Surat Saba

Surah: 34

Verse: 10

سورة سبأ

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ وَ الطَّیۡرَ ۚ وَ اَلَنَّا لَہُ الۡحَدِیۡدَ ﴿ۙ۱۰﴾

And We certainly gave David from Us bounty. [We said], "O mountains, repeat [Our] praises with him, and the birds [as well]." And We made pliable for him iron,

اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی ( یہی حکم ہے ) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کر دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Favors which Allah bestowed upon Dawud Allah says: وَلَقَدْ اتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلً يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ And indeed We bestowed grace on Dawud from Us (saying): "O you mountains! Glorify with him! And you birds (also)! And We made the iron soft for him." Here Allah tells us how He blessed His servant and Messenger Dawud (David), peace be upon him, and what He gave him of His great bounty, giving him both Prophethood and kingship, and huge numbers of troops. And He blessed him with a mighty voice. Such that when he glorified Allah, the firm, solid, high mountains joined him in glorifying Allah, and the free-roaming birds, who go out in the morning and come back in the evening, stopped for him, and he was able to speak all languages. In the Sahih it is recorded that the Messenger of Allah heard the voice of Abu Musa Al-Ash`ari, may Allah be pleased with him, reciting at night, and he stopped and listened to his recitation, then he said: لَقَدْ أُوتِيَ هذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ الِ دَاوُد This man has been given one of the sweet melodious voices of the Prophet Dawud. Abu Uthman An-Nahdi said, "I never heard any cymbal, stringed instrument or chord that was more beautiful than the voice of Abu Musa Al-Ash`ari, may Allah be pleased with him." أَوِّبِي (Glorify) means, glorify Allah. This was the view of Ibn Abbas, Mujahid and others. The root of this word (Ta'wib) means to repeat or respond, so the mountains and birds were commanded to repeat after him. ... وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ And We made the iron soft for him. Al-Hasan Al-Basri, Qatadah, Al-A mash and others said, He did not need to heat it in the fire or beat it with a hammer؛ he could simply twist it in his hands, like a thread. Allah said:

حضرت داؤد پر انعامات الٰہی ۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت داؤد علیہ السلام پر دنیوی اور اخروی رحمت نازل فرمائی ۔ نبوت بھی دی بادشاہت بھی دی لاؤ لشکر بھی دیئے طاقت و قوت بھی دی ۔ پھر ایک پاکیزہ معجزہ یہ عطا فرمایا کہ ادھر نغمہ داؤدی ہوا میں گونجا ، ادھر پہاڑوں اور پرندوں کو بھی وجد آگیا ۔ پہاڑوں نے آواز میں آوا زملا کر اللہ کی حمد و ثناء شروع کی پرندوں نے پر ہلانے چھوڑ دیئے اور اپنی قسم قسم کی پیاری پیاری بولیوں میں رب کی وحدانیت کے گیت گانے لگے ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رات کو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے جسے سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے انہیں نغمہ داؤدی کا کچھ حصہ مل گیا ہے ۔ ابو عثمان نہدی کا بیان ہے کہ واللہ ہم نے حضرت ابو موسیٰ سے زیادہ پیاری آواز کسی باجے کی بھی نہیں سنی ۔ اوبی کے معنی حبشی زبان میں یہ ہیں کہ تسبیح بیان کرو ۔ لیکن ہمارے نزدیک اس میں مزید غور کی ضرورت ہے لغت عرب میں یہ لفظ ترجیع کے معنی میں موجود ہے ۔ پس پہاڑوں کو اور پرندوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ حضرت داؤد کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بھی ملا لیا کریں ۔ تاویب کے ایک معنی دن کو چلنے کے بھی آتے ہیں ۔ جیسے سری کے معنی رات کو چلنے کے ہیں لیکن یہ معنی بھی یہاں کچھ زیادہ مناسبت نہیں رکھتا یہاں تو یہی مطلب ہے کہ داؤد کی تسبیح کی آواز میں تم بھی آواز ملا کر خوش آوازی سے رب کی حمد بیان کرو ۔ اور فضل ان پر یہ ہوا کہ ان کیلئے لوہا نرم کردیا گیا نہ انہیں لوہے کی بھٹی میں ڈالنے کی ضرورت نہ ہتھوڑے مارنے کی حاجت ہاتھ میں آتے ہی ایسا ہو جاتا تھا جیسے دھاگے ، اب اس لوہے سے بفرمان اللہ آپ زرہیں بناتے تھے ۔ بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے زرہ آپ ہی نے ایجاد کی ہے ۔ ہر روز صرف ایک زرہ بناتے اس کی قیمت چھ ہزار لوگوں کے کھلانے پلانے میں صرف کردیتے ۔ زرہ بنانے کی ترکیب خود اللہ کی سکھائی ہوئی تھی کہ کڑیاں ٹھیک ٹھیک رکھیں حلقے چھوٹے نہ ہوں کہ ٹھیک نہ بیٹھیں بہت بڑے نہ ہوں کہ ڈھیلا پن رہ جائے بلکہ ناپ تول اور صحیح انداز سے حلقے اور کڑیاں ہوں ۔ ابن عساکر میں ہے حضرت داؤد علیہ السلام بھیس بدل کر نکلا کرتے اور رعایا کے لوگوں سے مل کر ان سے اور باہر کے آنے جانے والوں سے دریافت فرماتے کہ داؤد کیسا آدمی ہے؟ لیکن ہر شخص کو تعریفیں کرتا ہوا ہی پاتے ۔ کسی سے کوئی بات اپنی نسبت قابل اصلاح نہ سنتے ۔ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو انسانی صورت میں نازل فرمایا ۔ حضرت داؤد کی ان سے بھی ملاقات ہوئی تو جیسے اوروں سے پوچھتے تھے ان سے بھی سوال کیا انہوں نے کہا کہ داؤد ہے تو اچھا آدمی اگر ایک کمی اسمیں نہ ہوتی تو کامل بن جاتا ۔ آپ نے بڑی رغبت سے پوچھا کہ وہ کیا ؟ فرمایا وہ اپنا بوجھ مسلمانوں کے بیت المال پر ڈالے ہوئے ہیں خود بھی اسی میں سے لیتا ہے اور اپنی اہل و عیال کو بھی اسی میں سے کھلاتا ہے ۔ حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ شخص ٹھیک کہتا ہے اسی وقت جناب باری کی طرف جھک پڑے اور گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کرنے لگے کہ اللہ مجھے کوئی کام کاج ایسا سکھا دے جس سے میرا پیٹ بھر جایا کرے ۔ کوئی صنعت اور کاریگری مجھے بتا دے جس سے میں اتنا حاصل کرلیا کروں کہ وہ مجھے اور میرے بال بچوں کو کافی ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زرہیں بنانا سکھائیں اور پھر اپنی رحمت سے لوہے کو ان کیلئے بالکل نرم کردیا ۔ سب سے پہلے زرہیں آپ نے ہی بنائی ہیں ۔ ایک زرہ بناکر فروخت فرماتے اور اس کی قیمت کے تین حصے کرلیتے ایک اپنے کھانے پینے وغیرہ کیلئے ایک صدقے کیلئے ایک رکھ چھوڑنے کیلئے تاکہ دوسری زرہ بنانے تک اللہ کے بندوں کو دیتے رہیں ۔ حضرت داؤد کو جو نغمہ دیا گیا تھا وہ تو محض بےنظیر تھا اللہ کی کتاب زبور پڑھنے کو بیٹھتے ۔ آواز نکلتے ہی چرند پرند صبر و سکون کے ساتھ محویت کے عالم میں آپ کی آواز سے متاثر ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے ۔ سارے باجے شیاطین نے نغمہ داؤدی سے نکالے ہیں ۔ آپ کی بےمثل خوش آوازی کی یہ چڑاؤنی جیسی نقلیں ہیں ۔ اپنی نعمتوں کو بیان فرما کر حکم دیتا ہے کہ اب تمہیں بھی چاہئے کہ نیک اعمال کرتے رہو ۔ میرے فرمان کے خلاف نہ کرو ۔ یہ بہت بری بات ہے کہ جس کے اتنے بڑے اور بےپایاں احسان ہوں ۔ اس کی فرمانبرداری ترک کردی جائے ۔ میں تمہارے اعمال کا نگران ہوں ۔ تمہارا کوئی عمل چھوٹا بڑا نیک بد مجھ سے پوشیدہ نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 یعنی نبوت کے ساتھ بادشاہت اور کئی امتیازی خوبیوں سے نوازا۔ 10۔ 2 ان میں سے ایک حسن صوت کی نعمت تھی، جب وہ اللہ کی تسبیح پڑھتے تو پتھر کے ٹھوس پہاڑ بھی تسبیح خوانی میں مصروف ہوجاتے، اڑتے پرندے ٹھہر جاتے اور زمزمہ خواں ہوجاتے، یعنی پہاڑوں اور پرندوں کو ہم نے کہا، چناچہ یہ بھی داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ مصروف تسبیح ہوجاتے۔ والطیر کا عطف یا جبال کے محل پر ہے اس لیے کہ جبال تقدیرا منصوب ہے اصل عبارت اس طرح ہے نادینا الجبال والطیر (ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو پکارا) یا پھر اس کا عطف فضلا پر ہے اور معنی ہوں گے وسخرنا لہ الطیر (اور ہم نے پرندے ان کے تابع کردیئے (فتح القدیر) 10۔ 3 یعنی لوہے کو آگ میں تپائے اور ہتھوڑی سے کوٹے بغیر، اسے موم، گوندھے ہوئے آٹے اور گیلی مٹی کی طرح جس طرح چاہتے موڑ لیتے، بٹ لیتے اور جو چاہے بنا لیتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ١٤] وہ بزرگی یہ تھی کہ آپ بچپن میں محض ایک گڈریے تھے۔ اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ پھر اللہ نے آپ کو حکومت بھی عطا فرمائی اور نبوت بھی۔ اور یہ تفصیل پہلے سورة بقرہ کی آیات نمبر ٢٥١ کے تحت گزر چکی ہے۔ [ ١٥] آپ کی خوش الحانی، پہاڑوں اور پرندوں کی آپ سے بہم خوائی کے لئے (دیکھو سورة انبیاء کی آیت نمبر ٧٩ کا حاشیہ نمبر ٦٧) [ ١٦] آپ کے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہونا اور آپ کے لوہے کی زرہیں بنانے کے لئے (دیکھئے سورة انبیاء کی آیت نمبر ٨٠ کا حاشیہ نمبر ٦٨)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا : ” فضلا “ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” بڑا فضل “ کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات کے ساتھ داؤد (علیہ السلام) کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں فرمایا کہ زمین و آسمان میں ہر اس بندے کے لیے عظیم نشانی اور عبرت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ اب اپنے رجوع کرنے والے کچھ بندوں کا اور ان کے چند واقعات کا ذکر فرمایا، ان میں سے ایک داؤد (علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت سی عنایات فرمائیں اور انھیں متعدّد قسم کی نعمتیں بخشیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی چند عنایات کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے جو قرآن یا حدیث میں آئی ہیں۔ وہ بکریاں چرانے والے ایک عام نوجوان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کفار کے بادشاہ جالوت جیسے گراں ڈیل دشمن کو قتل کروا کر بنی اسرائیل کا محبوب بنادیا اور پھر ایسا عروج عطا فرمایا کہ وہ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت کے ساتھ علم و حکمت بھی عطا فرمایا۔ (بقرہ : ٢٥١) انھیں نبوت بخشی اور زبور عطا فرمائی۔ (نساء : ١٦٣) انھیں زبردست قوت عطا فرمائی۔ (سورۂ ص : ١٧) انھیں اور ان کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کو خاص علم عطا فرمایا۔ (نمل : ١٥) انھیں پرندوں کی بولی سکھائی۔ (نمل : ١٦) انھیں توبہ وانابت کا وصف عطا فرمایا اور ان کی مغفرت فرمائی۔ (سورۂ ص : ٢٤، ٢٥) انھیں صحیح فیصلہ کرنے کی استعداد اور عدل کرنے کی توفیق بخشی۔ (انبیاء : ٧٩۔ ص : ٢٦) ان کے لیے لوہا نرم کردیا اور انھیں زرہیں بنانا سکھایا۔ (انبیاء : ٨٠۔ سبا : ١٠، ١١) انھیں نہایت خوب صورت آواز عطا فرمائی اور پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ تسبیح دہرانے کا حکم دیا۔ (انبیاء : ٧٩۔ سبا : ١٠) ان کے لیے (زبور) پڑھنا ہلکا کردیا گیا تھا، چناچہ وہ گھوڑوں پر زین ڈالنے کا حکم دیتے اور ان پر زین ڈالنے سے پہلے اسے پڑھ لیتے تھے۔ [ دیکھیے بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : ( و آتینا داوٗد زبورا ) : ٣٤١٧ ] انھیں صوم و صلاۃ کی اور اس کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں استقامت کی وہ توفیق بخشی جس کی تفصیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائی کہ ” وہ رات کا نصف سو جاتے، پھر ایک ثلث قیام کرتے اور ایک سدس پھر سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ “ [ أبوداوٗد، الصیام، باب في صوم یوم و فطر یوم : ٢٤٤٨، و قال الألباني صحیح ] اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو (داؤد (علیہ السلام ) بھاگتے نہیں تھے۔ “ [ بخاري، الصوم، باب صوم داوٗد (علیہ السلام) : ١٩٧٩، عن عبداللہ بن عمرو (رض) ] اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ [ دیکھیے بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ : ٢٠٧٢ ] تلاش کرنے سے ان پر اللہ تعالیٰ کی مزید عنایات بھی مل سکتی ہیں۔ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ : اس سے پہلے لفظ ” قُلْنَا “ (ہم نے کہا) محذوف ہے، جو خود بخود سمجھ میں آرہا ہے۔ ” اوبی “ ” آبَ یَؤُبُ أَوْبًا “ (ن) لوٹنا اور ” أَوَّبَ یُأَوِّبُ “ (تفعیل) لوٹانا، دہرانا۔ یعنی ہم نے پہاڑوں سے کہا کہ اے پہاڑو ! ان کے ساتھ تسبیح اور تلاوت کے کلمات دہراؤ اور اے پرندو ! تم بھی۔ گویا ” والطیر “ کا عطف ” جِبَالٌ“ کے محل پر ہے، اس لیے منصوب ہے، یا یہ ” سَخَّرْنَا لَہُ “ محذوف کا مفعول ہے، یعنی ہم نے ان کے لیے پرندے بھی تسبیح کرنے کے لیے مسخّر کردیے، جیسا کہ سورة ص میں فرمایا : (والطیر محشورۃً ) [ ص : ١٩ ] ” اور پرندوں کو بھی (مسخّر کردیا) جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوئے سب اس کے لیے بہت رجوع کرنے والے تھے۔ “ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا بیان سورة انبیاء (٧٩) میں گزر چکا ہے۔ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ : داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہا نرم کرنے کی کیفیت اکثر مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے آگ میں پگھلائے بغیر ان کے ہاتھ میں موم یا گندھے ہوئے آٹے کی طرح ہوتا تھا۔ اگر ایسا ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، مگر یہ صرف قتادہ کا قول ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات ثابت نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انھیں لوہا پگھلا کر نرم کرنے کا سلیقہ سکھا دیا ہو تو یہ بھی ” وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ “ ہی ہے۔ آج کل کسی معجزے یا کرامت کے بغیر ہنر کی بدولت لوہا لوگوں کے ہاتھوں میں نرم ہوچکا ہے۔ داؤد (علیہ السلام) کے لیے سب سے پہلے لوہے کی بھٹی ایجاد کرنے، اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور سب سے پہلے زرہیں بنانے کا اور اس بات کا شرف بھی کچھ کم نہیں کہ بعد میں آنے والوں نے انھی سے یہ ہنر حاصل کیے۔ نیز دیکھیے سورة انبیاء (٨٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The preceding verses have addressed the arguments of those who denied the possibility of the life after death, and believed it to be irrational that a person may be revived after he has died and the parts of his body are decomposed and turned into dust. Now the stories of Sayyidna Dawud and Sulayman (علیہما السلام) have been narrated in the present verses to show that Allah Ta’ ala has already demonstrated His power by the miraculous acts that were deemed by people to be impossible, like making iron as soft as wax, subjugating the wind and making copper as liquid as water. The word: فَضل (fadl) in the opening sentence of verse 10: وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا (And surely We bestowed grace from Us on Dawud) means excess, favor or grace. The reference is to particular attributes bestowed on him in excess of others. Allah Ta’ ala has blessed every prophet with some unique attributes that are considered to be their distinctive excellence. Sayyidna Dawud (علیہ السلام) was given a few of his own. Besides being a prophet and messenger of Allah, he was also blessed with power over the world of his time. Then there was his gifted voice. When he was busy with the dhikr of Allah or the recitation of Torah, the birds flying above would converge over him to listen. He was blessed with similar other miracles which find mention a little later. The word: أَوِّبِي (awwibi) in the direct address appearing next: يَا جِبَالُ أَوِّبِي (ya jibalu awwibi) is a derivation from: تَاوَیب (ta&wib) which means to return or repeat. The sense is that Allah Ta’ ala had commanded the mountains that once Sayyidna Dawud (علیہ السلام) starts making Dhikr and Tasbih (the glorification of Allah), the mountains too should start reciting the same words after him. Similar to this is the tafsir of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) who has explained: أَوِّبِي (awwibi: return, or repeat after) as being in the sense of: سَبِّحِی (sabbihi: glorify, recite the praise of Allah). (Ibn Kathir) This Tasbih (glorification of Allah) the mountains used to do along with Sayyidna Dawud (علیہ السلام) is in addition to the universal Tasbih done by the entire creation of Allah that goes on everywhere, all the time, in every age - as said in the noble Qur&an: وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ (And there is not a single thing that does not extol His purity and praise, but you do not understand their extolling - 17:44). The tasbih mentioned here has the status of a miracle shown at the hands of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . For this reason, it is obvious that common listeners would be hearing and understanding this Tasbih. Otherwise, it would have just not been a miracle. From here we also learn that the mountains synchronizing their voice with the voice of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) and repeating the Tasbih after him was not in the manner sound reverberates, something commonly heard when someone calls inside a dome or well or elsewhere and the voice reverberates or returns. The reason is that the noble Qur&an has mentioned the manifestation of this phenomenon as a special gift and grace bestowed upon Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . The reverberation of sound is a physical thing. It has nothing to do with someone&s excellence. It will work for anyone, even for a disbeliever. At a place where sound reverberates, his or her voice too will shoot back. The word: وَالطَّيْرَ‌ (wattair: and you too 0 birds) refers to the phenomenon of birds joining up in the air at his voice and doing tasbih like the mountains - as it has been mentioned in another verse of the Qur&an: إِنَّا سَخَّرْ‌نَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَ‌اقِ وَالطَّيْرَ‌ مَحْشُورَ‌ةً (We had subjugated the mountains to join him (in) making tasbih (i.e. pronouncing Allah&s purity) at evening and sunrise, and the birds as well mustered together 38:18).

خلاصہ تفسیر اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی (چنانچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ) اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو (یعنی جب یہ ذکر میں مشغول ہوں تم بھی ان کا ساتھ دو ) اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی حکم دیا (کہ ان کے ساتھ تسبیح کرو کما قال اللہ تعالیٰ (آیت) انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی ولاشراق والطیر محشورة الخ شاید اس میں ایک حکمت یہ ہو کہ ان کو ذکر میں نشاط ہوگا اور یہ بھی حکمت ہو کہ آپ کا ایک معجزہ ظاہر ہوگا اور غالباً یہ تسبیح ایسی ہوگی کہ سننے والے بھی سمجھ لیں ورنہ غیر مفہوم تسبیح تو عام ہے، اس میں معیت داؤد (علیہ السلام) کی کیا تخصیص ہے کما قال تعالیٰ (آیت) وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم) اور (ایک نعمت یہ دے دی کہ) ہم نے ان کے واسطے لوہے کو (مثل موم کے) نرم کردیا (اور یہ حکم دیا) کہ تم (اس لوہے کی اچھی) پوری زرہیں بناؤ اور (کڑیوں کے) جوڑنے میں (مناسب) اندازہ (کا خیال) رکھو اور (جیسے ہم نے تم کو نعمتیں دی ہیں ان کے شکر میں) تم سب (یعنی داؤد (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین) نیک کام کیا کرو میں تمہارے سب کے اعمال کو دیکھ رہا ہوں (اس لئے رعایت حدود کا پورا اہتمام رکھو) اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا کو مسخر کردیا کہ اس (ہوا) کا صبح کا چلنا مہینے بھر کی مسافت تھی اور (اسی طرح) اس کا شام کو چلنا مہینے بھر کی مسافت تھی (یعنی وہ ہوا سلیمان (علیہ السلام) کو اتنی اتنی دور پہنچاتی تھی، کمال قال تعالیٰ (آیت) وسخرنا لہ الریح تجری بامرہ) اور (ایک نعمت ان کو یہ دی کہ) ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہا دیا (یعنی تانبے کو اس کے معدن میں رقیق سیال کردیا تاکہ اس سے مصنوعات بنانے میں بدون آلات کے سہولت ہو، پھر وہ منجمد ہوجاتا، یہ بھی ایک معجزہ ہے) اور (ایک نعمت یہ تھی کہ ہم نے جنات کو ان کے تابع کردیا تھا چنانچہ) جنات میں بعضے وہ تھے جو ان کے آگے (طرح طرح کے) کام کرتے تھے ان کے رب کے حکم (تسخیری سے) (یعنی چونکہ پروردگار نے مسخر کردیا تھا) اور (حکم تسخیری کے ساتھ ان کو حکم تشریعی بھی مع وعیدیہ دیا تھا کہ) ان میں جو شخص ہمارے (اس) حکم سے (کہ سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت کرو) سرتابی کرے گا (یعنی تسلیم وانقیاد سے کام نہ کرے گا گو بوجہ تسخیر کے سلیمان (علیہ السلام) سے جبراً کام لینے پر قادر ہوں گے جیسے بیگاریوں سے کام لیا جاتا ہے تو) ہم اس کو (آخرت میں) دوزخ کا عذاب چکھا دیں گے (اس سے یہ بھی مفہوم ہوا کہ جو تسلیم وانقیاد سے کام کرے گا اور پورا انقیاد یہ ہے کہ ایمان بھی اختیار کرے کیونکہ ہر نبی اپنے محکومین کو اس کا امر کرتا ہے تو بدون اس کے انقیاد نہیں پس حاصل یہ کہ جو جن ایمان و اطاعت اختیار کرے گا وہ عذاب سعیر سے محفوظ رہے گا، جیسا کہ ایمان کا مقتضا ہے آگے ان کاموں کو بتلاتے ہیں جن پر جنات مامور تھے) یعنی وہ جنات ان کے لئے وہ چیزیں بناتے جو ان کو (بنوانا) منظور ہوتا بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن (ایسے بڑے) جیسے حوض اور (بڑی بڑی) دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہیں (ہلائے ہل نہ سکیں اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا کہ جیسے ہم نے تم کو نعمتیں بھی دی ہیں) اے داؤد کے خاندان والو (یعنی سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین) تم سب (ان نعمتوں کے) شکریہ میں نیک کام کیا کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہی ہوتے ہیں (اس لئے اس شکرگزاری کرنے سے جس کا طریقہ مقصود عمل صالح ہے تم کو خلق کثیر پر امتیاز ہوجائے گا۔ پس اس جملہ میں تحریض ہوگئی شکر وعمل صالح پر، جیسے داؤد (علیہ السلام) کو بھی اعملوا صالحاً حکم ہوا تھا اور اسی طرح وہاں تسخیر جبال وطیور تھی، اور یہاں تسخیر ریح وجن مذکور ہوئی اور وہاں لوہے کو نرم کردینا تھا یہاں تانبے کو، غرض زندگی بھر سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے جناب کا یہ معاملہ رہا) پھر جب ہم نے ان پر (یعنی سلیمان (علیہ السلام) پر) موت کا حکم جاری کردیا، (یعنی انتقال فرما گئے) تو (ایسے طور پر موت واقع ہوئی کہ جناب کو خبر نہیں ہوئی وہ یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) موت کے قریب عصا کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کو زیر زمین لگا کر تخت پر بیٹھ گئے اور اسی حالت میں روح قبض ہوگئی اور اسی طرح سال بھر تک بیٹھے رہے، جنات آپ کو بیٹھا دیکھ کر زندہ سمجھتے رہے، یہ کسی کی مجال نہ تھی کہ پاس جا کر یا خوب گھور کر دیکھ سکے، خصوصاً جب کوئی وجہ شبہ کی نہ ہو اور زندہ سمجھ کر بدستور کام کرتے رہے اور) کسی چیز نے ان کے مرنے کا پتہ نہ بتلایا مگر گھن کے کیڑے نے کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) کے عصا کو کھاتا تھا (یہاں تک کہ ایک حصہ اس کا کھالیا، تو وہ عصا گر پڑا، اس کے گرنے سے سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے) سو جب وہ گر پڑے (اور گھن کے کھانے کا تخمینہ لگانے سے معلوم ہوا کہ ان کو تو وفات پائے ہوئے ایک سال ہوا) تب جنات کو (اپنے دعویٰ غیب دانی کی) حقیقت معلوم ہوئی (وہ یہ کہ) اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (سال بھر تک) اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے (مراد اعمال شاقہ ہیں جن میں بوجہ محکومیت کے ذلت بھی تھی اور مشقت کی وجہ سے مصیبت بھی ہے) ۔ معارف و مسائل اوپر منکرین قیامت کفار سے خطاب تھا، جو مرنے اور جسم کے اجزاء منتشر ہوجانے کے بعد دوبارہ ان کے جمع کرنے اور ان میں حیات پیدا کرنے کو خلاف عقل سمجھ کر انکار کرتے تھے، آیات مذکورہ میں ان کا استبعاد دور کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کے قصے اس لئے ذکر فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں اسی دنیا میں ایسے کاموں کا مشاہدہ کرا دیا جن کو یہ لوگ محال سمجھا کرتے تھے، مثلاً لوہے کو موم بنادینا، ہوا کو تابع فرمان بنادینا، تانبے کو ایک سیال چیز پانی کی طرح کردینا۔ (آیت) ولقد اتینا داود منا فضلاً ، ” یعنی عطا کیا ہم نے داؤد کو اپنا فضل “ فضل کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں، مراد وہ خاص صفات ہیں جو دوسروں سے زائد ان کو عطا کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی پیغمبر کو بعض خاص صفات امتیازی عطا فرمائی ہیں جو ان کی مخصوص فضیلت سمجھی جاتی ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مخصوص صفات یہ تھیں کہ ان کو اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ پوری دنیا کی سلطنت و حکومت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور خوش آوازی کی ایسی صفت عطا فرمائی تھی کہ جب آپ اللہ کے ذکر یا زبور کی تلاوت میں مشغول ہوتے تو پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے سننے کو جمع ہوجاتے تھے، اسی طرح متعدد معجزات خصوصی عطا ہوئے تھے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔ یا جبال اوبی، اوبی، تاویب سے مشتق ہے، جس کے معنی دہرانے اور لوٹانے کے آتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حکم دے دیا تھا کہ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کا ذکر و تسبیح کریں تو پہاڑ بھی وہ کلمات پڑھ کر لوٹائیں۔ اسی طرح حضرت ابن عباس نے اوبی کی تفسیر سجی سے فرمائی ہے۔ (ابن کثیر) یہ پہاڑوں کی تسبیح جو وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ کرتے تھے اس عام تسبیح کے علاوہ ہے جس میں کل مخلوقات شریک ہیں اور جو ہر جگہ ہر وقت ہر زمانے میں جاری ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے : (آیت) و ان منی شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم، ” یعنی دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی تسبیح نہ پڑھتی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔ “ یہاں جس تسبیح کا ذکر ہے وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے یہ ظاہر ہے کہ اس تسبیح کو عام سننے والے بھی سنتے سمجھتے ہوں گے، ورنہ پھر معجزہ ہی نہ ہوتا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ داؤد (علیہ السلام) کی آواز کے ساتھ پہاڑوں کا آواز ملانا اور تسبیح کو دہرانا یہ آواز بازگشت کے طور پر نہ تھا جو عام طور پر گنبد یا کنویں وغیرہ میں آواز دینے کے وقت آواز کے لوٹنے سے سنی جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے اس کو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر خصوصی فضل و انعام کی حیثیت میں ذکر فرمایا ہے، آواز باز گشت میں کسی کی فضیلت وخصوصیت سے کیا تعلق ہے، وہ تو ہر انسان چاہے کافر ہی ہو بازگشت کی جگہ میں اس کی آواز بھی لوٹتی ہے۔ والطیر، یہ لفظ نحوی ترکیب میں سخرنا محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (روح) معنی یہ ہیں کہ ہم نے پردوں کو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا تھا، مراد اس تسخیر سے یہ ہے کہ پرندے بھی آپ کی آواز پر ہوا میں جمع ہوجاتے اور آپ کے ساتھ پہاڑوں کی تسبیح کرتے تھے، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں مذکور ہے، (آیت) انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق والطیر محشورةً ” یعنی ہم نے پہاڑوں کو داؤد (علیہ السلام) کا مسخر کردیا تھا کہ صبح شام ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی مسخر کردیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا۝ ٠ ۭ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَہٗ وَالطَّيْرَ۝ ٠ ۚ وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِيْدَ۝ ١٠ۙ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ داود داود اسم أعجميّ. ( د و د ) داؤد ) (علیہ السلام) یہ عجمی نام ہے اور عجمہ وعلمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے ) فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا |" ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ طير الطَّائِرُ : كلُّ ذي جناحٍ يسبح في الهواء، يقال : طَارَ يَطِيرُ طَيَرَاناً ، وجمعُ الطَّائِرِ : طَيْرٌ «3» ، كرَاكِبٍ ورَكْبٍ. قال تعالی: وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] ، وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً [ ص/ 19] ، وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ [ النمل/ 17] ، وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ [ النمل/ 20] ( ط ی ر ) الطائر ہر پر دار جانور جو فضا میں حرکت کرتا ہے طار یطیر طیرا نا پرند کا اڑنا ۔ الطیر ۔ یہ طائر کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکب آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] یا پرند جو اپنے پر دل سے اڑتا ہے ۔ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً [ ص/ 19] اور پرندوں کو بھی جو کہ جمع رہتے تھے ۔ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی ۔ وَحُشِرَ لِسُلَيْمانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ [ النمل/ 17] اور سلیمان کے لئے جنون اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے ۔ وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ [ النمل/ 20] انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا ۔ لين اللِّينُ : ضدّ الخشونة، ويستعمل ذلک في الأجسام، ثمّ يستعار للخلق وغیره من المعاني، فيقال : فلان لَيِّنٌ ، وفلان خشن، وكلّ واحد منهما يمدح به طورا، ويذمّ به طورا بحسب اختلاف المواقع . قال تعالی: فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ [ آل عمران/ 159] ، وقوله : ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلى ذِكْرِ اللَّهِ [ الزمر/ 23] فإشارة إلى إذعانهم للحقّ وقبولهم له بعد تأبّيهم منه، وإنكارهم إيّاه، وقوله : ما قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ [ الحشر/ 5] أي : من نخلة ناعمة، ومخرجه مخرج فعلة نحو : حنطة، ولا يختصّ بنوع منه دون نوع . ( ل ی ن ) اللین کے معنی نر می کے ہیں اور یہ خشونت کی ضد ہے اصل میں تو یہ اجسام کے لئے استعمال ہوتے ہیں مگر استعارہ اخلاق وغیرہ یعنیمعافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ چناچہ فلان لین یا خشن کے معنی ہیں فلاں نرم یا د رشت مزاج ہے اور یہ دونوں لفظ حسب موقع ومحل کبھی مدح کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ اور کبھی مذمت کے لئے آتے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَبِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ [ آل عمران/ 159]( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) خدا کی مہر بانی سے تمہاری افتاد ومزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلى ذِكْرِ اللَّهِ [ الزمر/ 23] پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل نرم ہو کر خدا کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ میں اس معنی کی طرف اشارہ ہے کہ اباء اور انکار کے بعد وہ حق کے سامنے سر نگوں ہوجاتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ما قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ [ الحشر/ 5] مومنوں کجھور کے جو در خت تم نے کاٹ ڈالے میں لینۃ کے معنی نرم ونازک کھجور کا درخت ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جیسے حنطۃ تاہم یہ مخلتف انواع میں سے ایک نوع کے لئے مخصو ص نہیں ہے ۔ حدَّ الحدّ : الحاجز بين الشيئين الذي يمنع اختلاط أحدهما بالآخر، يقال : حَدَدْتُ كذا : جعلت له حدّا يميّز، وحَدُّ الدار : ما تتمیز به عن غيرها، وحَدُّ الشیء : الوصف المحیط بمعناه المميّز له عن غيره، وحَدُّ الزنا والخمر سمّي به لکونه مانعا لمتعاطيه من معاودة مثله، ومانعا لغیره أن يسلک مسلکه، قال اللہ تعالی: وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ [ الطلاق/ 1] ، وقال تعالی: تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوها [ البقرة/ 229] ، وقال : الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ ما أَنْزَلَ اللَّهُ [ التوبة/ 97] ، أي : أحكامه، وقیل : حقائق معانيه، و جمیع حدود اللہ علی أربعة أوجه : - إمّا شيء لا يجوز أن يتعدّى بالزیادة عليه ولا القصور عنه، كأعداد رکعات صلاة الفرض . - وإمّا شيء تجوز الزیادة عليه ولا تجوز النقصان عنه «2» . - وإمّا شيء يجوز النقصان عنه ولا تجوز الزیادة عليه «3» . - وإمّا شيء يجوز کلاهماوقوله تعالی: إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المجادلة/ 5] ، أي : يمانعون، فذلک إمّا اعتبارا بالممانعة وإمّا باستعمال الحدید . والحدید معروف، قال عزّ وجل : وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ [ الحدید/ 25] ، وحَدَّدْتُ السکّين : رقّقت حدّه، وأَحْدَدْتُهُ : جعلت له حدّا، ثم يقال لكلّ ما دقّ في نفسه من حيث الخلقة أو من حيث المعنی کالبصر والبصیرة حَدِيد، فيقال : هو حدید النظر، وحدید الفهم، قال عزّ وجل : فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ويقال : لسان حدید، نحو : لسان صارم، وماض، وذلک إذا کان يؤثّر تأثير الحدید، قال تعالی: سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدادٍ [ الأحزاب/ 19] ، ولتصوّر المنع سمّي البوّاب حَدَّاداً ، وقیل : رجل محدود : ممنوع الرزق والحظّ. ( ح د د ) الحد جو دو چیزوں کے درمیان ایسی روک جو ان کو با ہم ملنے سے روک دے حدرت کذا میں نے فلاں چیز کے لئے ھڈ ممیز مقرر کردی ۔ حدالداد مکان کی حد جس کی وجہ سے وہ دوسرے مکان سے ممیز ہوتا ہے ۔ حد الشیء کسی چیز کا وہ وصف جو دوسروں سے اسے ممتاز کردے اور زنا و شراب کی سزا کو بھی حد اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اس کا دوبارہ ارتکاب کرنے سے انسان کو روکتی ہے ۔ اور دوسروں کو بھی اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے سے روک دیتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ [ الطلاق/ 1] اور یہ خدا کی حدیں ہیں ۔ جو خدا کی حدود سے تجاوز کرے گا ۔ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوها [ البقرة/ 229] یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان سے تجاوز مت کرو ۔ اور آیت کریمہ ؛ الْأَعْرابُ أَشَدُّ كُفْراً وَنِفاقاً وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ ما أَنْزَلَ اللَّهُ [ التوبة/ 97] دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ یہ جو احکام ( شریعت ) خدا نے نازل فرمائے ہیں ان سے واقف ( ہی ) نہ ہوں ۔ میں بعض نے حدود کے معنی احکام کئے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ حقائق و معانی مراد ہیں ۔ جملہ حدود الہی چار قسم پر ہیں ۔ ( ا) ایسے حکم جن میں نقص و زیادہ دونوں جائز ہوتے ہیں جیسے فرض نمازوں میں تعداد رکعات کو جو شارع (علیہ السلام) نے مقرر کردی ہیں ان میں کمی بیشی قطعا جائز نہیں ہے (2) وہ احکام جن میں اضافہ تو جائز ہو لیکن کمی جائز نہ ہو (3) وہ احکام جو اس دوسری صورت کے برعکس ہیں یعنی ان کمی تو جائز ہے لیکن ان پر اضافہ جائز نہیں ہے ۔ (4) اور آیت کریمہ : إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المجادلة/ 5] جو لوگ خدا اور اسکے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ۔ یحادون کے معنی اللہ رسول کی مخالفت کے ہیں اور اس مخالف کو یحدون کہنا یا تو روکنے کے اعتبار سے ہے اور یا الحدید کے استعمال یعنی جنگ کی وجہ سے حدید لوہا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ [ الحدید/ 25] اور لوہا پیدا کیا اس میں ( اسلحہ جنگ کے لحاظ سے ) خطر بھی شدید ہے ۔ حددت السکین میں نے چھری کی دھار تیز کی ۔ اور احد دتہ اس کے لئے حد مقرر کردی پھر ہر وہ چیز جو بلحاظ خلقت یا بلحاظ معنی کے ایک ہو ۔ جیسے نگاہ اور بصیرۃ اس کی صفت میں الحدید کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ جیسے ھو حدید النظر ( وہ تیزنظر ہے ) ھو حدید الفھم ( وہ تیز فہم ہے) قرآن میں ہے :۔ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور جب زبان بلحاظ تیزی کے لوہے کی سی تاثیر رکھتی ہو تو صادم وماض کی طرح اس کی صفت حدید بھی آجاتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدادٍ [ الأحزاب/ 19] تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے باری میں تیز زبانی کریں ۔ اور روکنے کے معنی کے پیش نظر دربان کو حداد کہا جاتا ہے اور بدنصیب اور حجردم آدمی کو رجل محدود کہہ دیتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ہم نے داؤد کو بادشاہت اور نبوت عطا کی۔ چناچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ داؤد کے ساتھ تسبیح کرو اور اسی طرح پرندوں کو بھی ان کے تابع کردیا۔ اور ہم نے ان کے لیے مٹی کی طرح لوہے کو نرم کردیا کہ وہ اس سے جو چاہیں بنا لیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا } ” اور ہم نے دائود ( علیہ السلام) کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔ “ حضرت دائود اور حضرت سلیمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر اس سے پہلے سورة النمل میں آچکا ہے۔ وہاں حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں بھی حضرت دائود ( علیہ السلام) اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) دونوں ہی کا ذکر ہے ‘ مگر یہاں حضرت دائود (علیہ السلام) کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ } ” (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا تھا) ۔ “ ” تا ویب “ گویا ” ترجیع “ کا ہم معنی لفظ ہے ‘ یعنی لوٹانا اور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت دائود (علیہ السلام) حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ شامل ہوجائیں اور آپ ( علیہ السلام) کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ { وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ } ” اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا ۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 This is an allusion to the countless favours with which Allah had blessed the Prophet David. He was an ordinary young man of the tribe of Judah, living at Bethlehem. In a campaign against the Philistines he slew the giant Goliath, the great enemy of Israel, and suddenly grew in esteem of the Israelites. With this event began his rise to prominence; so much so that after the death of Saul he was first elected king of Judah in Hebron (mod. AI-KhaliD, and then a few years later he was made king over aII the tribes of Israel. He took Jerusalem and made it the capital of the kingdom of Israel. It was under his leadership that for the first time in history a God-worshipping kingdom was established, whose boundaries extended from the Gulf of `Aqabah to the western banks of the River Euphrates. In addition to these favours, he was further graced with Divine bounties in the form of knowledge and wisdom, and the qualities of justice and mercy and devotion to the truth. (For details, see E.N. 273 of Al-Baqarah and E.N. 7 of Bani Isra'il). 15 For this please refer to AI-Anbiya': 79 and E.N. 71 thereof.

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :14 اشارہ ہے ان بے شمار عنایات کی طرف جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو نوازا تھا ۔ وہ بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہوواہ کے ایک معمولی نوجوان تھے ۔ فلستیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے گرانڈیل دشمن کو قتل کر کے یکایک وہ بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن گئے ۔ اس واقعہ سے ان کا عروج شروع ہوا یہاں تک کہ طالوت کی وفات کے بعد پہلے وہ خبرون ( موجودہ الخلیل ) میں یہودیہ کے فرمانروا بنائے گئے ، پھر چند سال بعد تمام قبائل بنی اسرائیل نے مل کر ان کو اپنا بادشاہ منتخب کیا ، اور انہوں نے یروشلم کو فتح کر کے اسے دولت اسرائیل کا پایہ تخت بنایا ۔ یہ انہی کی قیادت تھی جس کی بدولت تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی خدا پرست سلطنت وجود میں آئی جس کے حدود خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے مغربی کناروں تک پھیلے ہوئے تھے ۔ اس عنایات پر مزید وہ فضل خداوندی ہے جو علم و حکمت ، عدل و انصاف ، اور خدا ترسی و بندگی حق کی صورت میں ان کو نصیب ہوا ( تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول ۔ ص 595 تا 598 ) سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :15 یہ مضمون اس سے پہلے سورہ انبیا آیت 79 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کر چکے ہیں ۔ ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم 174 ۔ 175 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: حضرت داؤد (علیہ السلام) خود بھی بہت خوش آواز تھے، اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو بھی ان کے لئے مسخر کردیا تھا کہ جب وہ ذکر اور تسبیح میں مشغول ہوں تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیحْ اور ذکر کرنے لگتے تھے، اور ماحول میں ایک پر کیف سماں بندھ جاتا تھا، پہاڑوں اور پرندوں کو ذکر وتسبیح کی صلاحیت عطا ہونا حضرت داؤد (علیہ السلام) کا خاص معجزہ تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠‘ ١١۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام اور فضل کا حال بیان فرمایا ہے جو اس نے حضرت واؤد (علیہ السلام) پر کیا کہ نبوت اور سلطنت نن کو دی اور بہت سالشکر اور سامان دیا اور اس طرح کی آوازان کو عطا کی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو ان کے ساتھ اونچے اونچے پہاڑ بھی تسبیح کرتے اور پر ندے اڑنے والے بھی ٹھہر جاتے اور طرح طرح کی آوازوں سے ان کا ساتھ دیتے معتبر سند سے طبرانی میں سلحہ بن قیس کوفی سے روایت ٣ ؎ ہے (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٢٦ ج ٣ بحوالہ صحیح بخاری باب حسن الصوت بالقرائۃ بروایت ابوہریرہ (رض) جس کا حاصل یہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی آواز سنی جب کہ وہ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے تو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی آواز کو واؤد (علیہ السلام) کی آواز سے تشبیہ دی مسند امام احاد بن ماجہ مسند ابویعلی وغیرہ میں اس مضمون کی اور بھی روایتیں ٤ ؎ ہیں (٤ ؎ فتح الباری ص ٢٠ ج ٥ باب حسن الصوت بالقرائت۔ ) حاصل کلام یہ ہے کہ خوش آوازی میں داؤد (علیہ السلام) مشہور ہیں اوبی معہ کے معنے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور مجاہد کے قول کے موافق سجی معہ کے ہیں مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ وہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کریں والنالہ الحدید کی تفسیر میں حسن بصر (رض) اور قتادہ کا قول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو آگ میں لوہا تپانے کی ضرورت نہ ہوتی تھی نہ ہتوڑے کی بلکہ وہ تو اس کو تا گے کی طرح ہاتھ سے بٹتے تھے ان اعمل سابغات وقدر فی السرد کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے کہ سب سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کڑیوں سے زرہیں بنائی ہیں ان سے پہلے چوڑے چوڑے پترے لوہے کے بدن پر لگاتے تھے مطلب یہ ہے کہ قد آدم اچھی فراخ زرہ بنائی جاوے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ سرد سے مراد حلقے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ زرہ کی کیلوں کو اس کے حلقوں میں اس طرح مضبوطی سے ٹھوکا جاوے کہ زرہ خوب ٹھوکی ہوئی مضبوط بنے ڈھیلی نہ رہے وعملوا صالحا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو حکم کیا کہ جیسا کہ فرمایا اعملوا آل داؤد شکرا شکر کرو داؤد کے گھر والو حق مان کر کہ یہ نعمتیں ہم نے تم کو دیں انی بماتعملون بصیر اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشک میں تمہارے عملوں کو دیکھتا ہوں مجھ پر کوئی کام تمہارا چھپا نہیں ہے ‘ صحیح سند سے مسند امام احمد ترمذی مستدرک حاکم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ١ ؎ ہے (١ ؎ مشکوۃ مع تنیقح الرواۃ باب الایمان بالقدر ‘) جس کا حاصل یہ ہے کہ عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے روحوں کو نکالا تو آدم (علیہ السلام) نے ایک روح کی پیشانی کو نورانی دیکھ کر پوچھا یا اللہ یہ کون ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ داؤد ( علیہ السلام) ہیں اس کے بعد اس حدیث میں وہی مشہور قصہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے اپنی عمر میں سے چالیس برس داؤد (علیہ السلام) کو دئے اور پھر بھول گئے ‘ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے اکثر شہر قوم عمائقہ کے بادشاہ جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقر کیا اور جالوت اور طالوت کی لڑائی میں داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کی قتل کیا اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت اور طالوت کی وفات کے بعد بادشاہیت یہ کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ ابوہریرہ (رض) کی اوپر کی اس حدیث اور سورة بقر کے اس قصہ کو ولقد آتینا داؤد منا فضلا کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیوں کہ اس حدیث اور فصہ سے داؤد (علیہ السلام) کی عالم ارواح میں اور دنیوی فضیلت اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے (٢ ؎ مشکوۃ باب بدعہ الخلق و ذکرالانبیآء (علیہم السلام) فصل اول ) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا داؤد (علیہ السلام) اپنی دستکاری کی آدنی سے گزر کرتے تھے۔ صیح بخاری میں عبداللہ بن عمر وبن العاص سے روایت ٣ ؎ ہے (٣ ؎ مشکوۃ باب صیام التطوع فصل اول) کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن بیچ دے کر روزہ رکھا کرتے تھے ‘ اس حدیث سے بھی داؤد (علیہ السلام) کی فضیلت سمجھ میں آسکتی ہے کہ باوجود بادشاہ ہونے کے ایک دن کھانا کھاتے تھے اور دوسرے دن روزہ رکھتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:10) اتینا داود منا فضلا۔ اتینا۔ ہم نے دیا۔ فعل۔ داود مفعول اول منا حال ہے فضلا مفعول ثانی۔ ہم نے دائود کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی “ فضلا صیغہ نکرہ اظہار عظمت کے لئے ہے۔ یجبال۔ یہ فضلا کا بدل ہے ای قلنا یا جبال۔ اوبی۔ فعل امر، واحد مؤنث حاضر۔ تاویب (تفعیل) مصدر۔ تو رجوع کر۔ تو لوٹ یعنی اے پہارو ! تم بھی ان کے ساتھ مل کر تسبیح کرو۔ یہاں اوبی۔ بمعنی سجی ہے تو تسبیح کر۔ والطیر۔ الطیر منصوب یا تو فعل مقدرہ کا مفعول ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس صورت میں تقدیر کلام ہے وسخرنا لہ الطیر۔ اور ہم نے پرندوں کو بھی (الطیر جنس کے لئے ہے) اس کی تسخیر میں کردیا۔ (کہ وہ بھی پہاروں کے ساتھ مل کر حضرت دائود کے ہمراہ تسبیح کریں) یا اس کا عطف فضلا پر ہے اور پر وندوں کا ماتحت کردینا بھی فضیلت میں سے ہے ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق۔ والطیر محشورۃ۔ کل لہ اواب (38 :18 ۔ 19) ہم نے پہاڑوں کو ان کے مطیع کردیا تھا۔ کہ شام اور صبح ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے اور پرندوں کو بھی (ان کے مطیع کردیا تھا) جو اس کے ہاں (تسبیح کے لئے ) اکٹھے ہوجاتے تھے۔ اور جگہ ہے وسخرنا مع داود الجبال یسبحن والطیر (21:79) اور ہم نے دائود کے ساتھ تابع کردیا تھا پہاڑوں کو کہ وہ اور پرندے تسبیح کیا کریں۔ مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں یہ صاف ظاہر ہے کہ پہاڑ اور پرندے ایک ہی حکم کے تحت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرنے پر مامور کر دئیے گئے تھے۔ فائدہ : پہاڑوں کی تسبیح سے ان کی صدائے باز گشت یا وہ عام تسبیح مراد نہیں جو ہر چیز اپنی اپنی زبان حال وقال سے کرتی رہتی ہے مراد نہیں۔ ورنہ حضرت دائود (علیہ السلام) پر فضل و انعام کے سلسلہ میں بیان کرنا کیا اہمیت رکھتا ہے۔ والنا لہ الحدید۔ یہ دوسرا انعام حضرت دائود پر تھا۔ النا ماضی جمع متکلم۔ الانۃ والیان (افعال) مصدر۔ جس کے معنی ہیں نرم کردینا۔ لین مادہ۔ الان للقوم جناحہ اس نے لوگوں سے نرم برتائو کیا۔ النا۔ ہم نے نرم کردیا۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اول یہ کہ لوہا ان کے ہاتھ لگنے سے موم ہوجاتا تھا۔ دوم یہ کہ ان کو لوہا پگھلانے کا فن سکھا دیا گیا ہو۔ لان یلین (باب ضرب) سے یہ فعل لازم بھی آیا ہے بمعنی نرم ہونا۔ مثلاً فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم (3:159) پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کے سبب سے ہے کہ آپ ان کے ساتھ نرم رہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یہ ان کی ” انابت “ کا صلہ تھا۔ ( کبیر) یعنی ان کو علم و نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ان پر زبور نازل کی، بادشاہی عنایت کی لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا اور بندوں پر پہاڑوں کو تابع کردیا وغیرہ۔ یہ سب چیزیں فضل بزرگی میں داخل ہیں جیسا کہ آگے بیان فرمایا ہے۔2 اس کا عطف جبال مناویٰ کے محل پر ہے۔ پہاڑوں اور پرندوں کو خاص طور پر ” تادیب “ کا حکم دینے سے اس ام کا اظہار مقصود ہے کہ جب پہاڑ باوجود اپنی سختی کے اور پرندے باوجود انسان سے نفرت کے حضرت دائود ( علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح پڑھنے میں شریک ہوجایا کرتے تھے تو وہ دوسری چیزیں بالا ولی ان کے ساتھ تسبیح پڑھتی تھیں اور یہ بات حضرت دائود ( علیہ السلام) پر خصوصی فضل کے طور پر بیان فرمائی ورنہ پہاڑوں کی تسبیح سے ان کی گونج مراد ہو تو بزرگی کا ذکر بےمعنی ہو کر رہ جائیگا۔ ( انبیاء : 79) ۔3 علمائے تفسیر کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ( علیہ السلام) کیلئے لوہے کو اس قدر نرم کردیا تھا کہ انہیں اسے آگ میں ڈالنے اور ہتھوڑے سے کوٹنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی بلکہ وہ ہاتھ سے دھاگے کی طرح اس جیسے چاہتے بل دے دیتے۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان جنگ میں لوہے کا لباس حضرت داود (علیہ السلام) نے ایجاد کیا اور انہیں خوبصورت انداز میں بنانے کا حکم بھی اس بات پر گواہ ہے کہ تخلیق باری میں تحقیق کرکے انسانی فلاح کے لیے نئی اور خوبصورت اور مفید اشیاء ایجاد کرنا عین اسلام ہے اور ان تمام نعمتوں سے آپ کی گردن اور جھک جائے اور نیکی کے کام کریں یعنی انسان کو اگر اللہ کی نعمتیں میسر ہوں تو شکر ادا کرنے کے لیے اطاعت اور عبادت میں زیادہ کوشش کرے اس لیے کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کے ک لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے لیے صبح و شام مہینہ مہینہ بھر کی مسافت طے کردیتی تھی۔ یعنی ہوائی جہاز کی صنعت سلیمان (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھی اور وہ اس پر سوار ہو کر ایک روز میں دو ماہ کی مسافت طے فرمایا کرتے تھے مفسرین کرام کے مطابق وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت سفر کرتے تھے تو خواہ آج کی طرح انجن نہ ہوں صرف ان کے حکم پر ہوا لے اڑتی ہو تو بھی اس کی کوئی صورت تو ہوگی جس پر اس قدر لوگ آرام سے سوار ہوتے ہوں گے اور تیز ہوا اور موسمی اثرات سے محفوظ اپنی منزل پر پہنچ پاتے ہوں گے یعنی ہوائی جہاز کی ایجاد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمائی۔ دوسرا بڑا معجزہ یہ تھا کہ ان کے لیے تانبے کا چشمہ جاری فرما دیا۔ زمین سے پگھلا ہوا تانبہ ابلتا تھا جس سے وہ مختلف اشیا بنوایا کرتے تھے اور جنات کو ان کے لیے مسخر کردیا تھا کہ ان کے حکم پر ان کی خدمت کرتے اور بہت سے کام کردیا کرتے تھے اور اگر کوئی ان کے حکم سے سرتابی کی جرات کرتا جبکہ اللہ نے اطاعت کرنے کا حکم دیا تھا تو وہ جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پاتا۔ تسخیر جنات اور عامل حضرات : تسخیر جنات بھی اللہ کی طرف سے معجزہ تھا کسی عمل یا وظیفہ کا نتیجہ نہ تھا اسی طرح بطور کرامت صحابہ کرام میں سے بہت سے نام تفسیر سراج منیر میں نقل فرمائے گئے ہیں کہ جنات جن کی خدمت کرتے اور ان کے ذاتی کام کردیا کرتے تھے مثلاً حضرت عمر بن الخطاب ، ابو ایوب انصاری ، زید بن ثابت ، معاذ بن جبل ، ابی ابن کعب اور حضرت ابوہریرہ (رض) مگر یہ بھی کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا محض اللہ نے مسخر کردئیے تھے اسی طرح اولیاء اللہ سے بھی ثابت ہے ، رہے عامل تو عاملوں کی اکثریت اعمال بد اور کفریہ کلمات سے شیاطین کو مسخر کرنے میں لگی رہتی ہے جو ان کفریہ کلمات کے باعث کچھ نہ کچھ کام ضرور کردیتے ہیں اس طرح اس عامل سے مخلوق کو گمراہ کرنے کا کام لیتے ہیں گویا جنات کی بجائے خود عامل ان کا غلام بن جاتا ہے جب کہ کاملین کسی تسخیری عمل ک کے محتاج نہیں ہوتے محض اللہ کی عطا سے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے یہ طاقت بخشی کہ وہ جنات سے حکماً اور جبراً بھی بیگار لے سکتے تھے مگر ان کی اطاعت کرنے کا حکم تشریعی طور پر بھی تھا کہ جنات میں سے جو ان کی اطاعت نہ کرے گا اگرچہ وہ اس سے بیگار لینے پر تو قادر ہوں گے مگر خود وہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں آجائے گا۔ صاحب معارف القرآن نقل فرماتے ہیں کہ جنات کی تسخیر اگر بغیر کسی قصد و عمل کے منجانب اللہ ہوجائے جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) اور بعض صحابہ کرام کے متعلق ثابت ہے تو وہ معجزہ یا کرامت میں داخل ہے اور جو تسخیر عملیات کے ذریعہ کی جاتی ہے اگر اس میں کلمات کفریہ یا اعمال کفریہ ہوں تو کفر اور صرف معصیت پہ مشتمل ہوں تو گناہ کبیرہ ہے۔ اور جن عملیات میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جن کے معنی معلوم نہیں ان کو بھی فقہا نے ناجائز کہا ہے۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اگر یہ عمل تسخیر اسماء الہیہ یا آیات قرآن کے ذریعہ ہو اور نجاست وغیرہ کے استعمال جیسی کوئی معصیت نہ ہو وہ بھی اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ مقصود اس سے جنات کی ایذا سے خود بچنا یا دوسرے مسلمانوں کو بچانا ہو یعنی دفع مضرت مقصود ہو جلب منفعت مقصود نہ ہو کیونکہ اگر اس کو کسب مال کا پیشہ بنایا گیا تو جائز نہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جس کام کا ارشاد فرماتے جنات خدمت کے لیے کمر بستہ رہتے تھے اور ان سے تع میرات کا کام لیتے نیز بڑے بڑے برتن تانبے وغیرہ کے بنواتے جو ہلائے نہ ہلیں جن میں لاؤ لشکر کے لیے کھانا تیار ہوتا اور نقش و نگار اور مکانات اور کمروں کی سجاوٹ کے لیے مختلف تصاویر بناتے کہ تخت سلیمان (علیہ السلام) پر بھی پرندوں کی تصاویر ہونا ملتا ہے۔ اور یہ سب ان کی شریعت میں یقیناً جائز تھا۔ اسلام میں تصویر بنانا صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حرام ہے۔ نیز اس میں دو رائے ہیں جن پر دونوں طرف دلائل موجود ہیں کہ یہاں تمثیل ارشاد ہے ایسے ہی حدیث شریف میں بھی اور تمثیل مجسمہ ہوتی ہے جیسے کسی پرندے یا جانور کا بت بنایا جائے اور یہ ناجائز ہے جبکہ نقش پہ یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔ اسی جواز کی بنا پر مسجد نبوی ، حرم اور حج وغیرہ کی تصاویر لی جاتی ہیں یا ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور دوسری رائے نقش کے بھی خلاف ہے کہ یہ سب حرام ہے مگر آج کل کی ضرورت کہ شناختی کارڈ پر یا مجرموں کی شناخت وغیرہ اور دوسرے امور کے لیے تو حرج نہیں اور اگر اس میں تقدس سمجھا جائے تو درست نہ ہوگا۔ واللہ اعلم۔ یہ سب ارشاد فرما کر فرمایا کہ اولاد داود (علیہ السلام) میں نے تم پر بہت احسانات فرمائے لہذا میرا شکر ادا کیا کرو کہ میرے بندوں میں کم ہی ایسے ہوں گے جنہیں شکر کرنا نصیب ہو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس حقیقت کا اعتراف کہ یہ نعمت اللہ نے عطا کی ہے اس حد تک کہ اس نعمت کو اس کی مرضی کے مطابق صرف کرے دولت ہو طاقت و اقتدار یا علم تو یہ شکر ہے۔ منقول ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) نے عرض کیا بار الہہ میرا شکر کرنا بھی تو تیری دی ہوئی توفیق سے ہے پھر شکر کیسے ادا ہو تو فرمایا کہ اب تو نے شکر کیا ہے کہ اکثر انسان نعمتوں کا حصول اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ اور استعمال کرتے ہیں یہی بہت بڑی ناشکری ہے۔ دنیا پر حکومت پرندوں حیوانوں ہواؤں اور جنات پر تسلط رکھنے والے سلیمان (علیہ السلام) کو بھی دنیا سے رخصت ہونا تھا اور ان کی یہ رخصتی بھی عجیب تھی کہ بیت المقدس کی تعمیر حضرت داود (علیہ السلام) نے شروع کی تھی پھر سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں بھی کام ہوتا رہا۔ حتی کہ آپ کا وقت رخصت آ گیا ہنوز کام باقی تھا جن ایک سرکش قوم تھی کہ اگر انہیں آپ کے وصال کی خبر ہوتی تو کام چھوڑ جاتے چناچہ اللہ کے حکم سے آپ اپنے اس حجرہ میں جو شیشہ سے بنا تھا اور جہاں سے کام کا معائنہ فرمایا کرتے تھے اپنی لاتھی کے سہارے کھڑے ہوگئے اور روح قبض ہوگئی انبیاء (علیہ السلام) کی موت میں قبض روح سے مراد ہوتا ہے کہ اس کا تعلق اس عالم سے بدل کر برزخ سے جڑ جاتا ہے ورنہ قیام اسی جسم میں زندوں کی طرح ہوتا ہے اس پر حضرت مولانا اللہ یار خان (رح) کا رسالہ حیات النبی دیکھیے۔ اور وجود مبارک کھڑا رہا جب معائنہ فرمانے کا وقت ہوتا تو پردے ہٹا دئیے جاتے اور سب کو پتہ چلتا کہ آپ کھڑے ہو کر ملاحظہ فرما رہے ہیں کسی جن تک کو بھی آنکھ اٹھانے کی یا قریب جانے کی جرات نہ ہوتی نہ ہی سوائے چند خواص کے اہل دربار کو پتہ چلا اور یوں مزید ایک سال میں تعمیر مکمل ہوئی تب آپ کی لاٹھی کو دیمک نے کھالیا اور وجود مبارک گر گیا تب جنات کو پتہ چلا کہ آپ کا تو وصال ہوچکا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر جنات کو غیب کا پتہ ہوتا تو سال بھر اس مشقت کی ذلت میں کیوں گرفتار رہتے۔ جنات اور علم غیب جنات چونکہ لمحوں میں لمبی لمبی مسافتیں قطع کرسکتے ہیں نیز بہت گھومتے بھی ہیں تو دور دراز کی خبریں جب لوگوں کو دیتے تو یہ اعتقاد بن گیا کہ یہ غیب جانتے ہیں جو کہ درست نہ تھا لہذا یہاں نفی فرما دی کہ اگر غیب جانتے تو سال بھر مشقت میں مبتلا نہ رہتے۔ قوم سبا کا تذکرہ : قوم سبا جن میں سے ملکہ بلقیس بھی تھیں بڑی خوشحال وقوم تھی اللہ کریم نے انہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا کہ ان کا علاقہ پہاڑوں اور وادیوں سے بھرا تھا چناچہ شہر مارب سے اوپر انہوں نے بہت بڑا بند باندھا جو بارش کے پانی سے بھر جاتا اور سال بھر اس سے نہریں جاری رہاتیں جو راستوں کے ساتھ ساتھ چلتی تھیں اور راستوں کے دونوں طرف باغات کو سیراب کرتی تھیں چناچہ سال بھر کے ہر موسم کے پھل مسافر تک کو نصیب رہتے اور ان کے شہر بہت خوبصورت اور صاف ستھرے تھے ظاہر ہے جہاں اسباب معیشت مضبوط ہوں گے آبادیاں یقیناً خوبصورت ہوں گی اور ان سب نعمتوں کے ساتھ سب بڑی نعمت اللہ کی مغفرت تھی کہ اس کو یاد کرتے اس کی عظمت کا اقرار کرتے رہتے تو بتقاضائے بشریت اگر خطا بھی ہوجاتی تو اس کی مغفرت اور بخشش ان کی دستگیری کو موجود تھی ، مگر آہستہ آہستہ یہ خوشحالی ان کو راس نہ آئی اور اللہ کی اطاعت سے دور لے گئی چناچہ انہوں نے اعراض کیا یعنی عظمت الہی کو بھول گئے اور خاطر تک میں نہ لائے تو وہی بند اور پانی جو نعمتوں کا سبب تھا عذاب کا باعث بن گیا اللہ نے چوہے مسلط کردئیے تھے وہاں ویرانیاں باقی بچ رہیں اور جنگلی جھاڑ جھنکار پیدا ہوگئے شہر اور آبادیاں ویران ہوگئیں قوم ہلاک ہوگئی اور رونقیں اجڑ کر عبرت کا سامان بن گئیں۔ یہ سب سزا انہیں ان کے کفر اور ناشکری کی وجہ سے ملی اور ناشکری کا بدلہ اس کے سوا ہو بھی کیا سکتا ہے لہذا گستاخوں کو ایسی ہی سزا اور یہی انجام نصیب ہوتا ہے ورنہ ان پر صرف یہی بلکہ اللہ کا یہ احسان تھا کہ دور دراز کے شہروں تک راستوں میں مناسب فاصلوں پر ان کی آبادیاں موجود تھیں اور ان میں امن وامان تھا کہ دوران سفر ٹھنڈی سڑکیں ، پھل ، پانی کی نہریں اور ٹھہرنے کیلئے جگہ جگہ آبادیاں موجود تھیں نہ چور کا خطرہ نہ ڈاکو کا ڈر گویا یہ سب بہت بڑئے انعامات ہوں اگر کسی کو بھی نصیب ہوں اور قیام امن اور آبادی و خوشحالی کے لیے کوشش کرنا گویا حصول برکات کے لیے محنت شمار ہوتی ہے مگر ناشکری دیکھیے کہ کہتے تھے ہمیں تو سفر کا مزہ ہی نہیں ملتا راستے ویران ہوتے بھوک پیاس لگتی اس کا سامان کرنا پڑتا تو مزہ آتا پھر چور کا ڈر نہ ڈاکو کا خطرہ تو بھلا سفر کا لطف ہی کیا اور دعا کرتے کہ خدایا یہ ایک سی زندگی مزیدار نہیں ہے اسے تبدیل کردے ہمارے سفر لمبے اور ویران راستوں پر ہوں اور خطرات کا مقابلہ ہو تو زندگی کا پتہ چلے یہ کہہ کر انہوں نے خود اپنے ساتھ زیادتی کی اور امن اور خوشحالی جیسی نعمت کو ٹھکرا دیا جس پر عذاب الہی وارد ہوا اور انہیں تباہ و برباد کردیا اور جو بچ گئے وہ ٹکڑوں میں بٹ کر محض افسانوں میں بس گئے کہ سبا کا دادا جس کا نام عبد شمس تھا یہی وہ شاہ یمن تھا جس نے مکہ مکرمہ پر قبضہ کرکے اہل مکہ کو قید کرلیا تھا اور پھر بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث انہیں آزاد کیا عزت دی اور تحقیق کتب سے پتہ چلایا کہ یہاں نبی آخر الزماں مبعوث ہوں گے تو اسی نے کچھ علماء کو یثرب آباد کرنے کا حکم دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام خط دیا جس میں آرزو کی کہ اگر میں آپ کا زمانہ پاؤں تو خدمت کرکے سعادت حاصل کروں جو ہجرت مدینہ پر آپ کو حضرت ابو ایوب انصاری نے پیش کردیا تھا یہ سب اس کی اولاد اور بڑے دبدبے والے لوگ تھے مگر بہت سے ادھر ادھر بھاگ گئے اور شام اور عرب کی وادیوں میں جا بسے اور بہت سے سیلاب میں بہہ گئے یوں سلطنت آبادیاں اور سب رعب و دبدبہ رخصت ہو کر تباہ و برباد حال ہوگئے۔ ان کی داستان باعث عبرت بن گئی بلکہ صبر اور شکر کرنے والوں کے لیے تو اس میں بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کی طرف سے مشکل حالات آئیں تو صبر کرے لیکن خوشحالی میں بھی شکر ضروری ہے جو مصیبت پر صبر سے مشکل ہے اور صبر و شکر کرنیوالے ہی اللہ کی رضا کو پانے والے ہیں۔ یہ تو ایسے نالائق ثابت ہوئے کہ ابلیس کا گمان جو اس نے روز ازل سے کیا تھا کہ اولاد آدم (علیہ السلام) میری بات مانے گی انہوں نے سچ کردکھایا اور واقعی اس کے پیروکار بن گئے سوائے چند خوش نصیبوں کے جو ایمان پر قائم رہے حالانکہ شیطان ان سے زبردستی ایسا نہیں کرواسکتا تھا سوائے اس کے کہ یہ تو خود ہماری طرف سے آزمائش ہے کہ سامنے آجائے اور واضح ہوجائے کہ کون آخرت پر یقین رکھتا ہے اور کون ہے جو مھض ماننے کی بات کرتا حالانکہ اسے یقین نہیں بلکہ دل میں شک رکھتا ہے ورنہ اے بندے تیرا پروردگار ہر شے سے حفاظت کرنے پر قادر ہے ابلیس ہو یا برائی کی کوئی طاقت تیرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی جب تک تو خود اپنے پروردگار کو چھوڑ کر اس کے پیچھے نہ چل دے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 14 اوبی : چلو ۔ پڑھو النا : ہم نے نرم کردیا تھا الحدید : لوہا سبغت : کشادہ زرہیں قدر : اندازہ کر قدور (قدر) : دیگیں۔ پتیلے راسیت : ایک جگہ جمنے والیاں قضینا : ہم نے فیصلہ کردیا ما دل : نہیں بتایا دابۃ الارض : زمین کا جانور ۔ زمین کا کیڑا منساۃ : عصا۔ لاٹھی خر : وہ گر پڑا تبینت : واضح ہوگئی ۔ کھل گئی ما لبثوا : لگے نہ رہتے المھین : ذلت والا تشریح ُ : آیت نمبر 10 تا 14 زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ” عب منیب “ یعنی اللہ کے بندے جو ہر حال میں اللہ کی طرف جھکنے والے اس کی طرف رجوع کرنے والے اور اچھے یا برے جیسے بھی حالات ہوں اللہ کی عبادت و بندگی کے ساتھ شکر ادا کرتے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی زندگیاں دنیا بھر کے لوگوں کے لئے ایک بہترین مثا ل ہوا کرتی ہیں ۔ حضرت دائود اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مثالیں بیان کی گئی ہیں ۔ ان دونوں کو اللہ نے اتنی بڑی، بےمثال ہوا کرتی ہے ان کو زبور جیسی کتاب دی گئی تھی جو لوگوں کے لئے ہدایت و رہبری کا ذریعہ تھی۔ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں آیات کی تلاوت اور اللہ کا ذکر کرتے تو اللہ کے حکم سے پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ہم نوا ہو کر جھومنے لگتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو اس قدر نرم بنادیا تھا کہ وہ لوہے کے تار بنا کر حلقے اور چھلے بناتے پھر ان کو جوڑ کر نہایت تناسب سے کشادہ زر ہیں بناتے تھے تاکہ جنگ میں کام آسکیں۔ یہی ان کا ذریعہ معاش بھی تھا جس وے وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرا کرتے تھے۔ جب حضرت دائود کے بیٹے حضرت سلمان (علیہ السلام) ان کے جانشین بنے تو اللہ نے ہوا کو ان کے لئے اس طرح مسخر کردیا تھا کہ وہ ان کے تخت کو ان کی مرضی کے مطابق ہوا کے دوش پر تیز رفتاری سے لے کر اڑجایا کرتا تھا اور جہان چاہتے وہ وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔ رفتار اس قدر تیز تھی کہ صبح سے دوپہر تک چلنے میں ایک مہینے کے سفر کے برابر فاصلہ طے کرلیتے تھے۔ پھر شام سے رات تک ایک مہینہ کی مسافت طے کرتے تھے اس طرح دو مہینے کا سفر ایک دن میں طے کرلیا کرتے تھے ۔ تانبہ ایک سخت دھات ہے لیکن اللہ نے ان کے لئے تانبے کو پانی کی طرح بہنے والا سیال بنا دیا تھا۔ وہ اتنا مناسب گر ہوتا تھا کہ آسانی سے اس کیے برتن بڑی بڑی دیگیں اور ضروریات کی دوسری چیزیں بنالی جاتی تھیں ۔ اللہ نے جنات کو اس طرح ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ ان کے سامنے ان کے حکم سے بڑے سے بڑا کام سر انجام دیا کرتے تھے۔ وہ جنات کو جیسا حکم دیتے وہ ان کی تابع داری کرنے پر مجبور تھے۔ ان کے حکم کے خلاف چلنے والوں کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ اونچی اونچی عمارتیں ، خوبصورت محل تانبے کی بنی ہوئی بڑی بڑی دیگیں جو چولہوں پر جمی رہتی تھیں پرندوں اور غیر جان داروں کی تصاویر بنا یا کرتے تھے ۔ بیت المقدس جیسی عظیم مسجد ان جنات کے ذریعہ تعمیر کرائی گئی۔ حضررت سلیمان (علیہ السلام) کا معمول یہ تھا کہ وہ ہر روز ایک عثا پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوجاتے اور جنات کے کاموں کی نگرانی کیا کرتے تھے۔ ایک دن آپ اسی طرح بیت المقدس کی تعمیر کی نگرانی کر رہے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی۔ چونکہ اللہ کو اس مسجد کی تعمیر کو مکمل کرانا تھا اس لے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے باوجود اسی طرح عصا کے سہارے کھڑے رہے۔ جنات یہ سمجھتے رہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ جب بیت المقدس کی تعمیر مکمل ہوگئی تب ان کے عصا کو دیمک نے چاٹنا شروع کردیا اور اس عصا کو کھوکھلا کردیا جس سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے۔ اس وقت جنات کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں ۔ وہ جنات کہنے لگے اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں تو ہم اتنی ذلت اور سخت محنت کیوں برداشت کرتے ۔ کاش ہمیں غٰیب کا علم ہوتا ۔ خلاصلہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس قدر نعمتوں سے نوازا تھا جس پر وہ تکبر اور غرور کرنے کے بجائے ہر وقت اللہ کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی آل اولا اد کو بھی اسی طرح شکر ادا کرنا چاہیے ۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثر لوگ نعمتیں پانے کے بعد ناشکری ہی کرتے ہیں۔ ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے چند باتیں (1) گھریلوں زندگی میں خاص طور پر تقویٰ ، طہارت، پاکیزگی، عبادت، بندگی اور رزق حلال کی طلب اور تڑپ ایسی عظیم صفات ہیں جن کے بہترین اثرات نہ صرف اولاد اور گھروں پر پڑتے ہیں بل کی ان کی نیک خصلتوں کے لوازمات سے سارا ماحول خوش گوار اور روشن ومنور ہوجاتا ہے ۔ اس ماحول پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور کائنات کی ماممکن قوتوں کو انسان کا خادم اور غلام بنادیا جاتا ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) پغمبروں میں سے ہیں جن کے گھر میں یہی پاکیزگی اور شکر گزاری کا ماحول تھا۔ بنی اسرائیل نا فرمانیوں کی وجہ سے جب ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور ظالم بادشاہوں اور حکمرانوں نے ان کا جینا حرام کردیا تب اللہ نے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا سر براہ مقرر کای تاکہ جالوت جیسے ظالم اور طاقت ور بادشاہ سے مقابلہ کیا جاسکے جس نے بنی اسرائیل اور ان کی سلطلنت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی ۔ جالوت اور اس کے زبر دست لشکر سے مقابلہ ہوا ، جالوت جو ایک قوی ہیکل اور لمبا چوڑا آدمی تھا اس کے مقابلے سے ہر ایک گھبرا رہا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جو اس وقت ایک غیر معروف نوجوان تھے انہوں نے جالوت پر اتنا زبردست حملہ کیا کہ اس کو ڈھیر کردیا جس سے جالوت کے لشکر کے قدم کھڑگئے اور انہوں نے میدان سے بھاگنا شروع کردیا۔ یہ اتنا بڑا کارنامہ تھا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ حضرت طالوت نے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت دائود سے کردیا جن سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ حضرت طالوت کے بعد وہ سلطنت یہود کے سربراہ مقرر کردیئے گئے۔ پھر چند سال نہ گذرے تھے کہ پوری بنی اسرائیل کی قوم نے ان کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے زبر دست عزم و حوصلے سی قوم بنی اسرائیل کو ایک نئے جذبے سے سرشار کردیا جس سے ان کے قدم آگے بڑھتے چلے گئے۔ یرو شلم کر کرے اس کو سلطلنت بنی اسرائیل کا مرکز شہر بنادیا۔ اس طرح اتنی زبر دست سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود اپنے ہا تھ کی کمائی سے اپنا گذر بسر کرتے تھے ۔ وہ راتوں کو خاموشی سے سلطنت کے لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت کرتے تاکہ کوئی حاکم کسی مظلوم پر کسی طرح ظلم و زیادتی نہ کرسکے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت دائود کا ذکر کرتے ہوئے فر مایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کا کمائی سے حاصل ہونے والا رزق ہے اور بلاشبہ دائود اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا اور اپنے بچوں کا گذارہ فرماتے تھے۔ آپنے دوسری جگہ فرمایا کہ نمازوں میں اللہ کے نزدیک پسندیدہ نماز حضرت دائود کی ہے جو آدھی رات سوتے پھر ایک تہائی رات کی عبادت و بندگی کرتے اور رات کے آخری حصے میں آپ آرام فرمایا کرتے تھے۔ فرمایا کہ سب روزوں میں محبوب ترین اللہ کے نزدیک حضرت دائود کے روزے ہیں جو ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے (قرطبی ) ۔ ان پر اللہ کا یہ خاص فضل و کرم تھا کہ اللہ نے ان کو علم و حکمت ، عدل و انصاف اور عام لوگوں کی خدمت کا ایک عظیم جذبہ عطا فرمایا تھا۔ آپ نے بیت المقدس کی تعمیرکا آغاز فرمایا جس کو ان کے صاحبزدے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تکمیل تک پہنچایا ۔ حضرت دائود نے اللہ کے فضل و کرم سے لوہے کی صنعت کو ایک خاص رخ دیا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا تھا جس سے وہ نہایت باریک کڑیوں میں زر ہیں بناتے تھے ۔ جس کو لوگ جنگ میں لباس کے طور پر پہنتے تھے اور آسانی سے دشمن کے وار سے بچ کر مقابلہ کرسکتے تھے۔ پہلے اس صنعت سے لوگ واقف نہیں تھے ۔ اللہ نے فرشتوں کے ذریعے آپ کو علم سکھایا ۔ اللہ نے آل دائود سے فرمایا کہ ان خاندان کو اتنی عظیم نعمتوں سے نوازا گیا ہے لہذا وہ اس پر صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی شکر ادا کریں ۔ حضرت دائود کے اہل خاندان نے قول و عمل سے اس طح شکر ادا کیا کہ ان کے گھر میں کوئی ایسا وقت نہ گذرتا تھا جس میں ان کے گھر کا کوئی فرد عبادت و بندگی میں لگا ہوا نہ ہوتا ۔ خاندان کے افراد پر دن رات کے اوقات کو اس طرح تقسیم کیا گیا تھا کہ حضرت دائود کا مصلی کسی وقت بھی نماز پر ھنے والوں سے خالی نہ رہتا تھا۔ اللہ نے آپ کو اس قدر خوبصورت آواز عطا فرمائی تھی کہ جب آپ زبور کی آیات کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تلاوت اور ذکر میں ہمنوا بن کر نغمہ سرا ہوجاتے تھے ۔ حضرت دائود کی پغمبرانہ شان اور ان کے گھریلو ماحول کا یہ اثر تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے صرف تیرہ سال کی عمر میں ایک عظیم الشان سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس سے بھی زیادہ نعمتیں عطا فرمائیں ۔ ہوا کو ان کے اس طرح تابع کردیا تھا کہ ہوا ان کے تخت کو ایک جگہ سے اڑا کر دوسری جگہ لے جاتی تھی ۔ تیز رفتاری کا یہ حال تھا کہ صبح و شام کے دومہینے کے سفر کو ایک دن میں مکمل کرلیا جاتا تھا۔ تانبہ جیسی سخت چھات کو ان کے لئے پانی کی طرح بہنے والا سیال بنادیا جاتا تھا کہ ان کے حکم سے یہ جنات بڑے بڑے کاموں کو انجام دیتے تھے ۔ ان کی خلاف ورزی کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ اگر کوئی نافرمانی کرتا تو اس کو زبردست سزادی جاتی تھی۔ وہ جنات ان کے حکم سے اونچی اونچی عمارتیں ، مسجدیں ، غیر جانداروں کی تصاویر ، پانی بھرنے کے بڑے برتن چھوٹے حوض کے برابر پانی آسکتا تھا اور چولہوں پر جمی ہوئی بھاری بھاری دیگیں بنایا کرتے تھے۔ بیت المقدس کی تعمیر کا آغاز حضرت دائود نے کیا تھا جس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مکمل فرمایا۔ تعمیر کا کام جنات کے سپرد کردیا گیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہر روز اس تعمیر کی نگرانی کرتے تھے۔ اپنے عصا کے سہارے کھڑے ہوجاتے اور کام کرنیوالے جنات کو دیکھتے رہتے تھے۔ ایک دن وہ اسی طرح عصا کے سہارے کھرے تھے کہ اللہ نے ان پر موت کو طاری کردیا لیکن وفات کے باوجود اس عصا کے سہارے اسی طرح رہے تاکہ بیت المقدس کا کام مکمل ہوجائے اور جنات جو ان کے خوف سے کام کر رہے تھے وہ فوراً کام نہ چھوڑ بیٹھیں۔ جب تعمیر بیت المقدس کا کام مکمل ہوگیا تو اللہ کے حکم سے گھن کے کیڑے (دیمک) نے عصائے سلیمانی کو اندر سے کھا کر اس طرح کھوکھلا کردیا تھا کہ ایک دن حضرت سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے اس وقت جنات کو علم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں۔ جنات کہنے لگے کہ اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اتنی محنت ، مشقت اور ذلت کیوں اٹھاتے۔ اس میں کفار مکہ کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ جنات کو غیب کا علم دیا گیا ہے ۔ (3) کفار اس بات کا انکار کرتے تھے کہ جب انسان مر کر مٹی ہوجائے گا اور اس کے اجزا کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ کیسے پیدا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات اور ان کو دی گئی نعمتوں کے ذریعہ بتا یا ہے کہ جس طرح یہ لوگ اس بات کو ناممکن سمجھتے ہیں کہ لوہا موم کی طرح نرم ہوجائے، تانبہ سیال اور پانی کی طرح بہنے لگے، جنات اور ہوا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم کے تابع ہوجائیں ۔ بتایا گیا ہے کہ جو اللہ ایسی ممکن چیزوں کو ممکن بنا سکتا ہے کیا وہ انسانوں کے اجزاء کو جمع کرکے اس کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ اللہ کی قدرت و طاقت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی جب یہ ذکر میں مشغول ہوں تم بھی ان کا ساتھ دو ۔ غالبا یہ تسبیح ایسی ہوگی جو سامعین کو مفہوم ہو، ورنہ غیر مفہوم تسبیح تو عام ہے، اس میں معیت داودیہ کی کیا تخصیص ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے بندے کے لیے زمین و آسمان میں بہت سے نشان عبرت ہیں۔ اور ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والوں میں حضرت داؤد (علیہ السلام) سر فہرست ہیں۔ اس لیے اس موقعہ پر ان کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہودہ کے ایک نوجوان تھے۔ فلسطینیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے کڑیل اور جری دشمن کو قتل کیا جس بنا پر بنی اسرائیل میں مقبول ہوئے اور طالوت کی وفات کے بعد پہلے موجودہ الخلیل میں یہودیہ کے حکمران بنائے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے مل کر ان کو اپنا بادشاہ منتخب کیا اور انہوں نے یروشلم کو فتح کرکے اسے اسرائیل کا دارالحکومت بنایا۔ ان کوششوں سے پہلی مرتبہ ایک فلسطین میں اسلامی سلطنت قائم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ایک سپاہی کے درجے سے اٹھا کر نہ صرف ملک کا حکمران بنایا بلکہ تاج نبوت اور زبور جیسی پُر تاثیر کتاب عطا فرمائی جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) زبور کی تلاوت کرتے تو نہ صرف پرندے مسحور ہوجاتے بلکہ جہاں تک ان کے پڑھنے کی آواز جاتی پہاڑ بھی جھوم اٹھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اپنا فضل ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر اپنے رب کی تسبیح بیان کیا کرو اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تاکہ داؤد (علیہ السلام) ایسی زرہیں بنائیں جن کی کڑیاں مضبوط ہونے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں۔ اسے اور پہننے والے کو کسی قسم کی الجھن محسوس نہ ہو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ اقتدار اور طاقت کے نشہ سے بچتے ہوئے صالح اعمال کرتے رہنا اور ہر دم یاد رکھنا کہ تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کا نغمہ سرا ہونا، پرندوں کا جھوم اٹھنا اور انکے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہوجانا، یہ ان کا معجزاتی عمل تھے۔ امام رازی (رض) لکھتے ہیں کہ صرف پہاڑوں اور پرندوں پر یہ کیفیت نہ ہوتی بلکہ ہر چیز پر یہی حالت طاری ہوجاتی تھی۔ ( تفسیر کبیر) مسائل ١۔ مسلمانوں کو صنعت و حرفت میں ترقی کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے لوہے میں طاقت اور برکت رکھی ہے۔ ٣۔ اقتدار اور قوت حاصل ہوجانے کے بعد آدمی کو نیک اعمال سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خصوصیت اور قرآن مجید میں ان کا تذکرہ : ١۔ داؤد (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ( الانعام : ٨٤) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بادشاہت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ( البقرۃ : ٢٥١) ٣۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔ ( النساء : ١٦٣) ٤۔ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا۔ (ص : ٢٦) ٥۔ ہم نے داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا۔ (النمل : ١٥) ٦۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنے فضل سے نوازا۔ (سبا : ١٠) ٧۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو حمد و ثنا کے لیے مسخر کردیا۔ (الانبیاء : ٧٩) ٨۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کی سلطنت مضبوط کی اور انہیں فیصلہ کن خطاب کا ملکہ دیا۔ ( ص : ٢٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 195 ایک نظر میں اس سبق میں شکر اور سرکشی کی دو صورتیں پیش کی گئی ہیں اور یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کیلئے ایسی قوتیں مسخر کردیتے ہیں جو عموماً لوگوں کے لئے مسخر نہیں کی جاتیں۔ لیکن اللہ کی مشیت اور اللہ کی تقدیر کو لوگوں کی عادات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ ان نقوش کے درمیان جنوں کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جن کو پوجا بعض عرب کیا کرتے تھے یا ان سے یہ عرب قبائل غیب کی خبریں طلب کرتے تھے جبکہ یہ جنات بذات خود غیب کی خبروں سے محروم ہوتے ہیں۔ اس سبق میں گمراہی کے وہ اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں جن کے ذریعے شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ لیکن یہ اسباب انسان کے دائرہ اختیار کے اندر ہیں۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ لوگوں کے جو اعمال پوشیدہ ہوتے ہیں اللہ ان کو ظاہر فرماتے ہیں اور اس سبق کا خاتمہ بھی سابقہ سبق کی طرح ذکر آخرت پر ہوتا ہے۔ درس نمبر 195 تشریح آیات 10 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 21 لقد اتینا داؤد منا ۔۔۔۔۔ انی بما تعملون بصیر (10 – 11) ” ۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔ (اے آل داؤد) نیک عمل کرو ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اس کو میں دیکھ رہا ہوں “۔ حضرت داؤد اللہ کے مطیع فرمان بندے تھے۔ گزشتہ سبق کا خاتمہ اس ذکر سے ہوا تھا۔ ان فی ذالک لایۃ لکل عبد منیب ” اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے “۔ اس اشارہ کے بعد حضرت داؤد کا قصہ لایا گیا اور اس کا آغاز اس بات سے کیا گیا جو بطور فضیلت ان کو دی گئی۔ یجبال اوبی معہ والطیر (34: 10) ” اے پہاڑو ، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو اور اے میرے پرندو تم بھی “۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بہت ہی خوبصورت آواز دی گئی تھی۔ یہ آواز اپنی خوبصورتی میں ایک معجزانہ آواز تھی۔ وہ اپنے ترانے نہایت خوش الحانی سے گاتے تھے۔ یہ ترانے اللہ کی حمد پر مشتمل ہوتے تھے۔ ان میں سے بعض قدیم میں موجود ہیں اگرچہ ہم ان کی صحت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی آواز سنی جو رات کو قرآن پڑھتے تھے ، آپ کھڑے ہو کر سننے لگے تو آپ نے فرمایا کہ ” ان کو ایسی خوشی الحانی دی گئی ہے جس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دی گئی تھی “۔ اس آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے فضل و کرم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ اس قدر شفاف ہے کہ ان کی حمد و ثنا کے نتیجے میں ان کے اور اس کائنات کے درمیان پر دے اٹھ گئے تھے۔ ان کی حقیقت ، حقیقت کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئی تھی۔ اور جس طرح وہ رب تعالیٰ کی حمد گاتے تھے۔ اس طرح کہ ان کے وجود اور کائنات کی حقیقت کے درمیان فاصلے مٹ گئے تھے۔ یہ کائنات بھی اللہ کی حدی خواں تھی اور حضرت داؤد بھی۔ یوں اللہ کی مخلوقات کی دو اقسام کے درمیان فاصلے مٹ گئے اور دنوں مخلوقات الٰہی حقیقت کے ساتھ مربوط ہوگئیں جس نے ان کے درمیان یہ پردے قائم کر رکھے تھے۔ دونوں اللہ کی تسبیح اور حمد گانے لگیں اور دونوں کا نغمہ ایک ہوگیا۔ یہ اشترا ، صفائی اور خلوص کا ایک درجہ ہے اور اس مقام اور درجے تک اللہ کے فضل و کرم کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جب حقیقت نوعیہ کے پردے اٹھ جائیں تو اللہ کی مخلوق ایک رہ جاتی ہے اور تمام حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کی حمد و ثنا گاتے تو پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ گائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی شخصیت میں جو ترنم تھا ، وہ پوری کائنات میں سرایت کرجاتا اور یوں پوری کائنات خالق کی طرف متوجہ ہو کر حمد گاتی۔ یہ وہ ۔۔۔۔ ہوتے ہیں جن کا ذوق انہیں لوگوں کو ہوتا ہے جو ان تجربات سے گزرے ہوں اور جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ایسے لمحات پائے ہوں۔ والنالہ الحدید (34: 10) ” ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا “۔ یہ اللہ کے فضل و کرم کا ایک دوسرا رنگ تھا جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ہوا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر انعامات کا جس طرح یہاں بیان ہو رہا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خارق العادت عمل تھا۔ معاملہ یہ نہ تھا جس طرح بھٹیوں میں لوہے کو گرم کرکے ان کو پگھلاتے ہیں اور پھر ڈھلائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ دراصل ایک معجزانہ عمل تھا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نبوت پر ایک دلیل تھا اور سیاق کلام سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہاں مخصوص فضل و کرم کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی اور عادی ٹیکنالوجی نہ تھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) والے انعامات کا تذکرہ یہاں حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں جس اقتدار اور اختیار اور جن نعمتوں سے نوازا تھا ان میں سے بعض کا تذکرہ ہے۔ سورة انبیاء (رکوع نمبر ٥) میں دونوں حضرات کا تذکرہ گزر چکا ہے اور سورة ص میں بھی (رکوع نمبر ٢ اور رکوع نمبر ٣ میں) آ رہا ہے۔ اولاً تو یہ فرمایا کہ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ ہماری طرف بار بار رجوع ہوں اور ان کے ساتھ ہمارے ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں۔ لفظ (اَوِّبِیْ ) باب تفعیل سے ہے اور چونکہ مجرد سے بھی اس کا معنی رجوع کرنے کا ہے اس لیے اس کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ (رَجِّعِیْ مَعَہَُ التَّسْبِیْحَ وَرَدِّدِیْ بِہٖ ) کہ داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو۔ اور پرندوں کو بھی حکم دیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ کی تسبیح میں مشغول رہیں۔ سورة ص میں فرمایا ہے (اِِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بالْعَشِیِّ وَالْاِِشْرَاقِ وَالطَّیْرَ مَحْشُورَۃً کُلٌّ لَہٗ اَوَّابٌ) (ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی حکم دیا تھا جو جمع ہوجاتے تھے، سب اس کی وجہ سے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔ ) یوں تو ہر چیز اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتی ہے، جیسا کہ متعدد آیات میں بیان فرمایا ہے لیکن پہاڑوں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی حکم تھا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرنے میں مشغول رہیں، یہ تسبیح حروف اور کلمات کے ساتھ تھیں، جیسا کہ اس طرح کے معجزات نبویہ بھی کتب احادیث میں مذکور ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے جس وقت وہ کھایا جاتا تھا۔ (رواہ البخاری کما فی المشکوٰۃ المصابیح ٥٣٨) جب داؤد (علیہ السلام) تسبیح پڑھتے تھے تو پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے تھے اور پرندے بھی آپ کے پاس جمع ہوتے اور مشغول تسبیح ہوجاتے تھے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نہایت خوش آواز تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کی خوش آوازی کو تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا (لقد اوتی مزمارا من مزامیر آل داؤد) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٧٥ عن البخاری و مسلم) (کہ ان کو داؤد (علیہ السلام) کی خوش آوازی کا حصہ دیا گیا۔ ) لوہے کو نرم فرمانا ثانیاً یہ فرمایا (وَاَلَنَّالَہُ الْحَدِیْدَ ) کہ ہم نے لوہے کو داؤد (علیہ السلام) کے لیے نرم کردیا، (اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ ) اور انہیں حکم دیا کہ تم پوری زرہیں بناؤ۔ (وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ ) اور ان کے جوڑنے میں اندازہ رکھو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے پہلے جو تلواروں کا حملہ روکنے کے لیے زرہیں بنائی جاتی تھیں وہ لوہے کے تختے ہوتے تھے جنگ کرنے والا اپنے آگے پیچھے باندھ لیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زرہیں بنانے کا یہ طریقہ سکھایا کہ پہلے وہ لوہے کے زنجیر نما حلقے بنالیں پھر انہیں آپس میں ایک اچھے اور مناسب انداز میں جوڑ دیا کریں۔ اسی کو سورة الانبیاء میں فرمایا (وَ عَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُمْ مِّنْ بَاْسِکُمْ ) (اور ہم نے انہیں زرہ بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ وہ تمہیں تمہاری جنگوں میں محفوظ رکھیں۔ ) معالم التنزیل جلد ٣: ص ٥٠٥ میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو جب حکومت ملی تو آپ ہیئت بدل کر گھوما پھرا کرتے تھے اور اکا دکا جو کوئی شخص مل جاتا اس سے دریافت کرتے تھے کہ کہو بھائی داؤد کیسے ہیں ؟ عام طور سے اس کے جواب میں لوگ ان کی تعریف ہی کردیتے تھے۔ ایک دن اللہ تعالیٰ نے انسانی صورت میں ایک فرشتہ بھیجا، داؤد (علیہ السلام) نے اس سے بھی وہی سوال کیا جو دوسرے لوگوں سے کیا کرتے تھے، فرشتے نے کہا کہ ہاں آدمی تو وہ اچھے ہیں اگر ان میں ایک خصلت نہ ہوتی یہ سن کر حضرت داؤد (علیہ السلام) متفکر ہوئے اور دریافت کیا کہ وہ کون سی خصلت ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا وہ یہ ہے کہ وہ خود بھی بیت المال سے کھاتے ہیں اور اپنے بال بچوں کو بھی اسی میں سے کھلاتے ہیں، یہ بات سن کر آپ کو تنبہ ہوا اور اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ میرے لیے کوئی ایسا سبب بنا دیجیے جس سے میرا اور میرے اہل و عیال کا گزارہ ہوتا رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ بنانی سکھائی اور آپ کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔ زرہ بنانے کے لیے انہیں لوہے کو آگ میں ڈال کر نرم کرنے اور ہتھوڑوں سے کوٹنے پیٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، ان کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح پگھل جاتا تھا اور گوندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم ہوجاتا تھا، روزانہ ایک زرہ بنالیتے تھے جو چار ہزار درہم (اور ایک قول کے مطابق چھ ہزار درہم) میں فروخت کردیتے تھے، ان میں سے اپنی جان پر، اپنے اہل و عیال پر خرچ فرماتے تھے اور فقراء بنی اسرائیل پر بھی صدقہ فرماتے تھے۔ حضرت مقداد بن معد یکرب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا کہ اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے جو حاصل ہو اس میں سے کھائے، اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کی محنت سے کھاتے تھے۔ (رواہ البخاری ص ٢٧٨)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ولقد اتینا داود الخ : یہ پہلے شبہ کا جواب ہے داود (علیہ السلام) کو ہم نے بڑی بزرگی دی۔ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے اور لوہا ان کے ہاتھ میں موم کردیا۔ لیکن اتنی خوبیوں کے باوجود وہ شفیع غالب نہیں بن سکتے کیونکہ تمام خوبیاں اور طاقتیں ان کے قبضہ میں نہ تھیں بلکہ یہ سب کچھ ہمارے قبضہ و تصرف میں تھا اور یہ خوبیاں ہم ہی نے ان کو عطا کی تھیں۔ یجبال اس سے پہلے قلنا مقدر ہے یعنی ہم نے فرمایا۔ اے پہاڑو ! اس کے ساتھ مل کر تسبیح کا ورد کرو۔ جب حضرت داود (علیہ السلام) اللہ کی تسبیح کرتے تو اللہ کے حکم سے پہاڑ بھی زبان قال سے ان کے ساتھ بآواز بلند تسبیح کرتے۔ (روح، مدارک وغیرہ) ۔ والطیر : ابو عمرو کے نزدیک یہ سخرنا مقدر کا مفعول ہے ای و سخرنا الطیر۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی راجح ہے لیکن سیبویہ کے نزدیک یہ مفعول معہ ہے۔ (قرطبی ج 14 ص 266) ۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے پرندوں کو بھی حکم دیا کہ وہ بھی تسبیح اور تقدیس میں داود (علیہ السلام) کے ساتھ شریک ہوجائیں۔ 11:۔ والنا لہ الحدید الخ : اور ہم نے لوہے کو داود (علیہ السلام) کے لیے نرم کردیا۔ حضرت ابن عباس، حسن اور مقاتل (رض) فرماتے ہیں لوہا حضرت داود (علیہ السلام) کے ہاتھ میں موم اور گندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم تھا۔ وہ جو چیز چاہتے آگ اور ہتھوڑے کے بغیر ہی نہایت آسانی سے بنا لیتے۔ بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قدر قوت عطا فرما دی تھی کہ وہ لوہے کی سختی کے باوجود جس طرح چاہتے موڑ لیتے اور ہاتھ کی قوت ہی سے اس کی تاریں کھینچ لیتے (خازن۔ ابن کثیر۔ قرطبی) ۔ سابغات : پوری مکمل زرہیں۔ جو انسان کے سارے بدن کو ڈھانپ لیں۔ سابغات ای دروعا سابغات ای کو امل تامات واسعات (قرطبی ج 14 ص 267) ۔ اور ان اعمل سے پہلے قلنا مقدر ہے وقدر فی السرد۔ السرد خرز ما یخشن و یغلظ (امام راغب) ۔ یعنی سخت اور درشت چیز کو جوڑنا مراد زرہ بننا اور اس کے حلقوں کو باہم جوڑنا ہے۔ قدر فی السرد یعنی زر ہوں کے حلقے بنانے میں ایک انداز کو قائم رکھو اور حلقوں کی مقداروں میں تناسب کو مد نظر رکھو حلقے چھوٹے بڑے نہ ہوں۔ والمعنی اقتصد فی نسج الدروع بحیث تتناسب حلقہا (روح ج 22 ص 115) ۔ واعملوا صالحا : خطاب حضرت داود (علیہ السلام) اور ان کی آل سے ہے۔ کسب معاش کے لیے بیشک مذکورہ بالا کام کرو لیکن اعمال صالحہ بجا لانا اصل مقصد زندگی ہے اس سے غافل نہ ہونا۔ میں تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں اور ہر عمل کی جزاء دوں گا۔ ای لستم مخلوقین الا للعمل الصالح فاعملوا ذلک واکثروا منہ و الکسب قدروا فیہ (کبیر ج 7 ص 87) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اور یقینا ہم نے دائود (علیہ السلام) کو اپنی جانب سے ایک خاص قسم کی برتری اور بزرگی دی تھی۔ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ اے پہاڑو ! دائود (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح میں موافقت کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کیلئے لوہے کو نرم کردیا۔