Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 52

سورة الأحزاب

لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲﴾  3

Not lawful to you, [O Muhammad], are [any additional] women after [this], nor [is it] for you to exchange them for [other] wives, even if their beauty were to please you, except what your right hand possesses. And ever is Allah , over all things, an Observer.

اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ ( درست ہے ) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے ( نکاح کرے ) اگرچہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو مگر جو تیری مملوکہ ہوں اور اللہ تعالٰی ہرچیز کا ( پورا ) نگہبان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Reward of His Wives for choosing to stay with the Messenger Allah says: لاَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِن بَعْدُ وَلاَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا It is not lawful for you (to marry other) women after this, nor to change them for other wives even though their beauty attracts you, except those whom your right hand possesses. And Allah is Ever a Watcher over all things. More than one of the scholars, such as Ibn Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ibn Jarir and others stated that this Ayah was revealed as a reward to the wives of the Prophet expressing Allah's pleasure with them for their excellent decision in choosing Allah and His Messenger and the Home of the Hereafter, when the Messenger of Allah , gave them the choice, as we have stated above. When they chose the Messenger of Allah their reward was that Allah restricted him to these wives, and forbade him to marry anyone else or to change them for other wives, even if he was attracted by their beauty -- apart from slave-girls and prisoners of war, with regard to whom there was no sin on him. Then Allah lifted the restriction stated in this Ayah and permitted him to marry more women, but he did not marry anyone else, so that the favor of the Messenger of Allah towards them would be clear. Imam Ahmad recorded that A'ishah, may Allah be pleased with her, said: "The Messenger of Allah did not die until Allah permitted (marriage to other) women for him." It was also recorded by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in their Sunans. On the other hand, others said that what was meant by the Ayah, لاَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِن بَعْدُ (It is not lawful for you (to marry other) women after this, means, `after the description We have given of the women who are lawful for you, those to whom you have given their dowry, those whom your right hand possesses, and daughters of your paternal uncles and aunts, maternal uncles and aunts, and those who offer themselves to you in marriage -- other kinds of women are not lawful for you.' This view was narrated from Ubayy bin Ka`b, from Mujahid in one report which was transmitted from him, and others. At-Tirmidhi recorded that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah was forbidden to marry certain kinds of women apart from believing women who had migrated with him, in the Ayah, لاَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِن بَعْدُ وَلاَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ يَمِينُك It is not lawful for you (to marry other) women after this, nor to change them for other wives even though their beauty attracts you, except those whom your right hand possesses. Allah has made lawful believing women, and believing women who offered themselves to the Prophet for marriage, and He made unlawful every woman who followed a religion other than Islam, as Allah says: وَمَن يَكْفُرْ بِالاِيمَـنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ And whosoever disbelieves in faith, then fruitless is his work. (5:5) Ibn Jarir, may Allah have mercy on him, stated that this Ayah is general in meaning and applies to all the kinds of women mentioned and the women to whom he was married, who were nine. What he said is good, and may be what many of the Salaf meant, for many of them narrated both views from him, and there is no contradiction between the two. And Allah knows best. ... وَلاَ أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ ... nor to change them for other wives even though their beauty attracts you, He was forbidden to marry more women, even if he were to divorce any of them and wanted replace her with another, except for those whom his right hand possessed (slave women).

ازواج مطہرات کا عہد و فا ۔ پہلی آیتوں میں گذر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہو جائیں ۔ لیکن امہات المومنین نے دامن رسول کو چھوڑنا پسند نہ فرمایا ۔ اس پر انہیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلہ یہ بھی ملا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت میں حکم ہوا کہ اب اس کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کر سکتے نہ آپ ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں گو وہ کتنی ہی خوش شکل کیوں نہ ہو؟ ہاں لونڈیوں اور کنیزوں کی اور بات ہے اس کے بعد پھر رب العالمین نے یہ تنگی آپ پر سے اٹھالی اور نکاح کی اجازت دے دی لیکن خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سے کوئی اور نکاح کیا ہی نہیں ۔ اس حرج کے اٹھانے میں اور پھر عمل کے نہ ہونے میں بہت بڑی مصلحت یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان اپنی بیویوں پر رہے ۔ چنانچہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آپ کے انتقال سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اور عورتیں بھی حلال کر دی تھیں ( ترمذی نسائی وغیرہ ) حضرت ام سلمہ سے بھی مروی ہے ۔ حلال کرنے والی آیت ( تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا 51؀ ) 33- الأحزاب:51 ) ، ہے جو اس آیت سے پہلے گذر چکی ہے بیان میں وہ پہلے ہے اور اترنے میں وہ پیچھے ہے ۔ سورہ بقرہ میں بھی اس طرح عدت وفات کی پچھلی آیت منسوخ ہے اور پہلی آیت اس کی ناسخ ہے ۔ واللہ اعلم ۔ اس آیت کے ایک اور معنی بھی بہت سے حضرات سے مروی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں مطلب اس سے یہ ہے کہ جن عورتوں کا ذکر اس سے پہلے ہے ان کے سوا اور حلال نہیں جن میں یہ صفتیں ہوں وہ ان کے علاوہ بھی حلال ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب سے سوال ہوا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بیویاں تھیں اگر وہ آپ کی موجودگی میں انتقال کرجائیں تو آپ اور عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے تھے؟ آپ نے فرمایا یہ کیوں؟ تو سائل نے لایحل والی آیت پڑھی ۔ یہ سن کر حضرت ابی نے فرمایا اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ عورتوں کی جو قسمیں اس سے پہلے بیان ہوئی ہیں یعنی نکاحتا بیویاں ، لونڈیاں ، چچا کی ، پھوپیوں کی ، مامو اور خالاؤں کی بیٹیاں ہبہ کرنے والی عورتیں ۔ ان کے سوا جو اور قسم کی ہوں جن میں یہ اوصاف نہ ہوں وہ آپ پر حلال نہیں ہیں ۔ ( ابن جریر ) ابن عباس سے مروی ہے کہ سوائے ان مہاجرات مومنات کے اور عورتوں سے نکاح کرنے کی آپ کو ممانعت کر دی گئی ۔ غیر مسلم عورتوں سے نکاح حرام کر دیا گیا قرآن میں ہے ( وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ Ĉ۝ۧ ) 5- المآئدہ:5 ) یعنی ایمان کے بعد کفر کرنے والے کے اعمال غارت ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے آیت ( يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِيْ هَاجَرْنَ مَعَكَ ۡ وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا ۤ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 50؀ ) 33- الأحزاب:50 ) ، میں عورتوں کی جن قسموں کا ذکر کیا وہ تو حلال ہیں ان کے ماسوا اور حرام ہیں ۔ مجاہد فرماتے ہیں ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں ۔ ابو صالح فرماتے ہیں ان کے سوا ہر قسم کی عورتیں خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ یہودیہ ہوں خواہ نصرانیہ سب حرام ہیں ۔ ابو صالح فرماتے ہیں کہ اعرابیہ اور انجان عورتوں سے نکاح سے روک دیئے گئے ۔ لیکن جو عورتیں حلال تھیں ان میں سے اگر چاہیں سینکڑوں کرلیں حلال ہیں ۔ الغرض آیت عام ہے ان عورتوں کو جو آپ کے گھر میں تھیں اور ان عورتوں کو جن کی اقسام بیان ہوئیں سب کو شامل ہے اور جن لوگوں سے اس کے خلاف مروی ہے ان سے اس کے مطابق بھی مروی ہے ۔ لہذا کوئی منفی نہیں ۔ ہاں اس پر ایک بات باقی رہ جاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ کو طلاق دے دی تھی پھر ان سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت سودہ کے فراق کا بھی ارادہ کیا تھا جس پر انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیا تھا ۔ اس کا جواب امام ابن جریر نے یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے ۔ بات یہی ہے لیکن ہم کہتے ہیں اس جواب کی بھی ضرورت نہیں ۔ اس لئے کہ آیت میں ان کے سوا دوسریوں سے نکاح کرنے اور انہیں نکال کر اوروں کو لانے کی ممانعت ہے نہ کہ طلاق دینے کی ، واللہ اعلم ۔ سودہ والے واقعہ میں آیت ( وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭوَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭوَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا ١٢٨؁ ) 4- النسآء:128 ) اتری ہے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ ابو داؤد وغیرہ میں مروی ہے ۔ ابو یعلی میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ کے پاس ایک دن آئے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں پوچھا کہ شاید تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ۔ سنو اگر رجوع ہو گیا اور پھر یہی موقعہ پیش آیا تو قسم اللہ کی میں مرتے دم تک تم سے کلام نہ کروں گا ۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو زیادہ کرنے سے اور کسی کو نکال کر اس کے بدلے دوسری کو لانے سے منع کیا ہے ۔ مگر لونڈیاں حلال رکھی گئیں ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت میں ایک خبیث رواج یہ بھی تھا کہ لوگ آپس میں بیویوں کا تبادلہ کر لیا کرتے تھے یہ اپنی اسے دے دیتا تھا اور وہ اپنی اسے دے دیتا تھا ۔ اسلام نے اس گندے طریقے سے مسلمانوں کو روک دیا ۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ عینیہ بن حصن فزاری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ اور اپنی جاہلیت کی عادت کے مطابق بغیر اجازت لئے چلے آئے ۔ اس وقت آپ کے پاس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آپ نے فرمایا تم بغیر اجازت کیوں چلے آئے؟ اس نے کہا واہ! میں نے تو آج تک قبیلہ مفر کے خاندان کے کسی شخص سے اجازت مانگی ہی نہیں ۔ پھر کہنے لگا یہاں آپ کے پاس کون سی عورت بیٹھی ہوئی تھیں؟ آپ نے فرمایا یہ ام المومنین حضرت عائشہ تھیں ۔ تو کہنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیں میں ان کے بدلے اپنی بیوی آپ کو دیتا ہوں جو خوبصورتی میں بےمثل ہے ۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنا حرام کر دیا ہے ۔ جب وہ چلے گئے تو مائی صاحبہ نے دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون تھا ؟ آپ نے فرمایا ایک احمق سردار تھا ۔ تم نے ان کی باتیں سنیں؟ اس پر بھی یہ اپنی قوم کا سردار ہے ۔ اس روایت کا ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بالکل گرے ہوئے درجے کا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

52۔ 1 آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت کے ساتھ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ازواج کے علاوہ (جن کی تعداد 9 تھی اور دیگر عورتوں سے نکاح کرنے یا ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی نکاح نہیں کیا (ابن کثیر) 52۔ 2 یعنی لونڈیاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بعض نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کافر لونڈی بھی رکھنے کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اجازت تھی اور بعض نے ( وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ ) 60 ۔ الممتحنہ :10) کے پیش نظر اسے آپ کے لیے حلال نہیں سمجھا (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٤] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آپ کو جن چار قسم کی بیویوں سے نکاح کرلینے کی اجازت دی جاچکی ہے ان کے علاوہ دوسری عورتیں آپ پر حلال نہیں بس یہی کافی ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بیویاں اس بات پر آمادہ ہوگئی ہیں کہ جو آپ کی طرف سے روکھا سوکھا ملے اس بات پر وہ صابر و شاکر رہیں۔ اور باری کا مطالبہ کرکے بھی آپ کو پریشان نہ کریں نہ اسے وجہ نزاع بنائیں تو اب آپ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ ان صابر و شاکر بیویوں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ کوئی اور لے آئیں۔ خواہ وہ خوبصورت ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو بھی اب انھیں بیویوں پر صابر و شاکر رہنا چاہئے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد جس عورت سے شادی کرنا چاہے، اسے دیکھنا درست ہے۔ اور احادیث صحیحہ میں اس کی صراحت مذکور ہے۔ [٨٥] کنیزوں کی رخصت کا غلط استعمال :۔ یعنی کنیزوں کی تعداد پر شریعت نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ کیونکہ ان کا انحصار کسی جنگ میں قیدی عورتوں پر ہوتا ہے۔ اور یہ مستقبل کے حالات ہیں جو کبھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن اس اجازت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ نواب اور امیر کبیر حضرات عیش و عشرت کے لئے جتنی کنیزیں چاہیں خرید خرید کر اپنے گھروں اور محلات کے اندر ڈالتے جائیں یہ اس اجازت کا غلط استعمال ہے۔ آپ کی کنیزیں صرف دو تھیں ایک ماریہ قبطیہ جن کے بطن سے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے اور دوسری ریحانہ (رضی اللہ عنہما)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ ۔۔ : پچھلی آیات میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہوجائیں، لیکن جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑنا پسند نہ کیا اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دی تو انھیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلا یہ ملا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ اب آپ ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرسکتے، نہ ہی ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں، گو اس کا حسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ یہ صراحت اس لیے فرمائی کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ بیویوں کی تعداد نو (٩) سے زیادہ کرنا جائز نہیں، ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کے بدلے میں بیوی لا کر نو کا عدد پورا کرلیں تو اجازت ہے۔ فرمایا، انھیں طلاق دے کر ان کی جگہ بھی اور بیویاں لانے کی اجازت نہیں، خواہ نو سے زیادہ نہ بھی ہوں۔ ہاں، لونڈیوں کی بات دوسری ہے، ان پر کوئی پابندی نہیں۔ 3 ابن جریر طبری نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار کی ہے کہ پچھلی آیت (٥٠) : ( اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ ۔۔ ) میں چار قسم کی جو عورتیں آپ کے لیے حلال کی گئی ہیں، ان کے بعد یعنی ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح جائز نہیں۔ نہ موجود بیویوں کو طلاق دے کر ان کی جگہ اور بیوی لانا جائز ہے۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں امہات المومنین کے بلند مرتبے کا اظہار ہو رہا ہے۔ ” وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ حُسْنُهُنَّ “ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو آدمی اسے دیکھ سکتا ہے۔ وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا : یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے، اس لیے کوئی بھی کام کرتے ہوئے ذہن میں حاضر رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تََرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ ) [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ : ٥٠ ] ” اللہ کی عبادت (اس طرح) کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The pious life of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the issue of polygamy The enemies of Islam have always targeted the issue of polygamy, specially the number of the wives of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for their criticism. But if the whole life of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is kept in view, even the Satan cannot find scope to cast doubts on the character of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . It is a proved fact that his first marriage at the age of twenty-five was with Sayyidah Khadijah 4.U1 who was an aged widow with children and had been married twice before. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) spent his whole prime of life, upto the age of fifty, with that aged wife only. All these fifty years were spent right before the eyes of the people of Makkah who had started his opposition when he was of forty years and had announced his prophethood. His opponents did not leave any stone unturned in harassing and stigmatizing him. They called him a magician, a poet, a mad man, but no enemy could ever find a single chance to cast doubts in his piety, modesty or purity. At the age of fifty, after the death of Sayyidah Khadijah (رض) ، he married Sayyidah Sawdah (رض) who was also a widow. After migration to Madinah, at the age of fifty-four, in the second year of Hijrah, Sayyidah ` A&ishah (رض) came to the Holy Prophet&s home as wife. He married Sayyidah Hafsah رضی اللہ تعالیٰ عنہا a year later and Sayyidah Zainab bint Khuzaymah (رض) a few days after that, who expired a few months later. He married Sayyidah Umm Salamah (رض) a widow with children, in the year 4 of Hijrah. In the year 5 when he was fifty eight years old, he married Sayyidah Zainab hint Jahsh (رض) in accordance with Allah&s order, as detailed in the beginning of the present surah. The rest of the blessed wives entered his house in the last five years. The rules pertaining to the private life of a prophet and his domestic affairs constitute a major portion of a religion. The contribution of these nine blessed wives (رض) to the propagation and education of Islam can be imagined from the fact that Sayyidah ` A&ishah رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، alone narrated two thousand two hundred and ten ahadith and Sayyidah Umm Salamah (رض) narrated three hundred and sixty-eight ahadith which have been collected in reliable books. Hafiz Ibn al-Qayyim, in his I&lmul Muwaqqi&in, has commented that the rulings of Shari&ah (fatawa) disclosed by Sayyidah Umm Salamah (رض) would constitute a separate book. More than two hundred noble companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) were disciples of Sayyidah ` A&ishah (رض) who learnt hadith, fiqh (Islamic jurisprudence) and fatawa from her. Another wisdom of bringing a number of the blessed wives (رض) to the house of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was to attract their clans towards Islam. After keeping these facts in view and considering the general pattern of his pure life, can one find any scope for saying that the multiplicity of his wives was, Allah forbid, to fulfill selfish or sexual desires? If this was the case, why the last stage of life would have been selected for this purpose after spending the whole prime of life either in celibacy or with an aged widow. This subject along with the religious, intellectual, biological and economic issues of the polygamy has been thoroughly discussed with full details under the explanation of the third verse of Surah Nisa& in volume II of this book. Seventh Injunction: لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ (No women are lawful for you after this, nor is it lawful that you replace them (the present wives) with other wives, even though their goodness may attract you.- 52), The words مِن بَعْدُ &&after this|" in this verse may be interpreted in two ways. One is that no women are lawful for you after the present wives. Some noble companions and leading commentators have adopted this meaning. Sayyidna Anas |" has stated that when the blessed wives (رض) were given the choice by Allah Ta’ ala to either opt for the pleasure of the worldly life and its charms but separation from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) or to remain with him and be content with every economic condition they may face, all of them gave up their demand for increase in maintenance and elected to remain with him. Allah Ta` ala, as a reward for their decision, restricted the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to those nine wives and it was no more permissible for him to marry other women. (Al-Baihaqi, as quoted by Ruh-ul- Ma’ ani) Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) has stated that Allah Ta’ ala has restricted the blessed wives (رض) exclusively to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in that they could not marry anybody after him. Similarly, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been restricted to the blessed wives in the sense that he could not marry any other women. Sayyidna ` Ikrimah (رض) has also given this explanation as per one narration. The second interpretation of these words, as reported by different authorities, like Ibn ` Abbas, ` Ikrimah and Mujahid (رض) ، according to some narrations is that مِن بَعدِ |"after this|" means it is not lawful for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to marry any women beyond the categories mentioned in the earlier verse. For example, the earlier verse has allowed for him only those women of his parents& families who had migrated from Makkah to Madinah either with him or later, according to his command; similarly the restriction that his wife must be a Muslim has made the Christian or Jewish women unlawful for him. As such the meaning of the words, |"after this|" would be that he cannot marry those women who do not fall in the categories made lawful for him. Thus, according to this explanation, this is not a new injunction; it is rather an elaboration to highlight the consequential outcome of the rule already laid down in the preceding verse. According to this interpretation, this verse does not prohibit marriage with other women after the nine blessed wives (رض) instead, it prohibits marriage with non-Muslims and with women of the parents families who did not migrate, as already known from the previous verse. This second interpretation finds support from a narration of Sayyidah ` A&ishah (رض) to the effect that the permission of further marriages remained applicable for him (even after the revelation of the present verse) وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ |"Nor is it lawful that you replace them (the present wives) with other wives|" - 52. The clear meaning of these words in view of the second explanation of this verse is that although the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is permitted to marry other women besides his present wives subject to the conditions mentioned, yet it is not lawful for him to divorce a wife and to marry another woman to replace her. However, the meaning of these words in view of the first explanation of this verse would be that he can neither marry any woman in addition to the present wives, nor can he replace them by divorcing one and marrying another. Towards the end of these verses it is clarified that a bond woman owned by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is exempt from fifth and seventh rules in the sense that she is lawful for him, even if she is a Christian or Jew, and it is also permitted for him to replace her with another bondwoman. Lastly it has been reminded that Allah Ta’ ala is watchful of everything&s reality, appearance and underlying reasons. All these injunctions and rules are based on divine wisdom and expedience, even if the wisdom is not stated specifically, and hence no one has the right to question them or raise objections against them.

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زاہدانہ زندگی اور اس کے ساتھ تعدد ازواج کا مسئلہ : اعداء اسلام نے ہمیشہ مسئلہ تعدد ازواج اور خصوصاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کثرت ازواج کو اسلام کی مخالفت میں موضوع بحث بنایا ہے، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پوری زندگی کو سامنے رکھا جائے تو کسی شیطان کو بھی شان رسالت کے خلاف وسوسہ پیدا کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ جس سے ثابت ہے کہ آپ نے سب سے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے کیا، جو بیوہ سن رسیدہ صاحب اولاد اور دو شوہروں کے نکاح میں رہنے کے بعد آئی تھیں، اور پچاس سال کی عمر تک صرف اسی ایک سن رسیدہ بیوی کے ساتھ شباب کا پورا زمانہ گزارا۔ یہ پچاس سالہ دور عمر مکہ کے لوگوں کے سامنے گزرا۔ چالیس سال کی عمر میں اعلان نبوت کے بعد شہر میں آپ کی مخالفت شروع ہوئی، اور مخالفین نے آپ کے ستانے اور آپ پر عیب لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، ساحر کہا، شاعر کہا، مجنون کہا، مگر کبھی کسی دشمن کو بھی آپ کی طرف کوئی ایسی چیز منسوب کرنے کا موقع نہیں مل سکا، جو تقویٰ و شہارت کو مشکوک کرسکے۔ پچاس سال عمر شریف کے گزرنے اور حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت سودہ نکاح میں آئیں یہ بھی بیوہ تھیں۔ ہجرت مدینہ اور عمرشریف چون سال ہوجانے کے بعد ٢ ہجری میں حضرت صدیقہ عائشہ کی رخصتی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں ہوئی۔ اس کے ایک سال بعد حضرت حفصہ سے اور کچھ دنوں کے بعد حضرت زنیب بنت خزیمہ سے نکاح ہوا۔ یہ حضرت زینب چند ماہ کے بعد وفات پا گئیں۔ ٤ ہجری میں حضرت ام سلمہ جو صاحب اولاد بیوہ تھیں آپ کے نکاح میں آئیں۔ ٥ ہجری میں حضرت زینب بنت جحش سے بحکم خداوندی نکاح ہوا، جس کا ذکر سورة احزاب کے شروع میں آ چکا ہے۔ اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھاون سال تھی۔ آخری پانچ سال میں باقی ازواج مطہرات آپ کے حرم میں داخل ہوئیں۔ پیغمبر کی خانگی زندگی اور گھریلو معاملات سے متعلق احکام دین کا ایک بہت بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ ان نو ازواج مطہرات سے جس قدر دین کی اشاعت ہوئی اس کا اندازہ صرف اس سے ہوسکتا ہے کہ صرف حضرت صدیقہ عائشہ سے دو ہزار دو سو دس احادیث اور حضرت ام سلمہ سے تین سو اڑسٹھ احادیث کی روایت معتبر کتب حدیث میں جمع ہیں۔ حضرت ام سلمہ نے جو احکام و فتاویٰ لوگوں کو بتلائے ان کے متعلق حافظ ابن قیم نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ اگر ان کو جمع کرلیا جائے تو ایک مستقل کتاب بن جائے، دو سو سے زیادہ حضرات صحابہ حضرت صدیقہ عائشہ کے شاگرد ہیں، جنہوں نے حدیث اور فقہ و فتاویٰ ان سے سیکھے ہیں۔ اور بہت سی ازواج کو حرم نبوی میں داخل کرنے میں ان کے خاندان کو اسلام کی طرف لانے کی حکمت بھی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے اس اجمالی نقشہ کو سامنے رکھیں تو کیا کسی کو یہ کہنے کی گنجائش رہ سکتی ہے کہ یہ تعدد اور کثرت ازواج معاذ اللہ کسی نفسانی اور جنسی خواہش کی تکمیل کے لئے ہوا تھا، اگر یہ ہوتا تو ساری عمر تجرد یا ایک بیوہ کے ساتھ گزارنے کے بعد عمر کے آخری حصہ کو اس کام کے لئے کیوں منتخب کیا جاتا۔ یہ مضمون پوری تفصیل کے ساتھ، نیز اصل مسئلہ تعدد ازواج پر شرعی اور عقلی، فطری اور اقتصادی حیثیت سے مکمل بحث معارف القرآن جلد دوم سورة نساء کی تیسری آیت کے تحت میں آ چکی ہے وہاں دیکھا جائے۔ (معارف جلد دوم، ص ٥٨٢ تا ٢٩٢) ۔ ساتواں حکم : (آیت) لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بہن من ازواج ولوا عجبک حسنہن، ” یعنی اس کے بعد آپ کے لئے دوسری عورتوں سے نکاح حلال نہیں، اور یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ ازواج میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری بدلیں “ اس آیت میں لفظ من بعد کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ من بعد سے مراد یہ ہو کہ بعد ان نو عورتوں کے جو اس وقت آپ کے نکاح میں ہیں، اور کسی سے آپ کا نکاح حلال نہیں، بعض صحابہ اور آئمہ تفسیر سے بھی یہی تفسیر منقول ہے، جیسا کہ حضرت انس نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ دنیا طلبی کے لئے آپ سے جدائی اختیار کریں یا پھر تنگی و فراخی جو کچھ پیش آئے اس پر قناعت کر کے آپ کی زوجیت میں رہیں، تو سب ازواج مطہرات نے اپنے نفقہ کی زیادتی کے مطالبہ کو چھوڑ کر اسی حال میں زوجیت کے اندر رہنا اختیار کیا تو اس پر بطور انعام کے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات گرامی کو بھی انہی نو ازواج کے لئے مخصوص کردیا، ان کے سوا کسی سے نکاح جائز نہ رہا۔ (رواہ البیہقی فی سننہ کذا فی الروح) اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو آپ کے لئے مخصوص فرما دیا کہ آپ کے بعد بھی وہ کسی سے نکاح نہیں کرسکتیں، اسی طرح آپ کو بھی ان کے لئے مخصوص فرما دیا کہ آپ ان کے علاوہ اور کوئی نکاح نہیں کرسکتے۔ حضرت عکرمہ سے بھی ایک روایت میں یہ تفسیر منقول ہے۔ اور حضرت عکرمہ، ابن عباس اور مجاہد آئمہ تفسیر سے ایک روایت میں لفظ من بعد کی یہ تفسیر نقل کی گئی ہے کہ من بعد الاصناف المذکورة، یعنی شروع آیت میں آپ کے لئے جتنی اقسام عورتوں کی حلال کی گئی ہیں، اس کے بعد یعنی ان کے سوا کسی اور قسم کی عورتوں سے آپ کا نکاح حلال نہیں۔ مثلاً شروع آیت میں اپنے خاندان کی عورتوں میں سے صرف وہ حلال کی گئیں جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے میں آپ کی موافقت کی تھی، خاندان کی عورتوں میں غیر مہاجرات سے آپ کا نکاح حلال نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح مومنہ کی قید لگا کر آپ کے لئے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح ناجائز قرار دے دیا گیا۔ تو آیت کے جملہ من بعد کا مطلب یہ ہے کہ جتنی قسمیں آپ کے لئے حلال کردی گئی ہیں صرف انہی میں سے آپ کا نکاح ہوسکتا ہے، عام عورتوں میں تو مسلمان ہونا ہی شرط ہے اور خاندان کی عورتوں میں مسلمان ہونے کے ساتھ مہاجرہ ہونا بھی شرط ہے۔ جن میں یہ دو شرطیں موجود نہ ہوں، ان سے آپ کا نکاح حلال نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق یہ جملہ کوئی نیا حکم نہیں، بلکہ پہلے ہی حکم کی تاکید و توضیح ہے، جو شروع آیت میں بیان ہوا ہے۔ اور اس آیت کی وجہ سے نو کے بعد کسی اور عورت سے نکاح حرام نہیں کیا گیا، بلکہ غیر مومنہ اور خاندان کی غیر مہاجرہ سے نکاح ممنوع ہوا ہے، جو پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے، باقی عورتوں سے مزید نکاح آپ کے اختیار میں رہا۔ حضرت عائشہ صدیقہ کی ایک روایت سے بھی اس دوسری تفسیر کی تائید ہوتی ہے، کہ آپ کیلئے مزید نکاح کرنے کی اجازت رہی ہے۔ واللہ اعلم۔ (آیت) ولا ان تبدل بہن من ازواج، آیت مذکورہ کی اگر دوسری تفسیر اختیار کی جائے تو اس جملے کا مطلب واضح ہے کہ اگرچہ آپ کو موجودہ ازواج کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح بشرائط مذکورہ جائز ہے، مگر یہ جائز نہیں کہ ایک کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری کو بدلیں یعنی خالص تبدیلی کی نیت سے کوئی نکاح جائز نہیں، بغیر لحاظ و نیت تبدیلی کے جتنے چاہیں نکاح کرسکتے ہیں۔ اور اگر آیت مذکورہ کی پہلی تفسیر مراد لی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ آئندہ نہ کسی عورت کا اضافہ موجودہ ازواج میں آپ کرسکتے ہیں، اور نہ کسی کی تبدیلی کرسکتے ہیں، کہ اسے طلاق دے کر اس کے قائم مقام کسی اور عورت سے نکاح کرلیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَــبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ حُسْنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ۝ ٠ ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا۝ ٥٢ۧ حلَال حَلَّ الشیء حلالًا، قال اللہ تعالی: وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] ، وقال تعالی: هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] ( ح ل ل ) الحل اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ حل ( ض ) اشئی حلا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز کے حلال ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالًا طَيِّباً [ المائدة/ 88] اور جو حلال طیب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ ۔ هذا حَلالٌ وَهذا حَرامٌ [ النحل/ 116] کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] ، أي : أشباها وأقرانا . وقوله : سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فتنبيه أنّ الأشياء کلّها مركّبة من جو هر وعرض، ومادّة وصورة، وأن لا شيء يتعرّى من تركيب يقتضي كونه مصنوعا، وأنه لا بدّ له من صانع تنبيها أنه تعالیٰ هو الفرد، وقوله : خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فبيّن أنّ كلّ ما في العالم زوج من حيث إنّ له ضدّا، أو مثلا ما، أو تركيبا مّا، بل لا ينفكّ بوجه من تركيب، وإنما ذکر هاهنا زوجین تنبيها أنّ الشیء۔ وإن لم يكن له ضدّ ، ولا مثل۔ فإنه لا ينفكّ من تركيب جو هر وعرض، وذلک زوجان، وقوله : أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] ، أي : أنواعا متشابهة، وکذلک قوله : مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143] ، أي : أصناف . وقوله : وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] ، أي : قرناء ثلاثا، وهم الذین فسّرهم بما بعد وقوله : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] ، فقد قيل : معناه : قرن کلّ شيعة بمن شایعهم في الجنّة والنار، نحو : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، وقیل : قرنت الأرواح بأجسادها حسبما نبّه عليه قوله في أحد التّفسیرین : يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] ، أي : صاحبک . وقیل : قرنت النّفوس بأعمالها حسبما نبّه قوله : يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] ، وقوله : وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] ، أي : قرنّاهم بهنّ ، ولم يجئ في القرآن زوّجناهم حورا، كما يقال زوّجته امرأة، تنبيها أن ذلک لا يكون علی حسب المتعارف فيما بيننا من المناکحة . ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى [ القیامة/ 39] اور ( آخر کار ) اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی ) مرد اور عورت ۔ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] اور تیری بی بی جنت میں رہو ۔ اور بیوی کو زوجۃ ( تا کے ساتھ ) کہنا عامی لغت ہے اس کی جمع زوجات آتی ہے شاعر نے کہا ہے فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتیتو میری بیوی اور بیٹیاں غم سے رونے لگیں ۔ اور زوج کی جمع ازواج آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] وہ اور ان کے جوڑے اور آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] جو لوگ ( دنیا میں ) نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ( ایک جگہ ) اکٹھا کرو ۔ میں ازواج سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] اس کی طرف جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے ( دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں ۔ اشباہ و اقران یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ مراد ہیں اور آیت : ۔ سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] پاک ہے وہ ذات جس نے ( ہر قسم کی ) چیزیں پیدا کیں ۔ نیز : ۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں ۔ میں اس بات پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض مادہ و صورت سے مرکب ہیں اور ہر چیز اپنی ہیئت ترکیبی کے لحا ظ سے بتا رہی ہے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور اس کے لئے صائع ( بنانے والا ) کا ہونا ضروری ہے نیز تنبیہ کی ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی فرد مطلق ہے اور اس ( خلقنا زوجین ) لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کی ہم مثل یا مقابل پائی جاتی ہے یا یہ کہ اس میں ترکیب پائی جاتی ہے بلکہ نفس ترکیب سے تو کوئی چیز بھی منفک نہیں ہے ۔ پھر ہر چیز کو زوجین کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اگر کسی چیز کی ضد یا مثل نہیں ہے تو وہ کم از کم جوہر اور عرض سے ضرور مرکب ہے لہذا ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر زوجین ہے ۔ اور آیت أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] طرح طرح کی مختلف روئیدگیاں ۔ میں ازواج سے مختلف انواع مراد ہیں جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں اور یہی معنی آیت : ۔ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ہر قسم کی عمدہ چیزیں ( اگائیں ) اور آیت کریمہ : ۔ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143]( نر اور مادہ ) آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں ۔ میں مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] میں ازواج کے معنی ہیں قرناء یعنی امثال ونظائر یعنی تم تین گروہ ہو جو ایک دوسرے کے قرین ہو چناچہ اس کے بعد اصحاب المیمنۃ سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] اور جب لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے ۔ میں بعض نے زوجت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہر پیروکار کو اس پیشوا کے ساتھ جنت یا دوزخ میں اکٹھا کردیا جائیگا ۔ جیسا کہ آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] میں مذکور ہوچکا ہے اور بعض نے آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس روز روحوں کو ان کے جسموں کے ساتھ ملا دیا جائیگا جیسا کہ آیت يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] اے اطمینان پانے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ میں بعض نے ربک کے معنی صاحبک یعنی بدن ہی کئے ہیں اور بعض کے نزدیک زوجت سے مراد یہ ہے کہ نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ جمع کردیا جائیگا جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] جب کہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے عملوں کو اپنے سامنے حاضر اور موجود پائیگا ۔ میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] اور ہم انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیں گے ۔ میں زوجنا کے معنی باہم ساتھی اور رفیق اور رفیق بنا دینا ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں بھی حور کے ساتھ اس فعل ( زوجنا ) کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے بعد باء لائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حوروں کے ساتھ محض رفاقت ہوگی جنسی میل جول اور ازواجی تعلقات نہیں ہوں گے کیونکہ اگر یہ مفہوم مراد ہوتا تو قرآن بحور کی بجائے زوجناھم حورا کہتا جیسا کہ زوجتہ امرءۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اس عورت سے اس کا نکاح کردیا ۔ عجب العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا [يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] ، وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] ، ( ع ج ب ) العجب اور التعجب اس حیرت کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا سبب معلوم نہ ہونے کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوجاتی ہے اسی بنا پر حکماء نے کہا ہے کہ عجب اس حیرت کو کہتے ہیں جس کا سبب معلوم نہ ہو اس لئے اللہ تعالیٰ پر تعجب کا اطلاق جائز نہیں ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ تو علام الغیوب ہے اس بنا پر کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے عجبت عجبا ( س ) میں نے تعجب کیا عجب ہر وہ بات جس سے تعجب پیدا ہوا اور جس جیسی چیز عام طور نہ دیکھی جاتی ہوا ہے عجیب کہا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا[يونس/ 2] کیا لوگوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ آنحضرت کی طرف وحی بھیجنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ پہلے سے سلسلہ وحی کو جانتے ہیں نیز فرمایا : ۔ بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] بلکہ ان لوگوں نے تعجب کیا ہے کہ انہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا ان کے پاس آیا ۔ وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/ 5] اور اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ رقب الرَّقَبَةُ : اسم للعضو المعروف، ثمّ يعبّر بها عن الجملة، وجعل في التّعارف اسما للمماليك، كما عبّر بالرّأس وبالظّهر عنالمرکوب ، فقیل : فلان يربط کذا رأسا، وکذا ظهرا، قال تعالی: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] ، وقال : وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] ، أي : المکاتبین منهم، فهم الذین تصرف إليهم الزکاة . ورَقَبْتُهُ : أصبت رقبته، ورَقَبْتُهُ : حفظته . ( ر ق ب ) الرقبۃ اصل میں گردن کو کہتے ہیں پھر رقبۃ کا لفظ بول کر مجازا انسان مراد لیا جاتا ہے اور عرف عام میں الرقبۃ غلام کے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے جیسا کہ لفظ راس اور ظھر بول کر مجازا سواری مراد لی جاتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے :۔ یعنی فلاں کے پاس اتنی سواریاں میں ۔ قرآن ہیں ہے : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] کہ جو مسلمان کو غلطی سے ( بھی ) مار ڈالے تو ایک مسلمان بردہ آزاد کرائے۔ اور رقبۃ کی جمع رقاب آتی ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] اور غلام کو آزاد کرنے میں ۔ مراد مکاتب غلام ہیں ۔ کیونکہ مال زکوۃ کے وہی مستحق ہوتے ہیں اور رقبتہ ( ن ) کے معنی گردن پر مارنے یا کسی کی حفاظت کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً [ التوبة/ 10] کسی مسلمان کے بارے میں نہ تو قرابت کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیمان کا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج۔ ان عورتوں کے بعد آپ کے لئے کوئی جائز نہیں اور نہ یہی کہ آپ ان بیویوں کی جگہ دوسری کرلیں) لیث نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ ان خواتین کے بعد جن کا اوپر ذکر ہوا ہے کسی سے نکاح جائز نہیں خواہ وہ مسلمان ہو یا یہود یہ یا نصرانیہ یا کافرہ۔ مجاہد سے قول باری (الا ما ملکت یمینک۔ مگر ہاں بجز ان کے جو آپ کی لونڈیاں ہوں) کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہودیہ یا نصرانیہ لونڈی سے ہم بستری کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ سعید نے قتادہ سے قول باری (لا یحل لک النساء ولا ان تبدل بھن من ازواج) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انتخاب کرلیا تو اس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان پر انحصار کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ نو ازواج مطہرات تھیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول نیز دار آخرت کو منتخب کرلیا تھا ۔ حسن کا بھی یہی قول ہے۔ اس روایت کے علاوہ ایک اور روایت بھی ہے جسے اسرائیل نے سدی سے ، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے قول باری (لا یحل لک النساء) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سب کو طلاق دے دیتے تو اس صورت میں آپ کے لئے دوسری عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہ ہوتا۔ اس آیت کے نزول کے بعد بھی آپ نے نکاح کیا تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت آپ کے عقد میں نو ازواج تھیں۔ پھر آپ نے حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان اور جویریہ بنت الحارث سے نکاح کیا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر ان خواتین کے سوا جو نزول آیت کے وقت آپ کے عقد میں تھیں تمام دوسری خواتین حرام کردی گئی تھیں۔ ابن جریج نے عطاء سے، انہوں نے عبید بن عمبر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتقال تک آپ کے لئے عورتوں سے نکاح حلال رہا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ روایت اس بات کی موجب ہے کہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو اس آیت کے نسخ کی موجب ہو اس لئے اس کا نسخ سنت کی بناء پر عمل میں آیا ہے۔ اس میں سنت کی بنا پر قرآن کے نسخ کی دلیل موجود ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول باری (لا یحل لک النساء من بعد) خیر کی صورت میں ہے اور خبر کے لئے اس بات کا جواز نہیں ہوتا کہ اس کے مجہرا کے سلسلے اسے منسوخ تسلیم کیا جائے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگرچہ یہ خبر کی صورت میں ہے لیکن معنی کے لحاظ سے یہ نہی ہے اور نہی پر نسخ وارد ہونا جائز ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت اس فقرے جیسی ہے۔ (لاتنزوج بعد ھن النساء ۔ ان ازواج کے بعد آپ دیگر عورتوں سے نکاح نہ کیجئے) اس لئے اس کا نسخ جائز ہے۔ قول باری ہے (ولواعجبک حسنھن ۔ خواہ ان کے حسن آپ کو بھلا ہی کیوں نہ لگے) یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجنبی عورت کے چہرے پر نظر ڈالنے کا جواز ہے۔ کیونکہ حسن کا بھلا لگنا اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب اس کے چہرے پر نظر ڈال لی جائے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ان کے علاوہ اور عورتیں جن میں یہ قید نہ ہو آپ کے لیے حلال نہیں یا یہ کہ جو نو ازواج مطہرات اس وقت آپ کے نکاح میں موجود ہیں ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں اور اس وقت یہ ازواج مطہرات آپ کے نکاح میں موجود تھیں، حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق، حضرت حفصہ بن عمر بن الخطاب، حضرت زینبت بنت جحش، حضرت ام سلمہ بنت ابی مایہ مخزومی، حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت صفیہ بنت حی ابن اخطب، حضرت میمونہ بنت حارث، حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت جویریہ بنت الحارث المصطلیقہ اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان موجودہ بیویوں کی جگہ دوسری بیویاں کرلیں کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے دیں اور اس کی جگہ مذکورہ رشتہ داروں میں سے اور کسی کے ساتھ شادی کرلیں اگرچہ آپ کو ان دوسریوں کا حسن اچھا معلوم ہو البتہ جو آپ کی ملکیت ہو جیسے حضرت ماریہ قبطیہ اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کا پورا نگران ہے۔ شان نزول : لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ (الخ) ابن سعد نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا تو سب نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢ { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآئُ مِنْم بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ } ” اب اس کے بعد اور عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی (اس کی اجازت ہے کہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں “ یعنی آئندہ نہ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزید کوئی نکاح کریں اور نہ ہی اپنی ازواجِ مطہرات (رض) میں سے کسی کو طلاق دیں ۔ { وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ } ” اگرچہ ان کا حسن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اچھا لگے “ یعنی بر بنائے طبع بشری کسی خاتون کی طرف کوئی رغبت ہونے کے باوجود بھی اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آیت کے یہ الفاظ فطرتِ انسانی کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ انسانی فطرت کے اس طبعی میلان کی عکاسی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے : (اِنَّمَا حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمُ النِّسَائُ وَالطِّیْبُ ، وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلَاۃِ ) (١) ” مجھے تو تمہاری دنیا میں سے دو ہی چیزیں پسند ہیں : عورتیں اور خوشبو ‘ البتہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ “ { اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ } ” سوائے اس کے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مملوکہ ہو۔ “ یعنی مذکورہ پابندی مزید نکاح کرنے کے بارے میں ہے ‘ باندیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ روایات میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو باندیوں کا ذکر ملتا ہے : حضرت ماریہ قبطیہ اور حضرت ریحانہ (رض) ۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ رَّقِیْبًا } ” اور اللہ ہرچیز پر نگران ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

93 This has two meanings: (1) `No other woman except those made lawful to you in verse 50 above, is any more lawful to you"; and (2) 'when your wives have become pleased and ready to stay with you through every kind of hardship and have rejected the world in preference to the Hereafter, and are satisfied that you may treat them as you please, it is no longer lawful for you that you should divorce any of them and take another wife instead." 94 This verse explains why one is pemitted to have conjugal relations with one's slave-girls besides the wedded wives, and there is no restriction on their number. The same thing has also been stated in Surah An-Nisa': 3, AI-Mu'minun: b, and AI-Ma'arij: 30. In all these verses the slave-girls have been mentioned as a separate class from the wedded wives, and conjugal relations with them have been permitted. Moreover, verse 3 of Surah An-Nisa' lays down the number of the wives as four, but neither has Allah fixed the number of the slave-girls, in that verse nor made any allusion to their number in the other relevant verses. Here, of course, the Holy Prophet is being addressed and told: "It is no more lawful for you to take other women in marriage, or divorce any of the present wives and take another wife in her stead; slave-girls, however, are lawful." This shows that no restriction has been imposed in respect of the slavegirls. This, however, does not mean that the Divine Law has provided the rich an opportunity to purchase as many slave-girls as they tike for their carnal indulgence. This is in fact how the self-seeking people have exploited and abused tire Law. The Law had been made for the convenience of the people; it had not been made to be abused. One could, for instance, similarly abuse the Law concerning marriage. The Shari'ah permits a man to marry up to four wives and also gives him the right to divorce his wife and take another one. This law had been made in view of man's requirements and needs. Now, if a person, merely for the sake of sensual enjoyment, were to adopt the practice of keeping four wives for a time and then divorcing them to be replaced by another company of them, it would be abusing the provisions of the law, for which the person himself would be responsible and not the Shari`ah. Likewise the Shari'ah has allowed that the women who are captured in war and whose people do not exchange them for Muslim prisoners of war nor ransom them, may be kept as slave-girls, and gave the persons to whom they are assigned by the government the right to have conjugal relations with them so that they do not become a moral hazard for the society. Then, as it was not possible to determine the number of the prisoners of war, legally also it could nor be determined how many slave girls a person could keep at a time. The sale of the slaves and slave-girls was also allowed for the reason that if a slave or a slave-girl could not pull on well with a master, he or she could be transferred to another person so that the same person's permanent ownership did not become a cause of unending torture for both the master and the captive. The Shari`ah made aII these laws keeping in view human conditions and requirements for the convenience of men. If these have been made a means of sexual enjoyment and luxury by the rich, it is they who are to blame for this and not the Shari'ah

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :93 اس ارشاد کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ جو عورتیں اوپر آیت نمبر ۵۰ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کی گئی ہیں ان کے سوا دوسری کوئی عورت اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ جب آپ کی ازواج مطہرات اس بات کے لیے راضی ہو گئی ہیں کہ تنگی و ترشی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں اور آخرت کے لیے دنیا کو انہوں نے تج دیا ہے ، اور اس پر بھی خوش ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو برتاؤ بھی ان کے ساتھ چاہیں کریں ، تو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :94 یہ آیت اس امر کی صراحت کر رہی ہے کہ منکوحہ بیویوں کے علاوہ مملوکہ عورتوں سے بھی تمتع کی اجازت ہے اور ان کے لیے تعداد کی کوئی قید نہیں ہے ۔ اسی مضمون کی تصریح سوُرۂ نساء آیت ۳ ، سُورۂ مومنون آیت ٦ ، اور سورۂ معارج آیت ۳۰ میں بھی کی گئی ہے ۔ ان تمام آیات میں مملوکہ عورتوں کو منکوحہ ازواج کے بالمقابل ایک الگ صنف کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اور پھر ان کے ساتھ ازدواجی تعلق کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔ نیز سورۂ نساء کی آیت ۳ منکوحہ بیویوں کے لیے چار کی حد مقرر کرتی ہے ، مگر نہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے مملوکہ عورتوں کے لیے تعداد کی حد مقرر کی ہے اور نہ دوسری متعلقہ آیات میں ایسی کسی حد کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ بلکہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کے بعد دوسری عورتوں سے نکاح کرنا ، یا موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے کر دوسری بیوی لانا حلال نہیں ہے ، البتہ مملوکہ عورتیں حلال ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مملوکہ عورتوں کے معاملے میں کوئی حد مقرر نہیں ہے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا کی شریعت یہ گنجائش مالدار لوگوں کو بے حساب لونڈیاں خرید کر عیاشی کرنے کے لیے دیتی ہے ۔ بلکہ یہ تو ایک بے جا فائدہ ہے جو نفس پرست لوگوں نے قانون سے اٹھایا ہے ۔ قانون بجائے خود انسانوں کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا ، اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ لوگ اس سے یہ فائدہ اٹھائیں ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے شریعت ایک مرد کو چار تک بیویاں کرنے کی اجازت دیتی ہے ، اور اسے یہ حق بھی دیتی ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی لے آئے ۔ یہ قانون انسانی ضروریات کو ملحوظ رکھ کر بنایا گیا تھا ۔ اب اگر کوئی شخص محض عیاشی کی خاطر یہ طریقہ اختیار کرے کہ چار بیویوں کو کچھ مدت رکھ کر طلاق دیتا اور پھر ان کی جگہ بیویوں کی دوسری کھیپ لاتا چلا جائے ، تو یہ قانون کی گنجائشوں سے فائدہ اٹھانا ہے جس کی ذمہ داری خود اسی شخص پر عائد ہو گی نہ کہ خدا کی شریعت پر ۔ اسی طرح شریعت نے جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کو ، جبکہ ان کی قوم مسلمان قیدیوں سے تبادلہ کرنے یا فدیہ دے کر ان کو چھڑانے کے لیے تیار نہ ہو ، لونڈی بنانے کی اجازت دی ، اور جن اشخاص کی ملکیت میں وہ حکومت کی طرف سے دیدی جائیں ان کو یہ حق دیا کہ ان عورتوں سے تمتع کریں ان کا وجود معاشرے کے لیے اخلاقی فساد کا سبب نہ بن جائے ۔ پھر چونکہ لڑائیوں میں گرفتار ہونے والے لوگوں کی کوئی تعداد معین نہیں ہو سکتی تھی اس لیے قانوناً اس امر کی بھی کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی تھی کہ ایک شخص بیک وقت کتنے غلام اور کتنی لونڈیاں رکھ سکتا ہے ۔ لونڈیوں اور غلاموں کی خرید و فروخت کو بھی اس بنا پر جائز رکھا گیا کہ اگر کسی لونڈی یا غلام کا نباہ ایک مالک سے نہ ہو سکے تو وہ کسی دوسرے شخص کی ملکیت میں منتقل ہو سکے اور ایک ہی شخص کی دائمی ملکیت مالک و مملوک دونوں کے لیے عذاب نہ بن جائے ۔ شریعت نے یہ سارے قواعد انسانی حالات و ضروریات کو ملحوظ رکھ کر سہولت کی خاطر بنائے تھے ۔ اگر ان کو مالدار لوگوں نے عیاشی کا ذریعہ بنا لیا تو اس کا الزام انہی پر ہے نہ کہ شریعت پر ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

43: یہ آیت پچھلی دو آیتوں کے کچھ عرصے کے بعد نازل ہوئی ہے، پیچھے آیات نمبر ۲۸ و ۲۹ میں ازواجِ مطہراتؓ کو جو اختیار دیا گیا تھا، اُس کے جواب میں تمام ازواجِ مطہراتؓ نے دُنیا کی زیب وزینت کے بجائے آخرت کو اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رفاقت کو ترجیح دی تھی، اُس کے انعام کے طور پر اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو کسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمادیا، اور موجودہ ازواجِ مطہراتؓ میں سے کسی کو طلاق دے کر اُن کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنا بھی ممنوع قراردے دیا۔ (بعض مفسرین نے اس آیت کی کسی اور طرح بھی تفسیر کی ہے، لیکن جو تفسیر اُوپر ذکر کی گئی، وہ حضرت انسؓ اور حضرت ابن عباسؓ وغیرہ سے منقول ہے، (روح المعانی بحوالہ بیہقی وغیرہ) اور زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٢۔ اس آیت کی تفسیر میں صحابہ (رض) اور تابعین (رح) کے دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن عورتوں کی تفصیل بتلائی ہے کہ یا قریشی عورت مہاجر ہو تو مہر کے بعد اس سے نکاح حلال ہے یا نذر کے طور پر جو عورت اپنے آپ کو پیش کرے تو بلا مہر اس سے نکاح حلال ہے اب اس آیت کی رو سے سوائے ان دو قسموں کے اور کسی قسم کی عورت سے نکاح کسی عورت سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نکاح کرنا جائز نہیں پہلے قول کی روایت ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے صحیح ہوچکی ١ ؎ ہے (١ ؎ تفسیر ابن کیرو ص ٥٠٢ ج ٣۔ ) اور تفسیر کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول مقدم گنا جاتا ہے اس لیے یہی تفسیر صحیح ہے اور اس تفسیر کے صحیح ہوجانے کے بعد دوسرے قول کے لحاظ سے بعضے مفسروں نے اس آیت سے عورتوں کی تفصیل والی آیت کو منسوخ جو کہا ہے اس کی بھی ضرورت نہیں رہی اور آیت ترجی من تشاء سے اس آیت کو بعضے مفسروں نے منسوخ جو کہا ہے وہ قول بھی ضعیف ہے غرض ان تینوں آیتوں میں سے کوئی میت منسوخ نہیں ہے بلکہ آیت لایحل لک النساء آیت یا آیھا النبی انا احللنالک کے بیان میں ہے اور صحیح بخاری کی حضرت عائشہ (رض) کی ایک روایت جو گزر چکی جس میں ترجی من تشاء کی تفسیر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت لایحل لک النساء اور آیت ترجی من تشاء میں کچھ باہمی مخالفت نہیں ہے کیوں کہ توجی من تشاء میں یا باری کا حکم ہے یا جن عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازی دی گئی ہے اس اجازت کے عمل کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار پر چھوڑا ہے پھر اس طرح کی آیت سے دوسری آیت کو منسوخ کیوں کر کہا جاسکتا ہے اور شاہ ولی اللہ علیہ الرحمتہ نے اگر اپنے فارسی کے فائدہ میں اس آیت کو ناسخ اور پہلی آیت کو منسوخ قرار دیا ہے لیکن الفوزا لکبیر میں بڑی بحث کے بعد میں سے جن علماء نے آیت کا یہ مطلب ٹھہرایا ہے کہ بیویوں کے سوائے اور عورتوں سے نکاح کرنا آیت سے حرام ہوا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ موجود بیویوں کے سوا میت یا آیھا النبی انا احللنالک میں جن عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت تھی اس آیت لایحل سے وہ منسوخ ہوگئی اور جن علماء نے اس آیت کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ آیت انا احللنالک میں عورتوں کی جو تفصیل بتلائی گئی ہے اس تفصیل کے باہر کی کسی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے وہ علما اس آیت لایحل کو انا الحلنالک کا بیان کہتے ہیں۔ حافظ ابو کہا جاسکتا ‘ اس صورت میں معنے آیت کے یہی ہیں کہ آیت انا احللنالک میں جن عورتوں کی تفصیل بتلائی گئی ہے اس تفصیل کے علاوہ کسی عورت سے نکاح جائز نہیں خواہ یہ نکاح پہلی بیوی کو طلاق دے کر ہو یا یوں ہی نئی عورت کی خوبصورتی کے خیال سے ہاں لونڈیاں اس حکم سے علیحدہ ہیں ‘ پھر فرمایا جو حکم اللہ تعالیٰ نے دیا اس کی نگہبانی پر وہ قادر ہے کیوں کہ کوئی چیز اس کی نگہبانی سے باہر نہیں ہے ‘ حضرت عائشہ (رض) کی یہ روایت جس کا حوالہ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں لکھا ہے یہ صحیح سند سے مسند امام احمد ترمذی نسائی اور مستدرک حاکم ١ ؎ میں ہے (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢١٢ ج ٥) جب کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے پہلے آیت ترجی من تشمء سے لایحل لک اللنساء کا حکم منسوخ ہوگیا ‘ حضرت علی (رض) ام سلمہ (رض) اور بعضے سلف کا یہی قول ہے لیکن صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عائشہ (رض) کی دوروایتیں جو اوپر ترجی من تشا آء کی تفسیر میں گزر چکی ہیں ان سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ترجی من تشاء یا تو ان عورتوں کے باب میں ہے جو نذر کے طور پر اللہ کے رسول کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کیا کرتی تھیں یا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کی باری کے باب میں ہے اس صورت میں ان صحیح روایتوں کے موافق آیت ترجی من تشاء میں ایسا کوئی عام حکم کہاں ہے جس سے انا احللنالک کی تفصیل اور اس تفصلا کی پابندی کی وہ تاکید جو لایحل لک النسآء میں ہے ان دونوں کو منسوخ ٹھہرایا جاوے اسی واسطے امام المفسریں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول یہی ہے کہ انا احللنالک کی تفصیل اور لایحل لک النسآء یک تاکید یہ دونوں منسوخ نہیں ہیں غرض اصول حدیث کے موافق حاصل کلام یہی ٹھہرتا ہے کہ صحیح بخاری کی حضرت عائشہ (رض) کی روایتوں کی ترمذی نسائی وغیرہ کی روایتوں پر ترجیح دی جاکر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کو صحیح ٹھہرایا جاوے اور آیت ترجی من تشانہء سے کسی آیت کو منسوخ نہ کہا جاوے بعضے مفسروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حدیث سے آیت لایحل لک النسآء منسوخ ہے لیکن اول تو ان مفسروں نے اس حدیث کو معین طور پر نہیں بتلایا جس سے آیت کو منسوخ کہا جاوے دوسرے اس مسئلہ پر بھی علمائے امت کا اتفاق نہیں ہے کہ حدیث سے قرآن کی کوئی آیت منسوخ ہوسکتی ہے اور یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ایسی اختلافی حالت میں کسی آیت کو منسوخ نہیں کہا جاسکتا۔ حدیث سے کسی آیت کے منسوخ ہونے کا مطلب حدیث سے آیت کے منسوخ ہونے نہ ہونے میں جو اختلاف ہے اس کا سبب یہ ہے کہ علمائے متقدمین نے ناسخ منسوخ میں لغت کے معنوں کو اختیار کیا ہے اس لیے ان کے نزدیک ناسخ منسوخ کی یہ ایک ہی صورت ہے کہ ایک حکم سے دوسرا حکم بالکل اٹھ جاوے جیس مثلا سورة بقر کی آیت کتب علم کہ اذاحضر احد کم الموت میں بیمار شخص کو وارثوں کے حق میں وصیت کرنے کا حکم تھا پھر جب سورة النسآ کی آیت یوصیکم اللہ میں وارثوں کے حصے ٹھہر گئے تو وہ وصیت کا حکم بالکل اٹھ گیا اب علماء متقدمین کے نزدیک تمام صحیح حدیثوں میں کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے کہ جس سے قرآن کی کسی آیت کا حکم بالکل اٹھ جاوے اس واسطے وہ حدیث سے قرآن کی آیت کے منسوخ ہونے کے قائل نہیں ہیں اس لیے ان کے نزدیک کسی حدیث سے انا احللنالک کا حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔ علمائے متاخرین نے ایک اصلاح ٹھہرا کرنا سخ منسوخ کی بحث کی ہے اس لیے ان کے نزدیک ناسخ منسوخ کی بہت سی صوریتیں ہیں جن کی تفصیل اصول فقہ کی کتابوں میں ہے ‘ نتیجہ اس اختلاف کا یہ ہے کہ مثلا آیت کا اصلی حکم باقی رہ کر حدیث سے اس اصلی حکم میں کچھ زیادتی ہوجاوے تو اصلی حکم کے باقی رہنے کے سبب سے متقدمین اس صورت کو ناسخ منسوخ نہیں کہتے اور متاخرین کی اصطلاحی صورتوں میں یہ صورت ناسخ منسوخ کہلاتی ہے مثال اس کی بیہ ہے کہ سورة النساء کی آیت حرمت علیکم امھاتکم میں عورت اور اس کی پھوپھی کے ساتھ نکاح کرنے کی مناہی نہیں تھی ابوہریرہ (رض) کی صحیح بخاری ومسلم کی حدیث سے آیت کے اصلی حکم میں یہ مناہی اور بڑھ گئی تو متقدمین کے نزدیک یہ صورت ناسخ منسوخ کی نہیں ہے اور متاخرین کے نزدیک یہ صورت ناسخ منسوخ کی صورتوں میں داخل ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:52) لا یحل۔ حل یحل حل سے نہی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل النساء ہے جو جمع مونث غیر حقیقی ہے اور اس کے لئے فعل واحد مذکر لانا جائز ہے پھر یہ فصل کے ساتھ واقع ہوا ہے حالانکہ بلا فصل بھی تذکیر جائز ہے۔ من بعد ای من بعد التسع اللاتی فی عصمتک الیوم۔ یعنی ان نو بیویوں کے علاوہ جو آپ کے نکاح میں اس وقت ہیں دوسری عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں۔ ولا ان تبدل بھن من ازواج۔ وائو عاطفہ ہے تبدل اصل میں تتبدل تھا ایک تا تخفیفا حذف کی گئی تبدل تفعل سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو بدل ڈالے تو تبدیل کرلے۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ازواج حاضرہ کی طرف راجع ہے من ازواج تاکید نفی اور ازواج بالتحریم کے استغراق کے لئے ہے۔ جملہ کے معنی ہوئے ای ولا یحل لک ان تطلق واحدۃ منہن وتنکح بدلھا اخری۔ اور یہ بھی آپ کے لئے حلال نہیں ہوگا کہ آپ ان میں سے ایک کو طلاق دے دیں اور اس کے بدلہ میں دوسری سے نکاح کرلیں۔ ولو اعجبک حسنہنضمیر فاعل تبدل سے حال کے موضع میں ہے۔ خواہ ان کا حسن تجھے بھلا ہی لگے۔ اعجبک۔ اعجبماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اعجاب (افعال) سے جس کے معنی اچنبھے میں ڈالنے کے ہیں اور مجازا بھانے اور خوش لگنے کے بھی ہیں ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ حاصلہ ولا تبدل بھن من ازواج علی کل حال۔ اپنی بیویوں کو کسی حال میں بھی تبدیل نہ کیجئے۔ رقیبا۔ خبر رکھنے والا۔ مطلع۔ اطلاع رکھنے والا۔ نگاہ رکھنے والا۔ نگہبان۔ یہ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے ۔ حق تعالیٰ کے اسما حسنی میں سے ہے۔ یعنی وہ ذات جو اپنی مخلوق سے غافل نہیں اور کوئی چیز اس سے غائب نہیں۔ فائدہ :۔ آیات 50، 5 ١، 52 ، کے مضمون کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے کسی مستند تفسیر کی طرف رجوع کریں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 مفسرین کا بیان ہے کہ جب ” ازواج مطہرات “ نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کرلیا کما مترفی آیۃ التخیر تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بدلہ دیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ان کے ماسوا اور عورتوں سے نکاح کرنا حرام فرما دیا اور یہ بھی منع کردیا کہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے کر اس کی بجائے کسی دوسرے عورت سے نکاح کیا جائے۔ یہ آیت حضرت حفصہ (رض) کی طلاق کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : اس آیت میں نفس طلاق سے منع نہیں فرمایا، بلکہ ممانعت اس کی ہے کہ طلاق اس مقصد سے ہو کہ اس کی بجائے کسی دوسری عورت سے نکاح کیا جائے۔ (ابن کثیر) مگر یہ حرمت اوپر کی آیت ” انا حللنا لک الخ “ سے منسوخ ہوگئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوسری عورتوں سے نکاح کی اجازت دے دی گئی۔ ( قرطبی) ابن جریر طبری نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ آیت انا حللنا الخ میں جن عورتوں کی حلت مذکور ہوتی ہے ان کے علاوہ کسی اور عورت سے نکاح جائز نہیں ہے۔ یہ معنی اقرب معلوم ہوتے ہیں۔ ( ابن کثیر) ۔2 ان سے تمتع کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اجازت ہے۔ سراری میں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حرم میں دو لونڈیاں مشہور تھیں۔ ایک ماریہ قبطیہ (رض) اور دوسری ریحانہ (رض) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی اہل قرابت میں سے غیر مہاجرات حلال نہیں اور دوسری عورتوں میں سے غیر مومنات حلال نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد آپ کے لیے عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ آپ ان بیویوں کے بدلے دوسری عورتیں سے نکاح کرسکتے ہیں اس آیت کا مطلب ظاہری الفاظ اور سباق کے اعتبار سے یہ ہے کہ اس وقت (اس آیت کے نزول کے وقت) جو آپ کے نکاح میں عورتیں ہیں آپ انہیں کو اپنے نکاح میں رکھیں ان کے علاوہ کسی عورت سے آپ کو نکاح کرنا حلال نہیں ہے اور اس کی بھی اجازت نہیں ہے کہ ان میں کسی عورت کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور عورت سے نکاح کرلیں۔ حضرت انس (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے اور دیگر ائمہ تفسیر سے آیت بالا کی یہ تفسیر منقول ہے۔ حضرت انس (رض) نے بیان فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج مطہرات کو اختیار دے دیا کہ چاہو تو دنیا لے لو اور چاہو تو میرے پاس رہو۔ جس کا ذکر آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ ) میں گذر چکا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات (رض) نے نفقہ کا مطالبہ چھوڑ کر آپ ہی کی زوجیت میں رہنا پسند کرلیا تو اللہ جل شانہٗ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی کو بھی انہیں بیویوں کے لیے مخصوص فرما دیا جو اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں تھیں جن کی تعداد نو تھی ان کے سوا کسی سے آپ کے لیے نکاح جائز نہیں رکھا گیا۔ صاحب روح المعانی نے سنن بیہقی سے حضرت انس (رض) کا یہ قول نقل کیا ہے پھر حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی بات نقل کی ہے (جسہ اللّٰہ تعالیٰ علیھن کما جسھنّ علیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت میں رہنے کو اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جذبہ کی قدر دانی فرمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دے دیا کہ ان کے نکاح میں ہوتے ہوئے یا ان میں سے کسی کو چھوڑ کر ان کے بدلہ میں کسی دوسری عورت سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، ساتھ ہی (وَلَوْ اَعْحَبَکَ حُسْنُھُنَّ ) بھی فرما دیا یعنی ان کے علاوہ کسی عورت سے نکاح کرنا آپ کے لیے اب حلال نہیں ہے اگرچہ کسی عورت کا حسن آپ کو پسند آجائے۔ بعض حضرات نے آیت بالا کی دوسری تفسیر کی ہے وہ بھی حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ شروع آیت میں آپ کے لیے عورتوں کی جتنی اقسام حلال کی ہیں ان کے بعد یعنی ان کے علاوہ اور قسم کی عورتوں سے آپ کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، اپنے خاندان کی عورتوں میں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے صرف وہ عورتیں حلال کی گئیں جو مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئی تھیں غیر مہاجرات سے آپ کا نکاح حلال نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح غیر مومنہ یعنی اہل کتاب کی عورتوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح جائز نہیں رکھا گیا۔ اور (مِنْ بَعْدُ ) کا مطلب یہ ہوا کہ جتنی قسمیں آپ کے لیے حلال کردی گئیں آپ انہیں میں سے کسی عورت سے نکاح کرسکتے ہیں، اگر یہ مطلب لیا جائے تو یہ کسی نئے حکم کا اعادہ نہیں ہے بلکہ پہلے حکم ہی کی تاکید اور توضیح ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کے نکاح میں جو موجودہ نو عورتیں ہیں ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح درست نہیں، اگر پہلی تفسیر مراد لی جائے تب بھی اس حکم کو منسوخ مانا گیا ہے۔ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ آپ کا وصال ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دیگر خواتین سے نکاح کی اجازت دے دی تھی۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة الاحزاب) سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کثرت ازواج کی حکمت اور مصلحت یہود اور نصاریٰ اور دیگر مشرک اقوام جنہیں اسلام اور داعی اسلام جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی ہے اسلام کا مقابلہ کرنے میں دلائل سے عاجز ہیں۔ عقائد اسلامیہ اور اعمال اسلامیہ کی خوبی پر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے خلاف کوئی معقول اعتراض نہ کرسکے لیکن ان کے اکابر نے اپنے عوام کو اسلام سے دور رکھنے اور خود بھی دور رہنے کے لیے دو چار ایسے نا معقول قسم کے اعتراضات تراش لیے جو ان کے خیال میں بہت وزنی ہیں۔ ان اعتراضات میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سی شادیاں کی تھیں اور آپ کے نکاح میں بہت سی بیویاں تھیں۔ درحقیقت سب سے پہلے بنیادی بات یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل اور آپ کے معجزات کو دیکھنا چاہیے جن میں سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم نے چیلنج کیا ہے کہ قرآن جیسی کوئی سورت بنا کر لاؤ اگر تم سچے ہو ! آج جبکہ قرآن کے اس چیلنج کو ڈیڑھ ہزار سال کے قریب ہو رہے ہیں کوئی فرد یا جماعت اس کی مثل بنا کر نہیں لاسکی اور لا بھی نہیں سکتے کیونکہ قرآن نے ساتھ ہی (وَلَنْ تَفْعَلُوْا) بھی فرما دیا ہے۔ جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کامل اور جامع دین پیش کیا۔ انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی حالات کے قوانین بتائے، آداب بھی بتلائے اور اخلاق بھی سکھائے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی سے کچھ بھی نہیں پڑھا تھا کیا یہ سب چیزیں اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ واقعی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول اور نبی ہیں۔ (لکن الناس یعاندون الحق) جب دلیل سے ثابت ہوگیا کہ جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی اور بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نبی ہیں تو آپ کی ہر بات اور ہر عمل صحیح ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے موافق ہے، بندوں کے لیے قانون وضع فرمانے والا اور احکام بھیجنے والا اور بعض کو بعض احکام سے مستثنیٰ فرمانے والا وہی ہے۔ چونکہ وہ خالق اور مالک ہے اور سارے بندے اسی کی مخلوق ہیں اس لیے اسے اختیار ہے کہ جو احکام نافذ فرمائے اور جسے جس عمل کی اجازت دیدے جو دوسروں کے لیے نہ ہو۔ انہی امور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کثرت ازواج کا حلال ہونا بھی ہے، عام مومنین کو بشرط عدل چار بیویوں کی اجازت ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ پھر یوں فرمایا (لَایَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ ) (اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ حلال ہے کہ آپ ان کے بدلہ دوسری بیویوں حاصل کرلیں اگرچہ آپ کو ان کا حسن بھاتا ہو، الایہ کہ کوئی آپ کی باندی ہو۔ ) یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر آپ بالفرض اللہ کے نبی نہیں تھے اور زیادہ بیویاں رکھنا محض نفسانی خواہشات کے لیے تھا تو آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ مجھ پر آیت کریمہ (لَایَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ ) نازل ہوئی ہے اور مجھے اب آئندہ نکاح کرنے سے منع فرما دیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو شخص نفس ہی کا پابند ہوگا وہ اپنے اوپر ایسی پابندی کیوں لگائے گا۔ حضرت علی (رض) نے عرض کیا کہ آپ کے چچا حمزہ (رض) کی فلاں لڑکی بہت خوبصورت ہے اس سے نکاح فرمالیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حمزہ (رض) میرے رضاعی بھائی ہیں ان کی لڑکی سے میرا نکاح حلال نہیں ہے، اسی طرح بعض ازواج نے اپنی بہن سے نکاح کرنے کی گذارش کی جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نامنظور فرما دیا۔ ظاہر ہے کہ جس کو شہوت رانی سے مطلب ہے وہ قاعدہ قانون اور حرام و حلال کی پرواہ نہیں کرتا خصوصاً جبکہ جو کچھ اس کی زبان سے نکل جاتا ہو اس کے معتقدین کے نزدیک وہی قانون بن جاتا ہو۔ پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ حضرات صحابہ کرام ] سب آپ کے فرمانبردار ہی نہیں بلکہ جان نثار بھی تھے اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے تو بہت سی کنواری لڑکیوں سے نکاح ہوسکتا تھا لیکن آپ کے نکاح میں صرف ایک بیوی ایسی تھی جس سے کنوار پن میں نکاح ہوا یعنی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ، ان سے نکاح کرنے سے امت کے لیے بہت احکام مشروع ہوگئے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بڑی عمر والے شخص کا کم عمر لڑکی سے نکاح جائز ہے۔ امام بخاری (رض) نے اس پر مستقل باب قائم کیا ہے، پھر یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ سسرال ہی میں میاں بیوی کا میل ہوسکتا ہے اور دن میں بھی ہوسکتا ہے۔ روایات حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے گھر میں تشریف لائے اور وہیں تنہائی اور یکجائی کا موقع دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام ثابت ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قول سے بھی تعلیم دیتے تھے اور عمل سے بھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت کی رہبری نہ فرماتے تو کون بتانے والا تھا جبکہ سب کو آپ ہی کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نو سال آپ کے ساتھ رہیں، اس نو سال کے عرصہ میں انہوں نے بڑی بھاری تعداد میں روایات قولیہ اور فعلیہ کو محفوظ کیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اڑتالیس سال تک ان کی تبلیغ فرمائی بڑی بھاری تعداد میں حضرات تابعین نے آپ سے علم حاصل کیا، آپ سے جو روایات مروی ہیں ان کی تعداد ٢٢ سو سے زیادہ ہے، ہر سال حج کے لیے تشریف لے جاتی تھیں، منیٰ میں جو آپ کا خیمہ ہوتا تھا وہ ایک بہت بڑا مرکزی دارالعلوم بن جاتا تھا، ہمیشہ سے پوری امت مسلمہ آپ کی روایت کردہ قولی اور فعلی احادیث سے مستفید ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ تعداد ازواج کی وجہ سے تعلیمی اور تبلیغی فوائد جو امت کو حاصل ہوئے اور جو احکام امت تک پہنچے اس کی جزئیات اس قدر کثیر تعداد میں ہیں کہ ان کا احصاء دشوار ہے کتب احادیث اس پر شاہد ہیں، البتہ بعض دیگر فوائد کی طرف یہاں ہم اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رہبری کی ضرورت نہ ہو، نماز باجماعت سے لے کر بیویوں کے تعلقات، آل و اولاد کی پرورش اور پاخانہ و پیشاب اور طہارت تک کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قولی اور فعلی ہدایات سے کتب حدیث بھرپور ہیں، اندرون خانہ کیے کیا کام کیا، بیویوں سے کیسے میل جول رکھا، اور گھر میں آکر مسائل پوچھنے والی خواتین کو کیا کیا جواب دیا۔ اس طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں جن سے ازواج مطہرات (رض) کے ذریعہ ہی امت کو راہنمائی ملی ہے، تعلیم و تبلیغ کی دینی ضرورت کے پیش نظر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کثرت ازواج ایک ضروری امر تھا۔ حضرت ام سلمہ (رض) کے شوہر حضرت ابو سلمہ (رض) کی وفات کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے نکاح کرلیا تھا، وہ اپنے سابق شوہر کے بچوں کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر تشریف لائیں، ان کے بچوں کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پرورش کی اور اپنے عمل سے بتادیا کہ کس پیار و محبت سے سوتیلی اولاد کی پرورش کرنی چاہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں صرف یہی ایک بیوی ہیں جو بچوں کے ساتھ آئیں، اگر کوئی بھی بیوی اس طرح کی نہ ہوتی تو عملی طور پر سوتیلی اولاد کی پرورش کی تعلیم کا خانہ خالی رہ جاتا اور امت کو اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہ ملتی۔ ان کے بیٹے حضرت عمر بن ابی سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گود میں پرورش پاتا تھا۔ ایک بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے پیالہ میں ہر جگہ ہاتھ ڈال رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ ) (اللہ کا نام لے کر کھا داہنے ہاتھ سے کھا اور سامنے سے کھا۔ ) (بخاری و مسلم) حضرت ام سلمہ (رض) کی مرویات کی تعداد تین سو اٹھتر تک پہنچی ہوئی ہے۔ حضرت جویریہ (رض) ایک جہاد میں قید ہو کر آئی تھیں، دوسرے قیدیوں کی طرح یہ بھی تقسیم میں آگئیں، اور ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں ان کو لگا دیا گیا، لیکن انہوں نے اپنے آقا سے اس طرح معاملہ کرلیا کہ اتنا اتنا مال تم کو دوں گی مجھے آزاد کردو، یہ معاملہ کرکے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور مالی امداد کی درخواست کی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے بہتر تمہیں بات نہ بتادوں ؟ وہ یہ کہ میں تمہاری طرف سے مال ادا کردوں اور تم سے نکاح کرلوں، انہوں نے بخوشی منظور کرلیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف سے مال ادا کرکے نکاح فرمالیا، ان کی قوم کے سینکڑوں افراد حضرات صحابہ (رض) کی ملکیت میں آچکے تھے کیونکہ وہ سب لوگ قیدی ہو کر آئے تھے، جب صحابہ (رض) کو پتہ چلا کہ جویریہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں آگئی ہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احترام کے پیش نظر سب نے اپنے اپنے غلام باندی آزاد کردئیے۔ سبحان اللہ ! حضرات صحابہ کرام (رض) کے ادب کی کیا شان تھی، اس جذبہ کے پیش نظر کہ یہ لوگ اب سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرال والے ہوگئے ہیں ان کو غلام بنا کر کیسے رکھیں، سب کو آزاد کردیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اس واقعہ کے متعلق فرماتی ہیں : (فلقد اعتق بتزوجہ ایاھا ماءۃ اھل بیت من بنی مصطلق فما اعلم امرأۃ اعظم برکۃ علیٰ قومھا منھا (الاستیعاب والاصابہ) (آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جویریہ (رض) سے نکاح کرلینے سے بنو المصطلق کے سو گھرانے آزاد ہوئے، میں نے کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی جو جویریہ (رض) سے بڑھ کر اپنی قوم کے لیے بڑی برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ ) حضرت ام حبیبہ (رض) نے اپنے شوہر کے ساتھ ابتداء اسلام ہی میں مکہ میں اسلام قبول کیا تھا اور پھر دونوں میاں بیوی ہجرت کرکے قافلے کے دوسرے افراد کے ساتھ حبشہ چلے گئے وہاں ان کا شوہر نصرانی ہوگیا اور چند دن کے بعد مرگیا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شاہ حبشہ نجاشی کے واسطہ سے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا جسے انہوں نے قبول کرلیا اور وہیں حبشہ میں نجاشی ہی نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کا نکاح کردیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت ام حبیبہ (رض) حضرت ابو سفیان (رض) کی صاحبزادی تھیں اور حضرت ابو سفیان (رض) اس وقت اس گروہ کے سرخیل تھے جس نے اسلام دشمنی کو اپنا سب سے بڑا مقصد قرار دیا تھا اور وہ مسلمانوں کو اور پیغمبر خدا کو اذیت دینے سے باز نہیں آتے تھے اور انہیں فنا کے گھاٹ اتار دینے کی فکر میں رہتے تھے، جب ان کو اس نکاح کی اطلاع ہوئی تو بلا اختیار ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : (ھُوَ الْفَحْلُ لَا یُجْدَعُ اَنْفُہٗ ) (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جوان مرد ہیں ان کی ناک نہیں کاٹی جاسکتی) مطلب یہ کہ وہ بلند ناک والے معزز ہیں ان کو ذلیل کرنا آسان نہیں، ادھر تو ہم ان کو ذلیل کرنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں ادھر ہماری لڑکی ان کے نکاح میں چلی گئی۔ غرض اس نکاح سے کفر کے ایک قائد کے حوصلے پست ہوگئے اور اس نکاح کی وجہ سے جو سیاسی فائدہ اسلام اور مسلمانوں کو پہنچا اس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ خدا کے مدبر اور حکیم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فائدہ کو ضرور پیش نظر رکھا ہوگا۔ اور اس کثرت ازواج کی حقیقت بھی سن لیجیے کہ کس طرح وجود میں آئی پچیس سال کی عمر سے لے کر پچاس سال کی عمر شریف ہونے تک تنہا حضرت خدیجہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ ہیں، ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ (رض) اور حضرت عائشہ (رض) سے نکاح ہوا لیکن صغر سنی کی وجہ سے حضرت عائشہ (رض) اپنے والد کے گھر ہی رہیں، پھر چند سال کے بعد ٢ ہجری میں مدینہ منورہ میں حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی عمل میں آئی، اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر چون سال ہوچکی ہے اور دو بیویاں اس عمر میں جمع ہوئی ہیں، یہاں سے تعدد ازواج کا معاملہ شروع ہوا، اس کے ایک سال بعد حضرت حفصہ (رض) سے نکاح ہوا پھر کچھ ماہ بعد حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) سے نکاح ہوا، انہوں نے صرف اٹھارہ ماہ آپ کے نکاح میں رہ کر وفات پائی، ایک قول کے مطابق تین ماہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں زندہ رہیں پھر ٤ ہجری میں حضرت ام سلمہ (رض) سے نکاح ہوا۔ پھر ٥ ہجری میں حضرت زینب بنت جحش (رض) سے نکاح ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھاون سال ہوچکی تھی اور اتنی بڑی عمر میں آکر چار بیویاں جمع ہوئیں، ان کے بعد ٦ ہجری میں حضرت جویریہ (رض) سے اور ٧ ہجری میں حضرت ام حبیبہ (رض) اور حضرت میمونہ (رض) سے نکاح ہوا۔ خلاصہ یہ کہ چون برس کی عمر تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف ایک بیوی کے ساتھ گزارہ کیا یعنی پچیس سال حضرت خدیجہ (رض) کے ساتھ اور چار پانچ سال حضرت سودہ (رض) کے ساتھ گزارے، پھر اٹھاون سال کی عمر میں چار بیویاں جمع ہوئیں اور باقی ازواج مطہرات (رض) دو تین سال کے اندر حرم نبوت میں آئیں اور ١٠ ہجری میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پائی۔ اور یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ ان سب بیویوں میں صرف ایک ہی عورت ایسی تھی جن سے کنوارے پن میں نکاح ہوا یعنی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ، ان کے علاوہ باقی سب ازواج مطہرات (رض) بیوہ تھیں جن میں بعض کے دو شہر پہلے گزر چکے تھے، اور یہ تعداد بھی آخر عمر میں آکر جمع ہوئی۔ اسلام کے بلند مقاصد اور پورے عالم کی انفرادی و اجتماعی، خانگی اور ملکی اصلاحات کی فکر کو دنیا کے شہوت پرست انسان کیا جانیں، وہ تو سب کو اپنے اوپر قیاس کرسکتے ہیں، اسی کے نتیجے میں کئی صدی سے یورپ کے ملحدین اور مستشرقین نے اپنی ہٹ دھرمی سے فخر عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعدد ازواج کو ایک خالص جنسی اور نفسانی خواہش کی پیداوار قرار دے رکھا ہے۔ اگر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو ایک ہوشمند منصف مزاج کبھی بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کثرت ازواج کو اس پر محمول نہیں کرسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معصوم زندگی قریش کے سامنے اس طرح گزری کہ سب سے پہلے پچیس سال کی عمر میں ایک سن رسیدہ صاحب اولاد بیوہ (جس کے دو شوہر فوت ہوچکے تھے) سے عقد کیا اور پچیس سال تک ان ہی کے ساتھ گزارہ کیا، وہ بھی اس طرح کہ مہینہ مہینہ گھر چھوڑ کر غار حرا میں مشغول عبادت رہتے تھے، اس کے بعد جو دوسرے نکاح ہوئے پچاس سال عمر شریف گزر جانے کے بعد ہوئے، یہ پچاس سالہ زندگی اور عنفوان شباب کا سارا وقت اہل مکہ کی نظروں کے سامنے تھا، کبھی کسی دشمن کو بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کوئی ایسی چیز منسوب کرنے کا موقع نہیں ملا جو تقویٰ و طہارت کو مشکوک کرسکے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ساحر، شاعر، مجنون، کذاب، مفتری جیسے الزامات تراشنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معصوم زندگی کے بارے میں کوئی ایک حرف کہنے کی بھی جرأت نہیں ہوئی جس کا تعلق جنسی اور نفسانی جذبات کی بےراہ روی سے ہو۔ ان حالات میں کیا یہ بات غور طلب نہیں ہے کہ چڑھتی جوانی سے لے کر پچاس سال کی عمر ہوجانے تک اس زہد وتقویٰ اور لذائذ دنیا سے یکسوئی میں گزارنے کے بعد وہ کیا داعیہ تھا جس نے آخر عمر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متعدد نکاحوں پر آمادہ کیا، اگر دل میں ذرا سا بھی انصاف ہو تو ان متعدد نکاحوں کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں بتلائی جاسکتی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ (وَمَا یَتَذَکَّرُ اِِلَّا مَنْ یُّنِیبُ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

53:۔ لا یحل لک الخ مذکورہ بالا چار اقسام کی عورتوں کے علاوہ آپ کے لیے کسی اور عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں اور نہ موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی دوسری عورت سے نکاح جائز ہے ای من بعد الاصناف التی سمیت قال ابی بن کعب و عکرمۃ و ابو رزین وھو اختیار محمد بن جریر (قرطبی ج 4 ص 220) ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ جتنی قسمیں کہہ دیں اس سے زیادہ حلال نہیں اور جو ہیں ان کا بدلنا حلال نہیں، اس طرح یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ محکم ہے۔ شاہ ولی اللہ اور دوسرے کئی علماء نے اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو نو عورتیں اس وقت آپ کے نکاح میں ہیں۔ اور جنہوں نے دنیا پر آپ کو ترجیح دی ہے۔ ان کے بعد آپ کے لیے کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں لا یحل لک النساء من بعد ھؤلاء التسع اللاتی اخترنک ای لقد حرم علیک تزوج غیرھن (روح ج 22 ص 645) ۔ الا ما ملکت الخ یہ ماقبل سے استثناء ہے یعنی باندیوں کا تبدل آپ کے لیے جائز ہے۔ وکان اللہ علی کل شیء شہیدا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع اور خبردار ہے اس لیے اس کے احکام و حدود سے تجاوز مت کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

52۔ اے پیغمبر مذکورہ بالا اقسام کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ خیال ہے کہ آپ موجوہ بیویوں کے بدلے اور عورتوں سے نکاح کریں اور ان کو چھوڑ کر ان کی جگہ اور عورتوں سے نکاح کرلیں خواہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی بھلا معلوم ہو مگر ہاں جو آپ کی مملوکہ ہوں یعنی لونڈیوں میں رخصت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر نگہبان و نگران ہے۔ یعنی نہ تو اس تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ ان کو بدل سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو طلاق دیدیں اور اس کی جگہ کسی اور کو کرلیں ۔ بعض محققین نے فرمایا کہ جس طرح عام امت کے مسلمانوں کو چار تک کی اجازت ہے اسی طرح حضرت خدیجہ الکبری (رض) کی وفات کے بعد نو بیویوں سے زیادہ کی اجازت نہ تھی اور چونکہ ان سب عورتوں نے تخییر کے موقعہ پر اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا اس لئے ان پر احسان فرمایا کہ نو عورتوں کو نہ تو بدلو اور نہ ان پر کوئی اور کرو البتہ باندیوں کے سلسلہ میں رخصت فرما دی ، اگرچہ یہ تحریم کا حکم بقول حضرت عائشہ (رض) عالیٰ عنہا آخر تک نہ رہا لیکن یہ واقعہ ہے کہ آپ نے اس حکم کے نازل ہونے کے بعد نہ کوئی اور نکاح کیا اور نہ ان میں سے کسی عورت کو بدلا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جتنی قسمیں کہہ دیں اس سے زیادہ حلال نہیں اور جو میں ان کو بدلنا نہیں حلال یہ ضرور ہیں اور ہاتھ کا مال حضرت کے دو حرم مشہور ہیں یا تین ایک ماریہ جن کے شکم سے فرزند ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) ایک ریحانہ یا شمونہ یا دونوں حضرت عائشہ نے فرمایا یہ منع آخر کو موقوف ہوا ۔ سب عورتیں حلال ہوگئیں ۔ 12 اگرچہ بعض حضرات نے آیت کی تفسیر اور طرح بھی کی ہے لیکن ہم نے شاہ صاحب (رح) کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا مزید اقوال ملاحظہ کرنے ہوں تو در منثورکا مطالعہ کیا جائے۔