Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 15

سورة السجدة

اِنَّمَا یُؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾

Only those believe in Our verses who, when they are reminded by them, fall down in prostration and exalt [ Allah ] with praise of their Lord, and they are not arrogant.

ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The State of the People of Faith and Their Reward Allah states: Allah says; إِنَّمَا يُوْمِنُ بِأيَاتِنَا ... Only those believe in Our Ayat, means, who accept them as true, ... الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا ... who, when they are reminded of them, fall down prostrate, means, they listen to them and obey them in word and deed. ... وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ and glorify the praises of their Lord, and they are not proud. means, they are not too proud to follow them and submit to them, unlike the ignorant among the rebellious disbelievers. Allah says: إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ Verily, those who scorn My worship, they will surely enter Hell in humiliation! (40:60) Then Allah says:

ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں! سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں ۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں ۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے ۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں ۔ یہ بدعات کافروں کی ہے جیسے فرمایا آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60؀ۧ ) 40-غافر:60 ) یعنی میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے ۔ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں ، تہجد پڑھتے ہیں ۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں ۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے ۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے ۔ وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لئے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں ۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں ۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے ۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے ۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں ۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شعروں میں ہے ( وفینا رسول اللہ یتلو کتابہ اذانشق معروف من الصبح ساطع یبیت یجافی جنبہ عن فراشہ اذاستثقلت بالمشرکین المضاجع ) یعنی ہم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ۔ راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹ آپ کے بستر سے الگ ہوتی ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اسکی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کردیتا ہے ۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑجاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضامندی ہے میداں کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کردیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے ۔ مسند احمد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کردے آپ نے فرمایا تونے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے ۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں ۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز ، صدقہ گناہوں کو معاف کرادیتا ہے ۔ پھر آپ نے آیت ( تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16؀ ) 32- السجدة:16 ) کی تلاوت فرمائی ۔ پھر آپ نے فرمایا آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں ۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں؟ پھر آپ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اسے روک رکھ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ نے فرمایا اے معاذ افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں ۔ یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ اس آیت ( تتجافی ) کو پڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے ۔ اور روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے کہ انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا ۔ پھر حضور کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی ۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہوجائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گذار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے ۔ اور بعض صحابہ مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس حدیث کی یہی ایک سند ہے ۔ پھر فرماتا ہے ان کے لئے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بناکر رکھی ہیں ۔ اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھاہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا ۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیاکر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو ہریرہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو ۔ ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17؀ ) 32- السجدة:17 ) ، اس روایت میں قرۃ کے بجائے قرأت پڑھنا بھی مروی ہے ۔ اور روایت میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی ۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لئے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم وگمان آیا ( مسلم ) ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت ( تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16؀ ) 32- السجدة:16 ) كي تلاوت فرمائی ۔ حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ اے باری تعالیٰ ادنیٰ جنتی کا درجہ کیا ہے ؟ جواب ملا کہ ادنی ٰ جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں ۔ اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو اس پر خوش ہے ؟ کہ تیرے لئے اتنا ہوجتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا ۔ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لئے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتناہی اور پانچ گناہ ۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں ۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہوگیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگادی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں ۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17؀ ) 32- السجدة:17 ) ہے ۔ حضرت عباس بن عبدالواحد فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہوگا ۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے ۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں ۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہوجائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آگیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے ۔ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے ۔ حضرت ابو الیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے ۔ تیسری موتی کی ۔ زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی ۔ اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گذریں ۔ پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔ ابن جریر میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت روح الامین سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی ۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطافرمائے گا ۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی ( اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 16؀ ) 46- الأحقاف:16 ) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے درگذر فرمالیا ۔ راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17؀ ) 32- السجدة:17 ) فرمایا بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لئے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

151یعنی تصدیق کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 152یعنی اللہ کی آیات کی تعظیم اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ 153یعنی رب کو ان چیزوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور اس کے ساتھ اس کی نعمتوں پر اس کی حمد کرتے ہیں جن میں سے سب سے بڑی اور کامل نعمت ایمان کی ہدایت ہے۔ یعنی وہ اپنے سجدوں میں، سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعٰلٰی وَ بَحَمْدِہٖ وغیرہ کلمات پڑھتے ہیں۔ 154یعنی اطاعت وانقیاد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جاہلوں اور کافروں کی طرح تکبر نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرنا، جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ اس لیے اہل ایمان کا معاملہ ان کے برعکس ہوتا ہے وہ اللہ کے سامنے ہر وقت عاجزی ذلت ومسکینی اور خشوع و خضوع کا اظہار کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ١٧] ایمان لانے والوں کی صفات انکار کرنے والوں سے بالکل جداگانہ ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا، ان کی طبیعتیں اتنی سلیم ہوتی ہیں کہ حق بات کو قبول کرنے پر فوراً آمادہ ہوجاتی ہیں۔ ان میں تکبر اور غرور نام کو نہیں ہوتا۔ بلکہ انھیں جب اللہ تعالیٰ کے عجائبات اور کارنامے بتلائے جاتے ہیں تو اللہ کی عظمت سے ان کے دل فوراً دہل جاتے ہیں وہ قبول حق پر فوراً آمادہ ہوجاتے ہیں پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح و تقدیس جاری ہوجاتی ہے۔ اس آیت پر سجدہ ہے۔ اس کو پڑھنے اور سننے والوں کو یہاں سجدہ کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی ان صفات میں شامل ہوجائیں جو اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کی بیان فرمائی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں (الم تنزیل السجدۃ) اور ( هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا ۝) 76 ۔ الإنسان :1) پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ باب ماجاء فی سجود القرآن و سنتہا)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا ۔۔ : یعنی وہ لوگ جو تکبر کرتے ہوئے ہماری ملاقات ہی کو بھول گئے، وہ ہماری آیات پر کبھی ایمان نہیں لاتے۔ ہماری آیات پر تو صرف وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جن کی صفات اپنے رب کی ملاقات کو بھول جانے والوں سے بالکل جدا ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت اتنی سلیم ہوتی ہے کہ جب انھیں آیات الٰہی کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فوراً حق قبول کرتے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے نفس کی کبریائی انھیں حق قبول کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مانع نہیں ہوتی۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رکوع اور سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے : ( سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ ) ” پاک ہے تو اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! اور تیری حمد کے ساتھ، اے اللہ ! مجھے بخش دے۔ “ [ بخاري، الأذان، باب الدعاء في الرکوع : ٧٩٤ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِہَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَہُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۝ ١٥۞ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ خر فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] ، وقال تعالی: فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ [ سبأ/ 14] ، وقال تعالی: فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] ، فمعنی خَرَّ سقط سقوطا يسمع منه خریر، والخَرِير يقال لصوت الماء والرّيح وغیر ذلک ممّا يسقط من علوّ. وقوله تعالی: خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] ( خ ر ر ) خر ( ن ) خر یر ا کے معنی کسی چیز کے آواز کے ساتھ نیچے گرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] جب عصا گر پرا تب جنوں کو معلوم ہوا ۔ تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے ۔ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی الخریر پانی وغیرہ کی آواز کو کہتے ہیں جو اوپر سے گر رہاہو اور آیت کریمہ : ۔ خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] تو سجدے میں گر پڑتے میں خرو ا کا لفظ دو معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی ( 1) گرنا اور ( 2 ) ان سے تسبیح کی آواز کا آنا ۔ اور اس کے بعد آیت سے تنبیہ کی ہے کہ ان کا سجدہ ریز ہونا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ تھا نہ کہ کسی اور امر کے ساتھ ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد گومن وجہ آنحضرت کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشنار پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پرند کو ہے ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( استتعال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مدموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم کی تو وہی لوگ تصدیق کرتے ہیں کہ جب ان کو اذان و اقامت کے ذریعے پانچوں نمازوں کے لیے بلایا جاتا ہے تو فوراً تواضع و خاکساری کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور وہ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے اور پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے سے تکبر نہیں کرتے۔ یہ آیت منافقین کی حالت بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی کیونکہ وہ نمازوں کو مجبوری و سستی کے ساتھ ادا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

26 In other words, they do not regard it as below their dignity to give up their false notions and believe in Allah's Revelations and adopt His service and obedience.Their conceit dces not hinder them from accepting the truth and obeying their Lord.

سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :26 بالفاظ دیگر وہ اپنے غلط خیالات کو چھوڑ کر اللہ کی بات مان لینے اور اللہ کی بندگی اختیار کر کے اس کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی بات مان لینے اور اللہ کی بندگی اختیار کر کے اس کی عبادت بجا لانے اپنی شان سے گری ہوئی بات نہیں سمجھتے نفس کی کبریائی انہیں قبول حق اور اطاعت رب سے مانع نہیں ہوتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یہ سجدہ کی آیت ہے جس کی تلاوت کرنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(32:15) ذکروا۔ بما ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ تذکیر (تفعیل) مصدر سے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اتینا کی طرف راجع ہے (جب ان کو ہماری آیات یاد کرائی جاتی ہیں یا سمجھائی جاتی ہیں۔ خروا۔ ماضی مجہول (بمعنی حال) جمع مذکر غائب۔ خر یخر (ضرب) خر مصدر سے وہ گرپڑتے ہیں۔ خر کا اصل معنی کسی چیز کا آواز کے ساتھ نیچے گرنا ہے۔ یہاں خروا کا لفظ دو معنوں پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی :۔ (1) گرنا۔ (2) ان سے تبیح کی آواز کا آنا۔ اور اس کے بعد وسبحوا بحمد ربہم سے تنبیہ کی ہے کہ ان کا سجدہ ریز ہونا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ ہوتا ہے نہ کسی اور امر کے ساتھ۔ سجدا : ساجد کی جمع ہے حالت نصب۔ سجدہ کرنے والے۔ نصب بوجہ حال ہونے کے ہے۔ یعنی سجدہ کرتے ہوئے گرپڑتے ہیں۔ وسبحوا بحمد ربھم۔ یہ جملہ معطوف ہے اور اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ سبحوا ماضی جمع مذکر غائب (بمعنی حال) وہ تسبیح کرتے ہیں۔ وہ پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ سبحان اللہ کہنا۔ پاکی بیان کرنا۔ بحمد ربھم میں ب ۔ ملابستہ یا باء المصاحبۃ کی ہے اور المجار والمجرور موضع حال میں ہے۔ یعنی وہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں مع اس کی حمد وثناء کرنے کے۔ وہم لایستکبرون ۔ جملہ حال ہے خروا یا سبحوا کی ضمیر فاعل سے۔ اور وہ تکبر و غرور نہیں کرتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی انہیں سنا کر نصیحت کی جاتی ہے۔4 یعنی خوف و خشیت اور خشوع و خضوع سے سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ زبان سے ( سبحان اللہ وبحمدہ یا سبحان ربی الا علی) کہتے ہیں اور دل میں کبر و غرور اور بڑائی کی بات نہیں رکھتے کہ نصیحت قبول کرنے سے مانع ہو۔ اس مقام پر پڑھنے والے اور سننے والے دونوں کے لیے سجدہ کرنا مسنون ہے۔ ( قرطبی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کے احکام اور قیامت کو فراموش کردینے والوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور قیامت پر یقین رکھنے والوں کا کردار۔ ” اللہ “ کے باغیوں اور قیامت کے منکروں کے سامنے باربار نصیحت کرنے کا کچھ اثر نہیں ہوتا ان کے مقابلے میں جو لوگ اپنے رب پر ایمان رکھتے ہیں اور قیامت کے دن پر یقین کرتے ہیں۔ ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب بھی انہیں دین کی کوئی بات سمجھائی جائے یا ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حکم آئے جس پر فوری طور پر سرجھکا نامقصود ہو تو وہ اپنے رب کے حضور سجدے میں پڑ کر اس کی حمدو ثناء کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی تکبر کرنے والے نہیں ہوتے۔ ان میں یہ بات بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ جب انہیں نماز کے لیے بلایا جائے تو وہ اپنے رب کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اس کے حضور قیام و سجود کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ تکبر کا معنٰی پہلے بھی بیان ہوچکا ہے تاہم موقع کی مناسبت سے پھر تحریر کیا جاتا ہے۔ (اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ] ” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “ ( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ یَقْرَأُ فِیْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ تَنْزِیْلَ السَّجْدَۃِ وَ (ہَلْ أَتَی عَلٰی الإِنْسَانِ حِیْنٌ مِنَ الدَّہْر)[ رواہ ابوداوٗد : باب مَا یُقْرَأُ فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورة سجدہ اور سورة دھر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ “ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشکل ترین وقت میں اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر اس کی مدد کے طلب گار ہوتے تھے۔ غزوہ بدر کے موقعہ پر اللہ کے حضور ان الفاظ میں عرض کرتے رہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَوْمَ بَدْرٍاللَّہُمَّ أَنْشُدُکَ عَہْدَکَ وَوَعْدَکَ ، اللَّہُمَّ إِنْ شِءْتَ لَمْ تُعْبَدْ فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ بِیَدِہِ فَقَالَ حَسْبُکَ فَخَرَجَ وَہْوَ یَقُولُ (سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّون الدُّبُرَ )[ رواہ البخاری : کتاب المغازی ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن یہ دعا کی۔” اے اللہ میں تیرے عہد اور وعدے کا تجھے واسطہ دیتا ہوں اے اللہ اگر تو چاہتا ہے کہ تیری عبادت نہ کی جائے۔ “ ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بس کیجیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کہتے ہوئے نکلے کہ عنقریب لشکروں کو شکست دی جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ “ [ رواہ البخاری : باب قصۃ غزوۃ بدر) حالات کا دباؤ اس قدر تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں پڑے روتے ہوئے یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے ہمیشہ زندہ اور قا ئم رہنے والے اللہ ہماری نصرت فرما۔ سجدہ تلاوت کی دعا : (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِ الْقُرْاٰنِ بالَّلیْلِ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ فَتَبارَکَ اللّٰہُ أحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ) [ المستد رک علی الصحیحین للحاکم ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیام اللیل میں سجدہ تلاوت کے وقت یہ دعا کرتے تھے۔ میرا چہرہ اس ذات کا مطیع ہوا جس نے اپنی قدرت سے اسے بنا کر کان اور آنکھیں عطاکیے۔ اللہ تعالیٰ بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “ مسائل ١۔ ایمان دار لوگ متکبر نہیں ہوتے۔ ٢۔ ایمان داروں کے سامنے سجدہ کی آیات پڑھی جائیں تو وہ اپنے رب کے حضور سربسجود ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن تکبر سے بچنے کا حکم : ١۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص : ٧٤) ٢۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص : ٣٩) ٣۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن : ٣٥) ٤۔ متکبّر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : ٢٣) ٥۔ اللہ تعالیٰ فخر و غرور کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : ٣٦) ٦۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المومن : ٧٦) ٧۔ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : ٢٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انما یؤمن بایتنا ۔۔۔۔۔ جزاء بما کانوا یعملون (15 – 17) پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزاء میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے “۔ یہ اہل ایمان کی نہایت ہی خوبصورت اور روشن تصویر ہے۔ یہ نہایت ہی لطیف اور شفاف اور حساس لوگ ہیں۔ ان کے دل خوف خدا سے کانپتے ہیں اور وہ نہایت ہی پر امید انداز سے اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ اللہ کے مقابلے میں بڑائی اور تکبر کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہی دراصل اللہ کی آیات پر ایمان لانے والے ہیں۔ یہ لوگ کی آیات کو تیز احساس ، بیدار دل اور روشن ضمیر کے ساتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو اللہ کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو یہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ اذا ذکروا بھا خروا سجدا (32: 15) اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات سے بہت ہی متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کی باتیں سن کر اللہ اور اس کی آیات کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں یہ احساس کرتے ہوئے کہ اللہ اور اس کی آیات کی عظمت کا اظہار صرف سجدہ ریز ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے اور اپنی پیشانی کو خاک آلود کرنے ہی سے اس کا اظہار ہو سکتا ہے۔ وسبحوا بحمد ربھم (32: 15) ” اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں “۔ یعنی جسمانی اعتبار سے وہ سجدہ کرتے ہیں اور زبان کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں۔ وھم لا یستکبرون (32: 15) ” اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ کیونکہ وہ مطیع فرمان ہوکر ، اللہ کی طرف رجوع کرکے ، اللہ کی کبریائی کا شعور رکھتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اب ذرا ان کی جسمانی شکل و ہیئت کی تصویر دیکھئے ، انداز تعبیر اس طرح ہے کہ ان کی قلبی ، روحانی اور ذہنی کیفیت مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ یہ لوگ رات کو نماز کے لیے اٹھتے ہیں یعنی عشاء کی آخری نماز کے لیے۔ وتروں کے لیے ، تہجد کے لیے اور رات کو دعاؤں کے لیے۔ لیکن قرآن نے ان امور کو اس انداز سے بیان کیا : ان کی پیٹھیں ان کے بستروں سے الگ رہتی ہیں۔ رات کے وقت بستروں کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے کہ انسان اس راحت ، آرام ، نیند اور دوسری لذتوں کو بڑی مشکل سے چھوڑتا ہے۔ لیکن ان کی پیٹھیں ، نرم بستروں ، آرام اور نیند اور عیش کے مقابلے میں دوسرا کام رکھتی ہیں۔ ان کا اپنے رب کے ساتھ کام ہوتا ہے۔ ان کو خیال ہوتا ہے کہ ان کو ایک دن رب کے ہاں حاضر ہونا ہے اور وہ خوف ورجاء کے درمیان اللہ کی طرف متوجہ ہیں۔ خوف ان کو اللہ کے عذاب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رحمت کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کے غضب کا ہوتا ہے اور امید اللہ کی رضا مندی کی ہوتی ہے۔ خوف اللہ کی معصیت کا ہوتا ہے اور امید اس کی توفیق اطاعت کی ہوتی ہے۔ ان تمام امور کو قرآن کریم نے نہایت ہی مختصر الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ نہایت ہی مجسم انداز میں۔ یدعون ربھم خوفا وطمعا (32: 16) ” اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں “۔ اس حساسیت اور کپکپی ، خضوع و خشوع کے ساتھ نماز اور گڑگڑا کر دعا کرنے کے علاوہ اپنی سوسائٹی کی بھلائی کے لیے بھی فکر مند ہوتے ہیں اور اللہ کو راضی کرتے ہوئے وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ ومما رزقنھم ینفقون (32: 16) ” اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں “۔ ان بلند ، روشن ، حساس اور مشفق صورتوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ بھی بہت مشفقانہ ہے اور نہایت ہی منفرد قسم کی جزاء ان کے لیے تیار ہے۔ وہ جزاء جس کے اندر ان کے لیے خاص مہربانی جھلکتی ہے۔ ان کے لیے ایک خاص اعزاز کا اعلان ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف سے ان پر کرم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بلند نفوس کے لئے خصوصی اور مخفی مہربانیاں اور تعلقات رکھتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان کی صفات، مومنین کا جنت میں داخلہ، اہل کفر کا دوزخ میں برا ٹھکانہ ان آیات میں مومنین صالحین کی بعض صفات اور ان کے انعامات بیان فرمائے ہیں اور کافرین فاسقین کا ٹھکانہ اور ان کی بدحالی بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو تذکیر اور نصیحت کا اثر لیتے ہیں، جب انہیں ہماری آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو انہیں سن کر سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور تحمید میں مشغول ہوجاتے ہیں اور تکبر بھی نہیں کرتے۔ مزید فرمایا کہ ان کے پہلو اپنے لیٹنے کی جگہوں سے یعنی خوابگاہوں سے دور ہوجاتے ہیں وہ ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے اپنے رب کو پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، اس میں نماز تہجد پڑھنے والوں کی فضیلت بتائی ہے کہ یہ لوگ سونے اور آرام کرنے کے لیے لیٹتے ہیں پھر تھوڑا سا آرام کرکے بستر کو چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور وضو کرکے نماز میں لگ جاتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگتے ہیں اور اس کے انعامات کی امید بھی رکھتے ہیں اور گرفت اور مواخذہ ہونے سے بھی ڈرتے ہیں۔ درحقیقت خوف اور طمع (ڈرنا اور نعمتوں اور مغفرتوں کی امید رکھنا) یہ دونوں مومن کی زندگی کے اہم جزو ہیں، مومن کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ رہنی چاہئیں یعنی گناہوں سے بچتا رہے اعمال صالح کرتا رہے اور عدم قبولیت کا خوف بھی لگا رہے، جیسا عمل چاہیے ویسا نہ ہونے کی وجہ سے مواخذہ سے بھی ڈرے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے اچھی امید بھی لگائے رکھے، جس کے دل سے خوف گیا وہ گناہ بھی کرے گا اعمال بھی ترک کرے گا اور فسق میں ترقی کرتا چلا جائے گا اور جس کے دل سے امید نکل گئی، اللہ کی طرف سے مغفرتوں اور نعمتوں کا امیدوار نہ رہا ایسا شخص دعا بھی نہ کرے گا، خوف اور طمع نہ ہو تو بندہ محرومی کے غار میں اترتا چلا جاتا ہے۔ جو شخص تہجد کا اہتمام کرے گا ظاہر ہے کہ فرائض و سنن کی ادائیگی کا اس سے زیادہ فکر مند ہوگا، لہٰذا اس میں نمازوں کا اہتمام کرنے والوں کی تعریف بیان فرما دی اور ساتھ ہی (وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) بھی فرما دیا کہ یہ لوگ نمازوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ بھی کرتے ہیں۔ لفظوں کا عموم زکوٰۃ اور نفلی صدقہ اور صدقہ واجبہ سب کو شامل ہے اور قلیل و کثیر سب کچھ اس میں آگیا، یعنی یہ جو فرمایا کہ ہم نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس میں ایک پیسے سے لے کر لاکھوں خرچ کرنا سب داخل ہوگیا، اللہ کی رضا میں خرچ کرنے کے لیے مالدار ہونا ضروری نہیں جس کے پاس تھوڑا سامان ہو وہ اسی میں سے خرچ کرے، خرچ کرنے کا ذوق ہو تو زیادہ مالیت اور کم مالیت سے کچھ فرق نہیں پڑتا اور تھوڑا مال ہونا بھی خرچ سے مانع نہیں ہوتا، بعض صحابہ (رض) نے تو یہاں تک کیا کہ اپنے پاس کچھ نہ ہوا تو مزدوری کرکے کچھ حاصل کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کردیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ انما یومن الخ مشرکین کے مقابلے میں مومنین کی صفات کا ذکر۔ ایمان صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے دلوں میں انابت ہو۔ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ فورًا ایمان لے آتے ہیں۔ اور جب انہیں آیات خداوندی سنائی جاتی ہیں تو وہ اللہ کے خوف سے سراپا عجز و نیاز بن جاتے ہیں وسبحو بحمد ربھم، وہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے شریکوں سے پاک اور منزہ سمجھتے اور اس کو تمام صفات کارسازی سے متصف مانتے ہیں قرآن مجید ہر جگہ لفظ تسبیح سے نفی عن الشریک اور حمد سے صفات کارسازی مراد ہیں یعنی اللہ تعالیی ہر شریک سے پاک اور تمام صفات کارسازی سے متصف ہے لہذا سارے عالم میں وہی متصرف و مختار اور کارساز ہے ای نزھوہ و حمدوہ (قرطبی ج 14 ص 99) ۔ وھم لا یستکبرون اور وہ اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تمجید سے استکبار نہیں کرتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15۔ ہماری آیتوں پر تو بس وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان آیات کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے اور ان کو یہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ لوگ ایمان لانے اور سجدہ کرنے سے تکبر نہیں کرتے۔ اوپر سورة لقمان میں کافروں کا حا ل بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ولی مستکبرا ً یعنی وہ آیات الٰہی کو سن کر ان آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور تکبر کے ساتھ پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے لیکن مومنین کا یہ حال نہیں ہے وہ آیات کو سن کر ان پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان کو وہ آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور سجدے میں گرپڑتے ہیں اور وہ لوگ آیات الٰہی سے اور ایمان سے اور سجدہ کرنے سے تکبر آمیز برتائو نہیں کرتے ۔ حمد کے ساتھ ملا کر تسبیح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سبحان اللہ و بحمد ہ کہتے ہیں آگے ان کے مزید اعمال کا ذکر ہے۔