Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 21

سورة الأحزاب

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾

There has certainly been for you in the Messenger of Allah an excellent pattern for anyone whose hope is in Allah and the Last Day and [who] remembers Allah often.

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ( موجود ) ہے ، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالٰی کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالٰی کی یاد کرتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to follow the Messenger This Ayah is an important principle, to follow the Messenger of Allah in all his words, and deeds, etc. Hence Allah commanded the people to take the Prophet as an example on the day of Al-Ahzab, with regard to patience, guarding, striving and waiting for Allah to provide the way out; may the peace and blessings of Allah be upon him forever, until the Day of Judgement. Allah says to those who were anxious and impatient and were shaken by feelings of panic on the day of Al-Ahzab: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ... Indeed in the Messenger of Allah you have a good example to follow, meaning, `why do you not take him as an example and follow his lead' Allah says: ... لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الاْخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا for him who hopes in Allah and the Last Day, and remembers Allah much. The Attitude of the Believers towards the Confederates Then Allah tells us about His believing servants who believed Allah's promise to them and how He will make the consequences good for them in this world and in the Hereafter. He says:

ٹھوس دلائل اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لازم قرادتیے ہیں یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس امر پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال افعال احوال اقتدا پیروی اور تابعداری کے لائق ہیں ۔ جنگ احزاب میں جو صبر وتحمل اور عدیم المثال شجاعت کی مثال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی ۔ مثلا راہ الہ کی تیاری شوق جہاد اور سختی کے وقت بھی رب سے آسانی کی امید اس وقت آپ نے دکھائی یقینا یہ تمام چیزیں اس قابل ہیں کہ مسلمان انہیں اپنی زندگی کا جزوِ اعظم بنالیں اور اپنے پیارے پیغمبر اللہ کے حبیب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے بہترین نمونہ بنالیں اور ان اوصاف سے اپنے تئیں بھی موصوف کریں ۔ اسی لیے قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس وقت سٹ پٹا رہے تھے اور گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کرتے تھے فرماتا ہے کہ تم نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کیوں نہ کی؟ میرے رسول تو تم میں موجود تھے ان کا نمونہ تمہارے سامنے تھا تمہیں صبرو استقلال کی نہ صرف تلقین تھی بلکہ ثابت قدمی استقلال اور اطمینان کا پہاڑ تمہاری نگاہوں کے سامنے تھا ۔ تم جبکہ اللہ پر قیامت پر ایمان رکھتے ہو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ تم اپنے رسول کو اپنے لئے نمونہ اور نظیر نہ قائم کرتے ؟ پھر اللہ کی فوج کے سچے مومنوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ساتھیوں کے ایمان کی پختگی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے جب ٹڈی دل لشکر کفار کو دیکھا تو پہلی نگاہ میں ہی بول اٹھے کہ انہی پر فتح پانے کی ہمیں خوشخبری دی گئی ہے ۔ ان ہی کی شکست کا ہم سے وعدہ ہوا ہے اور وعدہ بھی کس کا اللہ کا اور اس کے رسول کا ۔ اور یہ ناممکن محض ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ غلط ہو یقینا ہمارا سر اور اس جنگ کی فتح کا سہرا ہوگا ۔ ان کے اس کامل یقین اور سچے ایمان کو رب نے بھی دیکھ لیا اور دنیا آخرت میں انجام کی بہتری انہیں عطا فرمائی ۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ کے جس وعدہ کی طرف اس میں اشارہ ہے وہ آیت یہ ہو جو سورۃ بقرہ میں گذر چکی ہے ۔ آیت ( اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ Ą۝ ) 29- العنكبوت:2 ) یعنی کیا تم نے یہ سمجھ لیا ؟ کہ بغیر اس کے کہ تمہاری آزمائش ہو تم جنت میں چلے جاؤگے؟ تم سے اگلے لوگوں کی آزمائش بھی ہوئی انہیں بھی دکھ درد لڑائی بھڑائی میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ انہیں ہلایا گیا کہ ایماندار اور خود رسول کی زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی مدد کو دیر کیوں لگ گئی ؟ یاد رکھو رب کی مدد بہت ہی قریب ہے یعنی یہ صرف امتحان ہے ادھر تم نے ثابت قدمی دکھائی ادھر رب کی مدد آئی ۔ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے فرماتا ہے کہ ان اصحاب پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنے مخالفین کی اس قدر زبردست جمعیت دیکھ کر اور بڑھ گیا ۔ یہ اپنے ایمان میں اپنی تسلیم میں اور بڑھ گئے ۔ یقین کامل ہو گیا فرمانبرداری اور بڑھ گئی ۔ اس آیت میں دلیل ہے ایمان کی زیادتی ہونے پر ۔ بہ نسبت اوروں کے ان کے ایمان کے قوی ہونے پر جمہور ائمہ کرام کا بھی یہی فرمان ہے کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے ۔ ہم نے بھی اس کی تقریر شرح بخاری کے شروع میں کردی ہے وللہ الحمد والمنہ ۔ پس فرماتا ہے کہ اس کی تنگی ترشی نے اس سختی اور تنگ حالی نے اس حال اور اس نقشہ نے انکا جو ایمان اللہ پر تھا اسے اور بڑھا دیا اور جو تسلیم کی خو ان میں تھی کہ اللہ رسول کی باتیں ماناکرتے تھے اور ان پر عامل تھے اس اطاعت میں اور بڑھ گئے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

211یعنی اے مسلمانو ! اور منافقو ! تم سب کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کے اندر بہترین نمونہ ہے، پس تم جہاد میں اور صبر ثبات میں اسی کی پیروی کرو۔ ہمارا یہ پیغمبر جہاد میں بھوکا رہا حتی کہ اسے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے، اس کا چہرہ زخمی ہوگیا اس کا رباعی دانت ٹوٹ گیا، خندق اپنے ہاتھوں سے کھودی اور تقریبا ایک مہینہ دشمن کے سامنے سینہ سپر رہا۔ یہ آیت اگرچہ جنگ احزاب کے ضمن میں نازل ہوئی ہے جس میں جنگ کے موقعے پر بطور خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھنے اور اس کی اقتدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ حکم عام ہے یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اقوال افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے آپ کی اقتدا ضروری ہے چاہے ان کا تعلق عبادات سے یا معاشرت سے، معیشت سے یا سیاست سے، زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی ہدایات واجب الاتباع ہیں۔ ( ۭ وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا) 59 ۔ الحشر :7) (اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 3 ۔ آل عمران :31) ، کا بھی یہی مفاد ہے۔ 212اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اسوہ رسول کو وہی اپنائے گا جو آخرت میں اللہ کی ملاقات پر یقین رکھتا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ آجکل مسلمان بھی بالعموم ان دونوں وصفوں سے محروم ہیں، اس لئے اسوہ رسول کی بھی کوئی اہمیت ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ان میں جو اہل دین ہیں ان کے پیشوا پیر اور مشائخ ہیں اور جو اہل دنیا و سیاست ہیں ان کے مرشد و رہنما آقایان مغرب ہیں۔ رسول اللہ سے عقیدت کے زبانی دعوے بڑے ہیں لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مرشد اور پیشوا ماننے کے لیے ان میں سے کوئی بھی آمادہ نہیں ہے۔ فالی اللہ المشتکی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٩] جنگ کے دوران آپ کا کردار۔ آپ سب مسلمانوں کے لئے واجب الاتباع نمونہ ہیں :۔ جنگ کی سب سے زیادہ ذمہ داری سپہ سالار پر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے سپہ سالار خود رسول اللہ تھے۔ دشمن کی کثرت تعداد خوراک کی شدید قلت، حالات کی سنگینی اس نبی کے پائے ثبات پر ذرہ بھر بھی لغزش پیدا نہیں کرسکی۔ وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اللہ کی طرف سے پرامید اور اس کی مدد کے منتظر ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ پوری جانفشانی سے تمہارے دوش بدوش جنگ کے ایک ایک کام تمہارے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔ مسلمانو ! تمہارا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہئے اور رسول اللہ کی ذات کو بطور نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہی مطلب ہے مگر یہ حکم عام ہے صرف جنگ میں ہی نہیں بلکہ ہر حالت میں اور صرف جنگی احکام و تدابیر میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں رسول کی ذات کو بطور نمونہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔ گویا اس ایک مختصر سے جملہ میں رسول اللہ کی اطاعت اور اتباع دونوں کو تمام مسلمانوں پر لازم اور واجب قرار دیا گیا ہے۔ [ ٣٠] کس طرح کے لوگ آپ کی اتباع نہیں کرتے ؟:۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتادیا کہ رسول کی اتباع صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن میں تین شرائط پائی جاتی ہوں ایک یہ کہ وہ اللہ پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہوں دوسرے یوم آخرت پر ایمان بھی رکھتے ہوں اور اپنے اعمال کے اچھے بدلہ کی اللہ سے امید بھی رکھتے ہوں اور ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہوں۔ بالفاظ دیگر جو لوگ رسول کی ذات کو اپنے لئے نمونہ نہیں بناتے یا اس کے کسی قول یا عمل سے انحراف کرتے ہیں یا اس کی اطاعت و اتباع کو لازم و واجب نہیں سمجھتے فی الحقیقت نہ ان کا اللہ پر ایمان ہے اور نہ یوم آخرت پر۔ یہ آیت رسول اللہ کی غیر مشروط اطاعت اور اتباع کے وجوب پر صریح اور قوی دلیل ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ۔۔ :” اُسْوَةٌ“ اور ” قُدْوَۃٌ“ جس کی پیروی کی جائے، نمونہ۔ اس میں لڑائی سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب ہے، یعنی تمہارا فرض تھا کہ جس طرح اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس موقع پر جان لڑا رہے تھے اور تمام تکلیفوں اور مشقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے، تم بھی جان لڑاتے۔ ایسا تو نہیں تھا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں تو خطرے میں جھونک دیا ہو اور خود کسی پناہ میں آرام کرنے بیٹھ گئے ہوں ! اگر وہ ایسا کرتے تو تمہارے لیے وجہ جواز ہوسکتی تھی، مگر وہ تو ہر کام میں پیش پیش تھے۔ خندق کھودنے میں، کدال چلانے میں، مٹی ڈھونے میں، بلکہ صحابہ کے ساتھ جنگی ترانے پڑھنے میں، بھوکے اور بیدار رہنے میں، پوری جنگ میں بہ نفس نفیس محاذ پر رہنے میں سب کے ساتھ، بلکہ آگے آگے تھے۔ ” کَان “ کا لفط استمرار کے لیے ہے، یعنی اس سے بھی پہلے مکہ اور طائف میں کفار کی طرف سے آنے والی تکلیفیں برداشت کرنے میں، ہجرت کے پرخطر سفر میں، احد میں پیش آنے والے زخم اور صدمے اٹھانے میں، غرض پوری زندگی میں ہر مشکل مرحلے پر وہ سب سے آگے اور تمہارے لیے نمونہ تھے۔ پھر تمہارا بزدلی دکھانا اور کسی کام سے بچنے کی فکر کرنا کسی بھی لحاظ سے معقول قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 3 یہ آیت گو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی، مگر اس کے لفظ عام ہیں، اس لیے یہ ہر موقع اور محل کے لیے عام ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے تمام اقوال، افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں، جن پر انھیں چلنا لازم ہے اور ان کے لیے جائز نہیں کہ اپنی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی معاملہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی سے گریز کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْم) [ آل عمران : ٣١ ] ” کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہیں تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ اور دیکھیے سورة اعراف کی آیات (١٥٦ تا ١٥٨) اور سورة حشر (٧) ۔ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ : اُسوہ (نمونہ) دو طرح کا ہے، ایک اسوۂ حسنہ (اچھا نمونہ) اور دوسرا اسوۂ سیۂ (برا نمونہ) ۔ اسوۂ حسنہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، کیونکہ آپ کی پیروی کرنے والا صراط مستقیم پر چل کر عزت و نعمت کی جنت تک پہنچ جائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جو بھی ہے وہ اسوۂ سیۂ ہے، جیسا کہ کفار کو جب رسولوں نے اپنی پیروی کا حکم دیا تو انھوں نے کہا : (اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ ) [ الزخرف : ٢٢ ]” بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بیشک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔ “ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۔۔ : اس اسوۂ حسنہ پر وہی لوگ چلتے ہیں اور انھی کو اس کی توفیق ملتی ہے جن میں تین وصف ہوں، ایک اللہ پر ایمان، اس سے ملاقات اور اس کے دیدار کی امید، دوسرا آخرت پر ایمان اور اس کے ثواب کی امید اور تیسرا کثرت سے اللہ کو یاد کرنا۔ ان لوگوں کو یہ تینوں چیزیں رسول کی پیروی کے لیے ہر وقت آمادہ اور مستعد رکھتی ہیں، بخلاف کافر اور منافق کے جس کا نہ اللہ پر ایمان ہے، نہ آخرت پر اور نہ کبھی اس نے اپنے مالک کو یاد کیا، تو ان لوگوں کے سامنے دنیا کی زندگی اور اس کی لذتوں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں، اس لیے وہ رسول کو نمونہ بنانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 19 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا۝ ٢ ١ۭ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ أسَو الأُسْوَة والإِسْوَةُ کالقدوة والقدوة، وهي الحالة التي يكون الإنسان عليها في اتباع غيره إن حسنا وإن قبیحا، وإن سارّا وإن ضارّا، ولهذا قال تعالی: لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ [ الأحزاب/ 21] ، فوصفها بالحسنة، ويقال : تَأَسَّيْتُ به، والأَسَى: الحزن . وحقیقته : إتباع الفائت بالغم، يقال : أَسَيْتُ عليه وأَسَيْتُ له، قال تعالی: فَلا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكافِرِينَ [ المائدة/ 68] ، وقال الشاعر : أسيت لأخوالي ربیعة وأصله من الواو، لقولهم : رجل أَسْوَان ، أي : حزین، والأَسْوُ : إصلاح الجرح، وأصله :إزالة الأسى، نحو : کر بت النخل : أزلت الکرب عنه، وقد أَسَوْتُهُ آسُوهُ أَسْواً ، والآسِي : طبیب الجرح، جمعه : إِسَاة وأُسَاة، والمجروح مَأْسِيٌّ وأَسِيٌّ معا، ويقال : أَسَيْتُ بين القوم، أي : أصلحت ، وآسَيْتُهُ. قال الشاعر : آسی أخاه بنفسه وقال آخر : فآسی وآداه فکان کمن جنی وآسي هو فاعل من قولهم : يواسي، وقول الشاعر : يکفون أثقال ثأي المستآسي فهو مستفعل من ذلك، فأمّا الإساءة فلیست من هذا الباب، وإنما هي منقولة عن ساء . ( ا س و ) الاسوۃ والاسوۃ قدوۃ اور قدوۃ کی طرح ) انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں وہ دوسرے کا متبع ہوتا ہے خواہ وہ حالت اچھی ہو یا بری ، سرور بخش ہو یا تکلیف وہ اس لئے آیت کریمہ ؛ ۔ { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ } ( سورة الأحزاب 21) تمہارے لئے پیغمبر خدا میں اچھا اسوہ ہے ۔ میں اسوۃ کی صفت حسنۃ لائی گئی ہے ۔ تاسیت بہ میں نے اس کی اقتداء کی ۔ الاسٰی بمعنی حزن آتا ہے اصل میں اس کے معنٰی کسی فوت شدہ چیز پر غم کھانا ہوتے ہیں ۔ اسیت علیہ اسی واسیت لہ ۔ کسی چیز پر غم کھانا قرآن میں ہے ۔ { فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ } ( سورة المائدة 68) تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو ۔ شاعر نے کہا ہے ع (16) اسیت الاخوانی ربعیہ میں نے اپنے اخوال بنی ربعیہ پر افسوس کیا ۔ یہ اصل میں ( ناقص) وادی سے ہے کیونکہ محاورہ میں غمگین آدمی کو اسوان ( بالفتح ) کہا جاتا ہے ۔ الاسو کے معنی زخم کا علاج کرنے کے ہیں ۔ اصل میں اس کے معنی ازالہ غم کے ہیں اور یہ کر بت میں اس کے معنی ازالہ غم کے ہیں اور یہ کر بت النخل کی طرح ہے جس کے معنی کھجور کے درخت کی شاخوں کی جڑوں کو دور کرنے کے ہیں کہا جاتا ہے اسوتہ اسوءہ اشوار از باب نصرا یعنی میں نے اس کا غم دور کیا اس کو تسلی دی ۔ الاٰسی صالح ۔ مر ہم پٹی کرنے والا اس کی جمیع اساعہ واساۃ ہے اور زخمی آدمی کو ماسی وآسی کہا جاتا ہے ۔ اسیت بین القوم باہم صلح کرانا ۔ اٰسیتہ ( مفاعلہ ) کسی کے ساتھ ہمدردی کرنا ۔ ( مال وغیرہ کے ذریعہ ۔ شاعر نے کہا ہے ع (17) ، ، آسیٰ اخاہ بنفسہ ( طویل ) ، ، جس نے خود کو اپنے بھائی پر نثار کردیا ہو ۔ اور دو سرے شاعر نے کہا ہے (18) فآسی و آداہ فکان کمن جنٰی ، ، اس نے ہمدردی کی اور سامان حرب دیا تو گویا اس جنایت کی ۔ یہاں آسیٰ بروزن فاعل یو اسی سے ہے اسی طرح شاعر کے قول ع (19) یکفون اثقال ثای المستاسی ، ، المستای بروزن مستفعل بھی اسی مادہ سے مگر الاساءۃ ( افعال ) جس کے معنی تکلیف پہنچانے کے ہیں اس مادہ سے نہیں ہے بلکہ ساء ( س و ء ) سے منقول ہے ۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیت کریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد : إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت لصاحبها رجاء في نفسها بقرب نتاجها . والْأُرْجُوَانَ : لون أحمر يفرّح تفریح الرّجاء . اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا کا و قروں سے اٹھا دیا ۔ میں بعض مفسرین نے اس کے معنی لاتخافون کہئے ہیں یعنی کیوں نہیں ڈرتے ہوجیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( طویل) (177) وجالفھا فی بیت نوب عواسل جب اسے مکھی ڈنگ مارتی ہے تو وہ اس کے ڈسنے سے نہیں ڈرتا ۔ اور اس نے شہد کی مکھیوں سے معاہد کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ خوف ورجاء باہم متلازم ہیں لوجب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی ۔ ساتھ ہی اس کے تضیع کا اندیشہ بھی دامن گیر رہے گا ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں کہ اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے ) قرآن میں ہے :َوَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] اور تم کو خدا سے وہ وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں ۔ وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] اور کچھ اور لوگ ہیں کہ حکم خدا کے انتظار میں ان کا معاملہ ملتوی ہے ۔ ارجت الناقۃ اونٹنی کی ولادت کا وقت قریب آگیا ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اونٹنی نے اپنے مالک کو قرب ولادت کی امید دلائی ۔ الارجون ایک قسم کا سرخ رنگ جو رجاء کی طرح فرحت بخش ہوتا ہے ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہترین نمونہ عمل ہیں قول باری ہے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔ تمہارے لئے اللہ کے رسول کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے) بعض حضرات نے اس آیت سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال میں آپ کے اسوہ پر چلنے کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ ان کے مخالفین بھی اس آیت سے آپ کے افعال کے ایجاب کی نفی پر استدلال کرتے ہیں۔ پہلے گروہ کا مسلک یہ ہے کہ آپ کے اسوہ پر چلنا آپ کی اقتدا کے ہم معنی ہے اور یہ آپ کے قول وفعل دونوں کے لئے عام ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی فرمادیا (لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر۔ اس کے لئے جو اللہ اور یوم آخر سے ڈرتا ہو) یہ قول باری اس پر دال ہوگیا کہ آپ کے اسوہ پر چلنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی شرط قرار دیا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (واتقوا اللہ ان کنتم مومنین۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو) اور اسی طرح کے الفاظ جنہیں ایمان کے ساتھ مقرون کردیا گیا ہے۔ یہ بات وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ مخالفین کی استدلال یہ ہے کہ قول باری (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ) ظاہری طور پر استحباب کا مقتضی ہے، ایجاب کا مقتضی نہیں ہے کیونکہ ارشاد باری ہے (لکم) اس کی مثال قائل کا یہ قول ہے ۔” لک ان تصلی، لک ان تتصدق ۔ “ (تمہیں نماز پڑھنے کا) اختیار ہے تمہیں صدقہ دینے کا اختیار ہے۔ اس میں وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے بلکہ اس قول کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اسے اس کام کے کرلینے اور نہ کرنے کا اختیار ہے۔ ایجاب پر اس کی دلالت ہوتی اگر آپ کے الفاظ یہ ہوتے ” علیکم التاسی بالنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (تم پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ پر چلنا واجب ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ آیت میں وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ بلکہ استحباب پر اس کی دلالت ایجاب پر دلالت کی بہ نسبت زیادہ واضح ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اسکے باوجود اگر آیت امر کے صیغہ کی صورت میں وارد ہوتی تو پھر بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال میں وجوب پر اس کی دلالت نہ ہوتی اس لئے کہ آپ کے اسوہ پر چلنے کا مفہوم یہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح کریں جس طرح آپ نے کیا اور اگر ہم کسی فعل کے اعتقاد یا اس کے مفہوم کے سلسلے میں آپ کے خلاف کریں گے تو یہ آپ کے اسوہ پر چلنا نہ ہوگا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگر ایک عمل استحباب کی بنا پر کیا ہو اور ہم اسے وجوب کی بنا پر کرلیں تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ پر چلنے والے قرار نہیں پائیں گے۔ اگر آپ نے کوئی عمل کیا ہو تو ہمارے لئے اس وقت تک وجوب کے اعتقاد کے ساتھ اسے اپنانا جائز نہیں ہوگا جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ آپ نے یہ عمل وجوب کی بنا پر کیا تھا۔ جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے یہ عمل وجوب کی بنا پر کیا تھا تو ہم پر اس عمل کو اس علم کی وجہ سے کرنا واجب ہوگا آیت کی جہت سے واجب نہیں ہوگا۔ کیونکہ آیت میں تو وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے، ہم پر اس کا وجوب اس جہت سے ہوگا کہ دوسری آیات میں ہمیں آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

تم لوگوں میں سے ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتا ہو اور ثواب و انعام کی امید رکھتا ہو اور زبان و دل کے ساتھ کثرت سے ذکر الہی کرتا ہو رسول اکرم کا ایک عمدہ نمونہ اور آپ کے ساتھ غزوہ خندق میں حاضری میں ایک بہترین اقتدا موجود تھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ غزوئہ احزاب کا واقعہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی ‘ جس کا مقصد کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا تھا۔ چناچہ اس آزمائش کے نتیجے میں انسانی کردار کی دو تصاویر سامنے آئیں۔ ایک اندھیرے کی تصویر تھی اور دوسری اجالے کی۔ ان میں سے اندھیرے کی تصویر کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوا جبکہ دوسری تصویر کی جھلک آئندہ آیات میں دکھائی جا رہی ہے۔ اجالے کی اس تصویر میں خورشید ِعالم تاب کی علامت چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کردار ہے اس لیے مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : آیت ٢١{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ” (اے مسلمانو ! ) تمہارے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایک بہترین نمونہ ہے “ بظاہر ہمارے ہاں اس آیت کی تفہیم وتعلیم بہت عام ہے۔ سیرت کا کوئی سیمینار ہو ‘ میلاد کی کوئی محفل ہو یا کسی واعظ رنگین بیان کا وعظ ہو ‘ اس آیت کی تلاوت لازمی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سیرت و کردار کا نمونہ اپنانے کی جو صورت آج مسلمانوں کے ہاں عموماً دیکھنے میں آتی ہے اس کا تصور بہت محدود نوعیت کا ہے اور جن سنتوں کا تذکرہ عام طور پر ہمارے ہاں کیا جاتا ہے وہ محض روز مرہ کے معمولات کی سنتیں ہیں ‘ جیسے مسواک کی سنت یا مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دایاں پائوں اندر رکھنے اور باہر نکلتے ہوئے بایاں پائوں باہر رکھنے کی سنت۔ یقینا ان سنتوں کو اپنانے کا بھی ہمیں اہتمام کرنا چاہیے اور ہمارے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر سنت یقینا منبع خیر و برکت ہے۔ لیکن اس آیت کے سیاق وسباق کو مدنظر رکھ کر غور کریں تو یہ نکتہ بہت آسانی سے سمجھ میں آجائے گا کہ یہاں جس اسوہ کا ذکر ہوا ہے وہ طاقت کے نشے میں بدمست باطل کے سامنے بےسروسامانی کے عالم میں جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈٹ جانے کا اسوہ ہے۔ اور اسوہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہی وہ پہلو ہے جو آج ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ دراصل اس آیت میں خصوصی طور پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس کردار کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس کا نظارہ چشم ِفلک نے غزوہ خندق کے مختلف مراحل کے دوران کیا۔ اس دوران اگر کسی مرحلے پر فاقوں سے مجبور صحابہ (رض) نے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے دکھائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنی قمیص اٹھا کر اپنا پیٹ دکھایا جہاں دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اس وقت اگر صحابہ (رض) خندق کی کھدائی میں لگے ہوئے تھے تو ان کے درمیان حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی بڑے بڑے پتھر اپنے کندھوں پر اٹھا اٹھا کر باہر پھینکنے میں مصروف تھے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کوئی سنگلاخ چٹان صحابہ (رض) کی ضربوں سے ٹوٹ نہ سکی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنفس ِ نفیس اپنے ہاتھوں سے ضرب لگا کر اسے پاش پاش کیا۔ اس مشکل گھڑی میں ایسا نہیں تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پر آسائش خیمہ نصب کردیا گیا ہو ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں محو استراحت ہوں ‘ خدام ّمورچھل لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کو موجود ہوں اور باقی لوگ خندق کھودنے میں لگے ہوئے ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو عملی طور پر اپنائے جانے کے معاملے کو سمجھانے کے لیے عام طور پر میں معاشیات کی دو اصطلاحات macro economics اور micro economics کی مثال دیا کرتا ہوں۔ یعنی جس طرح macro economics کا تعلق بہت بڑی سطح کے معاشی منصوبوں یا کسی ملک کے معاشی نظام کے مجموعی خدوخال سے ہے ‘ اور چھوٹے پیمانے پر معمول کی معاشی سرگرمیوں کے مطالعے کے لیے micro economics کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ‘ اسی طرح اگر ہم macro sunnah اور micro sunnah کی اصطلاحات استعمال کریں اور اس حوالے سے اپنا اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ آج ہماری اکثر یت ” مائیکرو سنت “ سے تو خوب واقف ہے ‘ اکثر لوگ روز مرہ معمول کی سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ‘ بلکہ بعض اوقات جذبات کی رو میں بہہ کر اس بنا پر دوسروں کے ساتھ جھگڑے بھی مول لیتے ہیں ‘ لیکن ” میکرو سنت “ کی اہمیت و ضرورت کا کسی کو ادراک ہے اور نہ ہی اس کی تعمیل کی فکر (اِلاَّ مَا شَا ئَ اللّٰہ) ۔ مثلاً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے بڑی (macro) سنت تو یہ ہے کہ وحی کے آغاز یعنی اپنی چالیس سال کی عمر کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پوری زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی معاشی جدوجہد کے لیے صرف نہیں کیا اور نہ ہی اپنی زندگی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی جائیداد بنائی۔ بعثت سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک خوشحال اور کامیاب تاجر تھے ‘ لیکن سورة المدثر کی ان آیات کے نزول کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی یکسر بدل گئی : { یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ ۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ ۔ ” اے چادر اوڑھنے والے ! اُٹھیے ‘ اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے ‘ اور اپنے رب کی تکبیرکیجیے “۔ اس حکم کی تعمیل میں گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہر مصروفیت کو ترک کردیا ‘ ہر قسم کی معاشی جدوجہد سے پہلو تہی اختیار فرمالی ‘ اور اپنی پوری قوت و توانائی ‘ تمام تر اوقات اور تمام تر تگ و دو کا رخ دعوت دین ‘ اقامت ِدین اور تکبیر رب کی طرف پھیر دیا۔ یہ وہ ” میکرو سنت “ ہے جس سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا ایک لمحہ بھی خالی نظر نہیں آتا۔ آج اس درجے میں نہ سہی مگر اس میکرو سنت کے رنگ کی کچھ نہ کچھ جھلک تو بحیثیت مسلمان ہماری زندگیوں میں نظر آنی چاہیے ‘ اور اس رنگ کے ساتھ ساتھ مائیکرو قسم کی سنتوں کا بھی اہتمام کیا جائے تو وہ یقینا نورٌ علیٰ نور والی کیفیت ہوگی۔ لیکن اگر ہم اپنی ساری توانائیاں صرف چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اہتمام میں ہی صرف کرتے رہیں ‘ برش کے بجائے مسواک کا استعمال کرکے سو شہیدوں کے برابر ثواب کی امید بھی رکھیں اور اتباعِ سنت کے اشتہار کے طور پر ہر وقت مسواک اپنی جیب میں بھی لیے پھریں ‘ لیکن اپنی زندگیوں کا عمومی رخ متعین کرنے میں ” میکرو سنت “ کا بالکل بھی لحاظ نہ کریں تو ہمیں خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمارا یہ طرز عمل اسوہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کس قدر مطابقت اور مناسبت رکھتا ہے ! { لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ } ” (یہ اسوہ ہے) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ملاقات اور آخرت کی امید رکھتا ہو “ { وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا } ” اور کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتا ہو۔ “ یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسوہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو ان تین شرائط کو پورا کرے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا متمنی ہو ‘ یعنی اللہ سے محبت کرتا ہو۔ دوسری شرط یہ کہ وہ شخص یوم آخرت کی بھی امید رکھتا ہو ‘ یعنی بعث بعد الموت پر اس کا یقین ہو۔ اور تیسری شرط یہ کہ وہ اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرتا ہو۔ گویا ہر وقت اللہ کو یاد رکھتا ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ کے حوالے سے ان شرائط کے فلسفے کو سورة البقرۃ کی آیت ٢ اور آیت ١٨٥ کی روشنی میں سمجھئے۔ سورة البقرۃ کی آیت ١٨٥ میں قرآن کو ہُدًی لِّلنَّاسِ (تمام نوع انسانی کے لیے ہدایت) قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آیت ٢ میں اس ہدایت سے استفادہ کو ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ کی شرط سے مشروط کردیا گیا ہے کہ قرآن سے صرف وہی لوگ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں جو تقویٰ کی روش پر کاربند ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں آیت زیرمطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسوہ تو اپنی جگہ کامل و اکمل اور منبع ِرشد و ہدایت ہے لیکن اس سے استفادہ صرف وہی لوگ کرسکیں گے جو ان تین شرائط پر پورا اترتے ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ کے ذکر کے بعد آگے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کے کردار کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ گویا وہی ترتیب ہے جو سورة الفتح کی آخری آیت میں آئی ہے : { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ …} ” محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ اور وہ لوگ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہیں…“ یعنی پہلے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر اور پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

34 In view of the context in which this verse occurs, the object of presenting the Holy Prophet's conduct and way of life as a model was to teach a lesson to the people, who had been motivated by considerations of selfish interests and personal safety on the occasion of the Battle of the Trench. They are being addressed, as if to say: "You claimed to be the believers and Muslims and followers of the Holy Messenger. You should have seen how the Messenger whose followers you claimed to be conducted himself on the occasion. If the leader of a group is himself a seeker of personal security, is lazy and indolent, gives preference to personal interests to everything else, and is ever ready to flee danger, it would be reasonable to expect manifestation of such weakness from his followers. But here the case was different. The Holy Prophet endured along with others every toil and labour that he asked others to endure, and endured better than others; there was no trouble which others might have experienced and he himself did. not. He was among those who dug the trench, and endured hunger and other afflictions just as the common Muslims did. He did not leave the battlefront even for a moment during the siege nor retreated an inch. After the betrayal of the Bani Quraizah his own family had also been exposed to danger even as the families of the other Muslims were. He did not make any special arrangement for his own and his family's protection, which did not exist for others. He was always in the forefront to offer maximum sacrifices for the great objectives for which he was constantly asking others to make sacrifices. Therefore, whoever made a claim of being his follower should have followed the practical example set by the leader. This is the meaning of the verse in the context here. But its words are general and there is no reason why it should be confined to these meanings only. AIlah dces not. say that only in this respect His Messenger's life is a model for the Muslims to follow, but has regarded it as a model absolutely. Therefore, the verse demands that the Muslims should take the Holy Prophet's life as a model for themselves in every affair of life and should mould their character and personality according to it. 35 That is, "The Prophet's life is no model for the person who is forgetful of God, but it certainly is a model for him who remembers Allah much and consistently and not only occasionally just by chance. Likewise, this life is no model for him who has no hope from Allah and does not expect Resurrection to take place, but it is most surely a model for the person who is hopeful of Allah's grace and His favors, and who is also mindful that the Day of Judgement will come when his well-being will wholly depend on how closely his conduct resembled the conduct and character of the Messenger of Allah in this world. "

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :34 جس سیاق و سباق میں یہ آیت ارشاد ہوئی ہے اس کے لحاظ سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کو اس جگہ نمونہ کے طور پر پیش کرنے سے مقصود ان لوگوں کو سبق دینا تھا جنہوں نے جنگ احزاب کے موقع پر مفاد پرستی و عافیت کوشی سے کام لیا تھا ۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم ایمان و اسلام اور اتباع رسول کے مدعی تھے ۔ تم کو دیکھنا چاہیے تھا کہ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروؤں میں تم شامل ہوئے ہو اس کا اس موقع پر کیا رویہ تھا ۔ اگر کسی گروہ کا لیڈر خود عافیت کوش ہو ۔ خود آرام طلب ہو ، خود اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کو مقدم رکھتا ہو ، خطرے کے وقت خود بھاگ نکلنے کی تیاریاں کر رہا ہو ، پھر تو اس کی پیروؤں کی طرف سے ان کمزوریوں کا اظہار معقول ہو سکتا ہے ۔ مگر یہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ ہر مشقت جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں سے مطالبہ کیا ، اسے برداشت کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سب کے ساتھ شریک تھے ، بلکہ دوسروں سے بڑھ کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ لیا ، کوئی تکلیف ایسی نہ تھی جو دوسروں نے اٹھائی ہو اور آپ صلی اللہ علی ہوسلم نے نہ اٹھائی ہو ۔ خندق کھودنے والوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود شامل تھے ۔ بھوک اور سردی کی تکلیفیں اٹھانے میں ایک ادنیٰ مسلمان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ بالکل برابر کا تھا ۔ محاصرے کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت محاذ جنگ پر موجود رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی دشمن کے مقابلے سے نہ ہٹے ۔ بنی قریظہ کی غداری کے بعد جس خطرے میں سب مسلمانوں کے بال بچے مبتلا تھے اسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بچے بھی مبتلا تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حفاظت اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی خاص اہتمام نہ کیا جو دوسرے مسلمانوں کے لیے نہ ہو ۔ جس مقصد عظیم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں سے قربانیوں کا مطالبہ کر رہے تھے اس پر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو تیار تھے ۔ اس لیے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کا مدعی تھا اسے یہ نمونہ دیکھ کر اس کی پیروی کرنی چاہیے تھی ۔ یہ تو موقع و محل کے لحاظ سے اس آیت کا مفہوم ہے ۔ مگر اس کے الفاظ عام ہیں اور اس کے منشا کو صرف اسی معنی تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ صرف اسی لحاظ سے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے ، بلکہ مطلقاً اسے نمونہ قرار دیا ہے ۔ لہٰذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان ہر معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنے لیے نمونے کی زندگی سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی سیرت و کردار کو ڈھالیں ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :35 یعنی اللہ سے غافل آدمی کے لیے تو یہ زندگی نمونہ نہیں ہے مگر اس شخص کے لیے ضرور نمونہ ہے جو کبھی کبھار اتفاقاً خدا کا نام لے لینے والا نہیں بلکہ کثرت سے اس کو یاد کرنے اور یاد رکھنے والا ہو ۔ اسی طرح یہ زندگی اس شخص کے لیے تو نمونہ نہیں ہے جو اللہ سے کوئی امید اور آخرت کے آنے کی کوئی توقع نہ رکھتا ہو ، مگر اس شخص کے لیے ضرور نمونہ ہے جو اللہ کے فضل اور اس کی عنایات کا امیدوار ہو اور جسے یہ بھی خیال ہو کہ کوئی آخرت آنے والی ہے جہاں اس کی بھلائی کا سارا انحصار ہی اس پر ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کا رویہ رسُولِ خُدا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رویے سے کس حد تک قریب تر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:21) اسوۃ : الاسوۃ والاسوۃ (چوں قدرۃ وقدوۃ) انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں کہ جس میں دوسرے کا متبع ہوتا ہے خواہ وہ حالتاچھی ہو یا بری۔ سرور بخش ہو یا تکلیف دہ۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں اسوۃ کی صفت حسنۃ لاگئی ہے۔ مفسرین نے اسوۃ کے کئی معنی لئے ہیں : چال ، ڈھنگ، نمونہ، عمل، پیشوا، رہنما، امام، غمگسار، مقتدی۔ حقیقت یہ ہے کہ حضور نبی کریم سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے ہر پہلو (انفرادی ، اجتماعی، خانگی و ملی و معاشرتی و اخلاقی) کے لئے شمع ہدایت ہے ۔ لیکن یہاں اشارہ خصوصی معرکہ جنگ میں ثبات و استقامت سے متعلق ہے۔ اس جنگ میں آپ نے محنت و مشقت کی صعوبتیں سہیں۔ بھوک و پیاس کی کلفتوں کو برداشت کیا۔ حضور کا رخ انور زخمی ہوا، دندان مبارک شہید ہوئے ، قریبی عزیز و احباء کی جانیں قربان ہوگئیں۔ لیکن ان تمام حالات میں صبر و شکر ، ثبات و استقامت کا بہترین نمونہ پیش فرمایا۔ (کلام میں اس کو صنعت تجرید کہتے ہیں اور صفات سے قطع نظر کرکے صرف ایک صفت سے غرض رکھنا) اسوۃ اسم ہے ۔ اس و مادہ یرجوا۔ مضارع واحد مذکر غائبرجاء مصدر (باب نصر) ۔ ڈرتا ہے۔ اندیشہ رکھتا ہے۔ یا امید رکھتا ہے (اللہ تعالیٰ سے ملنے کی اور قیامت کے آنے کی) ۔ لمن کان یرجعوا اللہ ۔۔ بدل ہے۔ لکم کا کہ مقصود مخاطبین سے وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور روز قیامت سے ڈرتے ہیں اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے ہیں۔ مثال : قال الملا الذین استکرقوا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم (7:75) اس کی قوم کے سرداروں نے جو کہ غرور رکھتے تھے ان کمزور (لفظہ معانی ! جو کمزور خیال کئے جاتے تھے) لوگوں سے جو ایمان لائے تھے ان میں سے۔ خطاب ان سے تھا الذین استضعفوا صرف توطیہ و تمہید کے لئے آیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 اس میں لڑائی میں پیچھے رہنے والوں پر عتاب ہے۔ (قرطبی) یعنی تمہارا فرض تھا کہ جس طرح اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس موقع پر جان لڑا رہے تھے اور تمام تکلیفوں اور مشقتوں کا مروانہ وار مقابلہ کر رہے تھے تم بھی جان لڑاتے اور تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرتے، ایسا تو نہیں تھا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں تو خطرہ میں جھونک دیا ہو اور خود کسی پناہ کی جگہ آرام کرنے بیٹھ گئے ہوں۔ اگر وہ ایسا کرتے تب تو تمہارے لیے وجہ جواز ہوسکتی تھی۔ مگر وہ تو خود ہر کام میں پیش پیش تھے، پھر تمہارا بزدلی دکھانا اور کسی کام سے بچنے کی فکر کرنا کسی لحاظ سے معقول نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ آیت گو جہاد کے باب میں نازل ہوئی لیکن یہ ہر موقع اور عمل کے لئے عام ہے اور مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی معاملہ میں اپنے آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی سے مستثنیٰ سمجھیں۔ ( شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 21 تا 27 اسرارومعارف اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔ صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا : صحابہ کرام (رض) جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی بلکہ انہوں نے تو کہا کہ اللہ نے اور اللہ کے رسول نے اسی دن کا وعدہ کیا تھا آُ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشگوئی دوبارہ کفار سچ ہے اور اللہ کا ارشاد بھی سچ ہے آئندہ بھی جو آپ نے فرمایا وہی حق ہے کہ ان پر مسلمانوں کو فتح ہوگی اور ان مشکل گھڑیوں نے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم و رضا میں اور بھی بہت سی زیادتی کردی اور ان کے ایمان مزید مضبوط تر ہوگئے ان ہی ایمان والوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا کہ منہ نہ موڑیں گے سچ کر دکھایا اور انہی میں سے کچھ تو شہید ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وفا کا قرض چکا گئے اور جو زندہ ہیں وہ جان نچھاور کرنے کی آرزو میں گھڑیاں گنا کرتے ہیں یہ ثابت قدم رہے اور ان کے قول و عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ حق و باطل کے معرکے کے صادقین کھرے اور سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا انعام دلانے کا سبب بنتے ہیں اور اگر اللہ عذاب کرنا چاہے تو منافقین کے لیے عذاب کا باعث بن جاتے ہیں یا کسی کو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں کہ اللہ بہت بڑے بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں اور کافروں کے لشکر اپنے غیظ و غضب کی آگ اپنے سینوں میں لیے واپس بھاگ گئے اور انہیں ذرہ برابر کامیابی ہاتھ نہ آئی نہ صرف یہ بلکہ مسلمانوں کو لڑنا ہی پڑا اور ان کی جانب سے کفار کو اللہ ہی کافی ہورہا یعنی فرشتوں اور سرد طوفانوں نے ہی بھگا دیا مسلمانوں نے تو معمولی جھڑپوں میں ہی حصہ لیا کہ اللہ بہت طاقتور اور غالب ہے کفار بھاگے تو یہود بنو قریظہ بھی لشکر اسلام سے لڑ نہ سکے بلکہ مرعوب ہو کر اپنے قلعوں اور مورچوں سے باہر آکر ہتھیار ڈال دیے چناچہ حکم شرعی کے مطابق تم نے بہت سوں کو قتل کردیا اور بہت سوں کو قیدی بنا لیا اور یہاں بس نہیں ہوجائے گی بلکہ اللہ نے تو امت مسلمہ کو ان ممالک اور آبادیوں کا فاتح بنا دیا ہے جہاں کبھی تم لوگوں کے قدم نہیں پہنچے مگر اللہ کے علم میں ہے کہ تم ان دور دراز ممالک کو فتح کر کے اسلام کے جھنڈے گاڑو گے یہ اس نے کمال اطاعت رسول کا انعام بخشا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے جو چاہے کرسکتا ہے ۔ بشارت : اس میں صحابہ کرام کی فتوحات کی بشارت موجود ہے جو ان کے کامل خلوص کے ساتھ اتباع نبوی کی دلیل ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 27 اسوۃ : نمونہ یرجوا : امید رکھتا ہے تسلیم : فرمانبرداری ۔ اطاعت قضی : پورا کرلیا نحب : منت۔ نذر۔ مدت غیظ : غصہ صیاصی : قلعے۔ پناہ کی جگہ قذف : ڈال دیا الرعب : دہشت۔ ہیبت تاسرون : تم قیدی بناتے ہو اورث : اس نے مالک بنا دیا لم تطئوا : انہوں نے نہیں روندا تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 بعض لوگ دنیاوی مفادات کی وجہ سے مسلمان بن کر عام مسلمانوں میں جلے رہتے ہیں چونکہ وہ دنیا دکھاوے کو مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے دل ایمانی جذبوں سے محروم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کے تمام کاموں اور اعمال کو ضائع کردیا تھا اور آخرت میں نجات بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کو بہترین نمونہ عمل بتایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا ہر انداز اور سیرت و کردار کا ہر پہلو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے رہبر و رہنما ہے لیکن آپ کی زندگی سے صرف وہی فائدے حاصل کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور آخرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور دن ارات اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے کرتے ہیں۔ غزوہ خندق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دہشت ناک ماحول میں جب کہ کفار مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دی تھی اور چاروں طرف سے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے تھے آپ نے ان حالات کا جس ہمت و جرات ، استقلال اور بےخوفی سے مقابلہ کیا تھا وہ اہل ایمان اور ساری دنیا کے لوگوں کے لئے ایک بہترین نمونہ زندگی ہے ۔ غزوہ خندق کے موقع پر ایک طرف تو وہ اہل ایمان تھے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت میں اپنا سب کچھ قربان کردینے کو اپنی سعادت سمجھ رہے تھے دوسری طرف وہ بزدل منافقین تھے جو اتحادی فوجوں کی کثرت اور بنو قریظہ کی غداری اور عہد شکنی کی وجہ سے سخت پریشان اور مایوس تھے اور کہنے لگے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے تو ہم سے بڑے بڑے وعدے کئے تھے عہد شکنی کی وجہ سے سخت پریشان اور مایوس تھے اور کہنے لگے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے تو ہم سے بڑے بڑے وعدے کئے تھے کہ اگر انہوں نے دین اسلام کو قبول کرلیا تو ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی ساری دنیا پر انہیں فتح و نصرت عطا کی جائے گی اور قیصر و کسری کے محل اور خزانے ان کے قدموں تلے ہوں گے مگر اس وقت تو ہمارا یہ حال ہے کہ مدینہ منورہ کی اس چھوٹی سی ریاست کو ختم کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے بڑے زبردست لشکروں کے ساتھ کفار نے مدینہ پر چڑ ھائی کردی ہے جن سے اپنی جان بچانا مشکل نظر آرہا ہے اور اندرونی طور پر بنو قریظہ کی شورش ، بغاوت اور غداری کی وجہ سے ان کی بیوی بچے تک محفوظ نہیں رہے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ آئو لوٹ چلیں تاکہ اس آفت سے نجات حاصل کرسکیں۔ اس کے برخلاف عزم و ہمت کے پیکر صحابہ کرام (رض) جنہوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیض صحبت سے جرات و ہمت اور بےخوفی کا سبق سیکھ لیا تھا انہوں نے کفار کی اس یلغار اور اتحادی فوجوں کی کثرت کو دیکھا تو ساری حقیقت سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ دین کی راہوں میں چلنے والے ہر شخص کو سخت آزمائشوں اور امتحانات سے گذرنا ہوگا۔ مصائب اور مشکلات کے کانٹوں سے الجھنا ہوگا اور ہر طرح کی قربانیاں دینا ہوگی تاکہ وہ اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن کر دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کرسکیں۔ کفار کی فوجی کثرت اور ان کی جنگی تیاریوں سے خوف کرنے کے بجائے وہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت میں پورے عزم و یقین کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرنے کے لئے بےچین ہوگئے اور پنے جان و مال سے اللہ کی راہ میں ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثاروں کی زندگی بہتر ین نمونہ عمل ہے۔ زیر مطالعہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کو ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ زندگی اور نمونہ عمل بنایا ہے جو اللہ کی ذات وصفات پر ایمان لا کر آخرت میں نجات اور کامیابی کی امید اور توقع رکھتا ہے اور دن رات کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جاں نثاران مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عزم و ہمت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اہل ایمان (صحابہ کرام (رض) نے مدینہ پر بڑے بڑے لشکروں کو حملہ آور دیکھا تو انہوں نے گھبرانے اور مایوس ہونے کے بجائے کہا کہ یہی تو وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے کیا تھا ۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا کہ دین کی راہوں میں انہیں ہر طرح کی آزمائشوں سے گذرنا ہوگا ۔ ان لشکروں کی کثرت نے ان کے جذبہ ایمانی اور اطاعت و فرماں برداری میں اضافہ کردیا۔ فرمایا کہ ان ہی لوگوں میں وہ صاحبان ایمان بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آخرت کی کامیابیاں حاصل کرلیں اور کچھ لوگ ابھی اس انتظار میں ہیں کہ اگر ان کو موقع ملا تو وہ بھی اپنے جان و مال کی قربانی کی سعادت حاصل کریں گے ۔ ان کی ہمت و جرات یا یہ حال ہے کہ حالات کی سختی اور کفار کی یلٖغار سے مایوس نہیں ہوئے اور نہ انہوں نے اپنے کسی روئیے میں تبدیلی کی۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کی سچائی کا نعام عطا فرفائیں گے۔ جہاں تک منافقین کا معاملہ ہے تو اللہ کی مرضی پر ہے چاہے تو ان کو عذاب دے یا ان کو تو بہ کی توفیق دے کر معاف فرما دے۔ اللہ تو اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے میں بہت زیادہ مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غزوہ احزاب میں کفار کے لشکروں کی کثرت اور اسلحہ کے ڈھیران کے کسی کام نہ آسکے۔ حالات اور موسم کی سختی سے تنگ آکر جلتے پٹختے میدان جنگ سے بھاگ جانے پر مجبور ہوگئے اور جو بھی فائدے سوچ کر آئے تھے ان میں سے ایک فائدہ بھی حاصل نہ کرسکے بلکہ اس سے ان کو یہ زبردست نقصان پہنچا کہ وہ ساری دنیا میں ذلیل ور سوا ہو کر رہ گئے اور اہل ایمان کو مٹانے کے بجائے انہوں نے خود اپنے مٹنے کا سامان کرلیا۔ واقعی ساری طاقت وقوت صرف اللہ ہی کی ہے اور وہی اہل ایمان کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ بنو قریظہ کی غداری اور معادہ شکنی کے متعلق فرمایا کہ اہل کتاب (بنو قریظہ) میں سے جنہوں نے ان کفار و مشرکین کی مدد کی تھی ان کو نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنے مضبوط قلعوں سے نیچے آنا پڑا۔ اللہ نے ان کے دلوں میں اہل ایمان کی ایسی ہیبت اور دہشت بٹھادی تھی کہ آج وہ ان میں سے ایک گروہ کو قتل کررہے ہیں اور بعض لوگوں کو قید کررہے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں ان کی زمینون ، گھروں ، جائیدادوں اور مال دولت کا مالک بنادیا ہے اور اب اللہ نے فیصلہ فرما لیا ہے کہ تمہیں اس سرزمین (خیبر وغیرہ ) کا بھی مالک بنادیا جائے جہاں تم نے ابھی تک قدم بھی نہیں رکھا ۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوگا جو ساری طاقتوں اور قوتوں کا مالک ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یرجوا میں مبدا ومعاد کا اعتقاد آگیا اور ذکر اللہ میں سب طاعتیں آگئیں۔ 4۔ آگے منافقین کے مقابلہ میں مومنین مخلصین کا ذکر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حالات جیسے بھی ہوں مسلمانوں تمہارے لیے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہی اسوہ حسنہ ہے اور ہونی چاہیے۔ اس فرمان کی اہمیت اور فرضیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سابقہ آیات کا خلاصہ ذہن میں رکھا جائے تاکہ اس فرمان کی اہمیت اور فرضیت کا تصور پوری طرح اجاگر ہوجائے اس تصور سے ہی ایک مسلمان کی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھل سکتی ہے غزوہ احزاب جسے تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں غزوہ خندق لکھا جاتا ہے اس کے خوف ناک اور بھیانک منظر کی تصویر چند سطور میں ملاحظہ فرمائیں۔ ١۔ موسم نقطہ انجماد سے نیچے گر چکا ہے جس وجہ سے سردی اس قدر زیادہ اور ناقابل برداشت ہے کہ خیموں میں بیٹھے ہوئے مجاہدوں کی بغلیں بج رہی ہیں۔ خیمے سے باہر نکلنے کے خیال ہی سے جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔ ٢۔ سروردو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے ہیں صحابہ (رض) روٹی کے خشک ٹکڑے اور بوسیدہ گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔ اور کچھ نے کمر سیدھی رکھنے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے ہیں۔ ٣۔ مدینہ میں منافقین کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔ ٤۔ یہودیوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ہوا بقائے باہمی کا معاہدہ توڑ کر حملہ آوروں کے ساتھ سازباز کرلی ہے۔ اور عورتوں کے کیمپ پر دھاوا بولنے کے لیے تیاری کرچکے ہیں۔ ٥۔ مدینہ میں چند مسلمانوں کے سوا باقی مسلمان خندق کی حفاظت اور اپنے دفاع میں رات دن مصروف ہیں۔ ٦۔ دشمن پوری قوت کے ساتھ باربار خندق عبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٧۔ مسلمانوں کی دفاعی پوزیشن اس قدر کمزور ہے کہ آنکھ جھپکنے کے برابر بھی ادھر ادھر توجہ نہیں کرسکتے جس وجہ سے سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں آدھی رات کے وقت پڑھنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ٨۔ دشمن دس ہزار سورماؤں کے ساتھ پچیس دن سے مدینے کی چھوٹی سی ریاست کا محاصرہ کیے ہوئے ہے جس بنا پر باہر سے مدینہ میں کسی چیز کا آنا ناممکن ہوچکا ہے جس وجہ سے بچے بھوک سے بلک بلک کر روتے ہیں۔ ٩۔ خوف و ہراس اور دشمن کے دباؤ کی وجہ سے مسلمانوں کے کلیجے منہ کی طرف آچکے ہیں جس کا نقشہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ (وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ ) [ الاحزاب : ١٠] ” جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلے میں اٹک گئے “ حالات کے اس تناظر میں حکم ہوتا ہے کہ اے مسلمانو ! اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ خاص طور پر اس شخص کے لیے نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید، آخرت کے حساب و کتاب پر یقین اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرنے والا ہے۔ اس فرمان میں اسوہ حسنہ سے مراد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ کا کوئی خاص پہلو مراد نہیں۔ بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پوری حیات مبارکہ امت کے لیے عظیم اور حسین نمونہ ہے۔ جس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حالات کتنے پرفتن ہوں مسائل اور مصائب کا طوفان سر سے گزرچکا ہو مشکلات پہاڑوں کی مانند سامنے کھڑی ہوں، کلیجہ حلق میں آکے اٹک چکا ہوباد مخالف طوفان کی شکل اختیار کر جائے غربت اپنی انتہاء کو پہنچ جائے۔ موت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنے کھڑی ہوجائے ان حالات میں بھی مسلمان کے لیے اسوہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کوئی اسوہ قابل عمل نہیں ہوسکتا البتہ اس پر وہی شخص ایمان لائے گا اور عمل کرے گا جو اپنے رب کی ملاقات کی امید، آخرت پر یقین اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرنے والا ہے ” اللہ “ کی یاد دل اور زبان سے بھی ہو اور مسلمان کا عمل بھی اس کی شہادت دیتا ہو۔ مسائل ١۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ ٢۔ ہر حال میں اللہ کی ذات اور اس کے فرمان کو یاد رکھنا چاہیے۔ ٣۔ جو شخص اللہ، آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ ہر صورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا اسوہ بنائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرنے کے فائدے : ١۔ اللہ کا ذکر صبح اور شام کثرت سے کرو۔ (آل عمران : ٤١) ٢۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد زمین میں نکل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الجمعۃ : ١٠) ٣۔ ایام تشریق میں اللہ کو زیادہ یاد کرو۔ (البقرۃ : ٢٠٢) ٤۔ جب حج کے مناسک ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو۔ (البقرۃ : ١٩٨) ٥۔ جنگ کے دوران اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الانفال : ٤٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب قرآن مجید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بطور نمونہ پیش کرکے ان روشن چہروں کے البم کا آغاز کرتا ہے اور دیکھئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک کو۔ لقد کان لکم ۔۔۔۔۔۔ وذکر اللہ کثیرا (31) ” “۔ اس خوفناک ڈر ، اور جان لیوا حالات کے باوجود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے لیے امن و اطمینان کا سرچشمہ تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات و ثوق ، اطمینان اور امیدوں کا سرچشمہ تھی۔ اس مشکل وقت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کردار ادا کیا وہ دراصل تمام تحریکات اسلامی کے قائدین کے لیے مثال اور نمونہ ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے جو صاف رضائے الٰہی اور یوم آخرت کے لیے کام کرتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بہترین قائد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جو ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہیں اور کبھی بھی اللہ کو نہیں بھولتے۔ ہمیں چاہئے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جنگ میں جو موقف فرمایا اس کی کچھ جھلکیاں یہاں سے دیں۔ پوری تفصیلات تو یہاں دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نکلے اور عام مسلمانوں کے ساتھ خندق کھودنے لگے۔ آپ کدال سے زمین کھودتے اور بیلچے سے مٹی جمع فرماتے اور پھر ٹوکری میں بھر کر کناروں پر ڈالتے۔ کام کرنے والے جو رجز پڑھتے آپ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے۔ یہ لوگ اونچی آواز سے رجز پڑھتے ، رجز کے آخری لفظ کو دہراتے۔ وہ لوگ سادہ قسم کے ترانے گاتے تھے جن کا تعلق اس وقت کے واقعات سے ہوتا تھا۔ ایک شخص تھا جس کا نام جعیل تھا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نام اچھا نہ لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا نام بدل کر عمرو رکھ دیا۔ اب مسلمانوں نے اس کے ساتھ رجز بنایا ، بہت ہی سادہ : سماہ من بعد جعیل عمرا وکان للبائس یوما ظھرا جب مسلمان یہ رجز پڑھتے اور ” عمرا “ کہتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جواب میں ” عمرا “ فرماتے اور جب وہ دوسرے فقرے میں لفظ ” ظہرا “ پڑھتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے جواب میں ظہرا دہراتے۔ اب ذرا اس فضا کے بارے میں سوچئے اور اس جوش و خروش کا تصور کیجئے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رجز کے ساتھ مقطع دہراتے ہیں۔ ” عمرا “ اور ” ظہرا “۔ اور ساتھ ساتھ کدال بھی مار رہے ہیں۔ بیلچے سے مٹی بھی جمع کر رہے ہیں اور پھر ٹوکری میں مٹی اٹھا کر بھی لے جا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ رجز کا جواب بھی دے رہے ہیں۔ یہ طرز عمل ان لوگوں کے جسم کے رونگٹے رونگٹے کو قوت سے بھر رہا ہوگا۔ ان کی ارواح کا پیمانہ کس قوت و شجاعت سے لبریز ہوگا اور کس قدر جرأت ، شجاعت اور اعتماد اور اعزار ان کو حاصل ہو رہا ہوگا۔ زید ابن ثابت مٹی لے جا رہے تھے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ایک بہترین نوجوان ہے۔ اسے نیند آگئی اور خندق ہی میں سوگیا۔ بہت سردی ۔۔۔۔ حضرت عمارہ ابن جزم نے ان کا اسلحہ چپکے سے لے لیا ، اسے پتہ بھی نہ چلا۔ آنکھ کھلی تو اسلحہ ندارد۔ یہ پریشان ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” اے ابو اماد (زیادہ سونے والے کے باپ) تم اس قدر سو گئے کہ اسلحہ ہی چلا گیا “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے دے دو اور اس کے بعد حکم دیا کہ مسلمان کی کوئی چیز بطور مزاح بھی نہ چھپاؤ۔ یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ اسلامی صفوں میں جو لوگ تھے وہ بیدار مغز اور بیدار چشم تھے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر ہر کسی پر تھی ، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سنجیدہ مزاح اور خوش مزاجی ان مشکل حالات میں بھی قائد انقلاب کے ساتھ تھے۔ ” اے سونے والے کے باپ ، تم سو گئے اور اسلحہ چلا گیا “۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کن حالات میں تھے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کس قدر قریب تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح دور دور تک اسلامی انقلاب کے نقوش دیکھ رہی تھی ۔ پتھروں کی چمک میں بھی اللہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسلامی انقلاب کی وسعتوں کو دکھاتے تھے۔ پہلے دن سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوشخبری سنائی تھی کہ قیصروکسریٰ کے خزانے تمہارے ہاتھ آئیں گے۔ لیکن جنگ احزاب جیسے مایوس کن حالات میں بھی جب کدال کی ضرب سے پتھر سے چمک نکلتی تو اس سے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مستقبل کا نقشہ بتا دیا جاتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فورا مسلمانوں کو بتا دیتے اور اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یقین اور امید کے چشمے پھوٹ نکلتے۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں۔ سلمان فارسی کی یہ روایت مجھ تک پہنچی ہے کہ میں خندق کا ایک کونا کھود رہا تھا کہ ایک پتھر میرے لیے مشکل ہوگیا ۔ رسول اللہ اس وقت میرے قریب تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ میں مسلسل وار کر رہا ہوں اور جگہ میرے لئے مشکل ہوگئی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے اور میرے ہاتھ سے کدال لیا اور پتھر پر وار کیا۔ کدال کے نیچے سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری ضرب لگائی اور پھر پتھر سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری ضرب لگائی اور پتھر سے پھر چمک اٹھی۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چمک کیسی تھی جو میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مارتے ہیں تو کدال چمک اٹھتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (سلمان تو نے یہ دیکھ لیا ہے) میں نے کہا ہاں۔ پہلی چمک میں یہ بات دکھائی گئی کہ میرے لیے یمن فتح ہوگیا ہے۔ دوسری چمک میں یہ دکھایا گیا کہ اللہ نے میرے لیے شام اور مغرب کا علاقہ فتح کردیا اور تیسری چمک میں یہ بات تھی کہ اللہ نے میرے لیے مشرق کو فتح کرلیا ہے۔ مقریزی نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عمر (رض) کو پیش آیا اور اس وقت سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ ہمارے لیے سبق اس بات میں یہ ہے کہ اس قسم کے خوفناک ماحول میں بھی مسلمانوں کے دل و دماغ اعتماد سے بھرپور تھے۔ ذرا وہ وقت بھی یاد کیجئے کہ حذیفہ (رض) شدید سردی میں دشمن کے کیمپ سے نکل آئے ہیں۔ ان کے پاس اطلاعات ہیں۔ وہ سردی سے کانپ رہے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں میں سے ایک کی لمبی شال میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہیں۔ اپنے رب کے ساتھ مناجات میں ہیں۔ آپ حضرت حذیفہ کو چھوڑ نہیں دیتے کہ وہ اس وقت تک کانپتے رہیں جب تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ نہیں ہوجاتے بلکہ آپ حذیفہ (رض) کو اپنے پاؤں ٹانگوں کے اندر دبا لیتے ہیں اور اپنی شال کا ایک کونہ ان پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ گرم ہوجائیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز جاری رکھتے ہیں۔ نماز ختم ہوتی ہے۔ حذیفہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری سناتے ہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔ مبارک کہہ رہا تھا کہ آج کچھ ہونے والا ہے۔ حذیفہ اسے دیکھ کر آگئے۔ جہاں تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شجاعت ، ثابت قدمی اور اللہ پر بھروسے کا تعلق ہے تو وہ آپ کی سیرت سے عیاں ہیں اور اس پورے قصے سے بالکل عیاں ہیں۔ اور مشہور ہیں ، لہٰذا ہم یہاں تفصیلات نہیں دے سکتے۔ اللہ نے سچ کہا ” درحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایک بہترین نمونہ تھا ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اب ایک سچے مومن کی تصویر ملاحظہ ہو۔ جو اللہ پر پورا پورا بھروسہ رکھتا ہے اور پوری طرح مبمئن ہے۔ یہ تصویر روشن ، چمکدار اور خوبصورت ہے۔ دیکھے ہر قسم کے ہولناک حالات کے مقابلے میں یہ مومن ڈٹا ہوا ہے۔ خطرات میں کود پڑتا ہے۔ ایسے خطرناک حالات میں چٹان کی طرح ڈٹا ہے جن میں عام لوگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور خطرہ جس قدر شدید ہوتا ہے اسے اسی قدر زیادہ اطمینان ، اللہ پر زیادہ بھروسہ اور خوشخبری کا یقین ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مومنین کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی اسوہ ہے اہل ایمان نے اللہ سے سچا وعدہ کیا اور اس پر پورے اترے ان آیات میں اول تو اہل ایمان کو تلقین فرمائی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کرتے رہیں، غزوہ احزاب میں بھی سب کو وہی کرنا لازم تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا، کسی کو اپنی جان بچا کر چلے جانا درست نہیں تھا۔ اس میں اہل ایمان کو تعلیم فرما دی کہ جیسے اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا اور اتباع کیا اسی طرح آئندہ بھی آپ کا اتباع کریں اور آپ کی ذات گرامی کو اپنے لیے اسوۂ حسنہ یعنی عملی زندگی کا نمونہ بنائیں، جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور یوم آخرت کی پیشی کا یقین رکھتے ہیں انہیں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مومنین کی تعلیم و تلقین کے ساتھ ہی منافقین پر تعریض بھی ہے جنہوں نے ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود راہ فرار کو پسند کیا اور لوگوں کو غزوہ کی شرکت سے روکا۔ بات یہ ہے کہ صرف دعویٰ کچھ کام نہیں دیتا جب کسی کام کا دعویٰ کرے تو اس کو سچا کر دکھائے، منافقین دنیاوی مصالح کی بناء پر ایمان کا دعویٰ تو کر بیٹھے جب آزمائش آئی تو وعدہ کو نبھاہ نہ سکے، ان کا اعمال و اقوال سے جھوٹا ہونا صاف طریقے پر واضح ہوگیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28:۔ لقد کان الخ، اس میں اتباع رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ترغیب ہے پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کھودنے اور کفار کا مقابلہ کرنے میں صبر و استقلال اور سکون و ثبات کا جو بہترین عملی نمونہ پیش فرمایا ہے مسلمانوں کو اس کی پیروی کرنا چاہئے تھی یہاں مخلصین سے فرمایا جو بتقاضائے بشریت کافروں کی فوجوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔ اسوۃ حسنۃ خصلۃ حسنۃ خقھا ان یوتسی بھا کا لثبات فی العرب و مقاساۃ الشدائد (ابو السعود ج 6 ص 774) ۔ لمن کان یرجوا الخ، یہ لکم سے بدل ہے یعنی جو لوگ اللہ سے اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں ان کے لیے پیغمبر (علیہ السلام) کی زندگی اتباع و اطاعت کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ آیت اگرچہ معاملہ جہاد میںحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کا مفہوم عام ہے اور زندگی کے تمام شعبوں اور پہلوؤں پر حاوی ہے اس اعتبار سے یہ آیت شریعت کا بہت بڑا اصول بیان کر رہی ہے والایۃ وان سیقت للاقتداء بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) فی امر الحرب من الثبات و نحوہ فھی عامۃ فی کل افعالہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذا لم یعلم انہا من خصوصیاتہ (روح ج 21 ص 167) ۔ ھذہ الایۃ الکریمۃ اصل کبیر فی التاسی برسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی اقوالہ وافعالہ و احوالہ و لہذا امر تبارک وتعالیٰ لناس بالتاسی بالنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم الاحزاب فی صبرہ و مصابرتہ ومرابطتہ و مجاھدتہ الخ (ابن کثیر ج 3 ص 474) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

21۔ مسلمانو ! بلا شبہ تم میں سے ہر اس شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا اور قیامت کا خوف رکھتا اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات بہترین قابل تقلید نمونہ تھی۔ خطاب فرمایا عام مسلمانوں کو پھر تخصیص فرمائی ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی بقا اور اس کی رضا کی امید رکھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی پیشی سے ڈرتے ہیں اسی طرح قیامت سے ڈرتے ہیں یا قیامت کے دن ثواب کی امید رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے ہیں ایسے کامل مومن اس بات کے اور بھی زیادہ مستحق ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چال سیکھیں اور آپ کی پیروی ان مسلمانوں کے لئے ایک عمدہ نمونہ تھی اور یہ دیکھنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغمبر کیسی محنت اور مشقت برداشت کرتا ہے اور میدان جنگ میں کس طرح ثابت قدم رہتا ہے۔ ترجمہ اور تیسیر میں ہم نے لمن کان کو لکم کا بدل اور صفت کی رعایت کا لحاظ رکھا ہے لمن کان کو حسنۃ کا صلہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رسول کو دیکھو ان سختیوں میں کیا استقلال رکھتا ہے سب سے زیادہ محنت اور اندیشہ ہے۔ 12 لکم میں تعمیم تھی لمن کان سے اس کی تخصیص فرمائی ہم نے سب مفسرین کے اقوال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترجمہ کیا ہے اور یہاں جو اسوۂ حسنہ کی تفسیر میں آپ کے استقلال اور ثبات فی الجہادکا ذکر کیا ہے یہ موقعہ کے لحاظ سے ہے ورنہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام صفات کاملہ اور آپ کے اخلاق عالیہ موجب اقتدار اور واجب الاتباع ہیں ، اور آپ کی ہر سنت پر عمل کرنا حصول برکت اور رفع درجات کا سبب ہے اور ہر قسم کے عقاب اور عذاب اور ملامت سے نجات کا ضامن ہے اس میں اتمام سنن اور مستحبات وغیرہ داخل ہوگئے۔