Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 58

سورة الروم

وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ لَئِنۡ جِئۡتَہُمۡ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾

And We have certainly presented to the people in this Qur'an from every [kind of] example. But, [O Muhammad], if you should bring them a sign, the disbelievers will surely say, "You [believers] are but falsifiers."

بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لائیں یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم ( بیہودہ گو ) بالکل جھوٹے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Parables in the Qur'an and how the Disbelievers do not learn from them Allah says: وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ... And indeed We have set forth for mankind, in this Qur'an every kind of parable. means, `We have explained the truth to them and have made it clear to them, and have set forth for them parables so that they may understand the truth and follow it.' ... وَلَيِن جِيْتَهُم بِأيَةٍ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ مُبْطِلُونَ But if you bring to them any sign or proof, the disbelievers are sure to say (to the believers): "You follow nothing but falsehood and magic." If they were to see any kind of sign, whether it was at their own direction or otherwise, they would not believe in it and they would think that it was magic and falsehood, as they said when the moon was cleft asunder, etc., as Allah says: إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ وَلَوْ جَأءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment. (10:96-97) Allah says here: كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں ۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے ۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے ۔ خود قرآن کریم کی آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96۝ۙ ) 10- یونس:96 ) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں ۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا ۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا ۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی ۔ ( وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀ ) 39- الزمر:65 ) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت ( فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60؀ۧ ) 30- الروم:60 ) تلاوت فرمائی ۔ ( ابن جریر ابن ابی حاتم ) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے ) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی ۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے ۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ( مسند احمد ) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا ۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

581جن سے اللہ کی توحید کا اثبات اور رسولوں کی صداقت واضح ہوتی ہے اور اسی طرح شرک کی تردید اور اس کا باطل ہونا نمایاں ہوتا ہے۔ 582وہ قرآن کریم کی پیش کردہ کوئی دلیل ہو یا ان کی خواہش کے مطابق کوئی معجزہ وغیرہ 583یعنی جادو وغیرہ کے پیروکار، مطلب یہ ہے کہ بڑی سے بڑی نشانی اور واضح سے واضح دلیل بھی اگر وہ دیکھ لیں، تب بھی ایمان بہرحال نہیں لائیں گے، کیوں ؟ اس کی وجہ آگے بیان کردی گئی ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کا کفر و طغیان اس آخری حد کو پہنچ گیا ہے جس کے بعد حق کی طرف واپسی کے تمام راستے ان کے لیے مسدود ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] یعنی موت کے بعد دوسری زندگی میں پیش آنے والے ہر طرح کے حالات سے قرآن کے ذریعہ لوگوں کو خبردار کردیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی بدبخت اپنے انجام سے بیخبر رہنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی ہے۔ اللہ نے تو ہر طرح سے لوگوں پر حجت تمام کردی ہے اور ان بدبختوں کی تو یہ حالت ہوچکی ہے کہ اگر آپ انھیں کوئی حسی معجزہ بھی دکھا دیں تو یہ کہنے لگیں گے کہ یہ بھی کوئی شعبدہ اور فریب کاری ہی معلوم ہوتی ہے جسے پیغمبر اور اس کے پیروکاروں نے ملی بھگت سے لوگوں کے سامنے پیش کردیا ہے اور وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کی تائید و توثیق کرکے دوسروں کو الو بنا رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ : سورت کے آخر میں فرمایا کہ ہم نے اپنے وجود، اپنی وحدانیت، اپنی قدرت، کائنات کی تخلیق اور اسے دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں اور رسول نے اپنا فریضہ ادا کردیا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص مزید کسی معجزے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ ضد اور عناد کی وجہ سے ایسا کرتا ہے، کیونکہ جب کوئی شخص ایک واضح دلیل کو جھٹلا دے تو اس کے لیے دوسری دلیلوں کو جھٹلانا کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ وَلَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ۔۔ : اس لیے فرمایا کہ اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ لے آئیں یہ یہی کہیں گے کہ تم تو محض جھوٹے ہو۔ اس آیت کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة انعام (١١١) اور یونس (٩٦، ٩٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ۝ ٠ ۭ وَلَىِٕنْ جِئْتَہُمْ بِاٰيَۃٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ۝ ٥٨ ضرب الضَّرْبُ : إيقاعُ شيءٍ علی شيء، ولتصوّر اختلاف الضّرب خولف بين تفاسیرها، كَضَرْبِ الشیءِ بالید، والعصا، والسّيف ونحوها، قال : فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْناقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنانٍ [ الأنفال/ 12] ، فَضَرْبَ الرِّقابِ [ محمد/ 4] ، فَقُلْنا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِها[ البقرة/ 73] ، أَنِ اضْرِبْ بِعَصاكَ الْحَجَرَ [ الأعراف/ 160] ، فَراغَ عَلَيْهِمْ ضَرْباً بِالْيَمِينِ [ الصافات/ 93] ، يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ [ محمد/ 27] ، وضَرْبُ الأرضِ بالمطر، وضَرْبُ الدّراهمِ ، اعتبارا بِضَرْبِ المطرقةِ ، وقیل له : الطّبع، اعتبارا بتأثير السّمة فيه، وبذلک شبّه السّجيّة، وقیل لها : الضَّرِيبَةُ والطَّبِيعَةُ. والضَّرْبُ في الأَرْضِ : الذّهاب فيها وضَرْبُهَا بالأرجلِ. قال تعالی: وَإِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 101] ، وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ إِذا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ [ آل عمران/ 156] ، وقال : لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 273] ، ومنه : فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ [ طه/ 77] ، وضَرَبَ الفحلُ الناقةَ تشبيها بالضَّرْبِ بالمطرقة، کقولک : طَرَقَهَا، تشبيها بالطّرق بالمطرقة، وضَرَبَ الخیمةَ بضرب أوتادها بالمطرقة، وتشبيها بالخیمة قال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ [ آل عمران/ 112] ، أي : التحفتهم الذّلّة التحاف الخیمة بمن ضُرِبَتْ عليه، وعلی هذا : وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ [ آل عمران/ 112] ، ومنه استعیر : فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ، وقوله : فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] ، وضَرْبُ العودِ ، والناي، والبوق يكون بالأنفاس، وضَرْبُ اللَّبِنِ بعضِهِ علی بعض بالخلط، وضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا [ الزخرف/ 57] ، ما ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا[ الزخرف/ 58] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَياةِ الدُّنْيا [ الكهف/ 45] ، أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحاً [ الزخرف/ 5] . والمُضَارَبَةُ : ضَرْبٌ من الشَّرِكَةِ. والمُضَرَّبَةُ : ما أُكْثِرَ ضربُهُ بالخیاطة . والتَّضْرِيبُ : التّحریضُ ، كأنه حثّ علی الضَّرْبِ الذي هو بعد في الأرض، والاضْطِرَابُ : كثرةُ الذّهاب في الجهات من الضّرب في الأرض، واسْتِضَرابُ الناقةِ : استدعاء ضرب الفحل إيّاها . ( ض ر ب ) الضرب کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنا یعنی مارنا کے ہیں اور مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے (1) ہاتھ لاٹھی تلوار وغیرہ سے مارنا ۔ قرآن میں ہے : فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْناقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنانٍ [ الأنفال/ 12] ان کے سر مارکراڑا دو اور ان کا پور پور مارکر توڑدو ۔ فَضَرْبَ الرِّقابِ [ محمد/ 4] تو انکی گردنین اڑا دو ۔ فَقُلْنا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِها[ البقرة/ 73] تو ہم نے کہا کہ اس بیل کا سا ٹکڑا مقتول کو مارو أَنِ اضْرِبْ بِعَصاكَ الْحَجَرَ [ الأعراف/ 160] اپنی لاٹھی پتھر پر مارو ۔ فَراغَ عَلَيْهِمْ ضَرْباً بِالْيَمِينِ [ الصافات/ 93] پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا اور توڑنا شروع کیا ۔ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ [ محمد/ 27] ان کے مونہوں ۔۔۔۔ پر مارتے ہیں ۔ اور ضرب الارض بالمطر کے معنی بارش پر سنے کے ہیں ۔ اور ضرب الدراھم ( دراہم کو ڈھالنا ) کا محاورہ الضرب بالمطرقۃ کی مناسبت سے استعمال ہوتا ہے ۔ اور نکسال کے سکہ میں اثر کرنے کے مناسبت سے طبع الدرھم کہاجاتا ہے اور تشبیہ کے طور پر انسان کی عادت کو ضریبۃ اور طبیعۃ بھی کہہ دیتے ہیں ۔ ضرب فی الارض کے معنی سفر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ انسان پیدل چلتے وقت زمین پر پاؤں رکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 101] اور جب سفر کو جاؤ ۔ وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ إِذا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ [ آل عمران/ 156] اور ان کے مسلمان بھائی جب خدا کی راہ میں سفر کریں ۔۔۔۔ تو ان کی نسبت کہتے ہیں ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 273] اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اور یہی معنی آیت : فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ [ طه/ 77] کے ہیں یعنی انہیں سمندر میں ( خشک راستے سے لے جاؤ ۔ ضرب الفحل ناقۃ ( نرکا مادہ سے جفتی کرنا ) یہ محاورہ ضرب بالمطرقۃ ( ہتھوڑے سے کوٹنا) کی مناسبت سے طرق الفحل الناقۃ کا محاورہ بولا جاتا ہے ۔ ضرب الخیمۃ خیمہ لگانا کیونکہ خیمہ لگانے کیلئے میخوں کو زمین میں ہتھوڑے سے ٹھونکاجاتا ہے اور خیمہ کی مناسبت سے آیت : ۔ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ [ آل عمران/ 112] اور آخر کار ذلت ۔۔۔۔۔۔ ان سے چمٹا دی گئی۔ میں ذلۃ کے متعلق ضرب کا لفظاستعمال ہوا ہے جس کے معنی کہ ذلت نے انہیں اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسا کہ کیس شخص پر خیمہ لگا ہوا ہوتا ہے اور یہی معنی آیت : ۔ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ [ آل عمران/ 112] اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے ۔ کے ہیں اور آیت : ۔ فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] تو ہم نے غارکئی سال تک ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالے ( یعنی ان کو سلائے ) رکھا ۔ نیز آیت کر یمہ : ۔ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کردی جائیگی ۔ میں ضرب کا لفظ ضرب الخیمۃ کے محاورہ سے مستعار ہے ۔ ضرب العود والنای والبوق عود اور نے بجان یا نر سنگھے میں پھونکنا ۔ ضرب اللبن : اینٹیں چننا، ایک اینٹ کو دوسری پر لگانا ضرب المثل کا محاورہ ضرب الدراھم ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں : کسی بات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے ۔۔۔۔۔۔۔ قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرح مثال بیان کردی ہے ۔ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا[ الزخرف/ 57] اور جب مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ( عیسٰی کا حال بیان کیا گیا ۔ ما ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا[ الزخرف/ 58] انہوں نے عیسٰی کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الكهف/ 45] اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو ۔ أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحاً [ الزخرف/ 5] بھلا ( اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوے لوگ ہو ) ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے ۔ المضاربۃ ایک قسم کی تجارتی شرکت ( جس میں ایک شخص کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت ہوتی ہے اور نفع میں دونوں شریک ہوتے ہیں ) المضربۃ ( دلائی رضائی ) جس پر بہت سی سلائی کی گئی ہو ۔ التضریب اکسانا گویا اسے زمین میں سفر کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ الا ضطراب کثرت سے آنا جانا حرکت کرنا یہ معنی ضرب الارض سے ماخوذ ہیں ۔ استضرب الناقۃ سانڈھے نے ناقہ پر جفتی کھانے کی خواہش کی ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے اس قرآن حکیم میں لوگوں کی ہدایت کے لیے ہر طرح کے عمدہ مضامین بیان کیے ہیں۔ اور اگر آپ ان کی فرمائش کے مطابق ان کے پاس اور کوئی آسمان سے نشانی لے آئیں تب بھی یہ کفار مکہ یوں ہی کہیں گے کہ اے جماعت مسلمین ! تم سب جھوٹے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٨ (وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط) ” ع ” اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں ! “ کے مصداق قرآن میں اللہ کا پیغام ہر پہلو سے لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے اور ہر انداز سے حقیقت ان پر واضح کردی گئی ہے۔ (وَلَءِنْ جِءْتَہُمْ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ ۔ ) ” اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو یہ اسے بھی جادو قرار دے کر الٹا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ کا بہتان لگادیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 جن سے انہیں ایک طرف اللہ کی توحید اور رسولوں کی صداقت کا علم ہوسکتا ہے اور دوسری طرف کفر و شرک نفا اور بدعت کے باطل ہونے کا پتہ چل سکتا ہے۔ 10 یعنی ڈھونگ بنا کر اور شعبدے دکھا کر لوگوں کو اپنے دین میں پھانسنے کی کوشش کرتے ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کی معذرتیں اس لیے قبول نہیں ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین اور اپنی توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں ہر طرح کی مثالیں دے کر انہیں سمجھایا ہے۔ اس فرمان کے دو مطالب ہیں ایک طرف قبل از وقت مجرموں کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم نے کفر و شرک پر تکرار جاری رکھا تو یاد رکھو وہ دن دور نہیں جب تم اپنے کیے پر معذرتیں کروگے لیکن تمہاری معذرتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جائے گا لہٰذا سنبھلنا چاہتے ہو تو آج موقعہ ہے سنبھل جاؤ ورنہ پچھتاوے کے سو اکچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلّی دی گئی ہے کہ اگر آپ ان کے سامنے مزید دلائل اور معجزے پیش کریں تو پھر بھی یہ لوگ آپ پر جھوٹ کا الزام لگائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ حقیقت کا علم نہیں جاننا چاہتے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہرثبت کردیتا ہے جس وجہ سے ان کا ہدایت قبول کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے وہ انہیں ان کے کیے کی ضرور سزا دے گا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کو ہلکا کردیں اس لیے آپ کو صبر کرنا چاہیے۔ ” وَلَا یَسْتَخِفَّنَّکَ “ کا دوسرا معنٰی یہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کی ذات اور کام کو ہلکا بنانا چاہتے ہیں جس میں یہ ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے۔ یعنی دشمن تم کو ایسا کمزور نہ پائیں کہ ان کے شور و غوغا سے تم دب جاؤ یا ان کی بہتان و افتراء کی مہم سے مرعوب ہوجاؤیا ان کی پھبتیوں اور طعنوں اور تضحیک و استہزاء سے تم پست ہمّت ہوجاؤ یا ان کی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں اور ظلم وستم سے تم ڈرجاؤ یا ان کے دیے ہوئے لالچوں سے تم پھسل جاؤ یا قومی مفاد کے نام پر جو اپیلیں وہ تم سے کررہے ہیں ان کی بنا پر تم ان کے ساتھ مصالحت کرلینے پر اتر آؤ۔ اس کی بجائے وہ تم کو اپنے مقصد کے شعور میں اتنا ہوشمند اور اپنے یقین و ایمان میں اتنا پختہ اور اس عزم میں اتنا راسخ اور اپنے کیرکٹر میں اتنا مضبوط پائیں کہ نہ کسی خوف سے تمہیں ڈرایا جاسکے، نہ کسی قیمت پر تمہیں خریدا جاسکے، نہ کسی فریب سے تم کو پھسلایا جاسکے، نہ کوئی خطرہ یا نقصان یا تکلیف تمہیں اپنی راہ سے ہٹا سکے اور نہ دین میں کسی لین دین کا سودا تم سے چکایا جاسکے۔ یہ سارا مضمون اللہ تعالیٰ کے کلام کی بلاغت نے اس ذرا سے فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ یہ بےیقین لوگ تم کو ہلکا نہ پائیں۔ اب اس بات کا ثبوت تاریخ کی بےلاگ شہادت دیتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا پر ویسے ہی بھاری ثابت ہوئے جیسا کہ اللہ اپنے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھری بھرکم دیکھنا چاہتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس نے جس میدان میں بھی زور آزمائی کی۔ اس نے اسی میدان میں مات کھائی اور آخر اس شخصیت عظمیٰ نے وہ انقلاب برپا کردکھایا جسے روکنے کے لیے عرب کے کفر و شرک نے اپنی ساری طاقت صرف کردی اور اپنے سارے حربے استعمال کرڈالے۔ (تفہیم القرآن جلد ٣) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دین اور اپنی توحید سمجھانے کے لیے کئی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ ٢۔ قیامت کے منکروں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ گمراہی کی مہر لگا دیتا ہے۔ ٣۔ قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنے کی تلقین : ١۔ اگر یہ لوگ آپ سے منہ موڑ لیں تو آپ ” اللہ “ پر بھروسہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ ( التوبہ : ١٢٩) ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : ٥) ٣۔ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کیجیے۔ (الدھر : ٢٤) ٤۔ تکلیف پر صبر کیجیے یقیناً یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ (لقمان : ١٧) ٥۔ صبر کیجیے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ( الحج : ٥٥) ٦۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کفار کی باتوں پر صبر کیجیے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں۔ (طٰہٰ : ١٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59) سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات بقدر الناس ہیں۔ وہ نفس انسانی کو اس کے مختلف حالات میں خطاب کرتا ہے۔ انسان کے حالات واطوار میں سے ہر حال اور ہر طور کو زیر بحث لاتا ہے۔ لیکن ان ہمہ گیر اور ہمہ جہت مساعی کے بعد بھی لوگ تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔ اور یہ اللہ کی نشانیوں اور آیات کی تکذیب پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ صحیح علم رکھنے والوں پر دست درازیاں بھی کرتے ہیں اور الٹا ان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ باطل پرست ہیں۔ لئن جئتھم بایۃ ۔۔۔۔۔ الا مبطلون (30: 58) ” تم خواہ کوئی نشانی لے کر آجاؤ ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے ، وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو “۔ پھر زبانوں پر یہ تبصرہ آتا ہے : کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (30: 58) ” اس طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو بےعلم ہیں “۔ یوں ، یعنی اس طریقے کے مطابق اور ان وجوہات سے۔ یہ لوگ جو نہیں جانتے ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی ہیں۔ ان کی چشم بصیرت اللہ کی آیات اور اس کے نشانات کو دیکھنے کے لیے کھلتی ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اہل علم اور اہل ہدایت پر دست درازی کرتے ہیں۔ یہی وہ ہے کہ وہ اس بات کے مستحق بن گئے ہیں کہ اللہ ان کی بصیرت کو مسخ کر دے۔ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے کیونکہ اللہ سبحانہ ان دلوں کے بارے میں خون جانتا ہے اور ان کی بصیرتوں کو بھی وہ اچھی طرح دیکھتا ہے۔ اس سورة میں مشرکین کے ساتھ مکالمے ، اس کائنات کی سیر ، انسانی تاریخ کے مطالعے ، اور انسانی شخصیت ، انسانی زندگی اور اس کی نشوونما کی سیر کے بعد اور تمام شواہد اور نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی بعض ایسے لوگوں کے مشاہدے کے بعد جو بالکل نہیں مانتے ، اب یہ آخری ضرب ہے عقل و خرد کے تاروں پر۔ اس کے ذریعہ اہل ایمان اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی جاتی ہے کہ فاصبر ان وعد ۔۔۔۔۔ لا یوقنون (60) ” پس (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبر کرو ، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین ، نہیں لاتے “۔ اس طویل جدوجہد اور اسلامی انقلاب کے دشوا گزار سفر میں صبر وسیلہ مومنین ہے۔ یہ سفر اس قدر طویل ہے ، اس قدر مشکل ہے کہ بعض اوقات انسان کو لا انتہا نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ کے وعدے پر یقین کرنا چاہئے۔ بغیر کسی بےچینی ، کسی تزلزل ، بغیر کسی حیرانی و پریشانی کے اپنے مقصد پر جم جانا ہی اس راہ کا توشہ ہے۔ اس وقت صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ جبکہ دوسرے لوگ ڈگمگا جائیں ، جبکہ بعض لوگ تکذیب کردیں اور اللہ کے وعدے میں شک کرنے لگیں۔ اس لیے کہ شک کرنے والے اسباب یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ تک پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے ، ان کا منہاج صبر و ثبات کا منہاج ہے۔ اگرچہ راہ طویل ہوجائے۔ اگرچہ اس کا انجام نظرون سے اوجھل ہو۔ اگرچہ وہ غبار اور بادلوں کے پیچھی محجوب ہو۔ یہ سورة یوں ختم ہوتی ہے جبکہ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ شکست یافتہ رومیوں کو اللہ کے وعدے کے مطابق چند سالوں کے بعد فتح نصیب ہوگی اور اسی وقت مومنین کو بھی فتح نصیب ہوگی اور اس کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اگر تم صبر و ثبات سے کام لو تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ نیز جب لوگ اس تحریک کو بےوقار کرنے کی سعی کر رہے ہوں اور ان کی صفوف کے اندر وسوسہ اندازی کر رہے ہوں اور یہ لوگ وہی ہوتے جو تحریک اسلامی کے دشمن ہوتے ہیں اور ان کا اس جدید دعوت پر ایمان نہیں ہوتا تو ایسے حالات میں صبر ہی اہل ایمان کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ۔ یوں یہ سورة ختم ہوتی ہے اور ایک سچے قاری کے ذہن میں ایک قوی امید چھوڑ جاتی ہے کہ اگر صبر وثبات سے کام لیا جائے تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور وہ اہل یقین سے بےوفائی نہیں کرتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن عمدہ مضامین پر مشتمل ہے، معاندین کو حق ماننا نہیں ہے آپ صبر سے کام لیں، اللہ کا وعدہ حق ہے یہ تین آیات کا ترجمہ ہے۔ اول تو یہ بتایا کہ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی عمدہ باتیں بتادی ہیں ان میں جو کوئی شخص غورو فکر کرے گا تو اس کے ذہن پر یہ وارد ہوگا کہ قرآن حق ہے اور قرآن کا ہر بیان حق ہے، قرآن اور صاحب القرآن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت حق ہے، لیکن جو لوگ انکار پر تلے ہوئے ہیں اور ضد وعناد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ رکھی ہے وہ بات ماننے والے نہیں ہیں، یہ قرآن خود ایک معجزہ ہے، اس کے علاوہ بھی جتنے معجزے اور آیات آپ پیش فرما دیں کافر لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں کے بارے میں یوں ہی کہیں گے کہ تم لوگ باطل والے ہو۔ اہل باطل کا یہ طریقہ ہے کہ خود بھی حق قبول نہیں کرتے اور اہل حق کو اہل باطل بتاتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، جیسے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو نہیں جانتے یعنی جاننا نہیں چاہتے اور حق قبول کرنے کی بجائے اپنی خرافات پر ہی مصر رہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکذبین و معاندین کی باتوں سے تکلیف ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ صبر کیجیے بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے، اس نے جو آپ سے مدد کا اور دین اسلام کو غالب کرنے کا اور کلمہ حق کو بلند کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا، آپ کے صبر میں فرق نہ آئے پوری طرح ثابت قدم رہیں، یہ لوگ جو یقین نہیں کرتے، آپ کی دعوت کو نہیں مانتے، ان کے اس طرز عمل سے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے پائے ثبات میں لغزش آجائے، یہ لوگ آپ کو بےصبری پر آمادہ نہ کردیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ یہ معاندین پر شکوی ہے یعنی ہم نے لوگوں کو ہر اسلوب اور ہر انداز کے ساتھ مسئلہ توحید، رسالت اور حشر و نشر کو واضح کر کے بیان کردیا ہے اس کے باوجود وہ نہیں مانتے ان کو تو اگر آپ کوئی عظیم الشان معجزہ بھی دکھا دیں تو یہ معاندین پھر یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو ہم تمہاری بات نہیں مانتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

58۔ اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کے عمدہ عمدہ مضامین بیان کردیئے ہیں اور اگر آپ ان کے پاس ان کی حسب منشا کوئی نشانی بھی لے آئیں اور ان کو کوئی ان کا منہ مانگامعجزہ دکھا بھی دیں تب بھی جو لوگ کافر اور منکر ہیں وہ یوں ہی کہیں گے کہ تم کچھ نہیں مگر یہ کہ تم سب ملکرجھوٹ بناتے ہو اور تم سب لوگ کچھ نہیں ہو مگر بیہودہ گو یعنی قرآن کریم میں لوگوں کے سمجھانے کو ہم نے اعلیٰ مضامین عقلی اور نفلی دلائل اور بہترین مثالیں بیان کی ہیں لیکن ان کے کفر وعناد کی حالت یہ ہے کہ اگر آپ ان کو علاوہ اس قرآن کریم کے جو سراسر اعجاز ہے کوئی معجزہ ان کی خواہش اور ان کی آرزو کے موافق دکھا بھی دیں تب بھی یہ سب مسلمانوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمراہ ملاکر کہیں گے۔ ان انتم الا مبطلون یعنی تم سب اہل باطل اور بیہودہ گو ہو اور تم سب جھوٹ بناتے ہو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساحر بتا کرمبطل کہیں اور مسلمانوں کو سحر پر یقین رکھنے والے بتاکر مبطل کہیں ۔