Surat Assajdah

Surah: 32

Verse: 4

سورة السجدة

اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ؕ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیۡعٍ ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴﴾

It is Allah who created the heavens and the earth and whatever is between them in six days; then He established Himself above the Throne. You have not besides Him any protector or any intercessor; so will you not be reminded?

اللہ تعالٰی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah is the Creator and Controller of the Universe Allah says; اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ... Allah it is He Who has created the heavens and the earth, and all that is between them in six Days. Then He Istawa over the Throne. Allah tells us that He is the Creator of all things. He created the heavens and earth and all that is between them in six days, then He rose over the Throne -- we have already discussed this matter elsewhere. ... مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَا شَفِيعٍ ... You have none, besides Him, as a protector or an intercessor, means, only He is the Sovereign Who is in control of all affairs, the Creator of all things, the Controller of all things, the One Who is able to do all things. There is no Creator besides Him, no intercessor except the one to whom He gives permission. ... أَفَلَ تَتَذَكَّرُونَ Will you not then remember! -- this is addressed to those who worship others apart from Him and put their trust in others besides Him -- exalted and sanctified and glorified be He above having any equal, partner, supporter, rival or peer, there is no God or Lord except Him.

ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے ۔ اس نے چھ دن میں زمین وآسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا ۔ اس کی تفسیر گذرچکی ہے ۔ مالک وخالق وہی ہے ہر چیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہر چیز پر غلبہ اسی کا ہے ۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی ۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو ۔ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کاربنانے لگا ؟ وہ برابری سے ، وزیر ومشیر سے شریک وسہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اسکے علاوہ کوئی پالنہار ہے ۔ نسائی میں ہے حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں ہیں میرا ہاتھ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی تمام چزیں پیدا کرکے ساتویں دن عرش پر قیام کیا ۔ مٹی ہفتے کے دن بنی ۔ پہاڑ اتوار کے دن درخت سوموار کے دن برائیاں منگل کے دن نور بدھ کے دن جانور جمعرات کے دن آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں اسے تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا جس میں سفید وسیاہ اچھی بری ہر طرح کی تھی اسی باعث اولاد آدم بھی بھلی بری ہوئی ۔ امام بخاری اسے معلل بتلاتے ہیں فرماتے ہیں اور سند سے مروری ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے اسے کعب احبار سے بیان کیا ہے اور حضرات محدثین نے بھی اسے معلل بتلایاہے ۔ واللہ اعلم ۔ اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جسے اور آیت میں ہے ( اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا 12۝ۧ ) 65- الطلاق:12 ) اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے ۔ اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے ۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتناہی اس کا گھیراؤ ہے ۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کرلیتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے ۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں ۔ وہ غالب ہے جس نے ہر چیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41اس کے لئے دیکھئے (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :54) کا حاشیہ یہاں اس مضمون کو دہرانے سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور عجائب صنعت کے ذکر سے شاید وہ قرآن کو سنیں اور اس پر غور کریں۔ 42یعنی وہاں کوئی ایسا دوست نہیں ہوگا، جو تمہاری مدد کرسکے اور تم سے اللہ کے عذاب کو ٹال دے، نہ وہاں کوئی سفارشی ہی ایسا ہوگا جو تمہاری سفارش کرسکے۔ 43یعنی اے غیر اللہ کے پجاریو اور دوسروں پر بھروسہ رکھنے والو ! کیا پھر تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤] (اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ ) کی تفسیر کے لئے سورة اعراف آیت نمبر ٥٤ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ [ ٥] یعنی جو ہستی اتنی زبردست ہے کہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لاسکتی ہے اس کے مقابلہ میں تمہارے یہ معبود جنہیں تم اپنا سرپرست اور سفارشی سمجھے بیٹھے ہو تمہارے کس کام آسکتے ہیں۔ کیا تمہیں ایسی موٹی سے بات کی بھی سمجھ نہیں آتی ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ : قرآن کریم اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے حق ہونے کے بیان کے بعد اس اہم ترین مسئلے کا ذکر فرمایا جس کی طرف دعوت دینے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور تمام رسولوں کو بھیجا گیا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دلائل کا بیان۔ چناچہ فرمایا : ” اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو، زمین کو اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ “ ان دنوں سے مراد معروف دن نہیں، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ان کا وجود ہی نہیں تھا، ہوسکتا ہے وہ دن ہزاروں یا لاکھوں سال کے ہوں۔ دیکھیے سورة اعراف (٥٤) اور حٰم السجدہ (٩ تا ١٢) ۔ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (٥٤) ، یونس (٣) اور طٰہٰ (٥) ۔ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا شَفِيْعٍ : یہ اس باطل خیال کا رد ہے کہ بیشک آسمان و زمین اور ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مگر کچھ ہستیاں ایسی زبردست یا اللہ کی محبوب ہیں جو سفارش کر کے اس کی گرفت سے چھڑا لیں گی۔ فرمایا، یاد رکھو ! اگر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو اس کے مقابلے میں تمہارا کوئی دوست نہیں ہوگا جو اس کے عذاب سے تمہیں چھڑا سکے اور نہ کوئی سفارشی، جو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت کرسکے۔ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ : یعنی کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے کہ عرش سے فرش تک اس کی حکومت ہے، اس کے پیغام اور پیغمبر کو جھٹلا کر کہاں جاؤ گے ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو اور اس مخلوق کو جو ان دونوں کے درمیان میں (موجود) ہے چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے وہ ایسا عظیم ہے کہ) بدون اس (کی رضا و اذن) کے نہ تمہارا کوئی مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا (البتہ اذن سے شفاعت ہوجائے گی اور نصرت کے ساتھ اذن ہی متعلق نہ ہوگا) سو کیا تم سمجھتے نہیں ہو (کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا اور) وہ (ایسا ہے کہ) آسمان سے لے کر زمین تک (جتنے امور ہیں) ہر امر کی (وہی) تدبیر (اور انتظام) کرتا ہے، پھر ہر امر اسی کے حضور میں پہنچ جائے گا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے موافق ایک ہزار برس کی ہوگی (یعنی قیامت میں سب امور اور ان کے متعلقات اس کے حضور میں پیش ہوں گے۔ کقولہ تعالیٰ ) (آیت) والیہ یرجع الامر کلہ) وہی ہے جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا زبردست رحمت والا جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی (یعنی جس مصلحت کے لئے اس کو بنایا اس کے مناسب بنایا) اور انسان (یعنی آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے شروع کی، پھر اس (انسان یعنی آدم) کی نسل کو خلاصہ اخلاط یعنی ایک بےقدر پانی سے (یعنی نطفہ سے جو فضلہ ہے ہضم رابع غذا کا جس میں چار خلط خون، بلغم، سودا، صفرا بنتے ہیں) بنایا پھر (ماں کے رحم میں) اس کے اعضاء درست کئے اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور (بعد تولد) تم کو کان اور آنکھیں اور دل (یعنی ادراکات ظاہرہ و باطن) دیئے (اور ان سب باتوں کا جو کہ دال علی القدرة و الانعام ہیں مقتضا یہ تھا کہ خدا کا شکر کرتے جس کی فرد اعظم توحید ہے مگر) تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو (یعنی نہیں کرتے)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ۝ ٠ ۭ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا شَفِيْعٍ۝ ٠ ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ۝ ٤ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ استوا أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] ( س و ی ) المسا واۃ کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے عرش العَرْشُ في الأصل : شيء مسقّف، وجمعه عُرُوشٌ. قال تعالی: وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] والعَرْشُ : شبهُ هودجٍ للمرأة شبيها في الهيئة بِعَرْشِ الکرمِ ، وعَرَّشْتُ البئرَ : جعلت له عَرِيشاً. وسمّي مجلس السّلطان عَرْشاً اعتبارا بعلوّه . قال : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] ( ع رش ) العرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں اس کی جمع عروش ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهِيَ خاوِيَةٌ عَلى عُرُوشِها[ البقرة/ 259] اور اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے ۔ العرش چھولدادی جس کی ہیت انگور کی ٹٹی سے ملتی جلتی ہے اسی سے عرشت لبئر ہے جس کے معنی کو یں کے اوپر چھولداری سی بنانا کے ہیں بادشاہ کے تخت کو بھی اس کی بلندی کی وجہ سے عرش کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ [يوسف/ 100] اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ شَّفَاعَةُ : الانضمام إلى آخر ناصرا له وسائلا عنه، وأكثر ما يستعمل في انضمام من هو أعلی حرمة ومرتبة إلى من هو أدنی. ومنه : الشَّفَاعَةُ في القیامة . قال تعالی: لا يَمْلِكُونَ الشَّفاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْداً [ مریم/ 87] ، لا تَنْفَعُ الشَّفاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمنُ [ طه/ 109] ، لا تُغْنِي شَفاعَتُهُمْ شَيْئاً [ النجم/ 26] ، وَلا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضى[ الأنبیاء/ 28] ، فَما تَنْفَعُهُمْ شَفاعَةُ الشَّافِعِينَ [ المدثر/ 48] ، أي : لا يشفع لهم، وَلا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفاعَةَ [ الزخرف/ 86] ، مِنْ حَمِيمٍ وَلا شَفِيعٍ [ غافر/ 18] ، مَنْ يَشْفَعْ شَفاعَةً حَسَنَةً [ النساء/ 85] ، وَمَنْ يَشْفَعْ شَفاعَةً سَيِّئَةً [ النساء/ 85] ، أي : من انضمّ إلى غيره وعاونه، وصار شَفْعاً له، أو شَفِيعاً في فعل الخیر والشّرّ ، فعاونه وقوّاه، وشارکه في نفعه وضرّه . وقیل : الشَّفَاعَةُ هاهنا : أن يشرع الإنسان للآخر طریق خير، أو طریق شرّ فيقتدي به، فصار كأنّه شفع له، وذلک کما قال عليه السلام : «من سنّ سنّة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها، ومن سنّ سنّة سيّئة فعليه وزرها ووزر من عمل بها» «1» أي : إثمها وإثم من عمل بها، وقوله : ما مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ [يونس/ 3] ، أي : يدبّر الأمر وحده لا ثاني له في فصل الأمر إلّا أن يأذن للمدبّرات، والمقسّمات من الملائكة فيفعلون ما يفعلونه بعد إذنه . واسْتَشْفَعْتُ بفلان علی فلان فَتَشَفَّعَ لي، وشَفَّعَهُ : أجاب شفاعته، ومنه قوله عليه السلام : «القرآن شَافِعٌ مُشَفَّعٌ» «2» والشُّفْعَةُ هو : طلب مبیع في شركته بما بيع به ليضمّه إلى ملكه، وهو من الشّفع، وقال عليه السلام : «إذا وقعت الحدود فلا شُفْعَةَ» الشفاعۃ کے معنی دوسرے کے ساتھ اس کی مدد یا شفارش کرتے ہوئے مل جانے کے ہیں ۔ عام طور پر کسی بڑے با عزت آدمی کا اپنے سے کم تر کے ساتھ اسکی مدد کے لئے شامل ہوجانے پر بولا جاتا ہے ۔ اور قیامت کے روز شفاعت بھی اسی قبیل سے ہوگی ۔ قرآن میں ہے َلا يَمْلِكُونَ الشَّفاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْداً [ مریم/ 87]( تو لوگ) کسی کی شفارش کا اختیار رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو ۔ لا تَنْفَعُ الشَّفاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمنُ [ طه/ 109] اس روز کسی کی شفارش فائدہ نہ دے گی ۔ مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے ۔ لا تُغْنِي شَفاعَتُهُمْ شَيْئاً [ النجم/ 26] جن کی شفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی ۔ وَلا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضى[ الأنبیاء/ 28] وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو ۔ فَما تَنْفَعُهُمْ شَفاعَةُ الشَّافِعِينَ [ المدثر/ 48]( اس حال میں ) سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گی ۔ یعنی جن معبودوں کو یہ اللہ کے سو سفارش کیلئے پکارتے ہیں ۔ وہ ان کی سفارش نہیں کرسکیں گے ۔ مِنْ حَمِيمٍ وَلا شَفِيعٍ [ غافر/ 18] کوئی دوست نہیں ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے ۔ مَنْ يَشْفَعْ شَفاعَةً حَسَنَةً [ النساء/ 85] جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس ( کے ثواب ) میں سے حصہ ملے گا ۔ اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس ( کے عذاب ) میں سے حصہ ملے گا ۔ یعنی جو شخص اچھے یا برے کام میں کسی کی مدد اور سفارش کرے گا وہ بھی اس فعل کے نفع ونقصان میں اس کا شریک ہوگا ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں شفاعت سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے لئے کسی اچھے یا برے مسلک کی بنیاد رکھے اور وہ اس کی اقتداء کرے تو وہ ایک طرح سے اس کا شفیع بن جاتا ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا :«من سنّ سنّة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها، ومن سنّ سنّة سيّئة فعليه وزرها ووزر من عمل بها» کہ جس شخص نے اچھی رسم جاری کی اسے اس کا ثواب ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اسے اجر ملے گا اور جس نے بری رسم جاری کی اس پر اس کا گناہ ہوگا ۔ اور جو اس پر عمل کرے گا اس کے گناہ میں بھی وہ شریک ہوگا ۔ اور آیت کریمہ ؛ما مِنْ شَفِيعٍ إِلَّا مِنْ بَعْدِ إِذْنِهِ [يونس/ 3] کوئی ( اس کے پاس ) اس کا اذن لیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اکیلا ہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے اور نظام کائنات کے چلانے میں کوئی اس کا ساجھی نہیں ہے ۔ ہاں جب وہ امور کی تدبیر و تقسیم کرنے والے فرشتوں کو اجازت دیتا ہے تو وہ اس کی اجازت سے تدبیر امر کرتے ہیں ۔ واسْتَشْفَعْتُ بفلان علی فلان فَتَشَفَّعَ لي، میں نے فلاں سے مدد طلب کی تو اس نے میری مدد لی ۔ وشَفَّعَهُ : ۔ کے معنی کسی کی شفارش قبول کرنے کے ہیں ۔ اور اسی سے (علیہ السلام) کافرمان ہے (196) «القرآن شَافِعٌ مُشَفَّعٌ» کہ قرآن شافع اور مشفع ہوگا یعنی قرآن کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ الشُّفْعَةُ کے معنی ہیں کسی مشترکہ چیز کے فروخت ہونے پر اس کی قیمت ادا کر کے اسے اپنے ملک میں شامل کرلینا ۔ یہ شفع سے مشتق ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا :«إذا وقعت الحدود فلا شُفْعَةَ» جب حدود مقرر ہوجائیں تو حق شفعہ باقی نہیں رہتا ۔ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین اور تمام مخلوقات کو دنیاوی دنوں کے حساب سے ہر ایک دن ان میں سے ایک ہزار سال کے برابر تھا چھ دن میں پیدا کیا کہ اتوار کے روز سے شروع کیا اور جمعہ کے دن تکمیل فرمائی پھر اختیارات نافذ کرنے کے لیے عرش پر قائم ہوا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے پہلے بھی عرش پر تھا۔ اے مکہ والو اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ تمہارا کوئی مددگار ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکے اور نہ کوئی سفارشی ہے جو عذاب الہی کے بارے میں تمہاری سفارش کرسکے پھر کیا تم قرآن حکیم کے ذریعے سے نصیحت حاصل کر کے ایمان نہیں لاتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ (اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط) (مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَاشَفِیْعٍ ط) یہاں پر لفظ دُوْنَ مقابلے کے معنی دے رہا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہیں پکڑ کر سزا دینا چاہے تو تمہارا کوئی حمایتی یا سفارشی اس کے اس فیصلے کے آڑے نہیں آسکتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 Now the second objection of the mushriks which they raised against the Holy Prophet's message of Tauhid, is being dealt with: They were severely critical of him because he rejected their gods and saints and openly invited the people to the creed that there is no helper, no fulfiller of needs except Allah and no answerer of prayers, no remover of ills and no sovereign other than Him. 7 For explanation, see E.N. 41 of Al-A'raf, E.N. 4 of Yunus and E.N. 3 of Ar-Ra'd. 8 That is, "Your real God is the Creator of the heavens and earth. But you in your folly have set up others than Him as your helpers and supporters in the vast 'Kingdom of this Universe. The Creator of this whole Universe and whatever it contains is Allah. Here, everything except Himself is created, and Allah has not gone to sleep after having created and made the world go. But He Himself is the Ruler and Sovereign and Sustainer of His Kingdom. Then, how senseless you are that you have set up a few of His creatures as the masters of your destinies ! If Allah dces not help you, none of them has the power to help you. If Allah should seize you, none of them has the power to secure your liberty. If Allah does not permit, none of them has the power to intercede for you before Him. "

سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :6 اب مشرکین کے دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید پر کرتے تھے ۔ ان کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دیوتاؤں ، اور بزرگوں کی معبودیت سے انکار کرتے ہیں اور ہانکے پکارے یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود کوئی کار ساز ، کوئی حاجت روا ، کوئی دعائیں سننے والا ، اور بگڑی بنانے والا ، اور کوئی حاکم ذی اختیار نہیں ہے ۔ سورة السَّجْدَة حاشیہ نمبر :7 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ص ۳٦ ۔ ۲٦۱ ۔ ۲٦۲ ۔ ٤٤۱ ۔ ٤٤۲ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: ’’اِستواء‘‘ کے لفظی معنیٰ سیدھا ہونے اور بیٹھنے کے آتے ہیں، لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر ’’اِستواء‘‘ فرمانے کا صحیح مطلب ہماری فہم اور ادراک سے باہر ہے، اس لئے اس کی تفصیلات میں جانے کی نہ ضرورت ہے، نہ اِس کا کوئی یقینی نتیجہ نکل سکتا ہے، اِتنا اِیمان رکھنا کافی ہے کہ جو کچھ قرآنِ کریم نے فرمایا ہے وہ برحق ہے۔ 3: اہلِ عرب بتوں کی پوجا اس عقیدے سے کیا کرتے تھے کہ یہ بت اﷲ تعالیٰ سے ہماری سفارش کر کے ہماری دنیوی ضروریات پوری کریں گے۔ جیسا کہ سورۃ یونس (۱۰:۱۸) میں اﷲ تعالیٰ نے ان کا یہ عقیدہ بیان فرمایا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 ” چھ دنوں “ سے مراد دنیا کے چھ دن نہیں بلکہ چھ ادوار ہیں یا آخرت کے چھ دن (دیکھیے سورة احراف آیت 74) 1 یعنی ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے۔ بہت سی احادیث اور آثار و اقوال سے بھی اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا ثابت ہے۔ حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ سلف کا اس پر اجماع ہے۔ حافظ ابن قیم اغاثہ میں لکھتے ہیں کہ ارسطو سے پہلے تمام فلاسفہ حدوث عالم کے قائل تھے اور یہ کہ صانع عالم موجود اور تمام مخلوق سے الگ ہے اور اپنی ذات سے آسمانوں اور تمام جہاں کے اوپر ہے۔ الغرض سارے اہل شریعت اور عقلا اسی عقیدہ پر متفق چلے آتے ہیں، صرف معتزلہ نے اس صف کی نفی کی ہے، پھر متاخرین اشاعرہ ان کے تابع ہوئے۔ از حاشیہ جامع البیان ( نیز دیکھئے سورة بقرہ آیت 29، سورة اعراف آیت 54 و طہٰ آیت 5) ۔2 یعنی اگر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو کوئی نہیں جو تمہاری مدد کرکے تمہیں اس سے چھڑاسکے یا خود اس کے اذن کے بغیر اس سے تمہاری سفارش کرسکے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ستتہ (چھ (چھ مدتیں) ۔ استوی (برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ ٹھہرا) ۔ یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے) ۔ الامر (حکم۔ بات۔ کام) ۔ یعرج (وہ چڑھتا ہے) ۔ الف سنتہ (ایک ہزار سال) ۔ طین (مٹی) ۔ سللتہ (ست نچوڑ) ۔ یتوفی (وہ موت دیتا ہے) ۔ وکل (سپرد کیا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (4 تا 11) ۔ ” سورة السجد کی آیت نمبر ا تا 3 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو پوری طرح آگاہ کردیا جائے جن کے پاس صدیوں سے کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ جس اللہ نے اس قرآن جیسی کتاب کو نازل کیا ہے بتایا جارہا ہے کہ اس کی شان یہ ہے کہ اس نے چھ دنوں میں زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو پیدا کیا اور ساتویں دن وہ اپنی شان کے مطابق تخت سلطنت پر قائم اور جلوہ گر ہوا۔ اس میں یہودیوں کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ اللہ نے چھ دنوں میں اس پوری کائنات کو بنایا اور ساتویں دن اس نے آرام کیا۔ یہودیوں نے یہ مسئلہ گھڑ رکھا ہے کہ جس طرح اللہ نے چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کیا تھا اسی طرح تمام لوگوں کو ہفتہ کے دن آرام کرنا چاہیے حالانکہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی حفاظت سے کبھی تھکتا نہیں لیکن یہودیوں نے اس عقیدے کو اپنے اوپر اس طرح مسلط کرلیا ہے کہ وہ ہفتہ کے دن اس طرح آرام کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز کو جاتھ تک نہیں لگاتے۔ اللہ نے یہودیوں کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک اللہ نے اس کائنات کو آہستہ آہستہ ایک خاص نظام کے تحت بنایا ہے اور چھ دنوں یا مدتوں میں اس کو مکمل کیا ہے لیکن اس نے ساتویں دن آرام نہیں کیا بلکہ وہ اپنی شان کے مطابق تخت سلطنت پر جلوہ گر ہوا یعنی اس نے نظام کائنات کو اپنی مرضی کے اور شان کے مطابق چلانا شروع کیا۔ فرمایا کہ وہ اللہ ہی سب چیزوں کا اور انسانوں کا مالک ہے اس کی اجازت کے بغیر نہ کوئی کسی کی حمایت کرسکتا ہے اور نہ سفارش ۔ کیا وہ اتنی سی بات پر دھیان نہیں دے سکتے۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہی اس کائنات میں ہر چھوٹے، بڑے اور اہم معاملے کا انتظام فرماتا ہے۔ زمین سے آسمان تک جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اس کے پاس پہنچتا ہے اور پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے ایک دن کی مقدار انسانی گنتی کے مطابق ایک ہزار سال ہے۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برسوں سے ایک ہی بات کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر انہوں نے ان کی بات نہ مانی تو ان پر اللہ کا عذاب آئے گا، ان کو تہس نہس کردیا جائے گا۔ لیکن ہم پر کوئی عذاب نہیں آیا لہذا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورة الحج میں فرمایا کہ یہ لوگ عذاب الہی کی جلدی مچا رہے ہیں تو وہ یادرکھیں کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے (جو پورا ہو کررہے گا کیونکہ) اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ کے پروردگار کے ہاں کا ایک دن تم لوگوں کے شمار سے ایک ہزار سال جیسا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور جنتریوں کے لحاظ سے نہیں آیا کرتے کیونکہ قوموں کی زندگیوں میں نتائج ظاہر ہونے کے لئے صدیاں بھی لگ جاتی ہیں۔ لہذا جب اس کا فیصلہ آجائے گا تو پھر اس میں دیر نہیں ہوگی۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ کوئی چیز ظاہر ہو یا چھپی ہوئی ہو اس سے وہ پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ زبردست ہے لیکن اس کی ہر صفت پر صفت رحمت غالب ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے اس کائنات میں جتنی چیزیں بھی نبائی ہیں وہ بہترین ہیں۔ انسان لاکھ تدبیر کے باوجود قدرت کی نبائی ہوئی چیزوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ خاص طور پر اس نے انسان کو اس کی بنیادی کمزوریوں کے باوجود سب سے خوبصورت اور حسین بنایا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس بات پر غور کرو کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جن کو مٹی، گارے اور تمام انسانوں کو ایک حقیر اور بےقیمت پانی کے قطرے سے پیدا کیا۔ اس نے ماں کے پیٹ میں اس کے تمام اعضا کو تیار کیا۔ اس میں اپنی طرف سے روح کو پھونک کر زندگی عطا کی، سننے کے لئے کان، دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سوچنے کے لئے دل عطا فرمایا۔ یہ ایسی زبردست نعمتیں ہیں جن پر ہر انسان کو شکرادا کرنا چاہیے مگر بہت تھوڑے لوگ ہیں جو قدر کرتے ہیں ورنہ اکثر تو ناشکری ہی کرتے رہتے ہیں۔ اور اس قدرت کو اچھی طرح ماننے کے باوجود یہی کہتے رہتے ہیں کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی میں رل مل جائیں گے۔ ہمارے وجود کے ذرات کا بھی پتہ نہ ہوگا کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ فرمایا کہ جس اللہ نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے کیا وہ اس کو دوبارہ پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ؟ یقینا صرف اللہ ہی اس کی طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ اصل بات یہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی بد نصیبی ہے کہ وہ اللہ کے پاس پہنچنے کی امید نہیں رکھتے۔ اگر وہ اللہ سے ملاقات کا یقین رکھتے اور اس حقیقت کا انکار نہ کرتے تو پھر وہ ایسی بےتکی باتیں نہ کرتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ فرما دیجئے کہ تم آخرت میں پہنچ کر اللہ کی ملاقات پر یقین کرو نہ کرو بہر حال ایک وقت سب کو دیکھنا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے جس فرشتے کو (عزرائیل (علیہ السلام) کو) اس بات پر مقرر کیا ہے کہ وہ ہر نفس انسانی اور ہر جان دار کو موت سے ہم کنار کرے گا اور پھر سب کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ یعنی وہاں پھر ہر انسان کے اعمال کا جائزہ لیکر اس کو جنت یا جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اللہ کی قدرت ، طاقت اور نظام کائنات کی بقیہ تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی تصرفات نافذ کرنے لگا۔ 4۔ کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش بریں پر مستوی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے اسے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر جس طرح اس کی شان ہے عرش معلی پر متمکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کے بارے میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اس ذات نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور ان کی تخلیق سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ (ھود : ٧) جہاں تک زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں فرمائیں کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمینوں کو دو دن میں پیدا کیا پھر زمین پر پہاڑ گاڑے اور زمین میں ہر قسم کا رہنے سہنے کا سامان بنایا اور اس میں برکت پیدا فرمائی۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو دھواں کی صورت میں تھا ان کو دو دنوں میں سات آسمان بنایا پھر ہر آسمان کو اس کے متعلقہ امور کا حکم دیا اس کے بعد پہلے آسمان کو ستاروں کے ذریعے خوبصورت بنایا اور اس کی حفاظت کا بندوبست کیا یہ کام اس ذات کبریا نے کئے ہیں جو ہر چیز کو جاننے والا اور ہر کام کرنے پر غالب ہے ( حٰم السجدہ : ٩ تا ١٣) اس کے سوا نہ تمہارا کوئی خیرخواہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا ہوگا۔ کیا پھر بھی تم سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو ؟ قرآن مجید یہ حقیقت مختلف الفاظ اور انداز میں بیان کرتا ہے کہ لوگو ! تم اپنے رب کی خالص عبادت کرو اور کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک نہ بناؤ۔ تم دوسروں کو اس لیے اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو کہ قیامت کے دن وہ تمہاری سفارش اور مدد کریں گے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی انداز میں بھی کفرو شرک کیا اس کی کوئی سفارش اور خیرخواہی کرنے ولا نہیں ہوگا کیا تم اتنی آسان اور کھلی حقیقت سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو ؟ (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا لاوَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ) [ الاعراف : ٤٥] ” بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلاآتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے پیدا کیے، اس حال میں کہ اس کے حکم کے تابع ہیں سن لو پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ ہی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عرش بریں پر متمکن ہے۔ ٣۔ قیامت کے دن کافر اور مشرک کی کوئی بھی خیرخواہی اور سفارش نہیں کرسکے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش اور خیرخواہی نہیں کرسکے گا : ١۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ : ٢٥٥) ٢۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا : ٣٨) ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : ١٠٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کا حقدار نہ ہوگا۔ (یونس : ٣) ٥۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے الرّحمن اجازت دے گا۔ (مریم : ٨٧) ٦۔ اگر الرّحمن نقصان پہنچانا چاہے تو کسی کی سفارش کچھ کام نہ آئے گی۔ (یٰس : ٢٣) ٧۔ سفارشیوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ (المدثر : ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ الذی خلق ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ قلیلا ما تشکرون (4 – 9) یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہیں اس کی الوہیت کے آثار و شواہد۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور لا انتہا عالم میں اس کے شواہد ہیں جو انسان کے محدود ادراک سے وراء ہے۔ خود انسان کی پیدائش اور اس کی نشوونما کے مختلف مدارج ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور انسانی نشوونما کے ان مدارج میں جن سے انسان ابھی تک بیخبر ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔ اللہ الذی ۔۔۔۔۔۔ ستۃ ایام (32: 4) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دنوں میں پیدا کیا “۔ اور یہ چھ دن ہمارے ان دنوں سے یقیناً مختلف ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں کیونکہ زمین کے دن تو وہ ہیں جو سورج کے سامنے زمین کی گردش محوری سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دن ایک شب و روز پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ زمین اس کائنات کے اندر بہت ہی مختصر سا ٹکڑا ہے۔ ایک ذرہ ہے جس کی اس عظیم فضا میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ ہمارے روز و شب تو زمین و آسمان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے اور یہ روز و شب زمانہ کی وہ مقدار ہے جس کے مطابق ہم حساب و کتاب کرتے ہیں۔ ان چھ ایام کی حقیقت کیا ہے تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہمارے پاس ان دنوں کے حساب و کتاب کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ایام ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (32: 5) ” اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن ، تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے “۔ یہ چھ دن وہ چھ حالات بھی ہوسکتے ہیں جن سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی فضا گزری ، یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی یا یہ تخلیق کے چھ مراحل تھے یا یہ چھ زمانے تھے جن کے درمیان کے وقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی مراد ہو ، ان سے وہ دن مراد نہیں ہیں جو ہمارے زمانے کے دن ہیں۔ بہر حال وہ ایک غیبی امر ہے اور اس کی مراد ہم متعین نہیں کرسکتے۔ مراد وہ زمانہ ہے جو تخلیق ، تقدیر میں مطابق حکمت الہیہ صرف ہوا اور اس زمانے میں اللہ نے ہر چیز کو اس کی موجودہ شکل تک پہنچایا مختلف مراحل ، ادوار سے گزار کر۔ ثم استوی علی العرش (32: 4) ” اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا “۔ استواء علی العرش اشارہ ہے اس طرف کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں تمام کائنات ہے۔ رہا یہ کہ عرش کیا ہے تو ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ انہی الفاظ پر بات کو ختم کرتے ہیں۔ بہرحال استوا علی العرش سے مراد ہے قدرت شاملہ سے۔ پھر لفظ ثم بھی ترتیب زمانی کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے اللہ کس حال میں تھا پھر کسی دوسرے حال میں ہوگیا۔ یہ معنوی ترتیب ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور جب سے پیدا کیا وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے یعنی بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ پیدا پلے کیا اور قبضہ قدرت میں بعد میں ہوا اور نہ ایسا کوئی زمانہ نہ تھا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں نہ ہو۔ اس بےقید قبضہ قدرت کے بیان کے بعد اب لوگوں سے کہا جاتا ہے۔ ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع (32: 4) ” اس کی مانند نہ تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ہے “۔ کہاں اور کون سفارشی ہوسکتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ عرش پر متمکن ہوں اور زمین و آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں اور خالق ارض و سما بھی وہی ہو۔ تو اس کے سوا کوئی حامی ہوسکتا ہے اور اس کے سوا سفارش کرنے والا کون ہو سکتا ہے اور کون سفارشی اللہ کی سلطنت سے خارج ہوسکتا ہے۔ افلا تتذکرون (32: 4) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ یہ حقیقت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اللہ کا اقرار کرو ، اور اپنا رخ اسی کی طرف کر دو ۔ تخلیق اسی کی ہے وہی مکمل اختیارات رکھتا ہے ، وہی تدبیر کرتا ہے اور امور طے کرتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ زمین و آسمان کے تمام امور اس کی طرف بلند ہوتے ہیں ، قیامت میں بھی تمام معاملات اس کے سامنے پیش ہوں گے اور دنیا میں بھی تمام رپورٹیں اس کی طرف پہنچتی ہیں اس طویل دن میں جس کی مقدار اس کو معلوم ہے۔ یدبر الامر ۔۔۔۔۔ مما تعدون (32: 5) ” وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے “۔ قرآن کا انداز تعبیر اللہ کے تدبیر کائنات کے وسیع تر میدان کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ من السمآء الی الارض (32: 5) ” آسمانوں سے زمین تک “۔ اس سے انسانی ذہن کے اندر بات بٹھانا مقصود ہے یعنی ان الفاظ میں جن کا تصور ذہن انسانی کرسکتا ہے تاکہ دل میں خوف خدا پیدا ہو۔ ورنہ اللہ کی تدبیر کائنات کا دائرہ زمین اور آسمان سے بہت ہی وسیع ہے۔ لیکن انسانی احساس اور شعور کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس کائنات کے سامنے کھڑا ہے اور اپنے شعور اور مشاہدے کی حد تک اللہ کی وسعت تدبیر کا تصور کر رہا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی وسعت تدبیر ہمارے تصور اور ہمارے ان شماریات سے بھی وسیع ہے جو ہمارے استعمال میں ہیں۔ پھر اللہ کی تمام تدابیر اور اللہ کی تمام تقدیرات کی رپورٹ میں ان کے نتائج اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور یہ روئیدادا سے پورے عواقب و نتائج کے ساتھ ، تمام اعمال ، اموال اور افعال کے ساتھ ، اشیاء اور زندوں اور تمام مواد کائنات کے بارے میں ایک دن اٹھائی جاتی۔ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال ہمارے شماریات کے مطابق ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیز یونہی نہیں چھوڑ دی جاتی ہے ، نہ کسی چیز کو ۔۔ پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک مقررہ وقت تک تمام چیزوں کی تدبیر کی گئی ہے۔ ہر شے ، ہر معاملہ ، ہر نتیجہ اور ہر واقعہ اللہ کے تحت ہے اور اس کی روئیداد اللہ کے ہاں پہنچتی ہے جس طرح وہ طلب کرتا ہے۔ ذلک علم الغیب والشھادۃ العزیز الرحیم (32: 6) ” وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ، زبردست اور رحیم “۔ یعنی یہ آسمان اور زمین کی تخلیق اور یہ استواء علی العرش اور آسمانوں سے زمین تک تمام امور کا انتظام ۔ یہ ہے اللہ عالم الغیب اور عالم مشاہدہ کا جاننے والا ، وہی خالق ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور زبردست اور رحیم ہے۔ قدرت رکھنے والا ہے ، اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے برتاؤ میں مخلوقات کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جو چیز بھی اس نے بنائی خوب بنائی “۔ کیا شان ہے اللہ کی ! بیشک یہ حق ہے ، فطرت اسے دیکھ رہی ہے ، آنکھیں دیکھ رہی ہیں ، دل اسے دیکھ رہا ہے اور عقل اس کی تصدیق کر رہی ہے۔ یہ حق جو اشیاء کی شکل میں بھی ہے۔ ان کے فرائض میں بھی ہے ، ان کی طبیعت اور ان کی ہم آہنگی میں بھی ہے۔ ان کی ہیئت میں بھی ہے اور ان کی شکل میں بھی ہے۔ بہرحال جو چیز بھی حسن اور احسان سے متعلق ہے وہ اس مخلوقات میں موجود ہے۔ سبحان اللہ ! یہ ہے اللہ کی کاریگری تمام اشیائ میں۔ اس کے دست قدرت کے کمالات تمام اشیاء میں موجود ہیں۔ جو چیز بھی اللہ نے بنائی ہے وہ حسین اور مکمل ہے۔ نہ حد سے آگے ہے اور نہ اس میں کوئی قصور ہے۔ حسن سے زیادہ نہ کم۔ نہ افراط ہے نہ تفریط۔ حجم کے اعتبار سے ، شکل کے لحاظ سے اور مقاصد اور مفاد کے زاویہ سے۔ ہر چیز ایک متعین قدر کے ساتھ ہے۔ نہ حد حسن و جمال سے کم یا زیادہ ہے۔ اپنے وقت سے نہ پہلے آتی ہے ، نہ بعد میں۔ نہ اپنی حد سے آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے رہتی ہے۔ ذرے سے کے کر بڑے سے بڑے اجسام تک میں حسن ملحوظ ہے۔ سادہ خلیے سے لے کر پیچیدہ ترین ذی حیات اشیاء تک ہر چیز حسین اور موزوں ہے۔ اسی طرح ، اعمال ، اطوار ، واقعات اور حرکات سب کے سب مقدر ہیں۔ سب اللہ کی تخلیق ہیں اور ہر واقعہ اور ہر حادثہ اپنے مقرر معیار کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقررہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور یہ اس منصوبے اور نقشے کے مطابق ہوتا ہے جو ازل میں اللہ نے تیار کیا ہے اور ابد تک ایسا ہی تدبیر الٰہی کے مطابق ہوتا رہے گا۔ ہر چیز اور ہر مخلوق اس لیے بنائی گئی ہے کہ وہ اپنا مقرر اور متعین فریضہ ادا کرے اور اس فریضے کا تعین نہایت دقیق وزن کے ساتھ کردیا گیا ہے۔ اس چیز کے تمام فرائض اس کے اندر رکھ دئیے گئے ہیں اور ان خواص کی وجہ سے وہ اپنا فریضہ منصبی پورا کرتی ہے اور اس کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ یہ خلیہ جو متعدد مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ کیڑا رینگ رہا ہے اور جس کے پاؤں اور بال و پر ہیں۔ یہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس زمین پر اپنے لیے راستہ نکالے۔ یہ اپنا کام احسن طریقے سے کرتا ہے۔ یہ پرندہ ، یہ حیوان ، اور یہ انسان ، یہ کواکب ، یہ ستارے ، یہ سیارے ، یہ افلاک اور جہاں اور یہ جہانوں کے جہاں ، یہ کر ات اور ان کے دورے اور گردشیں ، متعین اور مقرر ، عجیب اور مضبوط اور نہایت ہی وقت کے ساتھ متعین وقت کے حامل۔ دائمی طور پر متحرک۔ غرض اس کائنات کی جس چیز کو دیکھو چھوٹی یا بڑی ہر چیز حسین و جمیل ہے۔ اس کے حسن و جمال میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہر کھلی آنکھ ، ہر حساس انسان ، اور ہر صاحب بصیرت شخص اس حسن اور احسان کو دیکھ سکتا ہے جو اس کائنات کی مجموعی شکل میں بھی ہے اور اس کی ایک ایک چیز میں بھی ہے۔ جب قلب و نظر اور ذہن و خیال متوجہ ہوں تو انسان اس جہان میں حسن و جمال اور صفت و کمال کے بڑے بڑے ذخائر دریافت کرسکتا ہے۔ اس حسن و جمال اور اس تدبر و کمال کے نریجے میں ہر طرف سے انسان کے لیے خیر اور برکات جمع ہوتے ہیں۔ مثلاً نہایت ہی خوشگوار پھل اور وہ روحانی ذوق و شوق جس سے کاسہ دل بھی جاتا ہے اور اس طرح انسان اس ربانی میلے میں اور اس خدائی جشن میں جدھر دیکھے ، حسن و جمال ہی نظر آئے۔ جس چیز کا مطالعہ کرے وہ بدیع الجمال اور انتہائے کمال پر نظر آئے۔ اس طرح اس جہان فانی کے زائل ہونے والے اس حسن و جمال سے آگے بڑھ کر عالم آخرت کے دائمی حسن و جمال اور لازوال کمال تک پہنچ سکتا ہے جو صفت الٰہی میں ہے اور جس کا تصور بھی کسی دل میں نہیں آیا۔ انسان ان انعامات اور حسن و جمال اور وقت و کمال کو اس وقت دیکھ سکتا ہے جب انسان ایک عادی اور معمولی اور روٹین کے مناظر کو ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے۔ یہ اس وقت ہی اسے پا سکتا ہے جب وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کی گھنٹیوں کو سنے۔ فطرت کے اشارات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جب وہ اس جہاں کو نور ربانی کے ساتھ دیکھے۔ جب وہ ان کو ربانی نور کے ساتھ دیکھے گا تو پھر اس کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز کے اندر کیسا حسن و جمال ہے اور ہر چیز کی صنفت میں انوکھا پن کیا ہے اور یہ حسن اسے اس وقت نظر آئے گا جب وہ ہر حسین چیز کو دیکھ کر اللہ کو یاد کرے اور سبحان اللہ کہے۔ یوں اس کا تعلق خالق کائنات سے پیدا ہوگا۔ یوں اس کا شعور جمال تک پہنچ جائے گا کیونکہ مخلوقات کے کمال و جمال سے انسان اللہ کے کمال و جمال تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ کائنات جمیل ہے اور اس کا جمال ختم نہیں ہوت اور انسان اس جمال کے ادراک میں روز بروز ترقی کرتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کا یہ فائدہ غیر محدود ہے۔ وہ جس قدر چاہے اس فائدے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ جہاں تک بدیع السموات انسان کے لیے مقدر کرتا ہے اور موقع دیتا ہے۔ پھر اس مخلوق میں خوبصورتی کا عنصر مقصود بالذات ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو خوبصورت بنایا ہے کیونکہ جب کسی بنائی ہوئی چیز کو خوبصور اور اچھا بتایا جاتا ہے تو وہ اپنا فرض منصبی یا ڈیوٹی بہت اچھی طرح ادا کرتی ہے۔ یوں مصنوعات کی عمدگی کو بڑھا کر کمال تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کائنات کی خوبصورتی اس کے ہر جزء سے ظاہر ہے اور مخلوقات کی ہر قسم سے عیاں ہے۔ ذرا اس کھجور کو دیکھئے ذرا کسی ایک پھول کو دیکھئے ، ذرا ایک چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو دیکھئے ، ذرا رات کو دیکھئے اور پھر دن کو دیکھئے ، چھاؤں اور بادلوں کو دیکھئے ، اس پورے وجود کے اندر جاری وساری نغمہ سرائی کو دیکھئے اور غایت درجہ کی ہم آہنگی ، ہمداری اور حرکت کو دیکھئے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ یہ ایک سیاحت ہے اور اس خوبصورت وجود اور نہایت ہی خوبصورت اور انوکھی کائنات میں ایک تفریح ہے اور مخلوقات کا مطالعاتی سفر ہے۔ قرآن کریم ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے اور ہدایت کرتا ہے کہ اس سے لطف اٹھاؤ۔ الذی احسن کل شئ خلقہ (32: 7) ” جس نے ہر چیز کو خوبصورت تخلیق بخشی “۔ اس ہدایت سے انسان اس کائنات میں حسن و جمال کے نکات تلاش کرتا ہے۔ اور لطف اٹھاتا ہے۔ وبدا خلق الانسان من طین (32: 7) ” اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق گارے سے کی۔ انداز تعبیر سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کا آغاز گارے سے تھا۔ یعنی انسان کی ابتدائی شکل مٹی کے گارے کی سی تھے۔ اللہ نے یہ نہیں بتایا کہ گارے سے انسان تک کتنے مراحل سے انسان گزرا یاکتنا زمانہ اس میں لگا۔ اس معاملے میں قیاس آرائی کی جاسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم اس آیت کو سورة المومنون کی آیت سے ملا کر پڑھیں۔ خلق الانسان من سلالۃ من طین ” انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا گیا “۔ لہٰذا یہ کہنا ممکن ہے کہ انسان کی تخلیق ایسے مراحل سے گزری ہے جس کا اصل مٹی تک جا پہنچتا ہے۔ اس سے مراد وہ خلیہ بھی ہو سکتا ہے جو اس زمین میں پیدا کیا گیا اور یہ خلیہ مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ اور نفخ حیات اور نفخ روح سے وہ خالق مٹی تھا اور یہی وہ راز ہے جس تک آج تک انسان نہیں پہنچ سکا۔ نہ انسان یہ معلوم کرسکا ہے کہ یہ زندگی کیا ہے اور نہ یہ معلوم کرسکا ہے کہ اس خلیے میں روح کیسے داخل ہوئی اور اس خلیے سے بھی انسان کیسے پیدا کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ یہ پورا عمل کیسے انجام تک پہنچا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پر کس قدر وقت لگا۔ اس تحقیق کیلئے اللہ نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہے فیصلہ کرے اور اس قسم کی تحقیقات نص قرآن کے خلاف نہیں ہیں۔ نص قرآنی میں صرف یہ ہے کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے یا مٹی کے ست سے ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ موقف جس میں قرآن مجید جو قاطع ہے اپنی جگہ رہتا ہے۔ اور سائنسی تحقیقات بھی اپنے مقام پر رہتی ہیں۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کردی جائے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا کہ تمام حیوانات ایک ہی خلیے سے ارتقاء کرکے مختلف انواع کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور خود انسان بھی بند کی ترقی یافتہ شکل ہے اور یہ کہ انسان اور اعلیٰ قسم کے بندر کے درمیان ارتقائی مراحل کے انواع موجود رہے ہیں۔ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ نیز ڈارون کو وراثتی خصوصیات (جینز) کا علم ہی نہ تھا۔ لیکن جینز کی دریافت کے بعد تو یہ طے ہوگیا ہے کہ ایک نوع کا دوسرے نوع میں منتقل ہونا محال ہوگیا ہے۔ ہر خلیے یعنی نوع حیوان کے خلیے کے اندر جینز ہیں جو اسے اپنی نوع بدلنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ یہ جینز اپنی صورت نوعیہ کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ۔ لہٰذا بلی جس خلیے سے پیدا کی گئی وہ بلی ہی رہی ہے اور اس کی صورت نوعیہ میں کسی مرحلے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کتا ، کتا رہا ہے ، بیل ، بیل رہا ہے ، گھوڑا ہمیشہ گھوڑا رہا ہے ، بندر ہمیشہ بندر رہا ہے اور انسان ہمیشہ انسان رہا ہے۔ جو چیز ممکن ہے وہ یہ ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کے اندر ترقی کرے یا زوال پذیر ہو۔ بہرحال ممکن ہے کہ ایک نوع اپنی حدود کو کر اس کرکے دوسری نوع میں داخل ہوجائے۔ یہ وہ بات ہے جو ڈارون کے نظریہ کی حقیقت ہی باطل کر رہی ہے۔ بہرحال یہ لوگ سائنس کے نام پر خود اپنے نظریات گھڑتے ہیں ، ان پر یقین کرتے ہیں لیکن یہ نظریات کسی دن جا کر باطل ہوجاتے ہیں۔ ثم جعل نسلہ من سللۃ من مآء مھین (32: 8) ” پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے یعنی نطفے کے پانی سے جو جنین کے ارتقاء کی پہلی شکل ہے کہ وہ ایک نقطے سے ایک لوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر وہ گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ مکمل جنین بن جاتا ہے۔ یہ پانی کا ست اور اس کا ارتقاء ہے۔ یہ نقطہ جو اس حقیر پانی میں ہوتا ، جس طرح یہ ارتقائی مراحل طے کرتا ہے اور جس طرح آج کل ایک وجیب جہان ہے اور اس حقیر پانی کے ست میں ایک دوسرے نقطے کو دیکھو اور پھر اس مکمل انسان کو دیکھو کہاں سے کہاں تک آگیا اور کیا سے کیا کچھ بن گیا۔ قرآن کریم اس عظیم تغیر و ارتقاء کو اس طرح ایک ہی آیت میں بیان کردیتا ہے۔ ثم سوہ ونفخ فیہ ۔۔۔۔۔۔ والابصار والافئدۃ (32: 9) ” پھر اس نے اس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور تم کو کون دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ سبحان اللہ یہ کس قدر عظیم ارتقائی سفر ہے انسان کا۔ کن کن مشکل حالات سے یہ انسان گزرا ہے۔ کس قدر عظیم معجزہ ہے خود انسان کی تخلیق لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ انسان کو دیکھو اور اس معتبر نطفے کے پانی کے اندر اس نکتے کو دیکھو۔ اگر دست قدرت اس معجزانہ عمل کو تکمیل تک نہ پہنچائے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس نہایت ہی چھوٹے نکتے کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ان دشوار گزار مراحل اور راستوں سے گزر کر انسان کی شکل اختیار کرلے۔ اس چھوٹے سے نقطے اور اس خلیے کے اندر کس قدر تقسیم ہوتی ہے اور کس قدر کثرت ہوتی ہے۔ یہ بڑھتا بھی جاتا ہے اور تقسیم بھی ہوتا جاتا ہے۔ اس سے مزید مختلف قسم کے خلیے بنتے جاتے ہیں۔ یہ خلیے پھر باہم متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر اس انسان کے ہر ہر عضو کے اپنے خلیے ہوتے ہیں ، جن کی مخصوص نوعیت ہوتی ہے اور ان کے پھر مزید اجزاء ہوتے ہیں اور ہر جزء کا اپنا وظیفہ ہوتا ہے۔ ایک ہی عضو کے اندر کئی قسم کے خلیے بنتے چلے جاتے ہیں۔ یہ پہلا خلیہ کس طرح اس قدرو کثرت میں آجاتا ہے ، پھر اس کے اندر نوعیت کے اعتبار سے یہ تقسیم کس طرح ہوجاتی ہے ، پھر اس ایک ہی ابتدائی نکتے اور خلیے سے خلیات کا عظیم مجموعہ کس طرح بن جاتا ہے۔ پھر ان خلیات کے اندر انسان خصوصیات کہاں چھپی تھیں۔ پھر یہ جنین کے اندر مخصوص صلاحیتیں کہاں سے آجاتی ہیں۔ ہر خلیے کے لیے متعین فریضہ کس طرح قائم ہوجاتا ہے۔ اور ہر ایک کی خصوصیات دوسرے سے جدا کس طرح ہوجاتی ہیں۔ کون ہے جو اس قسم کے معجزے کے صادر ہونے کا یقین کرتا اگر عملاً یہ معجزہ روز ہمارے سامنے وجود میں نہ آتا۔ یہ اللہ کا دست قدرت ہی ہے جس نے انسان کو اس طرح برابر کیا اور درست کیا اور پھر یہ اللہ کی جانب سے انسان کے اندر روح پھونکنے کا عمل ہے جو انسان کو انسان بنا دیتا ہے۔ یہی ایک معقول تشریح ہے اس معجزے کی جو ہر سکینڈ میں واقع ہو رہا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ اسے غافل ہیں۔ یہ اللہ کا نفخ روح ہے جس کی وجہ سے انسان انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر سننے اور سیکھنے کی قوت آجاتی ہے اور اس سمع و بصر ہی کی وجہ سے تمام عضویاتی حیوانات سے انسان مختلف اور ممتاز ہوتا ہے۔ وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ (32: 9) ” تم کو کان دئیے ، آنکھیں دیں اور دل دئیے “۔ یہ وہ معجزہ ہے جو ہمارے سامنے ہر سیکنڈ میں رونما ہوتا ہے۔ اس کی تشریح اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی جانب سے نفخ روح ہے ورنہ عقل انسانی اس اتھاہ سمندر میں غوطے کھاتی رہتی اور قیامت تک وہ اس کی تشریح نہ کرسکتی ۔ اس کے علاوہ یہ اللہ کے فضل و کرم کا فیضان ہے اور یہ اللہ کا فضل ہی ہے جو اس حقیر پانی کے ایک نکتے سے انسان بنا دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جو اس ایک حقیر خلیے کے اندر ارتقاء اور نمو کی وہ خصوصیات رکھ دیتا ہے کہ وہ ، تبدیلیوں سے ہوتے ہوئے اور اپنے اندر مزید خصوصیات لیتے ہوئے انسان کی شکل میں پہنچ گیا۔ جس کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوگئیں کہ انسان تمام دوسرے حیوانات میں ممتاز ہوگیا۔ لوگ ہیں کہ اللہ کے اس فضل و کرم کا کوئی شکر ادا نہیں کرتے۔ قلیلا ما تشکرون (32: 9) انسان کی پیدائش ، اس کے مختلف مراحل اور ان سے اس کا عجیب انداز سے گزرنا اور ہر وقت اس عظیم معجزے کا صادر ہونا اور اس معجزے کا ہمارے سامنے بار بار دہرایا جانا ، ان امور کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ انسان جب مر کر پھر مٹی بن گیا اور زمین کی دوسری مٹی میں مل گیا تو حشر و نشر کیسے ہوگا۔ اس بیان کے بعد یہ شک اور یہ اغراض بجائے خود عجیب اور احمقانہ نظر آتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن مجید حق ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا یہاں سے سورة السجدہ شروع ہے، اوپر چند آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے الم تو متشابہات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ باقی آیات میں قرآن مجید کا حق ہونا اور اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت اور خالقیت بیان فرمائی ہے۔ مشرکین مکہ جو یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود سے بنالیا ہے اس کی تردید فرماتے ہوئے فرمایا (بَلْ ھُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) (بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے) (لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ ) (تاکہ آپ ڈرائیں ان لوگوں کو جن کے پاس پہلے سے ڈرانے والا یعنی رسول اور نبی نہیں آیا) (لَعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ) (تاکہ وہ ہدایت پر آجائیں۔ ) اول تو یہ فرمایا کہ یہ قرآن اللہ جل مجدہٗ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے یہ کتاب آپ کی طرف اس لیے نازل کی گئی ہے کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، ان لوگوں سے اہل مکہ مراد ہیں، ان کے پاس براہ راست کوئی رسول نہیں آیا تھا البتہ دوسرے انبیاء کرام کی بعثت کا انہیں علم تھا اور ان کی طرف سے دعوت توحید پہنچی تھی۔ یہ لوگ داعی توحید حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہی میں سے تھے، ان دونوں نے جو مکہ معظمہ میں کعبہ شریف بنایا تھا اس کا وجود ہی اشاعت توحید کے لیے تھا اور ان لوگوں کو اس کا علم بھی تھا کہ یہ حضرات داعی توحید تھے۔ لہٰذا یہ اشکال نہیں رہتا کہ ان کے پاس نبی نہیں آیا تو شرک کی وجہ سے ان کا مواخذہ کیوں کر صحیح ہوا ؟ سورة فاطر میں فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ) اس کا عموم ہر قوم اور ہر جماعت کو شامل ہے ضروری نہیں کہ نذیر (ڈرانے والا) رسول نبی ہو، ان حضرات کے نائبین نے بھی تبلیغ کی ہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر مستوی ہوا، (اس کا بیان سورة اعراف رکوع نمبر ٧ اور سورة فرقان رکوع نمبر ٥ میں گزر چکا ہے) (مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ ) اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی ولی نہیں ہے (جو نافرمانی پر مواخذہ کرنے سے بچا سکے) اور کوئی سفارش کرنے والا بھی نہیں (جو اس کی اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں سفارش کرے) (اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ ) (کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ اللہ الذی الخ یہ دعوی سورت پر پہلی عقلی دلیل ہے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سارے نظام عالم کی تدبیر اور عنان اقتدار و تصرف بھی اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے اور نظام کائنات میں تصرف کا کوئی اختیار اس نے کسی کو نہیں دیا۔ استوی علی العرش کی پوری تحقیق سورة اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 366 و حاشیہ 63 ۔ مالکم من دونہ الخ، یہ سورت کا مقصودی حصہ ہے اللہ تعالیٰ خود ہی سارے عالم میں متصرف و مختار ہے اور اس نے اپنے اختیارات کسی کے سپرد نہیں کر رکھے تو جس طرح اس کے سوا کوئی کارساز نہیں اسی طرح اس کے یہاں کوئی شفیع غالب بھی نہیں جو اس سے کام کرا سکے۔ اس لیے تم نے اپنے معبودانِ باطلہ کو کیوں شفعاء بنا رکھا ہے۔ ای مالکم اذا جاوزتم رضا تعالیٰ احد ینعرکم ویشفع لکم و یجیرکم من باسہ الخ (ابو السعود ج 6 ص 749) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا پھر اپنی شان کے موافق عرش پر قائم و جلوہ گر ہوا سوائے اس کے نہ تمہارا کوئی کار ساز ہے اور نہ کوئی سفارش کرنیوالا سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سوچتے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ قادر مطلق ہے جس نے تمام آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے مابین جو کچھ ہے اس کو چھ دن کی مقدار میں بنایا اور پیدا کیا اور یہ مقدار بھی شاید یہ بات ظاہر کرنے کے لئے رکھی کہ کاموں میں تاخیر بہتر ہے تعجیل سے ورنہ وہاں تو ایک کن میں بلکہ صرف ارادہ اور اس کے تعلق سے ہی پیدا ہوسکتے تھے۔ مابین سے بعض لوگوں نے ابر اور ہوا اور خلا مراد لیا ہے پھر اپنی شان کے موافق عرش پر مستولی اور جلوہ گر ہوا، اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی رضا جوئی نہ رو گے تو یاد رکھو نہ تمہارا کوئی حمایتی ہوگی نہ کوئی شفاعت کرنے والا تم کو میسر آئے گا ۔