Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 5

سورة الروم

بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۵﴾

In the victory of Allah . He gives victory to whom He wills, and He is the Exalted in Might, the Merciful.

اللہ کی مدد سے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اصل غالب اور مہربان وہی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَعْدَ اللَّهِ لاَ يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

51عہد رسالت میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک فارس (ایران) کی، دوسری روم کی۔ اول الذکر حکومت آتش پرست اور دوسری عیسائی یعنی اہل کتاب تھی۔ مشرکین مکہ کی ہمدردیاں فارس کے ساتھ تھیں کیونکہ دونوں غیر اللہ کے پجاری تھے۔ جب کہ مسلمان کی ہمدردیاں روم کی عیسائی حکومت کے ساتھ تھیں، اس لئے عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح اہل کتاب تھے اور وحی و رسالت پر یقین رکھتے تھے، ان کی آپس میں ٹھنی رہتی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے چند سال بعد ایسا ہوا کہ فارس کی حکومت عیسائی حکومت پر غالب آگئی، جس پر مشرکوں کو خوشی اور مسلمانوں کو غم ہوا، اس موقعہ پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں پیش گوئی کی گئی کہ رومی پھر غالب آجائیں گے اور غالب، مغلوب اور مغلوب غالب ہوجائیں گے۔ بظاہر اسباب یہ پیش گوئی ناممکن العمل نظر آتی تھی۔ تاہم مسلمانوں کو اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے یقین تھا کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔ اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق نے ابو جہل سے یہ شرط باندھی کہ رومی پانچ سال کے اندر دوبارہ غالب آجائیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم میں یہ بات آئی تو فرمایا بِضْع کا لفظ تین سے دس تک کے عدد کے لئے استعمال ہوتا ہے تم نے5سال کی مدت کم رکھی ہے، اس میں اضافہ کرلو، چناچہ آپ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق نے اس مدت میں اضافہ کروا لیا۔ اور پھر ایسا ہوا کہ رومی9سال کی مدت کے اندر اندر یعنی ساتویں سال دوبارہ فارس پر غالب آگئے، جس سے یقینا مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ رومیوں کو یہ فتح اس وقت ہوئی، جب بدر میں مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوا اور مسلمان اپنی فتح پر خوش ہوئے۔ رومیوں کی یہ فتح قرآن کریم کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ نزدیک کی زمین سے مراد، عرب کی زمین کے قریب کے علاقے، یعنی شام و فلسطین وغیرہ، جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بِنَصْرِ اللہِ۝ ٠ ۭ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ۝ ٥ ۙ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (بِنَصْرِ اللّٰہِط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) ” ( یہاں اگرچہ ذکر نہیں کیا گیا لیکن اس سے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی فتح مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد سے انہیں عنقریب حاصل ہونے والی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 Ibn 'Abbas, Abu Said Khudri, Sufyan Thauri;, Suddi and others have stated that the Romans' victory against the Iranians and the Muslims' victory at Badr against the polytheists took place almost at the same time. The Muslims, therefore, were doubly pleased. The same is supported by the histories of Byzantium and Iran. 624 A.D. is the year in which the Battle of Badr was fought and the same is the year in which the Byzantine Emperor destroyed the birth-place of Zoroaster and ravaged the principal fire-temple of Iran.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ حضرت ابن عباس (رض) ، ابو سعید خدری (رض) ، سفیان ثوری (رض) اور بہت سے دیگر اہل علم حضرات کا بیان ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر یہ غلبہ اسی روز حاصل ہوا جس روز مسلمان بدر میں مشرین مکہ پر فتح یاب ہوئے۔ اسی لئے مسلمانوں کو دوہری خوشی ہوئی اور مشرکوں کو دوہرا غم ہوا۔ (ابن کثیر) بعض تابعین (رح) کا خیال ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر صلح حدیبیہ کے سال فتح ہوئی۔ ان کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ قیصر روم نے منت مانی تھی کہ جب وہ فتح یاب ہوگا تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) کا حج کرے گا۔ چناچہ جب وہ ایلیا آیا تو ابھی واپس نہ ہوا تھا کہ اسے حضرت وحیہ (رض) بن خلیفہ کے ذریعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ خط ملا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے نام صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا۔ اس کے بعد اس نے حضرت ابو سفیان کو بلایا (جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور شام میں بغرض تجارت آئے ہوئے تھے) اور ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں مختلف سوالات کئے جیسا کہ صحیح بخاری میں بالتفصیل مذکور ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح بھی اسی سال ہوئی۔ لیکن اس کا جواب دیا جاسکتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رومیوں کو پہلی فتح تو بدر کے سال ہوئی ہو مگر دشمن کی فوجوں کا مکمل انخلا اور منت کے پورا کرنے کی نوبت چار سال بعد صلح حدیبیہ ہی کے سال آئی ہو۔ واللہ اعلم۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5۔ غلبہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہوتا ہے وہ جس کی چاہتا ہے مد د کرتا ہے اور وہی ہے بڑا زبردست نہایت رحم والا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ دو بڑی حکومتیں تھیں ایک فارم اور ایک روم یہاں کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا اور روم کے بادشاہ کا قیصر۔ قیصر کی حکومت اہل کتاب کے قبضے میں تھی اور کسریٰ یعنی فارس کی حکومت زردشتی حکومت کہلاتی تھی جو پہلے تو شاید کسی پیغمبر کو مانتی تھی پھر بگڑ کر آتش پرست ہوگئی تھی اور مجوس کی حکومت کہلاتی تھی ان دونوں حکومتوں میں باہمی جنگ بھی ہوجایا کرتی تھی اور پرانے زمانے سے دونوں حکومتوں میں عداوت چلی آتی تھی اور اس عداوت کا مظاہر ہ بھی ہوتا رہتا تھا۔ جب ملک عرب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی اور اسلام کا ظہور ہوا تو شاید آپ کی بعثت کو پانچواں یا نواں سال تھا علی اختلاف الروایات تو ان دونوں حکومتوں میں پھر باہمی چپقلش ہوگئی اب چوں کہ عرب میں لوگ اسلام قبو ل کرچکے تھے اور قدرتی طور پر مسلمانوں کی ہمدردی اہل کتاب کے ساتھ اور کفارعرب کی ہمدردی آتش پرستوں کے ساتھ قائم ہوگئی۔ جب یہ چپقلش ہوئی تو شاہ فارس نے شہر یارکو اور فرخان کو جو پرویزے بڑے معتمد تھے ان دونوں کو ایک جرار لشکر دیکر بھیجا اور رومیوں پر حملہ کردیا یہ حملہ شرق اردن پر یا فلسطین پر ہوا یا اذرعات اور بصری کے مابین ہوا۔ بہر حال ! ان علاقوں پر کیا جو قیصر کے قبضے میں تھے رومی شاید تیار نہ تھے ادھر شہر یار اور فرخان کا حملہ بہت سخت تھا رومی بھاگ نکلے اور روم کا بہت سا علاقہ اہل فارس کے قبضے میں آگیا ۔ یہ خبر جب مکہ میں پہنچی تو منکرین مکہ نے اس خبر پر مسلمانوں کو طعنہ دینا شروع کیا کہ جس طرح رومیوں کو پرویز کی فوجوں نے شکست دی ہے اسی طرح ہم تم پر ایک دن غلبہ حاصل کریں گے اور مسلمان اس خبر سے فطرتا ًغمگین ہوئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور پیشین گوئی کی گئی کہ اس وقت رومی مغلوب ہوگئے لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد پھر اہل روم فارس پر غلبہ حاصل کریں گے ، حالانکہ جس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ رومی پنپ جائیں گے اور پرویز کو ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑے گا اور جس طرح آج مشرک بغلیں بجا رہے ہیں اسی طرح اس دن مسلمان خوش ہو رہے ہوں گے۔ ادنی الارض سے مراد علاقہ ہائے جنگ کا ملک عرب سے قریب ہونا ہے۔ للہ الامر کا مطلب یہ ہے کہ رومیوں کے مغلوب ہونے کے وقت بھی اختیار اللہ ہی کے پاس تھا اور مغلوب ہونے کے بعد بھی اختیار اللہ ہی کے ہاتھ ہے ۔ یعنی ہر حال میں اختیار اللہ ہی کو ہے خواہ کسریٰ کے غلبہ سے پہلے یا غلبہ کے وقت یا غلبہ کے بعد۔ فی بضع سنین کا مطلب یہ ہے کہ تین سال سے لیکر نو سال کے اندر اندر یہ غلبہ حاصل ہوجائے گا ۔ اس پر صدیق اکبر (رض) نے مشرکین سے کہا کہ پرویز کا یہ غلبہ عارضی ہے تین سال کے اندر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ ابی بن خلف حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی اس بات پر بہت بگڑا اور کہنے لگا غالب ہونے والا مغلوب ہرگز نہیں ہوگا اس پر شرط کرنے کو تیارہوں ۔ حضرت صدیق (رض) بھی تیار ہوگئے اور دس دس اونٹوں پر شرط ہوگئی اگر تین سال میں رومی غالب نہ آئے تو صدیق دس اونٹ ابی بن خلف کردیں گے اور اگر غالب آگئے تو ابی بن خلف دس اونٹ حضرت صدیق (رض) کو دے گا ۔ جب حضرت صدیق (رض) نے یہ واقع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ صدیق تم نے تین سال کی شرط کیوں لگائی۔ بضع کا لفظ تو تین سے لیکر نو تک استعمال ہوتا ہے تم شرط کی مدت بدلو اور اونٹوں کی تعداد بڑھادو چناچہ حضرت صدیق (رض) ابی بن خلف کے پاس تشریف لائے اور شرط کی مدت بڑھا دی اور بجائے دس اونٹوں کے سو اونٹوں کی شرط مقرر کی گئی اس وقت شاید ایسی شرط جائز ہوگی۔ اس شرط کے بعد حسن اتفاق سے جس سال بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ان ہی دنوں میں رومیوں کو کسریٰ پر غلبہ حاصل ہوا اور رومیوں نے پوری تیاری سے حملہ کیا ۔ حضرت صدیق (رض) کو سو اونٹ ابی بن خلف نے شرط کے دیئے جو آپ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمانے سے خیرات کردیئے اور سو کے سو اونٹ غرباء پر تقسیم کردیئے ، شاید اسی پر فرمایا ۔ ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ ۔ بعض حضرات نے جنگ بدر کی خوشی سے تفسیر کی اور بعض دونوں خوشیاں بتاتے ہیں ۔ بہر حال ! اللہ تعالیٰ کی مدد ہر صورت میں شامل حال تھی ان کی مدد کے بغیر نہ رومیوں کو فتح حاصل ہوسکتی تھی نہ مسلمانوں کو بدر میں فتح نصیب ہوسکتی تھی ، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے اور وہ بڑا زبردست اور بڑی مہربان کرنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں روم اور فارس کے بادشاہ ملک کی سرحد پر لڑتے تھے عرب سے لگتی زمین پر یعنی عراق پر کافر مکہ میں چاہتے کہ فارس جیتے اور مسلمان چاہتے کہ روم اہل کتاب کے واسطے خبریں جھوٹی اڑاتی تھیں حق تعالیٰ نے نازل فرمایا کہ اب تو روم دب گئے پر کئی برس میں دے غالب ہوں گے دس برس سے کم میں اسی طرح واقع ہوا ۔ 12 پھر فرماتے ہیں کئی برس پیچھے پھر دونوں میں مقابلہ ہوا تو روم والے غالب ہوئے اور یہ خبرعرب میں پہنچی جس دن مسلمانوں کی جنگ بدر فتح ہوئی اور اس کی خوشی تھی ۔ 12