The Revival of the Earth is a Sign of the Resurrection
Here Allah explains how He creates the clouds that rain the water.
اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا
...
Allah is He Who sends the winds, so that they raise clouds,
either from the sea, as was mentioned by more than one (of the scholars), or from whatever Allah wills.
...
فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاء كَيْفَ يَشَاء
...
and spread them along the sky as He wills,
means, He spreads them and causes them to increase and grow. From a little He makes a lot, and creates the clouds that look like shields. Then He spreads them out until they fill the horizon. Sometimes the clouds come from the sea, heavy and full, as Allah says:
وَهُوَ الَّذِى يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرىً بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِ حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالاً سُقْنَـهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ
And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy. Till when they have carried a heavy-laden cloud, We drive it to a land that is dead until:
كَذَلِكَ نُخْرِجُ الْموْتَى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
Similarly, We shall raise up the dead, so that you may remember or take heed. (7:57)
Allah says here:
اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاء كَيْفَ يَشَاء
وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا
...
Allah is He Who sends the winds, so that they raise clouds and spread them along the sky as He wills, and then break them into fragments,
Mujahid, Abu Amr bin Al-Ala', Matar Al-Warraq and Qatadah said,
"This means pieces."
Others said that it means `piled up,' as Ad-Dahhak said.
Others said that it means black, because they contained so much water, and sometimes they are heavy and close to the earth.
His saying:
...
فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَلِهِ
...
until you see rain drops come forth from their midst!
means, `so you see the drops, i.e., the rain, which come from the midst of those clouds.'
...
فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
Then when He has made them fall on whom of His servants as He wills, lo, they rejoice!
They rejoice at the rain when it comes to them because of their need for it.
وَإِن كَانُوا مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو ۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلادیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے ۔ اور کبھی یہ بھی دیکھاہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں ۔ اسی مضمون کو آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57 ) 7- الاعراف:57 ) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے ۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں ۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں ۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں ۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے ۔ دودفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے ۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو ۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے ۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے ۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے ۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے ۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے ۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چنانچہ سورۃ واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے ۔ آیت ( اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63ۭ ) 56- الواقعة:63 ) سے ( بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67 ) 56- الواقعة:67 ) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی ۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں ۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی ۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی ۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی ۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے ۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا ۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے ۔