Surat Luqman

Surah: 31

Verse: 6

سورة لقمان

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾

And of the people is he who buys the amusement of speech to mislead [others] from the way of Allah without knowledge and who takes it in ridicule. Those will have a humiliating punishment.

اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah Allah says: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ... And of mankind is he who purchases idle talk (Lahw Al-Hadith) to mislead from the path of Allah without knowledge, When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says: اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah. (39:23) He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ... And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah, he said, "This -- by Allah -- refers to singing." وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ... And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيث (purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying: لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّه (to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers. ... وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ... and takes it by way of mockery. Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it." ... أُولَيِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ For such there will be a humiliating torment. Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:

لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے ۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے ۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے تین دفعہ قسم کھاکر فرمایا کہ اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں ۔ یہی قول حضرت ابن عباس ، جابر ، عکرمہ ، سعید بن جیبر ، مجاہد مکحول ، عمرو بن شعیب ، علی بن بذیمہ کاہے ۔ امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے ۔ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے ۔ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے چنانچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ گانے والیوں کی خرید و فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن زید کو ضعیف کہا ہے ۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں ۔ واللہ اعلم ۔ ضحاک کا قول ہے کہ مراد اس سے شرک ہے امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ ہر وہ کلام جو اللہ سے اور اتباع شرع سے روکے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے ۔ اس سے غرض اس کی اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت ہوتی ہے ۔ ایک قرأت میں لیضل ہے تو لام لام عاقبت ہوگا یالام عیل ہوگا ۔ یعنی امرتقدیری ان کی اس کارگذاری سے ہو کر رہے گا ۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنالیتے ہیں ۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں ۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہوگی اور خطرناک عذاب میں ذلیل و رسوا ہونگے ۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ یہ نانصیب جو کھیل تماشوں باجوں گاجوں پر راگ راگنیوں پر ریجھا ہوا ہے ۔ یہ قرآن کی آیتوں سے بھاگتا ہے کان ان سے بہرے کرلیتا ہے یہ اسے اچھی نہیں معلوم ہوتیں ۔ سن بھی لیتا ہے تو بےسنی کردیتا ہے ۔ بلکہ انکا سننا اسے ناگوار گذرتا ہے کوئی مزہ نہیں آتا ۔ وہ اسے فضول کام قرار دیتا ہے چونکہ اس کی کوئی اہمیت اور عزت اس کے دل میں نہیں اس لئے وہ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتا وہ تو ان سے محض بےپرواہ ہے ۔ یہ یہاں اللہ کی آیتوں سے اکتاتا ہے توقیامت کے دن عذاب بھی وہ ہونگے کہ اکتا اکتا اٹھے ۔ یہاں آیات قرانی سن کر اسے دکھ ہوتا ہے وہاں دکھ دینے والے عذاب اسے بھگتنے پڑیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

61اہل سعادت جو کتاب الہی سے راہ یاب اور اس کے سماع سے فیض یاب ہوتے ہیں، ان کے ذکر کے بعد اہل شقاوت کا بیان ہو رہا ہے۔ جو کلام الہی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں۔ البتہ ساز و موسیقی، نغمہ و سرود اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد یہی ہے کہ آلات طرب شوق سے اپنے گھروں میں لاتے اور پھر ان سے لذت اندوز ہوتے ہیں۔ لغوالحدیث سے مراد گانا بجانا، اس کا سازوسامان اور آلات، ساز و موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسانوں کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔ اس میں قصے کہانیاں، افسانے ڈرامے، اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بےحیائی کے پرچار اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات ریڈیو، ٹیوی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں وغیرہ بھی۔ عہد رسالت میں بعض لوگوں نے گانے بجانے والی لونڈیاں بھی اسی مقصد کے لیے خریدی تھیں کہ وہ لوگوں کا دل گانے سنا کر بہلاتی رہیں تاکہ قرآن و اسلام سے وہ دور رہیں۔ اس اعتبار سے اس میں گلو کارائیں بھی آجاتی ہیں جو آج کل فن کار، فلمی ستارہ اور ثقافتی سفیر اور پتہ نہیں کیسے کیسے مہذب خوش نما اور دل فریب ناموں سے پکاری جاتی ہیں۔ 62ان تمام چیزوں سے یقینا انسان اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں اور دین کو مذاق کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ 62ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے والے ارباب حکومت، ادارے، اخبارات کے مالکان، اہل قلم اور فیچر نگار بھی اس عذاب کے مستحق ہوں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] لھوالحدیث سے مراد ہر وہ بات، شغل یا کھیل یا تفریح ہے۔ جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دے یا غافل رکھے۔ خواہ یہ شغل، گانا بجانا ہو یا دلچسپ ناول اور ڈرامے ہوں یا کلب گھروں کی تفریحات ہوں یا ٹیوی کا شغل ہو یا ڈرامے اور سینما بینی ہو۔ غرض لھوالحدیث کا اطلاق عموماً مذموم اشغال پر ہوتا ہے۔ اب اس لفظ کی تشریح مندرجہ ذیل احادیث و آثار کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے : (١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ قرآن میں لھوالحدیث کا لفظ گانا اور موسیقی کے لئے آیا ہے۔ نیز آپ فرمایا کرتے کہ گانا بجانا دل میں یوں نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس اور سبزہ اگ آتا ہے (فتاویٰ ابن باز۔ اردو ترجمہ ج ١ ص ٣١٣) (٢) حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : && اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں گاجوں، ساز و مضراب، بتوں، صلیبوں اور امر جاہلیت کو ختم کروں && (احمد بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الحدود۔ باب بیان الخمرو وعبد شاکر بہانہ فصل ثالث) (٣) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : && گانا بجانا کرنے والی عورتوں کو نہ بیچو، نہ خریدو اور نہ انھیں یہ کلام سکھلاؤ اور ان کی اجرت حرام ہے && (ترمذی۔ ابو اب البیوع۔ باب کراہیۃ المغنیات) (٤) ابو مالک اشعری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کو، ریشم کو، شراب کو اور معازف یعنی آلات ساز و مضراب اور گانے بجانے کو حلال کرلیں گے && (بخاری۔ کتاب الاشربہ باب ما جاء فیمن یستحل الخمرو بسمیہ بفراسمیہ) یعنی ان چیزوں کے دوسرے نام رکھ کر انھیں جائز بنالیں گے۔ اور اس آیات کا شان نزول یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کی غیر موثر بنانے کے لئے جو لوگ ادھار کھائے بیٹھے تھے ان میں سے ایک نضر بن حارث بھی تھا۔ اس کا طریق کار ابو لہب سے بالکل جداگانہ تھا۔ ایک دفعہ وہ سرداران قریش سے کہنے لگا : قریشیو ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی تھے۔ سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ امین تھے اب اگر وہ اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں تو تم کبھی انھیں شاعر کہتے ہو، کبھی کاہن، کبھی پاگل اور کبھی جادور کہتے ہو۔ حالانکہ وہ نہ شاعر ہیں، نہ کاہن، نہ پاگل اور نہ جادوگر ہیں۔ کیونکہ ہم ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔ اے اہل قریش ! سوچو ! تم پر یہ کیسی افتاد آپڑی ہے۔ پھر اس افتاد کا جو حل نضر بن حارث نے سوچا وہ یہ تھا کہ وہ خود حیرہ گیا۔ وہ سے بادشاہوں کے حالات اور رستم و اسفند یار کے قصے سیکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاں کہیں بھی جاکر اپنا پیغام سناتے، ابو لہب کی طرح نضر بن حارث بھی وہاں پہنچ کر یہ قصے سناتا پھر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام مجھ سے بہتر ہے ؟ علاوہ ازیں اس نے چند لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں۔ جب کوئی شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مائل ہونے لگتا تو وہ کسی لونڈی کو اس پر مسلط کردیتا کہ وہ لونڈی اسے کھلائے پلائے اور اس کی فکر کا رخ موڑ دے۔ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ہشام۔ ٢١: ٢٧١) [ ٥] بغیر علم کی نسبت اللہ کی راہ کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور لھوالحدیث کی طرف بھی۔ پہلی صورت تو ترجمہ سے واضح ہے۔ یعنی اس کا اللہ کی راہ سے بہکانا محض بغض وعناد اور ضد پر مبنی ہے۔ اس کے لئے اس کے پاس کوئی عملی دلیل نہیں ہے۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ اس قدر جاہل ہے جو اللہ کی سیدھی راہ اور ہدایت جیسی قیمتی چیز کے عوض تباہ کن چیز خرید رہا ہے۔ [ ٦] یعنی وہ شخص گانا، بجانا، قصے کہانیاں اور رقص و سرور جیسی ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کی آیات سے دور رکھنا اور ان آیات کا مذاق اڑانا چاہتا ہے۔ [ ٧] اس کے جرم اور اس کی سزا میں مناسبت یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی ذلیل کرنے والا دیا جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ ۔۔ : محسنین کے اوصاف اور ان کے حسن انجام کے ذکر کے بعد ان بدنصیبوں کا ذکر فرمایا جن کے لیے ” عَذَابٌ مُّهِيْنٌ“ یعنی ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ ” لَهْوَ “ کا لفظی معنی ” غافل کردینا “ ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ) [ المنافقون : ٩ ] ” تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ “ ” لَهْوَ “ ہر اس بات یا کام کو کہتے ہیں جو انسان کو اس کے مقصد کی چیز سے غافل کر دے۔ شیخ عبدالرحمان السعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ” وَمِنَ النَّاسِ “ لوگوں میں سے کوئی ایسا بدنصیب اور بےتوفیق بھی ہے، ” مَنْ يَّشْتَرِيْ “ جو اس طرح رغبت رکھتا اور پسند کرتا ہے جیسے قیمت خرچ کر کے حاصل کرنے والا پسند کرتا ہے، ” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “ ان باتوں کو جو دلوں کو غافل کردینے والی اور عظیم مقصد سے روک دینے والی ہوتی ہیں۔ چناچہ اس میں ہر حرام کلام، ہر باطل اور ایسے اقوال پر مشتمل ہر ہذیان داخل ہے جو کفر، فسق اور معصیت کی رغبت پیدا کرے، وہ اقوال حق کو رد کرنے والے لوگوں کے ہوں، جو باطل کے ساتھ بحث کر کے حق کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ اور گالی گلوچ کی صورت میں ہوں یا گانے بجانے، شیطان کے باجوں اور غافل کردینے والی داستانوں اور افسانوں کی صورت میں ہوں، جن کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہو نہ آخرت میں۔ تو لوگوں کی یہ قسم وہ ہے جو ہدایت والی بات چھوڑ کر ” لَهْوَ “ والی بات خریدتی ہے۔ “ 3 میں نے شیخ عبد الرحمن السعدی کا کلام اس لیے نقل کیا ہے کہ عام طور پر اس آیت میں ” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “ سے مراد صرف گانا بجانا لیا جاتا ہے، جب کہ آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے، اگرچہ حرام غنا (ناجائز گانا) بھی اس میں شامل ہے۔ طبری میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے جو حسن سند کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس سے مراد غنا (گانا) ہے، تو یہ ” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “ کی ایک جزئی کا بیان ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس کا مصداق ایسے گانے بجانے والے ہوں گے جو دین سے روکنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق بنانے والے اور انھیں سن کر تکبر سے منہ پھیرنے والے ہوں، کیونکہ ان اوصاف کی ان آیات میں صراحت ہے، اور یہ اوصاف کفار کے ہیں مسلمانوں کے نہیں اور انھی کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ مسلمان کو ہونے والا عذاب تو اسے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوگا۔ البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلمان کہلانے والے لوگ جو حرام عشقیہ گانے بجانے کو اپنا پیشہ یا شغل بنا لیتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں بدترین نفاق پیدا ہوجاتا ہے اور اللہ کی آیات کو سن کر ان کے ساتھ ان کا رویہ بھی بعینہٖ وہی ہوتا ہے جو ان آیات میں مذکور ہے۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے لیے مولوی کا مذاق اڑاتے اور اسے گالی دیتے ہیں، جب کہ ظاہر ہے کہ مولوی بےچارے کا قصور یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات سناتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف نام کے مسلمان ہونے کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ کی آیات کے انکار، ان سے استکبار اور ان کو مذاق بنانے کے ساتھ مسلمانی کے دعوے پر اصرار قیامت کے دن ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ افسوس ! اس وقت یہ بیماری بری طرح امت مسلمہ میں پھیل چکی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل فون، انٹرنیٹ، غرض ہر ذریعے سے کفار اور ان کے نام نہاد مسلم گماشتوں نے اسے اس قدر پھیلا دیا ہے کہ کم ہی کوئی خوش نصیب اس سے بچا ہوگا۔ حالانکہ دین کے کمال و زوال کے علاوہ دنیوی عروج و زوال میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اقبال نے چند لفظوں میں اس کا نقشہ کھینچا ہے ؂ میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر کوئی شخص اگر حرام گانے بجانے کا عمل گناہ سمجھ کر کرے، اس پر نادم ہو تو پھر بھی معافی کی امید ہے، مگر جب کوئی قوم فنون لطیفہ یا روح کی غذا کا نام دے کر اسے حلال ہی کرلے، تو اس کے لیے اللہ کے عذاب کے کوڑے سے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔ ابو عامر یا ابو مالک اشعری (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَالْحَرِیْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ ، وَلَیَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلٰی جَنْبِ عَلَمٍ یَرُوْحُ عَلَیْہِمْ بِسَارِحَۃٍ لَّہُمْ ، یَأْتِیْہِمْ ، یَعْنِي الْفَقِیْرَ ، لِحَاجَۃٍ فَیَقُوْلُوْا ارْجِعْ إِلَیْنَا غَدًا فَیُبَیِّتُہُمُ اللّٰہُ وَیَضَعُ الْعَلَمَ ، وَیَمْسَخُ آخَرِیْنَ قِرَدَۃً وَخَنَازِیْرَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ) [ بخاري، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر۔۔ : ٥٥٩٠ ] ” میری امت میں کئی لوگ ہوں گے جو شرم گاہ (زنا) اور ریشم اور شراب اور باجوں کو حلال کرلیں گے اور کئی لوگ ایک پہاڑ کے پہلو میں اتریں گے، ان کے چرواہے شام کو ان کے چرنے والے مویشی لایا کریں گے، ان کے پاس فقیر اپنی حاجت کے لیے آئے گا، وہ کہیں گے کل آنا۔ تورات ہی کو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب بھیجے گا اور وہ پہاڑ ان پر گرا دے گا اور کئی دوسروں کی شکلیں قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل دے گا۔ “ ابو مالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَیَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِّنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ یُسَمُّوْنَھَا بِغَیْرِ اسْمِھَا، یُعْزَفُ عَلٰی رُؤُوْسِھِمْ بالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّیَاتِ یَخْسِفُ اللّٰہُ بِھِمُ الْأَرْضَ وَیَجْعَلُ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ ) [ ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات : ٤٠٢٠، و قال الألباني صحیح ] ” میری امت کے کچھ لوگ شراب پییں گے، اس کا نام اصل نام کے بجائے اور رکھ لیں گے، ان کے سامنے باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The word: اشتراء (ishtira) in: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِ‌ي لَهْوَ الْحَدِيثِ (And from among the people who buys the distracting amusement of things - 31:6) literally means &to buy.& And on occasions, the same word is used in the sense of &doing an act instead of another& - as in: أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَ‌وُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ are the people who have bought error at the rice of guidance - 2:16, 2:175 and in some other verses. The Cause of Revelation This verse was revealed because of a particular event relating to Nadr Ibn Harith. He was one of the top businessmen from among the Mushriks of Makkah who used to travel to different countries in connection with his business. Once he bought and brought back a collection of historical stories featuring Cyrus and other Persian kings from Iran. Thus armed, he said to the Quraish of Makkah: |"Muhammad tells you the stories of the people of ` Ad and Thamud and others. I shall tell you better stories, those of Rustam, Isfandyar and other kings of Persia. They started listening to his stories eagerly simply because they contained no lessons to learn and no work to do. It was nothing but some delicious stories. Because of these, many Mushriks who had some measure of interest in the Divine Word because of its miraculous nature, rather listened to it stealthily, found an excuse to draw away from the Qur&an. (ذکرہ فی الروح عن اسباب النزول للواحدی و مقاتل و ذکرنحوہ فی الدر المنثور بروایۃ البیھقی) And according to a narration of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) in Ad-Durr al-Manthur, the businessman mentioned above had brought in a singing bondwoman he bought in a foreign country. It was through her that he devised a plan to stop people from listening to the Qur&an. When he found anyone intending to go and listen to the Qur’ an, he would have him hear his bondwoman sing before him. He used to say: &Muhammad & makes you listen to the Qur&an, then goes on to ask you to pray and fast which make life difficult for you. Come, you listen to this music and enjoy the fun.& The verse of the Qur&an being referred to here was revealed in relation to this very event. Here, the ishtira& (buying) of lahw al-hadith (the distracting amusement of things) means either those tales of the Persian kings, or this singing bondwoman. In terms of the event in the background of the revelation, the word: (ishtira) has been used in the real sense for buying. And in terms of the general sense of لَهْوَ الْحَدِيثِ (lahw al-Oath: the distracting amusement of things) being enunciated later, the word: اِشتَرَا (ishtira& ) is also in its general sense at this place, that is, to opt for something instead of something else. This includes the buying of things of &lahw& (amusement) as well. As for the word: حَدِيثِ (hadith) in لَهْوَ الْحَدِيثِ (lahw al-hadith), it is there in the sense of tales told and things said and done. Then the word لَهْوَ &lahw& itself literally means to become heedless. In other words, things that make one become negligent of what must be done are also called &lahw.& Then there are occasions when things that bring no worthwhile benefit, rather serve as pastime or entertainment only, are also referred to as لَهْوَ & lahw.& As regards the meaning and exegetical explanation of the expression: لَهْوَ الْحَدِيثِ (lahw al-hadith: distracting amusement of things - 4) in the cited verse, sayings of commentators differ. In a narration of Sayyidna Ibn Masud, Ibn ` Abbas and Jabir (رض) it has been explained as music, vocal or instrumental (reported and verified by al-Hakim, and al-Baihaqi in ash-Shu` ab) And in the view of the majority of Sahabah, Tabi` in and commentators at large, the expression: لَهْوَ الْحَدِيثِ (lahw al-hadith: the distracting amusement of things) applies generally to everything which makes one fall into a state of heedlessness as to the remembrance and worship of Allah. Included therein is music accompanied by instruments, and obscene or absurd fictional narratives as well. Imam al-Bukhari in his book, al-&Adab al-Mufrad, and al-Baihaqi in his Sunan have both elected to go by this Tafsfr. Al-Bukhari has said: لَهْوَ الْحَدِيثِ ھوَ الغنآُء و اَشباھُہ، &Lahw al-hadith& means playing music and things similar to it make one heedless to the worship of Allah). And it appears in Sunan al-Baihaqii that opting for or buying the distracting amusement of things (اِشتَرَاء لَهْوَ الْحَدِيثِ : ishtira& lahw al-hadith) means buying a bondman or bondwoman who sings and plays instruments, or buying similar other immodest things which make one heedless to the remembrance of Allah. Ibn Jarir has also taken to this general sense. The same generality is proved by a narration of Tirmidhi where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said, &Do not buy or sell singing bondwomen,& after which he said, مِثل ھٰذا انزلت ھٰذہ الآیۃ و مِنَ النَّاس مَن یَّشتَرِی (About such things this verse [ i.e. verse 6 which is under discussion ] was revealed) Islamic Legal Injunctions of لَھو وَ لَعِب &Lahw wa La` ib& (play and game) and its Equipment Full details of these injunctions supported by and Sunnah have been provided in a treatise contained in اَحکام القرآن (Ahkam ul-Qur&an) written by this humble writer. It also carries an equally detailed discussion on music and musical instruments in the light of the Qur&an and Hadith along with the sayings of Muslim jurists and mystics. This treatise in Arabic* has been published in volume V of Ahkam ul-Qur&an. Learned readers may consult it at their discretion. A gist is being given here for others interested in the subject. First of all, it should be borne in mind wherever the Qur&an has mentioned Lahw and La&ib, it is in the context of its disparagement and degradation, the lowest degree of which is karahah (repugnance or reprehensibility) (Ruh ul-Ma’ ani and al-Kashshaf) and the cited verse is open and clear in declaring it as vice. And in Kitabul-Jihad of al-Hakim&s Mustadrak, it has been reported by Sayyidna Abu Hurairah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: کُلُّ شَیءِ مَّن لَھوِ الدُّنِیَاباطِل اِلَّا ثلٰثۃ : اِنتضالّکَ بِقَوسِکَ و تَادِیبُکَ لِفَرَسِکَ ، ومُلَاعَبَتُکَ لِاَھلِکَ فَاِنَّھُنَّ مِنَ الحَقَّ Every Lahw (play) of the world is false except three things: (1) that you play with your bow and arrow (2) and that you play while training your horse and (3) that you play with your wife - because these are among acceptable rights. (Hakim has said that this Hadith is Sahih on the condition set forth by Muslim. But, adh-Dhahabi and others have not accepted it as muttasil, (of an uninterrupted chain) Instead, he calls it a mursal (of an interrupted chain). But, in the sight of the majority of Hadith experts, a mursal hadith is also authentic). In this Hadith, every &lahw& or play has been declared as false with the exception of three. These, in reality, are just not included under the definition of &lahw& because &lahw& is supposed to be something in which there is no worthwhile religious or worldly benefit. And these three things are worthwhile. Many religious and worldly advantages are attached with them. As for archery and training of horses, they are part of the preparation for Jihad. Then, playfulness with one&s wife serves the purpose of procreation. That they have been named as &lahw& is simply because of outward similarity. In terms of reality, they are just not included under &lahw.& Similarly, other than these three, there are many things that yield religious or worldly benefit while, seen outwardly, they are supposed to be &lahw& or play. These too have been rated as permissible in other narrations of Hadith; in fact, some of these have been declared to be commendable. Relevant detail will follow. In gist, the doing of things which are &lahw,& in real terms, that is, in which there is no benefit, neither religious nor worldly, are all necessarily blameworthy and makruh (repugnant, reprehensible) after all. Then, there are details about them. Some reach the extent of kufr (infidelity). Others are explicitly حَرَام Haram (forbidden) the lowest degree of which is their being makruh tanzihi, that is, counter to the preferred choice (khilaf al-awl. No &lahw,& which really qualifies as &lahw,& is exempt from it. As for the plays exempted in Hadith, they definition of &lahw& as it has been already clarified in Hadith itself. In Abu Dawud, Tirmidhi, An-Nasai and Ibn Majah, there is a narration from Sayyidna &Uqbah Ibn ` Amir (رض) ، It appears in Kitab ul-Jihad in the words: لَیسَ مِنَ اللَّھوِ ثَلَاثُ تادِیبُ الرَّجلِ فَرَسَہ، وَملَا عَبَتُہ، اَھلَہ، وَرَمیُہ، بِقَوسِہٖ وَنَبلِہٖ (Three things do not fall under &lahw:& (1) Man training his horse and (2) playing with his wife and (3) shooting with his bow and arrows (Nasbur-Rayah, p. 273, v. 4). This Hadith has itself made it clear that these three things that have been exempted are simply not included in &lahw.& and that which is really &lahw& is false and blameworthy. The different degrees of its blameworthiness follow next: 1. Playing that becomes a conduit of going astray from one&s Religion, or making others turn away from it, is kufr (infidelity) - as stated in the cited verse: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِ‌ي لَهْوَ الْحَدِيثِ - 6. There it has been declared to be an act of grave error and infidelity, the punishment of which is painful, a punishment particular to those who have disbelieved (kuffar). The reason is that this verse was revealed following an event relating to Nadr Ibn Harith in which he had used this &lahw& to divert people from Islam. Therefore, this &lahw& (distracting amusement) did not remain simply Haram (forbidden), in fact, it went to the extent of becoming kufr (infidelity). 2. The second form is that which does not make people go astray from Islamic Beliefs, but does make them get involved with something forbidden and sinful. This, then, would not be kufr as such. But, patently unlawful and gravely sinful it shall remain - as do all those games played with bets. In other words, these may be games where the element of gambling (qimar) is present with giving or taking of money on winning or losing, or recreational activities that impede the performance of religious duties such as prayers and fasting etc. The reading of Shameless Fiction or Poetry or Writings of the Proponents of the False is also Not Permissible. In our time, an alarming number of young people get introduced to shameless fiction, stories and novels based on plots featuring people who fancy and flirt with crimes, and poetry composed of indecent and shameless couplets. All these things are included under this kind of distracting amusement which is forbidden &lahw.& Similarly, the study of ideas dished out by the wayward proponents of the false is also not permissible for common people, because this could become an active agent in misleading them from the straight path. Should the ` U1ama& who are well grounded in religious knowledge study them for rebuttal, it does not matter. 3. As for playing games that have neither an element of kufr (infidelity) nor of open sinfulness, they are makruh (repugnant) in that one would be wasting his energy and time in an activity that yields no benefit. Buying and Selling of the Equipment used in Games From the details given above, we have also come to know the rule operating in the buying and selling of equipment used in games. The rule is that the trading, buying and selling of equipment used in games characterized by infidelity, error, unlawfulness and sin is also haram (forbidden). And that which is used in makruh lahw, its trading is also makruh; and the equipment that is used in permissible and exempted games, its trading is also permissible; and the equipment that is used in permissible and impermissible activities both, its trading is permissible. Allowed and Permissible Games As already explained in detail, what is blameworthy and prohibited is that particular &lahw& or amusement or play or game which has no religious or worldly benefit in it. Games played to maintain physical health and mobility, or for some other religious or worldly need, or at the least, are for relief from fatigue without any excessive indulgence to the extent of causing disruption in necessary duties, then, such games are allowed by the Shari` ah. And should the participation in them be with the intention of fulfilling a religious need, then, they are thawab-worthy as well. Also mentioned in the Hadith appearing above was the exemption of three game forms from the prohibition: Shooting of arrows, riding horses and playing with &ahl& (wife). And in a marfu` hadith (attributed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، it appears: خَیر لھو المؤمن السباحہ و خیر لھو المرأۃ المغزل (The best game for a believer is swimming and the best game for a woman is the spinning wheel) (al-Jami` as-Saghir, from Ibn Adiyy, with weak chain of narrators). According to a narration, Sayyidna Salamah Ibn Akwa& (رض) ، says, |"Someone from among the Ansar of Madinah was a great sprinter. No one could win a race against him. Once he publicly threw a challenge if there was anyone who would run a race against him. I sought the permission of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) if I could compete against him. When he gave me the permission, I was the one who went ahead in the race.& This tells us that it is also permissible to practice foot racing. Once, when a well-known wrestler called Rukanah challenged the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to wrestle against him, he accepted the challenge and won the bout (Abu Dawud in al-marasil). Some Ethiopian young men used to play with spears as a rehearsal. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) let Sayyidah ` A&ishah (رض) see their game of martial skill while she stood behind his back and he said to the performers, |" اِلھُوا وَالعبُوا |" (ilhu wal abu: have fun, keep playing) )Reported by al-Baihaqi in Ash-Shu&ab, as in al-Kanz, Bab ul-Lahw). In some narrations, the following words also appear along with it: فَاِنِّئ اَکرَہُ اَن یُّرٰی فِی دِینِکُم غِلظَۃُ (I do not like that people see harshness in your religion). Similarly, it has been reported from some Sahabah that they, when tired after their duties relating to the Qur&an and Hadith, would once in a while relax with Arab poetry or historical events (from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) in Kaff ar-Ra` a& ). In a Hadith, it was said: “ رُوِّحُوا القُلُبَ سَاعَۃً فَسَاعَۃً ”(Let your hearts rest now and then). [ Reported by Abiu Dawud in his Marasil from Ibn Shihab &mursalan&, that is, attributed to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) by the student of one of the Sahabah with the name of the narrating Sahabi not mentioned ] This hadith proves the permissibility of recreation meant to relax one&s mind and heart and the need to spare some time for it. However, when doing all these things, the aim should be to achieve the correct and sound objective of those games. Playing for the sake of playing should never be the objective. Even that too is restricted to the measure of need. Any indulgence that stretches to unreasonable proportions or touches the limits of excess would not be in order. Thus, the reason behind the justification of all these games is no other but that they have to be within their limits. If so, they would just not be counted as &lahw.& Games Prohibited Explicitly Along with the games mentioned above, there are others the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has prohibited particularly - even though, some benefits may be seen therein - such as, chess, backgammon and others played with counters and pieces. If accompanied by giving and taking of money on winning and losing, then, this is gambling, and is absolutely haram (forbidden). And should this not be the case and they may be played just for enjoyment, even then, they have been prohibited in Hadith. According to a narration of Sayyidna Buraidah in the Sahih of Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"A person who plays backgammon is like the one who has smeared his hands with the blood of pig.|" Similar to this, there is another narration where words of curse appear against the player of chess. (Uqaili in ad-Du&afa& from Sayyidna Ab` u Hurairah (رض) as in Nasbur-Rayah). Similarly, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has declared playing with pigeons as impermissible. [ Abu Dawud in al-Marasil from Shuraih as in al-Kanz ] The apparent reason for the prohibition of this type of pastimes is that the player of these games becomes so preoccupied with them that he would turn heedless towards other things he must do, even to Salah, and other religious obligations. The Injunctions of Music and Musical Instruments Some Sahabah have explained the expression: لَهْوَ الْحَدِيثِ (lahw al-hadith: the distracting amusement of things) in the cited verse as singing and playing of musical instruments. Then, there are others who have explained it in the general sense and consider every such playful activity that makes one heedless towards Allah to be the meaning of: لَهْوَ الْحَدِيثِ (lahw al-hadith). But, even in their view, singing and playing of instrumental music are included therein. And in another verse of the Qur&an: لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ‌ (those who do not witness falsehood - Al-Furqan, 25:72), the word:... (az-zur: falsehood, the false) has been explained by Imam Abu Hanifah, Mujahid, Muhammad Ibn al-Hanafiyyah and others as ` ghina (singing and playing of instrumental music). And Abu Dawud and Ibn Majah in Sunan and Ibn Hibban in his Sahih have reported from Sayyidna Abu Malik al-Ash&arl (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: لَیَشرَبَنَّ نَاسُ مِّن اُمَّتِی الخَمرَ یُسَمُّنَھَا بغَیرِ اسمِھَا یُعرَفُ عَلٰی رُؤُسِھِم بِالمَعَازِفِ وَ المُغَنِّیَاتِ ، یَخسِفُ اللہُ بِھِمُ الاَرضَ وَیَجعَلُ اللہُ مِنھُمُ القِرَدَۃَ وَ الخَنَازِیرَ Indeed some people from my community will drink wine giving it a name other than the name it already has. Music will be played right on their faces with instruments and singing women in attendance. Allah Ta&ala will make the earth sink with them, while He will make some of them monkeys and pigs. And according to a narration from Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas (رض) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Allah Ta’ ala has forbidden wine, gambling, drum and sarangi (string instrument like violin) and he said, |"Everything that intoxicates is haram (forbidden, unlawful) [ Reported by Imam Ahmad, Abu Dawud and Ibn Hibban ] It has been reported from Sayyidna Abu Hurairah (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: روی عن ابی ھریرا (رض) قال : قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذا اتخذ الفیء دولاً والامانۃ مغنمًا والزکوٰۃ مغرمًا و تعلم لغیر الدین واطاع الرجل أمرأتہ و عقّ اُمّہ و أدنی صدیقہ و أقصی أباہ وظھرت الاصوات فی المساجد و ساد القبیلۃ فاسقھم وکان زعیم القوم أرذلھم و اُکرمَ الرّجل مخافۃ شرّہ و ظھرت القیان و المعازف وشربت الخمور و لعن أخر ھٰذہ الأمّۃ أوّلھا فلیرتقبوا عند ذلک ریحا حمراء وزلزلۃ و خسفًا و مسخًا و قذفًا و آیات تتابع کنظام بال قطع سل کہ فتتابع بعضہ بعضاً (رواہ الترمذی و قال ھٰذا حدیث حسن غریب) When spoils are taken as personal property and trust property as spoils and Zakah as penalty, and religious learning is acquired for worldly objectives, and when man starts obeying his wife and disobeying his mother, and keeps his friend near and his father far, and when voices rise in mosques and the chief of a tribe becomes its worst sinner and when the chief of a people becomes their lowest of the low and when wicked people are respected out of fear for them, and when singing girls and musical instruments appear all over and when wines of all sorts are consumed and when the later of this Ummah start cursing the former - then, at that time, you wait for a red storm, and earthquake, and the sinking of the earth, and the metamorphosis of figures and faces, and missiles, and the signs of Doomsday following each other, one after the other, like a broken necklace with its beads scattered simultaneously. (Reported by Tirmidhi calling it a Hasan-Gharib Hadith) A Warning Not to Be Ignored! Read the words of this Hadith again and again, and you will start seeing a blueprint of the world of our time spread out before you. Here is an advance warning given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) almost fourteen hundred years ago, against sins prevailing among Muslims, and which are increasing day by day. He has reminded Muslims that they have to remain vigilant against such conditions and take full precautions to avoid such sins both personally and socially. Otherwise, once these sins become accepted common practice, such sinners will be visited by Divine punishments. Then, the very last signs of Qiyamah will appear squarely before them. Since, the singing of women and the playing of musical instruments are included under those sins, this narration has been cited in the present context. For that matter, there are many more authentic Ahadith where singing and playing of musical instruments have been declared unlawful and impermissible. Severe warnings have been given against indulging in these. This humble writer has cited all these narrations in his treatise entitled: کشف الغناء عن وصف الغِنَا which is in Arabic and has been published as Part V of Ahkam ul-Qur&an. Only some of those have been given here. Reciting morally beneficial poetry in a good voice without musical instruments is not prohibited In contrast to what has been stated above, there are narrations that seem to hint towards permissibility of &ghina|" (singing). Such narrations have also been collected and included in the treatise referred to here. To bring the two kinds of narration in harmony, it can be said that the singing of a non-mahram woman, or a song accompanied by musical instruments are forbidden. This is in accordance with what has been proved on the authority of the cited verses of the Qur&an and from the Ahadith of the Holy Prophet.. However, if some poetic compositions are recited in a pleasing voice, and the reciting person is not a woman or a beardless young man, and the subject of the poetry recited is also not vulgar or indecent and is not inclusive of any other sin, then, it is permissible. As for the reports attributed to some revered Sufis, that they listened to &ghina|" (sama& ), it is based on this kind of permissible &ghina|"- because, it is certain that they followed the Shari` ah and Sunnah faithfully. That they would ever commit some such sin, simply cannot be imagined. Those learned among the Sufis have themselves explained it explicitly. The treatise mentioned earlier carries the sayings of the jurists of the four schools of jurisprudence as well as those of the Sufi authorities. At this place, the summary as given has been considered sufficient in the present context.*(* The original work in Arabic and its Urdu translation with exhaustive notes under the title, |"Islam our Mausiqi|" (Islam and Music) has been published by Maktaba-e-Darul-Uloom, Jamia Darul-Uloom, Korangi, Karachi-75180, Pakistan. Those interested in a detailed discussion of the subject would find both versions useful.)

(آیت) و من الناس من یشتری لہو الحدیث، لفظ اشتراء کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور بعض اوقات ایک کام کے بدلے دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لئے بھی لفظ اشتراء استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے الذین اشتروا الضللۃ بالہدیٰ وغیرہ آیات قرآن میں یہی معنی اشتراء کے مراد ہیں۔ اس آیت کا شان نزول ایک خاص واقعہ ہے کہ نضر بن حارث مشرکین مکہ میں سے ایک بڑا تاجر تھا اور تجارت کے لئے مختلف ملکوں کا سفر کرتا تھا۔ وہ ملک فارس سے شاہان عجم کسریٰ وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لایا اور مکہ کے مشرکین سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو قوم عاد وثمود وغیرہ کے واقعات سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے بہتر رستم اور اسفند یار اور دوسرے شاہان کے قصے سناتا ہوں۔ یہ لوگ اس کے قصہ کو شوق ورغبت سے سننے لگے کیونکہ ان میں کوئی تعلیم تو تھی نہیں جس پر عمل کرنے کی محنت اٹھانی پڑے صرف لذیذ قسم کی کہانیاں تھیں۔ ان کی وجہ سے بہت سے مشرکین جو اس سے پہلے کلام الٰہی کے اعجاز اور یکتائی کی وجہ سے اس کو سننے کی رغبت رکھتے اور چوری چوری سنا بھی کرتے تھے، ان لوگوں کو قرآن سے اعراض کا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ (ذکرہ فی الروح عن اسباب النزول للواحدی و مقاتل و ذکر نحوہ فی الدار لمنثور بروایة البہیقی) اور در منثور میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ مذکور الصدر تاجر باہر سے ایک گانے والی کنیز (لونڈی) خرید کر لایا تھا اور اس کے ذریعہ اس نے لوگوں کو قرآن سننے سے روکنے کی یہ صورت نکالی کہ جو لوگ قرآن سننے کا ارادہ کریں اپنی اس کنیز سے ان کو گانا سنواتا تھا اور کہتا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو قرآن سنا کر کہتے ہیں کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو اور اپنی جان دو جس میں تکلیف ہی تکلیف ہے، آؤ تم یہ گانا سنو اور جشن طرب مناؤ۔ قرآن کریم کی مذکورہ آیت اسی واقعہ پر نازل ہوئی، اور اس میں اشتراء لہو الحدیث سے وہ قصے کہانیاں شاہان عجم کی یا یہ لونڈی گانے والی مراد ہے۔ واقعہ نزول کے اعتبار سے لفظ اشتراء بھی اس جگہ عام ہے۔ یعنی ایک کام کے بدلے میں دوسرے کو اختیار کرنا، اس میں سامان لہو کی خریداری بھی داخل ہے۔ اور لہو الحدیث میں لفظ ” حدیث “ تو باتوں اور قصے کہانیوں کے معنی میں ہے اور لہو کے لفظی معنی غفلت میں پڑنے کے ہیں۔ جو چیزیں انسان کو ضروری کاموں سے غفلت میں ڈالیں وہ لہو کہلاتی ہیں اور بعض اوقات ایسے کاموں کو بھی لہو کہا جاتا ہے جن کا کوئی معتد بہ فائدہ نہ ہو، محض وقت گزاری کا مشغلہ یا دل بہلانے کا سامان ہو۔ آیت مذکورہ میں لہو الحدیث کے معنے اور تفسیر میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن مسعود، ابن عباس و جابر (رض) کی ایک روایت میں اس کی تفسیر گانے بجانے سے کی گئی ہے۔ (رواہ الحاکم وصححہ البیہقی فی الشعب وغیرہ) اور جمہور صحابہ وتابعین اور عامہ مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لئے جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالے، اس میں غناء مزامیر بھی داخل ہے اور بےہودہ قصے کہانیاں بھی۔ امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں لہو الحدیث کی یہی تفسیر اختیار کی ہے۔ اس میں فرمایا ہے کہ لہو الحدیث ھوالغناء واشباھہ، یعنی لہو الحدیث سے مراد گانا اور اس کے مشابہ دوسری چیزیں ہیں (یعنی جو اللہ کی عبادت سے غافل کردیں) اور سنن بیہقی میں ہے کہ اشتراء لہو الحدیث سے مراد گانے بجانے والے مرد یا عورت کو خریدنا یا اس کے امثال ایسی بےہودہ چیزوں کو خریدنا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل کریں۔ ابن جریر نے بھی اسی عام معنی کو اختیار فرمایا ہے (روح ملخصاً ) اور ترمذی کی ایک روایت سے بھی یہی عموم ثابت ہوتا ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے کہ گانے والی لونڈیوں کی تجارت نہ کرو، اور پھر فرمایا فی مثل ہذا انزلت ہذہ الاٰیة ومن الناس من یشتری الخ لَہو و لعب اور اس کے سامان کے شرعی احکام : ان احکام کی پوری تفصیل قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ احقر کے مستقل رسالہ ” العی الحثیث فی تفسیر لہو الحدیث “ میں مذکور ہے۔ جس میں غناء و مزامیر پر بھی مفصل کلام قرآن و حدیث سے پھر فقہاء امت اور صوفیائے کرام کے اقوام سے مذکور ہے، یہ رسالہ بزبان عربی احکام القرآن حزب خامس میں شائع ہوچکا ہے۔ اہل علم اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں، عوام کے لئے اس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ پہلی بات قابل نظر یہ ہے کہ قرآن کریم نے جتنے واقع میں لہو یا لعب کا ذکر کیا ہے وہ مذمت اور برائی ہی کے مواقع ہیں، جس کا ادنیٰ درجہ کراہت ہے (روح المعانی وکشاف) اور آیت مذکورہ لہو کی مذمت میں بالکل واضح اور صریح ہے۔ اور مستدرک حاکم کتاب الجہاد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یعنی دنیا کا ہر لہو (کھیل) باطل ہے مگر تین چیزیں ایک یہ کہ تم تیر کمان سے کھیلو دوسرے اپنے گھوڑے کو سدھانے کیلئے کھیلو، تیسرے اپنی بی بی کے ساتھ کھیل کرو۔ “ (حاکم نے اس حدیث کو صحیح علیٰ شرط مسلم کہا ہے، مگر ذہبی وغیرہ نے اس کی سند کے متصل السند ہونے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ حدیث مرسل کہا ہے، مگر جمہور محدثین کے نزدیک حدیث مرسل بھی حجت ہے) اس حدیث میں ہر لہو کو باطل قرار دیا ہے اور جن تین چیزوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے در حقیقت وہ لہو میں داخل ہی نہیں، کیونکہ لہو تو اس کام کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی دینی و دینوی فائدہ معتدبہا نہ ہو۔ اور یہ تینوں چیزیں مفید کام ہیں جن سے بہت سے دینی اور دنیوی فوائد وابستہ ہیں۔ تیر اندازی اور گھوڑے کو سدھانا تو جہاد کی تیاری میں داخل ہیں، اور بیوی کے ساتھ ملاعبت توالد و تناسل کے مقاصد کی تکمیل ہے۔ ان کو صرف صورت اور ظاہر کے اعتبار سے لہو کہہ دیا گیا ہے وہ حقیقت کے اعتبار سے لہو میں داخل ہی نہیں۔ اسی طرح ان تین چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے کام ہیں جن سے دینی یا دنیوی فوائد متعلق ہیں اور صورت کے اعتبار سے وہ لہو (کھیل) سمجھے جاتے ہیں ان کو بھی دوسری روایات حدیث میں جائز بلکہ بعض کو مستحسن قرار دیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آجائے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو کام حقیقتاً لَہو ہوں، یعنی جن میں نہ کوئی دینی فائدہ ہو نہ دنیوی، وہ سب کے سب مذموم اور مکروہ تو ضرور ہی ہیں، پھر ان میں تفصیل ہے۔ بعض تو کفر کی حد تک پہنچ جاتے ہیں، بعض حرام صریح ہیں اور کم سے کم درجہ مکروہ تنزیہی، یعنی خلاف اولیٰ ہونے کا ہے، جس سے کوئی لَہو جو درحقیقت لہو ہو مستثنیٰ نہیں، جیسا کہ ایک حدیث میں خود اس کی تصریح موجود ہے۔ ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ میں حضرت عقبہ بن عامر کی روایت کتاب الجہاد میں ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ لیس من اللہو ثلاث تادیب الرجل فرسہ وملاعبتہ اہلہ ورمیہ بقوسہ ونبلہ، الحدیث، (نصب الرایہ ص ٢٧٣، ج ٤) اس حدیث نے خود یہ تصریح کردی کہ یہ تین چیزیں جو مستثنیٰ کی گئی ہیں درحقیقت وہ لہو میں داخل ہی نہیں اور جو حقیقتاً لَہو ہے وہ باطل اور مذموم ہے، آگے اس کے مذموم ہونے کے مختلف درجات ہیں۔ 1:۔ جو کھیل دین سے گمراہ ہونے یا دوسرے کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنے وہ کفر ہے۔ جیسا کہ آیت مذکورہ الصدر (آیت) ومن الناس من یشتری لہو الحدیث میں اس کا کفر و ضلال ہونا بیان فرمایا گیا اور اس کی سزا عذاب مہین قرار دی ہے، جو کفار کی سزا ہے کیونکہ یہ آیت نضر بن حارث کے جس واقعہ پر نازل ہوئی ہے اس میں اس لہو کو اس نے اسلام کے خلاف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ اس لئے یہ لہو حرام ہونے کے ساتھ کفر تک پہنچ گیا۔ 2:۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی لَہو لوگوں کو اسلامی عقائد سے تو گمراہ نہیں کرتا مگر ان کو کسی حرام اور معصیت میں مبتلا کرتا ہے۔ وہ کفر تو نہیں مگر حرام اور سخت گناہ ہے جیسے وہ تمام جیل جس میں قمار اور جوا ہو یعنی ہار جیت پر مال کا لین دین ہو، یا جو انسان کو ادائے فرائض نماز روزہ وغیرہ سے مانع ہوں۔ فحش اور فضول ناول یا فحش اشعار اور اہل باطل کی کتابیں بھی دیکھنا ناجائز ہیں : اس زمانے میں بیشتر نوجوان فحش ناول یا جرائم پیشہ لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے یا فحش اشعار دیکھنے کے عادی ہیں۔ یہ سب چیزیں اس قسم لہو حرام میں داخل ہیں۔ اس طرح گمراہ اہل باطل کے خیالات کا مطالعہ بھی عوام کے لئے گمراہی کا سبب ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، راسخ العلم علماء ان کے جواب کے لئے دیکھیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ 3:۔ اور جن کھیلوں میں نہ کفر ہے نہ کوئی کھلی ہوئی معصیت، وہ مکروہ ہیں کہ ایک بےفائدہ کام میں اپنی توانائی اور وقت کو ضائع کرنا ہے۔ کھیلوں کے سامان کی خریدو فروخت : مذکورہ تفصیل سے کھیلوں کے سامان کی خریدو فروخت کا حکم بھی معلوم ہوگیا کہ جو سامان کفر و ضلال یا حرام و معصیت ہی کے کھیلوں میں استعمال ہوتا ہے اس کی تجارت اور خریدو فروخت بھی حرام ہے۔ اور جو لہو مکروہ میں استعمال ہوتا ہے اس کی تجارت بھی مکروہ ہے۔ اور جو سامان جائز اور مستثنیٰ کھیلوں میں استعمال ہوتا ہے اس کی تجارت بھی جائز ہے۔ اور جس سامان کو جائز اور ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے اس کی تجارت جائز ہے۔ مباح اور جائز کھیل : ادھر یہ بات تفصیل سے آ چکی ہے کہ مذموم اور ممنوع وہ لہو اور کھیل ہے جس میں کوئی دینی دنیوی فائدہ نہیں۔ جو کھیل بدن کی ورزش، صحت اور تندرستی باقی رکھنے کے لئے یا کسی دوسری دینی و دنیوی ضرورت کے لئے یا کم از کم طبیعت کا تھکان دور کرنے کے لئے ہوں اور ان میں غلو نہ کیا جائے کہ انہی کو مشغلہ بنا لیا جائے اور ضروری کاموں میں ان سے حرج پڑنے لگے تو ایسے کھیل شرعاً مباح اور دینی ضرورت کی نیت سے ہوں تو ثواب بھی ہیں۔ مذکورہ حدیث میں تین کھیلوں کو ممانعت سے مستثنیٰ کرنا اوپر گزر چکا ہے۔ تیر اندازی، گھوڑے کی سواری، اپنے اہل کے ساتھ ملاعبت۔ اور حضرت ابن عباس سے ایک مرفوع حدیث میں ہے : خیر لہو المومن السباحة وخیر لہو المراة المغزل (جامع صغیر برمزا بن عدی باسناد ضعیف) ” یعنی مومن کا اچھا کھیل تیراکی ہے اور عورت کا اچھا کھیل چرخہ ہے۔ “ صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت سلمہ ابن اکوع کی روایت ہے کہ انصار مدینہ میں ایک صاحب دوڑ میں بڑے ماہر تھے، کوئی ان سے سبقت نہ لے جاسکتا تھا، انہوں نے ایک روز اعلان کیا کہ کوئی ہے جو میرے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کرے ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کشتی ٹھہرائی تو آپ نے اس کو کشتی میں پچھاڑ دیا (ابو داؤد فی المراسیل) حبشہ کے کچھ نوجوان مدینہ طیبہ میں فن سپہ گری کی مشق کرنے کے لئے نیزوں وغیرہ سے کھیلتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا کھیل حضرت عائشہ کو اپنی پشت کے پیچھے کھڑا کر کے دکھلایا اور ان لوگوں کو فرمایا کہ الہوا والعبوا ” یعنی کھیل کود کرتے رہو “ (رواہ البیہقی فی الشعب کذا فی الکنز من باب اللہو) اور بعض روایات میں اس کے ساتھ یہ الفاظ بھی آئے ہیں، فانی اکوہ ان یریٰ فی دینکم غلظة “ یعنی میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ تمہارے دین میں خشکی اور شدت دیکھی جائے “ اسی طرح بعض صحابہ کرام سے منقول ہے کہ جب وہ قرآن و حدیث کے مشاغل میں تھک جاتے تو بعض اوقات عرب کے اشعار یا تاریخی واقعات سے دل بہلاتے تھے۔ (ذکرہ عن ابن عباس فی کف الرعاع) ایک حدیث میں ارشاد ہے : روحوا القلوب ساعةً فساعةً اخرجہ ابو داؤد فی مراسیلہ عن ابن شہاب مرسلاً ” یعنی تم اپنے قلوب کو کبھی آرام دیا کرو “ جس سے قلب و دماغ کی تفریح اور اس کے لئے کچھ وقت نکالنے کا جواز ثابت ہوا۔ شرط ان سب چیزوں میں یہ ہے کہ نیت ان مقاصد صحیحہ کی ہو جو ان کھیلوں میں پائے جاتے ہیں، کھیل برائے کھیل مقصد نہ ہو اور وہ بھی بقدر ضرورت ہو، اس میں توسع اور غلو نہ ہو۔ اور وجہ ان کھیلوں کے جواز کی وہی ہے کہ درحقیقت یہ جب اپنی حد کے اندر ہوں تو لہو کی تعریف میں داخل ہی نہیں۔ بعض کھیل جو صراحةً ممنوع کئے گئے : اس کے ساتھ بعض کھیل ایسے بھی ہیں جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاص طور پر منع فرما دیا ہے، اگرچہ ان میں کچھ فوائد بھی بتلائے جاویں مثلاً شطرنج، چوسر وغیرہ اگر ان کے ساتھ ہار جیت اور مال کا لین دین ہو تو یہ جوا اور قطعی حرام ہیں اور یہ نہ ہو محض دل بہلانے کے لئے کھیلے جائیں، تب بھی حدیث میں ان کو منع فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت بریدہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص نرد شیر یعنی چوسر کھیلتا ہے وہ ایسا ہے جیسے اس نے اپنے ہاتھ خنزیر کے خون میں رنگے ہوں۔ اسی طرح ایک روایت میں شطرنج کھیلنے والے پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں۔ (عقیلی فی الضعفاء عن ابی ہریرة کذا فی نصب الرایہ) اسی طرح کبوتر بازی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناجائز قرار دیا (ابو داؤد فی المراسیل عن شریح کذا فی الکنز) ان کی ممانعت کی ظاہری وجہ یہ ہے کہ عموماً ان میں مشغولیت ایسی ہوتی ہے کہ آدمی کو ضروری کام یہاں تک کہ نماز اور دوسری عبادت سے بھی غافل کردیتی ہے۔ غناء و مزامیر کے احکام : آیت مذکورہ میں چند صحابہ کرام نے تو لہو الحدیث کی تفسیر گانے بجانے سے کی ہے۔ اور دوسرے حضرات نے اگرچہ تفسیر عام قرار دی ہے، ہر ایسے کھیل کو جو اللہ سے غافل کرے لہو الحدیث فرمایا ہے، مگر ان کے نزدیک بھی گانا بجانا اس میں داخل ہے۔ اور قرآن کریم کی ایک دوسری آیت (آیت) لا یشھدون الزور۔ میں امام ابوحنیفہ اور مجاہد اور محمد بن الخفیہ وغیرہ نے زور کی تفسیر غناء (گانے بجانے) سے کی ہے۔ اور ابو داؤد اور ابن ماجہ نے سنن میں اور ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح میں حضرت ابو مالک اشغری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری امت کے کچھ لوگ شراب کو اس کا نام بدل کر پئیں گے ان کے سامنے معازف و مزامیر کے ساتھ عورتوں کا گانا ہوگا اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں خسف کر دے گا اور بعض کی صورتیں مسخ کر کے بندر اور سور بنا دے گا “ اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے اور طبلہ وسارنگی کو حرام کیا ہے اور فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ (رواہ الامام احمد و ابوداؤد و ابن حبان) ” حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب مال غنیمت کو شخصی دولت بنا لیا جائے اور جب لوگوں کی امانت کو مال غنیمت سمجھ لیا جائے اور جب زکوٰۃ کو ایک تاوان سمجھا جانے لگے اور جب علم دین کو دنیا طلبی کے لئے سیکھا جانے لگے اور جب مرد اپنی بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرنے لگے اور دوست کو اپنے قریب کرے اور باپ کو دور رکھے، اور مسجدوں میں شور و غل ہونے لگے اور قبیلہ کا سردار ان کا فاسق بدکار بن جائے اور جب قوم کا سردار ان میں ارذل بدترین آدمی ہوجائے، اور جب شریر آدمیوں کی عزت ان کے شر کے خوف سے کی جانے لگے، اور جب گانے والی عورتوں اور باجوں گاجوں کا رواج عام ہوجائے، اور جب شرابیں پی جانے لگیں اور اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں، تو اس وقت تم انتظار کرو ایک سرخ آدمی کا اور زلزلہ کا اور زمین خسف ہوجانے اور صورتیں مسخ ہوجانے کا اور قیامت کی ایسی نشانیوں کا جو یکے بعد دیگرے اس طرح آئیں گی جیسے کسی ہار کی لڑی ٹوٹ جائے اور اس کے دانے بیک وقت بکھر جاتے ہیں “ تنبیہ ضروری : اس حدیث کے الفاظ کو بار بار پڑھئے اور دیکھئے کہ اس وقت کی دنیا کا پورا پورا نقشہ ہے، اور وہ گناہ جو مسلمانوں میں عام ہوچکے ہیں اور بڑھتے جا رہے ہیں، ان کی خبر چودہ سو برس پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دے دی ہے۔ مسلمانوں کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ ایسے حالات سے باخبر رہیں، اور گناہوں سے بچنے بچانے کا پورا اہتمام کریں۔ ورنہ جب یہ گناہ عام ہوجائیں گے تو ایسے گناہ کرنے والوں پر آسمانی عذاب نازل ہوں گے، اور پھر قیامت کی آخری علامات سامنے آجائیں گی۔ ان گناہوں میں سے عورتوں کا گانا اور گانے بجانے کے آلات طبلہ سارنگی وغیرہ بھی ہیں، اس جگہ اس روایت کو اسی مناسبت سے نقل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی مستند احادیث ہیں جن میں گانے بجانے کو حرام و ناجائز فرمایا ہے اور اس پر وعید شدید ہے۔ ان تمام روایات کو احقر نے اپنے رسالہ کشف الغناء عن وصف الغنا میں لکھ دیا ہے۔ یہ رسالہ بھی بزبان عربی احکام القرآن حزب خامس میں شائع ہوچکا ہے، یہاں ان میں سے چند نقل کی گئی ہیں۔ خوش آوازی کے ساتھ بغیر مزامیر کے مفید اشعار کا پڑھنا ممنوع نہیں : اس کے مقابل بعض روایات سے غنا یعنی گانے کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے، یہ روایات بھی رسالہ مذکورہ میں جمع کردی گئی ہیں۔ تطبیق ان دونوں میں اس طرح ہے کہ جو گانا اجنبی عورت کا ہو یا اس کے ساتھ طبلہ سارنگی وغیرہ مزامیر ہوں وہ حرام ہے۔ جیسا کہ مذکورہ الصدر آیات قرآن اور احادیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہوا۔ اور اگر محض خوش آوازی کے ساتھ کچھ اشعار پڑھے جائیں اور پڑھنے والی عورت یا مرد نہ ہوں، اور اشعار کے مضامین بھی فحش یا کسی دوسرے گناہ پر مشتمل نہ ہوں تو جائز ہے۔ بعض صوفیائے کرام سے جو سماع غنا منقول ہے وہ اسی قسم کے جائز غنا پر محمول ہے۔ کیونکہ ان کا اتباع شریعت اور اطاعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آفتاب کی طرح یقینی ہے، ان سے ایسے گناہ کے ارتکاب کا گمان نہیں کیا جاسکتا۔ محققین صوفیائے کرام نے خود اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اس معاملہ میں مذاہب اربعہ کے فقہاء اور صوفیائے کرام کے اقوال مذکور الصدر رسالہ میں تفصیل سے جمع کردیئے گئے ہیں، یہاں اسی اختصار پر اکتفا کیا گیا۔ واللہ المستعان۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَہْوَالْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ۝ ٠ ۤۖ وَّيَتَّخِذَہَا ہُزُوًا۝ ٠ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ۝ ٦ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ لهو [ اللَّهْوُ : ما يشغل الإنسان عمّا يعنيه ويهمّه . يقال : لَهَوْتُ بکذا، ولهيت عن کذا : اشتغلت عنه بِلَهْوٍ ] «5» . قال تعالی: إِنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيا لَعِبٌ وَلَهْوٌ [ محمد/ 36] ، وَما هذِهِ الْحَياةُ الدُّنْيا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ [ العنکبوت/ 64] ، ويعبّر عن کلّ ما به استمتاع باللهو . قال تعالی: لَوْ أَرَدْنا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْواً [ الأنبیاء/ 17] ومن قال : أراد باللهو المرأة والولد «6» فتخصیص لبعض ما هو من زينة الحیاة الدّنيا التي جعل لهوا ولعبا . ويقال : أَلْهاهُ كذا . أي : شغله عمّا هو أهمّ إليه . قال تعالی: أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] ولیس ذلک نهيا عن التّجارة وکراهية لها، بل هو نهي عن التّهافت فيها والاشتغال عن الصّلوات والعبادات بها . ألا تری إلى قوله : لِيَشْهَدُوا مَنافِعَ لَهُمْ [ الحج/ 28] ، لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله تعالی: لاهِيَةً قُلُوبُهُمْ [ الأنبیاء/ 3] أي : ساهية مشتغلة بما لا يعنيها، واللَّهْوَةُ : ما يشغل به الرّحى ممّا يطرح فيه، وجمعها : لُهًا، وسمّيت العطيّة لُهْوَةً تشبيها بها، واللَّهَاةُ : اللّحمة المشرفة علی الحلق، وقیل : بل هو أقصی الفم . ( ل ھ و ) اللھو ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہتائے اور بازر کھے یہ لھوت بکذا ولھیت عن کذا سے اسم ہے جس کے معنی کسی مقصد سے ہٹ کر بےسود کام میں لگ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّمَا الْحَياةُ الدُّنْيا لَعِبٌ وَلَهْوٌ [ محمد/ 36] جان رکھو کہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے ۔ پھر ہر وہ چیز جس سے کچھ لذت اور فائدہ حاصل ہو اسے بھی لھو کہہ دیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لَوْ أَرَدْنا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْواً [ الأنبیاء/ 17] اگر ہم چاہتے کہ کھیل بنائیں تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے ۔ اور جن مفسرین نے یہاں لھو سے مراد عورت یا اولادلی ہے انہوں نے دنیاوی آرائش کی بعض چیزوں کی تخصیص کی ہے جو لہو ولعب بنالی گئیں ہیں ۔ محاورہ ہے : الھاۃ کذا ۔ یعنی اسے فلاں چیز نے اہم کام سے مشغول کردیا ۔ قرآن میں ہے : أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] لوگوتم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] یعنی ایسے لوگ جن کو خدا کے ذکر سے نہ سود اگر ی غافل کرتی ہے اور نہ خرید وفروخت ۔ اس آیت سے تجارت کی ممانعت یا کر اہتبیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں پروانہ دار مشغول ہو کر نماز اور دیگر عبادات سے غافل ہونے کی مذمت کی طرف اشارہ ہے نفس تجارت کو قرآن نے فائدہ مند اور فضل الہی سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : لِيَشْهَدُوا مَنافِعَ لَهُمْ [ الحج/ 28] تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں ۔ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 198] اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ ( حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت ) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو ۔ اور آیت کریمہ : لاهِيَةً قُلُوبُهُمْ [ الأنبیاء/ 3] ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ ان کے دل غافل ہو کر بیکار کاموں میں مشغول ہیں ۔ اللھوۃ ۔ آٹا پیستے وقت چکی میں ایک مرتبہ جتنی مقدار میں غلہ ڈالا جائے ۔ اس لھوۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع لھاء آتی ہے ۔ پھر تشبیہ کے طور پر عطیہ کو بھی لھوۃ کہدیتے ہیں ۔ اللھاۃ ( حلق کا کوا ) وہ گوشت جو حلق میں لٹکا ہوا نظر آتا ہے ۔ بعض نے اس کے معنی منہ کا آخری سرا بھی کئے ہیں ۔ حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] بھلا ترکو ڈھانپ لینے والی ( یعنی قیامت کا ) حال معلوم ہوا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ میں احادیث سے رویا مراد ہیں ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الھزء الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا هين الْهَوَانُ علی وجهين : أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن» الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ بهفيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ، وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] ، فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] ، وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] ويقال : هانَ الأمْرُ علی فلان : سهل . قال اللہ تعالی: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] ، وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] والْهَاوُونَ : فاعول من الهون، ولا يقال هارون، لأنه ليس في کلامهم فاعل . ( ھ و ن ) الھوان اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے انسان کا کسی ایسے موقعہ پر نر می کا اظہار کرتا جس میں اس کی سبکی نہ ہو قابل ستائش ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہوکر چلتے ہیں ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے المؤمن هَيِّنٌ ليّن» کہ مومن متواضع اور نرم مزاج ہوتا ہے دوم ھان بمعنی ذلت اور رسوائی کے آتا ہے یعنی دوسرا انسان اس پر متسلط ہو کر اسے سبکسار کرے تو یہ قابل مذمت ہے چناچہ اس معنی میں فرمایا : ۔ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے ۔ فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] تو۔ کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] اور آخر کار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] اور جس کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے ولاا نہیں ۔ علی کے ساتھ کے معنی کسی معاملہ کے آسان ہو نیکے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] کہ یہ مجھے آسان ہے ۔ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] اور یہ اس پر بہت آسان ہے ۔ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے ہو ۔ ھاودن کمزور یہ ھون سے ہے اور چونکہ قاعل کا وزن کلام عرب میں نہیں پایا اسلئے ھاون کی بجائے ہارون بروزن فا عول کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور بعض آدمی یعنی نضر بن حارث ان باتوں کا خریدار بنتا ہے یعنی جھوٹے قصے کہانیاں چاند و سورج کے واقعات اور انسانوں کی کتابیں اور گانے والی عورت وغیرہ یا یہ کہ شرک کا تاکہ اس کے ذریعے سے دین الہی اور اس کی پیروی سے دوسروں کو بغیر علم اور دلیل کے گمراہ کرے اور اس کا مذاق اڑائے ایسے لوگوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ شان نزول : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ (الخ) ابن جریر نے عوفی کے ذریعے سے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت ایک قریشی شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے ایک گانے والی لونڈی خرید رکھی تھی۔ اور جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں ہوئی ہے اس نے ایک گانے والی لونڈی خرید رکھی تھی اور جس شخص کے متعلق بھی یہ سنتا تھا کہ وہ اسلام لانا چاہتا ہے تو اسے پکڑ کر اس گانے والی لونڈی کے پاس لے جاتا تھا اور اس لونڈی سے کہتا تھا کہ اس کو خوب کھلا پلا اور گانا سنا اور کہتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو تمہیں نماز روزہ کی طرف بلاتے ہیں نعوذ باللہ یہ گانا اس سے بہتر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍق وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ط) ” یہاں خصوصی طور پر نضر بن حارث کے کردار کی طرف اشارہ ہے جو روسائے قریش میں سے تھا۔ دراصل نزول قرآن کے وقت عرب کے معاشرہ میں شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا۔ ان کے عوام تک میں شعر کا ذوق پایا جاتا تھا اور اچھی شاعری اور اچھے شاعروں کی ہر کوئی قدر کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن کریم جیسے کلام نے گویا اچانک کھلبلی مچا دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کلام کے گرویدہ ہونے لگے تھے ‘ اس کی فصاحت و بلاغت انہیں مسحور کیے دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ جو شخص قرآن کو ایک بار سن لیتا وہ اسے بار بار سننا چاہتا۔ یہ صورت حال مشرکین کے لیے بہت تشویش ناک تھی۔ وہ ہر قیمت پر لوگوں کو اس کلام سے دور رکھنا چاہتے تھے اور دن رات اس کی اس ” قوت تسخیر “ کا توڑ ڈھونڈنے کی فکر میں تھے۔ چناچہ نضر بن حارث نے اپنے فہم کے مطابق اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ وہ شام سے ناچ گانے والی ایک خوبصورت لونڈی خرید لایا اور اس کی مدد سے مکہ میں اس نے راتوں کو ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرانا شروع کردیں۔ بظاہر یہ ترکیب بہت کامیاب اور مؤثر تھی کہ لوگ ساری ساری رات ناچ گانے سے لطف اندوز ہوں ‘ اس کے بعد دن کے بیشتر اوقات میں وہ سوتے رہیں اور اس طرح انہیں قرآن سننے یا اپنے اور اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی کبھی فرصت ہی میسر نہ آئے۔ یہاں ضمنی طور پر اس صورت حال کا تقابل آج کے اپنے معاشرے سے بھی کرلیں۔ مکہ میں تو ایک نضربن حارث تھا جس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا ‘ لیکن آج ہمارے ہاں سپورٹس میچز ‘ میوزیکل کنسرٹس (concerts) اور بےہودہ فلموں کی صورت میں لہو و لعب اور فحاشی و عریانی کا سیلاب بلا گھر گھر میں داخل ہوچکا ہے جو پورے معاشرے کو اپنی رو میں بہائے چلا جا رہا ہے۔ فحاشی و عریانی کے تعفنّ کا یہ زہر ہمارے نوجوانوں کی رگوں میں اس حد تک سرایت کرچکا ہے کہ بحیثیت مجموعی ان کے قلوب و اَذہان میں موت یا آخرت کی فکر سے متعلق کوئی ترجیح کہیں نظر ہی نہیں آتی۔ ان میں سے کسی کو (الّا ما شاء اللہ) اب یہ سوچنے کی فرصت ہی میسر نہیں کہ وہ کون ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرف جا رہا ہے ؟ اس کی زندگی کا مقصد و مآل کیا ہے ؟ اس کے ملک کے حالات کس رخ پر جا رہے ہیں اور اس ملک کا مستقبل کیا ہے ؟ اس سب کچھ کے مقابلے میں ذہن اقبالؔ کے ابلیس کی سوچ تو گویا بالکل ہی بےضرر تھی جس نے بقول اقبال ؔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے کارندوں کو یہ سبق پڑھایا تھا : ؂ مست رکھو ذکر و فکر صبح گا ہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے ! گویا اس دور میں ابلیس کو معلوم تھا کہ مسلمان کسی قیمت پر بھی ” عریاں الحاد “ کے جال میں پھنسنے والا نہیں۔ اس لیے وہ کھل کر سامنے آنے کی بجائے ” مزاج خانقاہی “ کا سہارا لے کر مسلمانوں کو ” شرع پیغمبر “ سے برگشتہ کرنے کا سوچتا تھا۔ مگر آج صورت حال یکسر مختلف ہے۔ آج ابلیس کی ” جدوجہد “ کی کرامت سے ” نوجواں مسلم “ اس قدر ” جدت پسند “ ہوچکا ہے کہ فحاشی و عریانی کے مظاہر کو وہ جدید فیشن اور نئی ترقی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا کے سٹیج پر ابلیسیت کوئی بہروپ بدلنے کا تکلفّ کیے بغیر اپنی اصل شکل میں برہنہ محو رقص ہے اور ہماری نئی نسل کے نوجوان بغیر کسی تردّد کے اپنی تمام ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر اس تماشہ کو دیکھنے میں رات دن مگن ہیں۔ گویا یہی ان کی زندگی ہے اور یہی زندگی کا مقصد و مآل !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 That is, "On the one hand, there is this Mercy and Guidance sent down by Allah, of which some people arc taking full advantage, and on the other, there are also some unfortunate people living side by side with the fortunate ones, who are adopting this sort of attitude as against the Revelations of Allah. " 6 The words lahv al-hadith in the Text imply such a thing as may allure and absorb a listener completely and make him heedless of everything else around him. Lexically, there is nothing derogatory in these words, but in custom and usage they apply to evil and useless and vain things, such as gossip, nonsensical talk, joking and jesting, legends and tales, singing and merry-making, etc. "To buy" alluring tales may also mean that the person concerned adopts falsehood instead of the Truth, turns away from the guidance and turns to those things which can neither benefit him in the world nor in the Hereafter. But this is the metaphorical meaning. The real meaning of the sentence is that a person should purchase an absurd and useless thing for his money, and this is supported by many traditions. Ibn Hisham has related on the authority of Ibn Ishaq that when the disbelievers of Makkah could not stop the message of the Holy Prophet from spreading in spite of their best efforts, Nadr bin Harith said to the people of Quraish: "The way you are counteracting this man will avail you nothing. He has lived a lifetime among you. Until now he was the best of your men morally: he was the most truthful and the most trustworthy person among you. Now you say that he is a sorcerer and enchanter and a poet and a madman. Who will believe aII this? Don't the people know the way the sorcerers talk? Don't they know the enchanters and the way they conduct their business? Are they unaware of poetry and of. the states of madness? Which of these accusations sticks to Muhammad (upon whom be Allah's peace) by exploiting which you would turn the people's attention away from him? Look! I will tell you how to deal with him." Then he left Makkah for Iraq and managed to get from there legends and tales about the kings of Iran and Rustam and Isfandyar and started to arrange tale-telling parties to distract the people from the Qur'an and to absorb them in the tales. (Ibn Hisham. vol. I, pp. 320-321). The same tradition has been cited by Vahidi in Asbab un Nazul on the authority of Kalbi and Muqatil. And according to Ibn 'Abbas, Nadr had bough singing girls also for the purpose. Whenever he heard that someone was coming under the Holy Prophet's influence, he would impose a singing girl an him with the instruction: "Feed him and entertain him with your songs so that he is absorbed in you and distracted from the other side." This was the same device which the arch-criminals of the nations have been employing in every age. They try to get the common people so absorbed in fun and sport and musical entertainment's in the name of culture that they are left with no time and sense to attend to the serious problems of life, and in their heedlessness they do not even feel what destruction they are being driven to. The same commentary of lahv al-hadith has been reported from a large number of the Companions and their immediate followers. 'Abdullah bin Mas'ud was asked, 'What does lahv al-hadith mean in this verse ?" He said thrice emphatically. 'By God! it means singing." (Ibn Jarir, Ibn Abi Shaibah. Hakim, Baihaqi). Similar traditions have been reported from scholars like 'Abdullah bin' Abbas, Jabir bin 'Abdullah, Mujahid, 'Ikrimah, Said bin Jubair, Hasan Basri: and Makhul. Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim and Tirmidhi have related on the authority of Hadrat Abu Umamah Baheli that the Holy Prophet said, "It is not lawful to buy and sell and trade in singing girls nor is it lawful to take their price." In another tradition, the last sentence is to the effect: ... it is unlawful to eat their price" . Yet another tradition from Abu Umamah is to the effect: To teach music to slave-girls and to trade in them is not lawful and their price is forbidden." AII these Ahadith also elucidate that the verse containing lahv al-hadith was sent down in this very connection. Qadi Abu Bakr Ibn al-'Arabi has related in the Ahkam alQur'an a Hadith from Hadrat 'Abdullah bin Mubarak and Imam Malik on the authority of Hadrat Anas, saying, that the Holy Prophet said: 'He who hears the song of a singing-girl in a musical concert, will have molten lead poured into his ear on the Day of Judgement" (In this connection, one should also note that the culture" of music in those days flourished almost entirely through the slave-girls: Free women had not yet become "artists" . That is why the Holy Prophet spoke about trading in slave-girls, and described their wages and earnings as their price. and used the word qaynah for the singing-girl, which is specifically used for a slave-girl in Arabic). 7 "Without any knowledge" may be connected with "buys" and also "lead...astray". In the first case, it would mean: 'The ignorant foolish person buys this alluring thing and dces not know that he is buying a ruinous thing at the cost of a highly valuable thing. On the one hand, there are the Divine verses which are full of wisdom and guidance, which he can obtain without any cost, but he turns away from them. On the other, there are these absurd things, which are disastrous for his morals and he is expending his wealth to obtain them. " In the second case, it would mean: "He has come out to guide the people without any knowledge: he does not know what burden of sin he is taking on himself by trying to lead the people astray from Allah's Way." 8 That is, This person wants to make fun of the Divine Revelations by alluring and absorbing the people in legends and tales and music. He intends that the invitation of the Qur'an should be derided and ridiculed and laughed away. He plans to fight the Religion of God with the strategy that as soon as Muhammad (upon whom be Allah's peace) should come out to recite Revelations of God to the people, there should be a charming, sweet-voiced damsel giving her performance in a musical concert. on the one hand, and a glib-tongued story teller telling tales and legends of Iran, on the other, and the people should become so absorbed in these cultural activities" that they may not be in a mood to hear anything about God and the morals and the Hereafter. " 9 This punishment will be in accordance with their crime. They want to debase and disgrace Go's Religion, His Revelations and His Messenger; God will rake His vengeance on them by giving them a disgraceful torment.

سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :5 یعنی ایک طرف تو خدا کی طرف سے یہ رحمت اور ہدایت آئی ہوئی ہے جس سے کچھ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ دوسری طرف انہی خوش نصیب انسانوں کے پہلو بہ پہلو ایسے بدنصیب لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کی آیات کے مقابلہ میں یہ طرز عمل اختیار کر رہے ہیں ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :6 اصل لفظ ہیں لَھُوَ الْحَدِیث یعنی ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے ۔ لغت کے اعتبار سے تو ان الفاظ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں ہے ۔ لیکن استعمال میں ان کا اطلاق بری اور فضول اور بے ہودہ باتوں پر ہی ہوتا ہے ، مثلاً گپ ، خرافات ، ہنسی مذاق ، داستانیں ، افسانے اور ناول ، گانا بجانا ، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ۔ لہو الحدیث خریدنے کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ حدیث حق کو چھوڑ کر حدیث باطل کو اختیار کرتا ہے اور ہدایت سے منہ موڑ کر ان باتوں کی طرف راغب ہوتا ہے جن میں اس کے لئے نہ دنیا میں کوئی بھلائی ہے نہ آخرت میں ۔ لیکن یہ مجازی معنی ہیں ۔ حقیقی معنی اس فقرے کے یہی ہیں کہ آدمی اپنا مال صرف کر کے کوئی بیہودہ چیز خریدے ۔ اور بکثرت روایات بھی اسی تفسیر کی تائید کرتی ہیں ۔ ابن ہشام نے محمد بن اسحاق کی روایت نقل کی ہے کہ جب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی دعوت کفار مکہ کی ساری کوششوں کے باوجود پھیلتی چلی جا رہی تھی تو نَضَر بن حارِث نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ جس طرح تم اس شخص کا مقابلہ کر رہے ہو اس سے کام نہ چلے گا ۔ یہ شخص تمہارے درمیان بچپن سے ادھیڑ عمر کو پہنچا ہے ۔ آج تک وہ اپنے اخلاق میں تمہارا سب سے بہتر آدمی تھا ۔ سب سے زیادہ سچا اور سب سے بڑھ کر امانت دار تھا ۔ اب تم کہتے ہو کہ وہ کاہن ہے ، ساحر ہے ، شاعر ہے ، مجنوں ہے ۔ آخر ان باتوں کو کون باور کرے گا ۔ کیا لوگ ساحروں کو نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کی جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ کاہن کس قسم کی باتیں بنایا کرتے ہیں ؟ کیا لوگ شعر و شاعری سے ناواقف ہیں ؟کیا لوگوں کو جنون کی کیفیات کا علم نہیں ہے ؟ ان الزامات میں سے کونسا الزام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر چسپاں ہوتا ہے کہ اس کا یقین دلا کر تم عوام کو اس کی طرف توجہ کرنے سے روک سکو گے ۔ ٹھہرو ، اس کا علاج میں کرتا ہوں ۔ اس کے بعد وہ مکہ سے عراق گیا اور وہاں سے شاہان عجم کے قصے اور رستم و اسفندیار کی داستانیں لا کر اس نے قصہ گوئی کی محفلیں برپا کرنا شروع کر دیں تاکہ لوگوں کی توجہ قرآن سے ہٹے اور ان کہانیوں میں کھو جائیں ( سیرۃ ابن ہشام ، ج ۱ ، ص۳۲۰ ۔ ۳۲۱ ) یہی روایات اسباب النزول میں واحدی نے کَلْبی اور مُقاتِل سے نقل کی ہے ۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس پر مزید اضافہ کیا ہے کہ نَضْر نے اس مقصد کے لئے گانے والی لونڈیاں بھی خریدی تھیں ۔ جس کسی کے متعلق وہ سنتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں سے متاثر ہو رہا ہے اس پر اپنی لونڈی مسلط کر دیتا اور اس سے کہتا کہ اسے خوب کھلا پلا اور گانا سنا تاکہ تیرے ساتھ مشغول ہو کر اس کا دل ادھر سے ہٹ جائے ۔ یہ قریب قریب وہی چال تھی جس سے قوموں کے اکابر مجرمین ہر زمانے میں کام لیتے رہے ہیں ۔ وہ عوام کو کھیل تماشوں اور رقص و سرود ( کلچر ) میں غرق کر دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں زندگی کے سنجیدہ مسائل کی طرف توجہ کرنے کا ہوش ہی نہ رہے اور اس عالم مستی میں ان کو سرے سے یہ محسوس ہی نہ ہونے پائے کہ انہیں کس تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ لہوالحدیث کی یہی تفسیر بکثرت صحابہ و تابعین سے منقول ہے ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں لہوالحدیث سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا ھو واللہ الغناء ، خدا کی قسم اس سے مراد گانا ہے ۔ ( ابن جریر ) ابن ابی شیبہ ، حاکم بیہقی ) ۔ اسی سے ملتے جلتے اقوال حضرت عبداللہ بن عباس ، جابر بن عبداللہ ، مجاہد ، عِکرمہ ، سعید بن جُبیر ، حسن بصری اور مَکُحول رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں ۔ ابن ابی جریر ، ابن ابی حاتم اور ترمذی نے حضرت ابو امامہ باہلی کی یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا یحل بیع المغنیات ولا شراؤھن ولا التجارۃ فیھن ولا اثمانھن مغنیہ عورتوں کا بیچنا اور خریدنا اور ان کی تجارت کرنا حلال نہیں ہے اور نہ ان کی قیمت لینا حلال ہے ۔ ایک دوسری روایت میں آخری فقرے کے الفاظ یہ ہیں اکل ثمنھن حرام ۔ ان کی قیمت کھانا حرام ہے ۔ ایک اور روایت انہی ابو امامہ سے ان الفاظ میں منقول ہے کہ لا یحل تعلیم المغنیات ولا بیعھن ولا شراؤھن و ثمنھن حرام ۔ لونڈیوں کو گانے بجانے کی تعلیم دینا اور ان کی خرید و فروخت کرنا حلال نہیں ہے ، اور ان کی قیمت حرام ہے ۔ ان تینوں حدیثوں میں یہ صراحت بھی ہے کہ آیت مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیثِ ۔ ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ قاضی ابوبکر ابن العربی احکام القرآن میں حضرت عبداللہ بن مبارک اور امام مالک کے حوالہ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من جلس الیٰ قینۃ یسمع منھا صُبّ فی اذنیہ الاٰنُک یَوم القیٰمۃ ۔ جو شخص گانے والی مجلس میں بیٹھ کر اس کا گانا سنے گا قیامت کے روز اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا ۔ ( اس سلسلے میں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ اس زمانے میں بجانے کی ثقافت تمام تر ، بلکہ کلیۃً لونڈیوں کی بدولت زندہ تھی ۔ آزاد عورتیں اس وقت تک آرٹسٹ نہ بنی تھیں ۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مغنیات کی بیع و شرا کا ذکر فرمایا اور ان کی فیس کو قیمت کے لفظ سے تعبیر کیا اور گانے والی خاتون کے لئے قَینَہ کا لفظ استعمال کیا جو عربی زبان میں لونڈی کے لئے بولا جاتا ہے ) ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :7 علم کے بغیر کا تعلق خریدتا ہے کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور بھٹکادے کے ساتھ بھی ۔ اگر اس کا تعلق پہلے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ وہ جاہل اور نادان آدمی اس دلفریب چیز کو خریدتا ہے اور کچھ نہیں جانتا کہ کیسی قیمتی چیز کو چھوڑ کر وہ کس تباہ کن چیز کو خرید رہا ہے ۔ ایک طرف حکمت اور ہدایت سے لبریز آیات الٰہی ہیں جو مفت اسے مل رہی ہیں مگر وہ ان سے منہ موڑ رہا ہے ۔ دوسری طرف یہ بیہودہ چیزیں ہیں جو فکر و اخلاق کو غارت کر دینے والی ہیں اور وہ اپنا مال خرچ کر کے انہیں حاصل کر رہا ہے ۔ اور اگر اسے دوسرے فقرے سے متعلق سمجھا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ علم کے بغیر لوگوں کی رہنمائی کرنے اٹھا ہے ، اسے یہ شعور نہیں ہے کہ خلق خدا کو راہ خدا سے بھٹکانے کی کوشش کر کے وہ کتنا بڑا مظلمہ اپنی گردن پر لے رہا ہے ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :8 یعنی یہ شخص لوگوں کو قصے کہانیوں اور گانے بجانے میں مشغول کر کے اللہ کی آیات کا منہ چڑانا چاہتا ہے ۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ قرآن کی اس دعوت کو ہنسی ٹھٹھوں میں اڑا دیا جائے ۔ یہ خدا کے دین سے لڑنے کے لیے کچھ اس طرح کا نقشۂ جنگ جمانا چاہتا ہے کہ ادھر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خدا کی آیات سنانے نکلیں ، ادھر کہیں کسی خوش اندام و خوش گل مغنیہ کا مجرا ہو رہا ہو ، کہیں کوئی چرب زبان قصہ گو ایران توران کی کہانیاں سنا رہا ہو ، اور لوگ ان ثقافتی سرگرمیوں میں غرق ہو کر اس موڈ ہی میں نہ رہیں کہ خدا اور آخرت اور اخلاق کی باتیں انہیں سنائی جا سکیں ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :9 یہ سزا ان کےجرم کی مناسبت سے ہے ۔ وہ خدا کے دین اور اس کی آیات اور اس کے رسول کی تذلیل کرنا چاہتے ہیں ۔ خدا اس کے بدلے میں ان کو سخت ذلت کا عذاب دے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: جیسا کہ اوپر سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، قرآن کریم کی تاثیر ایسی تھی کہ جو لوگ ابھی ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی چھپ چھپ کر قرآن کریم سنا کرتے تھے جس کے نتیجے میں بعض لوگ اسلام قبول بھی کرلیتے تھے، کافروں کے سردار اس صورت حال کو اپنے لئے ایک خطرہ سمجھتے تھے، اس لئے چاہتے تھے کہ قرآن کریم کے مقابلے میں کوئی ایسی دلچسپ صورت پیدا کریں کہ لوگ قرآن کریم کو سننا بند کردیں، اسی کوشش میں مکہ مکرمہ کا ایک تاجر نضر بن حارث جو اپنی تجارت کے لئے غیر ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا، ایران سے وہاں کے بادشاہوں کے قصوں پر مشتمل کتابیں خرید لایا، اور بعض روایات میں ہے کہ وہ وہاں سے ایک گانے والی کنیز بھی خرید کر لایا، اور لوگوں سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عاد وثمود کے قصے سناتے ہیں، میں تمہیں ان سے زیادہ دلچسپ قصے اور گانے سناؤں گا، چنانچہ لوگ اس کے گرد اکھٹے ہونے لگے، یہ آیت اس واقعے کی طرف اشارہ کررہی ہے، نیز اس میں یہ اصول بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر وہ دل بہلانے کا مشغلہ جو انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل اور بے پروا کرے، ناجائز ہے کھیل کود اور دل بہلانے کے صرف وہ مشغلے جائز ہیں جن میں کوئی فائدہ ہو، مثلاً جسمانی یا ذہنی ورزش، یا تھکن دور کرنا، اور جن کی وجہ سے نہ کسی کو تکلیف پہنچے اور نہ وہ انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل کریں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو قرآن شریف کی نصیحت کی آیتیں سن کر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسول کے سچے ہونے پر جم گئے اس لیے انہوں نے دنیا میں جو کچھ نیک وبد کیا قیامت کے دن اس کے حساب و کتاب وجزا وسزا کے سچ ہونے کا پورا یقین کیا اور اس یقین کے سبب سے نماز زکوٰۃ اس طرح کے نیک کاموں میں لگے رہے اب اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو خود بھی نصیحت کی بات نہیں سنتے اور لوگوں کو بھی کھیل تماشے کی باتوں میں لگا کہ نیک کام سے اور قرآن شریف روز مرہ کی نصیحت کی باتیں جو نازل ہوتی تھیں ان کے سننے سے روکتے ہیں تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ١ ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے لیکن جو یبر کے حوالہ سے ہے تفسیر ابن جریر اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے مشرکوں میں ایک شخص نصرین ابن حارث تھا وہ عراق کی طرف سوداگری کو جایا کرتا تو کبھی تو گانے والی لونڈیاں خرید لاتا اور کبھی رستم اور اسفند یار کے قصہ کی کتابیں خرید لاتا اور مکہ کے لوگوں کو وہ قصہ سنا کر اور گانا سنوا کر قرآن شریف کی نصیحت کی باتیں سننے سے باز رکھتا تھا اس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہی شان نزول مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت سے بھی ہے جس کو حاکم میں عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت سے بھی ہے جس کو حاکم نے صحیح کہا ٢ ؎ ہے۔ نیک کاموں میں سے اوپر کی آیتوں میں فقط نماز اور زکوٰۃ کا ذکر اس واسطے فرمایا کہ یہ سورت ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی ہے روزے اور حج کے فرض ہونے کا حکم اس وقت تک نہیں آیا تھا ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں روزے اور حج کے فرض ہونے کا حکم آیا ہے زکوۃ کے حکم میں بھی اگرچہ علماء نے یہ اختلاف کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں زکوۃ کا حکم نازل ہوا ہے مگر صحیح ابن خزیمہ میں حافظ ابن خزیمہ نے اسی بات کو قوی ٹھہرایا ہے کہ زکوٰۃ کا حکم ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوا ٣ ؎ ہے اور زکوۃ کے وصول کا انتظام ہجرت کے بعد مدینہ میں قائم ہوا ہے اکثر مکی آیتوں میں جو زکوۃ کا ذکر ہے اس سے حافظ ابن خزیمہ کے اس قول کی پوری تائید بھی ہوتی ہے کسی کے ساتھ کوئی نیکی کرے تو جس طرح اس کو احسان کہتے ہیں اس طرح نماز روزہ حج زکوۃ ان کاموں کے اچھی طرح ادا کرنے کو بھی احسان کہتے ہیں جب یہ نیک عمل دل سے ادا کئے جاویں یا ان کے ادا کرنے میں ریا کاری کا کچھ دخل ہو تو ان کے ادا کرنے کو احسان نہیں کہتے بلکہ جب یہ عمل بالکل خالص نیت سے خاص اللہ کے واسطے ادا کئے جاویں تو اس طرح کے ادا کرنے کو شرع میں احسان کہتے ہیں چناچہ صحیحین وغیرہ کی حضرت عمر (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی وہ مشہور حدیث ١ ؎ جس میں ایک سائل کی صورت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) صحابہ کو دین کی باتیں سکھانے آئے تھے اس حدیث میں جب حضرت جبرئیل نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے احسان کے معنے پوچھے تو آپ نے فرمایا کہ احسان کا اول درجہ تو یہ ہے کہ آدمی اس طرح دل لگا کر خالص دل سے عبادت کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ درجہ نصیب نہ ہو تو عبادت کے وقت اتنا تو ضرور دل میں خیال رکھے کہ خدا تعالیٰ اس بندہ کو دیکھ رہا ہے اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے محسنین کا لفظ جو فرمایا ہے اس کے معنے بھی ہیں کہ جو لوگ خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ان کے لیے عقبیٰ میں بڑا اجر ہے۔ اور ان نیک لوگوں کے بر خلاف وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جس طرح کے لوگوں کا ذکر اس آیت میں ہے وہ خود بھی گمراہ میں اور دوسرے لوگوں کو بھی بہکا کر گمراہی کا راستہ سکھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا ذاتی گمراہی کا جدا اور لوگوں کو بہکانے کا جدا۔ یہ حدیث عذاب مھین کی گویا تفسیر ہے کیونکہ یہ نسبت اکہرے عذاب کے دوہرے عذاب میں جو ذلت کی زیادتی ہے وہ ظاہر ہے۔ (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٥٩ ج ٥ (ص ٦٠ ج ٢١) میں یہ شان نزول مذکور نہیں (ع ‘ ح) (٢ ؎ ایضا۔ ) (٣ ؎ فتح الباری ص ١١ ج ٢۔ ) (١ ؎ مشکوٰہ کتاب الایمان حدیث اول۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(31:6) ومن الناس : ای بعض من الناس اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں۔ من یشتری : من موصولہ بمعنی الذی ہے یشتری مضارع واحد مذکر غائب اشتراء (افتعال) مصدر۔ جو خریدتے ہیں۔ اختیار کرتے ہیں۔ راغب ہوتے ہیں۔ لہم الحدیث : لھو مضاف الحدیث مضاف الیہ۔ لیکن اجافت بتقدیر من ہے۔ اصل میں لہوا من الحدیث تھا۔ فضول بیہودہ۔ بےسروپا قصوں کا کھیل تماشہ۔ الکشاف میں ہے الاضافۃ بمعنی من (تبعیضیہ) کانہ قیل : ومن الناس من یشتری بعض الحدیث الذی ھواللھو منہ۔ اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں کہ خرید کرتے ہیں بعض ایسی (بےہودہ اور بےسروپا) باتیں جو محض کھیل تماشہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مفسرین اس آیت کے شان نزول کے متعلق لکھتے ہیں :۔ کہ مکہ میں ایک شخص نضر بن حارث تھا جو اپنے کاروبار کے سلسلہ میں ایران۔ عراق۔ شام وغیرہ اکثر جایا کرتا تھا۔ وہاں سے وہ رستم واسفند یار کے قصے۔ ایران کے بادشاہوں کی جنگوں کی کہانیاں ، بہادروں کے افسانے اور حیرہ کے بادشاہوں کے قصے وغیرہ لے آتا تھا۔ اور جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا کلام پڑھ کر سنانے لگتے تو یہ بالمقابل اپنی مجلس جما لیتا اور کہتا کہ ان چیزوں میں دل کے لئے شراب و کباب کی پیش کش بھی کرتا ۔ جاہل اور علمی سند سے خالی لوگ نفس پرستی کے دام میں آکر ادھر لگ جاتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیضل میں لام تعلیل کا ہے یضل مضارع (منصوب بوجہ لام تعلیل) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر۔ تاکہ گمراہ کر دے (دوسروں کو) اس میں ضمیر فاعل وہی ہے جو یشتری میں ہے۔ سبیل اللہ : اللہ کا دین۔ یا تلاوت قرآن مجید۔ بغیر علم۔ بغیر کسی علمی سند کے یہ یشتری سے متعلق ہے۔ ای یشتری ذلک بغیر علم۔ یعنی اس فعل یا تجارت کے نتائج سے بیخبر ہوکر۔ یتخذھا۔ مضارع منصوب بوجہ عطف علی یضل ، یضل کا معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب سبیل کے لئے ہے جو مذکر و مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ ھزوا۔ مصدر بمعنی اسم فعول مھزا وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ ویتخذھا ھزوا اور اللہ کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اولئک یہ لوگ جو اللہ کے راستے سے غافل کردینے والا سودا کرتے ہیں، دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور اللہ کی دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مھین۔ اسم فاعل واحد مذکر اھانۃ مصدر (افعال) سے ھون مادہ۔ ذلیل کرنے والا۔ تتلی۔ مضارع مجہول ۔ واحد مؤنث غائب تلاوۃ مصدر تلو مادہ۔ پڑھی جاتی ہے۔ یہاں آیات کے لئے فعل آیا ہے بمعنی پڑھی جاتی ہیں۔ علیہ۔ اس میں ہ ضمیر واھد مذکر غائب کا مرجع اسم موصول من ہے۔ ومن الناس من یشتری۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو خریدتے ہیں۔ اور پھر اسی رعایت سے یشتری ۔ یضل ۔ یتخذھا میں ضمیر فاعل واحد مذکر غائب کو بمعنی جمع لیا ہے۔ اس لحاظ سے واذا تتلی علیہ ایتنا کا ترجمہ ہوگا اور جب انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی ضمیر واحد مذکر غائب کو جمع کے معنی میں لیا جائے گا۔ بعض نے ومن الناس من یشتری کا ترجمہ کیا ہے :۔ اور لوگوں میں وہ بھی ہے جو خرید کرتا ہے :۔۔ اور ہر آیت کے آخر تک یہی صیغہ اختیار کیا ہے اس صورت میں علیہ میں ہ ضمیر اس کی ظاہری صورت میں واحد مذکر غائب کے لئے ہوگی اور واذی تتلی علیہ ایتنا کا ترجمہ ہوگا اور جب اس کو ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ۔ ولی۔ ماضی واحد مذکرغائب تولیۃ (تفعیل) مصدر۔ پیٹھ دے کر۔ یا منہ موڑ کر بھاگنا۔ یہاں ماضی بمعنی حال آیا ہے۔ وہ منہ موڑ لیتا ہے۔ مستکبرا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ منصوب استکبار (استفعال) مصدر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا۔ سرکشی کرنے والا۔ نصب بوجہ ولی سے حال ہونے کے ہے۔ کان لم یسمعھا : یشبہ حالہ فی ذلک حال من لم یسمعھا۔ اس کا اس شخص جیسا ہے جس نے اسے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ جملہ ولی سے حال ہے یا ضمیر مستکبرا سے کانہ سے اور ضمیر ہ ضمیر شان ہے۔ جیسے اس نے سنا ہی نہیں۔ کان فی اذنیہ وقرا : کان حرف مشبہ بفعل۔ اذنی تثنیہ اذن واحد مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کے دونوں کانوں میں۔ وقرا۔ ثقل، بوجھ گرانی۔ بہرہ پن۔ الوقر۔ کان میں بھاری پن۔ وقرت اذنہ کان میں ثقل ہونا۔ وقر۔ محض بوجھ کو بھی کہتے ہیں ای الحمل الثقیل بھاری بوجھ۔ گدھے یا خچر کے ایک بوجھ کو بھی وقر کہتے ہیں ۔ (a donkey load) جیسا کہ اونٹ کے ایک بوجھ کو وسق کہتے ہیں۔ (a cameload) الوقار کے معنی سنجیدگی اور حلم کے ہیں۔ وقرا منصوب بوجہ اسم کان کے ہے۔ ای کان وقرا فی اذنیہ۔ گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے یعنی وہ دونوں کانوں سے بہرا ہے یہ جملہ ضمیر لم یسمعھا سے حال ہے یا اس سے بدل ہے (بدل کل)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 حسن بصری فرماتے ہیں لھو الحدیث (واہی باتوں) سے مراد وہ تمام فضول اور بےہودہ باتیں ہیں جو آدمی کو اپنے میں مشغول کر کے نیکی اور بھلائی کے راستہ سے روک دیں جیسے جھوٹے افسانے ناول قصے کہانیاں ہنسی مذاق گانا بجانا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں فالاضافۃ بمعنی من البیانیۃ او التبعیضیۃ بنائو علی مذھب اب کیسان بمعنی الام علی مذھب اکثر الماخرین وھو الاصح (کذافی لووح) اکثر صحابہ وتابعین نے اس کی تفسیر خاص طور پر ” گانا بجانا “ سے کی ہے۔ (قرطبی) حضرت عبداللہ بن معسود سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں ” لہو الحدیث “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا :” الغنآء واللہ الذی لا الہ الا ھو “ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس سے مراد گانا ہے۔ امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گانے اور اس کے سازوں کی مذمت میں نازل ہوئی ہے۔ (ابن کثیر) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو عجمیوں (یارانیوں) کے قصے کہانیاں خرید کر لایا تھا (شوکانی) واحدی نے کلبی اور مجاہد سے بھی اس آیت کی شان نزول یہی نقل کی ہے حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ نضربن حارث نے گانے بجانے والی دو لونڈیاں بھی خرید کر رکھی تھیں جس کو دیکھتا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہو رہا ہے اس پر اپنی کوئی لونڈی مسلط کردیتا۔ وہ اسے اپنے گانے بجانے سے خوب مست رکھتی اور پھر وہ اس شخص سے کہتا کہ جس نماز روزہ کی طرف محمد (ﷺ) دعوت دیتے ہیں وہ بہتر ہے یا یہ گانا بجانا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ علما نے لکھا ہے، ہوسکتا ہے کہ ان سب کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہو قال الالوسی وارمحسن تفسیرہ بمایعم ذالک او حضرت ابن عباس کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے جو کہ الادب المفرد بخاری اور سنن بہیقی میں ہے۔ وہ فرماتے ہیں ” ھو العاء واشباھہ یعنی ” لھو الحدیث سے موسیقی اور اس قسم کی دوسری چیزیں مراد ہیں اور یہاں اشترا خریدنے سے مراد قرآن کی بجائے اس سے لذت و سرور حاصل کرنا ہے۔ الغرض متعدد آثار و اقوال سلف میں گانے کی مذمت مذکور ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے گانے گانے والے اور اس کے سننے والے پر لعنت فرمائی ہے اور آپ نے فرمایا ہے گانا انسان کے دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس پات اگتا ہے۔ ” تاتار خانیہ “ میں مذکور ہے کہ ’ دگانا تمام مذاہب میں حرام ہے۔ “ امام مالک سے سماع کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا : یہ تو ہمارے دور کے فاسق وفاجر لوگوں کا کام ہے اور ابن الصلاح نے تو مسماع کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے خصوصاً وہ سماع جو فی زمائنا صوفیہ کرام نے ایجاد کر رکھا ہے اور اسے اذکار و عبادات میں داخل کرلیا ہے۔ اس کے حرام ہونے کے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے۔ سلف ہمیشہ ان باتوں سے دور رہے ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے روحی المعانی) دور میں جس چیز کو ہم نے فنون لطیفہ کے نام سے اسلامی تمدن کا جز قرار دے رکھا ہے اسی کے متعلق قرآن نے ’ دضلالت عن سبیل اللہ ہونے کا اعلان کیا تھا فوا اسفا علی مافرطنا 12

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 11۔ یشتری (خریدتا ہے) ۔ لھو (فضول۔ بےہودہ کام) ۔ الحدیث (بات) ۔ ھزو (مذاق) ۔ ولی (وہ پلٹ گیا) ۔ اذن (کان) ۔ القیٰ (اس نے ڈالا) ۔ تمید (وہ ایک طرف ڈھلک جاتا ہے) ۔ زوج (جوڑا (شوہر۔ بیوی) ۔ خلق (بناوٹ۔ پیدائش) ۔ تشریح : آیت نمبر (6 تا 11) ۔ ” سورة لقمان کی ان آیات میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے خطاب عام ہے لیکن واحد کے صیغے اور واحد کی ضمیریں لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص شخص تھا جس کی بد ترین سازشوں اور کوششوں سے اہل ایمان کو خبر دار کیا جارہا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں تاکہ ملت اسلامیہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ احادیث کی معتبر کتابوں میں نضر ابن حارث کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ شخص مشرکین مکہ میں سے ایک ہوشیار تجارت پیشہ آدمی تھا جو اپنی تجارت کے فروغ کے لئے دنیا بھر کے ملکوں کا سفر کرتا رہتا تھا۔ اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآنی تعلیمات سے ایک خاص قسم کی نفرت تھی۔ چناچہ ایک مرتبہ وہ ملک فارس گیا وہاں اس کو ایرانی بادشاہوں اور رستم و اسفند یار جیسے بہادروں کے قصے نظر پڑے وہ ان کو خرید کرلے آیا اس نے مشرکین مکہ سے یہ کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں قوم عاد، قوم ثمود اور دوسرے تباہ و برباد ہونے والی قوموں کے قصے سناتے اور ڈراتے رہتے ہیں۔ میں تمہارے لئے ایران کے بہادروں اور بادشاہوں کے قصے خرید کر لایا ہوں ان کو سنو۔ درمنشور میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ وہ شخص ایک گانے والی کنیز (لونڈی) کو بھی خرید کرلے آیا تھا۔ قصے کہانیوں کے ذریعہ وہ لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں سے اور تلاوت کلام اللہ سے روکنے کی کوشش کرتا اور اس کنیز سے گانے سنوا کر کہتا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو تمہیں قرآن سنا کر یہ کہتے ہیں کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو اور (اللہ کی راہ میں) جانوں کا نذرانہ پیش کرو۔ ان خشک باتوں سے بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ تم آئو۔ ان باتوں کو چھوڑو، گانے سنو اور خوشیاں منائو۔ چونکہ آدمی قصے کہانیاں بڑے شوق سے سنتا ہے اس لئے نضر ابن حارث کی ان کوششوں سے کفار مکہ کو ایک مشغلہ ہاتھ آگیا اور وہاں کے نوجوان اور بوڑھے مردوں، عورتوں نے ان میں خاص دلچسپی لینا شروع کردی۔ اس واقعہ کو پڑھ کر یہ سوچتا ہوں کہ یہ تو نزول قرآن کے زمانے کی باتیں ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو ہمارے دور میں ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں نضر ابن حارث پیدا ہوچکے ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ بھولے بھالے لوگوں کو قصے کہانیوں، ناولوں، افسانوں، گانے بجانے اور میلوں ٹھیلوں کی طرف اس قدر تیزی سے لارہے ہیں کہ عام آدمی کو جتنی دلچسپی ان چیزوں سے ہے اتنی دلچسپی قوموں کے عروج وزوال اور ان کے برے انجام سے نہیں ہے۔ دین کی بات کرنا ” ملائیت “ ہے اور فضول چیزوں کی طرف لا نے کو فیشن قرار دیا جاچکا ہے۔ یہ مرض اب ایک خطر ناک وبائی شکل اختیار کرچکا ہے اور کینسر کی طرح دین کی تعلیمات اور اخلاقی قدروں کو تیزی سے چاٹتا چلا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اس عالمی سازش اور گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ نے ” لھوالحدیث “ کہہ کر ان تمام بےہودہ کا روائیوں کو دو لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔ ” لھو “ کے معنی ہیں بےفائدہ، بےہودہ، لائق نفرت، دین سے غافل کرنے والے کھیل تماشے، گانے بجانے، جھوٹے قصے، کہانیاں، ناول، افسانے وغیرہ سب چیزیں شامل ہیں۔ ” لھوالحدیث “ وہ باتیں اور مشغلے جو انسان کو دین اسلام اور اس کی سچائیوں سے غافل کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں لوگوں کے اخلاق و کردار کو تباہ کرنے اور بگاڑنے والی باتوں کا ذکر کرکے فرمایا کہ ان فضول اور بےہودہ باتوں سے انسانیت کو سوائے زندگی کے بگاڑ کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حالانکہ اصل چیز دنیا اور آخرت کی زندگی کو سنوارنا اور بنانا ہے۔ قصے کہانیاں وقت کو ضائع کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر شیطانوں نے ان فضولیات کو لوگوں کی نظروں میں اتنا خوبصورت بنا دیا ہے کہ اب یہ فیشن بن کر رہ گیا ہے اور پوری نسل اس میں ڈوبتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات میں ان ہی سب باتوں کے خطرے سے پوری طرح آگاہ فرمادیا ہے۔ ارشاد ہے۔ لوگوں میں سے کوئی بد نصیب ایسا بھی ہے جو بےہودہ باتوں کو خریدکر لاتا ہے اور کم علم لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کو وہ ہنسی مذاق سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ کیونکہ جب اس کو اللہ کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ تکبر سے منہ پھیر کر چل دیتا ہے جیسے اس نے ان باتوں کو سنا ہی نہیں یا ایسا لگتا ہے جیسے اس کے کانوں میں کوئی ڈاٹ لگی ہوئی ہے یا وہ بہرا ہوچکا ہے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو یہ خوش خبری سنا دیجئے کہ ان کے لئے دردناک عذاب تیار کیا جاچکا ہے۔ فرمایا اس کے بر خلاف جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح اختیار کئے تو اللہ نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہوں گی اور وہ ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا کیونکہ اللہ کائنات کی ہر چیز پر غالب اور قوت والا ہے اور اس کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔ فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے اپنی ْدرت کاملہ سے سات آسمان بغیرستونوں کے بنائے ہیں اور آسمان کو شامیانے کی طرح ان پر تان دیا ہے۔ یہ وہ سات آسمان ہیں جن کو ہر انسان ہر روز اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اللہ نے اپنی قدرت سے زمین کا تو ازن برقرار رکھنے کے لئے بڑے بڑے پہاڑ ایک بوجھ کی طرح زمین پر رکھ دیئے ہیں اگر یہ پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکتی اور سارے انسانوں کو لے کر کسی ایک طرف الٹ جاتی اسی اللہ نے تمام جان داروں کو پیدا کیا اور ان کے رزق کا سامان مہیا فرمایا۔ اسی کی قدرت کا یہ شاہکار ہے کہ اس نے بارشوں کا انتظام کیا جس سے زمین تروتازہ ہوجاتی ہے طرح طرح کے پھل، سبزہ، سبزی اور ہر چیز کے جوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک سوال کیا ہے کہ یہ تمام چیزیں تو اللہ نے پیدا کی ہیں لیکن وہ جھوٹے معبود جن سے یہ لوگ آس لگائے بیٹھے ہیں اور ان کو اپنا مشکل کشامانتے ہیں انہوں نے ان چیزوں میں سے کن چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جب بھی غور و فکر سے کام لے گا اس پر یہ حقیقت پوری طرح کھل جائے گی کہ یہ سب کچھ اللہ نے پیدا کیا وہی ان چیزوں کا مالک ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید ہدایت کی کتاب ہے مگر اس کی ہدایت سے وہی شخص مستفید ہوسکتا ہے جو لغویات سے اجتناب کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے لیکن لوگوں میں بیشمار ایسے لوگ ہیں۔ جو اچھائی کے مقابلہ میں برائی، نیکی کی بجائے گمراہی کے طلبگار اور پرستار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو برائی کے خریدار ہوتے ہیں۔ اپنی جہالت کی بنا پر ناصرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانے اور گمراہ کرنے میں اپنا مال اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ پھر عملاً یا قولاً اللہ تعالیٰ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ان کے لیے رسوا کردینے والا عذاب ہوگا۔ اس آیت کا پس منظر ذکر کرتے ہوئے مفسّرین نے لکھا ہے کہ نضر بن حارث نے ایران اور روم سے ایسا لٹریچر درآمد کیا جس میں فحاشی اور بےحیائی کو داستان گوئی کے انداز میں بیان کیا گیا تھا۔ اس نے مکہ معظمہ میں اسے قرآن مجید کے مقابلے میں عام کرنے کی کوشش کی تاکہ لوگ قرآن مجید کے مقابلے میں ان باتوں اور کاموں میں مصروف رہیں۔ اس کے بارے میں یہاں تک لکھا گیا ہے کہ اس نے فاحشہ عورتوں کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کریں اس کے ساتھ ہی وہ سرورگرامی کی ذات اطہر اور قرآن مجید کی مقدس آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتا اور لوگوں کے سامنے آیات ربانی کو حقیر بنا کر پیش کرتا۔ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگوں میں ایسا بیہودہ شخص بھی ہے جو اپنا مال خرچ کرکے بےحیائی خریدتا ہے اور جہالت کی بنیاد پر لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔ نضربن حارث خود حیرہ گیا۔ وہاں سے باشاہوں کے حالات اور رستم و اسفندیار کے قصّے سیکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاں کہیں بھی جا کر اپنا پیغام سناتے، ابو لہب کی طرح پیچھا کرتے ہوئے نضربن حارث بھی وہاں پہنچ کر یہ قصّے سناتا۔ پھر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام مجھ سے بہتر ہے ؟ علاوہ ازیں اس نے چند لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں۔ جب کوئی شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مائل ہونے لگتاتو وہ کسی لونڈی کو اس پر مسلّط کردیتا مقصد یہ تھا کہ لونڈی اسے کھلائے پلائے اور اس کی سوچ کا رخ موڑ دے اسی سلسہ میں یہ آیت نازل ہوئی [ سیرت ابن ہشام : جلد ١] نیکی کو چھوڑ کر برائی اختیار کرنے والا شخص کتنا ہی پڑھا لکھا اور سمجھدار کیوں نہ ہو حقیقت میں وہ جاہل ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ اسے ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اس شخص کا کردار پیش فرما کر ایک پورے کلچر کی نفی کی گئی ہے۔ افسوس ! مسلمان حکومتوں میں شاید کوئی حکومت اور معاشرہ ایسا ہو جو کروڑوں، اربوں ڈالر بےحیائی خریدنے اور ا سے پھیلانے کے لیے صرف نہ کررہے ہوں جسے کلچر، ثقافت اور تفریح کا نام دیا گیا ہے۔ کفار کو چھوڑیں صرف مسلمان ملکوں میں نئی نسل کو اخلاقی اور عملی طور پر تباہ کرنے کے لیے سینکڑوں ٹیوی چینل چل رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بےہودہ رسائل چھپ رہے ہیں۔ قرآن مجید نے ” لَھْوَ الْحَدِیْثِ “ کے لیے ” اِشْتَرَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے ” اِشْتَرَ “ عربی زبان میں صرف خریدو فروخت کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی چیز کو بدلے میں لینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ” لَھْوَ “ کا لفظ بیہودہ اور بےحیائی کے لیے استعمال ہوتا ہے قرآن مجید نے بےمقصد کام اور بات کو بھی ” لَھْوَ “ قرار دیا ہے۔ جو شخص لغویات کا عادی ہوجائے اس کے لیے نیکی کی بات سننا بوجھ بن جاتا ہے اور بیہودہ کاموں پر خوش ہوتا ہے یہی حالت اہل مکہ کی تھی انہیں قرآن مجید کی طرف دعوت دی جاتی تو وہ غرور اور تعصب کی بناء پر یوں پیٹھ پھیرجاتے جیسا کہ انہوں نے قرآن سنا ہی نہیں یا ان کے کانوں میں سکہ پڑچکا ہے ایسے لوگوں کے لیے صرف یہی پیغام ہے کہ انہیں اذّیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائی جائے۔ لَھْوَ الْحَدِیْثِ : (عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ َ قَالَ قاَلَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعَثَنِیْ رَحْمْۃً لِّلْعٰالَمِیْنَ وَہُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ وَأَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِیْرِ وَالاأَوْثَانِ وَالصُّلْبِ وَأَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ )[ رواہ احمدبحوالۃ مشکوٰۃ : باب بیان الخمر ووعید شاربہا ] ” سیّدناابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں گاجوں، ساز و مضراب، بتوں، صلیبوں اور جاہلیّت کے کاموں کو ختم کردوں۔ “ (أَبُو مَالِک الأَشْعَرِی ُّ وَاللَّہِ مَا کَذَبَنِیْ سَمِعَ النَّبِیَ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْخِزَّ وَالْحَرِیرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ )[ رواہ البخاری : کتاب الاشربۃ : باب مَا جَاء فیمَنْ یَسْتَحِلُّ الْخَمْرَ وَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ] ” ابومالک اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور معازف یعنی آلات موسیقی اور گانے بجانے کو جائز کہیں گے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اسلام کی اچھائی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے۔ “ مسائل ١۔ جو لوگ اللہ کی آیات سے مذاق کرتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ٢۔ جب کفار کو قرآن کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ اس طرح دکھائی دیتے ہیں جیسے انہوں نے سنا ہی نہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید سے اعراض کرنے کا نتیجہ : ١۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف : ٥٧) ٢۔ قرآن سے منہ پھیرنے والوں کی سزا۔ (السجدۃ : ٢٢) ٣۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ : ١٢٤، ١٢٥) ٤۔ اعراض کرنے والوں کو اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ : ١٠٠، ١٠١) ٥۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ (البقرۃ : ٩٩) ٦۔ قرآن سے اعراض کرنے والوں کو آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : ٧٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن الناس من یشتری ۔۔۔۔۔ فبشرہ بعذاب الیم (6 – 7) لہو حدیث سے مراد تفریحی اور دلچسپ کلام ہے جس کسی محض وقت گزارنا مطلوب ہو۔ اس کلام سے کوئی اچھا اور مفید نتیجہ نہ نکلتا ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی تعمیری بات ہو ، جو انسان کے منصب خلافت سے متعلق ہو۔ جو انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشی اور دینی اور اخروی کسی غرض سے وابستہ نہ ہو۔ اسلام انسان کے لیے اس دنیا میں کچھ فرائض متعین کرتا ہے۔ ان فرائض کے حدود ، وسائل اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ انسانوں کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جو ہر زمان و مکان میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ بعض روایات یہ بتاتی ہیں کہ اسلام کی پہلی جماعت کے دور میں ایک متعین واقعہ بھی ہوا تھا ، اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مکہ کا ایک ادیب نضر ابن الحارث ایران سے ایسی کتابیں خرید کر لاتا تھا جن میں ایرانیوں اور ان کے بڑے لوگوں کے افسانے اور تاریخی واقعات ہوتے تھے اور ان کی جنگوں کے دلچسپ واقعات ہوتے تھے۔ یہ شخص مکہ کی گلیوں میں بیٹھ کر ان لوگوں کو روکتا جو قرآن سننے کے لیے جاتے تھے اور ان کو یہ افسانے سناتا۔ یہ شخص قصص القرآن کے مقابلے میں قصص ایران سناتا تھا۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ یہ آیت اس واقعہ میں وارد ہے تو بھی یہ آیت عام ہے۔ یہ لوگوں کی اس قسم کے خدوخال واضح طور پر بتاتی ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ عہد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بھی موجود تھے جس دور میں مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ومن الناس من یشتری لھو الحدیث (31: 6) ” انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے “۔ یعنی اس کام میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرتا ہے اور اپنی زندگی اس میں کھپاتا ہے۔ اس قدر قیمتی چیزیں وہ اس قدر بےوقعت اور بےقیمت چیزوں میں خرچ کرتا ہے۔ اپنی محدود اور قیمتی عمر اس میں کھپاتا ہے۔ یہ عمر جو نہ واپس آتی ہے اور نہ واپس لائی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے۔ لیضل عن ۔۔۔۔ ھزوا (31: 6) ” تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے “۔ ایسا شخص جاہل ہے اور اسکی نظروں سے حقیقت اوجھل ہے۔ وہ کوئی بات علم و یقین کی بنیاد پر نہیں کرتا۔ نہ وہ حکمت کی بنیاد پر کوئی کام کرتا ہے۔ اسکی نیت بھی خراب ہے اور اس کی غرض بھی فاسد ہے۔ وہ لوگوں کو بدراہ کرنا چاہتا ہے۔ خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اس میں فضول ضائع کرتا ہے پھر وہ اس قدر گستاخ ہے کہ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتا ہے اور اس اسلامی نظام کے ساتھ مذاق کرتا ہے جو اللہ نے وضع کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کی زندگی کا دستور قانون ہو۔ چناچہ قرآن مجید ایسے لوگوں کی تصویر کشی سے بھی قبل ان کو اہانت آمیز عذاب کی دھمکی دیتا ہے۔ اولئک لھم عذاب مھین (31: 6) ” ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ان کیلئے توہین آمیز عذاب ہوگا ، اس لیے کہ انہوں نے یہاں دعوت اسلامی کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی کے ساتھ مزاح کرتے تھے۔ اب اس دھمکی کے بعد اس گروہ کے خدوخال قلم بند کیے جاتے ہیں۔ واذا تتلی علیہ ۔۔۔۔۔ یسمعھا (31: 7) ” اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر اس متکبر شخص کی ہیئت کذائی کو اچھی طرح قلم بند کردیا گیا ہے۔ وہ نہایت غرور سے منہ موڑ کر گزر جاتا ہے ، سنی ان سنی کردیتا ہے۔ چناچہ اگلا رنگ اس تصویر میں نہایت حقارت آمیزی سے بھرا جاتا ہے۔ کان فی اذنیہ وقرا (31: 7) ” گویا اس کے کان بہرے ہیں “۔ گویا اس کے کانوں کا یہ بھاری پن اللہ کی آیات کو اس کے کانوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ ورنہ ان آیات کو کوئی انسان بھی اگر سنے تو وہ ان کے ساتھ یہ مذموم برتاؤ نہیں کرسکتا۔ یہ رنگ پھر مزید اہانت آمیز کردیا جایا ہے۔ فبشرہ بعذاب الیم (31: 7) ” مژدہ سنا دو اسے دردناک عذاب کا “۔ یہ موقع کسی بشارت کا موقع نہیں ہے لیکن یہاں ان کی توہین مطلوب ہے اور ایسے متکبرین مسخروں کے لئے یہی انداز مناسب ہے۔ اعراض کرنے والوں ، تکبر کرنے والوں اور کفر کرنے والوں کی اس اہانت آمیز سزا کی مناسب سے یہاں ضروری ہے کہ اچھے عمل کرنے والے اہل ایمان کے انعام اور جزا کا بھی ذکر دیا جائے۔ اس سورة کے آغاز میں ان کا ذکر ہوچکا ہے اور ان کی کامیابی کا ذکر کردیا گیا ہے۔ اگرچہ وہاں اجمالی تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن کے دشمنوں کی حرکتیں، ان کے لیے عذاب مہین کی وعید قرآن پر ایمان لانے والوں کے اعمال اور ان کے ہدایت پر کامیاب ہونے کی بشارت دینے کے بعد قرآن کا انکار کرنے والوں اور اس کے مقابلہ میں بعض چیزیں اختیار کرنے والوں کا شغل پھر ان کے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے جو قرآن کے مخالف رویہ رکھتے ہیں اور قرآن سے خود بھی دور رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہر وہ بات جو اللہ کی یاد سے غافل کرے اور کھیل میں لگائے۔ حضرت حسن بصری (رض) نے (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : (ھو کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ و ذکرہ) یعنی ہر وہ چیز جو اللہ کی عبادت سے ہٹائے وہ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اس سے غِنَاء یعنی گانا بجانا مراد ہے۔ اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہ بات منقول ہے۔ حضرت مکحول تابعی (رض) نے فرمایا کہ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) سے گانے بجانے والی لونڈیاں مراد ہیں۔ (روح المعانی) آیت بالا کا سبب نزول بیان کرتے ہوئے کئی باتیں منقول ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا کہ نضر بن حارث (جو مشرکین مکہ میں سے اسلام کے بڑے کٹر دشمنوں میں سے تھا) نے ایک گانے والی باندی خرید لی تھی اسے جس کسی کے بارے میں یہ خبر ملتی کہ وہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ کر رہا ہے تو وہ اسے اس لونڈی کے پاس لے جاتا تھا اور اس لونڈی کو کہتا تھا کہ اس شخص کو کھلا پلا اور گانا سنا، پھر جس شخص کو ساتھ لے جاتا تھا اس سے کہتا تھا کہ یہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دیتے ہیں، وہ تو کہتے ہیں کہ نماز پڑھ روزے رکھ اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمنوں سے جنگ کر، اس پر آیت کریمہ (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) نازل ہوئی۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نضر بن حارث تجارت کے لیے فارس جاتا تھا وہاں سے عجمیوں کی کتابیں خریدتا تھا پھر انہیں مکہ معظمہ میں لاکر قریش کو سناتا تھا اور کہتا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عاد اور ثمود کی باتیں سناتے ہیں اور میں تمہیں رستم اور اسفندیار اور فارس کے بادشاہوں کی خبریں سناتا ہوں، لوگوں کو یہ باتیں پسند آتی تھیں اور قرآن کے بجائے ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اس پر آیات بالا نازل ہوئی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ابن خطل نے یہ حرکت کی تھی کہ اس نے گانے والی باندی خریدی تھی جو ایسے گانے گاتی تھی جو مسلمان کو اور اسلام کے برے الفاظ سے ذکر کرنے پر مشتمل ہوتے تھے۔ حضرت حسن بصری (رض) نے یہ جو فرمایا کہ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) سے ہر وہ چیز مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اور اس کے ذکر سے ہٹائے یہ لغت کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے اور حدیث شریف سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (کل شیءٍ یَلْھُوْبہ الرَّجُلُ بَاطِلاً الاَّ رَمْیَہُ بِقَوْسِہٖ وتأدیبَہٗ وملاعَبتہ امرأَتہٗ فانھن من الحق) (رواہ الترمذی و ابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ ص ٣٣٧) مطلب یہ ہے کہ تین چیزوں کے علاوہ جو بھی کوئی لہو کا کام کوئی شخص کرتا ہے تو وہ باطل ہے ہاں تین کھیل ایسے ہیں جو درست ہیں (١) اپنی کمان سے تیر پھینکنے کی مشق کرنا۔ (٢) گھوڑے کو سدھارنا (یہ دونوں جہاد کے کام میں آتے ہیں جو دینی ضرورت ہے۔ ) (٣) اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی کرنا (جو نفس و نظر کو پاک رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ) گانے بجانے کی مذمت و حرمت لہو و لعب میں ہر طرح کا جوا اور تاش کھیلنا اور ہر وہ شغل آجاتا ہے جو شرعاً ممنوع ہو اور جو نماز سے اور اللہ کے ذکر سے غافل کرتا ہو۔ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے اچھی آواز دی ہو اور وہ قرآن مجید کی تلاوت کرے یا نعت کے اشعار پڑھے (جس میں بجانے کا سامان بالکل نہ ہو) یا عبرت کے لیے کچھ اشعار پڑھے تو یہ جائز ہے۔ گندے گانے، عشقیہ غزلیں اگرچہ ان کے ساتھ بجانے کا سامان نہ ہو یہ سب ممنوع ہیں، اس قسم کے گانوں کو بعض اکابر نے رقیۃ الزناء (زنا کا منتر) فرمایا ہے۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ (اَلْغِنَاءُ یُنْبِتُ النِّفَاقَ فِی الْقَلْبِ کَمَا یُنْبِتُ الْمَآء الزَّرْعَ ) (کہ گانا دل میں نفاق کو اگاتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤١١) اگر عشقیہ غزلیں نہ ہوں تو پھر شعر پڑھنے والا خوش آواز ہو تب بھی اسے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ میرے آس پاس کون ہے، اگر عورتیں آواز سن رہی ہیں تو پھر شعر نہ پڑھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ انجشہ (رض) ایک صحابی تھے وہ سفر میں جا رہے تھے۔ عرب کا طریقہ تھا کہ سفر میں اونٹوں کو مست کرنے اور اچھی رفتار سے چلانے کے لیے بلند آواز سے شعر پڑھتے ہوئے جاتے تھے۔ انجشہ (رض) خوش آواز آدمی تھے انہوں نے اونٹوں کی رفتار جاری رکھنے کے لیے اشعار پڑھنا شروع کیے جسے حدی پڑھنا کہتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آواز سن لی اور فرمایا کہ اے انجشہ ! ٹھہر جاؤ شیشوں کو نہ توڑو۔ راوی قتادہ نے شرح کرتے ہوئے بتایا کہ شیشوں سے عورتیں مراد ہیں جو جلدی متاثر ہوجاتی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ٤١٠) آج کل تو گانا بجانا جزو زندگی بن چکا ہے، حلق سے لقمہ ہی تب اترتا ہے جب گانے کی کیسٹ لگا کر کھانا شروع کریں۔ اور آج کل تو ہر گھر کو ٹیوی نے ناچ گھر اور گانا گھر بنا دیا ہے، چھوٹے بڑے مل کر سب گانا سنتے ہیں جس کی وجہ سے فرض نمازیں تک غارت کی جاتی ہیں اور اللہ کی یاد میں مشغول ہونے کا تو ذکر ہی کیا ہے جن گھروں کو بھی شریف گھرانہ سمجھا جاتا تھا آج ان گھرانوں کی بچیوں کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے اور ان کی ہمت افزائی کی جاتی ہے اور انہیں گلوکارہ اور فنکارہ کے القاب دئیے جاتے ہیں، پھر اوپر سے غضب یہ ہے کہ اسلامی ثقافت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ گانے والی لونڈیوں کی فروخت نہ کرو اور انہیں (گانا) نہ سکھاؤ، اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور فرمایا اسی جیسے معاملے کے لیے آیت کریمہ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) نازل ہوئی۔ حضرت ابو الصہباء نے بیان کیا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں حضرت ابن مسعود (رض) سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ قسم اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس آیت میں غناء یعنی گانے کی مذمت کی گئی ہے۔ (معالم التنزیل ج ٣: ص ٤٩٠) گانے بجانے کے شغل نے لوگوں کو بربادی کے گڑھے پر لاکھڑا کردیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ جو مصیبتیں آتی ہیں انہیں اپنی بدعملی کا نتیجہ نہیں سمجھتے اور اگر سمجھتے ہیں تو جھوٹی زبان سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے لیکن ان اعمال کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے، گناہوں میں جیسے لت پت تھے ایسے ہی مصیبتوں کے آنے پر ان میں مشغول رہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم نے نفس ہی کو آگے رکھ لیا ہے، اسی کو امام بنالیا ہے، اسے ناراض کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حضرت ابو عامراشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ضرور ایسے لوگ ہوں گے جو زنا کو اور ریشم کو اور شراب کو اور گانے بجانے کے سامان کو حلال کریں گے اور بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جو ایک پہاڑ کے قریب قیام کریں گے ان کے جانور شام کو ان کے پاس پہنچا کریں گے، ان کے پاس ایک شخص کسی ضرورت سے آئے گا تو اسے کہیں گے کہ کل کو آنا، پھر کل آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک فرما دے گا، اور ان پر پہاڑ گرپڑے گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو قیامت کے دن تک کے لیے بندر خنزیر بنا دے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ٥٥٦ از صحیح بخاری) ارشاد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ میں گانے بجانے کی چیزیں مٹانے کے لیے آیا ہوں حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر اور جہانوں کے لیے ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ گانے بجانے کے آلات کو اور بتوں کو اور صلیب کو (جسے عیسائی پوجتے ہیں) اور جاہلیت کے کاموں کو مٹا دوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣١٨) اب نام نہاد مسلمانوں کو دیکھو کہ حضور رحمتہ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن چیزوں کو مٹانے کے لیے تشریف لائے انہیں چیزوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت سننے میں استعمال کرتے ہیں، پھر اوپر سے ثواب کی امید کرتے ہیں۔ نفس و شیطان نے ایسا مزاج بنا دیا ہے کہ قرآن و حدیث کا قانون بتانے والوں کی بات ناگوار معلوم ہوتی ہے۔ راتوں رات ہارمونیم اور سارنگی پر اشعار سنتے ہیں اور ساری رات اس کام میں مشغول رہتے ہیں جس کے مٹانے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور رات بھر قوالی سن کر فجر کی اذان ہوتے ہی نماز پڑھے بغیر سو جاتے ہیں۔ دیکھ لو یہ ہیں حب نبوی کے متوالے جنہیں فرض نمازوں کے غارت کرنے پر ذرا بھی ملال نہیں، خدارا انصاف کرو یہ راتوں کو جاگنا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت سننے کے لیے ہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم گرامی استعمال کرکے نفس و شیطان کو لذیذ گانے کی غذا دینے کے لیے ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (الْجَرَسُ مَزَامِیْرُ الشَّیْطَان) ١ ؂ (گھنٹیاں شیطان کے باجے ہیں) اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ (لاَ تَصْحَبُ الْمَلآءِکَۃُ رفقۃً فِیْھَا کَلْبٌ وَلاَ جَرَسٌ) ٢ ؂ (جن لوگوں کے ساتھ کتا یا گھنٹی ہو رحمت کے فرشتے ان کے ساتھ نہیں رہتے) ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ (مَعَ کُلُّ جَرَس شَیْطَانٌ) ٣ ؂ (ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے) حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں ایک لڑکی داخل ہونے لگی، اس کے پاؤں میں بجنے والا زیور تھا، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ اس لڑکی کو میرے پاس ہرگز نہ لائیں جب تک اس کے جھانجن نہ کاٹ دئیے جائیں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے جس گھر میں گھنٹی ہو اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ بات یہ ہے کہ گانے بجانے کا دھندا شیطانی دھندا ہے، جو لوگ شیطانی اعمال کرتے ہیں انہیں بجنے بجانے والی چیزوں سے محبت اور رغبت ہوتی ہے، اسی لیے دیکھا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے مندروں اور نصاریٰ کے گرجوں میں اور ان تمام مواقع میں جہاں شیطان کا راج ہو گانے بجانے کا انتظام اور اہتمام ہوتا ہے، شیطان ان سے گانے گواتا ہے اور باجے بجواتا ہے اور خود بھی سنتا ہے مزے لیتا ہے۔ جاہل پیروں کی بدعملی بعض لوگ جو پیری مریدی کا پیشہ کرتے ہیں وہ اپنی خانقاہوں میں اور قبروں پر ساز سارنگی اور ہارمونیم اور طبلہ بجانے کا خاص ١ ؂ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٣٣٨۔ ٢ ؂ رواھما مسلم۔ ٣ ؂ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٣٧٩۔ اہتمام کرتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ اس کو کارخیر سمجھتے ہیں اور بزرگوں کا طریقہ بتاتے ہیں، حالانکہ جن بزرگوں سے نعتیہ اشعار سننا منقول ہے انہوں نے فرمایا کہ ایسی محفلوں میں شریک ہونے کی شرط یہ ہے کہ ” بجانے کا سامان نہ ہو اور بےریش لڑکے نہ ہوں اور عورتیں نہ ہوں “ اگر کسی شخص نے ساز اور سارنگی کے ساتھ قوالی سن لی (اگرچہ پیر بنتا ہو) تو اس کا یہ عمل کیسے دلیل بن سکتا ہے جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں گانے بجانے کے سامان کو مٹانے کے لیے آیا ہوں۔ اسلام میں جب بجتا ہوا زیور گوارا نہیں اور جانوروں کے گلے میں گھنٹی ڈال دی جاتی ہے اور وہ بھی برداشت نہیں تو گانے بجانے کا اہتمام کرنا اور اس کے لیے جمع ہونا کیسے گوارا ہوسکتا ہے ؟ حضرت نافع (رض) نے بیان کیا ہے کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ جا رہا تھا انہوں نے مزمار کی آواز سنی (جو بجانے کی چیز تھی) یہ آواز سن کر انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور ایک جانب کو راستہ سے دور ہوگئے، پھر دور چلے جانے کے بعد دریافت فرمایا کہ اے نافع کیا آواز آرہی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اب آواز نہیں آرہی، اس پر انہوں نے اپنے کانوں سے انگلیاں ہٹا دیں اور فرمایا کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے ایک بانسری کی آواز سنی اور یہی عمل کیا ہے جو میں نے کیا ہے۔ واقعہ بیان کرکے حضرت نافع (رض) نے فرمایا کہ جس وقت کا یہ واقعہ ہے میں اس وقت کم عمر تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤١١ از احمد و ابو داؤد) حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب سے جوے سے طبل اور غبیراء سے منع فرمایا۔ یہ اہل حبشہ کی ایک شراب تھی، اور فرمایا کہ ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣١٨) لَھْوَ الْحَدِیْثِ ۔۔ (جو چیز کھیل میں لگائے) اس کے عموم میں ہر چیز آجاتی ہے، چونکہ سبب نزول میں گانے بجانے کی چیزوں کا بھی ذکر ہے اور یہ اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کرنے میں سب سے زیادہ بڑھ کر ہے اور بعض لوگ ساز اور سارنگی کے ساتھ قوالی سننے کو ثواب سمجھتے ہیں اس لیے مندرجہ بالا مضمون کو ہم نے اہتمام سے بیان کیا ہے اور گانے بجانے کے سلسلہ میں جو روایات سرسری طور پر سامنے آئی ہیں ان کو جمع کردیا ہے، جو لوگ کسی بھی ایسے کام میں مشغول ہوں جو اللہ کی یاد سے ہٹائے یہ سب (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) ہے۔ یاد رہے کہ لایعنی باتوں میں مشغول ہونے میں یہ نقصان بہرحال ہے کہ جتنی دیر میں یہ باتیں کی جائیں گی، تلاوت قرآن اور ذکر اللہ سے محروم رہے گا جو بہت بڑا نقصان ہے، مباح ہونا اور بات ہے اور ثواب سے محروم ہونا دوسری چیز ہے اور غیبت اور چغلی جھوٹ تو بہرحال حرام ہی ہے۔ (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) میں بعض چیزیں حرام ہیں جن میں قمار یعنی جوا کھیلنا بھی شامل ہے اور بعض چیزیں مکروہ ہیں جن میں گناہ تو نہیں مگر وقت ضائع ہوتا ہے، اگر ضیافت طبع اور دماغ کی تفریح کے لیے کوئی شعر پڑھا جائے جو گندا نہ ہو تو یہ مباح ہے۔ شطرنج وغیرہ کا تذکرہ شطرنج کے بارے میں حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے فرمایا کہ شطرنج سے وہی شخص کھیلے گا جو گنہگار ہوگا۔ اور انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ باطل چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کو باطل چیز پسند نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٨٧) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نرد سے کھیلا (جو شطرنج کی طرح کھیلنے کی ایک چیز تھی) سو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٨٦) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا جو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا تھا، اسے دیکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے جو شیطان کے پیچھے لگ رہا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٨٦) روایات حدیث میں تاش کھیلنے کا ذکر نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نہیں تھا، اگر ہار جیت کی شرط کے ساتھ ہو تو قمار یعنی جوا ہے، اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں اور اگر قمار کے بغیر ہو تو بہرحال اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کرنے والا تو ہے ہی جیسا کہ تاش کھیلنے والوں کو دیکھا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) فرمایا ہے۔ اِشْتَرٰی کے لغوی معنی خریدنے کے ہیں اور ایک کام کے بدلہ دوسرے کام کو اختیار کرنے کے لیے بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃِ ) میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں آیت کریمہ میں جو (یَّشْتَرِیْ ) فرمایا ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ بعض لوگ قرآن کو چھوڑ کر اس کے عوض (لَھْوَ الْحَدِیْثِ ) کو اختیار کرلیتے ہیں یعنی کھیلنے کی چیزوں میں لگ جاتے ہیں اور قرآن کریم کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جس کی فضیلت سورة کے شروع کی دو آیتوں میں بیان فرمائی، (قال البغوی فی معالم التنزیل ای یستبدل وباختیار الغناء والمزامیر والمعازف علی القرآن) (ج ٣ ص ٣٩٠) (علامہ بغوی (رض) نے معالم التنزیل میں لکھا ہے ” یعنی گانے بجانے اور لہو و لعب کے آلات کو قرآن کے بدلے میں لیتا ہے اور انہیں قرآن کے مقابلہ میں ترجیح دیتا ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ومن الناس الخ، یہ محسنین کے مقابلے میں معاندین پر زجر اور ان کے لیے تخویف اخروی ہے محسنین کے مقابلے میں کچھ ایسے بد کردار اور ضدی لوگ بھی موجود ہیں جو ہر باطل اور بیہودہ بات کی پیروی کرتے اور لوگوں کے دلوں میں شبہات شرکیہ ڈال کر ان کو راہ راست سے بہکاتے ہیں۔ لھو الحدیث کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں اس سے گانا اور آلات لہو مراد ہیں۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ھو الغناء واشباھہ، یعنی اس سے گانا بجانا اور اسی طرح کے دیگر باطل اور بیہودہ کام مراد ہیں۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں ہر وہ بیہودی اور خرافات جو اللہ کی عبادت سے روک دے۔ کل ما شغلک عن عبادۃ اللہ تعالیٰ وذکرہ من السمر والاضاحیک والخرافات والغناء ونحوھا۔ امام ضحاک کہتے ہیں اس سے مراد شرک ہے۔ ان لھو الحدیث الشرک (الکل من الروح ج 21 ص 67) ۔ اسی طرح حضرت حسن بصری سے بھی منقول ہے۔ وعن الھسن ایضا ھو الکفر والشرک (قرطبی ج 14 ص 52) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گانا بجانا اور ہر قسم کے آلات لہو و لعب مثلاً سارنگی، طاؤس و رباب وغیرہ سب حرام اور ناجائز ہیں گانا بجانا اور آلات لہو کی حرمت پر تمام اماموں کا اجماع ہے۔ بلکہ یہ ہر دین میں حرام رہا ہے جیسا کہ فتاوے تاتار خانیہ میں ہے۔ اعلم ان التغنی حرم فی جمیع الادیان (روح ج 21 ص 68) ۔ امام ابو حنیفہ، سفیان ثوری، حماد بن ابی سلیمان، ابراہیم نخعی، امام شعبی، تمام علماء کوفہ اور تمام علماء بصرہ کے نزدیک گانا بجانا بالاتفاق حرام ہے۔ ان الامام ابا حنیفۃ یکرہ الغناء و یجعلہ من الذنوب وکذلک مذھب اھل الکوفۃ سفیان و حماد و ابراہیم و الشعبی وغیرہم لا اختلاف بینہم فی ذلک ولا نعلم خلافا بین اھل البصرۃ فی کراھۃ ذلک والمنع منہ انتہی وکان مرادہ بالکراھۃ الحرمۃ (روح ج 21 ص 69) ۔ امام مالک (رح) سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا یہاں کے فاسق وفاجر لوگ یہ کام کرتے ہیں۔ انما یفعلہ عندنا الفساق (قرطبی ج 14 ص 55 وروح) ۔ امام شافعی نے فرمایا گانا بجانا ایک ناپسندیدہ لہو ہے جو باطل سے مشابہ ہے ان الغناء لہو مکروہ یشبہ الباطل (روح و قرطبی) ۔ امام احمد بن حنبل سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے۔ وعن عبداللہ بن الامام احمد انہ قال سالت ابی عن الغناء فقال ینبت النفاق فی القلب (روح) طبری کہتے ہیں تمام علماء امصار کا غناء کی حرمت پر اجماع ہے۔ قال الطبری فقد اجمع علماء الامصار علی کراھۃ الغناء والمنع منہ (قرطبی ج 14 ص 56) ۔ ابن الصلاح نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ قال ابن الصلاح فی فتاواہ بعد کلام طویل فاذن ھذا السماع حرام باجماع اھل الحل والعقد من المسلمین انتہی (روح) اسی طرح یہ صوفیوں کا سماع جسے قوالی کہا جاتا ہے بدعت سیئہ اور حرام ہے۔ فاما ما ابتدتعتہ الصوفیۃ الیوم من الادمان علی سماع المغانی بالالات المطربۃ من الشبابات والظار والمعازف والاوتار فحرام (قرطبی ج 14 ص 54) ۔ آیت کا حاصل یہ ہوا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو قرآن سننے کے بجائے لہو ولعب میں منہمک رہتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں شبہات شرکیہ ڈال کر ان کو راہ توحید سے برگشتہ کرتے ہیں اور آیات قرانیہ کا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے قرآن عمی اور وقر ہے ان کے لیے ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

6۔ اور لوگوں میں سے بعض آدمی وہ بھی ہے جو ان باتوں کو خریدتا پھرتا ہے جو کھیل کی باتیں اور غافل کرنیوالی باتیں ہیں تا کہ بےجانے بوجھے اللہ کی راہ سے گمراہ کرے اور اس راہ حق کا مذاق اڑائے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ذلت اور اہانت آمیز عذاب ہے۔ نضر بن حارث کافروں میں سے ایک شخص تھا جو پیغمبر اسلام کا سخت مخالف اور بد ترین دشمن تھا وہ چاہتا تھا کہ قرآن کی طرف لو گ متوجہ نہ ہوں وہ تجارت کی غرض سے فارس جاتا اور وہاں سے رستم اور اسفند یار کے قصے خرید لاتا اور مکہ میں لوگوں کو جمع کر کے سناتا تا کہ قرآن سننے اور اسلام قبول کرنے سے باز رہیں لوگوں سے کہتا کہ یہ پیغمبر تم کو عاد اوثمود کے قصے سناتا ہے میں تم کو ایران کی مشہور لڑائیوں اور مشہورپہلوانوں کے قصے سناتا ہوں تم ہی بتائو دونوں قسم کے قصوں میں دلچسپی کون سے قصوں میں سے ایک دفعہ ایک گانے والی لونڈی خرید لایا جس کو دیکھتا کہ اسلام کی طرف مائل ہے اس کو گھر لا کر کھانا کھلاتا اور گانا سنوا کر قرآن کریم سے مقابلہ کرتا کہ بتائو تفریح اور دل لگی کس میں ہے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ لوگ لغو مشغلوں میں الجھ جائیں اور قرآنی ہدایت سے متنفر ہوجائیں یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ لہو الحدیث انہی باتوں کو فرمایا جو لوگوں کو مشغول کر دے اور صحیح چیز سے غافل کردے۔ علماء فرماتے ہیں کل ما شغل عن عبادۃ اللہ وذکر ہ من السمروالاضاحیک و الخرفات والغناء و نخوھا فھو لھو یعنی جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد سے غافل کرے خواہ وہ کہانیاں ہوں یا اور ہنسنے ہنسانے کی باتیں اور خرافات ہوں گانا اور راگ ہو سب لہو ہے یہ ضرور ہے کہ لہو کے مختلف درجات ہیں جو لہو گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا سبب بنے وہ کفر ہے اور کوئی لہو معصیت کا سبب ہو وہ معصیت ہے اور جو لہو کسی امر شرعی کا فوت کرنیوالا نہ ہو اور اس میں کوئی شرعی غرض اور مصلحت بھی نہ ہو وہ اگرچہ مباح ہے لیکن خلاف اولیٰ ضرور ہے۔ البتہ گھوڑے پرچڑھنا اور گھوڑے کو دوڑانا ، تیر اندازی کرنا اور اس میں مسابقت اور اپنی اہل سے ملا عبت یہ لہو باطل سے مستثنیٰ ہیں ۔ بعض حضرات نے غنا کو بھی اس آیت سے لہو میں داخل کیا ہے۔ ( واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک کافر تھا جس کو دیکھتا کہ نرم دل ہوا مسلمانی طرف جھکا اپنے گھر لے جاتا شراب پلاتا اور راگ اور ناچ دکھاتا اس رندی کی مجلس سے ایمان کا اثر ہٹ جاتا اس کو یہ فرمایا ۔ 12 آیت میں اسی لہو کو ظاہر فرمایا ہے جو ضلال اور اضلال کا سبب ہو اور ظاہر ہے کہ ایسا لہو یقینا کفر ہے۔