Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 32

سورة الأحزاب

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾

O wives of the Prophet, you are not like anyone among women. If you fear Allah , then do not be soft in speech [to men], lest he in whose heart is disease should covet, but speak with appropriate speech.

اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Enjoining certain Manners so that the Mothers of the Believers may be an Example; and the Prohibition of Tabarruj Allah enjoined upon the wives of the Prophet; يَا نِسَاء النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاء إِنِ اتَّقَيْتُنَّ ... O wives of the Prophet! You are not like any other women. If you keep you have Taqwa, These are the good manners which Allah enjoined upon the wives of the Prophet so that they would be an example for the women of the Ummah to follow. Allah said, addressing the wives of the Prophet that they should fear Allah as He commanded them, and that no other woman is like them or can be their equal in virtue and status. Then Allah says: ... فَلَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ ... then be not soft in speech, As-Suddi and others said, this means, do not be gentle in speech when addressing men. Allah says: ... فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ ... lest he in whose heart is a disease should be moved with desire, means, something unclean. ... وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفًا but speak in an honorable manner. Ibn Zayd said: "Decent and honorable talk that is known to be good." This means that she should address non-Mahram men in a manner in which there is no softness, i.e., a woman should not address a non-Mahram man in the same way that she addresses her husband.

ارشادات الٰہی کی روشنی میں اسوہ امہات المومنین اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں ۔ اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں پس فرمایا کہ تم میں سے جو پرہیزگاری کریں وہ بہت بڑی فضیلت اور مرتبے والی ہیں ۔ مردوں سے جب تمہیں کوئی بات کرنی پڑے تو آواز بنا کر بات نہ کرو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے انہیں طمع پیدا ہو ۔ بلکہ بات اچھی اور مطابق دستور کرو ۔ پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں ۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں ۔ پھر فرمایا بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو ۔ مسجد میں نماز کے لئے آنا بھی شرعی ضرورت ہے جیسے کہ حدیث میں ہے اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو ۔ لیکن انہیں چاہئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے لئے ان کے گھر بہتر ہیں ۔ بزار میں ہے کہ عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے ۔ اب آپ ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں ۔ آپ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی ۔ ترمذی وغیرہ میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عورت سر تا پا پردے کی چیز ہے ۔ یہ جب گھر سے باہر قدم نکالتی ہے تو شیطان جھانکنے لگتا ہے ۔ یہ سب سے زیادہ اللہ کے قریب اس وقت ہوتی ہے جب یہ اپنے گھر کے اندرونی حجرے میں ہو ۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے ۔ جاہلیت میں عورتیں بےپردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بےپردگی کو حرام قرار دیتا ہے ۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے ۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں ، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ادریس کی دو نسلیں آباد تھیں ۔ ایک تو پہاڑ پر دوسرے نرم زمین پر ۔ پہاڑیوں کے مرد خوش شکل تھے عورتیں سیاہ فام تھیں اور زمین والوں کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مردوں کے رنگ سانولے تھے ۔ ابلیس انسانی صورت اختیار کر کے انہیں بہکانے کے لئے نرم زمین والوں کے پاس آیا اور ایک شخص کا غلام بن کر رہنے لگا ۔ پھر اس نے بانسری وضع کی ایک چیز بنائی اور اسے بجانے لگا اس کی آواز پر لوگ لٹو ہوگئے اور پھر بھیڑ لگنے لگی اور ایک دن میلے کا مقرر ہو گیا جس میں ہزارہا مرد و عورت جمع ہونے لگے ۔ اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا ۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زنا کاری کا عام رواج ہو گیا ۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے ۔ ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو ۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو ۔ یعنی زکوٰۃ نکالتی رہو ۔ ان خاص احکام کی بجا آوری کا حکم دے کر پھر عام طور پر اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا ۔ پھر فرمایا اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا ۔ یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں ۔ اس لئے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے ۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی ۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے ۔ حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے ( ابن جریر ) ابن ابی حاتم میں حضرت عکرمہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو چاہے مجھ سے مباہلہ کر لے ۔ یہ آیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔ اس قول سے اگر یہ مطلب ہے کہ شان نزول یہی ہے اور نہیں ، تو یہ تو ٹھیک ہے اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت میں اور کوئی ان کے سوا داخل ہی نہیں تو اس میں نظر ہے اس لئے کہ احادیث سے اہل بیت میں ازواج مطہرات کے سوا اوروں کا داخل ہونا بھی پایا جاتا ہے ۔ مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لئے جب نکلتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے ۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں ۔ ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے ۔ اس میں ایک راوی ابو داؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے ۔ یہ روایت ٹھیک نہیں ۔ مسند میں ہے شد اد بن عمار کہتے ہیں میں ایک دن حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کا ذکر ہو رہا تھا ۔ وہ آپ کو برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بھی ان کا ساتھ دیا جب وہ لوگ گئے تو مجھ سے سے حضرت واثلہ نے فرمایا تو نے بھی حضرت علی کی شان میں گستا خانہ الفاظ کہے؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سب کی زبان میں زبان ملائی ۔ تو فرمایا سن میں نے جو دیکھا ہے تجھے سناتا ہوں ۔ میں ایک مرتبہ حضرت علی کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں گئے ہوئے ہیں ۔ میں ان کے انتظار میں بیٹھا رہا تھوڑی دیر میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں اور آپ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی ہیں دونوں بچے آپ کی انگلی تھامے ہوئے تھے آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تو اپنے سامنے بٹھا لیا اور دونوں نواسوں کو اپنے گھٹنوں پر بٹھا لیا اور ایک کپڑے سے ڈھک لیا پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ کی اہل بیت میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا تو بھی میرے اہل میں سے ہے ۔ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میرے لئے بہت ہی بڑی امید کا ہے اور روایت میں ہے حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب حضرت علی حضرت فاطمہ حضرت حسن حضرت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے ۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں تو بھی ۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے ۔ مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں ۔ آپ نے فرمایا اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو ۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ اپنے بستر پر تھے ۔ خیبر کی ایک چادر آپ کے نیچے بچھی ہوئی تھی ۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری ۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا یقینا تو بہتری کی طرف ہے فی الواقع تو خیر کی طرف ہے ۔ اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں ۔ دوسری سند سے انہی حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر آیا تو آپنے فرمایا آیت تطہیر تو میرے گھر میں اتری ہے ۔ آپ میرے ہاں آئے اور فرمایا کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دینا ۔ تھوڑی دیر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں ۔ اب بھلا میں بیٹی کو باپ سے کیسے روکتی؟ پھر حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو نواسے کو نانا سے کون روکے؟ پھر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے میں نے انہیں بھی نہ روکا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے میں انہیں بھی نہ روک سکی ۔ جب یہ سب جمع ہو گئے تو جو چادر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھے ہوئے تھے اسی میں ان سب کو لے لیا اور کہا الٰہی یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے ۔ پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا تو خیر کی طرف ہے ۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ میرے گھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ گئے ہیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں ۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے ۔ آپ نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن میں دوسرا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت ۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا ہاں تو بھی ۔ اور روایت میں ہے کہ میں اس وقت گھر کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ نے فرمایا تو بھلائی کی طرف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے ہے اور روایت میں ہے میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا تو میری اہل ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی ( مسلم وغیرہ ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ کی محبوب تھیں ۔ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ میں بھی آپ کے اہل بیت سے ہوں آپ نے فرمایا دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو ( ابن ابی حاتم ) حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ۔ اور سند سے یہ ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے ۔ واللہ اعلم ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں ( ابن جریر ) صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت یزید بن حبان فرماتے ہیں میں اور حصین بن سیرہ اور عمر بن مسلمہ مل کر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے ۔ حصین کہنے لگے اے زید آپ کو تو بہت سی بھلائیاں مل گئیں ۔ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ، آپ کی حدیثیں سنیں ، آپ کے ساتھ جہاد کئے ، آ پکے پیچھے نمازیں پڑھیں غرض آپ نے بہت خیر و برکت پا لیا اچھا ہمیں کوئی حدیث تو سناؤ ۔ آپ نے فرمایا بھتیجے اب میری عمر بڑی ہو گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دور ہو گیا ۔ بعض باتیں ذہن سے جاتی رہیں ۔ اب تم ایسا کرو جو باتیں میں از خود بیان کروں انہیں تم قبول کر لو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو ۔ سنو! مکے اور مدینے کے درمیان ایک پانی کی جگہ پر جسے خم کہا جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں ایک خطبہ سنایا ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور وعظ و پند کے بعد فرمایا میں ایک انسان ہوں ۔ بہت ممکن ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی مان لوں میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ پہلی تو کتاب اللہ جس پر ہدایت و نور ہے ۔ تم اللہ کی کتابوں کو لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو پھر تو آپ نے کتاب اللہ کی بڑی رغبت دلائی اور اس کی طرف ہمیں خوب متوجہ فرمایا ۔ پھر فرمایا اور میری اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں تین مرتبہ یہی کلمہ فرمایا ۔ تو حصین نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی بیویاں آپ کی اہل بیت نہیں ہیں؟ فرمایا آپ کی بیویاں تو آپ کی اہل بیت ہیں ہی ۔ لیکن آپ کی اہل بیت وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کھانا حرام ہے ، پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی ، آل عقیل ، آل جعفر ، آل عباس رضی اللہ عنہم ۔ پوچھا کیا ان سب پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے؟ کہا ہاں! دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ میں نے پوچھا کیا آپ کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دے دے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے ۔ آپ کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپکے بعد صدقہ حرام ہے ۔ اس روایت میں یہی ہے لیکن پہلی روایت ہی اولیٰ ہے اور اسی کو لینا ٹھیک ہے اور اس دوسری میں جو ہے اس سے مراد صرف حدیث میں جن اہل بیت کا ذکر ہے وہ ہے کیونکہ وہاں وہ آل مراد ہے جن پر صدقہ خوری حرام ہے یا یہ کہ مراد صرف بیویاں نہیں ہیں بلکہ وہ مع آپ کی اور آل کے ہیں ۔ یہی بات زیادہ راحج ہے اور اس سے اس روایت اور اس سے پہلے کی روایت میں جمع بھی ہو جاتی ہے اور قرآن اور پہلی احادیث میں بھی جمع ہو جاتی ہے لیکن یہ اس صورت میں کہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم کر لیا جائے ۔ کیونکہ ان کی بعض اسنادوں میں نظر ہے واللہ تعالیٰ اعلم ۔ جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقینا بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لئے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو ۔ پس اللہ کی آیات اور حکمت سے مراد بقول حضرت قتادہ وغیرہ کتاب و سنت ہے ۔ پس یہ خاص خصوصیت ہے جو ان کے سوا کسی اور کو نہیں ملی کہ ان کے گھروں میں اللہ کی وحی اور رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے اور ان میں بھی یہ شرف حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور اولیٰ اور سب سے زیادہ حاصل ہے کیونکہ حدیث شریف میں صاف وارد ہے کہ کسی عورت کے بستر پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نہیں آتی بجز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترے کے یہ اس لئے بھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا ۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لئے نہ تھا ۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں ۔ ہاں جبکہ آپ کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ کی اہل بیت ہیں ۔ جیسے حدیث میں گذر چکا کہ میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے ۔ ( لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ١٠٨؁ ) 9- التوبہ:108 ) کہ یہ اتری تو ہے مسجد قبا کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے ۔ لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا وہ میری ہی مسجد ہے یعنی مسجد نبوی ۔ پس جو صفت مسجد قبا میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لئے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ۔ آپ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو اسد کا ایک شخص کود کر آیا اور سجدے کی حالت میں آپ کے جسم میں خنجر گھونپ دیا جو آپ کے نرم گوشت میں لگا جس سے آپ کئی مہینے بیمار رہے جب اچھے ہوگئے تو مسجد میں آئے منبر پر بیٹھ کر خطبہ پڑھا جس میں فرمایا اے عراقیو! ہمارے بارے میں اللہ کا خوف کیا کرو ہم تمہارے حاکم ہیں ، تمہارے مہمان ہیں ، ہم اہل بیت ہیں جن کے بارے میں آیت ( وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33؀ۚ ) 33- الأحزاب:33 ) اتری ہے ۔ اس پر آپ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو بار بار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے ۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک شامی سے فرمایا تھا کیا تو نے سورہ احزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا ، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے ۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو ، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں ۔ پس اس آیت کے معنی مطابق تفسیر ابن جریر یہ ہوئے کہ اے نبی کی بیویو! اللہ کی جو نعمت تم پر ہے اسے تم یاد کرو کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں کیا جہاں اللہ کی آیات اور حکمت پڑھی جاتی ہے تمہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر کرنا چاہئے اور اس کی حمد پڑھنی چاہئے کہ تم پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہیں ان گھروں میں آباد کیا ۔ حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے ۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے ۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لئے منتخب کر لیا ۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہر چیز کے جزوکل سے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

321یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے۔ بلکہ اللہ نے تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت کا جو شرف عطا فرمایا ہے، اس کی وجہ سے تمہیں ایک امتیازی مقام حاصل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح تمہیں بھی امت کے لئے ایک نمونہ بننا چاہیے چناچہ انھیں ان کے مقام و مرتبے سے آگاہ کرکے انھیں کچھ ہدایت دی جا رہی ہے۔ اس کی مخاطب اگرچہ ازواج مطہرات ہیں جنہیں امہات المومنین قرار دیا گیا ہے لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہے کہ مقصد پوری امت مسلمہ کی عورتوں کو سمجھانا اور متنبہ کرنا ہے اس لیے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ 322اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لئے جنسی کشش رکھی ہے (جس کی حفاظت کے لئے بھی خصو سی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عورت مرد کے لئے فتنے کا باعث نہ بنے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آواز میں بھی فطری طور پر دلکشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے، بنا بریں اس آواز کے لئے بھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مردوں سے گفتگو کرتے وقت قصداً ایسا لب و لہجہ اختیار کرو کہ نرمی اور لطافت کی جگہ قدرے سختی اور روکھا پن ہو، تاکہ کوئی بد ظن لہجے کی نرمی سے تمہاری طرف مائل نہ ہو اور اس کے دل میں برا خیال پیدا نہ ہو۔ 323یعنی روکھا پن، صرف لہجے کی حد ہی ہو، زبان سے ایسا لفظ نہ نکالنا جو معروف قائدے اور اخلاق کے منافی ہو۔ اِنِ اتقیتن کہہ کر اشارہ کردیا کہ یہ بات اور دیگر ہدایات جو آگے آرہی ہیں متقی عورتوں کے لئے ہیں، کیونکہ انھیں ہی یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کی آخرت برباد نہ ہوجائے۔ جن کے دل خوف الٰہی سے عاری ہیں، انھیں ان ہدایات سے کیا تعلق ؟ اور وہ کب ان ہدایات کی پروا کرتی ہیں ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٥] معاشرہ سے فحاشی کے خاتمہ کے لئے احکام :۔ سابقہ دو آیات سے دراصل معاشرہ سے فواحش کی تطہیر کا پروگرام دیا جا رہا ہے۔ اس کے آغاز میں دو باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ایک تو اس کا آغاز نبی کے گھرانہ سے کیا گیا۔ دوسرے سب سے پہلے فاحشہ مبینہ (یعنی زنا) کا ذکر کردیا گیا۔ اس کے بعد اب زنا کے سدباب کے احکام کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اس میں پہلے یہ خاص طور پر وضاحت کردی گئی کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے۔ بلکہ تمہارے کردار کے نتائج بڑے دور رس ہیں۔ لہذا تمہیں پوری طرح ان احکام پر عمل کرنا ہوگا۔ تمہارے ہر عمل کو لوگ حجت سمجھیں گے اور بطور حجت ہی پیش کریں گے۔ [ ٤٦] آواز پر پابندی :۔ جنگ احزاب سے پہلے تک عرب معاشرہ کا یہ حال تھا کہ مسلمان عورتیں بھی اپنی پوری زینت اور میک اپ کے ساتھ بےحجاب پھرتی تھیں۔ مسلم گھرانوں میں بھی غیر مردوں کے داخلہ پر کوئی پابندی نہ تھی۔ ازواج مطہرات بھی اسی طرح گھروں سے باہر جایا آیا کرتی تھیں۔ جیسے دوسری عورتیں، اس بےحجابانہ معاشرہ کی اصلاح کے لئے سب سے پہلے غیر مرد اور غیر عورت کی باہمی گفتگو اور آواز پر پابندی لگائی گئی اور اس حکم میں مخاطب نبی کی بیویوں کو بالخصوص اس لئے کیا گیا کہ ان سے بھی لوگوں کو مسئلے مسائل پوچھنے کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی۔ چناچہ انھیں حکم دیا گیا کہ ان کی آواز شیریں اور لوچدار ہونے کی بجائے روکھی اور معقول حد تک بلند ہونا چاہئے۔ دبی زبان میں ہرگز بات نہ کی جائے۔ جو نرم گوشہ لئے ہوئے ہو۔ لوچدار اور شیریں آواز بذات خود دل کا ایک مرض ہے۔ پھر اگر مخاطب کے دل میں پہلے سے ہی اس قسم کا روگ موجود ہو تو وہ صرف اسی لذیذ گفتگو سے کئی غلط قسم کے خیالات اور تصورات دل میں جمانا شروع کردے گا اگرچہ ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم یہ حکم عام ہے۔ اور عورت کی آواز پر اصل پابندی یہ ہے کہ غیر مرد اس کی آواز نہ سننے پائیں۔ نیز اس کی آواز میں نرمی، لوچ، بانکپن اور شیرینی نہ ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت اذان نہیں کہہ سکتی یا نماز باجماعت میں اگر امام غلطی کر جائے تو وہ نہ سبحان اللہ کہہ سکتی ہے اور نہ لقمہ دے سکتی ہے۔ بلکہ اس کے لئے تصفیق کا حکم ہے یعنی اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر آواز پیدا کرنے سے متنبہ کرے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ ۔ : یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں جیسا نہیں، بلکہ تمہیں نبی کی بیویاں ہونے کا جو شرف عطا ہوا ہے اس کی وجہ سے تمہارا مقام دوسری عورتوں سے بلند ہے اور تم ان کے لیے نمونہ ہو۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے استدلال کیا ہے کہ ازواج مطہرات دوسری عورتوں سے افضل ہیں، البتہ آسیہ زوجہ فرعون، مریم بنت عمران اور فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ ان کی فضیلت صحیح نصوص سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (٤٢) زمخشری نے فرمایا : ” أَحَدٍ “ کا لفظ مذکر، مؤنث، واحد، تثنیہ اور جمع سب کے لیے آتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم عورتوں کی جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت جیسی نہیں ہو۔ یعنی جب عورتوں کی قوم کو ایک ایک جماعت کر کے دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہیں جو فضیلت اور پیش قدمی میں تمہارے برابر ہو۔ “ اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ : اس کا تعلق پہلے جملے سے ہے، یعنی دوسری عورتوں سے افضل ہونے کے لیے شرط تقویٰ ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ وہ بےخوف نہ ہوجائیں، بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہیں اور ان کاموں سے بچتی رہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ازواج مطہرات کا آخر دم تک تقویٰ پر قائم رہنا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے، لہٰذا ان کی فضیلت بھی مسلّم ہے۔ ” اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ “ کا تعلق بعد والے جملے سے بھی ہوسکتا ہے، یعنی اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں لوچ اور نرمی اختیار نہ کرو۔ فَلَا تَخْـضَعْنَ بالْقَوْلِ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود میں مرد کے لیے جنسی کشش رکھی ہے، جس کی حفاظت کے لیے پردے کا اور آنکھ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح عورت کی آواز میں بھی فطری طور پر دل کشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے، جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو حکم دیا گیا کہ مردوں سے بات کرتے وقت ایسا لہجہ اختیار کریں جس میں نرمی اور دل کشی کے بجائے قدرے سختی اور مضبوطی ہو، تاکہ دل کا کوئی بیمار کسی غلط خیال میں مبتلا ہو کر آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امہات المومنین کو ایسے لہجے میں غیر محرم مردوں سے بات کرنے کی اجازت تھی جو لوچ اور ملائمت سے خالی ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گھریلو زندگی اور عورتوں کے مسائل کے متعلق امت کو وہی بہتر اور پوری طرح آگاہ کرسکتی تھیں اور فی الواقع انھوں نے یہ فریضہ بہترین طریقے سے ادا کیا۔ عام طور پر جو کہا جاتا ہے کہ عورت کی آواز غیر محرم کو سننا جائز نہیں، یہ بات درست نہیں۔ واضح رہے کہ یہ حکم امہات المومنین کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ امت کی تمام عورتوں کے لیے ہے، کیونکہ ازواج مطہرات امت کی عورتوں کے لیے نمونہ ہیں۔ اگلی آیت میں مذکور احکام بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ اگرچہ ان کی اولین مخاطب امہات المومنین ہیں، مگر یہ حکم سب کے لیے ہے، ورنہ دوسری عورتوں کے لیے جاہلیت کے زمانے کی عورتوں کی طرح زیب و زینت کے عام اظہار کی اجازت ہوگی، جب کہ انھیں زور سے زمین پر پاؤں مار کر مخفی زینت کے اظہار کی بھی اجازت نہیں۔ دیکھیے سورة نور (٣١) ۔ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا : نرمی سے بات کرنے کی ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی بات کرو جو اخلاق کے منافی ہو اور اس میں مخاطب کی بےعزتی ہو، بلکہ صرف لہجے میں مضبوطی ہونی چاہیے، بات بہرصورت اچھی اور دستور کے مطابق ہونی لازم ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Special instructions given to the Blessed Wives Before we describe these instructions in details as they appear from the next verse: يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ (0 wives of the prophet, you are not like any other women, if you observe taqwa. So, do not be too soft in your speech ... 32), it will be useful to recollect that, in the previous verses, the blessed wives have been restrained from placing demands before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the fulfillment of which will be hard on him, or those which may be inappropriate in view of his high prophetic station. And once they have chosen to live in that arrangement, their status was raised higher than other women to the extent that one deed done by them was made to stand for two. Now, in and onwards from verse 32, they have been given some instructions in order to correct and groom their conduct as appropriate for wives living with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Though, all these instructions are not restricted to the blessed wives in particular, in fact, virtually all Muslim women are obligated to observe these. But, at this place, the blessed wives have been addressed specially to bring it to their attention that they should make it a point to observe these rules of conduct that apply to all Muslim women as incumbent and obligatory - more avidly as compared to others. It is this kind of particularity that is meant by the expression: لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ (you are not like any other women - 32). Are the blessed wives superior to all women of the world? The arrangement of these words in the verse seems to obviously suggest that the blessed wives (رض) are superior to the women of the whole world. But, in the verse of the Qur&an about Sayyidah Maryam (علیہا السلام) it has been said: إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَ‌كِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ (Allah has chosen you and purified you and chosen you over the women of all the worlds - &Al-` Imran, 3:42). This proves the superiority of Sayyidah Maryam (علیہا السلام) over the women of all the worlds. Then, there is the Hadith of Sayyidna Anas (رض) in Tirmidhi where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said, &Sufficient for you (to hold in esteem) out of all women are: Maryam daughter of ` Imran, Khadijah daughter of Khuwailid (Ummul- Mu&minin), Fatimah daughter of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and &Asiyah wife of the Pharaoh.& In this Hadith, three other women along with Sayyidah Maryam (علیہا السلام) have been identified as superior to women of all the worlds. Therefore, the superiority or precedence of the blessed wives described in this verse occurs here in itch special status, that is, the status of their being the wives and women of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the status in which they are doubtlessly superior to women of all the worlds. However, it does not prove the kind of universally absolute superiority which may be counter to other nusus (textual authority). (Mazhari) Soon after the opening sentence of verse 32: لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ (you are not like any other woman), there appears the condition of: إِنِ اتَّقَيْتُنَّ (if you observe Taqwa. This condition refers to the superiority they have been blessed with by Allah Ta’ ala because of their being women and wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The purpose thereby is to caution them against relying solely on this relationship of theirs with the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that they are, after all, the wives of the Messenger of Allah. Instead of that, this superiority is based on the condition that they observe Taqwa and obey Divine injunctions. (Qurtubi and Mazhari) After that, some instructions have been given to the blessed wives (رض) The First Instruction It relates to restrictions on the modality of voice and speech as part of the rules of hijab or pardah applicable to women and begins with the words: فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ (so do not be too soft in your speech- 32). It means, even if there be the need to talk to someone who is not a mahram from behind a screen (or something else obstructing the view), even then, while speaking, effort should be made to avoid the delicacy and grace in diction naturally present in the voice of women. The delicacy and grace mentioned here refer to a certain level of softness which might make some inclination rise in the heart of the addressee as stated immediately after: فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَ‌ضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُ‌وفًا (lest someone having disease in his heart should develop fancies (about you); and do speak with appropriate words. - 32) The sense is that one should not talk softly in a manner that would cause temptation and tilt in a person who already has some disease in his heart. Disease means hypocrisy, or its offshoots. That a real hypocrite will be so tempted is all too obvious. But, a person who, despite being a sincere believer, inclines towards something unlawful may not be a hypocrite but weak in faith he certainly is. And this weakness in faith which makes one tilt towards the unlawful is really nothing but an offshoot of hypocrisy. With faith being pure and having not the least element of hypocrisy in it, no one can ever tilt towards what is Haram, unlawful. (Mazhari) In essence, the aim of the first instruction is to empower women to achieve the high station of self-protection from non-Mahram men through personal avoidance and legal hijab so that they do not go even near a non-Mahram weak in faith lest some temptation or tilt creeps into his heart. A detailed discussion of the hijab of women will appear within this Surah under the verses that follow. Being given at this point is simply an explanation of what has appeared here as part of the special instructions for the blessed wives. So, once the noble mothers of the believers had heard the instruction about speech or address, some of them were so alerted that they, while talking to a non-Mahram male after the revelation of this verse, used to put their hand over their mouth so that their voice would change. Therefore, it appears in a Hadith of Sayyidna ` Amr Ibn al-&As: اِنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نَھٰی اَن یُّکَلِّمَ النِّسَآُء اِلَّا بِاذنِ اَزواجِھِنَّ (The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had prohibited that women talk without the permission of their spouses) (Reported by at-Tabarani with &good& chain of authority, Mazhari) Ruling At least this much stands proved from this verse, and from the Hadith quoted above, that the voice of a woman is not included under satr, that is, under what must be concealed. But, a precautionary restriction has been placed here too. Then, consideration has also been given in religious injunctions and acts of worship that women do not talk at a high pitch that could be heard by men. If the Imam makes a mistake, those following him in the congregation are duty-bound to interrupt and correct him verbally. But, women have been taught that, instead of correcting the Imam verbally, they should simply clap by striking one hand over the back of the other so that the Imam is alerted. They have to say nothing verbally.

ازواج مطہرات کو خاص ہدایات : (آیت) ینساء النبی لستن کا حد من النساء ان اتقین فلا تخضعن بالقول، سابقہ آیات میں ازواج میں مطہرات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے مطالبات کرنے سے روکا گیا ہے جن کا پورا کرنا آپ کے لئے دشوار ہو یا جو آپ کی شان کے مناسب نہ ہوں۔ اور جب انہوں نے اس کو اختیار کرلیا تو ان کا درجہ عام عورتوں سے بڑھا دیا گیا کہ ان کے ایک عمل کو دو کے قائم مقام بنادیا۔ آگے ان کو اصلاح عمل اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت و زوجیت کے مناسب بنانے کے لئے چند ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ سب ہدایات اگرچہ ازواج مطہرات کے لئے مخصوص نہیں بلکہ تمام ہی مسلمان عورتیں ان کی مامور ہیں، مگر یہاں ازواج مطہرات کو خصوصی خطاب کر کے اس پر متوجہ کیا ہے کہ یہ اعمال و احکام جو سب مسلمان عورتوں کے لئے لازم و واجب ہیں آپ کو ان کا اہتمام دوسروں سے زیادہ کرنا چاہئے اور (آیت) لستن کا حد من النساء سے یہی خصوصیت مراد ہے۔ کیا ازواج مطہرات سارے عالم کی عورتوں سے افضل ہیں ؟ آیت کے ان الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ازواج مطہرات تمام دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں۔ مگر قرآن کریم کی آیت حضرت مریم (علیہا السلام) کے بارے میں یہ ہے (آیت) ان اللہ اصطفک وطہرک واصطفک علیٰ نساء العلمین، اس سے حضرت مریم (علیہ السلام) کا سارے جہاں کی عورتوں سے افضل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور ترمذی میں حضرت انس کی حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کافی ہیں تم کو ساری عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد (ام المومنین) اور فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آسیہ زوجہ فرعون۔ اس حدیث میں حضرت مریم کے ساتھ اور تین عورتوں کو نساء عالمین سے افضل فرمایا ہے۔ اس لئے اس آیت میں جو ازواج مطہرات کی افضلیت اور فوقیت بیان کی گئی ہے، وہ ایک خاص حیثیت یعنی ازواج النبی اور نساء النبی ہونے کی ہے، جس میں تمام عالم کی عورتوں سے بلاشبہ افضل ہیں۔ اس سے عام فضیلت مطلقہ ثابت نہیں ہوتی جو دوسری نصوص کے خلاف ہو۔ (مظہری) لستن کا حد من النساء کے بعد ان اتقیتن یہ شرط اس فضیلت کی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو نساء نبی ہونے کی وجہ سے بخشی ہے۔ مقصود اس سے اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ فقط اس نسبت وتعلق پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں کہ ہم ازواج رسول ہیں، بلکہ تقویٰ اور اطاعت احکام آلہیہ پر فضیلت کی شرط ہے۔ (قرطبی ومظہری) اس کے بعد چند ہدایات ازواج مطہرات کو دی گئیں۔ پہلی ہدایت عورتوں کے پردہ سے متعلق آواز اور کلام پر پابندی ہے۔ فلا تخضعن بالقول، یعنی کسی غیر محرم سے پس پردہ بات کرنے کی ضرورت بھی پیش آئے تو کلام میں اس نزاکت اور لطافت کے لہجہ سے بتکلف پرہیز کیا جائے جو فطرت عورتوں کی آواز میں ہوتی ہے۔ مطلب اس نرمی اور نزاکت سے وہ نرمی ہے جو مخاطب کے دل میں میلان پیدا کرے جیسا کہ اس کے بعد فرمایا ہے (آیت) فیطمع الذین فی قلبہ مرض، یعنی ایسی نرم گفتگو نہ کرو جس سے ایسے آدمی کو طمع اور میلان پیدا ہونے لگے جس کے دل میں مرض ہو، مرض سے مراد نفاق ہے یا اس کا کوئی شعبہ ہو۔ اصلی منافق سے تو ایسی طمع سرزد ہونا ظاہر ہی ہے، لیکن جو آدمی مومن مخلص ہونے کے باوجود کسی حرام کی طرف مائل ہوتا ہے وہ منافق نہ سہی مگر ضعیف الایمان ضروری ہے۔ اور یہ ضعف ایمان جو حرام کی طرف مائل کرتا ہے درحقیقت ایک شعبہ نفاق ہی کا ہے۔ ایمان خالص جس میں شائبہ نفاق کا نہ ہو اس کے ہوتے ہوئے کوئی حرام کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔ (مظہری) خلاصہ اس پہلی ہدایت کا عورتوں کے لئے اجنبی مردوں سے اجتناب اور پردہ کا وہ اعلیٰ مقام حاصل کرنا ہے کہ جس سے کسی اجنبی ضعیف الایمان کے دل میں کوئی طمع یا میلان پیدا ہو سکے اس کے پاس بھی نہ جائیں۔ پردہ نسواں کی مفصل بحث اسی سورة میں آگے آنے والی آیات کے تحت میں بیان ہوگی۔ یہاں ازواج مطہرات کے لئے خصوصی ہدایات کے ضمن میں جو کچھ آیا ہے صرف اس کی تشریح لکھی جاتی ہے۔ کلام کے متعلق جو ہدایت دی گئی ہے اس کو سننے کے بعد بعض امہات المومنین اس آیت کے نزول کے بعد اگر غیر مرد سے کلام کرتیں تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیتیں تاکہ آواز بدل جائے۔ اس لئے حضرت عمرو بن عاص کی ایک حدیث میں ہے ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیٰ ان یلکم النساء الا باذن ازواجہن (رواہ الطبرانی بسند حسن مظہری) مسئلہ : اس آیت اور حدیث مذکور سے اتنا تو ثابت ہوا کہ عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں، لیکن اس پر بھی احتیاطی پابندی یہاں بھی لگا دی اور تمام عبادات اور احکام میں اس کی رعایت کی گئی ہے کہ عورتوں کا کلام جہری نہ ہو جو مرد سنیں۔ امام کوئی غلطی کرے تو مقتدیوں کو لقمہ زبان سے دینے کا حکم ہے، مگر عورتوں کو زبان سے لقمہ دینے کے بجائے یہ تعلیم دی گئی کہ اپنے ہاتھ کی پشت پر دوسرا ہاتھ مار کر تالی بجا دیں جس سے امام متنبہ ہوجائے زبان سے کچھ نہ کہیں۔ دوسری ہدایت : مکمل پردہ کرنے کی ہے (آیت) وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیة الاولیٰ ، ” یعنی بیٹھو اپنے گھروں میں اور زمانہ قدیم کی جاہلیت والیوں کی طرح نہ پھرو “ یہاں جاہلیت اولیٰ سے مراد وہ جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس لفظ میں اشارہ ہے کہ اس کے بعد دوسری بھی کوئی جاہلیت آنے والی ہے، جس میں اس طرح کی بےحیائی و بےپردگی پھیل جائے گی، وہ شاید اس زمانہ کی جاہلیت ہے، جس کا اب مشاہدہ ہر جگہ ہو رہا ہے۔ اس آیت میں پردہ کے متعلق اصلی حکم یہی ہے کہ عورتیں گھروں میں رہیں (یعنی بلا ضرورت شرعیہ باہر نہ نکلیں) اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جس طرح اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت کی عورتیں علانیہ بےپردہ پھرتی تھیں ایسے نہ پھرو۔ لفظ تبرج کے اصلی معنی ظہور کے ہیں اور اس جگہ مراد اس سے اپنی زینت کا اظہار ہے غیر مردوں پر، جیسا کہ دوسری آیت میں غیر متبرجت بزینة آیا ہے۔ عورتوں کے پردہ کی پوری بحث اور مفصل احکام آگے اسی سورت میں آئیں گے۔ یہاں صرف آیت مذکورہ کی تشریح لکھی جاتی ہے۔ اس آیت سے پردہ کے متعلق دو باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ اصل مطلوب عند اللہ عورتوں کے لئے یہ ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، ان کی تخلیق گھریلو کاموں کے لئے ہوئی ہے ان میں مشغول رہیں، اور اصل پردہ جو شرعاً مطلوب ہے وہ حجاب بالبیوت ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر بضرورت کبھی عورت کو گھر سے نکلنا ہی پڑے تو زینت کے اظہار کے ساتھ نہ نکلے، بلکہ برقع یا جلباب جس میں پورا بدن ڈھک جائے وہ پہن کر نکلے۔ جیسا کہ آگے اسی سورة احزاب کی (آیت) ویدنین علیہن من جلابیہن میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۝ ٣ ٢ۚ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» «3» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ خضع قال اللہ : فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ [ الأحزاب/ 32] ، الخضوع : الخشوع، وقد تقدّم، ورجل خُضَعَة : كثير الخضوع، ويقال : خَضَعْتُ اللحم، أي : قطعته، وظلیم أَخْضَعُ : في عنقه تطامن ( خ ض ع ) الخضوع کے معنی خشوع یعنی جھکنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ رجل خُضَعَة : وہ شخص جو ہر ایک کے سامنے عاجزی اور انکساری ظاہر کرتا پھرے ۔ خضعت اللحم ۔ میں نے گوشت کاٹا ۔ ظلیم اخضع شتر مرغ جس کی گردن میں پستی اور جھکاؤ ہو ۔ طمع الطَّمَعُ : نزوعُ النّفسِ إلى الشیء شهوةً له، طَمِعْتُ أَطْمَعُ طَمَعاً وطُمَاعِيَةً ، فهو طَمِعٌ وطَامِعٌ. قال تعالی: إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ، أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ [ البقرة/ 75] ، خَوْفاً وَطَمَعاً [ الأعراف/ 56] ، ( ط م ع ) الطمع کے معنی ہیں نفس انسانی کا کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ میلان ۔ طمع ( س ) طمعا وطماعیۃ کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ مائل ہونا طمع وطامع اس طرح مائل ہونے والا قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ہمین امید ہے کہ ہمارا خدا ہمارے گناہ بخش دیگا ۔ أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ [ البقرة/ 75]( مومنوں ) کیا تم آرزو رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے دین کے قائل ہوجائیں گے ۔ خَوْفاً وَطَمَعاً [ الأعراف/ 56] وڑانے اور امید دلانے کیلئے قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ مرض الْمَرَضُ : الخروج عن الاعتدال الخاصّ بالإنسان، وذلک ضربان : الأوّل : مَرَضٌ جسميٌّ ، وهو المذکور في قوله تعالی: وَلا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ [ النور/ 61] ، وَلا عَلَى الْمَرْضى[ التوبة/ 91] . والثاني : عبارة عن الرّذائل کالجهل، والجبن، والبخل، والنّفاق، وغیرها من الرّذائل الخلقيّة . نحو قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ، أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتابُوا [ النور/ 50] ، وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] . وذلک نحو قوله : وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً مِنْهُمْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْياناً وَكُفْراً [ المائدة/ 64] ويشبّه النّفاق والکفر ونحوهما من الرذائل بالمرض، إما لکونها مانعة عن إدراک الفضائل کالمرض المانع للبدن عن التصرف الکامل، وإما لکونها مانعة عن تحصیل الحیاة الأخرويّة المذکورة في قوله : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 64] ، وإمّا لمیل النّفس بها إلى الاعتقادات الرّديئة ميل البدن المریض إلى الأشياء المضرّة، ولکون هذه الأشياء متصوّرة بصورة المرض قيل : دوي صدر فلان، ونغل قلبه . وقال عليه الصلاة والسلام : «وأيّ داء أدوأ من البخل ؟» «4» ، ويقال : شمسٌ مریضةٌ: إذا لم تکن مضيئة لعارض عرض لها، وأمرض فلان في قوله : إذا عرّض، والتّمریض القیام علی المریض، وتحقیقه : إزالة المرض عن المریض کالتّقذية في إزالة القذی عن العین . ( م ر ض ) المرض کے معنی ہیں انسان کے مزاج خصوصی کا اعتدال اور توازن کی حد سے نکل جانا اور یہ دوقسم پر ہے ۔ مرض جسمانی جیسے فرمایا : وَلا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ [ النور/ 61] اور نہ بیمار پر کچھ گناہ ہے ۔ وَلا عَلَى الْمَرْضى[ التوبة/ 91] اور نہ بیماروں پر ۔ دوم مرض کا لفظ اخلاق کے بگڑنے پر بولا جاتا ہے اور اس سے جہالت بزدلی ۔ بخل ، نفاق وغیرہ جیسے اخلاق رزیلہ مراد ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں کفر کا مرض تھا ۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتابُوا [ النور/ 50] گناہ ان کے دلوں میں بیماری ہے یا یہ شک میں ہیں ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] اور جن کے دلوں میں مرض ہے ۔ ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً مِنْهُمْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْياناً وَكُفْراً [ المائدة/ 64] اور یہ ( قرآن پاک) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر بڑھے گا ۔ اور نفاق ، کفر وغیرہ اخلاق رذیلہ کی ( مجاز ) بطور تشبیہ مرض کہاجاتا ہے ۔ یا تو اس لئے کہ اس قسم کے اخلاق کسب فضائل سے مائع بن جاتے ہیں ۔ جیسا کہ بیماری جسم کو کامل تصرف سے روک دیتی ہے ۔ اور یا اس لئے اخروی زندگی سے محرومی کا سبب بنتے ہیں ۔ جس قسم کی زندگی کا کہ آیت کریمہ : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 64] اور ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھتے ۔ میں ذکر پایا جاتا ہے ۔ اور یا رذائل کو اس چونکہ ایسے اخلاق بھی ایک طرح کا مرض ہی ہیں اس لئے قلب وصدر میں کینہ و کدورت پیدا ہونے کے لئے دوی صدر فلان وبخل قلبہ وغیر محاورات استعمال ہوتے ہیں ایک حدیث میں ہے : وای داء ادوء من ا لبخل اور بخل سے بڑھ کر کونسی بیماری ہوسکتی ہے ۔ اور شمس مریضۃ اس وقت کہتے ہیں جب گردہ غبار یا کسی اور عاضہ سے اس کی روشنی ماند پڑجائے ۔ امرض فلان فی قولہ کے معنی تعریض اور کنایہ سے بات کرنے کے ہیں ۔ المتریض تیمار داری کرنا ۔ اصل میں تمریض کے معنی مرض کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ۔ تقذبۃ کی طرح سے جس کے معنی آنکھ سے خاشاگ دور کرنا کے ہیں ۔ معْرُوفُ : اسمٌ لكلّ فعل يُعْرَفُ بالعقل أو الشّرع حسنه، والمنکر : ما ينكر بهما . قال : يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ آل عمران/ 104] ، وقال تعالی: وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ لقمان/ 17] ، وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفاً [ الأحزاب/ 32] ، ولهذا قيل للاقتصاد في الجود : مَعْرُوفٌ ، لمّا کان ذلک مستحسنا في العقول وبالشّرع . نحو : وَمَنْ كانَ فَقِيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 6] ، إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ [ النساء/ 114] ، وَلِلْمُطَلَّقاتِ مَتاعٌ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 241] ، أي : بالاقتصاد والإحسان، وقوله : فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ [ الطلاق/ 2] ، وقوله : قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ [ البقرة/ 263] ، أي : ردّ بالجمیل ودعاء خير من صدقة كذلك، والعُرْفُ : المَعْرُوفُ من الإحسان، وقال : وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ [ الأعراف/ 199] . وعُرْفُ الفرسِ والدّيك مَعْرُوفٌ ، وجاء القطا عُرْفاً. أي : متتابعة . قال تعالی: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] المعروف ہر اس قول یا فعل کا نام ہے جس کی خوبی عقل یا شریعت سے ثابت ہو اور منکر ہر اس بات کو کہاجائے گا جو عقل و شریعت کی رو سے بری سمجھی جائے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [ آل عمران/ 104] اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ۔ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفاً [ الأحزاب/ 32] اور دستور کے مطابق ان سے بات کیا کرو ۔ یہی وجہ ہے کہ جود ( سخاوت ) میں اعتدال اختیار کرنے کو بھی معروف کہاجاتا ہے کیونکہ اعتدال عقل و شریعت کے اعتبار سے قابل ستائش ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : وَمَنْ كانَ فَقِيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 6] اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر یعنی بقدر خدمت کچھ لے لے ۔ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ [ النساء/ 114] ہاں ( اس شخص کی مشاورت اچھی ہوسکتی ہے ) جو خیرات یا نیک بات ۔۔۔ کہے ۔ وَلِلْمُطَلَّقاتِ مَتاعٌ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 241] اور مطلقہ کو بھی دستور کے مطابق نان ونفقہ دینا چاہیے ۔ یعنی اعتدال اور احسان کے ساتھ ۔ نیز فرمایا : فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ [ الطلاق/ 2] تو یا تو ان کی اچھی طرح سے زوجیت میں رہنے دو اور اچھی طرح سے علیحدہ کردو ۔ قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ [ البقرة/ 263] نرم بات اور درگذر کرنا صدقہ سے بہتر ہے ۔ یعنی نرم جواب دے کر لوٹا دینا اور فقیر کے لئے دعا کرنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس پر احسان جتلایا جائے ۔ العرف : وہ نیک بات جس کی اچھائی کو سب تسلیم کرتے ہوں قرآن پاک میں ہے : وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ [ الأعراف/ 199] اور نیک کام کرنے کا حکم دو ۔ عرف الفرس گھوڑے کی ایال عرف الدیک : مرغی کی کلغی جاء القطاعرفا : قطار جانور آگے پیچھے یکے بعد دیگرے آئے اسی سے قرآن پاک میں ہے : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ہواؤں کی قسم جو متواتر چلتی ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

خواتین غیر محرموں سے لچکدار گفتگو نہ کریں قول باری ہے (فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض۔ تو تم گفتگو میں نزاکت اختیار نہ کرو کہ اس سے ایسے شخص کو خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے) ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مردوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ایسی لچک پیدا نہ کریں جو کسی بدقماش انسان کے لئے ان کے بارے میں کسی غلط آرزو کا سبب نہ بن جائے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ تمام مسلمان عورتوں کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ گفتگو میں ایسا نرم لہجہ اختیار نہ کریں جس کی بنا پر کوئی بدچلن انسان ان کے بارے میں کسی غلط آرزو کو اپنے دل میں جگہ دے کر ان کے اس نرم لہجہ کو اپنی طرف ان کے میلان کی دلیل بنالے۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ عورت کے لئے احسن طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی آواز اتنی بلند نہ کرے کہ وہ اجنبی مردوں کے کانوں تک پہنچ جائے۔ اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ عورت کو اذان دینے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد باری ہے (ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن اور عورتیں اپنے پیر، زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے) جب عورت کو پازیب کی جھنکار کی آواز اجنبی مردوں کو سنانے سے روک دیا گیا ہے تو خود اس کی آواز ، خاص طور پر جب کہ وہ جوان ہو اور اس کی وجہ سے فتنے کا خطرہ ہو، اس نہی کی زیادہ حقدار ہوگی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے نبی کی بیویو تم فرمانبرداری و گناہ اور ثواب و سزا میں معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تو بولنے میں نزاکت و نرمی مت کیا کرو کہ اس سے خرابی والے کو خیال فاسد ہونے لگتا ہے اور صحیح صحیح بات کہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ { یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ } ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویو ! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو “ مراد یہ ہے کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں ہونے کی حیثیت سے تمہیں تا قیام قیامت امت کی خواتین کے لیے اسوہ بننا ہے۔ آئندہ آیات میں ازواجِ مطہرات (رض) کو پردے سے متعلق خصوصی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے : { اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ } ” اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو “ جیسا کہ قبل ازیں بیان ہوچکا ہے ‘ ان آیات کے نزول کے وقت عربوں کے رواج کے مطابق غیر مرد ایک دوسرے کے گھروں میں بےدھڑک آتے جاتے تھے اور گھر کی عورتوں سے بلا روک ٹوک گفتگو بھی کرتے تھے۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اگر کسی مرد سے تمہیں براہ راست کبھی کوئی بات کرنی پڑے تو تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ تمہاری آواز میں کسی قسم کی نزاکت ‘ نرمی یا چاشنی کا شائبہ تک نہ ہو۔ { فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ} ” کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑجائے “ ظاہر ہے کہ منافق بھی اسی معاشرے میں موجود تھے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ حضرت عائشہ (رض) پر بہتان تراشی کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے جس کی تفصیل ہم سورة النور میں پڑھ چکے ہیں۔ چناچہ پہلے اقدام کے طور پر یہاں غیر محرم َمردوں سے بات چیت میں احتیاط کا حکم دیا گیا ہے ‘ کیونکہ مخاطب خاتون کی آواز میں نرمی اور لوچ محسوس کرکے گندی ذہنیت کے حامل کسی شخص کے دل میں کوئی منفی آرزو پیدا ہوسکتی ہے اور وہ بات آگے بڑھانے کی کوشش کا سوچ سکتا ہے۔ { وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا } ” اور بات کرو معروف انداز میں۔ “ اندازِ گفتگو میں نہ نرمی و نزاکت کی جھلک ہو اور نہ ہی ترشی و تلخی کا رنگ ‘ بس معقول اور معروف انداز میں صرف ضرورت کی بات چیت ہونی چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46 The verses from here to the end of the paragraph are those with which the Commandments of Purdah were introduced in Islam. In these verses though the wives of the Holy Prophet only have been addressed, the intention is to enforce reforms in aII the Muslim houses. The object of addressing the Holy Prophet's wives particularly is that when a pure way of life will start from his house, it will be followed by the women of all other Muslim houses as well, because this house was looked upon by the Muslims as a model to follow. Some people, whcn they see that these verses have been addressed only to the wives of the Holy Prophet, assert that these Commandments were only meant for them. But when one reads what follows in these verses one feels that there is nothing which might have been meant particularly for the holy wives and not for the other Muslim women. Could Allah have intended only this that the holy wives alone should be fret from uncleanliness and they alone should obey Allah and His Prophet and they alone should offer the Salat and pay the Zakat? If this could not be the intention, then how could the Command for them to stay in their houses and avoid displaying the fineries and abstain from talking to the other men in an alluring voice be meant particularly for them to the exclusion of all other Muslim women? Is there any rational proof on the basis of which some Commands in one and the same context and series be regarded as general and some others as particular and special? As for the sentence, °You are not like the other women," it also dces not mean that the other women should come out in full make-up and should talk to the other men coquettishly and flirt with them, but "as for you, you should not adopt such a conduct. " The style, to the contrary, is such as if a gentleman would tell his child, `You are not like the common children of the street: you should not use abusive language." From this no sensible person would ever conclude that the speaker regarded only his own child using abusive language as bad; as for others he would not mind if they used abusive language. 47 That is, "There is no harm if the other man is spoken to in case of a genuine need, but on such an occasion the woman's tone and manner of speech should be such as does not let the other man think that he could cherish any false hope from her. There should be no undue softness in her tone, no allurement in her conversation, no consciously affected mellowness in her voice, which should excite the male hearer's emotions and encourage him to make advances. About such a manner of speech Allah clearly says that this dces not behove a woman who has any fear of God in her heart and desire to avoid evil. In other words, this is the way and manner of the wicked and unchaste woman's speech and not of the believing pious woman's speech: If this verse is read together with verse 31 of Surah An-Nur, in which Allah says: "They should not stamp the ground in walking Iest their hidden decoration is revealed," the intention of the Lord clearly seems to be that the wvmcn should not attract other men by their voice or the jingle of their ornaments unnecessarily and if at all they have to speak to the other men, they should speak to them in an un-affected tone and manner. That is why it is forbidden for the woman to pronounce the call to the Prayer. Moreover, if a woman is attending a congregational Prayer and the Imam commits a mistake, she is not permitted to say Subhan-Allah like the males but should only tap her hands to call the imam's attention to the error. Now just consider this: When Islam disallows the woman to talk to other men in a soft and sweet tone and even forbids her to produce her voice before the other men without a genuine need, will it approve her to appear on the stage and sing, dance, flirt and behave coquettishly? Will it permit her to sing love songs over the radio and excite the people's emotions by presenting sweet melodies full of obscene themes? Will it permit that she should play the roles of the wives and sweet-hearts of others in dramas? Or that the women should be made the airhostesses and be especially trained to charm and allure the passengers? Or that they should visit clubs and attend social functions and gatherings in full make-up and mix freely with men and have fun and a good time with them ?From which Qur'an has this culture been derived? For the Qur'an that was sent down by God there is to be found no hint as to the admissibility of this sort of culture.

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :46 یہاں سے آخر پیراگراف تک کی آیات وہ ہیں جن سے اسلام میں پردے کے احکام کا آغاز ہوا ہے ۔ ان آیات میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے کیا گیا ہے مگر مقصود تمام مسلمان گھروں میں ان اصلاحات کو نافذ کرنا ہے ۔ ازواج مطہرات کو مخاطب کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے اس پاکیزہ طرز زندگی کی ابتدا ہوگی تو باقی سارے مسلمان گھرانوں کی خواتین خود اس کی تقلید کریں گی ، کیونکہ یہی گھر ان کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا ۔ بعض لوگ صرف اس بنیاد پر کہ ان آیات کا خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہے ، یہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ یہ احکام انہی کے لیے خاص ہیں ۔ لیکن آگے ان آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اسے پڑھ کر دیکھ لیجئے ۔ کونسی بات ایسی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے خاص ہو اور باقی مسلمان عورتوں کے لیے مطلوب نہ ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کا منشا یہی ہو سکتا تھا کہ صرف ازواج مطہرات ہی گندگی سے پاک ہوں ، اور وہی اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں ، اور وہی نمازیں پڑھیں اور زکوٰۃ دیں ؟ اگر یہ منشا نہیں ہو سکتا تو پھر گھروں میں چین سے بیٹھے اور تبرُّج جاہلیت سے پرہیز کرنے اور غیر مردوں کے ساتھ دبی زبان سے بات نہ کرنے کا حکم ان کے لیے کیسے خاص ہو سکتا ہے اور باقی مسلمان عورتیں اس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتی ہیں ؟ کیا کوئی معقول دلیل ایسی ہے جس کی بنا پر ایک ہی سلسلۂ کلام کے مجموعی احکام میں سے بعض کو عام اور بعض کو خاص قرار دیا جائے ؟ رہا یہ فقرہ کہ تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو تو اس سے بھی یہ مطلب نہیں نکلتا کہ عام عورتوں کو تو بن ٹھن کر نکلنا چاہیے اور غیر مردوں سے خوب لگاوٹ کی باتیں کرنی چاہییں ‘ البتہ تم ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو ۔ بلکہ اس کے برعکس یہ طرز کلام کچھ اس طرح کا ہے جیسے ایک شریف آدمی اپنے بچے سے کہتا ہے کہ تمہیں گالی نہ بکنی چاہیے ۔ اس سے کوئی عقلمند آدمی بھی کہنے والے کا یہ مدعا اخذ نہ کرے گا کہ وہ صرف اپنے بچے کے لیے گالیاں بکنے کو برا سمجھتا ہے ، دوسرے بچوں میں یہ عیب موجود رہے تو اسے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :47 یعنی ضرورت پیش آنے پر کسی مرد سے بات کرنے میں مضائقہ نہیں ہے ، لیکن ایسے مواقع پر عورت کا لہجہ اور انداز گفتگو ایسا ہونا چاہیے جس سے بات کرنے والے مرد کے دل میں کبھی یہ خیال تک نہ گزر سکے کہ اس عورت سے کوئی اور توقع بھی قائم کی جا سکتی ہے ۔ اس کے لہجے میں کوئی لوچ نہ ہو ، اس کی باتوں میں کوئی لگاوٹ نہ ہو ، اس کی آواز میں دانستہ کوئی شیرینی گھلی ہوئی نہ ہو جو سننے والے مرد کے جذبات میں انگیخت پیدا کر دے اور اسے آگے قدم بڑھانے کی ہمت دلائے ۔ اس طرز گفتگو کے متعلق اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ یہ کسی ایسی عورت کو زیب نہیں دیتا جس کے دل میں خدا کا خوف اور بدی سے پرہیز کا جذبہ ہو ۔ دوسرے الفاظ میں یہ فاسقات و فاجرات کا طرز کلام ہے نہ کہ مومنات متقیات کا ۔ اس کے ساتھ اگر سُورۂ نور کی وہ آیت بھی دیکھی جائے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ ( اور زمین پر اس طرح پاؤں مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا علم لوگوں کو ہو ) تو رب العٰلمین کا صاف منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں خواہ مخواہ اپنی آواز یا اپنے زیوروں کی جھنکار غیر مردوں کو نہ سنائیں اور اگر بضرورت اجنبیوں سے بولنا پڑ جائے تو پوری احتیاط کے ساتھ بات کریں ۔ اسی بنا پر عورت کے لیے اذان دینا ممنوع ہے ۔ نیز اگر نماز با جماعت میں کوئی عورت موجود ہو اور امام کوئی غلطی کرے تو مرد کی طرح سبحان اللہ کہنے کی اسے اجازت نہیں ہے بلکہ اس کو صرف ہاتھ پر ہاتھ مار کر آواز پیدا کرنی چاہیے تاکہ امام متنبہ ہو جائے ۔ اب یہ ذرا سوچنے کی بات ہے کہ جو دین عورت کو غیر مرد سے بات کرتے ہوئے بھی لوچ دار انداز گفتگو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اسے مردوں کے سامنے بلا ضرورت آواز نکالنے سے بھی روکتا ہے ، کیا وہ کبھی اس کو پسند کر سکتا ہے کہ عورت اسٹیج پر آ کر گائے ناچے ، تھرکے ، بھاؤ بتائے اور ناز و نخرے دکھائے ؟ کیا وہ اس کی اجازت دے سکتا ہے کہ ریڈیو پر عورت عاشقانہ گیت گائے اور سریلے نغموں کے ساتھ فحش مضامین سنا سنا کر لوگوں کے جذبات میں آگ لگائے ؟ کیا وہ اسے جائز رکھ سکتا ہے کہ عورتیں ڈراموں میں کبھی کسی کی بیوی اور کبھی کسی کی معشوقہ کا پارٹ ادا کریں ؟ یا ہوائی میزبان ( Air-hostess ) بنائی جائیں اور انہیں خاص طور پر مسافروں کا دل لبھانے کی تربیت دے جائے ؟ یا کلبوں اور اجتماعی تقریبات اور مخلوط مجالس میں بن ٹھن کر آئیں اور مردوں سے خوب گھل مل کر بات چیت اور ہنسی مذاق کریں ؟ یہ کلچر آخر کس قرآن سے برآمد کی گئی ہے ؟ خدا کا نازل کردہ قرآن تو سب کے سامنے ہے ۔ اس میں کہیں اس کلچر کی گنجائش نظر آتی ہو تو اس مقام کی نشان دہی کر دی جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

24: یعنی ازواجِ مطہراتؓ کا مقام عام عورتوں سے بلند ہے، اس لئے اگر وہ تقویٰ اختیار کریں گی تو انہیں ثواب بھی دوگنا ملے گا، اور کوئی گناہ کریں گی تو اُس کا عذاب بھی دوگنا ہوگا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو پیغمبر کے ساتھ جتنا قرب ہو، اُسے اپنے عمل میں اُتنا ہی محتاط ہونا چاہئے۔ 25: اِس آیت نے خواتین کو غیر محرم مردوں سے بات کرنے کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ اس میں جان بوجھ کر نزاکت اور کشش پیدا نہیں کرنی چاہئے، البتہ اپنی بات کسی بد اخلاقی کے بغیر پھیکے انداز میں کہہ دینی چاہئے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب عام گفتگو میں بھی خواتین کو یہ ہدایت کی گئی ہے تو غیر مردوں کے سامنے ترنّم کے ساتھ اشعار پڑھنا یا گنا کتنا برا ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:32) ینساء النبی۔ یا حرف ندا نساء النبی مضاف مضاف الیہ مل کر منادیٰ ۔ لستن ماضی جمع مؤنث حاضر۔ لیس سے۔ تم نہیں ہو۔ لیس فعل ناقص ہے ماضی کا معنی رکھتا ہے ماضی کی پوری گردان بھی آتی ہے لیکن مضارع امر، اسم فاعل، اسم مفعول اس سے مشتق نہیں ہوتے۔ اس لئے غیر منصرف کہلاتا ہے۔ دوسرے افعال ناقصہ کی طرح اس کا اسم بھی مرفوع اور خبر منصوب آتی ہے۔ کا حد من السماء ، عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح ای لیس کل واحد منکن کشخص واحد من نساء عصرکن تم میں سے کوئی ایک اپنے وقت کی عورتوں میں سے کسی ایک کی مانند نہیں ہے (یعنی تم ان سے افضل ہو بوجہ شرف زوجیت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) ۔ ان اتقین، ان حرف شرط ہے اتقیتن ماجی جمع مؤنث حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ اگر تم سب پرہیزگاری کرو۔ اگر تم سب ڈرتی رہو۔ فلا تخضعن بالقول۔ فاء سببیت کا ہے لا تخضعن فعل نہی جمع مؤنث حاضر۔ پس تم نرمی اختیار مت کرو۔ تم ملائمت نہ کرو۔ خضوع مصدر (باب فتح) نرمی کرنا۔ تواضع اختیار کرنا یہاں مراد بات چیت میں ملائمت اختیار کرنا ہے ای ان استقبلتن احدا من الرجال فلا تخضعن۔ اگر تم کسی آدمی سے دوچار ہو تو کلام میں نرمی اختیار مت کرو۔ (ف) ان اتقیتن جملہ شرطیہ ہے اس کی مندرجہ دو صورتیں ہیں۔ (١) لستن کا حد من النساء جواب شرط ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا : اگر تم نے پرہیزگاری اختیار کی تو تم دوسری عورتوں میں سے کسی دوسری عورت کی مانند نہیں ہو (یعنی اس صورت میں تم اس سے افضل ہوگی) ۔ یا (2) اس جملہ شرطیہ کا جواب : فلا تخضعن ہے ای ان اردتن التقوی فلا تخضعن یعنی اگر تم پرہیزگاری اختیاری کرنا چاہو تو پھر (کلام میں) ملائمت اختیار مت کرو۔ فیطمع ف تعقیب یا سببیت کا ہے یطمع مضارع واحد مذکر غائب طمع مصدر (باب فتح) مضارع کا نصب بوجہ جواب نہی کے ہے۔ (مبادا) وہ طمع کرنے لگے۔ لالچ کرنے لگے۔ ضمیر فاعل کا مرجع الذی فی قلبہ مرض وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے۔ قلن۔ فعل امر جمع مؤنث حاضر۔ قول مصدر (باب نصر) تم بات کرو، تم کلام کرو۔ قولا معروفا۔ القول المعروف الذی لا تنکوہ الشریعۃ ولا النفوس : قول معروف وہ ہے کہ نہ شریعت ناپسند کرے اور نہ لوگوں کی دل آزاری کا باعث ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 بلکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج (رض) ہونے کی وجہ سے تمہارا درجہ اور مرتبہ سب سے بلند ہے اور بقیہ عورتوں کیلئے تمہاری حیثیت ایک نمونہ کی ہے۔ اس آیت سے بعض علمائے تفسیر (رح) نے استدلال کیا ہے کہ ” ازواج مطہرات “ سب عورتوں سے افضل ہیں۔ حتیٰ کہ آسیہ ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) پر بھی ان کو فضلیت حاصل ہے۔ ( دیکھئے سورة آل عمران 42) (قرطبی) ۔4 یعنی لہجہ میں کوئی لوچ اور دانستہ طور پر اختیار کی ہوئی شیرینی نہ ہو بلکہ غیر معمولی درشتی اور خشونت ہونی چاہیے اور آواز بھی ضرورت سے زیادہ بلند نہ ہو۔ ( قرطبی)5 کہ یہ عورت میری طرف مائل و متوجہ ہوسکتی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی نری نسبت بلا تقوی ہیچ ہے۔ 6۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے عورتوں کے کلام کا فطری انداز ہوتا ہے کلام میں نرمی ہوتی ہے، سادی مزاجی سے اس انداز کو مت برتو، بلکہ ایسے موقع پر تکلف اور اہتمام سے اس فطری انداز کو بدل کر گفتگو کرو، یعنی ایسے انداز سے جس میں خشکی اور روکھا پن ہو کر یہ حافظ عفت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بےحیائی سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عورت غیر محرم سے بات کرتے ہوئے اپنی زبان میں کسی حد تک بےاعتنائی کا اظہار کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام اخلاق اور اچھی گفتگو کرنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن عورت کا غیر محرم کے ساتھ اخلاق یہ ہے کہ وہ اس سے بات کرتے ہوئے اپنی زبان میں نسبتاً بیگانگی کا اظہار کرے تاکہ جس شخص کے دل میں بےحیائی کا کچھ مرض ہے وہ غلط توقعات وابستہ نہ کر بیٹھے۔ تاہم اس ہدایت کا یہ معنٰی نہیں کہ عورت غیرمحرم سے بات کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کرے یا ایسا انداز اختیار کرے جس میں بد خلقی پائی جائے اس کی اجازت نہیں ہے۔ مسلمان عورتوں کو بےحیائی سے بچانے اور مسئلہ کی اہمیت جتلانے کے لیے امہات المؤمنین کو مخاطب کیا گیا ہے۔ تاکہ مسلمان بیٹیوں کو احساس ہو کہ اہم ضرورت کے وقت ہم نے غیر محرم سے کس طرح بات کرنی ہے۔ عورتوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ کیونکہ عورت بازا رحسن یا مارکیٹ کا مال نہیں بلکہ گھر کی محافظ، وقار اور ملکہ ہے۔ اگر عورت صحیح معنوں میں گھر کی ذمہ داری نبھائے تو اسے سخت مجبوری کے سوا گھر سے نکلنے کی فرصت کہاں ملتی ہے۔ پابندی کا یہ مطلب نہیں کہ عورت رشتہ داروں اور اپنی سہیلیوں کے ہاں نہیں جاسکتی یا مجبوری کے تحت کوئی کاروبار نہیں کرسکتی۔ قرآن مجید عورت پر ضرورت کے تحت گھر سے باہرنکلنے پر پابندی نہیں لگاتا بلکہ پابندی اس بات پر ہے کہ جب گھر سے نکلنا پڑے تو حسن و جمال کی نمائش کرتے ہوئے نہ نکلے جسے قرآن مجید نے دورجاہلیت کا نکلنا قرار دیا ہے۔ حدیث شریف میں عورت کو یہاں تک ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ باجماعت نماز ادا کر رہی ہو تو امام کے بھولنے کی صورت میں کوئی مرد لقمہ نہ دے پائے تو عورت لقمہ دینے کی بجائے اپنے الٹے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر امام کو اس کی غلطی سے متنبہ کرے۔ (رواہ البخاری : باب التصفیق للنساء) اس سے اندازہ فرمائیں کہ دین غیر محرم عورت اور مرد کے اختلاط کو کس قدر ناپسند کرتا ہے۔ چہ جائیکہ عورت ٹیوی، ریڈیو، کیبل اور اخبارات میں آکر پورے ناز نخرے کے ساتھ لوگوں کے سامنے اپنے انگ انگ کی نمائش کرے۔ قرآن مجید کی ہدایت ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں باوقار طریقے کے ساتھ رہیں جس کے لیے ” وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کا معنٰی قرار اور وقار کیا گیا ہے۔ یعنی اپنے گھر میں قرار پکڑو اور وقار کے ساتھ رہو اور نماز پڑھو، زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اسکے رسول کی تابعداری میں لگی رہو۔ ” تَبَرُّجْ “ کا معنی بےپردگی اور خوبصورتی کا اظہار کرنا ہے۔ اسی طرح ” تَبَرُّجْ “ کا معنٰی ابھار اور نمایاں ہونا بھی ہے۔ آسمانی برج کو بھی اسی لیے برج کہا جاتا ہے۔ کہ وہ حدِّنگاہ سے اوپر ہوتے ہیں۔ اہل لغت اور اہل تفسیر نے ” تَبَرُّجْ ‘ کا معنٰی عورت کا اپنے حسن و جمال کو نمایاں کرنا لکھا ہے۔ بالفاظ دیگر اپنے حسن و جمال کو چھپانے کی بجائے لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں جہالت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ (البقرۃ : ٦٧) عورت کے اس فعل کو جاہلیت قرار دیا گیا ہے۔ یعنی وہ جہالت جو اسلام سے پہلے عربوں میں موجود تھی۔ (اَنَّ أَبَا مَالِکِ الأَشْعَرِیِّ حَدَّثَہُ أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أَرْبَعٌ فِی أُمَّتِی مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ لاَ یَتْرُکُونَہُنَّ الْفَخْرُ فِی الأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِی الأَنْسَابِ وَالاِسْتِسْقَاء بالنُّجُومِ وَالنِّیَاحَۃُ )[ رواہ مسلم : باب التَّشْدِیدِ فِی النِّیَاحَۃِ ] ” ابو مالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کے لوگ جاہلیت کی چار عادات کو نہیں چھوڑیں گے۔ حسب ونسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا۔ “ اہل بیت اور ان کا مقام پاکستان میں شیعہ اور بریلوی حضرات فکر وعمل کے اعتبار سے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں اس لیے مولانا پیر کرم شاہ صاحب بریلوی کی تفسیر سے من وعن اقتباس تحریر کیا جاتا ہے : اس آیت کا سیاق وسباق دیکھنے کے بعد یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آیت کے اس جملہ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ ) میں بھی وہی مخاطب ہیں جن سے پہلے اور بعد میں خطاب ہورہا ہے۔ اور وہ ازواج مطہرات ہیں اور اہل بیت سے بھی ازواج مراد ہیں۔ فرقہ وارانہ تعصّب سے بلند اور خالی الذّہن ہو کر اگر ان آیات کا مطالعہ کیا جائے تو ان آیات کا یہی مفہوم ہے جو بلا تکلّف سمجھ آتا ہے یعنی خدا نہ بھلا کرے فرقہ ورانہ تعصّبات کا کہ وہ حق فہمی کی راہ میں پہاڑ بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ شیعہ حضرات کو اس بات پر اصرار ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات داخل نہیں۔ اس سے مراد فقط حضرات خمسہ ہیں یعنی امام المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت سیّدہ فاطمہ طاہرہ اور حضرت حسنین کریمین (رض) اپنے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے جو دلائل انہوں نے پیش کیے ہیں وہ پیش خدمت ہیں۔ انہیں پڑھیے ! سنجیدگی سے ان پر غور کیجیے اور ازروئے انصاف یہ فیصلہ کیجیے کہ راہ حق سے کون بہک گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : 1 اس جملہ میں ضمیریں مذکر ذکر کی گئی ہیں ” عَنْکُمُ “ اور ” یُطَھِّرَکُمْ “ اگر ان کا مرجع ازواج مطہرات ہوتیں تو مؤنث کی ضمیریں ذکر کی جاتیں۔ ” عَنْکُمُ “ کی بجائے ’ عَنْکُنَّ “ آجاتا اور ” یُطَھِّرَکُمْ “ کی بجائے ” یُطَہِّرُکُنَّ “ ہوتا۔ 2 آیت کے اس حصہ میں ” بَیْتِ “ واحد مذکور ہے۔ یہ چیز ازواج کی نفی کرتی ہے کیونکہ جہاں ان کے گھروں کا ذکر ہے وہاں بیت کی جمع بیوت مذکور ہے۔ جیسے ” وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ اور ” وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ ہیں۔ 3 اس سلسہ میں جو بڑی وزنی بات انہوں نے کہی ہے کہ ” اِنَّمَا “ حصر کے لیے آتا ہے یعنی جو چیز اس کے بعد مذکور ہے اس کے لیے یہ فعل ثابت ہے اور جو مذکور نہیں اس سے یہ فعل منفی ہے۔ نیز ارادہ کی دو قسمیں ہیں وہ ارادہ جس کی مراد کا پایا جانا یا نہ پایا جانا مستلزم نہیں، دوسرا وہ ارادہ جس کے ساتھ مراد کا پایا جانا ضروری ہے یعنی ایسا ارادہ جس پر ” تَطْہِیْرًا “ اور ” اذھاب رجس “ ضرور مرتب ہوگا۔ اس مقام پر ارادہ ” محصّنہ “ نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا ارادہ تو ہر مومن کے لیے ہے کہ وہ ہر ناپاکی سے منزّہ ہو، ظاہری اور باطنی نجاستوں سے اس کا دامن حیات پاک ہو۔ اہل بیت کی اس میں کوئی خصوصیت نہیں۔ حالانکہ یہ مقام مدح اہل بیت کا ہے۔ یہاں تو کسی ایسی چیز کا ذکر ہونا چاہیے جو ان کے ساتھ مخصوص ہو اور وہ ارادہ کا دوسرا معنٰی ہے جس سے ان حضرات کی عصمت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ازواج مطہرات کی عصمت کا کوئی بھی قائل نہیں۔ یہاں وہی لوگ مراد ہوں گے جن کی عصمت ثابت ہے اور وہ حضرات خمسہ ہیں۔ اس لیے ثابت ہوا کہ یہاں اہل بیت سے مراد ازواج نہیں ہیں۔ امید ہے کہ یہ دلیل پیچ در پیچ آپ نے سمجھ لی ہوگی۔ 4 کتب اہل سنت میں بھی ایسی احادیث بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد ازواج نہیں بلکہ حضرات خمسہ ہیں۔ شیخ الطائفہ طوسی نے التبیان میں اور شیخ طبرسی نے مجمع البیان میں اور اسی فرقہ کے دوسرے مفسرین نے اپنی تفاسیر میں یہی دلائل پیش کیے ہیں۔ آئیے ! ان دلائل کا بنظر انصاف جائزہ لیں۔ ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اگر ازواج مراد ہوتیں تو ضمیریں مؤنث کی ذکر کی جاتیں۔ اس لیے گزارش ہے کہ آیت کے اس حصّہ میں اہل بیتکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ مذکر ہے اگرچہ معنٰی مؤنث ہے اور عربی زبان میں بسا اوقات معنٰی کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ صرف لفظ کے مطابق ضمیر ذکر کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ سورة ہود کی آیت ٧١، ٧٢، ٧٣ ملاحظہ فرمائیے ! جہاں فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ پاس ہی حضرت سارہ [ کھڑی ہیں۔ آپ وفود مسرّت سے ہنس پڑی ہیں۔ ساتھ ہی اظہار تعجب کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔ (یٰوَیْلَتٰٓی ءَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ ھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًااِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ) یعنی میں بوڑھی اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہے کیا میرے ہاں بچہ پیدا ہوگا ؟ یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ فرشتے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں (قَالُوْٓا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ) اے حضرت خلیل (علیہ السلام) کی رفیقہ حیات ! کیا تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر تعجب کررہی ہو۔ اے اہل بیت ! تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔” تَعْجَبِیْنَ “ مؤنث کا صیغہ ہے لیکن بعد میں اہل بیت کے لفظ کے پیش نظر ” عَلَیْکُمْ “ میں مذکر کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں اسی صفحہ کی پہلی آیت میں ” مَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ “ پر غور کیجیے۔” یَّقْنُتْ “ مذکر کا صیغہ ہے لیکن بلا اختلاف اس سے مراد ازواج ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ” مَنْ تَّقْنُتْ “ ہوتا لیکن ” مَنْ “ کے لفظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ” یَّقْنُتْ “ فرمایا گیا۔ اس لیے شیعہ حضرات کا یہ استدلال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ دوسری دلیل کے بارے میں عرض ہے کہ ازواج مطہرات کے حجروں کی دو حیثیتیں ہیں ایک حیثیت تو یہ ہے کہ امّہات المومنین کی قیام گاہیں ہیں۔ دوسری حیثیت یہ ہے کہ ان حجروں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات اقامت گزیں ہیں۔ جب ان حجروں کا ذکر ازواج کی قیام گاہوں سے ہو تو انہیں جمع ذکر کیا جاتا اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسبت سے ہو تو واحد ” وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ میں ہر زوجہ محترمہ کو حکم ہے کہ وہ اپنے اپنے حجرہ میں ٹھہرے۔ اسی طرح ” مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ میں بھی ہر بی بی کا حجرہ مراد ہے۔ کیونکہ وحی کا نزول مختلف حجرات میں ہوتا تھا۔ لیکن اہل البیت میں ” بَیْتِ “ سے مراد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیام گاہ ہے اس لیے اس کو واحد ذکر کیا گیا۔ تیسرا استدلال بھی بڑا انوکھا ہے۔ آپ کی دلیل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ مقام مدح اہل بیت ہے۔ حالانکہ یہ مقام مقام مدح نہیں بلکہ مقام موعظت و ارشاد ہے۔ جو باتیں اور جو خوبیاں اہل بیت کو اپنانی چاہئیں اور جس ضابطہ حیات کی انہیں پابندی کرنا چاہیے اس کا تفصیلی ذکر ہور ہا ہے اس لیے اس دلیل کی بنیاد ہی درست نہیں۔ نیزعصمت انبیاء کا عقیدہ تو متفقہ عقیدہ ہے۔ لیکن دوسرے حضرات کی عصمت آپ کا اپنا مفروضہ ہے۔ اس پر دلیل کی عمارت کیسے تعمیر کی جاسکتی ہے۔ نیز اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہاں سے عدم عصمت ثابت ہوتی ہے ورنہ تحصیل لاحاصل لازم آئے گی۔ یعنی جو ہستیاں پہلے ہی معصوم اور ہر طرح کے رجس سے منزّہ اور مبرّہ ہیں ان کے متعلق یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو پاک اور طاہر کرنا چاہتا ہے اس کا کوئی مطلب نہیں۔ اس کے علاوہ اگر اہل سنت کی عصمت کا ذکر ہی بطور مدح کرنا مقصود ہوتا تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی۔ ” اِنَّمَا اَرَاد اللّٰہُ اَذْھَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَطَہَّرَکُمْ تَطْھِیْرًا “۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ آیت اس طرح نہیں ہے۔ ان صاحبان نے چوتھی دلیل یہ پیش کی ہے کہ اہلسنت کی کتب میں بھی بکثرت ایسی احادیث ہیں جو اکابر صحابہ ابو سعیدخدری، انس بن مالک، واثلہ بن اسقع، امّ المومنین عائشہ اور امّ المومنین امّ سلمہ (رض) سے مروی ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد حضرات خمسہ ہیں اور ازواج اہل بیت میں داخل نہیں۔ اس کے متعلق گزارش ہے کہ وہ احادیث جن میں یہ مذکور ہے کہ یہ آیت فقط ان حضرات قدسی صفات کے حق میں نازل ہوئی۔ ان کے راوی مجروح اور ساقط الاعتبار ہیں۔ جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی جارہی ہے اور جن کے راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔ ان میں کوئی تخصیص مذکور نہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ امّہات المومنین اور یہ حضرات سب اہل بیت میں شامل ہیں اور یہی حق ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے۔ کچھ لوگوں نے اہل بیت کے لفظ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے لیے مخصوص کردیا ہے۔ حالانکہ حدیث کی روشنی میں اہل بیت میں ازواج مطہرات کے ساتھ حضرت علی، حضرت فاطمہ (رض) اور حضرت حسن و حسین (رض) بھی شامل ہیں۔ (عَنْ اُمِّ سَلْمَۃَ قَالَتْ فِیْ بَیْتِیْ اُنْزِلَتْ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا) قَالَتْ فَاَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلٰی فَاِطِمَۃَوَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ فَقَالَ ہٰؤُلٓاءِ اَہْلُ بَیْتِیْ قَالَتْ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا اَنَا مِنْ اَہْلِ الْبَیْتِ قَالَ بَلٰی اِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالٰی)[ رواہ البیھقی : باب الدلیل علی ان ازواجہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من اہل بیتہ فی الصلوۃ علیہن ] ” حضرت امّ سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ، حضرت علی اور حضرت حسن و حسین ] کو بلایا اور فرمایا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ حضرت امّ سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ تعالیٰ ! “ مخصوص نظریہ رکھنے والے ایک فرقہ کی ستم ظریفی مولانا مودودی کا ارشاد : مولانا مرحوم کی کتاب خلافت ملوکیت کے حوالے سے کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ مولانا صاحب کا رجحان اہل تشیع کی طرف ہے اس لیے ان کی تحریر پیش خدمت ہے۔ ایک گروہ نے اس آیت کی تفسیر میں صرف اتنا ہی ستم نہیں کیا کہ ازواج مطہرات کو ” اہل بیت “ سے خارج کرکے صرف حضرت علی، فاطمہ (رض) اور ان کی اولاد کے لیے اس لفظ کو خاص کردیا بلکہ اس پر مزید ستم یہ کیا کہ اس کے الفاظ ” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے “ سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ حضرت علی و فاطمہ (رض) اور ان کی اولاد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح معصوم ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ” رِجْسٌ“ سے مراد خطا اور گناہ ہے اور ارشاد الٰہی کی رو سے یہ ” اَہْلَ الْبَیْتِ “ اس سے پاک کردیئے گئے ہیں۔ حالانکہ آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ تم سے گندگی دور کردی گئی اور تم بالکل پاک کردیئے گئے بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور تمہیں پاک کردینا چاہتا ہے۔ سیا ق وسباق بھی ہی نہیں بتاتا کہ یہاں مناقب اہل بیت بیان کرنے مقصود ہیں بلکہ یہاں تو اہل بیت کو نصیحت کی گئی ہے کہ تم فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے۔ بالفاظ دیگر مطلب یہ ہے کہ تم فلاں رویّہ اختیار کروگے تو پاکیزگی کی نعمت تمہیں نصیب ہوگی ورنہ نہیں۔ تاہم اگر ” یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا “ کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ اللہ نے ان کو معصوم کردیا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وضو، غسل اور تیمم کرنے والے سب مسلمانوں کو معصوم نہ مان لیا جائے کیونکہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ “ ” مگر اللہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے (المائدۃ : ٦) (تفہیم القرآن : جلد ٤) مسائل ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کا مقام و مرتبہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی آوازوں میں جھکاؤ پیدا نہ کرو۔ ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو معقول بات کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو اپنی زیب وزینت ظاہر کرنے اور جاہلیت کے گمان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ٥۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو اخلاقی اطوار سمجھانے کے ساتھ نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو ان احکام پر عمل کرنے کا اس لیے حکم دیا تاکہ ان کو پاک کردے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو پاک کرتا ہے : ١۔ پاک وہی ہے جسے اللہ پاک کرے۔ (النساء : ٤٩) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود کے الزام سے پاک کیا۔ (الاحزاب : ٦٩) ٣۔ حضرت یوسف کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : ٣١) ٤۔ عیسیٰ نے گود میں اپنی والدہ کی پاکدامنی کا اعلان فرمایا۔ (مریم : ٣٠) ٥۔ اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (التوبۃ : ١٠٨) ٦۔ ہم نے اسے لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی اور اپنی جناب سے پاکیزگی اور شفقت عطا فرمائی تھی وہ پرہیزگار تھے اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے، سرکش اور نافرمان نہ تھے۔ (مریم : ١٢ تا ١٤) ٧۔ جس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا وہ فلاح پا گیا۔ (الاعلیٰ : ١٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ینساء النبی لستن ۔۔۔۔۔ ان اللہ کان لطیفا خبیرا (32 – 34) ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت عربی معاشرے میں ، تمام دوسرے جاہلی معاشروں کی طرح حالت یہ تھی کہ عورت کو سامان تعیش سمجھا جاتا تھا اور فقط شہوات وانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی نقطہ نظر سے اسے ایک گری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ نیز عربی معاشرے میں جنسی اعتبار سے بھی بڑی بےقاعدگی اور افراتفری پائی جاتی تھی اور نظام خاندانی میں ثبات نہ تھا جس طرح اس سورة میں ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ پھر جاہلیت کے زمانے میں عورت کی صنف کی طرف نہایت گری ہوئی نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ذوق جمال بھی نہایت گرا ہوا تھا۔ ننگے اجسام کی طرف زیادہ توجہ تھی اور اعلیٰ اور پاکیزہ ذوق جمال مفقود تھا۔ زمانہ جاہلیت کے اشعار کے اندر یہ خصوصیات اچھی طرح نظر آتی ہیں جو عورت کے جسم خصوصا عورتوں کے اندامہائے نہانی کے بارے میں تھیں اور پھر نہایت ہی عریاں افعال اور معانی سے متعلق اشعار سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ جب اسلام آیا تو اس نے عورت کو معاشرے میں ایک باعزت مقام دیا اور مرد اور عورت کے درمیان تعلق کے معاملے میں انسانی پہلو کو زیادہ اہمیت دی۔ کیونکہ مرد اور عورت کا تعلق محض جسمانی بھوک کو فرو کرنے ہی کا تعلق نہیں ہوتا اور نہ خون اور گوشت کے جوش کو ٹھنڈا کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ مرد اور عورت کا تعلق دراصل دو انسانی شخصیات کا اتصال ہے جن کو نفس واحد سے پیدا کیا گیا ہے اور ان کے درمیان محبت اور شفقت پیدا کی گئی ہے۔ ان کے ملاپ کی وجہ سے دونوں کو راحت اور سکون ملتا ہے اور دونوں کے ملاپ کا ایک ہدف مقرر ہے اور اس وقت سے مقرر ہے جب سے اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ پھر اس کا مقصد زمین کی آبادی ہے۔ اس میں انسان نے سنن الہیہ کے مطابق جو فرائض ادا کرنے ہیں ، ان کا ادا کرنا ہے۔ اسلام نے خاندانی تعلقات کو لیا اور خاندانی تعلقات کو اس طرح منظم کیا کہ اسلام کی اجتماعی تنظیم کے لیے اسے اساس بنایا اور پھر خاندان کو ایک ایسی نرسری قرار دیا جس کے اندر آیندہ نسلوں کے لیے پودے تیار ہوتے ہیں اور اس نرسری کی نشوونما اور ارتقا اور تربیت کے لیے تمام ضروریات فراہم کیں اور اسے بچانے ، پاک و صاف رکھنے کے انتطامات کیے ، خصوصاً نئی نسل کے شعور اور خیالات کو پاک و صاف رکھنے کے لیے۔ اسلام کے نظام قانون میں خاندانی نظام کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ قانون سازی کی گئی ہے اور قرآن کریم کی کئی آیات اس کے لیے مخصوص ہیں۔ قانونی اقدامات کے علاوہ بھی اسلام کے نظام اجتماعی کے اس ابتدائی یونٹ کو محفوظ کرنے کے لئے اسلام نے مسلسل ہدایات دی ہیں ، خصوصاً اس یونٹ کی روحانی تطہیر کے لیے اور اس میں دو اصناف کے جنسی تعلق کے زوایہ سے ، اس تعلق کو عریانی ، بےراہ روی سے پاک کیا گیا اور محض جسمانی ملاپ کے لیے بھی سخت ہدایات دی گئیں۔ اس سورة میں بھی اجتماعی تنظیم اور خاندانی نظام کی پختگی کے لیے آیات کا ایک بڑا حصہ وقف ہے۔ آیات زیر بحث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو خطاب ہے۔ ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تعلق ، ان کا لوگوں کے ساتھ تعلق ، ان کا اللہ کے ساتھ تعلق ، اور ان کے بارے میں اللہ کے ارادے کا ذکر کیا گیا ہے۔ انما یرید اللہ لذھب ۔۔۔۔۔ ویطھرکم تطھیرا (33: 33) (اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے “۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہی کہ وہ کون سے وسائل ہیں جن کے ذریعہ اللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور اہل بیت کیلئے ان کو لازمی قرار دیتے ہیں جبکہ ازواج مطہرات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں ہیں اور وہ اس زمین کی تمام عورتوں سے زیادہ پاک ہیں۔ ظاہر ہے کہ تمام دوسری عورتیں ان وسائل اور ان اقدامات کی بہت زیادہ محتاج ہیں۔ کیونکہ اگر ازواج مطہرات کو ان وسائل کی ضرورت تھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں رہتی تھیں تو دوسری بیویوں کو ان کے بدرجہ اتم ضرورت ہے۔ پہلا وسیلہ یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ تم نہایت ہی اونچے مرتبہ اور منصب اور مقام پر فائز ہوچکی ہو۔ تم تمام نساء عالم سے بلند مرتبہ ہو ، لہٰذا سب سے پہلے تم اپنے اس مقام بلند کا خیال رکھو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ینسآء النبی لستن کا حد من النکآء ان اتقیتن (33: 32) ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویو ، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو “۔ اگر تم خدا کا خوف کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہ رہو گی۔ تم تو ایسے مقام پر بیٹھی ہو جو قابل رشک ہے اس میں تمہارے ساتھ عام عورتیں شریک نہیں ہیں ، اور نہ تم اس میں کسی کو شریک کرتی ہو۔ لیکن یہ امتیاز تمہیں تقویٰ سے حاصل ہوگا کیونکہ محض نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قرابت داری کچھ چیز بھی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کے ساتھ اس قرابت داری کے تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے خود اپنے نفوس کے اندر۔ یہ وہ دو ٹوک سچائی ہے جس کے اوپر یہ دین قائم ہے۔ اس کا اعلان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رشتہ داروں کے سامنے کردیا کہ لوگو ، تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رشتہ داری کہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔ کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے معاملے میں کچھ اختیارات نہیں رکھتے۔ ” اے فاطمہ بنت محمد ! اے صفیہ بنت عبد المطلب ! اے اولاد عبد المطلب ! میں تمہارے حق میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ جہاں تک میرے مال کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے مانگ لو “۔ (مسلم) دوسری روایت میں ہے ” اے اہل قریش ، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے اولاد بنی کعب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ بنت محمد ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ! خدا کی قسم میں اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ ہاں میرے ساتھ تمہاری قرابت ہے اور اس کا حق میں ادا کرتا رہوں گا “۔ (مسلم ترمذی) جب ان کو ان کی منزلت اور مقام سے آگاہ کردیا گیا کہ اس مقام تک وہ صرف تقویٰ سے پہنچ سکتی ہیں تو اب اللہ تعالیٰ وہ ذرائع بیان فرماتے ہیں جن کے ذریعہ اللہ اہل بیت نبی کو مکمل طور پر پاک و صاف کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مکمل تطہیر پیش نظر ہے۔ فلا تحضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض (33: 32) “ تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ دل کی خرابی میں مبتلا کوئی شخص لالچ میں نہ پڑجائے “۔ اللہ ازواج مطہرات کو پہلا حکم یہ دیتے ہیں کہ جب ان کو غیر محرم لوگوں سے بات کرنا پڑے تو ان کی زبان میں وہ لچک نہیں ہونا چاہئے کہ جو نرم اور دبی زبان میں بات کریں تو سننے والے کے لیے شہوت انگیزی کا باعث ہو۔ کیونکہ بالعموم نرم باتوں سے مردوں کو اشتہا پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کے اندر تحریک ہوتی ہے اور بیمار دل اور کمزور اخلاق کے لوگ برے خیالات دلوں میں لاسکتے ہیں۔ ذرا یہاں غور کریں کہ وہ کون خواتین ہیں جن کو اللہ یہاں ڈرا رہا ہے۔ یہ ازواج مطہرات ہیں۔ امہات المومنین ہیں جن کے بارے میں کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ کوئی طمع کرسکتا ہے اور نہ کسی بیمار کی بیماری کا اثر ان پر پڑ سکتا ہے۔ بظاہر انسان یہی سوچ سکتا ہے۔ پھر یہ تنبیہ کس دور میں ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ، ان ممتاز اور برگزیدہ صحابہ کرم کے دور میں جن کے معیار کے لوگ نہ پہلے گزرے اور نہ بعد میں ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس خدا نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا وہ تو جانتا تھا کہ عورت اگر دبی اور نرم زبان میں نازو انداز سے بات کرے تو لوگوں کے دلوں میں غلط خیالات پیدا کرسکتی ہے اور دلوں میں فتنہ پیدا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً وہ دل جو پہلے سے مریض ہوں وہ تو فوراً اشتعال میں آسکتے ہیں اور یہ مریض دل ہر دور اور عہد میں موجود ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اور ایسے مریض ہر عورت کی طرف مائل ہو سکتے ہیں چاہے وہ نبی آخر الزمان کی زوجہ محترمہ ہو امہات المومنین میں سے ہو۔ کوئی ماحول اس وقت تک پاک اور صاف نہیں ہوسکتا جب تک گندگی کے اسباب کا سدباب نہ کیا جائے۔ اور ہم آج جس معاشرے میں رہتے ہیں ، اس کا حال کیا ہے ؟ یہ معاشرہ پہلے سے مریض ، ناپاک اور گرا ہوا ہے جس میں قدم قدم پر فتنے ہیں۔ ہر طرف شہوت انگیزیاں ہیں ، خواہشات پھڑ پھڑاتی پھرتی ہیں۔ اس ماحول میں ہمیں کیا کرنا چاہئے جس میں ہر طرف سے شہوت کو اٹھایا جاتا ہے ، جگایا جاتا ہے ، اور جنس کو گرم سے گرم تر کیا جاتا ہے۔ اس معاشرے اور اس زمانے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہمارا دور جس میں عورتوں کا لہجہ نہایت لوچ دار ، جن کی آواز نہایت ہی مائع ، نسوانیت کے تمام فتنے مجتمع کیے ہوئے ، جنسی کشش کے تمام فتنے پیدا کیے ہوئے ، نہایت ہی خوش الحافی اور فتنہ سامانی کے ساتھ ہر جگہ حاضر۔ ایسی عورتیں کہاں پاک ہیں اور پاکی کی فضا کہاں ہے۔ یہ تو اپنی حرکات ، اپنی آواز اور اپنی عریانی کے ذریعہ ان تمام گندگیوں میں ملوث ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات کو پاک کرنا چاہتے ہیں اور جس سے اللہ اپنے مختار بندوں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں عریانی اور اختلاط کس قدر خطرناک ہے ! وقلن قولا معروفا (33: 32) ” بلکہ صاف سیدھی بات کرو “۔ پہلے ان کو نرم اور لوچدار آواز سے منع کیا گیا اور اب یہاں کہا گیا کہ وہ سیدھی سادی بات کریں معروف طریقے کے مطابق۔ جس طرح عام طور پر ایک اجنبی مرد اور اجنبی عورت ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ ان باتوں میں کوئی منکر بات نہ ہو۔ بعض اوقات نرم لہجے سے زیادہ موضوع گفتگو بھی بےراہ روی پر آمادہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا کسی اجنبی مرد اور عورت کے درمیان لب و لہجے کا اشارہ بھی نہ ہو۔ نہ ان کے درمیان گپ شپ ہو ، نہ مزاح اور غیر سنجیدہ گفتگو ہو ، تاکہ اس کے نتیجے میں کچھ دوسرے امور کی طرف میلان نہ ہو ، اور قریباً یا بعید ! لوگ غلط راستوں پر نہ پڑجائیں۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور اپنی مخلوق کے مزاج اور طبیعت کے بارے میں بہت ہی اچھا جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو امہات المومنین کو یوں مخاطب کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے دور کے اجنبی لوگوں کے ساتھ اس انداز میں گفتگو کریں جبکہ وہ خیر القرون تھا۔ وقرن فی بیوتکن (33: 33) ” اور اپنے گھروں میں وقار سے رہو “۔ قرن ، وقریقر سے ہے معنی ہیں بھاری ہوا ، اپنی جگہ پر ٹھہر گیا۔ اس کے لغوی معنی یہ نہیں کہ گھروں کے اندر بندر ہیں اور گھروں سے باہر ہی نہ نکلیں۔ یہ ایک لطیف اشارہ ہے اس طرح کی عورت کی اصل جگہ اسکا گھر ہے۔ یہ ان کا مقر ہے اور اس کے سوا وہ اگر کہیں پائی جائیں تو وہ عارضی حالت ہوگی اور استثنائی صورت ہوگی۔ اس پر وہ قائم و دائم نہیں رہیں گی۔ باہر محض ضرورت سے نکلنا ہوگا۔ بیت اور گھر عورت کا وہ مستقر اور جائے آرام ہے جو اللہ نے اس کے لیے ازروئے تخلیق و فطرت پسند فرمایا ہے۔ جس میں وہ اپنی فطرت سے منحرف نہیں رہتی ، غلط کاریوں میں ملوث نہیں ہوتی اور جہاں وہ ان مشقت آمیز فرائض میں نہیں جتی ہوتی ازروئے فطرت اس کے لیے تیار نہیں کیے۔ جہاں وہ اس کام میں لگی ہوتی ہے جس کے لیے دراصل اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ ” اس لیے کہ اسلام گھر کے لیے ایک مخصوص فضا مہیا کر دے اور تاکہ بچوں کی پرورش اس فضا میں خوب سے خوب تر ہو سکے۔ اللہ نے مرد پر بیوی کا نفقہ لازم کیا ، اور اسے لازمی قرار دیا تاکہ ماں کو معاشی جدوجہد نہ کرنا پڑے اور اسے محنت و مزدوری میں وقت نہ لگانا پڑے ، وہ پوری طرح مطمئن ہو کر بچوں کی تربیت کرسکے اور گھر کے نظام اور سخاوت اور خوشی کو دوبالا کرسکے۔ وہ عورت جو محنت کرکے تھکی ہاری ہوئی ہوتی ہے ، جسے اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں اور جس کے اوقات اور مصروفیات بیرون خا نہ ہوں اور اس کی قوتیں وہاں خرچ ہوتی ہوں ، اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ گھر کو خوشیاں دے سکے۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ ناتواں بچوں کی پوری تربیت کرسکے۔ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں ، ان کے گھر ، ہوٹل اور بیکریوں سے زیادہ کوئی مقام نہیں رکھتے۔ ان کے اندر وہ کشش نہیں ہوتی جو گھر میں ہوتی ہے۔ حقیقی گھر تو وہ ہوتا ہے جس کی تخلیق ایک گھریلو عورت کرتی ہے اور گھر کی کشش بھی وہی ہوتی ہے جس کا منبع ایک اچھی بیوی ہو۔ گھر کی محبت کا سرچشمہ ماں ہوتی ہے۔ وہ بیوی ، وہ ماں یا وہ عورت جو اپنا وقت ملازمت میں گزارتی ہے وہ گھر کو تنگی اور حزن و ملال کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتی “۔ (اسلام اور عالمی سلامتی) ” عورت کا گھر سے نکلنا کسی گھرانے کے لئے بہت ہی بڑا حادثہ ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کی حقیقی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن اگر کسی کو ضرورت نہ ہو تو اس صورت میں یہ عقل و خرد کے لیے ایک لعنت ہے اور اس کا رواج ان زمانوں میں ہوا جن میں شروفساد اور بےراہ روی اور گمراہی بڑھ گئی اور انسانیت نے ہزیمت اختیار کرلی “۔ (ایضا) رہا عورت کا بغیر کسی ضرورت کے یا بغیر کسی ملازمت کے گھر سے نکلتا اور مرد و زن کا بازاروں اور گلیوں میں اختلاط اختیار کرنا تو یہ وہ ہزیمت ہے جس کے بعد انسانیت گندگی کے دلدل میں گر جاتی ہے اور انسان حیوان کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں عو رتیں نماز کے لیے نکلتی تھیں اور اب بھی شرعا اس کی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن وہ ایک ایسا دور تھا جس میں لوگ عفت اور پاکیزگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ۔ لوگوں کے اند خدا خوفی تھی اور عورت نماز کے لیے پوری طرح لپٹ کر نکلتی تھی ۔ یوں کہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں اور اس وقت خواتین اپنے مقامات فتنہ ہر گزنہ ظاہر کو تی تھیں اس کے باوجود حضرت عائشہ (رض) نے اس دور میں ان کا نکلنا ناپسند فرمایا۔ صحیحین میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا مومنین کی بیویاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز صبح میں شریک ہوتی تھیں ۔ پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی واپس ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۔ اور صحیحین ہی میں ان کی روایت ہے کہ اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ دور پاتے جس میں عورتوں نے نئی نئی باتیں ایجاد کرلی ہیں تو ان کو اسی طرح منع فرماتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کے دور میں عورتوں نے کیا نیا فیشن اختیار کرلیا تھا ؟ اور وہ کیا تبدیلیاں تھیں کہ اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھتے تو عورتوں کو نماز سے منع کردیتے ۔ ذرا قیاس کرو کہ یہ خیر القرون تھا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ولا تبرجن تبرجن الجاھلیۃ الاولی (33: 33) ” اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ یعنی جب کوئی تم میں سے باہر نکلنے پر مجبور ہو۔ اس سے قبل گھروں میں ٹک کر رہنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ جاہلیت کے دور میں عورتیں زیب وزینت کی نمائش کرتی تھیں لیکن روایات میں اس سج دھج کی جو صورتیں مروی ہیں وہ سب کی سب بہت سادہ اور سنجیدہ ہیں۔ آج کے دور میں عورتوں نے جو عریانی اختیار کر رکھی اس کا دور جاہلیت سے بھی کوئی موازنہ نہیں ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ” جاہلیت میں عورتیں نکلتی تھیں اور مردوں کے اندر پھرتی تھیں یہ تھا تبرج جاہلیہ “۔ قتادہ کہتے ہیں ” یہ ناز و انداز سے چلتی تھیں ، اس سے منع کیا گیا “۔ مقاتل ابن حیان کہتے ہیں ” عورتیں سروں پر دوپٹہ ڈالتی تھیں ، اور اسے یوں نہ لپیٹتی تھیں کہ وہ گردن کے زیورات کو ڈھانپ لے یا کانوں کے زیورات چھپالے اس وقت گردن کا زیور اور کان کا زیور ظاہر ہوتے تھے “ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” عورت مردوں میں اس طرح نکلتی کہ اس کا سینہ کھلا ہوتا ، اور اس کے اوپر کچھ نہ ہوتا ، بعض اوقات اس کی گردن اور بالوں کی مینڈھیاں ننگی ہوتیں اور کان کے بندے بھی ظاہر ہوتے۔ اللہ نے مومنات کو حکم دیا کہ وہ ان چیزوں کو ظاہر نہ کریں۔ یہ تھی جاہلیت کی سج دھج اور قرآن اس وقت کے برے آثار سے اسلامی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا تھا تاکہ فتنے کے تمام عوامل اسلامی معاشرے سے ناپید ہوجائیں اور اسلامی معاشرے کے آداب ، تصورات اور اس کا اجتماعی شعور اور ذوق بلند اور پاکیزہ ہو۔ ہم نے اسلامی معاشرے کی تطہیر میں ” ذوق “ کی تطہیر کو بھی شامل کیا ہے کیونکہ جسم انسانی کو ننگا دیکھنا ایک ایسا ذوق ہے ، جو نہایت ہی غلیظ اور پسماندہ ذوق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذوق سنجیدہ اور مستقل اور منظم ذوق جمال کے مقابلے میں بددیانہ ہے۔ اس بددیانہ ذوق میں روح ، عفت اور شعور کا ذوق مفقود ہوتا ہے۔ یہ کہ اسلامی معیار انسانی سطح کو بلند کرتا ہے اور انسان کو ترقی یافتہ بناتا ہے۔ سنجیدگی اور وقار اپنی جگہ ایک خوبصورتی ہے۔ یہ حقیقی حسن ہوتا ہے لیکن اس حقیقی حسن کے ادراک و شعور سے سطحی اور جاہلی ذوق محروم ہوتا ہے۔ کیونکہ گرے ہوئے جاہلی ذوق کے مطابق حسن صرف گوشت و پوست میں ہوتا ہے اور جاہلی ذوق کا داعیہ یہی ذوق ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیات یہاں جاہلی سج دھج کی طرف اشارہ کرکے یہ بتاتی ہیں کہ یہ گری ہوئی جاہلیت کی باقیات ہیں اور جو لوگ جاہلیت کے دور کو لے کرکے آگے بڑھ گئے ہیں وہ اس معیار سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کا شعور اور ان کا ذوق جمال بھی جاہلیت کی سطح سے بلند ہوتا ہے۔ جاہلیت کسی متعین زمانے کا نام نہیں ہے۔ زمانہ جاہل نہیں ہوتا ، لوگ جاہل ہوتے ہیں ۔ جاہلیت ایک حالت کا نام ہے۔ اس میں لوگوں کے خاص تصورات ہوتے ہیں اور یہ حالت ، یہ تصورات اور یہ رسم و رواج ہر زمان و مکان میں ہو سکتے ہیں۔ اس معیار کے مطابق ہم آج دور جاہلیت میں ہیں۔ بالکل اندھی جاہلیت میں۔ جس کا احساس غلیظ ہے ، شعور غلیظ ہے جس کے تصورات حیوانی ہیں اور مقام انسانی سے فروتر گندگی میں لت پت مقام کو یہ شعور پسند کرتا ہے۔ جس کے اندر کوئی طہارت ، پاکیزگی اور برکت نہیں ہوتی۔ انسانیت اس میں ڈولی ہوئی ہے اور وہ اس معیار کے مطابق تطہیر نہیں چاہتی جس کے مطابق اسلام انسانی معاشرے کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اسے جاہلیت اولیٰ کے باقیات کو زائل کرنا چاہتا ہے اور یہ کام قرآن اور اسلام نے اہل بیت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شروع کیا ہے تاکہ وہ عام مسلمانوں کے لیے طہارت ، لطافت اور روشنی کا مینار ہو۔ قرآن کریم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ یہ اقدامات کریں۔ ازواج مطہرات کے دلوں کو اللہ سے جوڑ دیں ، اور ان کا نصب العین بلند افق پر متعین کردیں۔ نہایت روشن ، نہایت پاکیزہ اور یوں وہ اس روشن مینار تک بتدریج بلند ہوجائیں۔ واقمن الصلوۃ واتین الزکوۃ واطعن اللہ ورسولہ (33: 33) ” نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو “۔ اللہ کی بندگی اجتماعی طرز اور اجتماعی اخلاق کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ انسان اعلیٰ اور بلند اخلاقی اور اجتماعی سطح تک بلند ہو سکتا ہے۔ اللہ کی بندگی ہی سالک کے لیے زاد راہ ہے۔ سالک کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی بندگی کے لیے مدد لے۔ لہٰذا اللہ سے تعلق کی ضرورت ہے جہاں سے انسان کو مدد ملے اور اللہ کے ساتھ ایسے تعلق کی ضرورت ہے جس سے دل صاف اور پاک ہوتا رہے۔ اللہ کے ساتھ ایسے مضبوط رابطے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے متعارف طرز عمل سے اور موجودہ معاشرے کے رسم و رواج سے بالا ہوجائے۔ اس کے اندر یہ سوچ اور یہ شعور ہو کہ اللہ سے رابطہ لوگوں اور پورے معاشرے اور اپنے خاندان سے اعلیٰ وارفع ہے۔ اس تعلق کی وجہ سے انسان میں یہ جذبہ پیدا ہو کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی تعلق باللہ کی طرف دعوت دے۔ یہ نہ ہو کہ ایک شخص اسلام کی روشنی سے خبردار ہوتے ہوئے بھی دوسرے لوگوں کا پیرو کار بن جائے اور وہ اس کی قیادت ظلمت اور تاریکی کی طرف کریں جو عموماً اللہ سے تعلق کٹ جانے کی وجہ سے ہر طرف چھا جاتی ہے۔ اسلام ہی ہر قسم کے مراسم عبودیت ، ہر قسم کے اخلاق و آداب ، ہر قسم کے قوانین اور ہر قسم کے دستوری انتظامات کا حامل دین ہے۔ یہ تمام امور ایک نظریہ حیات کے فریم ورک کے اندر ہیں اور یہ تمام امور اس فریم ورک میں رہتے ہوئے اسلامی نظریہ حیات کے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ یہ سب شعبے باہم توافق کے ساتھ ایک ہدف کی طرف بڑھتے ہیں اور اسی ہم آہنگی اور توافق سے دین اسلام کا مجموعی ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ ان تمام عناصر کی موجودگی اور توافق کے بغیر یہ دین ہرگز قائم نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ تم نماز کو قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے اندر تمام شعوری سمت ، تمام اخلاقی ہدایات ، ہر قسم کا طرز عمل ، خاندان اور اجتماعی معاملات میں رویہ سب کے سب سمٹ آتے ہیں۔ کیونکہ اسلام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کوئی ان کو قائم نہ کرے اور یہ مجموعی اطاعت شعاری ایک خاص مقصد کے لیے ہے۔ انما یرید اللہ لیذھب ۔۔۔۔۔ تطھیرا (33:33) ” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے “۔ اس تعبیر میں کئی اشارات ، سب کے سب محبت ، شفقت ، وارفتگی اور نرمی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ ” تم اہل بیت نبی “ ہو۔ اہل بیت میں تصریح تو نہیں لیکن نبی کے گھر کی طرف اشارہ ہے۔ گویا دنیا میں یہی ایک عظیم گھرانا ہے اور یہ گھرانا اس صفت کا مستحق ہے۔ جب ” البیت “ کہہ دیا تو گویا مراد بیت النبی ہے۔ یہی اشارات خانہ کعبہ کے بارے میں قرآن میں ہوتے ہیں۔ اسے بھی ” البیت “ ” البیت الحرام “ کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں بیت نبی کو بھی البیت کہا گیا۔ گویا یہ عظیم گھرانا ہے ، یہی گھرانا ہے۔ اور پھر یہ تعبیر کہ اے اہل بیت تم سے اللہ گندگی کو پوری طرح دور کرکے صاف کرنا چاہتا ہے یعنی نبی کے گھرانے کو پاک کرنے کا کام خود اللہ نے سنبھال لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور کسی گھر کی تطہیر کے کام کی ذمہ داری خود لیتا ! گویا یہ اہل بیت نبی کا نہایت ہی بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ ذات کہہ رہی ہے جس نے پوری کائنات کو کن فیکون سے بنا دیا۔ اور وہ عزیز و جبار اور علی کل شئ قدیر ہے اور وہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو یہ اہل بیت کے لیے بڑا اعزاز بھی ہے۔ یہ بات اللہ اپنی اس کتاب میں کہہ رہے ہیں جو آسمانوں پر پڑھی جاتی ہے۔ زمین پر پڑھی جاتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ پڑھی جاتی ہے اور جس کی پیروی ہر دور میں کئی ملین لوگ کرتے چلے آئے ہیں اور جس کی تلاوت ہر وقت کئی ملین لوگ کرتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یہ اوامر اور یہ ہدایات یہاں تطہیر اور پاکی کا وسیلہ بنائے جا رہے ہیں اور ان کے ذریعہ اس گھرانے کو پاک کرنا مقصود ہے۔ تطہیر تطہر سے ہے ، گندگی تب دور ہوتی ہے جب کوئی ایسے وسائل اختیار کرے جس سے وہ دور ہو اور یہ کام لوگ خود کریں اور اپنی عملی زندگی کی تطہیر کریں۔ لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ہو اور وہ متقی ہوں ، ان کا طرز عمل پاکیزہ ہو۔ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہو کر اپنی زندگی کا رخ اسلام کی طرف کردیں اور اس کے اہداف اسلامی ہوں۔ اور یہ بحث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو مزید ہدایات پر ختم ہوتی ہے کہ ازواج مطہرات کو پھر یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ دوسری عورتوں سے تم ممتاز ہو۔ اس لیے کہ تم سرورکونین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھرانے کی فرد ہو۔ تمہارے گھروں کے اندر قرآن نازل ہو رہا ہے۔ جو حکمت و دانائی پر مشتمل ہے۔ گویا تمہارے گھر حکمت و دانائی کے مقامات نزول ہیں۔ نور ہدایت اور ایمان کی بارشیں وہاں ہو رہی ہیں۔ واذکرن ما یتلی فی ۔۔۔۔۔ کان لطیفا خبیرا (33: 34) ” یاد رکھو ، اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بیشک اللہ لطیف اور باخبر ہے “۔ یہ وہ بلند مرتبہ ہے جس کا ان کو یاد دلانا ہی کافی ہے۔ ہر کوئی اس مرتبہ بلند کو محسوس کرتا ہے۔ یہ اللہ کا دیا ہوا بہت بڑا مقام ہے اور وہ انعام ہے جس کے برابر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ نصیحت اس خطاب اور تقریر کے آخر میں دہرائی جاتی ہے جو ازواج مطہرات کے سامنے اس وقت کی گئی جب ان کو اختیار دیا جاتا تھا کہ تمہیں اختیار ہے کہ تم دنیا اور اس کی زوال پذیر آرائشوں کو پسند کرتی ہو یا اللہ اور رسول اللہ اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہو۔ دکھایا جاتا ہے کہ غور کرلو ، اللہ نے تمہیں بہت ہی بڑی نعمت دی ہے اور یہ پوری زندگی اس کے مقابلے میں کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ نبی کے گھرانے کے بعد اب اسلامی سوسائٹی کے اندر تطہیر کے اسباب بھی نہایت تفصیل اور باریکی کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں مرد اور عورتیں دونوں برابر ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ازواج مطہرات (رض) کی فضیلت اس کے بعد فرمایا : (یٰنِسَآء النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ) (اے نبی کی بیویو ! تم دوسری عورتوں کی طرح سے نہیں ہو) اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں فضیلت دی ہے وہ بہت بڑی ہے جو اور کسی بھی عورت کو حاصل نہیں ہے، اپنے شرف اور بلند مقام کو سمجھو اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کی خوشنودی کے اعمال میں لگی رہو۔ (اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بالْقَوْلِ ) (اگر تم تقویٰ اختیار کرتی ہو) یعنی تقویٰ ہی پر آئندہ زندگی گزارنی ہے تو اس بات کا بھی دھیان رکھو کہ جب کسی نامحرم مرد سے کسی ضرورت سے بات کرنی پڑجائے تو لب و لہجہ میں نزاکت کا انداز مت اختیار کرو اگر ایسا انداز ہوگا تو بعض ایسے لوگ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے لالچ کرلیں گے یعنی تم سے بار بار اور بلاضرورت بات کریں گے اور تمہارے لب و لہجہ سے اپنے کانوں کو لذت پہنچائیں گے۔ (وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا) (اور مناسب طریقہ پر بات کرو) نامحرموں سے بات کرنے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ درشتی کے طور پر روکھا پن اختیار کرکے جواب دیا جائے، جب یہ صورت اختیار کی جائے گی تو جن کے دلوں میں مرض یعنی نفاق ہے وہ خود بات کرنے سے بچیں گے اور بلا ضرورت تو بالکل ہی پرہیز کریں گے۔ اور بعض حضرت نے (قَوْلًا مَّعْرُوْفًا) کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ کے ذکر میں لگی رہو اور جو کوئی بات کرنی ہو تو بوقت ضرورت بات کرلو۔ نامحرموں سے بات کرنے کا طریقہ معلوم ہوا عند الضرورت نامحرم سے بات کرنے کی اجازت تو ہے کیونکہ کبھی اس کی ضرورت پیش آ ہی جاتی ہے لیکن ایسے موقع پر زیادہ آواز بلند نہ کرے، نہ آواز کو دراز کرے نہ نرم کرے نہ آواز کے اتار چڑھاؤ کی صورت اختیار کرے کیونکہ اس سے نامحرموں کے دل مائل ہوں گے اور نفسانی خواہشوں کو تحریک ہوگی، اسی لیے عورت کو اذان دینا اور حج کے موقع پر زور سے تلبیہ پڑھنا ممنوع ہے۔ علامہ شامی (رض) علامہ ابو العباس قرطبی (رض) سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : (فانا نجیز الکلام مع النساء للجانب ومحاورتھن عند الحاجۃ الی ذٰلِک ولا نجیز لھن رفع اصواتھن ولا تمطیطھا ولا تلبینھا ولا تقطیعھا لما فی ذلک من استمالۃ الرجال الیھن وحریک الشھوات منھم ومن ھذا لم یجزان تؤذن المرء ۃ) (شامی جلد ١ ص : ٢٧٢) (لہٰذا ہم غیر محرم سے عورتوں کے بات کرنے اور جواب دینے کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ اس کی ضرورت ہو البتہ آواز کو بلند کرنا، لمبا کرنا اور نرم کرنا اور بات میں اتار چڑھاؤ کرنا جائز نہیں سمجھتے کیونکہ اس سے مردوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں گے اور ان کے جذبات کو تحریک ملے گی اسی لیے عورت کے لیے اذن دینا جائز نہیں ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ ینساء النبی الخ، یہ ازواج مطہرات سے دوسرا خطاب ہے۔ اس میں ان کو ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن پر عمل کرنے سے ان کا بلند مقام قائم رہے اور ان کی عزت و آبرو ہر شک و شبہ سے بالا رہے۔ اے ازواجِ نبی اگر تم تقوی اختیار کرو تو دنیا کی کوئی عورت تمہارے برابر نہیں ہوسکتی۔ فلا تخضعن بالقول، اس لیے تم پیغمبر (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا معاملے میں ہرگز نرم رویہ اختیار نہ کرنا، اور فاحشہ مبینہ سے احتراز کرنا، اس بارے میں ہرگز نہ کہنا کہ پیغمبر اپنی مرضی والا ہے اسے اپنے متبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کرنے سے کون روک سکتا ہے اگر تمہاری ایسی نرم پالیسی کا منافقین کو پتہ چل گیا تو وہ خوش ہوں گے کہ چلو ہمارا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ پیغمبر کے گھر میں کچھ تو مخالفت رونما ہوگئی ہے۔ وقلن الخ، اس نرم گفتگو کے بجائے بالکل صاف اور سیدھے لفظوں میں کہو، پیغمبر (علیہ السلام) نے جو کچھ کیا ہے اللہ کے حکم سے کیا ہے اور بالکل درست اور صحیح کیا ہے اور اس میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

32۔ اے نبی کی عورتو تم عام اور معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو بشرطیکہ تم پرہیز گاری اور تقویٰ کی پابند رہو سو تم نا محرم مردوں سے نزاکت اور لچک کے ساتھ بات نہ کیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص جس کے قلب میں کوئی روگ اور خرابی ہے وہ کوئی غلط اور فاسد خیال قائم کرے اور معقول اور جچی تلی بات کہا کرو۔ اس آیت میں ازواج مطہرات کی امتیازی شان کا ذکر ہے کہ اگر تم تقویٰ اور پرہیز گاری پر قائم رہو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، پھر ادب تعلیم کیا کہ نا محرم مردوں سے بات کرتے وقت نرمی اور لوچ نہ برتا کرو کیونکہ نزاکت کے ساتھ بات کرنے میں بلا وجہ روگی اور مریض دلوں میں خیالات فاسدہ اور بری قسم کا لالچ پیدا ہوجاتا ہے اس لئے بات جو کرو وہ معقول اور جچی تلی ہو ، جیسے ماں بیٹے سے کرتی ہے گفتگو کا اندازہ سخت اور درشت ہو تو یہ اس کلام سے بہتر ہے جس میں لین اور لوچ ہو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ ایک ادب سکھایا کہ کسی مرد سے بات کہو تو اس طرح کہو جیسے ماں کہے بیٹوں کو۔ 12 ۔ جب ازواج مطہرات کو یہ حکم ہوا تو اس پر امت کی عام عورتوں کو کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے یہ خود سوچنے کی بات ہے۔