Parables in the Qur'an and how the Disbelievers do not learn from them
Allah says:
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ
...
And indeed We have set forth for mankind, in this Qur'an every kind of parable.
means, `We have explained the truth to them and have made it clear to them, and have set forth for them parables so that they may understand the truth and follow it.'
...
وَلَيِن جِيْتَهُم بِأيَةٍ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ مُبْطِلُونَ
But if you bring to them any sign or proof, the disbelievers are sure to say (to the believers): "You follow nothing but falsehood and magic."
If they were to see any kind of sign, whether it was at their own direction or otherwise, they would not believe in it and they would think that it was magic and falsehood, as they said when the moon was cleft asunder, etc., as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ
وَلَوْ جَأءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment. (10:96-97)
Allah says here:
كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق
حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں ۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے ۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے ۔ خود قرآن کریم کی آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96ۙ ) 10- یونس:96 ) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں ۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا ۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا ۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی ۔ ( وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65 ) 39- الزمر:65 ) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت ( فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60ۧ ) 30- الروم:60 ) تلاوت فرمائی ۔ ( ابن جریر ابن ابی حاتم ) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے ) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی ۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے ۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ( مسند احمد ) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا ۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے ۔