Surat Saba

Surah: 34

Verse: 27

سورة سبأ

قُلۡ اَرُوۡنِیَ الَّذِیۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِہٖ شُرَکَآءَ کَلَّا ؕ بَلۡ ہُوَ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۷﴾

Say, "Show me those whom you have attached to Him as partners. No! Rather, He [alone] is Allah , the Exalted in Might, the Wise."

کہہ دیجئے! اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھا دو جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو ، ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہی اللہ ہے غالب با حکمت ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ أَرُونِي الَّذِينَ أَلْحَقْتُم بِهِ شُرَكَاء ... Say: "Show me those whom you have joined with Him as partners..." means, `show me those gods whom you made as rivals and equals to Allah.' ... كَلَّ ... Nay, means, He has no peer, rival, partner or equal. Allah says: ... بَلْ هُوَ اللَّهُ ... But He is Allah, meaning, the One and Only God Who has no partner. ... الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ the Almighty, the All-Wise. means, the Owner of might with which He subjugates and controls all things, the One Who is Wise in all His Words and deeds, Laws and decrees. Blessed and exalted and sanctified be He far above all that they say. And Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 یعنی اس کا کوئی نظیر ہے نہ ہم سر، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام اور قول میں حکمت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٢] یہ کفار مکہ سے دوسرا سوال ہے۔ پہلا سوال اللہ کی رزاقیت سے متعلق تھا۔ دوسرا اس کی خالقیت سے متعلق ہے کہ اللہ نے تو اس تمام کائنات کو اور ہمیں بھی اور تمہیں بھی پیدا کیا ہے۔ لہذا مخلوق کا یہی حق ہے کہ اپنے خالق کی عبادت کرے اور حمد و ثنا بیان کرے۔ اب یا تو یہ نشان دہی کرو کہ تمہارے ان معبودوں نے بھی اس کائنات کی فلاں یا فلاں چیز بنائی ہے اور ہمیں عدم سے وجود میں لانے والے تمہارے یہ معبود ہیں۔ آخر کچھ تو ان کا تخلیقی کارنامہ دکھلاؤ۔ اور اگر تم ان کا کوئی تخلیقی کارنامہ نہیں دکھلا سکتے تو پھر آخر تم نے کس دلیل کی بنا پر کس خوشی میں ان معبودوں کو اللہ کا شریک بنادیا ہے۔ علاوہ ازیں جب یہ واضح ہوگیا کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر غالب بھی ہوا جس نے حکمتوں سے لبریز یہ نظام کائنات تخلیق کیا ہے۔ لہذا تمہارے معبود مخلوق بھی ہیں، مملوک بھی ہیں اور مقہور بھی۔ پھر یہ عبادت کے لائق کیسے بن گئے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اَرُوْنِيَ الَّذِيْنَ اَلْحَــقْتُمْ بِهٖ شُرَكَاۗءَ : یعنی اس سے پہلے کہ آخرت میں پہنچ کر ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو، تم مجھے یہیں بتاؤ کہ تمہارے ان معبودوں میں کون سی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے تم انھیں اللہ کا شریک یا اپنا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کی حمایت پر بھروسا کر کے اللہ کے عذاب سے بےخوف ہو رہے ہو۔ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : نہیں، یہ ہرگز اس کے شریک نہیں ہوسکتے، بلکہ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، جب کہ یہ بےچارے نہ عزیز ہیں نہ حکیم، ان کے پاس بندگی و بےچارگی کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اَرُوْنِيَ الَّذِيْنَ اَلْحَــقْتُمْ بِہٖ شُرَكَاۗءَ كَلَّا۝ ٠ ۭ بَلْ ہُوَاللہُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ٢٧ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ لحق لَحِقْتُهُ ولَحِقْتُ به : أدركته . قال تعالی: بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] ( ل ح ق ) لحقتہ ولحقت بہ کے معنی کیس کو پالینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ۔ ( اور شہید ہو کر ) ان میں شامل نہ ہو سکے ۔ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ [ الجمعة/ 3] اور ان میں سے دوسرے لوگوں کی طرف بھی ( ان کو بھیجا ہے جو ابھی ان مسلمان سے نہیں ملے ۔ شرك ( شريك) الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی: وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام : «إنّي شرّفتک وفضّلتک علی جمیع خلقي وأَشْرَكْتُكَ في أمري» «2» أي : جعلتک بحیث تذکر معي، وأمرت بطاعتک مع طاعتي في نحو : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] ، وقال تعالی: أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39] . وجمع الشَّرِيكِ شُرَكاءُ. قال تعالی: وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] ، وقال : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] ، أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] ، وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] . ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ کے معنی دو ملکیتوں کو باہم ملا دینے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک چیز میں دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کے شریک ہونے کے ہیں ۔ خواہ وہ چیز مادی ہو یا معنوی مثلا انسان اور فرس کا حیوانیت میں شریک ہونا ۔ یا دوگھوڑوں کا سرخ یا سیاہ رنگ کا ہونا اور شرکتہ وشارکتہ وتشارکوا اور اشترکوا کے معنی باہم شریک ہونے کے ہیں اور اشرکتہ فی کذا کے معنی شریک بنا لینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] اور اسے میرے کام میں شریک کر ۔ اور حدیث میں ہے (191) اللھم اشرکنا فی دعاء الصلحین اے اللہ ہمیں نیک لوگوں کی دعا میں شریک کر ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو فرمایا ۔ (192) انی شرفتک وفضلتک علی ٰجمیع خلقی واشرکتک فی امری ۔ کہ میں نے تمہیں تمام مخلوق پر شرف بخشا اور مجھے اپنے کام میں شریک کرلیا ۔ یعنی میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر ہوتا رہے گا اور میں نے اپنی طاعت کے ساتھ تمہاری طاعت کا بھی حکم دیا ہے جیسے فرمایا ۔ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو ۔ قران میں ہے : ۔ أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39]( اس دن ) عذاب میں شریک ہوں گے ۔ شریک ۔ ساجھی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے ۔ اس کی جمع شرگاء ہے جیسے فرمایا : ۔ : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] جس میں کئی آدمی شریک ہیں ( مختلف المزاج اور بدخو ۔ أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرد کیا ہے ۔ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] میرے شریک کہاں ہیں ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لہزا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ مجھے ذرا وہ جھوٹے معبود تو دکھاؤ جن کو تم نے اللہ کے ساتھ شریک کر رکھا ہے کہ انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہرگز نہیں۔ انہوں نے کوئی چیز بھی نہیں پیدا کی سب پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کفار کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و و فیصلہ میں حکمت والا ہے کہ اس نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧ { قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآئَ کَلَّا بَلْ ہُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے کہ ذرا مجھے دکھائو تو وہ (معبود) جنہیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے ! کوئی نہیں ! بلکہ وہی اللہ ہے ‘ بہت زبردست ‘ نہایت حکمت والا۔ “ وہ اپنی ذات میں خود ” العزیز “ (غالب ‘ زبردست) ہے ‘ اس کی قدرت کسی اور کے بل پر قائم نہیں ‘ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ‘ وہ کسی اور کی مدد کا محتاج نہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46 That is, "Before ever you take the great risk due to your reliance on these deities, just tell me here who among them is so powerful as to arise in the Court of Allah as your supporter and save you from His punishment. "

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :46 یعنی قبل اس کے کہ تم ان معبودوں کے بھروسے پر اتنا بڑا خطرہ مول لو ، ذرا مجھے یہیں بتا دو کہ ان میں کون اتنا زور آور ہے کہ اللہ کی عدالت میں وہ تمہارا حمایتی بن کر اٹھ سکتا ہو اور تمہیں اس کی گرفت سے بچا سکتا ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:27) ارونی۔ اری یری اراء ۃ (باب افعال) سے فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تم مجھے دکھائو۔ یہ متعدی بہ سہ مفعول ہے مفعول اول یا متکلم ۔ مفعول دوم اسم موصول الذین۔ اور مفعول سوم شرکائ۔ الحقتم بہ۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ الحاق (افعال) مصدر۔ تم نے الحاق کر رکھا ہے۔ تم نے ملا رکھا ہے۔ ہ ضمیر واحد مذکر اللہ کی طرف راجع ہے۔ ارونی الذین الحقتم بہ شرکائ۔ مجھے دکھائو (تو) وہ شریک جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کلا۔ حرف ردع ہے، جس کے معنی روکنے کے ہیں یہ روکنا خواہ بذریعہ زجروتوبیخ کے ہو یا بطور تربیت اور آداب آموزی کے۔ کسائی کے نزدیک حقا (یقینا یا واقعی) کا ہم معنی ہے۔ ابو حاتم۔ بمعنی الا ہے۔ جو آغاز کلام کے لئے آتا ہے۔ فرا کے نزدیک صرف جواب کے طور پر بمعنی ای۔ نعم۔ (جی۔ ہاں) آتا ہے۔ بل حرف اضراب ہے ماقبل کی تردید اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔ یعنی اس کا ہرگز کوئی شریک نہیں بلکہ وہ تو اللہ۔ العزیز اور الحکیم ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی قبل اس کے آخرت میں پہنچ کر ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو تم مجھے یہیں بتائو کہ تمہارے ان معبودوں میں کونسی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے تم انہیں خدا کا ند اور شریک سمجھ رہے ہو یا تم انہیں اپنا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کی حمایت کر کے خدا کے عذاب سے بےخوف ہو رہے ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر توحید کا ذکر تھا آگے رسالت محمدیہ اور اس کے عموم کا مفہوم ہے کہ وہ لوگ اس کے بھی منکر تھے، پھر حق توحید بدون اتباع رسول کے حاصل بھی نہیں ہوتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل ارونی ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (27) ” “۔ یہ نہایت ہی تہدید آمیز اور حقارت آمیز سوال ہے۔ ذرا دکھاؤ تو سہی وہ کون لوگ ہیں جن کو تم نے اللہ کے ساتھ الوہیت میں ملحق کردیا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ ان کی کیا حیثیت ہے۔ کس درجے کے لوگ ہیں یہ ! اور پھر اس مقام کے لیے ان کا استحقاق کیا ہے۔ اس کے بعد لفظ کا۔۔۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ کہاں سے یہ لائیں گے جبکہ اللہ کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم (34: 27) ” زبردست اور دانا تو بس اللہ ہی ہے “۔ جس ذات کی صفات یہ ہوں اس کا کوئی شریک کیسے ہو سکتا ہے اور ضرورت بھی کیا ہے ، لہٰذا اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس پر یہ سبق ختم ہوتا ہے۔ اس کے آخر میں نہایت ہی دو ٹوک اور سبق آمیز تبصرے ہیں۔ اس عظیم کائنات کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔ ایسے حالات میں جبکہ قیامت میں شفاعت کا مرحلہ ہوگا۔ حق و باطل کی کشمکش کے حوالے سے اور نفس انسانی کے اندر غوروفکر اور سوچ و بچار کے حوالے سے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآءَ ) (آپ فرما دیجیے مجھے دکھا دو وہ لوگ جنہیں تم نے شریک بنا کر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے) یعنی تم نے جو باطل معبود بنا رکھے ہیں اور انہیں مستحق عبادت سمجھ کر خدائی کا درجہ دے رکھا ہے، ذرا مجھے دکھا دو وہ کون ہیں یعنی وہ تو خود مخلوق ہیں اس لائق کہاں ہیں کہ الوہیت میں شریک ہوں کوئی دلیل اور حجت ہے تو سامنے لاؤ۔ (قال صاحب الروح والمراد أعلمونی بالحجۃ والدلیل کیف وجدت الشرکۃ) (کَلَّا) (ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہو) تمہاری بیوقوفی ہے جو تم نے اس کے لیے شریک تجویز کر رکھے ہیں۔ (بَلْ ھُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (بلکہ وہی اللہ ہے یعنی معبود برحق ہے زبردست ہے حکمت والا ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30:۔ قل ارونی الخ : یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ جب سابقہ دلائل سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ہی سارے جہان کا خالق اور وہی ساری کائنات میں متصرف و مختار ہے اور مشرکین کے مزعومہ اٰلہہ عاجز اور بےبس ہیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ آپ مشرکین سے فرمائیں مجھے کوئی دلیل تو بتاؤ کہ یہ معبودان باطلہ جنہیں تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے جو نہ تمہیں روزی دیتے ہیں۔ نہ تدبیر عالم میں انہیں کوئی اختیار ہے وہ خدائے ذوالجلال کے کس طرح شریک بن سکتے ہیں۔ کلا ہرگز نہیں ! یہ معبودانِ باطلہ ہرگز خدا کے شریک نہیں بن سکتے۔ بل ھو اللہ الخ : بلکہ وہ اللہ جو تمام صفاتِ کارسازی کا مالک، ہر ایک پر غالب اور حکیم مطلق ہے۔ وہی اکیلا سب کا کارساز اور معبود برحق ہے۔ اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ ای ارونی بالحجۃ والدلین کیف وجہ الشرکۃ وھل یملکون مثقال ذرۃ او یرزقونکم (بحر ج 7 ص 280) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) آپ ان سے فرمایئے جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملا رکھا ہے انہیں ذرا مجھے بھی تو دکھلائو ہرگز ایسا نہیں ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے بلکہ وہی اللہ ہے کمال قوت اور حکمت کا مالک۔ یعنی تم کو اللہ تعالیٰ کی قوت اور اس کے احسانات کا علم ہوچکا اور معبود ان باطلہ کا عجز اور ان کی بےچارگی بھی معلوم ہوچکی اور باوجود اس کے ان باطل معبودوں کو تم نے اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے تو ان کو مجھ کو دکھلائو اور ان کو بتائو تاکہ میں ان کو دیکھوں کہ وہ کس کام کے ہیں تم ان خیالات سے باز آئو اللہ تعالیٰ تو وہی یکتا اور اکیلا معبود ہے اور وہی زبردست اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔ آگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اظہار ہے۔