يَشَاء ... and spread them along the sky as He wills, means, He spreads them and causes them to increase and grow. From a little He makes a lot, and creates the clouds that look like shields. Then He spreads them out until they fill the horizon. Sometimes the clouds come from the sea, heavy and full, as Allah says: وَهُوَ الَّذِى يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرىً بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِ حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالاً سُقْنَـهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy. Till when they have carried a heavy-laden cloud, We drive it to a land that is dead until: كَذَلِكَ نُخْرِجُ الْموْتَى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ Similarly, We shall raise up the dead, so that you may remember or take heed. (7:57) Allah says here: اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاء كَيْفَ يَشَاء وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا ... Allah is He Who sends the winds, so that they raise clouds and spread them along the sky as He wills, and then break them into fragments, Mujahid, Abu Amr bin Al-Ala', Matar Al-Warraq and Qatadah said, "This means pieces." Others said that it means `piled up,' as Ad-Dahhak said. Others said that it means black, because they contained so much water, and sometimes they are heavy and close to the earth. His saying: ... فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَلِهِ ... until you see rain drops come forth from their midst! means, `so you see the drops, i.e., the rain, which come from the midst of those clouds.' ... فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ Then when He has made them fall on whom of His servants as He wills, lo, they rejoice! They rejoice at the rain when it comes to them because of their need for it. وَإِن كَانُوا مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ

نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو ۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلادیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے ۔ اور کبھی یہ بھی دیکھاہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں ۔ اسی مضمون کو آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57؀ ) 7- الاعراف:57 ) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے ۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں ۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں ۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں ۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے ۔ دودفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے ۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو ۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے ۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے ۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے ۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے ۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے ۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چنانچہ سورۃ واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے ۔ آیت ( اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63۝ۭ ) 56- الواقعة:63 ) سے ( بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67؀ ) 56- الواقعة:67 ) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی ۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں ۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی ۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی ۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی ۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے ۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا ۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

481یعنی بادل جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں سے ہوائیں ان کو اٹھا کرلے جاتی ہیں۔ 482کبھی چلا کر کبھی ٹھہرا کر، کبھی تہ بہ تہ کرکے، کبھی دور دراز تک۔ یہ آسمانوں پر بادلوں کی مختلف کیفیتیں ہوتی ہیں۔ 483یعنی ان کو آسمان پر پھیلانے کے بعد کبھی ان کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ 484یعنی ان بادلوں سے اللہ اگر چاہتا ہے تو بارش ہوجاتی ہے جس سے بارش کے ضرورت مند خوش ہوجاتے ہیں

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٦] اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی نشانیاں فرما دیں مثلاً ہوا جو ایک کنکر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتی اور کنکر زمین پر آپڑتا ہے مگر یہ ہوا آبی بخارات کو ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہیں۔ وہ آبی بخارات جن میں کروڑوں ٹن پانی موجود ہوتا ہے۔ اور اس وزن کا اندازہ زمین کے اس رقبہ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں یہ بارش ہوئی اور جتنے انچ بارش ہوئی۔ دوسری یہ کہ ان باربردار ہواؤں کا رخ طبیعی طور پر متعین نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرح خود چاہے اسی طرح ہی موڑ دیتا ہے اس لئے جہاں چاہتا ہے وہیں بارش ہوتی ہے دوسرے علاقہ میں نہیں ہوتی۔ تیسری یہ کہ جب یہ بادل کسی ایسے ٹھنڈے فضائی علاقے میں پہنچتے ہیں جو آبی بخارات کو پھر سے پانی میں منتقل کرسکیں تو وہاں بھی بادلوں کا سارا پانی یک تحت پانی بن کر زمین پر نہیں گرپڑتا، بلکہ قطرہ قطرہ بن کر گرتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر برودت زیادہ ہو تو بھی وہ قطرے ہی اولے بن کر گرتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ زیادہ سردی کی وجہ سے یک تحت سارا پانی بن کر یک تحت کسی جگہ پر گرپڑے۔ اور اس میں اللہ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ بارش سے پہلے زمین کا یہ حال تھا کہ دھول اڑتی پھرتی تھی۔ درختوں کے پتوں پر گردوغبار پڑا تھا۔ بارش ہوتی ہے۔ تو درخت دھل جاتے ہیں۔ زمین لہلہانے لگتی ہے۔ گویا اسے نئی زندگی مل گئی۔ پھر کئی قسم کے جاندار بھی بارش میں پیدا ہو کر بولتے اور چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ ایک بہار آجاتی ہے جس سے دل مسرور ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی تمام مخلوق کی روزی کا سامان بھی میسر آنے لگتا ہے۔ اور انسان جو برسات سے پیشتر مایوسی کا شکار ہو رہا تھا۔ پھر سے خوش ہو کر پھولنے اور اترانے لگتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَللّٰهُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا ۔۔ : عبدالرحمان کیلانی (رض) لکھتے ہیں : ” اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی نشانیاں ذکر فرما دیں، مثلاً ہوا جو ایک کنکر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتی اور کنکر زمین پر آپڑتا ہے، مگر یہ ہوا آبی بخارات کو ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتی ہے۔ وہ آبی بخارات جن میں کروڑوں ٹن پانی موجود ہوتا ہے اور اس وزن کا اندازہ زمین کے اس رقبے سے لگایا جاسکتا ہے جس میں یہ بارش ہوئی اور جتنے انچ بارش ہوئی۔ دوسری یہ کہ ان باربردار ہواؤں کا رخ طبیعی طور پر متعین نہیں ہوتا (کہ لازماً فلاں جانب ہی چلیں گی) بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرف خود چاہے اسی طرف ہی موڑ دیتا ہے۔ اس لیے جہاں چاہتا ہے وہیں بارش ہوتی ہے، دوسرے علاقے میں نہیں ہوتی (اور جتنی چاہتا ہے ہوتی ہے، زیادہ نہیں ہوتی) ۔ تیسری یہ کہ جب یہ بادل کسی ایسے ٹھنڈے فضائی علاقے میں پہنچتے ہیں جو آبی بخارات کو پھر سے پانی میں منتقل کرسکیں تو وہاں بھی بادلوں کا سارا پانی یک لخت پانی بن کر زمین پر نہیں گرپڑتا بلکہ قطرہ قطرہ بن کر گرتا ہے، حتیٰ کہ اگر ٹھنڈک زیادہ ہو تو بھی وہ قطرے ہی اولے بن کر گرتے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ زیادہ سردی کی وجہ سے سارا پانی برف بن کر یک لخت گرپڑے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ بارش سے پہلے زمین کا یہ حال تھا کہ دھول اڑتی پھرتی تھی، درختوں کے پتوں پر گرد و غبار پڑا تھا۔ بارش ہوتی ہے تو درخت دھل جاتے ہیں اور زمین لہلہانے لگتی ہے، گویا اسے نئی زندگی مل گئی، پھر کئی قسم کے جان دار بھی بارش میں پیدا ہو کر بولنے اور چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ ایک بہار آجاتی ہے جس سے دل مسرور ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی تمام مخلوق کی روزی کا سامان بھی میسر آنے لگتا ہے اور انسان جو برسات سے بیشتر مایوسی کا شکار ہو رہا تھا پھر سے خوش ہو کر پھولنے اور اترانے لگتا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُہٗ فِي السَّمَاۗءِ كَيْفَ يَشَاۗءُ وَيَجْعَلُہٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ۝ ٠ ۚ فَاِذَآ اَصَابَ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖٓ اِذَا ہُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۝ ٤ ٨ۚ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ ثور ثَارَ الغبار والسحاب ونحوهما، يَثُور ثَوْراً وثَوَرَانا : انتشر ساطعا، وقد أَثَرْتُهُ ، قال تعالی: فَتُثِيرُ سَحاباً [ الروم/ 48] ، يقال : أَثَرْتُ الأرض، کقوله تعالی: وَأَثارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوها [ الروم/ 9] ، وثَارَتِ الحصبة ثَوْراً تشبيها بانتشار الغبار، وثَوَّرَ شرّا كذلك، وثَارَ ثَائِرُهُ كناية عن انتشار غضبه، وثَاوَرَهُ : واثبه، والثَّوْرُ : البقر الذي يثار به الأرض، فكأنه في الأصل مصدر جعل في موضع الفاعل «1» ، نحو : ضيف وطیف في معنی: ضائف وطائف، وقولهم : سقط ثور الشفق «2» أي : الثائر المنتثر، والثأر هو طلب الدم، وأصله الهمز، ولیس من هذا الباب . ( ث و ر ) ثار ( ن ) ثورا و ثورانا ۔ الغبار انہ السحات کے معنی غبار یا بادل کے اوپر اٹھنے اور پھیلنے کے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَتُثِيرُ سَحاباً [ الروم/ 48] تو وہ بادل کو اوپر اٹھاتی ہیں ۔ وَأَثارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوها [ الروم/ 9] انہوں نے زمین کو جوتا اور ا اس کو ۔۔ آباد کیا ۔ اور غبار کے منتشر ہونے کے ساتھ تشبیہ دیکر ثارت الحصبۃ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کنکر کے پھیل جانے کے ہیں اور اسی طرح ( یعنی مجازا ) ثور شرا ( شر کی آگ بھڑکانا ) کہا جاتا ہے ۔ ثارثائرہ ( کنایہ ) یعنی وہ غضب ناک ہوگیا ۔ ث اورہ اس پر حملہ کردیا ۔ الثور بیل کیونکہ اس سے زمین جوتی جاتی ہے ۔ یہ اصل میں مصدر بمعنی فاعل ہے جیسا کہ ضیف وطیف بمعنی ضائف وطائف استعمال ہوتا ہے محاورہ ہے ۔ سقط ثور الشفق ۔ یعنی شفق کی سرخی غروب ہوگئی ۔ الثار کے معنی خون کا بدلہ ، ، کے ہیں یہ اصل میں مہموز العین ہے اور اس مادہ سے نہیں ہے ۔ سحب أصل السَّحْبِ : الجرّ کسحب الذّيل، والإنسان علی الوجه، ومنه : السَّحَابُ ، إمّا لجرّ الرّيح له، أو لجرّه الماء، أو لانجراره في مرّه، قال تعالی: يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] ، وقال تعالی: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ [ غافر/ 71] ، وقیل : فلان يَتَسَحَّبُ علی فلان، کقولک : ينجرّ ، وذلک إذا تجرّأ عليه، والسَّحَابُ : الغیم فيها ماء أو لم يكن، ولهذا يقال : سحاب جهام «4» ، قال تعالی: أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] ، حَتَّى إِذا أَقَلَّتْ سَحاباً [ الأعراف/ 57] ، وقال : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] ، وقد يذكر لفظه ويراد به الظّلّ والظّلمة، علی طریق التّشبيه، قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحابٌ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] . ( س ح ب ) السحب اس کے اصل معنی کھینچنے کے ہیں ۔ چناچہ دامن زمین پر گھسیٹ کر چلنے یا کسی انسان کو منہ کے بل گھسیٹنے پر سحب کا لفظ بولا جاتا ہے اسی سے بادل کو سحاب کہا جاتا ہے یا تو اس لئے کہ ہوا اسے کھینچ کرلے چلتی ہے اور یا اس بنا پر کہ وہ چلنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھسٹتا ہوا چل رہا ہے قرآن میں ہے :۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] جس دن ان کو انکے منہ کے بل ( دوزخ کی ) آگ میں گھسیٹا جائیگا ۔ اور فرمایا : يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ [ غافر/ 71] انہیں دوزخ میں کھینچا جائے گا ۔ محاورہ ہے :۔ فلان یتسحب علی فلان : کہ فلاں اس پر جرات کرتا ہے ۔ جیسا کہ یتجرء علیہ کہا جاتا ہے ۔ السحاب ۔ ابر کو کہتے ہیں خواہ وہ پانی سے پر ہو یا خالی اس لئے خالی بادل کو سحاب جھام کہا جاتا ہے قرآن میں ہے :۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] کیا تو نے غور نہیں کیا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے ۔ حَتَّى إِذا أَقَلَّتْ سَحاباً [ الأعراف/ 57] حتی کہ جب وہ بھاری بادل کو اٹھا لاتی ہیں ۔ وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور وہ بھاری بادل اٹھاتا ہے ۔ اور کبھی لفظ سحاب بول کر بطور تشبیہ کے اس سے سایہ اور تاریکی مراد لی جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحابٌ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] یا ( ان کے اعمال کی مثال ) بڑے گہرے دریا کے اندورنی اندھیروں کی سی ہے کہ دریا کو لہر نے ڈھانپ رکھا ہے اور ( لہر بھی ایک نہیں بلکہ ) لہر کے اوپر لہر ان کے اوپر بادل ( کی تاریکی غرض اندھیرے ہیں ایک کے اوپر ایک ۔ بسط بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ، ( ب س ط ) بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے بسط لثوب ( اس نے کپڑا پھیلایا ) اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلائی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فراش بنایا ۔ اور بساط کے معنی وسیع زمین کے ہیں اور بسیط الارض کے معنی ہیں کھلی اور کشادہ زمین ۔ ایک گروہ کے نزدیک بسیط کا لفظ بطور استعارہ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جس میں ترکیب و تالیف اور نظم متصور نہ ہوسکے ۔ اور بسط کبھی بمقابلہ قبض آتا ہے ۔ جیسے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] خدا ہی روزی کو تنگ کرتا ہے اور ( وہی اسے ) کشادہ کرتا ہے ۔ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ كسف كُسُوفُ الشمس والقمر : استتارهما بعارض مخصوص، وبه شبّه كُسُوفُ الوجه والحال، فقیل : كَاسِفُ الوجه وكَاسِفُ الحال، والکِسْفَةُ : قطعة من السّحاب والقطن، ونحو ذلک من الأجسام المتخلخلة الحائلة، وجمعها كِسَفٌ ، قال : وَيَجْعَلُهُ كِسَفاً [ الروم/ 48] ، فَأَسْقِطْ عَلَيْنا كِسَفاً مِنَ السَّماءِ [ الشعراء/ 187] ، أَوْ تُسْقِطَ السَّماءَ كَما زَعَمْتَ عَلَيْنا كِسَفاً [ الإسراء/ 92] وکسفا «1» بالسّكون . فَكِسَفٌ جمع كِسْفَةٍ ، نحو : سدرة وسِدَرٍ. وَإِنْ يَرَوْا كِسْفاً مِنَ السَّماءِ [ الطور/ 44] . قال أبو زيد : كَسَفْتُ الثّوب أَكْسِفُهُ كِسْفاً :إذا قطعته قطعا «2» ، وقیل : كَسَفْتُ عرقوب الإبل، قال بعضهم : هو كَسَحْتُ لا غيرُ. ( ک س ف ) کسوف الشمش والقمر کے معنی ہیں سورج یا چاند کا کیس خاص عارض سے مستور یعنی گہن میں آجانا کے ہیں ۔ اور تشبیہ کے طور پر چہرہ یا حالت کے خراب ہونے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے کا سف الوجھہ یا کا سف الحال ۔ الکسفۃ کے معنی بادل روئی یا اس قسم کے دوسرے متخلخل اجسام کے ٹکڑے کے ہیں اس کی جمع کسف آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَيَجْعَلُهُ كِسَفاً [ الروم/ 48] اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے ۔ فَأَسْقِطْ عَلَيْنا كِسَفاً مِنَ السَّماءِ [ الشعراء/ 187] تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لاکر گراؤ أَوْ تُسْقِطَ السَّماءَ كَما زَعَمْتَ عَلَيْنا كِسَفاً [ الإسراء/ 92] یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے لاکر گراؤ ۔ ایک قرات میں کسفا بسکون سین ہے اور کسف کا واحد کسفۃ ہے جیسے سدرۃ وسدرۃ اور فرمایا : ۔ وَإِنْ يَرَوْا كِسْفاً مِنَ السَّماءِ [ الطور/ 44] اور اگر یہ آسمان سے عذاب کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں ابو ذید نے کہا ہے کسفت الثوب ( ج ) کسفا کے معنی کپڑے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے ہیں بعض نے کسفت عر قوب الابل بھی کہا ہے جس کے معنی اونٹ کی کونچ کاٹ دینے کے ہیں لیکن ) بعض ایک لغت کے نزدیک اس معنی میں صر ف کسحت ( ف ) ہی استعمال ہوتا ہے ۔ ودق الوَدَق قيل : ما يكون من خلال المطر كأنه غبار، وقد يعبّر به عن المطر . قال تعالی: فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلالِهِ [ النور/ 43] ويقال لما يبدو في الهواء عند شدّة الحرّ وَدِيقَة، وقیل : وَدَقَتِ الدّابّةُ واسْتَوْدَقَتْ ، وأتانٌ وَدِيقٌ ووَدُوقٌ: إذا أَظْهَرَتْ رطوبةً عند إرادة الفحل، والْمَوْدِقُ : المکان الذي يَحْصُلُ فيه الْوَدَقُ ، وقول الشاعر : تعفّي بذیل المرط إذ جئت مَوْدِقِي تعفّي أي : تزیل الأثر، والمرط : لباس النّساء فاستعارة، وتشبيه لأثر موطئ القدم بأثر موطئ المطر . ( و د ق ) الودق ۔ بعض نے کہا ہے کہ بارش میں جو غبار سا نظر آتا ہے اسے ودق کہا جاتا ہے اور کبھی اس سے مراد بارش بھی ہوتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلالِهِ [ النور/ 43] پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل کر ( برس ) رہا ہے ۔ اور گرمی کی شدت سے ہوا میں جو لہریں نظر آتی ہیں انہیں ودیقتہ کہتے ہیں ۔ اور ودقت الدبتہ واستودقت کے معنی ہیں مادہ چو پایہ کا نر کی خواہش کے وقت رطوبت نکالنا چناچہ اس مادہ ( چوپایہ ) کو نر کی خواہش میں رطوبت نکال رہی ہو ودیق یا ودوق کہتے ہیں ۔ اور جہا بارش ہوئی ہو اس جگہ کو مودق ( ظرف ) کہا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 444) تعفی بذیل المرط اذاجئت مودنی تعفی کے معنی نشان مٹانے کے ہیں اور ہرط پڑی چادر کو کہتے ہیں جو ستر کے لیئے عورتیں اوپر اوڑھتی ہیں یہاں شاعر نے قدم کے پڑنے کی جگہ کو موضع مطر کے ساتھ تشبیہ دی ہے ور شعر کے معنی یہ ہیں کہ جب میں اپنی محبوبہ کے پاس آتا ہوں تو وہ اپنی چادر سے میرے قدموں کے نشان مٹادیتی ہے ۔ خل الخَلَل : فرجة بين الشّيئين، وجمعه خِلَال، کخلل الدّار، والسّحاب، والرّماد وغیرها، قال تعالیٰ في صفة السّحاب : فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلالِهِ [ النور/ 43] ، فَجاسُوا خِلالَ الدِّيارِ [ الإسراء/ 5] ، ( خ ل ل ) الخلل ۔ دو چیزوں کے درمیان کشاد گی اور فاصلہ کو کہتے ہیں مچلا بادل اور گھروں کے درمیا کا فاصلہ یا راکھ وغیرہ کا اندرونی حصہ اس کی جمع خلال ہے ۔ چناچہ بادل کے متعلق فرمایا : فَجاسُوا خِلالَ الدِّيارِ [ الإسراء/ 5] تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے بارش برسنے لگتی ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ ایسا ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے اور پھر وہ ہوائیں بارش سے بھرے ہوئے بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو کبھی تو جس طرح چاہتا ہے آسمان کی سمت میں پھیلا دیتا ہے اور کبھی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر دونوں حالتوں میں تم بارش کو دیکھتے ہو کہ وہ اس بادل کے اندر سے نکلتی ہے۔ پھر جب وہ بارش سرزمین میں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے برسا دے تو اس بارش سے خوش ہونے لگتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ج) ” یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:48) تثیر۔ مضارع واحد مؤنث غائب اثارہ (افعال) سے۔ ثار یثور تورا (باب نصر) ثار الغبار وثار السحاب کے معنی غبار یا بادل کے اوپر اٹھنے اور پھیلنے کے ہیں۔ باب افعال سے فعل متعدی اوپر اٹھانا فتثیر سحابا۔ پس (وہ ہوائیں) بادل کو اوپر اٹھاتی ہیں۔ اور زمین جوتنے کے معنی میں بھی آتا ہے کیونکہ زمین جب جوتی جاتی ہے تو ابھرتی ہے اوپر اٹھتی ہے۔ اور بیل کو الثور بھی اسی لئے کہتے ہیں کہ اس سے زمین جوتی جاتی ہے یہ اصل میں مصدر بمعنی فاعل ہے جیسے ضیف بمعنی ضائف استعمال ہوتا ہے۔ یبسطہ۔ مضارع واحد مذکر غائب بسط مصدر (باب نصر) کشادہ کرتا ہے، فراخ کرتا ہے ۔ وسیع کرتا ہے۔ پھیلاتا ہے ۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب سحاب کے لئے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بادل کو (آسمان میں) پھیلاتا ہے۔ کسفا : کسفۃ کی جمع اکساف وکسوف۔ ٹکڑے ۔ (اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے) ۔ الودق بعض نے کہا ہے کہ بارش میں جو غبار سا نظر آتا ہے اسے ودق کہا جاتا ہے اور کبھی اس سے مراد بارش بھی ہوتی ہے فتری الودق یخرج من خللہ پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے اندر سے نکلتی ہے۔ یہی جملہ انہی معنوں میں (24:43) میں استعمال ہوا ہے خللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ خلال بمعنی درمیان۔ وسط۔ بیچ۔ جمع خلل۔ دو چیزوں کے درمیانی لشادگی۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب سحاب کے لئے ہے۔ یعنی بادل میں سے بادل کے اندر سے۔ اصاب بہ : اصاب یصیب اصابۃ (افعال) پہنچما۔ پالینا۔ بہ میں ب تعدیہ کی ہے۔ پہنچانا۔ ہ ضمیر کا مرجع الودق ہے اصاب بہ ماضی بمعنی حال ہے وہ اسے پہنچاتا ہے یعنی پھر جب وہ (اللہ تعالی) اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس بارش کو پہنچا دیتا ہے (اپنے بندوں کے علاوہ میں) الصواب (صوب مادہ) صحیح بات کو کہتے ہیں۔ اس کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے :۔ (1) کسی چیز کی ذات کے اعتبار سے ۔ یعنی جب وہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے قابل تعریف ہو اور عقل و شریعت کی رو سے پسندیدہ ہو مثلا الکریم صواب (کرم و بخشش صواب ہے) (2) قصد کرنے والے کے لحاظ سے۔ مثلا اصابہ بالسھم۔ اس نے اسے ٹھیک نشانہ پر تیر مارا اور مصیبۃ اس تیر کو کہتے ہیں جو کہ ٹھیک نشانہ پر جاکر بیٹھ جائے۔ اس کے بعد عرف عام میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا۔ صوب بارش کو بھی کہتے ہیں اس سے مبالغہ کا صیغہ صیب استعمال ہوتا ہے۔ مثلا او کصیب من السماء (2:18) یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہو۔ یا فیصیب بہ من یشاء ویصرفہ عن من یشاء (24:43) تو جس پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ جب اصاب کا لفظ خیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو یہ صوب بمعنی بارش سے مشتق ہوتا ہے اور جب برے معنی میں آتا ہے تو یہ معنی اصاب السھم (تیر نشانہ پر ٹھیک جالگا) کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ مگر ان دونوں معنی کی اصل ایک ہی ہے۔ اذا ہم یستبشرون : اذا مفاجاتیہ ہے۔ تو لو، یکدم ۔ یستبشرون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے استبشار مصدر باب استفعال خوش ہونا۔ تولو وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں ۔ وہ یکدم خوش ہوجاتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اور کہتے ہیں کہ اب غلہ اگے گا پھل پیدا ہوں گے جانور سیراب ہوں گے اور ارزانی بڑھے گی وغیرہ 3 اور ملول و مفہوم تھے لیکن بارش ہوتے ہی خوشیاں منانے لگے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت معلوم ہوتی ہے کہ لمحہ بھر میں دنیا کی حالت بدل جاتی ہے یا تو سب کے چہرے اترے ہوئے تھے اور یا اب ہر طرف رنگ رلیاں ہو رہی ہیں اور خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ بسط کا مطلب یہ ہے کہ مجتمع کر کے دور تک پھیلا دیتا ہے اور کیف کا مطلب یہ کہ کبھی تھوڑی دور تک کبھی بہت دور تک، اور کسفا کا مطلب یہ کہ مجتمع نہیں ہوتا، متفرق رہتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبوت کے بیان کے بعد توحید کے دلائل دئیے جاتے ہیں۔ جس ” اللہ “ نے اپنی پہچان کے لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) بھیجے۔ وہی ہوائیں چلاتا ہے جو ابر کرم کو اٹھاتی، فضا میں پھیلاتی اور برساتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بادلوں کو ٹکڑیوں کی صورت میں تقسیم کرتا ہے پھر اسی کے حکم سے بادلوں سے بارش برستی ہے۔ بارش برسنے سے پہلے لوگ مایوسی کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے بارش سے سیراب کرتا ہے جن پر بارش برستی ہے وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ بارش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ اس پر انسان سوچے تو اسے معلوم ہوجائے کہ لوگوں کو سیراب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کس طرح بارش کا انتظام کرتا ہے۔ جہاں بارش برستی ہے غور فرمائیں سمندر اس مقام سے کتنی دورہوتا ہے۔ سمندر کا پانی سورج کی تپش سے بخارات کی صورت میں اٹھتا ہے جسے ہوائیں اٹھا کر ایک خاص بلندی پر لے جا کر کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔ نہ سورج کی تپش سے پانی خشک ہوتا اور نہ ہی ہوا کی گرفت سے نکل کر نیچے گرتا ہے۔ بادلوں کی شکل میں لاکھوں، کروڑوں ٹن پانی ہوائیں ادھر ادھر لیے پھرتی ہیں کیا مجال کہ کوئی بادل جوں کا توں کہیں گرجائے بادل وہاں برستا ہے جہاں اسے اللہ تعالیٰ برسنے کا حکم دیتا ہے۔ اب بارش برسنے کے انداز اور رفتار پر غور فرمائیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں بادل یکدم اپنا پانی بہادے اگر ایسا ہوتا تو بستیوں کی بستیاں غرقاب ہوجاتیں اور زمین پر کوئی چیز باقی نہ رہتی کیا بخارات کا بنانا، ہواؤں کا اٹھانا اور فضا میں بادلوں کو ادھر ادھر لیے پھرنا پھر قطرہ قطرہ کرکے پانی برسنا اور اس سے ساری کے ساری فضا اور درختوں کے پتوں کو غسل دینا کیڑے مکوڑوں سے لے کر پرندوں تک پانی پہنچاناکسی حکومت کے بس کا کام ہوسکتا ہے ؟ (بارش کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہودیوں کا سوال اور آپ کا جواب اس سورة کی آیت ٢٤ کی تفسیر میں دیکھیں۔ ) (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَطَرٌ قَالَ فَحَسَرَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثَوْبَہُ حَتَّی أَصَابَہُ مِنَ الْمَطَرفَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ لِمَ صَنَعْتَ ہَذَا قَالَ لأَنَّہُ حَدِیثُ عَہْدٍ بِرَبِّہِ تَعَالَی ) [ رواہ مسلم : باب الدُّعَاءِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ ] ” حضرت انس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ بارش ہوئی تو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جسم سے کپڑا ہٹایا۔ بارش کا پانی آپ کے جسم مبارک کو لگا۔ ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا میں نے ایسے اس لیے کیا کیونکہ بارش اپنے رب سے نئی نئی ملاقات کرکے آئی ہے۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ (رض) قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا اسْتَسْقَی قَال اللَّہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہَاءِمَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ )[ رواہ ابو داؤدد : باب رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ ] ” حضرت عمرو بن شعیب (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بارش کے لیے دعا کرتے تو فرماتے : اللّٰہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہِیمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ ” اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو بارش کے ذریعے پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے مردہ زمین کو زندہ کردے “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی ہواؤں کے ذریعے بادل اٹھاتا اور پھر اپنے حکم سے لوگوں کو پانی پلاتا ہے۔ ٢۔ لوگ بارش برسنے سے خوش ہوجاتے ہیں۔ ٣۔ بارش برسنے سے پہلے انسان کے چہرے پر ناامیدی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں بارش کا ذکر : (النمل : ٦٠) (الاعراف : ٥٧) (البقرۃ : ١٦٤) (لقمان : ٣٤) (ہود : ٥٢) (النحل : ٢٢) (نوح : ١٠۔ ١٢) (النور : ٤٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37:۔ یہ توحید پر بارہویں عقلی دلیل ہے۔ اور دلیل مذکور کے ایک جزو کی تفصیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو ہانک کر اللہ کے حکم سے آسمانی فضا میں پھیلا دیتی ہیں اور بادلوں کے ٹکڑوں کو دنیا کے مختلف خطوں پر لیجاتی ہیں اور سب دیکھتے ہیں کہ اللہ کی قدرت سے ان بادلوں کے بیچ میں سے بارش برس رہی ہے۔ جہاں بارش ہوجاتی ہے وہاں کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے وان کانو الخ، ان مخففہ من المثقلۃ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان مقدر ہے۔ حالانکہ بارش برسنے سے پہلے وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہوگی، فصلیں تباہ ہوجائیں گی اور مویشی پیاش سے مرجائیں گے۔ من قبلہ کا اعادہ تاکید کے لیے ہے (روح) لیکن حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں قبلہ کی ضمیر وقت سے کنایہ ہے ای من قبل ھذا الوقت یعنی ان دنوں میں بارش ہونے سے پہلے وہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اس صورت میں تکرار و اعادہ نہیں ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

48۔ اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے پھر وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھا لاتی اور ابھار لاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ جس چاہتا ہے اس بادل کو آسمان میں پھیلادیتا ہے اور کبھی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے سو اے مخاطب تو بارش کو دیکھتا ہے کہ ان بادلوں کے درمیان سے نکلتی ہے پھر جب وہ اس بارش کو اپنے بندوں میں سے جن بندوں کو چاہے پہنچا دیتا ہے تو بس وہ شادماں ہوجاتے ہیں۔ بادلوں کے اٹھنے اور گھٹائوں کے آنے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں یہاں صرف دو صورتیں بیان فرمائیں کچھ سورة نور میں گزرچکی کبھی تو ہوا کے دوش پر ایک لمبی گھٹا کر اٹھا لاتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں اس کو برسا دیتے ہیں کبھی بجائے طویل گھٹا کے ٹکڑے ایک جگہ جمع کردیتے ہیں اور ان سے بارش ہوجاتی ہے ، پھر اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں بارش سے نواز دیتے ہیں جن لوگوں پر بارش ہوتی ہے وہ شادماں ہوتے اور خوشیاں مناتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھیلاتا ہے جس طرح چاہے یعنی پہلے کسی طرف پہنچے کسی طرف اسی طرح دین بھی پھیلا ۔ 12 جس طرح بارش سے بڑے بڑے فوائد وابستہ ہیں اسی طرح دین بھی روحانی بارش ہے جس سے انسانی زندگی سنورتی ہے اور عاقبت درست ہوتی ہے۔