The Fabrications of the Jews against Musa
Al-Bukhari recorded in the Book of Hadiths about the Prophets, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said:
إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَمُ كَانَ رَجُلً حَيِيًّا سِتِّيرًا لاَ يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ فَأذَاهُ مَنْ اذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَايِيلَ فَقَالُوا مَا يَتَسَتَّرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلاَّ مِنْ عَيْبٍ فِي جِلْدِهِ إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا أُدْرَةٌ وَإِمَّا افَةٌ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّيَهُ مِمَّا قَالُوا لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَمُ فَخَلَ يَوْمًا وَحْدَهُ فَخَلَعَ ثِيَابَهُ عَلَى حَجَرٍ ثُمَّ اغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ فَجَعَلَ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتْى انْتَهَى إِلَى مَلٍَ مِنْ بَنِي إِسْرَايِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَلَبِسَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ فَوَاللهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لاَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ اذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا
Musa, peace be upon him, was a shy and modest man who would never show anything of his skin because of his shyness. Some of the Children of Israel annoyed him by saying:
"He only keeps himself covered because of some defect in his skin, either leprosy or scrotal hernia or some other defect."
Allah, may He be glorified, wanted to clear Musa, peace be upon him, of what they were saying. One day Musa was alone, so he took off his garment and put it on a rock, then he took a bath. When he had finished, he turned back to pick up his garment, but the rock moved away, taking his garment with it.
Musa picked up his stick and chased the rock, saying, "My garment, O rock! My garment, O rock!" Until he reached a group of the Children of Israel, who saw him naked and found that he was the best of those whom Allah had created. Thus he was cleared of what they had said about him. Then the rock stood still, so he took his garment and put it on. He started hitting the rock with his stick, and by Allah, the marks of that beating were left on the rock, three or four or five.
This is what is referred to in the Ayah:
O you who believe! Be not like those who annoyed Musa, but Allah cleared him of that which they alleged, and he was honorable before Allah.
This Hadith is one of those which were recorded by Al-Bukhari but not Muslim.
Imam Ahmad recorded that Abdullah (bin Mas`ud) said:
"One day, the Messenger of Allah distributed some booty and a man among the Ansar said, `This division was not done for the sake of Allah.'
I said, `O enemy of Allah! I am going to tell the Messenger of Allah what you have said.'
So, I told the Prophet about it. His face reddened and he said,
رَحْمَةُ اللهِ عَلَى مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَر
May Allah have mercy on Musa. He was annoyed with worse than this, yet he remained patient."
This was recorded in the Two Sahihs.
...
وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا
and he was honorable before Allah.
means, he had a position of status and honor before his Lord, may He be exalted and glorified.
Al-Hasan Al-Basri said:
"His supplications would be answered by Allah."
Some of them said that part of his great standing before Allah was that he interceded for his brother Harun, asking Allah to send him with him as a Messenger, and Allah granted his request and said:
وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَأ أَخَاهُ هَـرُونَ نَبِيّاً
And We granted him his brother Harun, (also) a Prophet, out of Our mercy. (19:53)
موسیٰ علیہ السلام کا مزاج ۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت ہی شرمیلے اور بڑے لحاظ دار تھے ۔ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا ۔ کتاب التفسیر میں تو امام صاحب اس حدیث کو اتنا ہی مختصر لائے ہیں ، لیکن احادیث انبیاء کے بیان میں اسے مطول لائے ہیں ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ بوجہ سخت حیا و شرم کے اپنا بدن کسی کے سامنے ننگا نہیں کرتے تھے ۔ بنو اسرائیل آپ کو ایذاء دینے کے درپے ہوگئے اور یہ افواہ اڑا دی کہ چونکہ ان کے جسم پر برص کے داغ ہیں یا ان کے بیضے بڑھ گئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے اس وجہ سے یہ اس قدر پردے داری کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ یہ بدگمانی آپ سے دور کردے ۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تنہائی میں ننگے نہا رہے تھے ، ایک پتھر پر آپ نے کپڑے رکھ دیئے تھے ، جب غسل سے فارغ ہو کر آئے ، کپڑے لینے چاہے تو پتھر آگے کو سرک گیا ۔ آپ اپنی لکڑی لئے اس کے پیچھے گئے وہ دوڑنے لگا ۔ آپ بھی اے پتھر میرے کپڑے میرے کپڑے کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے ۔ بنی اسرائیل کی جماعت ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی ۔ جب آپ وہاں تک پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پتھر ٹھہر گیا ۔ آپ نے اپنے کپڑے پہن لئے ۔ بنو اسرائیل نے آپ کے تمام جسم کو دیکھ لیا اور جو فضول باتیں ان کے کانوں میں پڑی تھیں ان سے اللہ نے اپنے نبی کو بری کردیا ۔ غصے میں حضرت موسیٰ نے تین یا چار پانچ لکڑیاں پتھر پر ماری تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واللہ لکڑیوں کے نشان اس پتھر پر پڑ گئے ۔ اسی برأت وغیرہ کا ذکر اس آیت میں ہے ۔ یہ حدیث مسلم میں نہیں یہ روایت بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں ہے ۔ بعض روایتیں موقوف بھی ہیں ۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام پہاڑ پر گئے جہاں حضرت ہارون کا انتقال ہوگیا لوگوں نے حضرت موسیٰ کی طرف بدگمانی کی اور آپ کو ستانا شروع کیا ۔ پروردگار عالم نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہ اسے اٹھا لائے اور بنو اسرائیل کی مجلس کے پاس سے گزرے اللہ نے اسے زبان دی اور قدرتی موت کا اظہار کیا ۔ انکی قبر کا صحیح نشان نامعلوم ہے صرف اس ٹیلے کا لوگوں کو علم ہے اور وہی ان کی قبر کی جگہ جانتا ہے لیکن بےزبان ہے ۔ تو ہوسکتا ہے کہ ایذاء یہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ ایذاء ہو جس کا بیان پہلے گزرا ۔ لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اور یہ دونوں ہوں بلکہ ان کے سوا اور بھی ایذائیں ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ تقسیم کیا اس پر ایک شخص نے کہا اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی کا ارادہ نہیں کیا گیا ۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے جب یہ سنا تو میں نے کہا اے اللہ کے دشمن میں تیری اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور پہنچاؤں گا ۔ چنانچہ میں نے جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کردی آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر فرمایا اللہ کی رحمت ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وہ اس سے بہت زیادہ ایذاء دے گئے لیکن صبر کیا ۔ ( بخاری ، مسلم ) اور روایت میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عام ارشاد تھا کہ کوئی بھی میرے پاس کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں تم میں آکر بیٹھوں تو میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی بات چبھتی ہوئی نہ ہو ۔ ایک مرتبہ کچھ مال آپ کے پاس آیا آپ نے اسے لوگوں میں تقسیم کیا ۔ دو شخض اس کے بعد آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ واللہ اس تقسیم سے نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا نہ آخرت کے گھر کا ۔ میں ٹھہر گیا اور دونوں کی باتیں سنیں ۔ پھر خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ نے تو یہ فرمایا ہے کہ کسی کی کوئی بات میرے سامنے نہ لایا کرو ۔ ابھی کا واقعہ ہے کہ میں جا رہا تھا جو فلاں اور فلاں سے میں نے یہ باتیں سنیں اسے سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہوگیا اور آپ پر یہ بات بہت ہی گراں گزری ۔ پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا عبد اللہ جانے دو دیکھو موسیٰ اس سے بھی زیادہ ستائے گئے لیکن انہوں نے صبر کیا ، قرآن فرماتا ہے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والے تھے ۔ مستجاب الدعوت تھے ۔ جو دعا کرتے تھے قبول ہوتی تھی ۔ ہاں اللہ کا دیدار نہ ہوا اس لئے کہ یہ طاقت انسانی سے خارج تھا ۔ سب سے بڑھ کر ان کی وجاہت کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کیلئے نبوت مانگی اللہ نے وہ بھی عطا فرمائی ۔ فرماتا ہے ( وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا 53 ) 19-مريم:53 ) ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا ۔