Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 43

سورة الأحزاب

ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ کَانَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿۴۳﴾

It is He who confers blessing upon you, and His angels [ask Him to do so] that He may bring you out from darknesses into the light. And ever is He, to the believers, Merciful.

وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے ( تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ) تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالٰی مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَيِكَتُهُ ... He it is Who sends Salah on you, and His angels too, This is encouragement to remember Allah, i.e., He will remember you, so remember Him. This is like the Ayah: كَمَأ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنْكُمْ يَتْلُواْ عَلَيْكُمْ ايَـتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواْ تَعْلَمُونَ فَاذْكُرُونِى أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُواْ لِي وَلاَ تَكْفُرُونِ Similarly, We have sent among you a Messenger of your own, reciting to you Our Ayat and purifying you, and teaching you the Book and the Hikmah, and teaching you that which you used not to know. Therefore remember Me. I will remember you, and be grateful to Me and never be ungrateful to Me. (2:151-152) The Prophet said: يَقُولُ اللهُ تَعَالَى مَنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِييَنفْسِي وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي مَلٍَ ذَكَرْتُهُ فِي مَلٍَ خَيْرٍ مِنْه Allah says: "Whoever remembers Me to himself, I will remember him to Myself, and whoever remembers Me in a gathering, I will remember him in a better gathering." The Meaning of Salah Allah's Salah means that He praises His servant before the angels, as Al-Bukhari recorded from Abu Al-Aliyah. This was recorded by Abu Jafar Ar-Razi from Ar-Rabi bin Anas from Anas. Others said: "Allah's Salah means mercy." It may be said that there is no contradiction between these two views. And Allah knows best. Salah from the angels means their supplication and seeking forgiveness for people, as Allah says: الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُوْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُـلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَاتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَأيِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَقِهِمُ السَّيّيَـتِ Those who bear the Throne and those around it glorify the praises of their Lord, and believe in Him, and ask forgiveness for those who believe (saying): "Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge, so forgive those who repent and follow Your way, and save them from the torment of the blazing Fire! Our Lord! And make them enter the `Adn Garden which you have promised them -- and to the righteous among their fathers, their wives, and their offspring! Verily, You are the All-Mighty, the All-Wise. And save them from the sins." (40:7-9) ... لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ... that He may bring you out from darkness into light. means, by means of His mercy towards you, His praise of you and the supplication of His angels for you, He brings you forth from the darkness of ignorance and misguidance into the light of guidance and certain faith. ... وَكَانَ بِالْمُوْمِنِينَ رَحِيمًا And He is Ever Most Merciful to the believers. means, in this world and in the Hereafter: in this world He guides them to the truth of which others are ignorant, and He shows them the path from which others have gone astray, those who call for disbelief and innovation, and their followers among the wrongdoers. His mercy towards them in the Hereafter means that He will save them from the greater terror (of the Day of Resurrection) and will command His angels to greet them with the glad tidings of Paradise and salvation from the Fire, which will only be because of His love for them and His kindness towards them. Imam Ahmad recorded that Anas, may Allah be pleased with him, said: "The Messenger of Allah and a group of his Companions, may Allah be pleased with them, passed by a young child in the road. When his mother saw the people, she feared that her child may be crushed by the crowd, so she rushed forward, crying, `My son, my son!' She ran and picked him up, and the people said, `O Messenger of Allah, she would never throw her child in the Fire.' The Messenger of Allah convincingly said: لاَا وَاللهِ لاَايُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّار No, and Allah will not throw His beloved in the Fire. Its chain of narrators meets the conditions of the Two Sahihs, although none of the authors of the Six Books recorded it. But in Sahih Al-Bukhari it is recorded from the Commander of the faithful Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah saw a woman among the prisoners of war picking up her child, clasping the child to her breast and nursing him. The Messenger of Allah said: أَتُرَوْنَ هَذِهِ تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ Do you think that this woman would throw her child into the Fire even though she is (physically) able to do so? They said, "No." The Messenger of Allah said: فَوَاللهِ للهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا By Allah, Allah is more merciful towards His servants than this woman is to her child.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦٩] صحابہ کرام (رض) پر صلوٰۃ وسلام :۔ یصلی کا صلہ علیٰ اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی اللہ کا بندے پر اپنی مہربانی اور رحمت نازل کرنا ہوتا ہے اور اگر یہ نسبت فرشتوں کی طرف ہو تو دعائے رحمت کرنا اور اگر بندے کی طرف ہو تو اس کے معنی دعائے رحمت بھی، دعائے جنازہ بھی اور نماز جنازہ بھی اور درود پڑھنا اور بھیجنا بھی ہوتا ہے۔ اسی سورة کی آیت نمبر ٥٦ میں مذکور ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت اور دعائے رحمت بھیجتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے صحابہ کرام (رض) اور پیروکاروں کو بھی اس فضل و رحمت میں شریک فرمایا۔ [ ٧٠] یعنی اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنے کے نتیجہ میں اللہ تم پر اپنی رحمت فرماتا ہے اور یہ رحمت فرشتوں کے توسط سے نازل ہوتی ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ تمہیں کفر کی جہالتوں سے چھٹکارا حاصل ہوا اور علم اور ایمان کی روشنی اور دولت نصیب ہوئی اور اس میں ہر آن اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ ۔۔ : صلاۃ کا معنی رحمت بھی ہے، ذکر خیر بھی اور دعا بھی۔ صحیح بخاری میں ابو العالیہ سے نقل ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کی صلاۃ کا مطلب اس کا فرشتوں کے پاس تعریف کرنا ہے اور فرشتوں کی صلاۃ کا مطلب دعا کرنا ہے۔ “ قاموس میں ہے : ” اَلصَّلَاۃُ الدُّعَاءُ وَالرَّحْمَۃُ وَالْإِسْتِغْفَارُ وَ حَسَنُ الثَّنَاءِ مِنَ اللّٰہِ عزَّ وَجَلَّ عَلٰی رَسُوْلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ عِبَادَۃٌ فِیْھَا رُکُوْعٌ وَ سُجُوْدٌ، اسْمٌ یُوْضَعُ مَوْضِعَ الْمَصْدَرِ “ ” صلاۃ سے مراد دعا، رحمت، استغفار، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف اور رکوع و سجود والی عبادت ہے۔ یہ اسم ہے جو مصدر کے قائم مقام ہے۔ “ 3 فرشتوں کی صلاۃ سے مراد مسلمانوں کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا ہے۔ اس کی دلیل ابوہریرہ (رض) سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ الْمَلاَءِکَۃَ تُصَلِّيْ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِيْ مُصَلاَّہُ مَا لَمْ یُحْدِثْ ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ ، اللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ ، لَا یَزَالُ أَحَدُکُمْ فِيْ صَلاَۃٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَۃُ تَحْبِسُہُ ، لَا یَمْنَعُہُ أَنْ یَنْقَلِبَ إِلٰی أَہْلِہِ إِلاَّ الصَّلَاۃُ ) [ بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد ینتظر الصلاۃ۔۔ : ٦٥٩ ] ” یقیناً فرشتے تم میں سے ہر اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جو اپنی نماز کی جگہ میں رہے، جب تک وہ بےوضو نہ ہو کہ اے اللہ ! اسے بخش دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔ جب تک نماز نے اسے گھر جانے سے روک رکھا ہو، نماز کے سوا اسے کوئی چیز مانع نہ ہو۔ “ سورة مومن کی آیات (٧ تا ٩) میں بھی فرشتوں کی اس دعا کا ذکر ہے جو وہ مومنوں کے لیے کرتے ہیں۔ 3 اس آیت کا پچھلی آیت سے تعلق دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ پچھلی آیت میں اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم دیا، اس آیت میں اس کا نتیجہ بیان فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو گے تو وہ فرشتوں کے سامنے تمہارا ذکر خیر کرے گا، لوگوں میں تمہاری اچھی شہرت فرمائے گا، تم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمہارے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں گے۔ اس رحمت و مغفرت کے ذریعے سے دنیا میں وہ تمہیں جہالت اور نافرمانی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور علم و عمل کی روشنی میں لے آئے گا۔ اور قیامت کے دن عطا ہونے والی نعمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ ، وَ أَنَا مَعَہُ إِذَا ذَکَرَنِيْ ، فَإِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ نَفْسِہِ ذَکَرْتُہُ فِيْ نَفْسِيْ ، وَ إِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ مَلَأٍ ذَکَرْتُہُ فِيْ مَلَأٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ ، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ بَاعًا، وَ إِنْ أَتَانِيْ یَمْشِيْ أَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃً ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : ( و یحذرکم اللہ نفسہ ) ۔۔ : ٧٤٠٥ ] ” میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے، سو اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہو تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں دونوں ہاتھ پھیلانے کے برابر اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔ “ دوسری طرح اس کا پہلی آیات سے تعلق یہ ہے کہ اس آیت میں ذکر کثیر اور صبح و شام تسبیح کا حکم دینے کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تمہارے کسی استحقاق کے بغیر محض اپنی بےپایاں رحمت کی وجہ سے تم پر صلاۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں، تاکہ وہ تمہیں دنیا میں اندھیروں سے روشنی میں لائے اور آخرت میں اجر کریم عطا کرے۔ سو تم پر لازم ہے کہ ایسے مہربان رب کا ذکر کثیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : (كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ) [ البقرۃ : ١٥١، ١٥٢ ] ” جس طرح ہم نے تم میں ایک رسول تمھی سے بھیجا ہے، جو تم پر ہماری آیات پڑھتا اور تمہیں پاک کرتا اور تمہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ سو تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔ “ یعنی ہمارے رسول بھیجنے کی نعمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم میرا ذکر کرو اور میرا شکر کرو۔ وَكَان بالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا : یعنی ان تمام مہربانیوں کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ایمان والوں پر بیحد رحم کرنے والا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم ” کان “ کا لفظ ادا کر رہا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت دوسری نعمتوں کے ساتھ انھیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانا ہے اور آخر ت میں اس کی رحمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ (He is such that He and His angels send blessings to you. 33:43) It means that when you have become used to dhikrullah in abundance and have become regular in recounting the perfections of Allah morning and evening, Allah would honor you and respect you by bestowing His Blessings and by the angels supplicating for you. The word &Salah& has been used in this verse for Allah Ta’ ala as well as for the angels but the applicable meaning are different. For Allah it means His bestowing blessings, and for angels who have no volition on their own, it means their supplication to Allah to bestow His blessings.

(آیت) ہو الذین یصلی علیکم وملئکة، یعنی جب تم ذکر اللہ کی کثرت کے عادی ہوگئے اور صبح و شام کی تسبیح پر مداومت کرنے لگے تو اس کا اعزازو اکرام اللہ کے نزدیک یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمہارے لئے دعا کریں گے۔ آیت مذکورہ میں لفظ صلوٰة اللہ تعالیٰ کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور فرشتوں کے لئے بھی، لیکن مصداق صلوٰة کا الگ الگ ہے۔ اللہ کی صلوٰة تو یہ ہے کہ وہ رحمت نازل فرمائے، اور فرشتے خود تو کسی کام پر قادر نہیں ان کی صلوٰة یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نزول رحمت کی دعا مانگیں۔ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ صلوٰة اللہ کی طرف سے رحمت ہے اور فرشتوں کی طرف سے استغفار یعنی دعا مغفرت اور باہمی ایک دوسرے کی دعا، لفظ صلوٰة ان تینوں معنی کے لئے شامل ہے جو عموم مشترک جائز قرار دیتے ہیں، ان کے نزدیک یہ لفظ معنی میں مشترک ہے، اور تینوں مراد ہیں جو عموم مشترک کو قواعد عربیہ کی رو سے جائز نہیں سمجھتے وہ بطور عموم مجاز کے ان سب معنوں پر لفظ صلوٰة کا اطلاق قرار دیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہُوَالَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُہٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝ ٠ ۭ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا۝ ٤٣ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ ظلم) تاریکی) الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ، أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] ( ظ ل م ) الظلمۃ ۔ کے معنی میں روشنی کا معدوم ہونا اس کی جمع ظلمات ہے ۔ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے ) جیسے دریائے عشق میں اندھیرے ۔ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ( غرض ) اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک چھایا ہوا ۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] بتاؤ برو بحری کی تاریکیوں میں تمہاری کون رہنمائی کرتا ہے ۔ وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] اور تاریکیاں اور روشنی بنائی ۔ اور کبھی ظلمۃ کا لفظ بول کر جہالت شرک اور فسق وفجور کے معنی مراد لئے جاتے ہیں جس طرح کہ نور کا لفظ ان کے اضداد یعنی علم وایمان اور عمل صالح پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے ۔ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ نور ( روشنی) النّور : الضّوء المنتشر الذي يعين علی الإبصار، وذلک ضربان دنیويّ ، وأخرويّ ، فالدّنيويّ ضربان : ضرب معقول بعین البصیرة، وهو ما انتشر من الأمور الإلهية کنور العقل ونور القرآن . ومحسوس بعین البصر، وهو ما انتشر من الأجسام النّيّرة کالقمرین والنّجوم والنّيّرات . فمن النّور الإلهي قوله تعالی: قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] ، وقال : وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] ( ن و ر ) النور ۔ وہ پھیلنے والی روشنی جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے ۔ اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ نور دینوی پھر دو قسم پر ہے معقول جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے یعنی امور الہیہ کی روشنی جیسے عقل یا قرآن کی روشنی دوم محسوس جسکاے تعلق بصر سے ہے جیسے چاند سورج ستارے اور دیگر اجسام نیزہ چناچہ نور الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] بیشک تمہارے خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے ۔ وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] اور اس کے لئے روشنی کردی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے ۔ جو اندھیرے میں پڑا ہو اور اس سے نکل نہ سکے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

خدا کی صلوٰۃ کیا ہے ؟ قول باری ہے (ھوالذی یصلی علیکم وملا ئکتہ۔ وہ ایسا کہ وہ خود اور اس کے فرشتے تمہارے اوپر رحمت بھیجتے رہتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ کے معنی رحمت کے ہیں اور بندوں کی طرف سے صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں۔ اعشی کا شعر ہے۔ علیک مثل الذی صلیت فاغمضی نوما فان لجنب المرء مضطجعا تجھ پر بھی اس جیسی دعائیں اتریں جو تونے بھیجی ہیں اب نیند میں اپنی آنکھیں بند کرلے اور سوجا کیونکہ انسان کے پہلو کے لئے لیٹنے کی جگہ ہوتی ہے۔ معمر نے حسن سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا تھا کہ آیا تمہارا رب نماز پڑھتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات بہت گراں گزری تھی تاہم آپ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھ ہی لیا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ انہیں بتادو کہ اللہ بھی نماز پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز اس کی وہ رحمت ہے جو اس کے غضب پر غالب آگئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تمہارا ایک اصول یہ ہے کہ ایک نقطہ سے دو مختلف معنی نہیں لئے جاتے جبکہ قرآن میں صلاۃ کا لفظ آیا ہے جس کے دو معنی ہیں یعنی رحمت اور دعا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات ہمارے نزدیک مجمل الفاظ کی صورت میں جائز ہے۔ صلاۃ ایک مجمل اسم ہے جو بیان کا محتاج ہے اس لئے اس لفظ میں مختلف معانی کا ارادہ کرنے میں کوئی امتناع نہیں ہے۔ قتادہ نے قول باری (ویسبحوہ بکرۃ واصیلا۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو) کہ تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے چاشت اور عصر کی نمازمراد ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ ایسا ہے کہ تمہاری مغفرت فرما رہتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور وہ تمہیں کفر سے ایمان کی روشنی کی طرف لے آیا ہے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے۔ شان نزول : هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ (الخ) عبد بن حمید نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جس وقت ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی (الخ) یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے جو بھی آپ پر خیر اور اچھائی کی بات نازل کی ہے اس میں ہمیں شریک کیا ہے (اور اس قیام پر شریک نہیں کیا) تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٣ { ہُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ” وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی ‘ تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ “ یہاں پر اہل ایمان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہونے کے حوالے سے وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو اسی سورت کی آیت ٥٦ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے آئے ہیں۔ وہاں فرمایا گیا : { اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ } ” یقینا اللہ اور اس کے فرشتے رحمتیں بھیجتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر “۔ بہر حال یہ آیت مومنین کے حق میں ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ کی رحمتوں اور عنایتوں میں سے ہر اہل ایمان کو بھی حصہ عطا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی اہل ایمان کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔ { وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا } ” اور اہل ایمان کے حق میں وہ بہت مہربان ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

79 This is meant to make the Muslims realize this: 'The jealousy and malice of the disbelievers and hypocrites towards you is only due to the mercy that Allah has shown you through His Messenger. It is through him that you have been blessed with the faith, that you have come out from the darkness of unbelief and ignorance into the light of Islam, that you have developed the high moral and social qualities by virtue of which you stand distinguished above others. It is this which has filled the jealous people with malice and rage against the Messenger of Allah. However, in this state you should not adopt any unbecoming attitude which might alienate you from the mercy of Allah." The word Salat when used with the preposition 'ala by Allah in respect of the servants, it means mercy and kindness and compassion and when used by the angels in respect of the human beings, it means the prayer for mercy. That is, the angels pray to Allah to bless the human beings with His bounty and favours. Another meaning of yusalli 'alaikum is: "Allah biasses you with renown among the people and exalts you to a high rank so that the people begin to praise you and the angels begin to eulogize you."

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :79 اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ کفار و منافقین کی ساری جلن اور کڑھن اس رحمت ہی کی وجہ سے ہے جو اللہ کے اس رسول کی بدولت تمہارے اوپر ہوئی ہے ۔ اسی کے ذریعہ سے ایمان کی دولت تمہیں نصیب ہوئی ، کفر و جاہلیت کی تاریکیوں سے نکل کر تم اسلام کی روشنی میں آئے ۔ اور تمہارے اندر یہ بلند اخلاقی و اجتماعی اوصاف پیدا ہوئے جن کے باعث تم علانیہ دوسروں سے برتر نظر آتے ہو ۔ اسی کا غصہ ہے جو حاسد لوگ اللہ کے رسول پر نکال رہے ہیں ۔ اس حالت میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کر بیٹھنا جس سے تم خدا کی اس رحمت سے محرم ہو جاؤ ۔ صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ کے صلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے حق میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی رحمت ، مہربانی اور شفقت کے ہوتے ہیں ۔ اور جب ملائکہ کی طرف سے انسانوں کے حق میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنی دعائے رحمت کے ہوتے ہیں ، یعنی ملائکہ انسانوں کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ان پر فضل فرما اپنی عنایات سے انہیں سرفراز کر ایک مفہوم یُصَلِّیْ عَلَیکُمْ کا یہ بھی ہے کہ یشیع عنکم الذکر الجمیل فی عباداللہ ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے بندوں کے درمیان ناموری عطا فرماتا ہے اور تمہیں اس درجے کو پہنچا دیتا ہے کہ خلق خدا تمہاری تعریف کرنے لگتی ہے اور ملائکہ تمہاری مدح و ثنا کے چرچے کرتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:43) ھو الذی یصلی علیکم میں ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے یصلی۔ صلی یصلی تصلیۃ (تفعل) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ صلو مادہ سے مشتق ہے الصلوۃ کے معنی دعا دینے تحسین وتبریک کرنے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعا دی، نشوونمادی اور بڑھایا۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے وصل علیہم ان صلوتک سکن لہم (9: ١ 03) اور (اے رسول) آپ ان کے حق میں دعا کریں آپ کی دعا ان کے حق میں باعث تسکین ہے اسی طرح فرشتوں کی طرف سے صلوۃ کے معنی دعا و استغفار ہی آتے ہیں لیکن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے دعا کرنا کے معنی ہیں نشوونمادینا۔ بڑھانا۔ خیروبرکت عطا کرنا۔ چناچہ آیت شریفہ ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما (33: 56) بیشک اللہ تعالیٰ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اپنی برکت اور رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے نبی (علیہ السلام) پر خدا کی رحمت اور برکت کی دعا کرتے ہیں۔ اے ایمان والوں تم بھی ان کے لئے اللہ سے رحمت اور برکت کی دعا کیا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو، میں یہی معنی ہیں۔ الصلوۃ (نماز) بھی چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے اسے صلوۃ کہا جاتا ہے اور یہ تسمیۃ الشیء باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا۔ ھو الذی یصلی علیکم وملئکۃ کے معنی ہوئے۔ وہ (اللہ ) ایسی ذات ہے کہ تم پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل کرتا رہتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمہارے لئے اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں۔ لیخرجکم من الظلمت الی النور۔ میں لام تعلیل کا ہے، خدا کی رحمتیں اور اس کے فرشتوں کی دعائیں اس لئے ہوتی ہیں کہ تمہیں (ظلم وعصیان کی) تاریکیوں سے نکال کر (دین وایمان کے ) نور کی طرف لے آئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس کا رحمت بھیجنا تو رحمت کرنا ہے، اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعا کرنا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کا ذکر لازم ہے اور اس کے بیشمار فوائد ہیں جن میں سے چھ کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ ذکر کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ َ أَنَّ رَسُول اللَّہِ قَالَ إِنَّ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَلاَءِکَۃً فُضُلاً یَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ یَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّکْرِ فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلاَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ حَتَّی یَبْلُغُوا الْعَرْشَ فَیَقُول اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ مِنْ أَیْنَ جِءْتُمْ فَیَقُولُونَ مِنْ عِنْدِ عَبِیدٍ لَکَ یَسْأَلُونَکَ الْجَنَّۃَ وَیَتَعَوَّذُونَ بِکَ مِنَ النَّارِ وَیَسْتَغْفِرُونَکَ فَیَقُولُ یَسْأَلُونِی جَنَّتِی ہَلْ رَأَوْہَا فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا وَیَتَعَوَّذُونَ مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا فَإِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ فَیَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّ فیہِمْ عَبْدَکَ الْخَطَّاءَ فُلاَناً مَرَّ بِہِمْ لِحَاجَۃٍ لَہُ فَجَلَسَ إِلَیْہِمْ فَقَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أُولَءِکَ الْجُلَسَاءُ لاَ یَشْقَی بِہِمْ جَلِیسُہُمْ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّکْرِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے جو ذکر کی مجالس کے متلاشی رہتے ہیں جہاں ذکر ہو رہا ہو ملائکہ وہاں جمع ہوجاتے ہیں اور جب ان کا کسی ایسی مجلس کے پاس گذر ہوتا ہے تو فرشتے ایک دوسرے کے اوپر کھڑے ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں تم کہاں سے آئے ہو۔ حالانکہ اللہ کو علم ہے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔ فرشتے عرض کرتے ہیں۔ ” اللہ “ تیرے بندوں کے ہاں سے آئے ہیں، وہ تجھ سے تیری جنت کے طلب گار ہیں اور تیری جہنم سے پناہ مانگتے ہیں اور تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں وہ مجھ سے جنت مانگ رہے تھے کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے۔ اگر وہ جنت کو دیکھ لیں تو ان کی کیفیت کیا ہو ؟ اور وہ جہنم سے پناہ مانگ رہے ہیں اگر وہ جہنم کو دیکھ لیں تو ان کی حالت کیا ہو ؟ میں نے انہیں معاف کردیا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ان میں ایک فلاں گناہگار بھی ہے جو اپنی ضرورت کے تحت آیا اور وہاں بیٹھ گیا۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس مجلس میں بیٹھنے والے ایسے نیک بخت ہیں کہ ان کی وجہ سے اسے بھی رحمت سے محروم نہیں کیا جاتا۔ “ ملائکہ کی دعائیں : جب کوئی شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے تو نہ صرف اس پر رب کریم کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے بلکہ اس دورانیہ میں ملائکہ اسکے لیے دعا گو رہتے ہیں۔ ذکر کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے اور ملائکہ اس کے لیے خیر و برکت کی دعائیں کرتے ہیں ذکر کرنے سے انسان شیطان کے تسلط سے نجات پاتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسے ہر ظلمت سے نکال کر نوربصیرت اور نورشریعت سے ہمکنار کرتا ہے۔ ” عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، شیطان انسان کے دل کے ساتھ چمٹا رہتا ہے جب آدمی اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان اس سے دور ہوجاتا ہے۔ جب انسان اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : تعلیقاً ] ذکر کا صرف یہ معنٰی نہیں کہ انسان زبان سے ” اللہ، اللہ “ کرتا رہے اور عمل کی دنیا میں جو چاہے کرتا پھرے۔ ایسے شخص کو دنیا میں ذکر کرنے کا ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ ہوگا لیکن قیامت کے دن اسے کچھ نہیں ملے گا۔ ذکر کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان شرک و بدعت سے اجتناب کرے اور اپنے آپ کو اپنے رب کے تابع کردے۔ ایسے شخص کو دنیا میں ذکر کے فوائد سے سر فراز کیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے لیے رب کریم نے اجر کریم تیار کر رکھا ہے۔ مسائل اس آیت میں بیان ہونے والے ذکر کے چھ فوائد : ١۔ ذکر کرنے والے پر اللہ کا فضل نازل ہوتا ہے۔ ٢۔ ذکر کرنے والے کے لیے ملائکہ دعائیں کرتے ہیں۔ ٣۔ ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ظلمت سے نکال کر نورہدایت نصیب کرتا ہے۔ ٤۔ موت کے وقت ملائکہ اسے سلام کرتے ہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ذکر کرنے والے پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔ ٦۔ ذاکر کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِعظیم تیار کر رکھا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مسموع نہیں بجز اس کے کہ عقل و حواس ہی نہ رہیں اور بےہوش ہوجائے۔ تیسری آیت میں یہ فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓءِکَتُہٗ ) کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لیے استغفار کرتے ہیں) اس میں جو لفظ یُصَلِّیْ وارد ہوا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور فرشتوں کی طرف بھی حضرات اکابر علماء نے فرمایا ہے کہ صلوٰۃ کی نسبت جو اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس سے رحمت مراد ہے، یعنی اے مومنو ! اللہ تم پر رحمت بھیجتا ہے۔ اور فرشتوں کی طرف جو صلوٰۃ کی نسبت ہے اس سے استغفار مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے تمہارے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں (کما فی سورة المومن) (وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) مزید فرمایا (لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ) کہ تم پر اللہ کی رحمت ہونا اور تمہارے لیے فرشتوں کا استغفار کرنا اس لیے ہے کہ اللہ تمہیں اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکالے یعنی جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور یقین کے نور سے منور فرمائے۔ (وَکَان بالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا) (اور اللہ مومنین پر رحم فرمانے والا ہے) یعنی وہ اہل ایمان پر دنیا میں بھی رحم فرماتا ہے اور آخرت میں بھی رحم فرمائے گا، دنیا میں ایمان کی دولت سے نوازا، کفر سے اور شرک سے اور بدعت سے بچایا، کھانے پینے اور پہننے اور برتنے کے لیے پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور آخرت میں انہیں امن و چین، اطمینان اور نجات عطا فرمائے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اور فرشتے بشارت دیتے ہوئے ان سے ملاقات کریں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

44:۔ ھو الذی الخ، اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت مہربان ہے اور مسلسل ان پر رحمت نازل فرماتا ہے اور انہیں گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے معمور ومنور کرتا ہے اور اللہ کے فرشتے بھی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت کی درخواست کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تم پر ایسا مہربان ہے تو تم بھی اسے یاد رکھو۔ اس کی اطاعت کرو اور اس کی تسبیح و تمجید میں مصروف رہو۔ تو وہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

43۔ وہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تم پر رحمت بھیجتارہتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لئے استغفار کیا کرتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ تم کو گناہوں کی تاریکیوں سے طاعت و فرمانبرداری کی روشنی کی جانب نکال لائے۔ اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر نہایت مہربان ہے۔ فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں مسلمانوں کیلئے یا استغفار کرتے ہیں اور ظلمات سے مراد معاصی کی تاریکیاں ہیں یا شک کی اسی مناسبت سے نور سے مراد طاعت کی روشنی ہے بالیقین کی روشنی ۔ خلاصہ۔ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مختلف تاریکیوں سے خواہ معاصی کی اندھیریاں ہوں یا شکوک و شبہات کی ہوں ان تاریکیوں سے نکاح کر طاعت اور یقین کی روشنی اور نور کی جانب لاتا ہے اور مسلمانوں پر بہت قربان ہے کہ دنیا میں ان کو ایمان کی نعمت اور اسلام کی دولت سے سرفراز فرمایا اور آخرت میں بھی ان کو رحمت اور مہربانی کا مورد وقرار دیا ۔