Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 69

سورة الأحزاب

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اٰذَوۡا مُوۡسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوۡا ؕ وَ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ وَجِیۡہًا ﴿ؕ۶۹﴾

O you who have believed, be not like those who abused Moses; then Allah cleared him of what they said. And he, in the sight of Allah , was distinguished.

اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا ، اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Fabrications of the Jews against Musa Al-Bukhari recorded in the Book of Hadiths about the Prophets, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said: إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَمُ كَانَ رَجُلً حَيِيًّا سِتِّيرًا لاَ يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ فَأذَاهُ مَنْ اذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَايِيلَ فَقَالُوا مَا يَتَسَتَّرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلاَّ مِنْ عَيْبٍ فِي جِلْدِهِ إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا أُدْرَةٌ وَإِمَّا افَةٌ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّيَهُ مِمَّا قَالُوا لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَمُ فَخَلَ يَوْمًا وَحْدَهُ فَخَلَعَ ثِيَابَهُ عَلَى حَجَرٍ ثُمَّ اغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ فَجَعَلَ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتْى انْتَهَى إِلَى مَلٍَ مِنْ بَنِي إِسْرَايِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَلَبِسَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ فَوَاللهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لاَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ اذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا Musa, peace be upon him, was a shy and modest man who would never show anything of his skin because of his shyness. Some of the Children of Israel annoyed him by saying: "He only keeps himself covered because of some defect in his skin, either leprosy or scrotal hernia or some other defect." Allah, may He be glorified, wanted to clear Musa, peace be upon him, of what they were saying. One day Musa was alone, so he took off his garment and put it on a rock, then he took a bath. When he had finished, he turned back to pick up his garment, but the rock moved away, taking his garment with it. Musa picked up his stick and chased the rock, saying, "My garment, O rock! My garment, O rock!" Until he reached a group of the Children of Israel, who saw him naked and found that he was the best of those whom Allah had created. Thus he was cleared of what they had said about him. Then the rock stood still, so he took his garment and put it on. He started hitting the rock with his stick, and by Allah, the marks of that beating were left on the rock, three or four or five. This is what is referred to in the Ayah: O you who believe! Be not like those who annoyed Musa, but Allah cleared him of that which they alleged, and he was honorable before Allah. This Hadith is one of those which were recorded by Al-Bukhari but not Muslim. Imam Ahmad recorded that Abdullah (bin Mas`ud) said: "One day, the Messenger of Allah distributed some booty and a man among the Ansar said, `This division was not done for the sake of Allah.' I said, `O enemy of Allah! I am going to tell the Messenger of Allah what you have said.' So, I told the Prophet about it. His face reddened and he said, رَحْمَةُ اللهِ عَلَى مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَر May Allah have mercy on Musa. He was annoyed with worse than this, yet he remained patient." This was recorded in the Two Sahihs. ... وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا and he was honorable before Allah. means, he had a position of status and honor before his Lord, may He be exalted and glorified. Al-Hasan Al-Basri said: "His supplications would be answered by Allah." Some of them said that part of his great standing before Allah was that he interceded for his brother Harun, asking Allah to send him with him as a Messenger, and Allah granted his request and said: وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَأ أَخَاهُ هَـرُونَ نَبِيّاً And We granted him his brother Harun, (also) a Prophet, out of Our mercy. (19:53)

موسیٰ علیہ السلام کا مزاج ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت ہی شرمیلے اور بڑے لحاظ دار تھے ۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا ۔ کتاب التفسیر میں تو امام صاحب اس حدیث کو اتنا ہی مختصر لائے ہیں ، لیکن احادیث انبیاء کے بیان میں اسے مطول لائے ہیں ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ بوجہ سخت حیا و شرم کے اپنا بدن کسی کے سامنے ننگا نہیں کرتے تھے ۔ بنو اسرائیل آپ کو ایذاء دینے کے درپے ہوگئے اور یہ افواہ اڑا دی کہ چونکہ ان کے جسم پر برص کے داغ ہیں یا ان کے بیضے بڑھ گئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے اس وجہ سے یہ اس قدر پردے داری کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ یہ بدگمانی آپ سے دور کردے ۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تنہائی میں ننگے نہا رہے تھے ، ایک پتھر پر آپ نے کپڑے رکھ دیئے تھے ، جب غسل سے فارغ ہو کر آئے ، کپڑے لینے چاہے تو پتھر آگے کو سرک گیا ۔ آپ اپنی لکڑی لئے اس کے پیچھے گئے وہ دوڑنے لگا ۔ آپ بھی اے پتھر میرے کپڑے میرے کپڑے کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے ۔ بنی اسرائیل کی جماعت ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی ۔ جب آپ وہاں تک پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پتھر ٹھہر گیا ۔ آپ نے اپنے کپڑے پہن لئے ۔ بنو اسرائیل نے آپ کے تمام جسم کو دیکھ لیا اور جو فضول باتیں ان کے کانوں میں پڑی تھیں ان سے اللہ نے اپنے نبی کو بری کردیا ۔ غصے میں حضرت موسیٰ نے تین یا چار پانچ لکڑیاں پتھر پر ماری تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واللہ لکڑیوں کے نشان اس پتھر پر پڑ گئے ۔ اسی برأت وغیرہ کا ذکر اس آیت میں ہے ۔ یہ حدیث مسلم میں نہیں یہ روایت بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں ہے ۔ بعض روایتیں موقوف بھی ہیں ۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام پہاڑ پر گئے جہاں حضرت ہارون کا انتقال ہوگیا لوگوں نے حضرت موسیٰ کی طرف بدگمانی کی اور آپ کو ستانا شروع کیا ۔ پروردگار عالم نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہ اسے اٹھا لائے اور بنو اسرائیل کی مجلس کے پاس سے گزرے اللہ نے اسے زبان دی اور قدرتی موت کا اظہار کیا ۔ انکی قبر کا صحیح نشان نامعلوم ہے صرف اس ٹیلے کا لوگوں کو علم ہے اور وہی ان کی قبر کی جگہ جانتا ہے لیکن بےزبان ہے ۔ تو ہوسکتا ہے کہ ایذاء یہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ ایذاء ہو جس کا بیان پہلے گزرا ۔ لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اور یہ دونوں ہوں بلکہ ان کے سوا اور بھی ایذائیں ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ تقسیم کیا اس پر ایک شخص نے کہا اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی کا ارادہ نہیں کیا گیا ۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے جب یہ سنا تو میں نے کہا اے اللہ کے دشمن میں تیری اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور پہنچاؤں گا ۔ چنانچہ میں نے جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کردی آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر فرمایا اللہ کی رحمت ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وہ اس سے بہت زیادہ ایذاء دے گئے لیکن صبر کیا ۔ ( بخاری ، مسلم ) اور روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عام ارشاد تھا کہ کوئی بھی میرے پاس کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں تم میں آکر بیٹھوں تو میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی بات چبھتی ہوئی نہ ہو ۔ ایک مرتبہ کچھ مال آپ کے پاس آیا آپ نے اسے لوگوں میں تقسیم کیا ۔ دو شخض اس کے بعد آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ واللہ اس تقسیم سے نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا نہ آخرت کے گھر کا ۔ میں ٹھہر گیا اور دونوں کی باتیں سنیں ۔ پھر خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ نے تو یہ فرمایا ہے کہ کسی کی کوئی بات میرے سامنے نہ لایا کرو ۔ ابھی کا واقعہ ہے کہ میں جا رہا تھا جو فلاں اور فلاں سے میں نے یہ باتیں سنیں اسے سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہوگیا اور آپ پر یہ بات بہت ہی گراں گزری ۔ پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا عبد اللہ جانے دو دیکھو موسیٰ اس سے بھی زیادہ ستائے گئے لیکن انہوں نے صبر کیا ، قرآن فرماتا ہے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والے تھے ۔ مستجاب الدعوت تھے ۔ جو دعا کرتے تھے قبول ہوتی تھی ۔ ہاں اللہ کا دیدار نہ ہوا اس لئے کہ یہ طاقت انسانی سے خارج تھا ۔ سب سے بڑھ کر ان کی وجاہت کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کیلئے نبوت مانگی اللہ نے وہ بھی عطا فرمائی ۔ فرماتا ہے ( وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا 53؁ ) 19-مريم:53 ) ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت با حیا تھے، چناچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنو اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے۔ پتھر (اللہ کے حکم سے) کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے پیچھے دوڑے۔ حتٰی کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہوگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نہایت حسین و جمیل ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کے اس الزام اور شبہہ سے صفائی کردی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیا جاتا تھا (صحیح بخاری) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جارہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ قلق اور اضطراب محسوس کریں جیسے ایک موقعے پر مال غنیمت کی تقسیم میں ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا جب آپ تک یہ الفاظ پہنچے تو غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ کا چہر مبارک سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو انھیں اس سے کہیں زیادہ ایذا پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا (صحیح بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٧] اس آیت کی تائید و توثیق درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے (حنین کی جنگ کا) مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص کہنے لگا : اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی مقصود نہیں ہے۔ میں رسول اللہ کے پاس آیا اور انھیں یہ بات بتائی۔ آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے اثرات نمودار ہوئے اور فرمایا : اللہ موسیٰ پر رحم کرے انھیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد باب ماکان النبی یعطی المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ) اور درج ذیل حدیث اس آیت کی تفسیر پیش کرتی ہے : خ بنی اسرائیل کی موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسانی :۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بنی اسرائیل برہنہ غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتا رہتا تھا۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) تنہا غسل فرمایا کرتے۔ بنی اسرائیل کہنے لگے۔ واللہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہیں کہ وہ فتق (جلدی بیماری) میں مبتلا ہیں۔ اتفاق سے ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے لگے تو اپنا لباس ایک پتھر پر رکھ دیا وہ پتھر ان کا لباس لے بھاگا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اس کے تعاقب میں یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ ثوبی یا حجر۔ ثوبی یا حجر (اے پتھر ! میرے کپڑے۔ اے پتھر ! میرے کپڑے) یہاں تک بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو (ننگے) دیکھ لیا اور کہنے لگے : واللہ ! موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ (پتھر ٹھہر گیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا لباس لے لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : خدا کی قسم اس پتھر پر چھ یا سات نشان ہیں۔ (بخاری۔ کتاب الغسل۔ باب من اغتسل عریاناً ) اب ظاہر ہے کہ جو لوگ خرق عادت واقعات یا معجزات کے منکر ہیں۔ انھیں یہ تفسیر راس نہیں آسکتی۔ تاہم اس حدیث کے الفاظ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ بھی اسے تسلیم کرلیں وہ یوں کہ حجر کے معنی پتھر بھی ہیں اور گھوڑی بھی۔ (منجد) اس لحاظ سے یہ واقعہ یوں ہوگا کہ موسیٰ گھوڑی پر سوار تھے۔ کسی تنہائی کے مقام پر نہانے لگے تو گھوڑی کو کھڑا کیا اور اسی پر اپنے کپڑے رکھ دیئے۔ جب نہانے کے بعد کپڑے لینے کے لئے آگے بڑھے تو گھوڑی دوڑ پڑی اور موسیٰ (علیہ السلام) ثوبی یا حجر کہتے اس کے پیچھے دوڑے تاآنکہ کچھ لوگوں نے آپ کو ننگے بدن دیکھ لیا کہ آپ بالکل بےداغ اور ان کی مزعومہ بیماری سے پاک ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان لوگوں کے الزام سے بری کردیا۔ رہی یہ بات کہ سیدنا ابوہریرہ (رض) قسم اٹھاکر کہتے ہیں کہ پتھر پر مار کے چھ یا سات نشان ہیں تو یہ سیدنا ابوہریرہ (رض) کا اپنا قول ہے۔ ارشاد نبوی نہیں جس کا ماننا حجت ہو۔ علاوہ ازیں قارون نے بھی ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کرلیا تھا کہ وہ سیدنا موسیٰ پر اپنے ساتھ زنا کی تہمت لگا دے۔ پھر جب سیدنا موسیٰ نے اسے اللہ کی قسم دے کر پوچھا تو اس پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے صاف انکار کرلیا کہ میں نے قارون کی انگیخت پر یہ تہمت لگائی تھی۔ اور بنی اسرائیل کا موسیٰ کو اس طرح دکھ پہنچانا اس لحاظ سے اور بھی شدید جرم بن جاتا ہے کہ آپ ہی کے ذریعہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اور ان کی مصر میں وہی حالت تھی جو ہندوستان میں شودروں کی ہے۔ بلکہ اس سے بھی بدتر حالت میں وہاں زندگی گزار رہے تھے۔ [١٠٨] وَجِیْھًا کا دوسرا معنی ایسا آبرو اور رعب والا شخص ہے جس کے متعلق لوگوں کو کچھ اعتراض ہو بھی تو وہ اس کے منہ پر کچھ نہ کہہ سکیں اور ادھر ادھر باتیں کرتے پھریں۔ یہی لفظ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ کے لئے استعمال فرمایا اور کہا (وَجِیْھًا فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ) (٣: ٤٥) یعنی عیسیٰ دنیا میں بھی وجیہ تھے اور آخرت میں بھی وجیہ ہوں گے۔ چناچہ دنیا میں یہود ان کی پیدائش سے متعلق الزام لگاتے تھے لیکن منہ پر بات کہنے کی کوئی جرات نہ کرتا تھا۔ اس آیت میں روئے سخن غالباً منافقوں کی طرف ہے جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ ورنہ مخلص مومنوں سے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ اپنے مجبوب اور محسن اعظم کو دکھ پہنچائیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى : اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں پر لعنت اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ سورت کے شروع ہی سے منافقین کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دینے کا ذکر چلا آرہا ہے، جو کبھی جنگ احزاب میں یہ کہنے کی صورت میں تھی کہ اللہ اور اس کے رسول نے محض دھوکا دینے کے لیے ہم سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا تھا، کبھی میدان چھوڑ کر گھروں کو جانے کی اجازت مانگنے کی صورت میں اور کبھی یہ کہہ کر کہ اب مسلمانوں کی مدینہ میں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی یہود اور دوسرے کفار کے ساتھ دوستی اور ان کی فتح کی خواہش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سخت تکلیف دہ تھی۔ آپ کی ذاتی زندگی کے متعلق تکلیف دہ باتیں اس پر مزید تھیں۔ مثلاً آپ کی چار سے زائد بیویوں پر اعتراض، اپنے متبنٰی زید (رض) کی بیوی زینب (رض) سے نکاح وغیرہ۔ سورت کے آخر میں پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذا سے یہ کہہ کر منع فرما رہے ہیں کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی۔ 3 موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دینے والوں کی باتوں کا قرآن میں متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ ظاہر ہے تمام بنی اسرائیل ایسے نہیں تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرح ہونے سے منع فرمایا جنھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی۔ ان لوگوں کا یہ رویہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے سخت تکلیف دہ تھا کہ عموماً وہ حکم ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے اور اس کے لیے لفظ بھی ” لَنْ “ (ہر گز نہیں) کا استعمال کرتے جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے، مثلاً : (لن نصبر علی طعام واحد) [ البقرۃ : ٦١ ] ، (لن نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ) [ البقرۃ : ٥٥ ] اور : (لن ندخلھا ابدا ما داموا فیھا) [ المائدۃ : ٢٤ ] ہارون (علیہ السلام) کے بچھڑے کی عبادت سے منع کرنے پر کہنے لگے : (لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسی) [ طٰہٰ : ٩١ ] ” ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔ “ کبھی حکم کی تعمیل میں ٹال مٹول سے کام لیتے تھے، جیسا کہ گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو پہلے ” اتتخذنا ھزوا “ کہا، پھر گائے کی کیفیت کے متعلق سوال پر سوال داغتے رہے۔ ان کا یہ رویہ ان کے اس محسن کے ساتھ تھا جس نے ان کی خاطر لمبی مدت تک فرعون سے تکلیفیں جھیلیں، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی۔ جس کی دعا سے انھیں من وسلویٰ ملتا تھا، بادلوں کا سایہ میسر تھا اور ان کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری تھے۔ فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا : ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی ایذا موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی پر الزام اور دھبے لگانے تک پہنچ گئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ان کے تمام الزامات سے پاک ہونا روز روشن کی طرح ظاہر فرما دیا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت مرتبے والے تھے۔ ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی داغ لگنے دیتا۔ 3 بنی اسرائیل کی جانب سے موسیٰ (علیہ السلام) کی ایذا کا ایک نمونہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے جو ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” موسیٰ (علیہ السلام) بہت حیا والے، بہت پردے والے تھے۔ شدید حیا کی وجہ سے ان کی جلد کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بنی اسرائیل کے ایذا دینے والوں میں سے بعض نے انھیں ایذا دی اور کہنے لگے : ” موسیٰ اپنا جسم اتنا سخت چھپاتے ہیں تو ضرور اس میں کوئی عیب ہے، یا برص ہے، یا خصیہ پھولا ہوا ہے، یا کوئی اور بیماری ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ان چیزوں سے پاک ہونا ظاہر کرے، جو وہ ان کے متعلق کہتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اکیلے ہوئے تو اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو کپڑے لینے کے لیے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی لی اور پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر ! میرے کپڑے، اے پتھر ! میرے کپڑے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے پاس جا پہنچا اور انھوں نے انھیں ننگا دیکھ لیا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق میں سب سے خوب صورت اور ان عیبوں سے بالکل بری تھے جو وہ کہتے تھے۔ الغرض ! پتھر رک گیا، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور پتھر کو اپنی لاٹھی سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم ! پتھر پر ان کے مارنے کی وجہ سے لاٹھی کے تین یا چار یا پانچ نشان پڑگئے۔ یہ مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا ۭ وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا ) [ الأحزاب : ٦٩ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : ٣٤٠٤ ] 3 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعض اوقات کسی بظاہر مسلمان کی طرف سے ایذا دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دی جانے والی ایذا اور اس پر ان کے صبر کا ذکر فرمایا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ مال تقسیم کیا تو ایک آدمی کہنے لگا : ” اس تقسیم میں اللہ کی رضا مقصود نہیں رکھی گئی۔ “ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ غصے میں آگئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے چہرے میں غصے کو دیکھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یَرْحَمُ اللّٰہُ مُوْسٰی قَدْ أُوْذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ ہٰذَا فَصَبَرَ ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : ٣٤٠٥ ]” اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ ایذا دی گئی تو انھوں نے صبر کیا۔ “ 3 بعض تفاسیر میں اس ایذا کے ضمن میں مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) پر ہارون (علیہ السلام) کے قتل کا الزام لگا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے بھیجے، جنھوں نے ہارون (علیہ السلام) کی میت اٹھا کر دکھا دی اور اس میں ایسا کوئی نشان نہیں تھا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی براءت فرما دی۔ مگر یہ قصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی نہیں، ظاہر ہے یہ اسرائیلی روایت ہے جسے ہم نہ سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary That causing pain to Allah and His Messenger brings fatal consequences was the subject of the previous verse. The present verse instructs Muslims that they should particularly guard against falling into any stance of hostility to Allah and His Messenger because it causes pain to them. In the first verse (69), by mentioning an event relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) an event in which his people had caused pain to him, Muslims have been warned that they should never do something like that. From this, it does not necessarily follow that Muslims may have actually done so. Instead of that, by relating this incident, they have been forewarned as a matter of precaution. As for the incident of some Sahabah (رض) reported in a narration, it is likely that they would have not realized at that time that the word being said would cause pain to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . That a Sahabi would intentionally cause pain to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is not possible. Whatever incidents of intentional causing of pain there are, they all relate to hypocrites. Then, by citing the incident relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has himself explained the meaning of this verse as it has been reported by Imam al-Bukhari from Sayyidna Abu Hurairah (رض) in Kitabut-Tafsir and Kitabul-Anbiya&. There it is said that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was a man of modesty and very particular in keeping his body properly covered. No one had the occasion to see his body uncovered. Whenever he needed a bath, he would take it inside a screened place. Conversely, his people, the Bani Isra&il, had a common custom of their own. Among them, men would bathe naked before everybody. So, some of them started saying that the reason why Sayyidna Musa (علیہ السلام) would not take a bath before anyone is that he had some defect in his body, either leprosy or enlarged testicles or some other evil-fated deformity because of which he preferred to remain hidden. Allah Ta’ ala willed that Sayyidna Musa (علیہ السلام) be cleared from the attribution of such defects. On a certain day, Sayyidna Musa (علیہ السلام) went in for a bath in private while he put off his clothes and placed these on a rock. When done with his bath, he moved to pick up his clothes from the rock. At that time, this rock (moving under Divine command) started running away. Sayyidna Musa (علیہ السلام) with his staff in hand, went after the rock saying: ثَوبِی حَجَرُ ثَوبِٰ حَضَرُ (0 rock, my clothes! 0 rock, my clothes! ). But the rock kept moving until it stopped at a place crowded with the people of Bani Isra&il. At that time, when the Bani Isra&il saw Sayyidna Musa (علیہ السلام) undressed from the head to the feet, they saw a body that was perfect (having no defect attributed by them). Thus, Allah Ta’ ala made it clear before everyone that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was free from these supposed defects. The rock had stopped at this place. Once Sayyidna Musa (علیہ السلام) had picked up his clothes and put these on, he started beating up the rock with his staff. |"By Allah,|" said the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) |"the strikes of Sayyidna Musa (علیہ السلام) against the rock left some three or four or five traces on it!|" After having recounted this event, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This is what this verse of the Qur&an means, that is, the verse under study: كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ (Like those who caused pain to Musa (علیہ السلام) . - 33:69). The explanation of the pain caused to Sayyidna Musa (علیہ السلام) in this incident has been reported from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself. There is yet another story relating to the pain caused to Sayyidna Musa (علیہ السلام) reported from the noble Sahabah (رض) which is also necessarily appended to it. But, the weightier Tafsir or explanation is the one that is present in the Hadith reported from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself. At the end of verse 69, it was said: وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا (And he was honorable in the sight of Allah). The Arabic word used for Sayyidna Musa (علیہ السلام) wajih denotes the honor and elegance of someone who deserves regard and consideration. When used with: عِندَ اللَّـهِ ` indallah: in the sight of Allah), it would mean a person whose prayer is answered by Allah Ta’ ala and whose wish He does not turn down. Hence, the station of Sayyidna Musa علیہ السلام as a person whose prayers were answered (popularly known as: mustajab-ud-da’ awat) is proved from many events mentioned in the Qur&an where he prayed to Allah for something and He answered it the way he wanted it to be. Most unique of these is the prayer he made about Sayyidna Harun (Aaron) (علیہ السلام) where he wished that he be made a prophet. Allah Ta&ala accepted his prayer and made him a co-prophet with Sayyidna Musa (علیہ السلام) - although, the high office of prophethood is not given to someone on someone&s recommendation. (Ibn Kathir)

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جنہوں نے (کچھ تہمت تراش کر) موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذاء دی تھی سو ان کو خدا تعالیٰ نے بری ثابت کردیا اس چیز سے جو وہ کہتے تھے (یعنی ان کو تو کچھ نقصان نہ پہنچا تہمت لگانے والے ہی کذاب اور مستحق سزا ٹھہرے) اور وہ (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اللہ کے نزدیک بڑے معزز (پیغمبر) تھے (اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت ظاہر فرما دی جیسا کہ دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کے لئے اس طرح کی تہمتوں سے برات عام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم رسول کی مخالفت کر کے ان کو ایذاء نہ دینا کیونکہ ان کی مخالفت اللہ کی مخالفت ہے، ورنہ اس کے نتیجہ میں تم خود اپنا ہی نقصان کرلو گے اس لئے ہر کام میں اللہ و رسول کی اطاعت کرنا جس کا حکم آگے آتا ہے کہ) اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو (یعنی ہر امر میں اس کی اطاعت کرو) اور (بالخصوص کلام کرنے میں اس کی بہت رعایت رکھو کہ جب بات کرو) راستی کی بات کرو (جس میں عدل و اعتدال سے تجاوز نہ ہو) اللہ تعالیٰ (اس کے صلہ میں) تمہارے اعمال کو قبول کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا (کچھ ان اعمال کی برکت سے کچھ توبہ کی برکت سے جو تقویٰ اور قول سدید میں داخل ہے) اور (یہ ثمرات اطاعت کے ہیں اور اطاعت ایسی چیز ہے کہ) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔ معارف ومسائل اس سے پہلی آیات میں اللہ و رسول کی ایذا کا مہلک اور خطرناک ہونا بیان کیا گیا تھا اس آیت میں خاص طور سے مسلمانوں کو اللہ و رسول کی مخالفت سے بچنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ یہ مخالفت ان کی ایذا کا سبب ہے۔ پہلی آیت میں ایک واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جس میں ان کی قوم نے ان کو ایذا پہنچائی تھی ذکر کر کے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ مسلمانوں سے کوئی ایسا کام سرزد ہوا ہو بلکہ حفظ ماتقدم کے طور پر ان کو یہ قصہ سنا کر ہدایت کی گئی ہے۔ اور ایک روایت میں جو قصہ بعض صحابہ کا منقول ہے اس کا محمل بھی یہی ہے کہ ان کو اس وقت اس طرف توجہ نہ ہوئی ہوگی کہ یہ کلمہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذا کا موجب ہے، بالقصد ایذا پہنچانے کا کسی صحابی سے امکان نہیں، جتنے قصے بالقصد ایذا کے ہیں وہ سب منافقین کے ہیں۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرما کر اس آیت کی تفسیر بیان فرما دی ہے جس کو امام بخاری نے کتاب التفیسر اور کتاب الانبیاء میں حضرت ابوہریرہ سے روایت فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت حیا کرنے والے اور اپنے بدن کو چھپانے والے تھے، ان کے بدن کو کوئی نہ دیکھتا تھا، جب غسل کی ضرورت ہوتی تو پردہ کے اندر غسل کرتے تھے، ان کی قوم بنی اسرائیل میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ مرد سب کے سامنے ننگے ہو کر نہاتے تھے، تو بعض بنی اسرائیل کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کسی کے سامنے نہیں نہاتے اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے بدن میں کوئی عیب ہے، یا تو برص ہے یا خصیتین بہت بڑھے ہوئے ہیں، یا کوئی اور آفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس طرح کے عیوب سے برات کا اظہار فرما دیں۔ ایک روز موسیٰ (علیہ السلام) خلوت میں غسل کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے، جب غسل سے فارغ ہو کر اپنے کپڑے لینے چاہے تو یہ پتھر (بحکم خداوندی حرکت میں آگیا) اور کپڑے لے کر بھاگنے لگا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی اٹھا کر پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے چلے ثوبی حجر ثوبی حجر، ” یعنی اے پتھر میرے کپڑے، اے پتھر میرے کپڑے “ مگر پتھر چلتا رہا یہاں تک کہ یہ پتھر ایسی جگہ جا کر ٹھہرا جہاں بنی اسرائیل کا ایک مجمع تھا، اس وقت بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سر سے پاؤں تک ننگا دیکھا تو بہترین صحیح وسالم بدن دیکھا (جس میں ان کا منسوب کیا ہوا کوئی عیب نہ تھا) اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برات ان عیوب سے ان سب کے سامنے ظاہر فرما دی۔ پتھر یہاں پہنچ کر ٹھہر گیا تھا، موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے اٹھا کر پہن لئے، پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو لاٹھی سے مارنا شروع کیا۔ خدا کی قسم ! اس پتھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب سے تین یا چار یا پانچ اثر قائم ہوگئے۔ یہ واقعہ بیان فرما کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قرآن کی اس آیت کا یہی مطلب ہے۔ یعنی آیت مذکورہ (آیت) کالذین اذواموسیٰ ۔ کا آیت مذکورہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی جس ایذا کا ذکر ہے اس کی تفسیر اس قصہ میں خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔ بعض صحابہ کرام سے ایذا موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک قصہ اور بھی مشہور ہے۔ وہ بھی اس کے ساتھ ضرور ملحق ہے۔ مگر تفسیر آیت وہی راجح ہے جو مرفوع حدیث میں موجود ہے۔ (آیت) وکان عند اللہ وجیہاً ” یعنی تھے موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نزدیک صاحب وجاہت “ اللہ کے نزدیک کسی کی وجاہت اور جاہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرمائیں اس کی خواہش کو رد نہ کریں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مستجاب الدعوات ہونا قرآن میں ان واقعات کثیرہ سے ثابت ہے جن میں انہوں نے کسی چیز کی دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح قبول فرمایا۔ ان میں سب سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ ہارون (علیہ السلام) کو پیغمبر بنانے کی دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ شریک رسالت بنادیا، حالانکہ منصب نبوت کسی کو کسی کی سفارش پر نہیں دیا جاتا۔ (ابن کثیر)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَہُ اللہُ مِمَّا قَالُوْا۝ ٠ ۭ وَكَانَ عِنْدَ اللہِ وَجِيْہًا۝ ٦٩ۭ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أذي الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ، قوله تعالی: فَآذُوهُما [ النساء/ 16] إشارة إلى الضرب، ونحو ذلک في سورة التوبة : وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ : هُوَ أُذُنٌ [ التوبة/ 61] ، وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 61] ، ولا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسی [ الأحزاب/ 69] ، وَأُوذُوا حَتَّى أَتاهُمْ نَصْرُنا [ الأنعام/ 34] ، وقال : لِمَ تُؤْذُونَنِي [ الصف/ 5] ، وقوله : يَسْئَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ : هُوَ أَذىً [ البقرة/ 222] ( ا ذ ی ) الاذیٰ ۔ ہرا س ضرر کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو پہنچتا ہے وہ ضرر جسمانی ہو یا نفسانی یا اس کے متعلقات سے ہو اور پھر وہ ضرر دینوی ہو یا اخروی چناچہ قرآن میں ہے : ۔ { لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى } ( سورة البقرة 264) اپنے صدقات ( و خیرات ) کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر برباد نہ کرو ۔ اور آیت کریمہ ۔ { فَآذُوهُمَا } ( سورة النساء 16) میں مار پٹائی ( سزا ) کی طرف اشارہ ہے اسی طرح سورة تو بہ میں فرمایا ۔ { وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ } ( سورة التوبة 61) اور ان میں بعض ایسے ہیں جو خدا کے پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے ۔ { وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة التوبة 61) اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذاب الیم ( تیار ) ہے ۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى } ( سورة الأحزاب 69) تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی ( عیب لگا کر ) رنج پہنچایا ۔ { وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا } ( سورة الأَنعام 34) اور ایذا ( پر صبر کرتے رہے ) یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی ۔ { لِمَ تُؤْذُونَنِي } ( سورة الصف 5) تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو۔ اور آیت کریمہ : ۔ { وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ } ( سورة البقرة 222) میں حیض ( کے دنوں میں عورت سے جماع کرنے ) کو اذی کہنا یا تو از روئے شریعت ہے یا پھر بلحاظ علم طب کے جیسا کہ اس فن کے ماہرین بیان کرتے ہیں ۔ اذیتہ ( افعال ) ایذاء و اذیۃ و اذی کسی کو تکلیف دینا ۔ الاذی ۔ موج بحر جو بحری مسافروں کیلئے تکلیف دہ ہو ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . برأ أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1] ، ( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ میں نے اس کو تہمت یا مرض سے بری کردیا ۔ رجل بریء پاک اور بےگناہ آدمی ج برآء بریئوں قرآن میں ہے ؛۔ { بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة التوبة 1) اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ وَجِيهاً وفلان وجِيهٌ: ذو جاه . قال تعالی: وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ آل عمران/ 45] وأحمق ما يتوجّه به : كناية عن الجهل بالتّفرّط، وأحمق ما يتوجّه بفتح الیاء وحذف به عنه، أي : لا يستقیم في أمر من الأمور لحمقه، والتّوجيه في الشّعر : الحرف الذي بين ألف التأسيس وحرف الرّويّ فلان وجہ القوم کے معنی رئیس قوم کے ہیں جیسا کہ قوم کے رئیس اور سردارکو را وجیہ اوذوجاہ فلاں صاحب وجاہت ہے قرآن میں ہے ۔ وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ [ آل عمران/ 45] اور جو دینا اور آخرت میں با آبر و ہوگا ۔ ایک محاورہ ہے ۔ احمق مایتوجہ بہ یعنی وہ انتہائی درجہ کا احمق ہے اور کبھی بہ کو حذف کرکے بھی بولتے ہیں ۔ اور مطلب یہ ہے کہ حماقت کی وجہ سے وہ کوئی کام بھی صحیح طور پر نہیں کرسکتا ۔ التوجیہ علم عروض میں اس حرف کو کہتے ہیں جو ایف تاسیس اور حرف روی کے درمیان ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے ایمان والو تم رسول اکرم کو تکلیف دینے میں ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے کچھ تہمت تراش کر موسیٰ کو تکلیف دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بری ثابت کردیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزیک بڑے معزز اور قدر و منزلت والے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٩ { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی } ” اے اہل ِایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ کو اذیت دی تھی “ { فَـبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا } ” تو اللہ نے اس کو بری ثابت کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی ‘ اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والا تھا۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف سے کئی طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سورة الصف میں آپ ( علیہ السلام) کے وہ الفاظ نقل ہوئے ہیں جو آپ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کے طرزعمل پر شکوہ کرتے ہوئے فرمائے تھے : { یٰـقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْط } (آیت ٥) ” اے میری قوم ! تم مجھے کیوں اذیت دیتے ہو درآنحالیکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ! “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی طرف سے سب سے بڑی اذیت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب آپ ( علیہ السلام) نے قوم کو اللہ کے راستے میں قتال کرنے کا حکم دیا تو سوائے دو اشخاص کے پوری قوم نے انکار کردیا۔ قوم کے اس طرز عمل پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کو فت اور اذیت محسوس کی اس کا اندازہ اس دعا سے کیا جاسکتا ہے جو آپ ( علیہ السلام) نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے کی : { قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المائدۃ) ” انہوں ( علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی (ہارون ( علیہ السلام) کی جان) کے ‘ تو اب تفریق کردے ہمارے اور ان ناہنجار لوگوں کے درمیان ۔ “ اس کے علاوہ آپ ( علیہ السلام) پر ذاتی نوعیت کا ایک الزام لگا کر بھی آپ ( علیہ السلام) کو سخت اذیت پہنچائی گئی۔ اس حوالے سے احادیث میں ایک واقعہ بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ کا ُ لب ّلباب یہ ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر مرد اپنے ستر کو چھپانے کا خاص اہتمام نہیں کرتے تھے اور سر ِعام برہنہ نہانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس کے برعکس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس بارے میں غیر معمولی طور پر احتیاط سے کام لیتے تھے۔ اس پر لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ آپ ( علیہ السلام) جسمانی طور پر کسی عیب یا مرض میں مبتلا ہیں جس کو چھپانے کے لیے آپ ( علیہ السلام) اس قدر شرم و حیا کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے ایک خاص ترکیب کے ذریعے لوگوں پر واضح کردیا کہ ان کا یہ الزام جھوٹا اور بےبنیاد تھا۔ سورة النور میں ہم حضرت عائشہ (رض) پر منافقین کی طرف سے بہتان تراشی کا وہ واقعہ بھی پڑھ چکے ہیں جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سخت اذیت کا باعث بنا تھا۔ چناچہ یہاں تمام افرادِ امت کو خبردار کیا جارہا ہے کہ دیکھو ! تم بھی کہیں بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا کرتے تھے۔ تمہارا کوئی عمل یا قول ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

118 One should note that the Holy Qur'an has at some places addressed the true Muslims with: 'O you who have believed," and at others the Muslim community as a whole, which includes the believers as well as the hypocrites and the Muslims of the weak faith, and at still others only the hypocrites. When the hypocrites and the Muslims of the weak faith are addressed with: "O you who have believed," it is meant to put them to shame, as if to say, "You claim to have affirmed faith, but your acts and deeds do not support your claim." A little study of the context can easily show which class of the people has been addressed at a particular place. Here, obviously, the common Muslims are being addressed. 119 In other words, it means: "O Muslims, do not behave like the Jews. You should not behave towards your Prophet as the children of Israel behaved towards the Prophet Moses. " The Israelites themselves admit that the Prophet Moses was their greatest benefactor. Whatever they achieved as a nation was only due to him: otherwise in Egypt they would have been doomed to a worse fate than that of the Shudras in India. But how the Israelites treated the greatest benefactor of theirs can be judged by a cursory glance at the following places of the Bible: Exodus, 5: 20-21, 14: 12, 16: 2-3, 17: 3-4. Numbers, 11:1-15,14:1-10, 16 (the whole chapter), 20: 1-5. The Qur'an by referring to this ingratitude of the children of Israel, warns the Muslims, so as to say: "Refrain from adopting this same attitude towards Muhammad (upon whom be Allah's peace); otherwise you should be ready to face the same fate as the Jews. " This same thing was said by Holy Prophet himself on several occasions. Once he was dividing some goods among the Muslims. When the people dispersed, a man said; "Muhammad in this division has shown no regard for Allah and the Hereafter. " Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud heard this remark and told the Holy Prophet what had been said concerning him that day. He replied, "May Allah show mercy to Moses: he was maligned even more severely, but he showed patience." (Musnad Ahmad, TIrmidhi, Abu Da'ud).

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :118 یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید میں اے لوگو جو ایمان لائے ہو کے الفاظ سے کہیں تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا گیا ہے ، اور کہیں مسلمانوں کی جماعت بحیثیت مجموعی مخاطب ہے جس میں مومن اور منافق اور ضعیف الایمان سب شامل ہیں ، اور کہیں روئے سخن خالص منافقین ہی کی طرف ہے ۔ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو الذین اٰمنوا کہہ کر جب مخاطب کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ان کو شرم دلانا ہوتا ہے کہ تم لوگ دعویٰ تو ایمان لانے کا کرتے ہو اور حرکتیں تمہاری یہ کچھ ہیں ۔ سیاق و سباق پر غور کرنے سے ہر جگہ بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ کس جگہ الذین اٰمنوا سے مراد کون ہیں ۔ یہاں سلسلۂ کلام صاف بتا رہا ہے کہ مخاطب عام مسلمان ہیں ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :119 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم یہودیوں کی سی حرکتیں نہ کرو ۔ تمہاری روش اپنے نبی کے ساتھ وہ نہ ہونی چاہیے جو بنی اسرائیل کی روش موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ۔ بنی اسرائیل خود مانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ان کے سب سے بڑے محسن تھے ۔ جو کچھ بھی یہ قوم بنی ، انہی کی بدولت بنی ، ورنہ مصر میں اس کا انجام ہندوستان کے شودروں سے بھی بدتر ہوتا ۔ لیکن اپنے اس محسن اعظم کے ساتھ اس قوم کاجو سلوک تھا اس کا اندازہ کرنے کے لیے با ئیبل کے حسب ذیل مقامات پر صرف ایک نظر ڈال لینا ہی کافی ہے : کتاب خروج ۔ ۵:۲۰ ۔ ۲۱ ۔ ۱٤ : ۱۱ ۔ ۱۲ ۔ ۳ ۔ ۱۷:۳ ۔ ٤ کتاب گنتی ۔ ۱۱:۱ ۔ ۱۵ ۔ ۱٤: ۱ ۔ ۱۰ ۔ ۱٦ مکمّل ۔ ۲۰:۱ ۔ ۵ قرآن مجید بنی اسرائیل کی اسی محسن کشی کی طرف اشارہ کر کے مسلمانوں کو متنبہ کر رہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ طرز عمل اختیار کرنے سے بچو ، ورنہ پھر اسی انجام کے لیے تیار ہو جاؤ جو یہودی دیکھ چکے ہیں اور دیکھ رہے ہیں ۔ یہی بات متعدد مواقع پر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمائی ہے ۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں کچھ مال تقسیم کر رہے تھے ۔ اس مجلس سے جب لوگ باہر نکلے تو ایک شخص نے کہا احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس تقویم میں خدا اور آخرت کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا ۔ یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سن لی اور جا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آج آپ پر یہ باتیں بنائی گئی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا رحمۃ اللہ علیٰ موسیٰ فانہ اُوذی باکثر من ھٰذا فَصَبَر ۔ اللہ کی رحمت ہو موسیٰ پر ۔ انہیں اس سے زیادہ اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے صبر کیا ( مُسند ، احمد ۔ ترمذی ۔ ابو داؤد )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

51: بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر طرح طرح کے الزامات لگا کر انہیں بہت ستایا تھا۔ حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ایسی حرکت نہ کریں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:69) لا تکونوا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تم مت ہوجائو۔ اذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ایذاء (افعال) مصدر انہوں نے ستایا۔ انہوں نے اذیت دی۔۔ فبراہ۔ برا یبرء تبریۃ (تفعیل) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ کان عند اللہ وجیھا۔ ای کان موسی۔۔ وجیھا منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔ وجیھا صیغہ صفت ہے وجاھۃ مصدر سے۔ قدرو منزلت والا۔ وجاہت والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے ملعون اور معذب ہونگے۔ اب یہاں مومنین کو تنبیہ کی وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کریں جیسا رویہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ ” ستانے “ سے مراد زبان سے کوئی بد تمیزی کی بات کہنا بھی ہے اور ہاتھ سے تکلیف دینا بھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں میں کچھ مال غنیمت تقسیم فرمایا۔ ایک انصاری کہنے لگا ” یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں خدا کی خوشنودی کا خیال نہیں رکھا گیا “۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اس کا علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا :” موسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا مگر انہوں نے صبر کیا۔ “ ” ستانے “ سے مراد اس قسم کی تمام باتیں ہوسکتی ہیں ( ابن کثیر) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ستانے کے سلسلہ میں مختلف واقعات منقول ہیں۔ بخاری میں ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بہت حیادار تھے اور اپنے بدن کو کبھی کھلا نہ رکھتے تھے۔ اس وجہ سے بعض لوگوں نے مشہور کردیا کہ ان کے بدن پر کوئی برص وغیرہ کا عیب ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طور پر ان کے بےعیب ہونے کو ظاہر کردیا۔ یعنی ایک دن ایسا ہو کہ وہ ایک پتھر پر اپنے کپڑے رکھ کر نہانے لگے غسل سے فارغ ہو کر کپڑے پہننے پتھر کی طرف چلے تو وہ پتھر کپڑوں سمیت بھاگنے لگا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بھی ” ثوبی حجر “ ( اور پتھر میرے کپڑے) کہتے ہوئے اس کے پیھے دوڑے حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) میں کوئی جسمانی عیب نہیں ہے۔ ( کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 69 تا 73 اسرارومعارف اے ایمان والو تم ایسے مت ہوجانا یا ایسا رویہ اختیار نہ کرنا جیسا کہ قوم موسیٰ نے کیا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ایذا کا سبب بنے تھے کبھی اطاعت نہ کرکے اور کبھی ان پر الزام تراشی کر کے مگر اللہ نے انہیں ان سب باتوں سے بری کردیا فتوحات بھی نصیب ہوئیں الزامات سے بھی بچ گئے اس لیے کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت معزز تھے یعنی نبی تھے اور سب انبیاء بہت معزز ہوتے ہیں۔ اور اے مسلمانوں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی کھری بات کہو کہ سچی بات کہنے والے کو اچھے کردار کی توفیق ہوتی ہے اور اللہ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے کہ کامیابی کا صرف یہی راستہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت اور اللہ کے نبی کی غلامی کا حق ادا کیا وہ یقینا بہت بڑی کامیابی حاصل کرگیا۔ یہی تقاضائے انسانیت ہے کہ ازل کو معرفت الہی اور عشق الہی کی امانت آسمانوں جیسی بڑی مخلوق زمین جیسے سیارے اور بڑے بڑے پہاڑوں پر پیش کی گئی تھی مگر انہوں نے اسے قبول کرنے کی جرات نہ کی اور معذرت کرلی مگر انسان نے یہ بوجھ قبول کرلیا کہ انسان بڑا ہی غلط کار اور علم سے محروم ہے کہ فیصلے کرنے میں جلدی کرتا ہے اور ان کے انجام تک جاننے کی سعی نہیں کرتا یہ اس کا مزاج ہے مگر اب جبکہ معرفت الہی کا بوجھ قبول کرچکا تو اسے اپنی غلط روش بھی ترک کرنا ہوگی اور جہالت بھی چھوڑنا ہوگی اور صحیح کردار اور علم و حکمت کے خزینے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غلامی کرکے حاصل کرنا ہوں گے یہ انسان کی ضرورت ہے انسانیت کی ضرورت ہے اور محض زبانی دعوے کرنے والے اور دل سے قبول نہ کرنے والے یا شرک میں مبتلا مرد و خواتین اپنی جہالت اور غلط کاری کے باعث اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے اور ایمان والے مرد و خواتین کی معذرت اللہ قبول فرما کر انہیں سرفراز فرمائیں گے کہ اللہ کریم بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔ الحمد للہ سورة احزاب مکمل ہوئی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 73 لا تکونوا : تم نہ ہوجانا اذوا : تکلیف پہنچائی برا : اس نے بری کردیا وجیہ : باعزت و عظمت سدید : سیدھا فاز : کامیاب ہوگیا عرضنا : ہم نے پیش کردیا ابین : (سب نے) انکار کردیا ان یحمل : یہ کہ وہ اٹھائے اشفقن : (سب) ڈر گئے حمل : اٹھا لیا ظلوم : بہت ظالم جھول : بہت زیادہ جاہل یتوب : وہ متوجہ ہوتا ہے تشریح : آیت نمبر 69 تا 73 سورۃ الاحزاب جس میں زیادہ تر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آداب واحترام کے اصول سکھائے گئے ہیں اس سورت کے آخر میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح یہودوں نے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کو ستا یا تھا اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچائی تھیں ان پر جھوٹے الزامات اور بےتکی تمہتیں لگائی تھیں تم اپنے نبی محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسا معاملہ مت کرنا۔ کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت آبرومند اور معزز تھے اسی طرح حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اللہ کے نزدیک بہت عظیم مقام رکھتے ہیں جن لوگو نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ستا یا تھا اس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تو کچھ نہیں بگڑا البتہ اس طرح کے لوگوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ و برباد کر ڈالا تھا۔ مفسرین نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے ایک واقعہ کا حوالہ دیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے پاس کہیں سے کچھ مال آیا تا آپ نے ہمیشہ کی طرح اس سارے مال کو صحابہ کرام (رض) میں تقسیم کردیا تھا ۔ جو لوگ اس محروم رہ گئے تھے ان میں سے کسی انصاری صحابی کے منہ سے یہ نکل گیا کہ اللہ کی قسم آپ نے اس تقسیم میں اللہ تعالیٰ اور آخرت کا لحاظ نہیں رکھا ۔ یہ بات حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے سن لی اور جا کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کردیا کہ آج آپ پر یہ باتیں بنائی جارہ ہیں کہ آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہوا نہیں اس سے زیادہ تکلیفیں دی گئی مگر انہوں نے اس پر صبر کیا ۔ (ترمذی ۔ ابو دائود ، مسند احمد ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور عدل و انصاف کا معاملہ کیا کرتے تھے اس واقعہ سے آپ کو اذیت پہنچی اس پر اللہ تعالیٰ نے اپ کی تسلی کے لئے یہ مذکورہ آیات ناز ل فرمائیں اور اہل ایمان سے فرمایا کہ وہ ان یہودبنی اسرائیل جیسی روش اختیار نہ کریں جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزامات لگا کر انہیں ستایا تھا۔ حالانکہ وہ تمام الزمات غلط تھے اس لئے اللہ نے ان کو ان الزامات سے بری کردیا تھا کیونکہ وہ اللہ کے نزدیک نہایت با عظمت تھے۔ ان آیات میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ایمان والوں صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے اور ہمیشہ ایسی بات کہا نا چاہیے جو سیدھی اور سچی ہو محض جذبات میں آکر ایسی بات منہ سے نکالنا جو بےبنیاد ہو وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرما برداری کے خلاف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ سیدھی سچی بات کریں گے ان کے نہ صرف اعمال درست کردیئے جائیں گے بلکہ اگر ان کچھ گناہ سر زرد ہوگئے ہوں گے تو وہ ان کو معاف فر مادے گا ۔ اصل چیز اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ ان آیات میں تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے رکھ کر فرمایا کہ یہ ہماری ایک امانت ہے کیا تم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے نہ صر انکار کردیا بلکہ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے لیکن جب انسان کے سامنے اس بار امانت کو پیش کیا گیا تو اس نے اس کو اٹھالیا۔ یہ بار امانت کیا ہے ؟ اس کے لئے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اس امانت کو انسان (آدم ) کے سامنے رکھاتو اس نے عرض کیا کہ امانت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اچھا کرو گے تمہیں اس کا ثواب ملے گا اور گر تم نے برا کیا تو اس پر تمہیں سزا ملے گی۔ (تفسیر ابن کثیر) قرآن کریم میں امانت کا ذکر ہے لیکن امانت کیا ہے اس کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اچھے برے اعمال مراد ہیں ۔ بعض کے نزدیک اس امانت سے مراد ” خلافت “ ہے جس کی ذمہ داری انسان پر رکھی گئی ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ اس مراد وہ اختیار ہے جو انسان کو اس دنیا میں وقتی طور پر امانت کے طور پر دیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے اختیار سے نیکی اور برائی کے دونوں راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔ بہر حال جو مضامین اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں وہ زیادہ تر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب و احترام اور آپ کی اطاعت و فرماں برداری سے متعلق ہیں اس لئے حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کا مفہوم ان آیات میں بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بارا مانت جو انسان کے کاندھوں پر رکھا گیا ہے۔ اس سے مراد ” علم و عدل “ ہے۔ علم ایک روشنی ہے اور عدل ایک راستہ ہے جو انسان کو علم کی روشنی میں منزل تک پہنچاتا ہے ۔ یا یوں کہئے کہ قرآن کریم علم ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی عدل و اعتدال کا نام ہے اس لئے ہر وہ شخص جو آخرت کی حقیقی کامیابی چاہتا ہے اس کے لئے قرآن کریم کی تعلیمات اور نبی کریم کی پاکیزہ زندگی ایک امانت کے طور پر اہل ایمان کو دی گئی ہے جو بھی قرآن و سنت پر چلنے والا ہوگا وہی کامیاب و امر ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک والہانہ محبت اور ان کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین الحمد للہ سورة الاحزاب کا ترجمہ اور تشریح مکمل ہوئی۔ واخر دعوا نا ان الحمدللہ رب العالمین

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی ان کا تو کچھ ضرر نہ ہوا تہمت لگانے والے ہی کذاب اور مستحق عقاب ٹھہرے۔ 3۔ مطلب یہ کہ تم رسول کو ان کی مخالفت کر کے ایذا مت دینا کہ وہ اللہ کی مخالفت بھی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت ٥٣ سے ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ اے مسلمانو ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں بن بلائے مہمان نہ بنا کرو اس طرح مہمان بننے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف ہوتی ہے۔ اب اس خطاب کا اختتام بھی مومنوں کو آداب سکھلاتے ہوئے کیا جارہا ہے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو ! کہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں جیسا کردار اختیار نہ کرنا۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذّیت پہنچائی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کرم فرمایا اسے ان کی یا وہ گوئی سے بچا لیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بڑا وجیہ پیدا فرمایا تھا وجیہ کا معنٰی ہے جمال اور جلال رکھنے والا اور بڑی عزت کا مالک۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ کَانَتْ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ وَ کَانَ مُوْسٰی یَغْتَسِلُ وَحْدَہٗ فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَایَمْنَعُ مُوْسٰی أَنْ یَّغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّہٗ آدَرُ فَذَھَبَ مَرَّۃً یَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ عَلٰی حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِہٖ فَخَرَجَ مُوْسٰی فِيْ إِثْرِہٖ یَقُوْلُ ثَوْبِيْ یَاحَجَرُ حَتّٰی نَظَرَتْ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَابِمُوْسٰی مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَہٗ فَطَفِقَ بالْحَجَرِ ضَرْبًا) [ رواہ البخاری : کتاب الغسل، باب من اغتسل عریاناوحدہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ ننگے نہایا کرتے اور ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے ہی غسل کرتے تھے۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) اس وجہ سے غسل نہیں کرتے کہ ان کے خصیتین میں بیماری ہے۔ ایک مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کررہے تھے تو پتھر کپڑے لے کر چل نکلا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ اے پتھر ! میرے کپڑے دے دے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ حالت میں دیکھ کر کہا : اللہ کی قسم ! موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی تکلیف نہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے پکڑ کر پتھر کو مارنا شروع کردیا۔ “ مسلمانوں کو حکم : (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا لَا تَقُولُوا راعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَلِیمٌ)[ البقرۃ : ١٠٤] ” اے ایمان والو ! تم ” رَاعِنَا “ نہ کہو بلکہ ” اُنْظُرْنَا “ کہو اور سنو ! کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ “ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ ) [ رواہ الطبرانی فی الصغیر صفحہ ٢٣٦ جلد ١] ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور جو صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں۔ “ (تفصیل جاننے کے لیے البقرۃ آیت ١٠٤ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو لوگوں کی ایذا سے محفوظ فرمایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت کا اہتمام کیا۔ ٣۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہی صاحب جمال اور کمال پیغمبر تھے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مرتبہ ومقام کی ایک جھلک : ١۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : ٣٠) ٢۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النّساء : ١٢٥) ٣۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : ٣٥) ٤۔ داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں خلیفہ بنایا۔ (ص : ٢٦) ٤۔ داؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے دانائی عطا فرمائی۔ (ص : ٢٠) ٥۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ ( یو سف : ٨٣) ٦۔ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : ٣١) ٧۔ ادریس (علیہ السلام) کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم : ٥٧) ٨۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمۃ العالمین ہیں۔ (الانبیاء : ١٠٧) ٩۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ : ١٢ تا ١٤) ١٠۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (لنّساء : ١٧١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یایھا الذین امنوا لا تکونوا ۔۔۔۔۔۔۔ فاز فوزا عظیما (69 – 71) ” ۔ قرآن کریم نے اس ایذا کا تعین نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ البتہ روایت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں جسے قرآن کریم نے مجمل چھوڑ دیا۔ یہاں مقصد اہل ایمان کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ وہ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت نہ دیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بدعملیوں اور بدکرداریوں کی کئی مثالیں دی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ انہوں نے اپنے نبی کو اذیت دی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایس انہیں کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا شعور ایسا بن جائے کہ وہ کسی معاملے میں بھی بنی اسرائیل کے مماثل نہ ہوں۔ ان کے دلوں میں ان کی نفرت بیٹھ جائے کیونکہ یہ لوگ مجسم بدعمل ، بےراہ رو ، نبی کو ہر وقت تنگ کرنے والے تھے۔ بنی اسرائیل نے اپنے نبی پر جو الزم لگایا تھا اللہ نے ان کو اس سے بری کردیا تھا۔ وکان عند اللہ وجیھا (33: 69) ” اور وہ اللہ کے نزدیک باعزت تھا “۔ یعنی وہ اللہ کے نزدیک صاحب قدر و منزلت تھا۔ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ہر قسم کے بہتان اور الزام سے علی روش الاشاد بری کرتا ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انبیاء سے افضل ہیں اس لیے اللہ ان کو بھی بری اور پاک کرتا ہے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو ہدایت کرتا ہے کہ کسی معاملے میں منافقین اور دشمنوں کے ساتھ اتفاق کرنے سے قبل اس کی تحقیق اور درستگی کا پتہ کرنا فرض ہے۔ خصوصاً اپنے نبی ، مرشد اور ولی اور دوست کے بارے میں گمراہوں اور فساق و فجار کی باتوں پر کان دھرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ قرآن کریم ان کو ایک صالح بات کی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں عمل صالح نمودار ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے ہوتے ہیں اللہ ان کی نگہبانی کرتا ہے اور ان کی راہنمائی اعمال خیر کی طرف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی باتیں کرنے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ان کی تقصیرات کو معاف کرتا ہے۔ کیونکہ تقصیرات سے کوئی آدمی محفوظ نہیں رہتا۔ ان تقصیرات سے آدمی صرف مغفرت الٰہی سے نکل سکتا ہے۔ من یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما (33: 71) ” جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اطاعت الٰہی بذات خود فوز عظیم ہے ، کیونکہ اطاعت سے انسان اللہ کی نہج پر قائم ہوتا ہے۔ اور اللہ کے طریقے پر استقامت انسان کے لئے نفع بخش ہوتی ہے۔ اور جسے اللہ کے سیدھے طریقہ اور راستے کی طرف ہدایت ہوجائے یہ بذات خود دائمی سعادت اور نیک بختی ہے۔ اگرچہ اس کے سوا اس کے لیے کوئی اجر و جزاء نہ ہو۔ کیونکہ جو شخص ٹھیک ٹھیک اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا ہو ، اسے اپنا راستہ صاف نظر آرہا ہو اور اس کے اردگرد مخلوق اسی کے ساتھ معاون ہو وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جسے اپنی راہ معلوم نہ ہو ، پریشان ہو ، اور اس کی راہ کے اردگرد تمام کائنات اس سے متصادم ہو اور اس کے لیے اذیت ناک ہو۔ لہٰذا اللہ اور رسول کی اطاعت بذات خود احسن الجزاء ہے۔ یہی فوز عظیم ہے۔ یوم الحساب اور جنت نعیم سے بھی پہلے یہ کامیابی ہے۔ اخروی کامیابی تو فضل عظیم ہے اور یہ بونس ہے جو نعمت ملے گی اور یہ فضل اللہ جسے چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل اس لیے ہے کہ حضرت انسان بہت ہی ضعیف ہیں۔ اور اللہ نے انسان کے کاندھوں پر جو ذمہ داری عائد کی ہے وہ بہت ہی بھاری ہے اور انسان نے اپنی نادانی کی وجہ سے اس قدر عظیم بوجھ اپنے اوپر لیا ہے جس کے اٹھانے سے آسمان ، زمین اور پہاڑوں نے معذرت کی تھی۔ حالانکہ اسے اپنی کمزوریاں معلوم تھیں۔ شہوات و میلانات کا دباؤ ، علم و ہنر کا قصور ، عمر کا اختصار اور زمان و مکان کی مشکلات اور مستقبل کے واقعات کی پیش بینی میں انسان کی کمزوری وغیرہ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایمان والوں کو خطاب کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی صحیح بخاری ص ٤٢، ص ٤٨٣ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) شرمیلے آدمی تھے اور پردہ کرنے کا خوب زیادہ اہتمام کرتے تھے حتیٰ کہ اگر ان کے جسم کی کھال بھی نظر آجاتی تو اس سے بھی شرماتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) تنہا غسل کرتے تھے، بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے انہیں تکلیف پہنچائی اور یوں کہا کہ یہ شخص اس قدر پردہ کرتا ہے ہو نہ ہو اس کی کھال میں کوئی عیب ہے یا جسم میں برص کے داغ ہیں یا اس کے فوطے پھولے ہوئے ہیں یا کوئی اور تکلیف کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل کی بات سے بری کرنے کا ارادہ فرمایا اور قصہ یہ پیش آیا کہ ایک دن انہوں نے تنہائی میں پتھر پر اپنے کپڑے رکھ دئیے پھر غسل فرمانے لگے، غسل کرکے فارغ ہوئے تو کپڑے لینے کا ارادہ کیا ابھی کپڑے لینے نہ پائے تھے کہ جس پتھر پر کپڑے تھے وہ کپڑوں کو لے کر تیزی سے چلا گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی لی اور پتھر کے پیچھے چل دئیے اور فرمانے لگے کہ اے پتھر میرے کپڑے دیدے، اسی طرح بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے کیونکہ کپڑے پہنے ہوئے نہیں تھے اس لیے آپ کو انہوں نے برہنہ دیکھ لیا اور انہیں پتہ چل گیا کہ ان کے جسم پر کوئی بھی عیب نہیں ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی اچھی حالت میں پیدا فرمایا ہے، جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ لیا اور مان لیا کہ ان کے جسم میں کوئی عیب نہیں ہے تو پتھر کھڑا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور پتھر کو اپنے عصا سے مارنا شروع کردیا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان فرمایا کہ اللہ کی قسم ان کے مارنے سے پتھر میں تین یا چار یا پانچ یا چھ سات نشانات پڑگئے تھے۔ قرآن مجید میں جو (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا) فرمایا ہے اس میں اسی قصے کو بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ایمان والو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دی سو اللہ نے انہیں ان کی باتوں سے بری کردیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک باوجاہت تھے۔ یہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر ہے لیکن امام الانبیاء جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں نے کیا تکلیفیں دی تھیں ؟ اس کے بارے میں بھی صحیح بخاری جلد نمبر ١: ص ٤٤٦ اور ص ٤٨٣ میں ایک قصہ لکھا ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوۂ حنین کے موقع پر عرب کے بعض سرداروں میں مال تقسیم فرمایا تھا اور ان میں سے کسی کو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ دے دیا۔ وہیں حاضرین میں سے کسی نے یوں کہہ دیا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس میں انصاف نہیں کیا گیا یا یوں کہہ دیا کہ اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان لوگوں کی یہ بات نقل کردی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کرے گا تو پھر کون انصاف کرے گا ؟ اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے انہیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی پھر بھی انہوں نے صبر کیا۔ بات یہ ہے کہ جو مال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم فرمایا وہ کسی کی ملکیت نہیں تھا وہ اموال فئے تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ اپنی صوابدید سے تقسیم فرمالیں، کسی کا حق روک کر مال تقسیم نہیں فرمایا تھا اور یہ بات نہ تھی کہ ایک کا حق دوسرے کو دے دیا، پھر اس کو انصاف کے خلاف کہنا ہی ظلم ہے۔ حدیث کی شرح لکھنے والے حضرات نے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کرنا کفر ہے جس کی سزا قتل ہے لیکن آپ نے مذکورہ بالا بات کہنے والے شخص کو مصلحتاً قتل نہیں کیا کیونکہ تالیف قلب کی ضرورت تھی۔ اہل عرب میں یہ شہرت ہوجاتی کہ جناب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں، اس شہرت کی وجہ سے اندیشہ تھا کہ اسلام جو پھیل رہا تھا اس میں رکاوٹ ہوجاتی۔ بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اتنی بڑی تکلیف دینے والی بات کو برداشت کرلیا اور فرما دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی اور انہوں نے صبر کیا، یہ تو ایک تکلیف تھی اس کے علاوہ منافقین سے تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں آپ درگزر فرماتے تھے، جب کبھی کوئی شخص دعوت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اسے تکلیفیں پہنچتی ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عمل سے برداشت کرکے بتادیا اور قول سے سمجھا دیا کہ پہلے بھی ایسا ہوا ہے۔ یہ جو ارشاد فرمایا کہ ” ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی “ مسلمانوں کو مزید خطاب فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کہو، ٹھیک بات میں سب کچھ آگیا سچی بات بھی اور صحیح بات بھی اور عدل و انصاف کی بات بھی اور ہر دینی بات بھی۔ اسی لیے حضرت عکرمہ (رض) نے فرمایا (کما فی معالم التنزیل) کہ (قولاً سدیدًا) سے لَآ الہ الاَّ اللّٰہ کہنا مراد ہے۔ ترتیب میں اولاً تقویٰ کا ذکر کیا پھر قول سدید کہنے کا حکم فرمایا، اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ تقویٰ ہوگا تو بندہ اعمال صالحہ اختیار کرے گا اگر تقویٰ نہ ہو تو اعمال صالحہ اختیار کرنے اور گناہ سے بچنے کی بندہ کو ہمت نہیں ہوتی، اللہ سے ڈرے اور آخرت کی فکر کرے تب قول اور فعل ٹھیک ہوتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

67:۔ یا ایہا الذین اٰمنوا الخ۔ یہ مومنوں سے نواں خطاب ہے۔ مومنوں کو تلقین فرمائی کہ خبردار رہو۔ منافقین اور فجار کی غلط افواہوں اور جھوٹی رپورٹوں سے متاثر ہو کر کہیں وہ کچھ نہ کر بیٹھنا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت کے لوگوں نے کیا تھا اور انہیں سخت ایذا پہنچائی تھی۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جھوٹی تہمت لگا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت اور پاکدامنی کا اظہار فرما دیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے یہاں بلند قدر و منزلت کے مالک تھے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں قارون اور اس کے ہمنواؤں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر زنا کی جھوٹی تہمت لگا کر انہیں ایذاء دی تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو وعظ فرمایا کہ زنا سے بچو۔ جو شخص زنا کرے گا اسے قتل کیا جائے گا۔ قارون نے کہا اگرچہ تو ہو ؟ فرمایا یہ حکم سب کے لیے یکساں ہے۔ قارون نے ایک فاحشہ عورت کو کثیر دولت کا لالچ دے کر تیار کیا۔ تاکہ وہ برسر عام اقرار کرے کہ (عیاذا باللہ) موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ برا کیا ہے۔ چناچہ قارون نے مجمع عام میں کہا۔ فلاں عورت کہتی ہے کہ تم نے اس کے ساتھ بدکاری کی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس عورت کو خدا کی قسم دلا کر پوچھا سچ سچ بتاؤ۔ تو اس عورت نے اقرار کیا کہ قارون نے مجھے دولت کا لاچ دے کر اکسایا ہے۔ کہ میں آپ پر جھوٹا بہتان باندھوں۔ اس طرح تمام لوگوں کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی براءت ظاہر ہوگئی۔ اور قارون کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔ وقال بعضہم قارون قرر مع امراۃ فاحشۃ حتی تقول عند بنی اسرائیل ان موسیٰ زنی بی فلما جمع قارون القوم والمراۃ حاضرۃ القی اللہ فی قلبھا انہا صدقت ولم تقل مالقنت (کبیر ج 6 ص 801) قال ابو العالیۃ ھو ان قارون استاجر مومسۃ ای زانیۃ لتقذف موسیٰ بنفسہا علی راس الملا فعصمہا اللہ تعالیٰ وبرا موسیٰ من ذلک وکان ذلک سبب الخسف بقارون و من معہ (السراج المنیر ج 3 ص 258) وھم قارون وقومہ اذ رموہ بالزنا بامراۃ مومسۃ استاجروھا لتقذفہ بنفہا (فرباہ اللہ مما قالو) باقرارھا انھم استاجروھا لہذا القذف فخسف اللہ بہم الارض (مہائمی ج 2 ص 165) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

69۔ اے ایمانی دعوت کے قبول کرنے والے مسلمانو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت اور تکلیف پہنچائی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تہمت سے جو انہوں نے لگائی تھی بری ثابت کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا معزز اور ذی مرتبہ تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کی روش اختیار نہ کرنا اور جس طرح انہوں نے موسیٰ کی بد گوئی کر کے نقصان اٹھایا اسی طرح تم کو بھی ضرر پہنچ جائے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عیب لگا کر ستایا پھر اللہ تعالیٰ نے اس عیب اور تہمت سے ان کو بری کردیا ۔ کہتے ہیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام عام طورپر بڑے حیا دار اور شرمیلے ہوتے ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی بڑے پردے اور ستر کے ساتھ غسل وغیرہ کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے بعض فساق نے ان پر برص کی تہمت لگا دی کہ ان کے بدن پر کوڑھ کے دھبے ہیں اس لئے یہ اپنے بدن کو چھپاتے ہیں ، بعض لوگوں نے اور ۃ کا عیب لگایا ، اورۃ کہتے ہیں انتفاح خفیہ کو یعنی ان کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں اس لئے یہ غسل میں پردے کا غیر ضروری اہتمام کرتے ہیں ، چناچہ ایک دن یہ دریا میں نہا رہے تھے اور کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے تھے جب یہ نہا کر نکلے اور کپڑے اٹھانے لگے تو وہ پتھر کپڑے لے کر چلنے لگا موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے پیچھے اور پتھر آگے آگے یہ فرماتے تھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے۔ پتھر کپڑے لے کر ایسی جگہ آگیا جہاں لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا اور یہ بات صاف ہوگئی کہ آپ کے جسم پر نہ کوڑھ ہے اور نہ اورۃ ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قارون نے ایک عورت کو آمادہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تہمت لگائے کسی نے کہا حضرت ہارون (علیہ السلام) کا انتقال ایک پہاڑ پر ہوگیا تھا ان کے مرنے کا الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر لگا دیا کہ انہوں نے بھائی کو قتل کردیا ۔ غرض ! اس قسم کی چیزیں مفسرین نے لکھی ہیں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کی ان ناشائستہ حرکات روکا گیا کہ تم اپنے پیغمبر کے ساتھ اس قسم کا برتائو نہ کرو اور ان کو ایذا نہ پہنچائو خواہ وہ ایذا اخلاقی ہو یا بدنی ہو یا روحانی ہو یا سب سے اجتناب کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ذی وجاہت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک آبرو دار تھے یعنی پیغمبر تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعض مفسد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تہمت لگانیل گے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جنگل میں لے جا کر مار آئے تا کہ شریک ریاست نہ رہیں پھر ان کا جنازہ آسمان سے نظر آیا اور ان کی آواز آئی کہ میں اپنی موت مراہوں اور کتوں نے کہا یہ جو چھپ کر نہاتے ہیں ان کے بدن میں کچھ عیب ہے بدن کی سفیدی یا خصیہ پھولا۔ ایک روز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے نہانے لگے کپڑے رکھے ایک پتھر پر وہ پتھر کپڑے لے کر بھاگاحضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا لے کر اس کے پیچھے دوڑے جہاں سب لوگ دیکھتے تھے پتھرکھڑاہو گیا سب نے ننگے دیکھ لیا بےعیب پھر اس پتھر کو کئی عصا مارے اس میں نقش پڑگیا۔ 12