Surat Saba

Surah: 34

Verse: 24

سورة سبأ

قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلِ اللّٰہُ ۙ وَ اِنَّاۤ اَوۡ اِیَّاکُمۡ لَعَلٰی ہُدًی اَوۡ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۴﴾

Say, "Who provides for you from the heavens and the earth?" Say, " Allah . And indeed, we or you are either upon guidance or in clear error."

پوچھئے کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے؟ ( خود ) جواب دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ ۔ ( سنو ) ہم یا تم ۔ یا تو یقیناً ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ہیں؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah has no partner in anything whatsoever Allah says: قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ قُلِ اللَّهُ ... Say: "Who gives you provision from the heavens and the earth!" Say: "Allah. Allah tells us that He is unique in His power of creation and His giving of provision, and that He is unique in His divinity also. As they used to admit that no one in heaven or on earth except Allah gave them provision, i.e., by sending down water and causing crops to grow, so they should also realize that there is no god worthy of worship besides Him. ... وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلَإلٍ مُّبِينٍ And verily, (either) we or you are rightly guided or in plain error. `One of the two sides must be speaking falsehood, and one must be telling the truth. There is no way that you and we could both be following true guidance, or could both be misguided. Only one of us can be correct, and we have produced the proof of Tawhid which indicates that your Shirk must be false.' Allah says: ... وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلَإلٍ مُّبِينٍ And verily, (either) we or you are rightly guided or in plain error. Qatadah said, "The Companions of Muhammad said this to the idolators: `By Allah, we and you cannot be following the same thing, only one of us can be truly guided."' Ikrimah and Ziyad bin Abi Maryam said, "It means: we are rightly guided and you are in plain error." قُل لاَّ تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنَا وَلاَ نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ

اللہ عزوجل کی صفات ۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے ۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا اور زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں ۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا ہیں اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں ۔ پس یقینا ہم ہدایت پر اور یقینا تم ضلالت پر ہو ۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے ہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے ۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے ۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو ، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں ۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں ۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے ، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں ۔ سورہ ( قل یاایھا الکفرون ) الخ ، میں بھی اسی بےتعلقی اور برات کا ذکر ہے ، رب العالمین تمام عالم کو میدان قیامت میں اکٹھا کر کے سچے فیصلے کر دے گا ۔ نیکوں کو ان کی جزا اور بدوں کو ان کی سزا دے گا ۔ اس دن تمہیں ہماری حقانیت و صداقت معلوم ہو جائے گی ۔ جیسے ارشاد ہے ( وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ 14؀ ) 30- الروم:14 ) قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے ۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے ، کفر کرنے والے ، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے ۔ وہ حاکم و عادل ہے ، حقیقت حال کا پورا عالم ہے ، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے ۔ جبکہ میرا رب لانظیر ، بےشریک اور عدیم المثیل ہے ، وہ اکیلا ہے ، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے ۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں ۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 ظاہر بات ہے گمراہی پر وہی ہوگا جو ایسی چیزوں کو معبود سمجھتا ہے جن کا آسمان و زمین سے روزی پہنچانے میں کوئی حصہ نہیں ہے، نہ وہ بارش برسا سکتے ہیں، نہ کچھ اگاہ سکتے ہیں۔ اس لئے حق پر یقین اہل توحید ہی ہیں، نہ کہ دونوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٩] یعنی یہ بات تو فریقین (یعنی رسول اللہ اور قریش مکہ) میں مسلم تھی کہ رزق دینے والا && اللّٰہ && ہی ہے اب انسانوں کے لئے لازم تو یہی ہے کہ عبادت اسی کی جانی چاہئے جو کھانے کو دیتا ہے اور دیتا رہتا ہے۔ پھر آخر دوسرے معبودوں کو جن کا رزق کی پیدا یا تقسیم میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ کسی خوش میں پوجا جائے، بنیاد تو دونوں کی ایک ہے کہ رازق اللہ ہے اور آگے اس کی دو راہیں بن گئیں۔ ایک ہم ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ گن اسی کا گانا چاہئے جو کھانے کو دیتا ہے اور ایک تم ہو کہ رزق دینے والے کو چھوڑ کر دوسروں کے گن گا رہے ہو۔ یا اللہ کی عبادت میں بلا وجہ شرک کر رہے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے ایک ہی حق پر ہوسکتا ہے اور تم خود ہی سوچ لو کہ حق پر کون ہوسکتا ہے اور گمراہی پر کون ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : پچھلی آیت میں بیان کرنے کے بعد کہ مشرکین کے بنائے ہوئے شرکاء کائنات میں ایک ذرے کے مالک نہیں، بلکہ سب کا مالک ایک اللہ تعالیٰ ہے، اب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ ان سے اس بات کا اقرار کروائیں کہ کائنات میں ہر ایک کو رزق بھی وہ اکیلا ہی دے رہا ہے۔ چناچہ فرمایا، ان سے کہو آسمان سے بارش برسا کر، سورج، چاند اور ستاروں سے گرمی، توانائی اور روشنی بہم پہنچا کر اور تمہارے فائدے کے لیے ہر چیز مسخر کر کے زمین سے تمہارے لیے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے خوراک اور زندگی کی ہر ضرورت کون مہیا کرتا ہے ؟ یہ سب دل سے مانتے ہیں کہ وہ اللہ ہی ہے، اس لیے اس کا انکار نہیں کرسکتے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے، مگر ان کے لیے اقرار بھی مشکل ہے، کیونکہ اس سے ان کے شرک کی عمارت ڈھے جاتی ہے، کیونکہ وہ اس کا جواز پیش نہیں کرسکتے کہ رزق تو اللہ دے اور عبادت کسی اور کی ہو، اس لیے لامحالہ وہ خاموشی اختیار کریں گے۔ تو اس موقع پر آپ خود اعلان کریں کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى ۔۔ : یعنی ہم دو فریق بن چکے ہیں، ایک وہ جو آسمان و زمین میں ایک اللہ ہی کو رزاق مانتے ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک بناتے ہیں جو نہ کائنات کے ایک ذرے کے مالک ہیں، نہ کسی کا نفع و نقصان یا رزق ان کے اختیار میں ہے، اور ہم دونوں میں سے ایک گروہ یا ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں مبتلا ہے، تم خود فیصلہ کرلو کہ ہدایت پر کون ہے اور گمراہ کون ؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بات میں کوئی شک ہے کہ ایک رب کو رزاق مان کر اسی کی عبادت کرنے والے حق پر ہیں اور ان کے مخالف باطل پر، بلکہ نہایت حکیمانہ طریقے سے دونوں چیزیں مخاطب کے سامنے رکھ کر خود اس سے انصاف طلب کیا گیا ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہے دونوں گمراہ ہیں، نہ یہ کہ دونوں حق پر ہیں۔ لا محالہ اسے ماننا پڑے گا کہ ہدایت پر وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق و رازق ماننے کے بعد عبادت بھی اسی کی کرتا ہے اور وہ شخص یقیناً کھلی گمراہی میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو خالق و رازق تو مانتا ہے، مگر عبادت دوسروں کی کرتا ہے، لہٰذا آپ اپنے منہ سے کہنے کے بجائے کہ مشرک باطل پر ہے، اسے فیصلے کا موقع دے کر اس مقام پر لے آئیں کہ وہ خود کہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرنے والا حق پر ہے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا باطل پر ہے۔ 3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ جو جہاں لگا ہوا ہے ٹھیک ہے، یا اپنی جگہ سب لوگ ہی درست ہیں، بلکہ حق ایک ہے اور جو حق پر نہیں وہ باطل پر ہے۔ باہم متضاد باتیں دونوں حق نہیں ہوسکتیں، مثلاً یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام نہیں۔ نہ ایک مسئلے میں چار متضاد مذہب حق ہوسکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Consideration of the psychology of the addressee in debates and avoidance of any approach that may provoke violent attitude In verse 24: وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (And We or you are either on the right path or in open error - 34:24), this address is beamed at polytheists and disbelievers. In their case, what was needed was already done. That Allah Ta’ ala was the creator, the master, and all-powerful in the absolute sense was proved decisively and explicitly. That idols and everything else other than Allah was weak and helpless was demonstrated clearly. After having done all this, the occasion demanded that Mushriks are told in clear terms that they were ignorant and astray in bypassing Allah and electing to worship idols and shaitans. But, the noble Qur&an has opted for a wonderfully wise form of address, something that should serve as guidance for all those who are engaged in the mission of da&wah and tabligh or in debates against opponents of Islam and votaries of the false. It will be noticed that the disbelieving adversaries addressed in this verse were not called kafirs, infidels, disbelievers or the ones gone astray. Rather, a change was introduced in the mode and content of the address. The arguments and proofs were already clear. In their presence, no sensible person could say that tauhid (Oneness of Allah or pure monotheism) and shirk (the attribution of partners in the pristine divinity of Allah) are equally true and that the adherents of both are following the truth. Instead of that, it is certain that one of these two is following the path of truth while the other is in error. Now, it is up to you. You think and you decide as to who is on the side of truth. Is it we or is it you? Had the addressee been called a disbeliever or someone who had gone off the track of truth, it could have made him angry. This approach was avoided. In its place, the approach was kept so affectionate and disarming that it would make even the most diehard adversary left with no choice but to consider what was being proposed (from Qurtubi and Bayan-ul-Qur an) This method of prophetic call, good counsel and good-mannered debate - in line with the command of the Qur&an: وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (wa jadilhum bil-lati hiya ahsan: (and argue with them in the best manners - 16:125) - is something ` Ulama& should keep in sight all the time. Once this stands ignored, everything done in the fair name of da&wah, tabligh and debate becomes ineffective, rather harmful. As a result, adversaries turn adamant and cling to their error far more firmly.

بحث و مناظرہ میں مخاطب کے نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز : (آیت) وانا او ایاکم لعلی ھدی او فی ضلال مبین، یہ مشرکین و کفار کے ساتھ خطاب ہے۔ دلائل واضحہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق ومالک ہونا اور قادر و مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرا دیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کر کے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو۔ مگر قرآن حکیم نے اس جگہ جو حکیمانہ عنوان اختیار فرمایا وہ دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث و مناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ ہے کہ اس آیت میں ان کو کافر گمراہ کہنے کی بجائے عنوان یہ رکھا کہ ان دلائل واضحہ کی روشنی میں یہ تو کوئی سمجھدار آدمی کہہ نہیں سکتا کہ توحید و شرک دونوں باتیں حق ہیں اور اہل توحید اور مشرک دونوں حق پرست ہیں، بلکہ یقینی ہے کہ ان دونوں میں سے ایک حق پر دوسرا گمراہی پر ہے۔ اب تم خود سوچ لو اور فیصلہ کرلو کہ ہم حق پر ہیں یا تم۔ مخاطب کو خود کافر گمراہ کہنے سے اس کو اشتعال ہوتا، اس سے گریز کیا گیا، اور ایسا مشفقانہ عنوان اختیار کیا کہ سنگدل مخالف بھی غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔ (از قرطبی وبیان القرآن) یہ پیغمبرانہ دعوت و موعظمت اور مجادلہ بالتی ھی احسن کا طریقہ جو علماء کو وقت پیش نظر رکھنا چاہئے، اس کے نظر انداز ہونے ہی سے دعوت و تبلیغ اور بحث و مناظرہ بےاثر بلکہ مضر ہو کر رہ جاتا ہے۔ مخالفین ضد پر آجاتے ہیں ان کی گمراہی اور پختہ ہوجاتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ قُلِ اللہُ۝ ٠ ۙ وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى ہُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝ ٢٤ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور آپ ان کفار مکہ سے یہ و پوچھیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ پانی برسا کر اور نباتات نکال کر کون تمہیں رزق دیتا ہے کہ اللہ ہی تمہیں رزق دیتا ہے ار رزق خداوندی کے بارے میں ہم یا تم ضرور راہ راست یا گمراہی پر ہیں یا یہ مطلب کہ مسلمانوں کی جماعت ہدایت پر ہے یا مکہ والو تم یا یہ کہ ہم تم کھلی گمراہی پر ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤ { قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟ “ { قُلِ اللّٰہُ وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ہُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ! “ یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ چناچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

42 There is a subtle gap between the question and the answer. The addressees were the mushriks who not only did not disbelieve in the existence of Allah but also knew and believed that the keys of the provisions are in His hand. But in spite of this they held others also as Allah's associates in His work. Now when they were confronted with the question: `Who gives you sustenance from the heavens and the earth?" they were put in a tight comer. If they mentioned another beside Allah they would say a thing contrary to their own and their people's creed. If they showed stubbornness and said such a thing, they feared that their own people would immediately refute them. And if they acknowledged that AIlah alone is their Sustainer, they would immediately be confronted with the next question:°Then, why and what for have you made these others your gods?" When Allah is the Sustainer, why should these others be served and worshipped? Thus they stand confused and bewildered. Neither can they say that Allah alone is the Sustainer nor that another god is the sustainer. When the questioner sees that they do not make any answer, he himself answers his question and says, Allah." 43 This sentence contains an important point of the wisdom of preaching. The logical conclusion of the question and answer cited above would be that the one who serves and worships Allah should be on right guidance and the one who worships others beside Him should be misguided. Therefore, apparently, the conclusion should have been: `Then, we are rightly guided and you are misguided." But such a plain and straight reply, although correct and true, would not have been a wise thing from the point of view of preaching. For when a person is addressed and told plainly that he is misguided and the speaker claims to be rightly-guided himself, he will become obdurate and will never be inclined to accept and acknowledge the truth. As the Messengers of Allah are not sent only for the sake of speaking the plain truth, but are also entrusted with the duty of reforming the wrongdoers as tactfully as possible, AIlah has not asked His Prophet to cell them plainly, after the question and answer, that they are all misguided and that he atone is rightly-guided. Instead of this, it was said: `Tell them: it has become clear that we regard as our Deity only Him Who is the Sustainer, and you have taken as deities those who are not sustainers. Now, it is not possible that both you and we should be on right guidance simultaneously. Only one of us can be rightly-guided, and the other inevitably will be misguided. Now it is for you to consider and judge who is being proved by reason to be in the right and who in the wrong. "

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :42 سوال اور جواب کے درمیان ایک لطیف خلا ہے ۔ مخاطب مشرکین تھے جو صرف یہی نہیں کہ اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے بلکہ یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ مگر اس کے باوجود وہ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے تھے ۔ اب جو ان کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ بتاؤ کون تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے ، تو وہ مشکل میں پڑ گئے ۔ اللہ کے سوا کسی کا نام لیتے ہیں تو خود اپنے اور اپنی قوم کے عقیدے کے خلاف بات کہتے ہیں ۔ ہٹ دھرمی کی بنا پر ایسی بات کہہ بھی دیں تو ڈرتے ہیں کہ خود اپنی قوم کے لوگ ہی اس کی تردید کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ اور اگر تسلیم کر لیتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے تو فوراً دوسرا سوال یہ سامنے آ جاتا ہے کہ پھر یہ دوسرے کس مرض کی دوا ہیں جنہیں تم نے خدا بنا رکھا ہے؟ رزق تو دے اللہ ، اور پوجے جائیں یہ ، آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ۔ اس دو گونہ مشکل میں پڑ کر وہ دم بخود رہ جاتے ہیں ۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے ۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ کوئی دوسرا معبود رازق ہے ۔ پوچھنے والا جب دیکھتا ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں بولتے ، تو وہ خود اپنے سوال کا جواب دیتا ہے کہ اللہ ۔ سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :43 اس فقرے میں حکمت تبلیغ کا ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے ۔ اوپر کے سوال و جواب کا منطقی نتیجہ یہ تھا کہ جو اللہ ہی کی بندگی و پرستش کرتا ہے وہ ہدایت پر ہو اور جو اس کے سوا دوسروں کی بندگی بجا لاتا ہے وہ گمراہی میں مبتلا ہو ۔ اس بنا پر بظاہر تو اس کے بعد کہنا یہ چاہیے تھا کہ ہم ہدایت پر ہیں اور تم گمراہ ہو ۔ لیکن اس طرح دو ٹوک بات کہہ دینا حق گوئی کے اعتبار سے خواہ کتنا ہی درست ہوتا حکمت تبلیغ کے لحاظ سے درست نہ ہوتا ۔ کیونکہ جب کسی شخص کو مخاطب کر کے آپ صاف صاف گمراہ کہہ دیں اور خود اپنے برسر ہدایت ہونے کا دعویٰ کریں تو وہ ضد میں مبتلا ہو جائے گا اور سچائی کے لیے اس کے دل کے دروازے بند ہو جائیں گے ۔ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چونکہ مجرد حق گوئی کے لیے نہیں بھیجے جاتے بلکہ ان کے سپرد یہ کام بھی ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ حکیمانہ طریقے سے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کریں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے نبی ، اس سوال و جواب کے بعد اب تم ان لوگوں سے صاف کہہ دو کہ تم سب گمراہ ہو اور ہدایت پر صرف ہم ہیں ۔ اس کے بجائے تلقین یہ فرمائی گئی کہ انہیں اب یوں سمجھاؤ ۔ ان سے کہو ہمارے اور تمہارے درمیان یہ فرق تو کھل گیا کہ ہم اسی کو معبود مانتے جو رزق دینے والا ہے ، اور تم ان کو معبود بنا رہے ہو جو رزق دینے والے نہیں ہیں ۔ اب یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ہم اور تم دونوں بیک وقت راہ راست پر ہوں ۔ اس صریح فرق کے ساتھ تو ہم میں سے ایک ہی راہ راست پر ہو سکتا ہے ، اور دوسرا لامحالہ گمراہ ٹھہرتا ہے ۔ اس کے بعد یہ سوچنا تمہارا اپنا کام ہے کہ دلیل کے برسر ہدایت ہونے کا فیصلہ کر رہی ہے اور کون اس کی رو سے گمراہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٤ تا ٣٠۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں حق پر کون ہے قل لا تسئلون الایہ اس میت کا مطلب یہ ہے کہ ہم تو کو خدا کی توحید کی طرف یبلاتے ہیں کہ فقط اللہ کی عبادت کرو اگر تم اس کو مانو تم ہمارے اور ہم تمہارے نہیں تو تمہارے عمل تمہارے ساتھ اور ہمارے عمل ہمارے ساتھ پھر فرمایا ان سے کہہ دیا جاوے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تھیں سب کو اللہ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا اس دن حق ونا حق سب کھل جائے گا کیوں کہ حق ونا حق اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے اور وہ اپنے علم غیب کے موافق بڑے انصاف سے فیصلہ کرنے والا ہے پھر فرمایا مکہ کے قحط سے اللہ کی شان لوتو ان لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لی اس پر بھی جن بتوں کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ان میں اللہ کی قدرت جیسی کوئی بات یہ لوگ دکھا سکتے ہوں تو دکھلاویں لیکن اللہ کی قدرت اور حکمت ایسی زبردست ہے کہ اس کی قدرت اور حکمت جیسی کوئی بات مخلوق میں ہرگز نہیں پائی جاسکتی اب آگے اپنے رسول کی تسکین کے یے فرمایا اے رسول اللہ کے یہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری نصیحت کو نہیں مانتے تو اس کا کچھ رنج نہ کرنا چاہئے کیوں کہ اور رسولوں کی طرح تم کو اللہ نے کسی خاص قوم کا رسول بنا کر نہیں بھیجا ہے تمہاری نبوت ایسی عام ہے کہ تمہارے قوم کے نیک لوگوں کے موافق قوموں کے بہت سے لوگ تمہارے پیرو ہوجائیں گے جن کا مقابلہ اہل مکہ کو مشکل ہوگا اور آخر کو مکہ فتح ہوجاوے گا لیکن تمہاری قوم کے اکثر لوگ اس سے بیخبر ہیں اس لیے سرکشی کی باتیں کرتے ہیں اور اسی سرکشی کے سبب سے قیامت کی باتیں جن کو یہ لوگ بنو کہتے ہیں کہ آخران باتوں کا ظہور کب ہوگا اس کے جواب میں ان لوگوں سے کہہ دیا جاوے کہ جب ان باتوں کے ظہور کا وقت آگیا تو پھر گھڑی بھر کی بھی دیر سویر نہ ہوگی ‘ مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ (رض) کی صحیح حدیث ١ ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (١ ؎ الترغیب والترہیب ص ٣٦٥ ج ٤ فصل من کتاب الجنائز) کہ قبر میں دفن کئے جانے اور منکر نکیر کے سوال و جواب ہوجانے کے بعد نیک شخص کو اس کا جنت کا ٹھکانا اور بد شخص کو اس کا دوزخ کا ٹھکانا اللہ کے فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ٹھکانوں میں جانے اور رہنے کے لیے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ اس حدیث کا ظہور قیامت کے دن یوں ہوگا کہ جنت میں جانے والوں کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور دوزخ میں جانے والوں کے بائیں ہاتھ میں ‘ اس کی زیادہ تفصیل سورة الواقعہ اور سورة الحاقہ میں آئے گی ‘ اس حدیث اور واقعہ اور الحاقہ کی آیتوں کے موافق لاتستأخرون ساعۃ والا تستقد مون کی تفسیر کی حاصل یہ ہے کہ جنت و دوزخ کا ٹھکانا دکھانے اور جنت دوزخ میں جانے کا جب وقت آجائے گا تو پھر اس میں گھڑی بھر کی دیر سویر نہ ہوگی صحیح بخاری ومسلم میں جابر بن عبد اللہ سے روایت ١ ؎ ہے (١ ؎ مشکوۃ باب فضائل سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے پہلے نبی ‘ خاص اپنی قوم کی ہدایت کے لیے آئے اور مجھ کو اللہ تعالیٰ نے سب قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے یہ حدیث وما ارسلناک الاکانۃ لیناس کی گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:24) قل۔ ای قل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) للمشرکین۔ من السموت (آسمان سے پانی برسا کر) والارض (زمین سے نباتات اگاکر) ۔ قل اللہ۔ تو خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ :۔ اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بتا دیجئے کہ زمین و آسمان سے رزق کی بہمر سانی اللہ ہی ۔ وانا وا ایاکم لعلی ھدی او صراط مستقیم۔ اس کا عطف ما قبل پر ہے۔ اور یہ قل اللہ والے جواب کا حصہ ہے۔ یعنی اور یہ بھی ان سے کہہ دیجئے یا ہم یا تم دونوں میں سے ایک ہدایت پر ہے یا ہم اور تم دونوں میں سے ایک گمراہی پر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ہر عقلمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ ہدایت پر وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق ماننے کے بعد اس کی عبادت بھی کرتا ہے۔ اور وہ شخص یقیناکھلی گمراہی میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق تو مانتا ہے مگر عبادت دوسروں کی کرتا ہے۔ اسی چیز کو آیت میں صراحتاً کہنے کی بجائے کنایۃً بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ انداز کلام مخاطب کو زیادہ اپیل کرنیوالا ہے۔ ( کبیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اس میں ان کا جواب ہے جو اس زمانے میں بعض لوگ کہتے ہیں دونوں فرقے ہمیشہ سے چلے آئے ہیں کیا ضرور ہے جھگڑنا ( موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30 یرزق : وہ دیتا ہے انا : بیشک ہم ایاکم : تم ہی لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے اجرمنا : ہم نے گناہ کیا یفتح : وہ کھولتا ہے الحقتم : تم نے ملا دیا کلا : ہرگز نہیں کافۃ : تمام۔ سب متی : کب ؟ میعا : مقرر لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے تشریح : آیت نمبر 24 تا 30 کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے دیا ہے ۔ اب اگر ہم ان کے سامنے نذر و نیاز پیش کرتے رہیں گے تو وہ ہماری دنیا کے کام بنادیں گے اور آخرت میں بھی جہنم کے عذاب سے بچالیں گے۔ اس کر برخلاف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم یہ تھی کہ اس کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا مالک اللہ ہے وہی سب کو رزق پہنچاتا ہے اور اس کے اختیارات وقدرت میں دوسرا کوئی شریک نہیں ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے بنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان لوگوں کو یہ سمجھا ئیے کہ تمہیں زمین اور آسمان سے رزق دیتا ہے ؟ آپ صاف صاف کہہ دیجئے کہ یہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جو رزق دیتا ہے وہی سب کا رازق ہے ۔ ہم تو اللہ کو ہر شریک سے پاک سمجھر اسی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں اور تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو ۔ اس واضح فرق کے بعد یہی ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہم میں سے کوئی ایک ہی صراط مستقیم پر ہوگا اور دوسرا گمراہی کے راستے ، اب یہ سوچنا تمہارا کام ہے کہ دلیل اور حالات کس کے برحق ہونے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور کون اس اصول کی موجودگی میں گمراہ ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اگر ہم گناہ کے راستے پر ہیں تو تم تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور تم غلط راستے اور عقیدہ پر جمے ہوئے ہو تو ہم سے نہ پوچھا جائے گا ۔ اس کا فیصلہ اس دنیا میں تو ہونا مشکل ہے لیکن آخرت میں جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کر کے ان سے پوچھیں گے تو اس دن ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا کہ کون صحیح راستے پر تھا کون گمراہی کے گڑھے میں جا گرا تھا ۔ وہی ہر چیز کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے وہی بہتر اور ٹوک فیصلہ فرما سکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ ان سے پوچئے کہ آخر میں بھی دیکھو کہ وہ کون ہیں جنہیں تم اللہ کا شریک بنائے ہوئے ہو ؟ فرمایا کہ ان مشرکین کا یہ کہنا ہی بہت گھٹیاں اور لچر بات ہے کہ اس کا کوئی شریک بھی ہو سکتا ہے یا اس نے کسی کو اپنے اختیارات میں شریک کر رکھا ہے یا وہ کائنات کے نظام کو چلانے میں کسی کا محتاج ہے ۔ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے وہی ساری قوتوں کا مالک ہے وہی رازق ہے اور وہی ہر چیز کی حکمت اور بھید سے واقف ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فر مایا کہ ہم نے آپ کو موجودہ اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے پیام حق دے کر بھیجا ہے خواہ وہ انسان ہوں یا جنات ، عرب ہوں یا عجم ، کالے ہوں یا گورے ، ہر قوم ، ہر ملک اور تمام انسانی طبقوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا ہے ۔ آپ کو اور انبیاء کی طرح کسی خاص ملک و قوم اور زمانے کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے واسطے آخری نبی اور آخری رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی ہدایت کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ اللہ نے آپ پر نازل کئے ہوئے قرآن کریم اور شریعت کی حفاظت کا ذمہ لوگوں کے بجائے اپنے ذمے لے رکھا ہت ۔ لہذا آپ کی نبوت و رسالت اور پیام حق و صداقت کے لئے کسی نئے نبی اور رسول کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ بلکہ اگر آپ کے بعد کوئی اپنی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس سے بڑا جھوٹا شخص دوسرا نہیں ہوسکتا کیونکہ جس طرح اس کائنات کے نظام کو چلانے میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے وہ خود ہی اس نظام کائنات کی حفاظت فر ما رہا ہے وہ اللہ اپنے بھیجے ہوئے قرآن حکیم کو خود حفاظت فرماتا رہے گا اس میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے ۔ وہ جس سے چاہے گا اپنے وعدے کو پورا کراتا رہے گا۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ( 1) میری مدد مجھے ایسا رعب اور دب دبا دے کر فرمائی کہ ایک مہینے کی مسافت تک لوگوں پر میرا رعب چھا جاتا ہے۔ (2) دوسری خصوصیت یہ ہے کہ میرے لئے پوری زمین کو مسجد اور پاک قرار دیا گیا ہے یعنی مجھ سے پہلی امتوں کو یہ حکم تھا کہ وہ اپنی خاص عبادت گاہوں میں بندگی کریں ۔ کھلے میدان اور گھروں میں عبادت نہ ہوتی تھی اللہ نے آپ کی امت کے لئے پوری روئے زمین کو اس معنی میں مسجد بنا دیا کہ ہر پاک زمین پر نماز ادا کی جاسکتی ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں پاک مٹی پر مسح کر کے تییم کای جاکتا ہے جو وضو کے قائم مقام ہوگا۔ (3) تیسری خصوصیت یہ ہے کہ میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے کیونکہ اس سے پہلی امتوں کے لئے مال غنیمت حلال نہ تھا بلکہ جب ان کو مال غنیمت ہاتھ آتا تو وہ اس کو ایک میدان میں جمع کردیتے آسمان سے ایک بجلی اس کو آکر کھا جاتی یہ اس بات کی علامت تھی کہ ان کا جہاد قبول کرلیا گیا ہے۔ (4) چوتھی خصوصیت یہ تھی کہ مجھے شفاعت کبریٰ کا مقام عطا کیا گیا ہے کیونکہ آپ سب کی شفاعت فرمائیں گے۔ (5) اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے پہلے ہر نبی اور رسول کو کسی خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن مجھے دنیا کی تمام قوتوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ان حقائق کو موجودگی میں ان کفار کا یہ پوچھنا کہ قیامت کی وہ گھڑی جس کا وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ کب آئے گی ؟ تو اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ نے قیامت کے جس دن کا وعدہ کیا ہے وہ دن مقرر ہے جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے لیکن جب وہ گھڑی آئے گی تو وہ لوگ اس سے ایک گھڑی اور لمحے پیچھے نہ ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے بلکہ اپنے وقت پر اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپن زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے بلکہ آپکی بعثت کے بعد صرف قیامت ہی کو آنا ہے اس کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں ۔ (بخاری و مسلم) یعنی جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے ۔ میرے بعد قیامت ہے اور قیامت تک میں ہی نبی رہوں گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیار دے رکھے ہیں وہ ان کے رزق کے بارے میں بھی اختیار رکھتے ہیں۔ مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب تک کسی بت یا قبر پر نذرانہ پیش نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے رزق میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مشرک سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ ان بزرگوں کی طفیل ملتا ہے۔ اسی بناء پر بت پرست بتوں کے سامنے، فوت شدگان کے سامنے جھکنے والے مزارات پر اور حضرت خضر کو حاجت روا سمجھنے والے دریاؤں اور سمندروں میں نذرانے ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ کلمہ پڑھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر جیلانی کے نام پر گیارہویں پیش نہ کی تو وہ ناراض ہو کر ہمارے رزق میں کمی کردیں گے۔ قرآن مجید نے ایسے لوگوں سے کئی مرتبہ سوال کیا ہے کہ بتلاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا کون رزق دینے اور اس میں کمی بیشی کرنے والا ہے ؟ اس کے جواب میں ہر دور کا مشرک یہ اقرار کرتاآرہا ہے اور کرتا رہے گا کہ رزق دینا اور اس میں کمی بیشی کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس اقرار کے باوجود مشرک اپنے عقیدہ سے تائب ہونے اور شرک کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی مشرکین مکہ کی کیفیت تھی جس کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ کہ آپ ان سے سوال کریں کہ زمین و آسمان سے تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ کون تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے ؟ کون زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے ؟ کون پوری کائنات کو چلا رہا ہے۔ (یونس : ٣١) ان کا جواب یہ تھا کہ اللہ ہی ہر چیز کا مالک ہے اور سارے کام چلا رہا ہے۔ ان سے فرمائیں کہ پھر تم شرک سے باز کیوں نہیں آتے ؟ اللہ ہی تمہارا سچا رب ہے۔ اس سچائی کے بعد تو گمراہی ہی گمراہی ہے۔ اس کے باوجود تم کیوں بہکے جا رہے ہو ؟ در اصل آپ کے رب کا فرمان نافرمانوں کے بارے میں سچ ثابت ہوا کہ وہ سب کچھ سمجھنے کے بعد ایمان نہیں لائیں گے۔ (یونس : ٣١ تا ٣٣) پھر ارشاد ہوا کہ مشرکین سے استفسار کریں کہ بتاؤ کون مخلوق کو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے اور پھر اپنی طرف لوٹائے گا اور کون آسمان اور زمین سے تمہیں رزق دیتا ہے کیا ” اللہ “ کیساتھ کوئی اور بھی شامل ہے ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل پیش کرو۔ (النمل : ٦٤) سورۃ روم میں اس مسئلے کو یوں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیتا ہے، پھر تمہیں موت دے گا موت کے بعد پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان کاموں میں کوئی کام کرکے دکھائے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مشرکانہ عقیدہ سے مبرّا اور باطل تصورات سے بالاتر ہے۔ کیونکہ ہر دور کا مشرک اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔ لہٰذا اس مقام پر فرمایا کہ آپ خود ہی جواب دیں کہ ” اللہ “ ہی زمین و آسمان سے رزق دینے والا ہے۔ اب ان سے پوچھیں کہ بتلاؤہم میں سے کون سیدھے راستے پر ہے اور کون گمراہ ہوچکا ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ ہم بھٹکے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود یہ لوگ حقائق تسلیم نہیں کرتے لہٰذا انہیں فرما دیں کہ ہمارے گناہوں پر تمہیں پکڑ نہیں ہوگی اور نہ تمہارے جرائم کے بارے میں ہم سے سوال نہیں ہوگا۔ انہیں پھر فرمادیں کہ جس قیامت کا تم انکار کرتے ہو ہمارا رب اس دن سب کو جمع فرماکر ہمارے درمیان حق اور عدل کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ان سے مطالبہ کریں کہ مجھے وہ لوگ دکھاؤ جن کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسا کبھی نہیں کرسکتے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے کاموں میں کوئی شریک نہیں ہے اور نہ ہوگا۔ وہی ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر فرمان اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔ مسائل ١۔ ہر دور کا مشرک اس بات کا اقرار کرتا رہا اور کرتا رہے گا کہ صرف ” اللہ “ ہی رزق دینے والا ہے۔ ٢۔ ہر شخص اپنے عقیدہ و عمل کا ذمہ دار ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو اپنے حضور جمع فرماکرحق اور عدل کے ساتھ فیصلہ فرمادے گا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ کرنیوالا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ٥۔ ہر دورکا مشرک حقائق کی روشنی میں کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ثابت کرسکا اور نہ ہی کبھی ثابت کرسکے گا۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر فرمان اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر دور کے مشرک سے سوالات : ١۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے کہتے ہیں اللہ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : ٣١) ٢۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (یونس : ٣٤) ٣۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ کہتے ہیں اللہ ہی خالق ہے۔ (الزمر : ٣٨) ٤۔ مشرکوں سے پوچھاجائے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ جواب میں کہتے ہیں کہ اللہ ہی مالک ہے۔ (المومنون : ٨٦۔ ٨٧) ٥۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر بادشاہت کس کی ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی بادشاہی ہے۔ (المومنون : ٨٨۔ ٨٩) ٦۔ اگر تو ان سے پوچھیں کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور کس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، اب فرمائیں کہ پھر کہاں سے بہکائے جا رہے ہیں۔ (العنکبوت : ٦١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل من یرزقکم۔۔۔۔۔ اوفی ضلٰل مبین (24) ” “۔ رزق ہر انسان کی زندگی کا واقعی اور زندہ مسئلہ ہے ۔ رزق نتیجہ ہے آسمانوں سے بارشوں ، سورج کی روشنی اور نور کا۔ یہ باتیں تو اس وقت قرآن کے مخاطب جانتے تھے۔ اس کے بعد رزق کے بارے میں بہت ہی انکشافات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ زمین کے رزق کیا ہیں۔ نباتات ، حیوانات ، چشمے ، نہریں ، معدنیات اور خزانے۔ سابقہ ادوار کے لوگ بھی ان سے واقف تھے ، بعد کے لوگوں نے مزید انکشافات کیے۔ قل من یرزکم ۔۔۔۔۔ قل اللہ (34: 24) ” کون ہے جو آسمانوں اور زمین میں سے تمہیں رزق دیتا ہے ، کہواللہ “۔ اس لیے کہ وہ اس جواب میں شک نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے سوا کسی اور جواب کا دعویٰ کرسکتے تھے۔ کہو کہ رزق تو اللہ ہی دیتا ہے اور تمہارے امور اور ان کے امور اللہ کے سپرد ہیں۔ تم دونوں میں سے کوئی ایک خواہ مخواہ ضلالت پر ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ دونوں ہدایت پر ہوں ، یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ لہٰذا ایک فریق ایک راستے پر ہے اور دوسرا دوسرے پر ہے۔ وانا او ایاکم ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (34: 24) ” اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے “۔ بحث و مباحثہ میں یہ نہایت ہی معتدلانہ انداز گفتگو ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین سے کہتے ہیں کہ ہم اور تم میں سے ایک فریق ہدایت پر ہے اور دوسرا ضلالت پر ہے۔ ہدایت یافتہ اور گمراہ فریق کا تعین نہیں کیا جاتا تاکہ سامع خود غور و فکر کے بعد متعین کرے۔ نہایت سنجیدگی کے ساتھ ، بغیر ہٹ دھرمی اور بغیر بحث وجدال اور حجت بازی کے۔ کیونکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک ہادی اور معلم تھے۔ آپ کا مقصد لوگوں کو راہ راست دکھانا تھا۔ ان کو لاجواب کرکے ذلیل کرنا مطلوب نہ تھا۔ اس انداز گفتگو سے نہایت معاند ، متکبر ، سرکش اور دست درازی کرنے والے شخص کے دل پر بھی بات کا اثر ہوتا ہے اور کسی شخص کا مقام و مرتبہ راہ ہدایت لینے میں رکاوٹ نہیں۔ اور ایک بلند مقام رکھنے والا بھی سرتسلیم خم کردیتا ہے اور نہایت ہی ٹھنڈے دل سے غور کرتا ہے۔ اسے اطمینان ہوجاتا ہے ۔ یہ انداز گفتگو خصوصاً ان لوگوں کے گہرے غور کا مستحق ہے جو دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ اب عقل و خرد کے تاروں پر تیسری ضرب ، نہایت منصفانہ اور عادلانہ انداز گفتگو کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔ ہر دل کو اس کے اعمال اور ان کے نتائج کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن صحیح فیصلے ہوں گے، اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے ان آیات میں بھی توحید کا اثبات ہے، اول تو یہ فرمایا کہ تم یہ بتادو کہ آسمانوں سے اور زمین سے تمہیں کون روزی دیتا ہے، آسمان سے پانی برستا ہے اور زمین سے درخت نکلتے ہیں اور کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں بتاؤ یہ کس کی قدرت کا مظاہرہ ہے، اور ان چیزوں کو کس نے پیدا کیا، جو اب ان کے نزدیک بھی متعین ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت و ارادہ سے ہوتا ہے، اگر وہ جواب نہ دیں یا دیر سے جواب دیں تو آپ ہی فرما دیجیے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ (وَاِنَّآ اَوْاِیَّاکُمْ لَعَلٰی ھُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (اور بیشک ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں) یہ بطور تلطف کے فرمایا اور فکر کی دعوت دی اور مطلب یہ ہے کہ ہم تو توحید کی دعوت دیتے ہیں اور تم توحید کے منکر ہو، اور ظاہر ہے کہ دونوں باتیں درست نہیں ہوسکتیں، اور یہ سمجھ لو کہ جو ہدایت پر ہے موت کے بعد اسی کی خیر ہوگی اور اسی کو انعامات ملیں گے اور جو گمراہ ہوگا وہ عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اب تمہیں فکر مند ہونا چاہیے اور غور کرنا چاہیے کہ ہم ہدایت پر ہیں یا تم ہو اور ہم گمراہی پر ہیں یا تم ہو، ہم نے تو غور کرلیا ہے دلائل سے دین توحید کو سمجھ لیا ہے اور تم کو بھی اس کی دعوت دی ہے، اب تم اپنی خیر خواہی کے لیے غور و فکر کرلو، ہم نے جو دلائل دئیے ہیں ان میں غور کرلو ہمیں بھی مرنا ہے تمہیں بھی مرنا ہے، اگر موت کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ تم برائی پر تھے تو وہاں دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوگے (جہاں سے واپس ہونے اور نکلنے کا امکان ہی نہیں) عذاب دائمی میں رہنا پڑے گا۔ اس وقت کا پچھتاوا اور غور کرنا کام نہ دے گا لہٰذا اسی دنیا میں سمجھ لو، غور و فکر کرلو اور مان لو، آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ توحید والے ممکن ہے گمراہی پر ہوں بلکہ مخاطب کو قریب کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ قل من یرزقکم الخ : یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے (علی سبیل الاعتراف من الخصم) ۔ مشرکین سے پوچھیں کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین پر نباتات اگا کر تمہاری روزی کا سامان کون کرتا ہے اس سوال کا جواب چونکہ ایک ہی ہے جس سے مشرکین کو بھی انکار نہیں اس لیےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ آپ ہی جواب دے دیں کہ اللہ ہی سب کا رازق ہے اس لیے ساری کائنات میں وہی متصرف و مکتار ہے اور وہی سب کا حاجت روا اور کارساز ہے اور مشرکین کے مزعومہ آلہہ اور کارساز کائنات میں تصرف کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ امر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان یقول تبکیتا للمشرکین بحملہم علی الاقرار بان الہتہم لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا فی الارض وان الرزق ھو اللہ عز وجل فانہم لا ینکرونہ (روح ج 22 ص 140) ۔ 27:۔ وانا او ایاکم الخ : یہ پہلا طریق تبلیغ ہے یقینا ہم یا تم مسئلہ توحید و شرک میں راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی ہیں تعریض و کنایہ کے ساتھ اہل توحید کا راہ راست پر ہونا اور مشرکین کا کھلی گمراہی میں ہونا بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ سارے جہان کے خالق، قادرِ مطلق اور متصرف علی الاطلاق کو کارساز سمجھنے والے اور عاجز و بےبس مخلوق کو کارساز سمجھنے والے دونوں ہی حق پر ہوں اس لیے لامحالہ اہل توحید ہی حق پر ہیں۔ اور مشرکین باطل پر ہیں۔ اس طریق تبلیغ سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ تبلیغ میں نرم لب و لہجہ اور موثر ترین انداز اختیار کیا جائے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) اے پیغمبر آپ دلائل توحید کے سلسلے میں ان منکرین سے فرما دیجئے کہ تم کو آسمانوں سے اور زمین سے کون روزی دیتا ہے اور کون تمہاری رزق رسانی فرماتا ہے آپ ہی فرمایئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے یقینا ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں۔ یعنی آسمان سے پانی برسانا اور زمین سے نباتات اگا کر تمہارے لئے روزی مہیا کرنا یہ کس کا کام ہے۔ یہ بات چونکہ ایسی ہے کہ دل سب کے اس کو مانتے ہیں کہ یہ کام سوائے باری تعالیٰ کے اور کون کرسکتا ہے اس لئے رسول کو حکم دیا کہ آپ کہہ دیجئے وہ اللہ تعالیٰ ہے آگے ایک بات اور غور طلب فرمائی کہ ذرا سوچو کہ ہم تم میں ایک نہ ایک تو حق پر ہے اور ایک نہ ایک ضرور گمراہ ہے ہم باوجود اس کے حق پر ہیں پھر بھی تم کو موقع دیتے ہیں کہ آئو بیٹھ کر غور کرو یہ بھی تبلیغ و تلطیف دعوت کا ایک طریقہ ہے۔ بہرحال ! یہ تو ہو نہیں سکتا کہ توحید باری کے مدعی اور توحید الٰہی کے منکر دونوں حق پر ہوں یا دونوں گمراہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دونوں فرقے تو سچ نہیں کہتے ایک مقرر سچا ہے ایک مقرر جھوٹا ہے تو لازم ہے کہ سوچو اور سچی بات پکڑو اس میں ان کا جواب ہے جو اس زمانے میں بعضے لوگ کہتے ہیں دونوں فرقے ہمیشہ سے چلے آئے ہیں کیا ضرور جھگڑنا۔ بعضے جاہل اس قسم کی صلح کن باتیں کیا کرتے ہیں اور حق و باطل کو ایک ترازو میں تولتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) کے زمانے میں بھی ایسے لوگ ہوں گے اور آج کل تو ایسے نادان بہت ہیں بعض مفسرین نے اس آیت میں وکوبمعنی او بھی لیا ہے اور کلام کو بطریق لف و نشر مرتب کے بیان کیا ہے۔ (واللہ اعلم)