Surat Saba

Surah: 34

Verse: 2

سورة سبأ

یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ وَ ہُوَ الرَّحِیۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴿۲﴾

He knows what penetrates into the earth and what emerges from it and what descends from the heaven and what ascends therein. And He is the Merciful, the Forgiving.

جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اترے اور جو چڑھ کر اس میں جائے وہ سب سے باخبر ہے ۔ اور وہ مہربان نہایت بخشش والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الاَْرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ... He knows that which goes into the earth and that which comes forth from it, meaning, He knows the number of raindrops that sink into the depths of the earth, and the seeds that have been sown, and the things that are hidden in it, and He knows what comes forth from that, how many they are, how they grow and what they look like. ... وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاء ... and that which descends from the heaven, means, of raindrops and provision, ... وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ... and that which ascends to it. and what ascends into it, i.e., righteous deeds and other things. ... وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ And He is the Most Merciful, the Oft-Forgiving. means, He is Most Merciful to His servants; He does not hasten to punish them, and He forgives the sins of those who repent to Him and put their trust in Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 مثلا بارش خزانہ اور دفینہ وغیرہ۔ 2۔ 2 بارش اولے گرج، بجلی اور برکات الٰہی وغیرہ، نیز فرشتوں اور آسمانی کتابوں کا نزول۔ 2۔ 3 یعنی فرشتے اور بندوں کے اعمال۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣] زمین میں داخل ہونے والی چیزیں یہ ہیں : ہر قسم کی نباتات کے بیج، بارش کا پانی، تمام جانوروں کے مردہ اجسام۔ اور حشرات الارض وغیرہ اور زمین سے نکلنے والی چیزیں مثلاً کھیتی، پودے، درخت، معدنیات۔ کئی قسم کے تیل اور گیسیں وغیرہ اور آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلاً بارش اللہ کی رحمت و برکت، وحی الٰہی، فرشتے وغیرہ اور جو آسمان کی طرف چڑھنے والی چیزیں مثلاً دعا، فرشتے، انسانوں کے اعمال وغیرہ ان سب انواع اور ان کی جزئیات سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ [ ٤] یعنی انسانوں کی بداعمالیوں پرانیں فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کو سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے اور جو سنبھل جائے تو اس کی ساتھ لغزشیں معاف بھی کردیتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس سے نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور اس میں چڑھتی ہیں، جو شمار سے باہر ہیں اور جنھیں صرف وہی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کمال علم بھی اس کے اکیلے مستحق حمد ہونے کی دلیل ہے، کسی اور کو دوسری چیزیں تو ایک طرف رہیں خود اپنی ذات کا بھی پورا علم نہیں، پھر وہ ” الحمد “ کے لائق کیسے ہوگیا۔ وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْر : یعنی ہر چیز کا مالک ہونے، حکیم وخبیر ہونے اور ذرّے ذرّے کا علم رکھنے کے باوجود بندوں کی نافرمانی پر فوری گرفت نہیں کرتا، کیونکہ وہی ہے جس کی نہ رحمت کی کوئی حد ہے، نہ مغفرت کی۔ اس لیے اس نے بندوں کو مہلت دے رکھی ہے اور بڑی سے بڑی سرکشی پر بھی مقرر کردہ وقت سے پہلے گرفت نہیں فرماتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْہَا۝ ٠ ۭ وَہُوَالرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ۝ ٢ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا ولج الوُلُوجُ : الدّخول في مضیق . قال تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] ، وقوله : يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61] فتنبيه علی ما ركّب اللہ عزّ وجلّ عليه العالم من زيادة اللیل في النهار، وزیادة النهار في اللیل، وذلک بحسب مطالع الشمس ومغاربها . ( و ل ج ) الولوج ( ض ) کے معنی کسی تنک جگہ میں داخل ہونے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے ۔ اور آیت : ۔ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَيُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ [ الحج/ 61]( کہ خدا ) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ میں اس نظام کائنات پت متنبہ کیا گیا ہو جو اس عالم میں رات کے دن اور دن کے رات میں داخل ہونے کی صورت میں قائم ہے اور مطالع شمسی کے حساب سے رونما ہوتا رہتا ہے ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا عرج العُرُوجُ : ذهابٌ في صعود . قال تعالی: تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] ، فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ [ الحجر/ 14] ، والمَعَارِجُ : المصاعد . قال : ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 3] ، ولیلة المِعْرَاجُ سمّيت لصعود الدّعاء فيها إشارة إلى قوله : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [ فاطر/ 10] ، وعَرَجَ عُرُوجاً وعَرَجَاناً : مشی مشي العَارِجِ. أي : الذاهب في صعود، كما يقال : درج : إذا مشی مشي الصاعد في درجه، وعَرِجَ : صار ذلک خلقة له «4» ، ( ع ر ج ) العروج کے معنی اوپر چڑھنا کے ہیں قرآن میں ہے : تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ [ المعارج/ 4] جس کی طرف روح ( الامین ) اور فرشتے چڑھتے ہیں ۔ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ [ الحجر/ 14] اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں ۔ اور معارج کے معنی سیڑھیوں کے ہیں اس کا مفرد معرج ( اور معراج ) ہے ۔ قرآن میں ہے : ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 3] سیڑھیوں والے خدا کی طرف سے ( نازل ہوگا ) ۔ اور شب معراج کو بھی لیلۃ المعراج اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں دعائیں اوپر چڑھتی ہیں جیسا کہ آیت کریمہ ؛ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [ فاطر/ 10] اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ سرحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور بارش و پانی اور مدے اور خزانے جو چیزیں زمین میں داخل ہوتی ہیں وہ سب کچھ جانتا ہے اور اسی طرح جو چیزیں اس سے نکلتی ہیں جیسا کہ نباتات پانی خزانے مردے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے۔ مثلا پانی اور رزق وغیرہ اور فرشتے اور کراما کاتبین جو بھی چیزیں اس پر چڑھتی ہیں وہ سب کو جانتا ہے۔ اور وہ اہل ایمان پر رحمت فرمانے والا اور تائبین کی مغفرت فرمانے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ { یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا } ” وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ۔ “ { وَہُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ } ” اور وہ نہایت رحم کرنے والا ‘ بہت بخشنے والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 That is, "If a person (or persons) is not being seized in spite of rebellion against Him in His Kingdom, it is not because this world is a lawless kingdom and Allah is ruler, but because Allah is an inept All-Merciful and All-Forbearing, Although it lies in His power to seize the sinner and the wrongdoer immediately on the commission of sin, to withhold his sustenance, to paralyse his body, and to put rum to death suddenly, yet He does not do so. It is the demand of His Beneficence that" in spite of being All-Powerful He gives the disobedient servant plenty of rope and enough respite to mend his ways and as soon as he desists from his evil ways, He pardons and forgives him. "

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :4 یعنی ایسا نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں اگر کوئی شخص یا گروہ اس کے خلاف بغاوت کرنے کے باوجود پکڑا نہیں جا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ دنیا اندھیر نگری اور اللہ تعالیٰ اس کا چوپٹ راجہ ہے ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے اور درگزر سے کام لینا اس کی عادت ہے ۔ عاصی اور خاطی کو قصور سرزد ہوتے ہی پکڑ لینا ، اس کا رزق بند کر دینا ، اس کے جسم کو مفلوج کر دینا اس کو آناً فاناً ہلاک کر دینا ، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے ، مگر وہ ایسا کرتا نہیں ہے ۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ قادر مطلق ہونے کے باوجود وہ نافرمان بندوں کو ڈھیل دیتا ہے ، سنبھلنے کی مہلت عطا کرتا ہے ، اور جب بھی وہ باز آجائیں ، معاف کر دیتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:2) ما یلج فی الارض۔ ما موصولہ ہے یلج مضارع صیغہ واحد مذکر غائب ہے ولوج مصدر (باب ضرب) بمعنی داخل ہونا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے لا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں داخل نہ ہوجائے۔ جو زمین کے اندر داخل ہوتا ہے مثلاً پانی، اموات، تخم وغیرہ۔ وما یخرج منھا۔ اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے مثلاً پانی کے چشمے ۔ نباتات، معدنیات وغیرہ۔ منھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کے لئے ہے۔ وما ینزل من السماء اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے مثلاً ملائکہ، احکام الٰہی وغیرہ۔ وما یعرج فیھا۔ اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے عروج (باب نصر) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب چڑھتا ہے اس میں۔ مثلاً ملائکہ۔ اعمال صالحہ و ارواح وغیرہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ السماء کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 جیسے فرشتے یا بندوں کے اعمال وغیرہ اور فیہا سے اشارہ ہے کہ وہ اعمال آسمانوں میں نفوذ کر کے باری تعالیٰ کے ہاں مرتبہ قبولیت حاصل کرلیتے ہیں۔ جیسے فرمایا :” الیہ یحمد الکلم الطیب “۔8 یعنی وہ اپنے بندوں کی بد اعمالیوں سے باخبر ہے لیکن چونکہ وہ رحیم و غفو رہے اس لئے وہ ان کی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ توبہ کی مہلت دیتا ہے اور جو توبہ کرلیتا ہے اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں یعنی وہ جو کچھ رزق وغیرہ اتارتا ہے اپنی رحمت سے اتارتا ہے اور جو اعمال وارواح اس کی طرف عروج کر کے پہنچتے ہیں ان پر مغفرت فرماتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مثلا ملائکہ کہ نزول و عروج کرتے ہیں اور مثلا احکام جن کا نزول ہوتا ہے اور اعمال جن کا صعود ہوتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے باخبر ہونے کی انتہا ہی نہیں۔ اس سے پہلی آیت کے ابتدائی الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہوا ہے۔ ایک یہ کہ ہر چیز اس کی حمدوثنا میں رطب اللّسان ہے اور دوسری یہ کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ مالک کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی مملوک کی زبان کو جانتاہو اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ کونسی چیز کہاں اور کس حالت میں ہے۔ انسان کو یہ حقیقت سمجھانے کے لیے بتلایا گیا ہے کہ ” اللہ “ وہ ہے جو سب کچھ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ آسمان سے کیا نازل ہوتا ہے اور کیا اوپر جاتا ہے۔ یہ بات بتلا کر انسان کو یہ عقیدہ سمجھایا ہے کہ اے انسان جس طرح ہر چیز اپنے خالق کی حمد و شکر میں لگی ہوئی ہے تجھے بھی اپنے رب کی حمد وشکر میں رطب اللّسان رہنا چاہیے۔ اے انسان ! تجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ تیرا رب جانتا ہے جو کچھ تو زبان سے کہتا ہے اور جو تیرے اعضاء سے صادر ہوتا ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ تیری خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرتارہتا ہے کیونکہ وہ نہایت رحم فرمانے والا اور معاف کرنے والا ہے۔ ” اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور رحم جو کچھ کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے۔ “ (الرعد : ٨) ” میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ “ [ الاعراف : ١٥٦] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو زمین سے باہر نکلتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس کی طرف چڑھتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا اور معاف فرمانے والا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ مستحق حمد ہے اسے ہر چیز کا علم ہے، اہل ایمان کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے یہاں سے سورة سباء شروع ہو رہی ہے۔ سباء ایک قوم تھی جو یمن میں رہتی تھی، اس سورت کے دوسرے رکوع میں ان لوگوں کی بودوباش اور باغوں سے منتفع ہونے کا پھر ناشکری کی وجہ سے ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے اس لیے اس سورة کا نام سورة سباء معروف ہوا۔ شروع سورة میں ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی مستحق حمد ہے، اس دنیا میں بھی اس کے لیے حمد ہے اور آخرت میں بھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ بیان فرمائیں، اولاً تو یہ فرمایا کہ وہ حکیم ہے حکمت والا ہے اس کا کوئی فعل اور کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں، پھر فرمایا کہ وہ خبیر بھی ہے اسے اپنی مخلوق کی اور مخلوق کے مصالح اور منافع اور مضار کی پوری طرح خبر ہے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ کی حمد بیان ہوئی جس میں اس کی صفت علم اور صفت رحمت اور صفت حکمت اور صفت مغفرت کا ذکر آیا ہے اور اس سے توحید بھی ثابت ہوگئی۔ اس کے بعد منکرین قیامت کا قول نقل فرمایا اور ان کی تردید فرمائی۔ ارشاد فرمایا : (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ ) (اور کافروں نے کہا کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی) (قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہاں میرے رب کی قسم قیامت ضرور آئے گی) (عٰلِمِ الْغَیْبِ لَا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) (میرا رب عالم الغیب ہے اس سے ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں غائب نہیں ہے، اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز ہے نہ بڑی چیز مگر کتاب مبین میں موجود ہے) اس میں منکرین قیامت کی اس بات کا جواب دے دیا کہ جب اموات کی ہڈیاں گل سڑ جائیں گی، ان کے ذرات کہاں کے کہاں پہنچے ہوں گے، بعض دریا میں مر کر دریائی جانوروں کی غذا بنے ہوں گے اور بعض کو خشکی کے جانوروں نے کھایا ہوگا تو ان کے اجزاء کس طرح جمع ہوں گے ؟ ان کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے، کوئی چیز ذرہ بھر بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے، آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو، کوئی بھی چیز خواہ چھوٹی ہو یا بڑی کتاب مبین میں محفوظ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ یعلم ما یلج الخ : یہ پہلی عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے یعنی وہ عالم الغیب ہے اور کائنات کے ذرے ذرے جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے، بیج وغیرہ جس سے پیداوار ہوتی ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا یعنی سبزہ جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے بارش، اولے برکات اور اللہ کے فرشتے وغیرہ اور جو کچھ آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اعمال، ارواح، فرشتے، مقصد تعمیم و احاطہ ہے یعنی وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ وھو الرحیم الغفور : یہ بھی بمنزلہ علت ہے اس دلیل کے دونوں حصوں سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی مہربان اور بخشائش گر ہے اور کوئی اس سے زبردستی کام کرانے والا نہیں ہے اور اس کی بارگاہ میں کسی کو شفیع غالب نہ سمجھو۔ الرحیم، مہربان جو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ الغفور توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس زمین سے نکلتی ہے اور ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز آسمان میں چڑھتی ہے اور وہ نہایت مہربانی اور بڑی مغفرت و بخشش کرنے والا ہے۔ زمین میں داخل ہونا پانی، بیج، مردے دفینے اور جو نکلتا ہے نباتات، معدنیات، حشر میں مردے وغیرہ مثلاً اترنا آسمان سے بارش کا پانی، برکتیں، ملائکہ، کتابیں وغیرہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آسمان میں چڑھنا، ملائکہ اعمال عباد، بندوں کی دُعائیں، مرنے والوں کی ارواح وغیرہ مثلاً وہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے کہ بندے جس چیز کے محتاج ہیں وہ نازل کرتا اور اتارتا ہے اور بڑی مغفرت کرنے والا ہے یعنی صغیرہ تقصیرات کو حسنات اور نیکیوں سے بخش دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کو توبہ سے اور ایمان لانے سے بخش دیتا ہے۔ بشرطیکہ کفر اور شرک تک کبیرہ نہ پہنچ جائے اور کبھی صغیرہ اور کبیرہ کو محض اپنے فضل سے بخش دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں زمین میں بیٹھے ہے جانور، کیڑا اور میہنہ نکلتا ہے۔ سبزہ، کھیتی، آسمان سے اترتا ہے۔ قرآن کریم، تقدیر چڑھتا ہے۔ عمل اور دعا اور روح مردے کی اور سب بستی اس کی رحمت سے ہے یہاں تک توحید کا ذکر تھا آگے قیامت کا ذکر فرماتا ہے۔