Allah is the Creator and Controller of the Universe
Allah says;
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ
...
Allah it is He Who has created the heavens and the earth, and all that is between them in six Days. Then He Istawa over the Throne.
Allah tells us that He is the Creator of all things. He created the heavens and earth and all that is between them in six days, then He rose over the Throne -- we have already discussed this matter elsewhere.
...
مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَا شَفِيعٍ
...
You have none, besides Him, as a protector or an intercessor,
means, only He is the Sovereign Who is in control of all affairs, the Creator of all things, the Controller of all things, the One Who is able to do all things. There is no Creator besides Him, no intercessor except the one to whom He gives permission.
...
أَفَلَ تَتَذَكَّرُونَ
Will you not then remember! --
this is addressed to those who worship others apart from Him and put their trust in others besides Him -- exalted and sanctified and glorified be He above having any equal, partner, supporter, rival or peer, there is no God or Lord except Him.
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے
تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے ۔ اس نے چھ دن میں زمین وآسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا ۔ اس کی تفسیر گذرچکی ہے ۔ مالک وخالق وہی ہے ہر چیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہر چیز پر غلبہ اسی کا ہے ۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی ۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو ۔ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کاربنانے لگا ؟ وہ برابری سے ، وزیر ومشیر سے شریک وسہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اسکے علاوہ کوئی پالنہار ہے ۔ نسائی میں ہے حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں ہیں میرا ہاتھ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی تمام چزیں پیدا کرکے ساتویں دن عرش پر قیام کیا ۔ مٹی ہفتے کے دن بنی ۔ پہاڑ اتوار کے دن درخت سوموار کے دن برائیاں منگل کے دن نور بدھ کے دن جانور جمعرات کے دن آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں اسے تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا جس میں سفید وسیاہ اچھی بری ہر طرح کی تھی اسی باعث اولاد آدم بھی بھلی بری ہوئی ۔ امام بخاری اسے معلل بتلاتے ہیں فرماتے ہیں اور سند سے مروری ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے اسے کعب احبار سے بیان کیا ہے اور حضرات محدثین نے بھی اسے معلل بتلایاہے ۔ واللہ اعلم ۔ اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جسے اور آیت میں ہے ( اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا 12ۧ ) 65- الطلاق:12 ) اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے ۔ اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے ۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتناہی اس کا گھیراؤ ہے ۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کرلیتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے ۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں ۔ وہ غالب ہے جس نے ہر چیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں ۔