Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 20

سورة الأحزاب

یَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ یَذۡہَبُوۡا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ یَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّہُمۡ بَادُوۡنَ فِی الۡاَعۡرَابِ یَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ ؕ وَ لَوۡ کَانُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۲۰﴾  18

They think the companies have not [yet] withdrawn. And if the companies should come [again], they would wish they were in the desert among the bedouins, inquiring [from afar] about your news. And if they should be among you, they would not fight except for a little.

سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وہ صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے ، اگر وہ تم میں موجود ہوتے ( تو بھی کیا؟ ) نہ لڑتے مگر برائے نام ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Another aspect of their abhorrent attribute of cowardice and fear: Allah tells; يَحْسَبُونَ الاَْحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا ... They think that the Confederates have not yet withdrawn; and that they are still close by and will return. ... وَإِن يَأْتِ الاْإَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِي الاْإَعْرَابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنبَايِكُمْ ... and if the Confederates should come, they would wish they were in the deserts among the Bedouins, seeking news about you; means, `if the Confederates should come back, they hope that they will not be present with you in Al-Madinah, but that they will be in the desert, asking about news of you and what happened to you with your enemy.' ... وَلَوْ كَانُوا فِيكُم مَّا قَاتَلُوا إِلاَّ قَلِيلً and if they were to be among you, they would not fight but little. means, `if they are among you, they will not fight alongside you very much,' because they are so cowardly and weak, and have so little faith, but Allah knows best about them.

ان کی بزدلی اور ڈرپوکی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا اور خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں آ نہ پڑے ۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر میں ہی نہ ہوتے بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دوردراز کے جنگل میں ہوتے کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی لڑائی کا کیا حشر ہوا ؟ اللہ فرماتا ہے یہ اگر تمہارے ساتھ بھی ہوں تو بیکار ہیں ۔ ان کے دل مردہ ہیں نامردی کے گھن نے انہیں کھوکھلا کر رکھا ہے ۔ یہ کیا لڑیں گے اور کونسی بہادری دکھائیں گے؟

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

201یعنی ان منافقین کی بزدلی، کم ہمتی اور خوف و دہشت کا یہ حال ہے کہ کافروں کے گروہ اگرچہ ناکام و نامراد واپس جا چکے ہیں۔ لیکن یہ اب تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک اپنے مورچوں اور خیموں میں موجود ہیں۔ 202یعنی بالفرض اگر کفار کی ٹولیاں دوبارہ لڑائی کی نیت سے واپس آجائیں تو منافقین کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ مدینہ شہر کے اندر رہنے کے بجائے باہر صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوں اور وہاں لوگوں سے تمہاری بابت پوچھتے رہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھی ہلاک ہوئے یا نہیں ؟ یا لشکر کفار کامیاب رہا یا ناکام ؟ 203محض عار کے ڈر سے یا ہم وطنی کی حمیت کی وجہ سے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو جہاد سے گریز کرتے یا اس سے پیچھے رہتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٨] منافقوں کی بزدلی کی انتہا :۔ بزدل اور ڈرپوک اتنے ہیں کہ اتحادی فوجیں کب کی واپس جا بھی چکی ہیں لیکن انھیں اب تک یقین نہیں آرہا کہ دشمن جاچکا ہے اور ممکن ہے منافق یہ سمجھ رہے ہوں کہ مسلمانوں نے پروپیگنڈا کے طور پر ایسی خبر مشہور کردی ہے۔ انھیں یہ بھی فکر لاحق ہے کہ موسم کی خرابی سے اگر دشمن چلا گیا ہے تو موسم درست ہونے پر پھر دوبارہ نہ چڑھائی کردے۔ اندریں صورت وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا اچھا ہوتا کہ وہ مدینہ کے باشندے نہ ہوتے بلکہ کسی گاؤں کے رہنے والے ہوتے۔ جہاں دشمن کی چڑھائی کا خطرہ ہی نہ ہوتا تو انھیں ایسی پریشانیاں لاحق نہ ہوتیں۔ بس ادھر ادھر سے ہی مسلمانوں کے حالات پوچھ پاچھ لیتے یا ان تک ان کی کچھ خبریں پہنچ جاتیں۔ اور اگر انھیں حالات امید افزا نظر آتے اور مسلمانوں کی کامیابی یقینی دکھائی دینے لگتی تو وہ بھی اموال غنیمت میں حصہ بٹانے کی خاطر لڑائی میں آ شامل ہوتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوْا ۔۔ : ” بَادُوْنَ “ ” بَدَا یَبْدَوْ “ سے اسم فاعل کی جمع ہے، یہاں مراد ” خَارِجُوْنَ إِلَی الْبَدْوِ “ ہے، یعنی بدویوں کی طرف نکلنے والے۔ ابن کثیر میں ہے : ” یعنی ان کی بزدلی اور ڈرپو کی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انھیں اس بات کا یقین نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا ہے، انھیں خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں نہ آپڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر ہی میں نہ ہوتے، بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دور دراز کے جنگل میں ہوتے، کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی، لڑائی کا کیا حشر ہوا ؟ اللہ فرماتا ہے کہ یہ اگر تمہارے ساتھ بھی ہوں تو بےکار ہے۔ ان کے دل مردہ ہیں، نامردی کے گھن نے انھیں کھوکھلا کر رکھا ہے۔ یہ کیا لڑیں گے اور کون سی بہادری دکھائیں گے ؟ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْہَبُوْا۝ ٠ ۚ وَاِنْ يَّاْتِ الْاَحْزَابُ يَوَدُّوْا لَوْ اَنَّہُمْ بَادُوْنَ فِي الْاَعْرَابِ يَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَاۗىِٕكُمْ۝ ٠ ۭ وَلَوْ كَانُوْا فِيْكُمْ مَّا قٰتَلُوْٓا اِلَّا قَلِيْلًا۝ ٢٠ۧ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ حزب الحزب : جماعة فيها غلظ، قال عزّ وجلّ : أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] ( ح ز ب ) الحزب وہ جماعت جس میں سختی اور شدت پائی جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصى لِما لَبِثُوا أَمَداً [ الكهف/ 12] دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کسی کو خوب یاد ہے ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ بَدْوُ خلاف الحضر، قال تعالی: وَجاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ [يوسف/ 100] أي : البادية، وهي كلّ مکان يبدو ما يعنّ فيه، أي : يعرض، ويقال للمقیم بالبادية : بَادٍ ، کقوله تعالی: سَواءً الْعاكِفُ فِيهِ وَالْبادِ [ الحج/ 25] ، لَوْ أَنَّهُمْ بادُونَ فِي الْأَعْرابِ [ الأحزاب/ 20] . البدو یہ حضر کی ضد ہے اور آیت کریمہ :۔ وَجاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ [يوسف/ 100] آپ کو گاؤں سے یہاں لایا ۔ میں بدو بمعنی بادیۃ ( صحراء) ہے اور ہر وہ مقام جہاں کوئی عمارت وغیر ہ نہ ہوں اور تمام چیزیں ظاہر نظر آتی ہوں اسے بدو ( بادیۃ ) کہا جاتا ہے عرب العَرَبُ : وُلْدُ إسماعیلَ ، والأَعْرَابُ جمعه في الأصل، وصار ذلک اسما لسكّان البادية . قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا [ الحجرات/ 14] ، الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً [ التوبة/ 97] ، وَمِنَ الْأَعْرابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ التوبة/ 99] ، وقیل في جمع الأَعْرَابِ : أَعَارِيبُ ، قال الشاعر : أَعَارِيبُ ذو و فخر بإفك ... وألسنة لطاف في المقال والأَعْرَابِيُّ في التّعارف صار اسما للمنسوبین إلى سكّان البادية، والعَرَبِيُّ : المفصح، والإِعْرَابُ : البیانُ. يقال : أَعْرَبَ عن نفسه . وفي الحدیث : «الثّيّب تُعْرِبُ عن نفسها» «1» أي : تبيّن . وإِعْرَابُ الکلامِ : إيضاح فصاحته، وخصّ الإِعْرَابُ في تعارف النّحويّين بالحرکات والسّکنات المتعاقبة علی أواخر الکلم، ( ع ر ب ) العرب حضرت اسمعیل کی اولاد کو کہتے ہیں الاعراب دراصل یہ عرب کی جمع ہے مگر یہ لفظ بادیہ نشین لوگون کے ساتھ مختص ہوچکا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا [ الحجرات/ 14] بادیہ نشین نے آکر کہا ہم ایمان لے آئے ۔ الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً [ التوبة/ 97] دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں ۔ وَمِنَ الْأَعْرابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [ التوبة/ 99] اور بعض نہ دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ اعراب کی جمع اعاریب آتی ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( 3011 ) اعاریب ذو و فخر بافک والسنۃ لطاف فی المقابل اعرابی جو جھوٹے فخر کے مدعی ہیں اور گفتگو میں نرم زبان رکھتے ہیں ۔ الاعرابی : یہ اعراب کا مفرد ہے اور عرف میں بادیہ نشین پر بولا جاتا ہے العربی فصیح وضاحت سے بیان کرنے والا الاعراب کسی بات کو واضح کردینا ۔ اعرب عن نفسہ : اس نے بات کو وضاحت سے بیان کردیا حدیث میں ہے الثیب تعرب عن نفسھا : کہ شب اپنے دل کی بات صاف صاف بیان کرسکتی ہے ۔ اعراب الکلام کلام کی فصاحت کو واضح کرنا علمائے نحو کی اصطلاح میں اعراب کا لفظ ان حرکاتوسکنات پر بولا جاتا ہے جو کلموں کے آخر میں یکے بعد دیگرے ( حسب عوامل ) بدلتے رہتے ہیں ۔ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغر میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور خوف اور بزدلی کے ختم ہوجانے کے بعد عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کا یہ خیال ہے کہ کفار مکہ کا لشکر ابھی تک گیا نہیں اور وہ نعوذ باللہ رسول اکرم کو شہید ہی کر کے جائے گا۔ اور اگر بالفرض کفار مکہ کے یہ لشکر پھر لوٹ آئیں تو یہی منافقین دشمن کے خوف و دہشت اور اپنی بزدلی سے یہ تمنا کرنے لگیں کہ کاش مدینہ سے کہیں باہر چلے جائیں اور مدینہ میں بیٹھے بیٹھے معرکہ خندق کے بارے میں پوچھتے رہیں۔ اور اگر تم لوگوں کے ساتھ معرکہ خندق پر جانا ہی پڑجائے تو محض نام کرنے کو تھوڑا سا لڑیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ { یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْہَبُوْا } ” وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔ “ اگرچہ کفار کے تمام لشکر واپس جا چکے ہیں مگر ان پر ایسا خوف طاری ہے کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لشکر کسی حکمت عملی کے تحت تھوڑی دیر کے لیے منظر سے اوجھل ہوئے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ آجائیں گے۔ جیسے کسی خوفناک حادثے کی دہشت دیر تک ایک شخص کے اعصاب پر سوار رہتی ہے اسی طرح ان کے اعصاب پر ابھی تک ان لشکروں کا خوف مسلط ہے۔ { وَاِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّہُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْبَـــآئِکُمْ } ” اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہوجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ ّبدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے (اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔ “ ایسی صورت میں یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش وہ لوگ مدینہ کو چھوڑ کر ریگستان میں چلے گئے ہوتے ‘ وہاں اہل بدو کے درمیان محفوظ جگہ پر پناہ لیے ہوئے مدینہ کی خبریں پوچھتے رہتے کہ جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔ { وَلَـوْ کَانُوْا فِیْکُمْ مَّا قٰــتَلُوْٓا اِلَّا قَلِیْلًا } ” اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔ “ اگر وہ لوگ تمہارے درمیان موجود بھی ہوتے تو کسی نہ کسی بہانے جنگ سے جان چھڑا ہی لیتے اور کبھی کبھار محض دکھانے کے لیے کسی مہم میں با دل نخواستہ برائے نام حصہ لے لیتے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31 Lexically, this verse has two meanings: (1) "When you return victorious from a war, they receive you warmly, and try to impress you with a glib tongue that they too are sincere believers and they too have made their contribution to promote the cause of Islam, and therefore, they too deserve a share from the booty." (2) "If victory is attained these people show great powers of the tongue at the time of the division of the spoils and make great demands for their shares, recounting their services to the cause of Islam." 32 That is, "Allah will make null and void all the prayers that they offered, all the fasts that they observed, the Zakat that they paid, and other good works that they did after embracing Islam, and will give them no reward for these. For Allah does not judge actions and deeds according to their external form but on the basis of the faith and sincerity underlying them. When the actions are altogether devoid of this quality, there will be mere show and, therefore, meaningless. Here, one thing is especially noteworthy. A clear verdict has been given about the people who professed to believe in Allah and His Messenger, offered the Prayers, observed the fast, gave the Zakat and co-operated with the Muslims in other good works, to the effect that they did not believe at all. This verdict has been given because when they were put to the test during the conflict between Islam and un-Islam, they showed double-facedness, preferred selfish interests above the interests of the Faith, and shirked offering their selves and their wealth and their energies for the protection of Islam. This shows that the real criterion of the judgement are not the apparent deeds but the loyalties of man. If a person is not loyal to God and His Way, his profession of the Faith and his worship and other good deeds are worthless." 33 That is, "As their deeds and actions do not carry any value, Allah renders them fruitless without the slightest hesitation; and as they do not have any power to resist Allah has no difficulty in destroying their deeds altogether."

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:20) یحسبون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ گمان کرتے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں۔ ضمیر فاعل کا مرجع وہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اوپر مذکور ہوئیں۔ لم یذھبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں گئے۔ یحسبون الاحراب لم یذھبوا۔ (دشمن بھاگ گئے لیکن یہ بزدل یہی) خیال کرتے ہیں کہ (دشمنوں کے) جتھے ابھی نہیں گئے۔ یات۔ مضارع واحد مذکر غائب (اگر ب تعدیہ مفعول پر ہو تو فعل متعدی ہوگا) اتیان (باب ضرب) مصدر۔ یات اصل میں یاتی تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوکر یاء کو حذف کیا گیا۔ ان یات اگر وہ (دوبارہ پکٹ کر) آجائیں۔ یودوا مضارع مجزوم (بوجہ جزائ) جمع مذکر غائب مودۃ مصدر۔ وہ آرزو کریں گے۔ وہ خواہش کریں گے۔ وہ چاہیں گے۔ لو۔ کاش۔ بادون : باد کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مزکر۔ بداوۃ سے جس کے معنی صحرا میں اقامت اختیار کرنے کے ہیں۔ باویہ نشین۔ باہر والے ۔ صحرا نشین۔ البدو حضر کی ضد ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے وجاء کم من البدو (12:100) آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بدو بمعنی بادیۃ (صحرا) ہے۔ بدا یبدوا بدو و بدا کے معنی نمایاں اور ظاہر آئیں۔ اسے بدو (بادیۃ) کہا جاتا ہے۔ اور البادی کے معنی صحرا نشین کے ہیں۔ الاعراب : سلکان البادیۃ خاصۃ والواحد منھم الاعرابی صحرا کے رہنے والوں کو الاعراب کہتے ہیں اس کی واحد الاعرابی ہے اس کے مقابلہ میں جو عرب شہروں میں بشنے والے ہوں ان کو عربی کہتے ہیں۔ یودوا لو انھم بادون فی الاعراب۔ وہ یہ چاہیں گے کہ کاش وہ صحرا میں بسنے والے بدوؤں میں ہوتے (جہاں دشمن کے حملے سے بچے رہتے) ۔ یسئلون عن انبائکم یہ جملہ فاعل بادون سے حال ہے۔ (وہاں سے ہی آنے جانے والوں سے دریافت کرتے ہیں کہ الاحزاب کے ہاتھوں تمارا کیا حال ہوا ، اپنی بزدلی کی وجہ سے ان میں قتل و قتال کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بھی ہمت نہ تھی چہ جائے کہ اس قتال میں وہ خود حصہ لیتے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 محض شرما شرمی سے تاکہ اپنے اوپر سے چھد اتارا جائے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ آگے ثبات فی الحرب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقتدا و اتباع کا مقتضائے ایمان ہونا بیان فرماتے ہیں تاکہ منافقین کی تعییر ہو کہ باوجود دعوائے ایمان اس کے مقتضا کی تبشیر ہو کہ یہ لوگ البتہ مصداق کان یرجوا اللہ کے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں لائے۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل نہیں کہ ان کے اعمال ضائع کر دے۔ منافق اس حد تک بزدل ہوچکے ہیں کہ اپنے گھروں میں جانے کے باوجود خیال کرتے ہیں کہ ابھی تک کفار کے لشکر واپس نہیں گئے اگر کفار کے لشکر واپس آجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مدینہ چھوڑ کر دیہاتوں میں نکل جائیں اور وہاں جا کر تمہارے بارے میں معلومات لیتے رہیں کیونکہ یہ تمہارے ساتھ رہ کر لڑنے کے لیے تیار نہیں ” اَشِحَّۃٌ“ کی جمع ” شیح “ ہے جس کا معنٰی بہت زیادہ بخل کرنا اور لوگوں کو خیر کے کاموں سے روکنا ہے۔ مسائل ١۔ منافق بزدل اور بخیل ہوتا ہے۔ ٢۔ منافق کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ ٣۔ حقیقت میں منافق بےایمان ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے : ١۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور نئی مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (ابراہیم : ١٩۔ ٢٠) ٢۔ اگر اللہ چاہے تو تم کو فنا کر کے دوسری مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے مشکل نہ ہے۔ (فاطر : ١٦۔ ١٧) ٣۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ (انساء : ١٢٣) ٤۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہارے بعد جسے چاہے لے آئے۔ (الانعام : ١٣٣) ٥۔ اے ایمان والو ! اگر تم دین سے مرتد ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ (المائدۃ : ٥٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یحسبون الاحزاب لم یذھبوا (33: 20) ” “۔ گویا یہ لوگ ابھی تک کانپ رہے ہیں ، ابھی تک جنگ سے چھپ رہے ہیں ، لوگوں کو روک رہے ہیں ، ان کو یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ احزاب تو بھاگ گئے ہیں اور خوف ختم ہوگیا ہے اور امن وامان لوٹ آیا ہے۔ وان یات الاحزاب ۔۔۔۔۔ عن انبآئکم (33: 20) ” “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے ان کے ساتھ اور کس قدر بھونڈی تصویر ہے ان لوگوں کی۔ یوں جس طرح کارٹون ۔ اگر دوبارہ احزاب حملہ آور ہوں تو یہ لوگ چاہیں گے کہ یہ اہل مدینہ ہی نہ ہوں اور دور کہیں بدو باشندے ہوجائیں اور مدینہ والوں کی زندگی اور ذمہ داریوں میں شریک ہی نہ ہوں۔ ان کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں ان کو پتہ ہی نہ ہو اور دوسروں سے اہل مدینہ کے حالات اس طرح پوچھیں جس طرح اجنبی ، اجنبی کے بارے میں پوچھتا ہے اور ان کو اہل مدینہ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے اور یہ بزدل جان بچا کر نکل آتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی مضحکہ خیز تمنائیں کرتے ہیں ، یہ معرکے سے دور ہیں اور اس معرکے میں ذاتی طور پر شریک نہیں ہیں نہ براہ راست یہ لوگ اس معاملے کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ دور سے بھی ڈرتے ہیں اور اس قدر بعید ہوکر بھی جزع و فزع کرتے ہیں۔ ولو کانوا فیکم ما قتلوا الا قلیلا (33: 20) ” “۔ یہ آخری لائن ہے جس کے کھینچنے سے یہ تصویر مکمل ہوجاتی ہے۔ یہ ہے تصویر ان منافقین کی جو مدینہ طیبہ میں اٹھنے والی اس نئی اسلامی جماعت کے اندر رہتے تھے۔ ایسے ہی لوگ قیامت تک اٹھنے والی ہر تحریک میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہی ہر دور کے منافقین کے خدوخال ہوتے ہیں۔ یہ تصویر یہاں ختم ہوتی ہے اور اہل ایمان کے دل میں ان کی تحقیر ، ان سے نفرت اور ان سے دوری اچھی طرح بٹھا دی جاتی ہے اور یہ لوگ اللہ کے ہاں بھی ہلکے ہوجاتے ہیں اور لوگوں کی نظروں میں بھی گر جاتے ہیں۔ یہ تو تھا حال ان لوگوں کا جو منافق تھے۔ جن کے دلوں میں روگ تھا ، جو اسلامی صفوں میں بددلی پھیلاتے تھے۔ یہ تھی ان کی مکروہ تصویر ، لیکن جنگ احزاب کے شدید اور ہلا مارنے والے خوف اور بدتر حالات نے تمام لوگوں کو اس طرح مکروہ الصورت نہ بنا دیا تھا۔ ان تاریک اور کربناک حالات میں کچھ روشن چہرے بھی موجود تھے۔ ان ہلا مارنے والے حالات میں ایسے لوگ بھی تھے جو چٹان کی طرح مضبوط کھڑے تھے۔ جن کا اپنے اللہ پر پورا بھروسہ تھا۔ اللہ کے فیصلوں پر راضی تھے۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ کی نصرت آئے گی باوجود اس کے کہ بظاہر حالات بہت ہی مایوس کن تھے اور ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ یحسبون الخ، یہ منافقین کی انتہائی بزدلی ہے مشرکین و کفار کی فوجیں ناکام ہو کر واپس جا شکی ہیں لیکن منافقین مارے خوف کے ابھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ فوجیں ابھی اپنے مورچوں سے نہیں ہٹیں۔ ای ھم من الجزع والدھشۃ لمزید جبنہم وخوفہم بحیث ھزم اللہ تعالیٰ الاحزاب فرحلوا وھم یظنون انھم لم یرحلوا (روح ج 21 ص 166) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں یھسبون کی ضمیر معوقین اور قائلین دونوں فریقوں سے کنایہ وان یات الاحزاب الخ اور اگر بالفرض کافروں کی فوجیں دوبارہ چڑھ آئیں تو وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مدینہ سے باہر دیہات میں ہوتے اور جہاد میں شریک ہوئے بغیر باہر ہی سے تمہاری خبریں پوچھتے رہتے کہ مسلمان جنگ میں کیسے رہے، جیتے یا ہارے ؟ ولو کانوا فیکم الخ اور اگر اس بار بھی وہ تم ہی میں رہے تو بھی جہاد میں حصہ نہ لیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

20۔ ان منافقوں کا اب تک یہ خیال ہے کہ فوجیں واپس نہیں گئیں اور اگر کہیں وہ فوجیں پھر آجائیں تب تو یہ منافق یوں تمنا کریں کہ وہ کاش کہ صحرا نشیں ہوتے اور وہ دیہاتیوں میں باہر جا رہیں اور دیہاتیوں میں جا بسیں اور وہیں بیٹھے بیٹھے آنے جانے والوں سے تمہاری خبریں دریافت کرتے رہیں اور اگر یہ بزدل لوگ تم میں رہ بھی جائیں تب بھی یہ قتال اور جہاد نہ کریں مگر یونہی تھوڑا سا برائے نام یعنی فوجوں کی اور لشکر کی واپسی کا یقین ہی نہیں حالانکہ کفار کو شکست ہوئی اور وہ قہر الٰہی کی تاب نہ لاسکے اور بھاگ گئے لیکن ان کو لشکر اعدا کی واپسی کا یقین نہیں اور کہیں خدانخواستہ وہ کفار کا لشکر پھر واپس آجائے تو ان بزدلوں کی تمنا یہ ہوگی کہ یہ شہر چھوڑ کر دیہات میں جا بسیں اور وہیں سے بیٹھ کر تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں اور آتے جاتے مسافروں سے پوچھتے رہیں اور اگر کہیں یہ تم میں ٹھہر بھی جائیں گے تب بھی لڑائی میں شریک نہیں ہوں گے مگر یوں ہی برائے نام تھوڑی سی شرکت کریں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی نامردی کے مارے یقین نہیں آتا کہ فوجیں پھر گئیں اور باتوں میں تمہاری خیر خواہی جتاویں اور لڑائی میں کام نہ کریں ۔ 12 اب آگے لڑائی میں ثابت قدم رہنے کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا اور پیروی کا حکم ہے۔