Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 38

سورة الأحزاب

مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنۡ حَرَجٍ فِیۡمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ؕ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَۨا ﴿۳۸﴾۫ ۙ

There is not to be upon the Prophet any discomfort concerning that which Allah has imposed upon him. [This is] the established way of Allah with those [prophets] who have passed on before. And ever is the command of Allah a destiny decreed.

جو چیزیں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں ( یہی ) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے اور اللہ تعالٰی کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says; مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ... There is no blame on the Prophet in that which Allah has made legal for him. means, in that which has been permitted for him and which he has been commanded to do, i.e. his marrying Zaynab, may Allah be pleased with her, who had been divorced by his adopted son Zayd bin Harithah, ... سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ... That has been Allah's way with those who have passed away of old. means this is the ruling of Allah for the Prophets who came before him. Allah would not command them to do anything for which they might be blamed. This is a refutation of those hypocrites who imagined that there was anything wrong with his marrying the ex-wife of Zayd, his freed slave and adopted son. ... وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا And the command of Allah is a decree determined. means, His command which He has decreed must inevitably come to pass; nothing can prevent it or avert it, for whatever He wills happens, and whatever He does not decree, does not happen.

لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم ۔ فرماتا ہے کہ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے ۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا ۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کر لیا ۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں ، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔ 38۔ 2 یعنی گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔ 38۔ 3 یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦٢] یعنی اللہ کا یہ حکم ایسا تھا۔ جس کا اللہ پہلے ہی فیصلہ کرچکا تھا اور یہ نکاح کرنا نبی پر فرض کیا گیا تھا۔ کیونکہ اللہ اپنے نبی کے ذریعہ ہی اس رسم کو مٹانا چاہتا تھا۔ اور یہ کام بہرحال ہو کر ہی رہنا تھا۔ سابقہ انبیاء میں بھی اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ اللہ کا حکم بہرحال انھیں سرانجام دینا ہوتا تھا خواہ اس سلسلہ میں کتنی ہی مشکلات پیش آئیں اور پریشانیاں لا حق ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو کام طے کردیا اور اس کا حکم دے دیا اس کے ادا کرنے میں اس پر کوئی تنگی نہ پہلے تھی، نہ اب ہے، نہ آئندہ ہونی چاہیے۔ ” کان “ نفی کے استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ” کبھی کوئی تنگی نہیں۔ “ اس لیے اسے وہ بات بتانے میں یا اس پر عمل کرنے میں کسی طعن و تشنیع یا ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرمایا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں، اسی طرح یہ بھی طے فرما دیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح کریں گے۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے اظہار یا اس پر عمل کے سلسلے میں منافقین یا یہود کے طعن کی پروا نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ وہی بات ہے جو سدی اور زین العابدین نے فرمائی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح محض مباح ہے، مگر بہت سی مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے طے کرنے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض تھا۔ سُـنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ : لفظ ” سُـنَّةَ “ پر نصب یا تو اس لیے ہے کہ اس سے پہلے حرف جر ” کاف “ محذوف ہے، جس کے حذف ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو کچھ طے فرمایا اسے ادا کرنے میں اس پر اسی طرح کوئی حرج نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں طریقہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے جو طے کردیتا وہ اس کی ادائیگی میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتے تھے۔ یا یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، یعنی ” سَنَّ اللّٰہُ ھٰذَا سُنَّۃً فِي الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ “ مطلب ایک ہی ہے کہ گزشتہ انبیاء بھی ایسے کاموں کے کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض کردیے جاتے تھے، چاہے ان کی اقوام اور زمانے کے رسم و رواج ان کے خلاف ہوتے تھے۔ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨا : یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام خاص طور پر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں، دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے، اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Prefacing an answer to doubts and objections The opening sentence of verse 38: سُنَّةَ اللَّـهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ‌ اللَّـهِ قَدَرً‌ا مَّقْدُورً‌ا (a customary practice of Allah in the case of those who have gone before--- And Allah&s command is pre-determined by destiny - 38) is a preface to doubts to be encountered in the wake of this marriage, particularly about why so much concern was shown in the case of this marriage despite there being other wives in the household. It was said: &This is a sunnah of Allah (His customary practice not restricted to Muhammad al-Mustafa t. It has continued to be so in the case of earlier prophets as well, that is, under the dictate of beneficial religious considerations, permission was given for multiple marriages. Well recognized among them are Sayyidna Dawud (علیہ السلام) and Sayyidna Sulaiman Sayyidna Dawud (علیہ السلام) had one hundred wives in his nikah and Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) ، three hundred. Now, if permission came for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to have several marriages under beneficial religious considerations - this nikah being included therein - why should it be taken as something far-fetched? Neither is it contrary to the dignity and status of a prophet and messenger of Allah, nor against the norms of zuhd and taqwa. In the last sentence, it was also said that the matter of nikah (marriage) too, like that of rizq or sustenance, is Divinely decided as to who will be married to whom. That which is written in the eternal destiny has to occur. In this event relating to Sayyidna Zayd (رض) and Sayyidah Zainab (رض) the factors of their mutual temperamental difference, the displeasure of Sayyidna Zayd (رض) and then his resolve to divorce her were all chains of this very creational and destined imperative.

شبہات و اعتراضات کے جواب کی تمہید : (آیت) سنة اللہ فی الذین خلوا من قبل وکان امر اللہ قدراً مقدوراً ، یہ تمہید ہے اس نکاح پر پیش آنے والے شکوک و شبہات کی کہ دوسری ازواج کے ہوتے ہوئے اس نکاح کا اہتمام کس لئے کیا گیا۔ ارشاد فرمایا کہ یہ سنت ہے اللہ کی جو محمد مصطفیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ سے پہلے انبیاء میں بھی جاری رہی ہے، کہ بمصالح دینیہ بہت سی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی، جن میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) زیادہ معروف ہیں کہ داؤد (علیہ السلام) کے نکاح میں سو اور سلیمان (علیہ السلام) کے نکاح میں تین سو بیبیاں تھیں۔ اگر رسول اللہ کے لئے دینی مصالح سے متعدد نکاح کی اجازت ہوئی اور یہ نکاح بھی ان میں شامل ہے تو کوئی وجہ استبعاد نہیں۔ نہ یہ شان نبوت و رسالت کے منافی ہے نہ زید وتقویٰ کے۔ آخری جملے میں یہ بھی فرما دیا کہ نکاح کا معاملہ بھی عام رزق کی طرح منجانب اللہ طے شدہ ہے کہ کس کا نکاح کس سے ہوگا، تقدیر ازلی میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ اس واقعہ میں حضرت زید اور زینب کے درمیان اختلاف طبائع اور زید کی ناراضی پھر طلاق دینے کا عزم یہ سب اسی تکوینی اور تقدیری امر کی کڑیاں تھیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللہُ لَہٗ۝ ٠ ۭ سُـنَّۃَ اللہِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ۝ ٠ ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨا۝ ٣٨ۡۙ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» «3» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ حرج أصل الحَرَج والحراج مجتمع الشيئين، وتصوّر منه ضيق ما بينهما، فقیل للضيّق : حَرَج، وللإثم حَرَج، قال تعالی: ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً [ النساء/ 65] ، وقال عزّ وجلّ : وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج/ 78] ، وقد حرج صدره، قال تعالی: يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً [ الأنعام/ 125] ، وقرئ حرجا «1» ، أي : ضيّقا بکفره، لأنّ الکفر لا يكاد تسکن إليه النفس لکونه اعتقادا عن ظن، وقیل : ضيّق بالإسلام کما قال تعالی: خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وقوله تعالی: فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [ الأعراف/ 2] ، قيل : هو نهي، وقیل : هو دعاء، وقیل : هو حکم منه، نحو : أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] ، والمُتَحَرِّج والمتحوّب : المتجنّب من الحرج والحوب . ( ح ر ج ) الحرج والحراج ( اسم ) کے اصل معنی اشب کے مجتع یعنی جمع ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں ۔ اور جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اسلئے تنگی اور گناہ کو بھی حرج کہاجاتا ہے قرآن میں ہے ؛۔ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً [ النساء/ 65] اور ۔۔۔ اپنے دل میں تنگ نہ ہوں ۔ وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج/ 78 اور تم پر دین ( کی کسی بات ) میں تنگی نہیں کی ۔ حرج ( س) حرجا ۔ صدرہ ۔ سینہ تنگ ہوجانا ۔ قرآن میں ہے ؛۔ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً [ الأنعام/ 125] اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے ۔ ایک قرآت میں حرجا ہے ۔ یعنی کفر کی وجہ سے اس کا سینہ گھٹا رہتا ہے اس لئے کہ عقیدہ کفر کی بنیاد وظن پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کو کبھی سکون نفس حاصل نہیں ہوتا اور بعض کہتے کہ اسلام کی وجہ سے اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے جیسا کہ آیت خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] سے مفہوم ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [ الأعراف/ 2] اس سے تم کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے ۔ میں لایکن فعل نہی کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور ۔۔۔۔ جملہ دعائیہ بھی ۔ بعض نے اسے جملہ خبر یہ کے معنی میں لیا ہے ۔ جیسا کہ آیت کریمہ ۔ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] سے مفہوم ہوتا ہے ،۔ المنحرج ( صفت فاعلی ) گناہ اور تنگی سے دور رہنے والا جیسے منحوب ۔ حوب ( یعنی گنا ہ) بچنے والا ۔ فرض الفَرْضُ : قطع الشیء الصّلب والتأثير فيه، کفرض الحدید، وفرض الزّند والقوس، والمِفْرَاضُ والمِفْرَضُ : ما يقطع به الحدید، وفُرْضَةُ الماء : مقسمه . قال تعالی: لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبادِكَ نَصِيباً مَفْرُوضاً [ النساء/ 118] ، أي : معلوما، وقیل : مقطوعا عنهم، والفَرْضُ كالإيجاب لکن الإيجاب يقال اعتبارا بوقوعه وثباته، والفرض بقطع الحکم فيه «3» . قال تعالی: سُورَةٌ أَنْزَلْناها وَفَرَضْناها[ النور/ 1] ، أي : أوجبنا العمل بها عليك، وقال : إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ [ القصص/ 85] ، أي : أوجب عليك العمل به، ومنه يقال لما ألزم الحاکم من النّفقة : فَرْضٌ. وكلّ موضع ورد ( فرض اللہ عليه) ففي الإيجاب الذي أدخله اللہ فيه، وما ورد من : ( فرض اللہ له) فهو في أن لا يحظره علی نفسه . نحو . ما کان عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيما فَرَضَ اللَّهُ لَهُ [ الأحزاب/ 38] ، وقوله : قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمانِكُمْ [ التحریم/ 2] ، وقوله : وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً [ البقرة/ 237] ، أي : سمّيتم لهنّ مهرا، وأوجبتم علی أنفسکم بذلک، وعلی هذا يقال : فَرَضَ له في العطاء، وبهذا النّظر ومن هذا الغرض قيل للعطية : فَرْضٌ ، وللدّين : فَرْضٌ ، وفَرَائِضُ اللہ تعالی: ما فرض لأربابها، ورجل فَارِضٌ وفَرْضِيٌّ: بصیر بحکم الفرائض . قال تعالی: فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَ إلى قوله : فِي الْحَجِّ «4» أي : من عيّن علی نفسه إقامة الحجّ «5» ، وإضافة فرض الحجّ إلى الإنسان دلالة أنه هو معيّن الوقت، ويقال لما أخذ في الصّدقة فرِيضَةٌ. قال : إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ إلى قوله : فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ «1» وعلی هذا ما روي (أنّ أبا بکر الصّدّيق رضي اللہ عنه كتب إلى بعض عمّاله کتابا وکتب فيه : هذه فریضة الصّدقة التي فرضها رسول اللہ صلّى اللہ عليه وسلم علی المسلمین) . والفَارِضُ : المسنّ من البقر «3» . قال تعالی: لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] ، وقیل : إنما سمّي فَارِضاً لکونه فارضا للأرض، أي : قاطعا، أو فارضا لما يحمّل من الأعمال الشاقّة، وقیل : بل لأنّ فَرِيضَةُ البقر اثنان : تبیع ومسنّة، فالتّبيع يجوز في حال دون حال، والمسنّة يصحّ بذلها في كلّ حال، فسمّيت المسنّة فَارِضَةً لذلک، فعلی هذا يكون الفَارِضُ اسما إسلاميّا . ( ف ر ض ) الفرض ( ض ) کے معنی سخت چیز کو کاٹنے اور اس میں نشان ڈالنے کے ہیں مثلا فرض الحدید لوہے کو کاٹنا فرض القوس کمان کا چلہ فرض الزند چقماق کا ٹکڑا اور فر ضۃ الماء کے معنی در یا کا دہانہ کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبادِكَ نَصِيباً مَفْرُوضاً [ النساء/ 118] میں تیرے بندوں سے ( غیر خدا کی نذر ( لو ا کر مال کا یاک مقرر حصہ لے لیا کروں گا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں مفروض کے معنی معین کے ہیں اور بعض نے کاٹ کر الگ کیا ہوا مراد لیا ہے ۔ اور فرض بمعنی ایجاب ( واجب کرنا ) آتا ہے مگر واجب کے معنی کسی چیز کے لحاظ وقوع اور ثبات کے قطعی ہونے کے ہیں اور فرض کے معنی بلحاظ حکم کے قطعی ہونے کے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سُورَةٌ أَنْزَلْناها وَفَرَضْناها[ النور/ 1] یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اس ( کے احکام ) کو فرض کردیا ۔ یعنی اس پر عمل کرنا فرض کردیا ۔ نیز فرمایا : ۔ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ [ القصص/ 85] ( اے پیغمبر ) جس نے تم پر قرآن ( کے احکام ) کو فرض کیا ہے ۔۔۔۔ یعنی اس پر عمل کرنا تجھ پر واجب کیا ہے اور اسی سے جو نفقہ وغیرہ حاکم کسی کے لئے مقرر کردیتا ہے اسے بھی فرض کہا جاتا ہے اور ہر وہ مقام جہاں قرآن میں فرض علٰی ( علی ) کے ساتھ ) آیا ہے ۔ اس کے معنی کسی چیز کے واجب اور ضروری قرا ردینے کے ہیں اور جہاں ۔ فرض اللہ لہ لام کے ساتھ ) آیا ہے تو اس کے معنی کسی چیز سے بندش کود ور کرنے اور اسے مباح کردینے کے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما کان عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيما فَرَضَ اللَّهُ لَهُ [ الأحزاب/ 38] پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا ۔ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمانِكُمْ [ التحریم/ 2] خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ۔ اور آیت کریمہ : وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً [ البقرة/ 237] لیکن مہر مقررکر چکے ہو ۔ کے معنی یہ ہیں چونکہ تم ان کے لئے مہر مقرر اور اپنے اوپر لازم کرچکے ہو اور یہی معنی فرض لہ فی العطاء کے ہیں ( یعنی کسی کے لئے عطا سے حصہ مقرر کردینا ) اسی بنا پر عطیہ اور قرض کو بھی فرض کہا جاتا ہے اور فرئض اللہ سے مراد وہ احکام ہیں جن کے متعلق قطعی حکم دیا گیا ہے اور جو شخص علم فرائض کا ماہر ہوا سے فارض و فرضی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَإلى قوله : فِي الْحَجِّ تو جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرے تو حج ( کے کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہو اور اس کی پختہ نیت کرلی ہو یہاں پر فرض کی نسبت انسان کی طرف کرنے میں اس بات پر دلیل ہے کہ اس کا وقت مقرر کرنا انسان کا کام ہے ( کہ میں امسال حج کرونگا یا آئندہ سال اور زکوۃ میں جو چیز وصول کی جاتی ہے اس پر بھی فریضہ کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ إلى قوله : فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ صدقات ( یعنی زکوۃ نہ خیرات ) تو مفلسوں ۔۔۔۔ کا حق ہے ( یہ ) خدا کی طرف سے مقرر کردیئے گئے ہیں ۔ اسی بنا پر مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے ایک عامل کیطرف خط لکھا اور اس میں ارقام فرمایا کہ یہ یعنی جو مقادیرلکھی جاری ہی میں فریضہ زکوۃ ہے ۔ جو رسول اللہ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے ۔ الفارض عمر رسیدہ گائے یا بیل ۔ قرآن میں ہے : ۔ لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] نہ بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا ۔ بعض نے کہا کہ بیل کو فارض اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کو پھاڑ تا یعنی جو تنا ہے اور یا اس لئے کہ اس پر سختکاموں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور یا اس لئے کہ گائے کی زکوۃ میں تبیع اور مسنۃ لیا جاتا ہے اور تبیع کا لینا تو بعض حالتوں میں جائز ہوتا ہے اور بعض احوال میں ناجائز لیکن مسنۃ کی ادائیگی ہر حال میں ضروری ہوتی ہے اس لئے مسنۃ کو فارضۃ کہا گیا ہے اس توجیہ کی بناپر فارض کا لفظ مصطلحات اسلامیہ سے ہوگا ۔ خلا الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] ( خ ل و ) الخلاء ۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے اہل لغت خلاالزفان کے معنی زمانہ گزر گیا کرلیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تو صرف ( خدا کے ) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہوگزرے ہیں ۔ قَدَرُ ( معین وقت) وقت الشیء المقدّر له، والمکان المقدّر له، قال : إِلى قَدَرٍ مَعْلُومٍ [ المرسلات/ 22] ، وقال : فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها [ الرعد/ 17] ، أي : بقدر المکان المقدّر لأن يسعها، وقرئ :( بِقَدْرِهَا) «2» أي : تقدیرها . وقوله : وَغَدَوْا عَلى حَرْدٍ قادِرِينَ [ القلم/ 25] ، قاصدین، أي : معيّنين لوقت قَدَّرُوهُ ، وکذلک قوله فَالْتَقَى الْماءُ عَلى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ [ القمر/ 12] ، وقَدَرْتُ عليه الشیء : ضيّقته، كأنما جعلته بقدر بخلاف ما وصف بغیر حساب . قال تعالی: وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] ، أي : ضيّق عليه، وقال : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] ، وقال : فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] ، أي : لن نضيّق عليه، وقرئ : ( لن نُقَدِّرَ عليه) «3» ، ومن هذا قدر کے معنی اس معین وقت یا مقام کے بھی ہوتے ہیں جو کسی کام کے لئے مقرر ہوچکا ہو چناچہ فرمایا : إِلى قَدَرٍ مَعْلُومٍ [ المرسلات/ 22] ایک معین وقت تک ۔ نیز فرمایا : فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها [ الرعد/ 17] پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے ۔ یعنی نالے اپنے ( ظرف کے مطابق بہ نکلتے ہیں ایک قرات میں بقدر ھا ہے جو بمعنی تقدیر یعنی اندازہ ۔۔۔ کے ہے اور آیت کریمہ : وَغَدَوْا عَلى حَرْدٍ قادِرِينَ [ القلم/ 25]( اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جاپہنچے ( گویا کھیتی پر ) قادر ہیں ۔ میں قادرین کے معنی قاصدین کے ہیں یعنی جو وقت انہوں نے مقرر کر رکھا تھا ۔ اندازہ کرتے ہوئے اس وقت پر وہاں جا پہنچے اور یہی معنی آیت کریمہ : فَالْتَقَى الْماءُ عَلى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ [ القمر/ 12] تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا میں مراد ہیں ۔ اور قدرت علیہ الشئی کے معنی کسی پر تنگی کردینے کے ہیں گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی ہے اس کے بالمقابل بغیر حساب ( یعنی بےاندازہ ) آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] اور جس کے رزق میں تنگی ہو ۔ یعنی جس پر اس کی روزی تنگ کردی گئی ہو ۔ نیز فرمایا : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] خدا جس پر جاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ۔ فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] اور خیال کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے اور ایک قرآت میں لن نقدر علیہ ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے حق میں بھی یہی معمول کر رکھا ہے جو رسول اکرم سے پہلے گزرے ہیں۔ چناچہ حضرت داؤد کی اور یا کی بیوی سے اور حضرت سلیمان کی بلقیس سے شادی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا تجویز کیا ہوا حکم ضرور پورا ہوتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ { مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ } ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کردی ہے۔ “ { سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ } ” اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔ “ تمام نبیوں اور رسولوں (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جو چیز ان پر فرض کردی جاتی تھی اس پر انہیں عمل کرنا ہوتا تھا۔ { وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا } ” اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔ “ یہ سارا معاملہ اللہ کی مشیت میں پہلے سے طے ہوچکا تھا اور اس فیصلے کی تنفیذ کے لیے وقت مقرر کیا جا چکا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

74 These words show that for the other Muslims such a marriage is just permissible but for the Holy Prophet it was a duty which Allah had imposed on him. 75 That is, "For the Prophets it has always been a law that whatever Command they receive from Allah, they have to act on it as a duty which they cannot in any case avoid. When Allah enjoins something on His Prophet, he has to accomplish it even if the whole world is deadly opposed to it."

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :74 ان الفاظ سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کے لیے تو اس طرح کا نکاح محض مباح ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ایک فرض تھا جو اللہ نے آپ پر عائد کیا تھا ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :75 یعنی انبیاء کے لیے ہمیشہ سے یہ ضابطہ مقرر رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم بھی آئے اس پر عمل کرنا ان کے لیے قضائے مُبْرَم ہے جس سے کوئی مفر ان کے لیے نہیں ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر کوئی کام فرض کر دے تو اسے وہ کام کر کے ہی رہنا ہوتا ہے خواہ ساری دنیا اس کی مخالفت پر تل گئی ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:38) فرض : ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب فرض مصدر (باب ضرب) الفرض کے معنی سخت چیز کو کاٹنے اور اس میں نشان ڈالنے کے ہیں۔ مثلاً لکڑی کا ٹنا یا لکڑی چھید کرنا۔ قرآنی اصطلاح میں اس کے کئی معنی آئے ہیں۔ (١) مقرر کرنا۔ معین کرنا۔ مثلاً وقد فرضتم لہن فریضۃ (2:237) لیکن تم ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے ہو۔ (2) کسی چیز کا کسی پر واجب کرنا۔ (اگر مفعول دائم پر علی آئے) مثلاً ان الذی فرض علیک القران (28:75) (اے پیغمبر) جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہے یعنی اس پر عمل کرنا تجھ پر لازم کیا ہے۔ (3) عزم کرنا۔ اپنے اوپر لازم کرلینا مثلاً فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج (2: ١ 97) اور ان میں جو کوئی اپنے اوپر حج لازم کرلے تو پھر حج (کے دنوں میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برے کام کرے اور نہ کسی سے جھگڑے (4) کسی چیز سے بندش دور کرنا اور اسے مباح کردینا۔ اجازت دینا (بشرطیکہ اس کے بعد لام آئے) مثلاً آیۃ ہذا ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (33:38) جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کو اجازت دے دی یعنی اس پر سے بندش دور کر کے اسے مباح کردیا اس کے کرنے میں نبی کو کوئی مضائقہ نہیں۔ روح المعانی میں : فیما فرض اللہ لہ کئے ہیں قسم لہ۔ اس کے لئے مقرر کردیا اور لکھا ہے ومنہ فروض العساکر اور اسی سے ہے فوج کی تنخواہیں مقرر کرنا۔ مارما ڈیوک پکٹھال نے ترجمہ کیا ہے۔ وہ جسے اللہ نے اس کا حق مقرر کردیا ہے۔ آیۃ شریفہ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم (66:2) میں بھی فرض لہ اجازت دینے کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی قسموں کا کفارہ ادا کر کے ان کی پابندیوں سے خلاصی کی اجازت دے دی ہے۔ فرائض اللہ سے مراد وہ احکام ہیں جن کے متعلق قطعی حکم دیا گیا ہے۔ سنۃ اللہ۔ ای سن اللہ تعالیٰ ذلک سنۃ یہ اللہ کا مقرر کردہ طریقہ ہے سنۃ منصوب فعل مقدر کا مصدر ہے خلوا۔ خلا یخلوا (باب نصر) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ خلوا وہ گذر چکے۔ وہ ہوچکے۔ ضمیر جمع مذکر غائب اسم موصول الذین کی طرف راجع ہے مراد پیغمبران (علیہم السلام) جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے گذر چکے تھے۔ ای من قبلک من الانبیا (علیہم السلام) یعنی یہی سنت انبیاء سابقہ کی تھی کہ انہیں جس امر کی اجازت ہوتی وہ بلا تامل کر گذرتے۔ قدرا مقدورا۔ قدرا سے مراد کسی چیز کی ماہیت کے متعلق ارادہ ازلی۔ مقدورا کو قدر کی صفت میں تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وندخلہم ظلا ظلیلا (4:57) اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے۔ قدرا مقدورا ایسا اندازہ شدہ امر کہ اس کے پہلو کسی مصلحت، کسی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا گیا جملہ کا مطلب ہوگا اور اللہ کا حکم خوب تجویز کیا ہوا ہوتا ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلے فرمان کا تتمہّ ۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم تعمیل کے لیے ہوتا ہے جس بنا پر سب سے پہلے اس پر نبی عمل کرتا ہے لہٰذا کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر عمل کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرے۔ اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں بھی یہی طر یقہ رہا ہے۔ اس کا حکم قطعی ہوا کرتا ہے یعنی اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں پس وپیش کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہی پیغمبروں کی شان ہے کہ ان پر جو احکام نازل ہوئے انہوں نے لوگوں کی ملامت اور طعن وتشنیع کی پروا کیے بغیر انہیں من و عن اپنی امتوں تک پہنچایا اور اس پر عمل کر کے دکھلایا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو بھی اسی طرح کرنا چاہیے۔ یہاں تک لوگوں کی مخالفت کا تعلق ہے آپ اس سے بےپروا ہوجائیں اللہ تعالیٰ آپ کو ہر حال میں کافی ہوگا۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں مخا طب فرمایا گیا ہے۔ ” اے پیغمبر ! جو آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اترا ہے لوگوں تک پہنچا دیجیے اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تو نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا ” اللہ “ ہی تجھے لوگوں کی تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔ وہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ ( المائدہ : آیت ٦٧) حضرت حسن بصری کی والدہ حضرت ام المومنین امّ سلمہ (رض) کی کنیز تھیں۔ اس بدولت حسن بصری نے حضرت ام المومنین امّ سلمہ (رض) کے ہاں پرورش پائی وہ اس آیت کی تصریح میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے بالواسطہ امت محمدیہ کے علماء سے بھی لیا ہے کہ وہ حق کو چھپانے کی بجائے اسے ہر حال میں بیان کرتے رہیں۔ حضرت حسن بصری (رض) کا اپنا کردار یہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف پر سر عام تنقید کرتے۔ ایک دن حجاج نے انہیں بلا کر تلوار لہراتے ہوئے پوچھا کہ آپ میرے بارے میں یہ یہ باتیں کرتے ہیں ؟ حضرت حسن بصری نے وہی باتیں حجاج کے رو برو کہتے ہوئے فرمایا کہ ہاں جب تک تم ان جرائم سے باز نہیں آؤ گے میں تمہیں ٹوکتا رہوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ آیات کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے سچ بولنے کا وعدہ لیا ہے جس کی پاسداری کرنا ہمارا فرض ہے۔ (تفسیررازی) مسائل ١۔” اللہ ” کے پیغمبر صرف ” اللہ “ ہی سے ڈرتے ہیں اور لوگوں سے نہیں ڈرتے تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی ہوا کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔ ١۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : ٣) ٢۔ احد کے غازیوں نے کہا ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور وہی ہمیں کافی ہے۔ (آل عمران : ١٧٣) ٣۔ میرے بندوں پر شیطان کی کوئی دلیل کار گر نہ ہوگی اور تیرا رب تجھے کافی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٥) ٤۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اللہ کافی ہے ولی اور مددگار۔ (النساء : ٤٥) ٥۔ ان سے اعراض کیجیے اور اللہ پر توکل کیجیے اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : ٨١) ٦۔ اللہ ہی کے لیے آسمان و زمین کی بادشاہت ہے اور اللہ کارساز کافی ہے۔ (النساء : ١٧١) ٧۔ اللہ پر توکل کیجیے، وہی کارساز کافی ہے۔ (الاحزاب : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ) (نبی پر اس بارے میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے ان کے لیے مقرر فرما دیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو مقدور فرما دیا اور حلال قرار دے دیا اس کے بارے میں نبی پر کوئی الزام و مواخذہ نہیں، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی الزام نہیں تو مخلوق کو اعتراض کرنے کا اور طعن وتشنیع کا کوئی حق نہیں۔ (سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ) (جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا یہی طریقہ رکھا ہے) یعنی سابقین انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ان کے لیے بہت سی چیزوں کو حلال قرار دیا ان پر انہوں نے بےتکلف عمل کیا اور مخلوق کے طعن وتشنیع کا بالکل خیال نہ کیا، حضور خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس پر عمل کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال تھی اسے اپنے نکاح میں لے لیا (قال صاحب الروح : سنۃ اللّٰہ ای سن اللّٰہ تعالیٰ ذلک سنۃ فھو مصدر منصوب بفعل مقدر من لفظہ والجملۃ مؤکدۃ لما قبلھا من نفی الحرج فی الذین من قبل، ای من قبلک من الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام من حیث لم یحرج جل شانہ علیھم فی الاقدام علی ما حللھم ووسع لھم فی باب النکاح وغیرہ) (جلد ٢٢ ص ٢٧) (وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا) (اور اللہ کا حکم مقرر کیا ہوا ہے) یہ مضمون سابق کی تاکید ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کوئی بات طے کردی ہے کہ ایسا ہونا ہی ہونا ہے اور فلاں حکم دینا ہے اور اس پر عمل کرانا ہے تو اس کا وجود بھی ضروری ہے اور شرعی اصول کے مطابق اس کی حلت اور جواز کو بھی ظاہر کرنا ہے پس ایسی صورت میں کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

41:۔ ما کان علی الخ، یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چوتھا خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے لیے جو حکم صادر و مقدور فرمادیا ہے اس پر عمل کرنے میں اس کے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ ہونی چاہیے اور نہ اس سے پیغمبر (علیہ السلام) پر کوئی الزام ہی آسکتا ہے۔ گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) میں بھی اللہ کی سنت جاریہ یہی تھی کہ جائز کاموں کے کرنے میں ان پر کوئی الزام و اعتراض کی گنجائش نہ تھی۔ ای من قبلک من الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حیث لم یحرج جل شانہ علیھم الاقدام علی ما احل لھم ووسع علیہم فی باب النکاح وغیرہ (روح ج 22 ص 27) ۔ اب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے چونکہ متبنی کی مطلقہ سے نکاح کو جائز کردیا ہے اس لیے زید کی مطلقہ سے نکاح کرلینے میں آپ پر کوئی الزام نہیں۔ الذین یبلغون الخ، یہ الذین خلوا الخ کی صفت ہے وہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) جو اللہ تعالیٰ کے پیغام لوگوں تک پہنچاتے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے اور نہ کسی کی ملامت کی پرواہ کرتے تھے۔ وکفی باللہ حسیبا، اللہ تعالیٰ مخاوف و خطرات میں کافی ہے اس لیے اس کے سوا کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں ای کافیا للمخاوف (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38۔ اللہ تعالیٰ نے جو بات نبی کے لئے مقرر کردی اس بات کے کرنے میں نبی پر کوئی الزام اور کچھ مضائقہ نہیں اللہ تعالیٰ کا یہی معمول اور یہی دستور ان لوگوں میں بھی رہا ہے جو پہلے ہو گزرے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم تو پہلے سیت جو یز شدہ ہوا کرتا ہے۔