Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 67

سورة الأحزاب

وَ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا ﴿۶۷﴾

And they will say, "Our Lord, indeed we obeyed our masters and our dignitaries, and they led us astray from the [right] way.

اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And they will say: "Our Lord! Verily, we obeyed our chiefs and our great ones, and they misled us from the way." Tawus said: "`Our chiefs' means their nobles and `our great ones' means their scholars."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

67۔ 1 یعنی ہم نے تیرے پیغمبروں اور داعیان دین کی بجائے اپنے ان بڑے اور برزگوں کی پیروی کی، لیکن آج ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے ہمیں تیرے پیغمبروں سے دور رکھ کر راہ راست سے بھٹکائے رکھا۔ آبا پرستی اور تقلید فرنگ آج بھی لوگوں کی گمراہی کا باعث ہے کاش مسلمان آیات الٰہی پر غور کر کے ان پگڈنڈیوں سے نکلیں اور قرآن و حدیث کی صراط مستقیم کو اختیار کرلیں کہ نجات صرف اور صرف اللہ اور رسول کی پیروی میں ہی ہے نہ کہ مشائخ واکابر کی تقلید میں یا آبا واجداد کے فرسودہ طریقوں کے اختیار کرنے میں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٦] سادات اور کبراء سے کون لوگ مراد ہی ؟ ان دو آیات سے چند باتیں مستفاد ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کی راہ سے مراد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے برگشتہ کرنے والے حضرات دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک دنیوی سردار، حاکم، رئیس، چودھری وغیرہ جن کا عوام پر اثر ہوتا ہے۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے لوگوں سے اپنی اطاعت کروائیں۔ دوسری قسم کے لوگ علماء اور مشائخ یعنی مذہبی پیشوا ہوتے ہیں۔ ان کے گمراہ کرنے کا انداز دنیوی سرداروں سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں میں شرکیہ رسوم اور بدعات رائج کرتے، غلط فتوے دیتے، اولیاء اللہ کے تصرف کی دھاک بٹھاتے اور اس طرح کئی طرح کے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ مقصد دونوں کا حب مال اور جاہ ہوتا ہے۔ تیسری یہ بات کہ مطیع اور مطاع یعنی گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے سب کے سب جہنمی ہوتے ہیں۔ جب وہ جہنم کا عذاب دیکھ لیں گے تو اپنے جرم میں اور اسی طرح عذاب میں تخفیف کی خاطر اطاعت کرنے والے اپنے بڑوں اور پیشواؤں پر یہ الزام لگائیں گے کہ ہمیں گمراہ کرنے والے تو یہ لوگ تھے۔ لہذا اے پروردگار ! انھیں دوگنا عذاب کر۔ بالفاظ دیگر ان کی التجا یہ ہوگی کہ ہمارے عذاب میں ان کے مقابلہ میں آدھی تخفیف ہونی چاہئے اور ان دونوں فریقوں کے درمیان مکالمہ پہلے قرآن میں کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا ۔۔ : ” سَادَۃٌ“ ” سَیِّدٌ“ کی جمع ہے اور ” کُبَرَاءُ “ ” کَبِیْرٌ“ کی جمع ہے۔ ابن کثیر میں ہے : ” طاؤس نے فرمایا ” سَادَتَنَا “ سے مراد سردار اور چودھری ہیں اور ” وَكُبَرَاۗءَنَا “ سے مراد عالم ہیں۔ “ قرآن مجید میں لوگوں کی گمراہی کا باعث بننے والے طبقے تین بتائے گئے ہیں، مستکبرین (چودھری، سردار) ، احبار (علماء) اور رہبان (درویش) ۔ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا ؂ وَ ھَلْ أَفْسَدَ الدِّیْنَ إِلَّا الْمُلُوْکُ وَ أَحْبَارُ سَوْءٍ وَ رُْھْبَانُھَا ” دین کو بادشاہوں، برے علماء اور درویشوں ہی نے خراب کیا ہے۔ “ یعنی جہنمی کہیں گے کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے اپنے سرداروں، عالموں اور درویشوں کی اطاعت کی اور سمجھتے رہے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ انھوں نے ہمیں سیدھے راستے پر لے جانے کے بجائے اصل راستے سے گمراہ کردیا۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص قرآن مجید کی آیت یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث معلوم ہونے کے باوجود اس کے خلاف اپنے سادات و اکابر، یعنی کسی بادشاہ، عالم یا پیر کی اطاعت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن یہی تمنا کرے گا جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (١٦٥ تا ١٦٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا۝ ٦٧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ سَّيِّدُ : المتولّي للسّواد، أي : الجماعة الكثيرة، وينسب إلى ذلک فيقال : سيّد القوم، ولا يقال : سيّد الثّوب، وسيّد الفرس، ويقال : سَادَ القومَ يَسُودُهُمْ ، ولمّا کان من شرط المتولّي للجماعة أن يكون مهذّب النّفس قيل لكلّ من کان فاضلا في نفسه : سَيِّدٌ. وعلی ذلک قوله : وَسَيِّداً وَحَصُوراً [ آل عمران/ 39] ، وقوله : وَأَلْفَيا سَيِّدَها [يوسف/ 25] ، فسمّي الزّوج سَيِّداً لسیاسة زوجته، وقوله : رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا [ الأحزاب/ 67] ، أي : ولاتنا وسَائِسِينَا . اور سید کے معنی بڑی جماعت کا سردار کے ہیں چناچہ اضافت کے وقت سیدالقوم تو کہا جاتا ہے ۔ مگر سید الثوب یا سیدالفرس نہیں بالو جاتا اور اسی سے سادا القوم یسودھم کا محاورہ ہے چونکہ قوم کے رئیس کا مہذب ہونا شرط ہے اس اعتبار ہر فاضل النفس آدمی سید کہا جاتا چناچہ آیت وَسَيِّداً وَحَصُوراً [ آل عمران/ 39] اور سردار ہوں گے اور عورت سے رغبت نہ رکھنے والے ۔ میں بھی سید کا لفظ اسی معنی پر محمول ہے ۔ اور آیت : وَأَلْفَيا سَيِّدَها [يوسف/ 25] اور دونوں کو عورت کا خاوند مل گیا ۔ میں خاوند کو سید کہا گیا ہے کیونکہ وہ بیوی کا نگران اور منتظم ہوتا ہے اور آیت : رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا[ الأحزاب/ 67] اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا ۔ میں سادتنا سے دلاۃ اور حکام مراد ہیں ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور پیرو کار یوں کہتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہمیں دین حق سے گمراہ کردیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ { وَقَالُوْٓا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآئَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا } ” اور کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:67) سادتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے سردار۔ سادۃ سید کی جمع ہے نا ضمیر جمع متکلم۔ کبراء نا۔ مضاف مضاف الیہ کبراء کبیر کی جمع ہے نا ضمیر جمع متکلم۔ ہمارے بڑے لوگ ۔ یعنی ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا۔ اضلونا۔ ماضی جمع مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ انہوں نے ہم کو گمراہ کیا۔ السبیلا ای عن طریق الحق۔ صحیح راستے سے۔ آخر میں الف اشباع کا ہے۔ جیسا کہ اوپر الرسولا میں آیا ہے یہ الف بامعنی نہیں ہے بلکہ محض اصلاح لفظ اور اشباع کے لئے آیا ہے جیسا کہ بعض اشعار کے آخر میں ہوا کرتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی فرمانبرداری کی انہوں نے ہمیں ایمان قبول نہ کرنے دیا اور کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے، اس طرح سے انہوں نے ہمیں صحیح راستہ سے اور دین حق سے ہٹا کر گمراہ کردیا۔ (سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا) کے عموم میں چھوٹے بڑے چودھری، کفر کے سرغنے، گمراہی کے لیڈر سب ہی داخل ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں ایمان کی فضا بنتی ہے قوموں کے لیڈر اور چودھری ایمان سے روکتے ہیں جو شخص اسلام قبول کرلے اسے واپس کفر میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، کفر کی دعوت دینے کے لیے اور اپنی قوموں کو کفر پر جمانے کے لیے ان کے ملوک اور رؤسا اور امراء اور وزراء واغنیا بڑی بڑی محنتیں کرتے ہیں اور اربوں کی تعداد میں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور دنیا میں اپنی بڑائی اور چودھراہٹ باقی رکھنے کے لیے کروڑوں انسانوں کو دوزخ کا ایندھن بنانے اور بنائے رکھنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں، دنیا میں یہ حال ہے لیکن وہاں جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اپنے ماننے والوں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور چھوٹوں بڑوں میں ہر قسم کے تعلقات ختم ہوجائیں گے اور چھوٹے بڑوں اور بڑے چھوٹوں پر لعنت کریں گے کوئی کسی کا مددگار نہ ہوگا، یہی عوام اور پبلک کے افراد جو دنیا میں اپنے بڑوں اور چودھریوں کی بات مانتے ہیں دوزخ میں پہنچ کر اپنے بڑوں، لیڈروں اور چودھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ان کو دوہرا عذاب دے، خود جو گمراہ تھے عذاب تو انہیں ہونا ہی ہے ہمیں جو انہوں نے گمراہ کیا اس کے عوض بھی ان کو عذاب دے۔ دوزخی لوگ اپنے بڑوں کے لیے یوں بھی دعا کریں گے کہ اے ہمارے رب ان پر بڑی لعنت کیجیے۔ (جو شخص کفر پر مرگیا اس پر لعنت ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا لیکن عوام الناس اپنے بڑوں اور چودھریوں کے لیے خوب بڑی لعنت کا سوال کریں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

67۔ اور یہ بھی کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں کا اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہم کو راہ راست سے بھٹکا دیا اور گمراہ کردیا۔ بڑوں سے مراد شاید رئوسا ، قریش اور مکھیا لوگ ہوں گے جن کو متبوع اور قابل اتباع سمجھا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ مراد ہوں جیسا کہ بڑے بوڑھیوں کی بات مانی جاتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علمئا سوء مراد ہوں ۔ ( واللہ اعلم)