Surat Saba

Surah: 34

Verse: 39

سورة سبأ

قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ وَ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخۡلِفُہٗ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۳۹﴾

Say, "Indeed, my Lord extends provision for whom He wills of His servants and restricts [it] for him. But whatever thing you spend [in His cause] - He will compensate it; and He is the best of providers."

کہہ دیجئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کر دیتا ہے تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا ( پورا پورا ) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ... Say: "Truly, my Lord expands the provision for whom He wills of His servants, and (also) restricts (it) for him..." means, according to His wisdom, He gives a lot of provision to one, and gives very little to another. He has great wisdom in doing so, which cannot be comprehended by anyone but Him. This is like the Ayah: انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلٌّخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَـتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلً See how We favor one above another, and verily, the Hereafter will be greater in degrees and greater in favor. (17:21) This means that just as there are differences between them in this world -- where one may be poor and in straitened circumstances while another is rich and enjoys a life of plenty -- so they will be in the Hereafter. There one will reside in apartments in the highest levels of Paradise, whilst another will be in the lowest levels of Hell. As the Prophet said, describing the best of people in this world: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا اتَاه He truly succeeds who becomes Muslim and is given just enough provision and Allah makes him content with what He has given." It was recorded by Muslim. ... وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ .... and whatsoever you spend of anything, He will replace it. means, `whatever you spend in the ways that He has commanded you and permitted you, He will compensate you for it in this world by giving you something else instead, and in the Hereafter by giving you reward.' It was reported that the Prophet said: يَقُولُ اللهُ تَعَالَى أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْك Allah says: "Spend, I will spend on you." In another Hadith it is reported that; every morning, two angels come, and one says, "O Allah, bring destruction upon the one who withholds (does not spend)." The other one says, "O Allah, give compensation to the one who spends." And the Messenger of Allah said: أَنْفِقْ بِلَلُ وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَلاً Spend, O Bilal, and do not fear that the One Who is on the Throne will withhold from you. .. وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ for He is the Best of those Who grant Sustenance.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لئے ؟ خلاف معمول کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لئے ؟ اس کے اجر وثواب میں اضافے کے لئے۔ اسلئے مال کی فروانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی نارضگی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔ 39۔ 2 اخلاف کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا، یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انفق انفق علیک۔ تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ 39۔ 3 کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ کی توفیق وتیسر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے حقیقت میں دینے والا اس کار ازق نہیں ہے جس طرح بچوں کا باپ بچوں کا یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق ہے اس لیے جو شخص اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥٩] یعنی رزق کی فراخی نہ اللہ کی رضا کی معیار ہے نہ انسان کی اپنی فلاح کا۔ بلکہ رزق کا تعلق صرف مشیت الٰہی سے ہے۔ جس میں اس کی اپنی کئی حکمتیں مضمر ہیں۔ بسا اوقات وہ ظالموں کو زیادہ رزق دے کر انہیں عذاب شدید کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ اپنے فرمانبرداروں کو فقر و فاقہ میں مبتلا کرکے ان کے درجات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ دولت بذات خود ایک ڈھلتی چھاؤں ہے۔ ایک ہی آدمی کے پاس کبھی زیادہ آجاتی ہے پھر اسی سے چھن بھی جاتی ہے۔ پھر جب مال و دولت میں ہی استقرارو استقلال نہیں تو پھر اسے خیر و شر کا معیار کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ ؟ [ ٦٠] اس جملہ میں صدقہ و خیرات کرنے والے لوگوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری ہے اور ایک ایسی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جو بارہا لوگوں کے تجربہ میں آچکی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اور اللہ کی رضا کے لئے خلوص نیت کے ساتھ انسان جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے۔ اللہ اس کی جگہ اس خرچ کئے ہوئے مال جتنا یا اس سے زیادہ دے دیتا ہے وہ کس ذریعہ سے دیتا ہے اس کی کوئی مادی توجیہہ پیش کی جاسکتی۔ تاہم ہمارا تجربہ اور ہمارا وجدان دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور درج ذیل احادیث بھی اسی مضمون کی تائید و توثیق کرتی ہیں : ١۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : && اے آدم کے بیٹے ! تو (دوسروں پر) خرچ کر۔ میں تجھ پر خرچ کروں گا && (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب الصدقۃ فیھا۔۔ ) ٢۔ حضرت اسماء بن ابی بکر ایک دفعہ آپ کے پاس آئیں تو آپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ روپیہ پیسہ ہتھیلی میں بند کرکے مت رکھو ورنہ اللہ بھی تمہارا رزق بند کرکے رکھے گا۔ بلکہ جہاں تک ہوسکے خیرات کرتی رہو۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب الصدقہ فیما استطاع) ٣۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : && بندوں پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن صبح دو فرشتے نازل نہ ہوں۔ ان میں ایک یوں دعا کرتا ہے && یا اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل دے && اور دوسرا یوں دعا کرتا ہے && یا اللہ بخیل کا مال تباہ کردے && (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب قولہ فاما من اعطی ٰ واتقی۔۔ ) ٤۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : && جس شخص کو یہ بات اچھی لگے کہ اس کا رزق کشادہ اور اس کی عمر دراز ہو وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے && (بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب من بحب السبط فی الرزق) [ ٦١] اللہ تعالیٰ کی کئی صفات ایسی ہیں جن انسانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حقیقی رازق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مگر ہر انسان اپنے بال بچوں کو رزق مہیا کرتا ہے۔ مالک اپنے ملازموں کو رزق عطا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب ایسی صورت ہو تو اللہ کے لئے کوئی مزید امتیازی صفت بھی استعمال ہوگی۔ گویا اگر انسان کسی کا رزاق ہوسکتا ہے تو اللہ خیر الرازقین ہے یعنی سب کو رزق دینے والا بھی ہے اور بہتر رزق دینے والا بھی ہے۔ اسی طرح اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے تو انسان بھی تخلیق و ایجاد کرتا ہے۔ اس نسبت سے انسان کو موجد اور خالق تو کہہ سکتے ہیں مگر احسن الخالقین اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ لَهٗ : یہ الفاظ دوبارہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ دونوں جگہ مقصد مختلف ہے۔ پہلی آیت میں کفار کی بات کا رد مقصود ہے اور یہاں اہل ایمان کو خرچ کرنے کی ترغیب مقصود ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ” يَقْدِرُ “ کے ساتھ ” لَهٗ “ کا اضافہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور اسی کا رزق جب چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص اگر یہ سمجھ کر بخل کرے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرے کہ خرچ کرنے سے میرا رزق تنگ ہوجائے گا تو یہ اس کی بھول ہے، رزق کی تنگی یا فراخی کا تعلق اس کے بخل یا سخاوت سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) سے فرمایا : ( أَنْفِقْ بلاَلُ ! وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ٦؍١٦٠، ح : ٢٦٦١۔ مسند البزار : ٤؍٢٠٤، ح : ١٣٦٦ ] ” بلال ! خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے فقیری سے مت ڈر۔ “ ” يَقْدِرُ لَهٗ “ (اس کے لیے تنگ کردیتا ہے) میں ” عَلَیْہِ “ کے بجائے ” لَہ “ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کا رزق تنگ بھی اس کے فائدے ہی کے لیے کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پر قناعت کرنا اور اس پر راضی ہوجانا بہت بڑی سعادت ہے اور اس میں حساب بھی کم ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَ رُزِقَ کَفَافًا وَ قَنَّعَہُ اللّٰہُ بِمَا آتَاہُ ) [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف والقناعۃ : ١٠٥٤ ] ” یقیناً وہ شخص کامیاب ہوگیا جو اسلام لایا اور اسے گزارے کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قانع کردیا۔ “ وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ : یعنی اللہ کی راہ میں اس کے حکم کے مطابق زیادہ سے زیادہ یا کم سے کم جو چیز بھی خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دنیا میں اور عطا فرمائے گا اور آخرت کے اجر کا تو کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَا مِنْ یَوْمٍ یُصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُوْلُ أَحَدُہُمَا اللّٰہُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَ یَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰہُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا ) [ بخاري، الزکاۃ، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : ( فأما من أعطی ۔۔ ) : ١٤٤٢ ] ” جس دن بھی بندے صبح کرتے ہیں، اس میں دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے، اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ اور دے اور دوسرا کہتا ہے، اے اللہ ! روک کر رکھنے والے کے مال کو تباہ کر۔ “ ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ( یَا ابْنَ آدَمَ ! أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَیْکَ ، وَ قَالَ یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأَی سَحَّاءُ لَا یَغِیْضُہَا شَيْءٌ، اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ ) [ مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی النفقۃ۔۔ : ٩٩٣۔ بخاري : ٤٦٨٤ ] ” اے آدم کے بیٹے ! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ “ اور فرمایا : ” اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، بہت برسنے والا ہے، دن رات خرچ کرنے سے اس میں کوئی چیز کمی نہیں لاتی۔ “ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَّالٍ وَ مَا زَاد اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع : ٢٥٨٨ ] ” کوئی صدقہ مال میں کمی نہیں لاتا اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے اور اللہ کے لیے کوئی نیچا نہیں ہوتا، مگر اللہ تعالیٰ اسے اونچا کردیتا ہے۔ “ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ : اس لیے کہ دوسرے تمام دینے والے اسی کے دیے میں سے دیتے ہیں، وہ اکیلا ہے جو ہر چیز اپنے پاس سے دیتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary This verse has appeared a little earlier (36) almost in the same words. As obvious, the same thing has been mentioned here, however, it has a difference. At this place, there is an addition of: مِنْ عِبَادِهِ (out of His servants) after: مَن يَشَاءُ whomsoever He wills) and: لَہ، (lahu: for him or whomever) after: یَقدِر (yaqdir: straitens). From the statement: مِنْ عِبَادِهِ (min &ibadihi: from His servants), it is gathered that this rule of guidance has been put forth for His particular servants, that is, for the believers, and the purpose is to alert people of faith that they should not start loving wealth and comfort to the extent that their hearts choke when it comes to spending at occasions and on rights enjoined by Allah Ta’ ala. As for the earlier verse (36) that carries the same text, it was addressed to disbelievers and polytheists who prided on the worldly assets of wealth and children and declared these to be the proof of their success in the Hereafter. Thus, any discordance between the addressee and the purpose of address stands eliminated. Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) ، in his khulasah of Tafsir Bayn ul-Qur&an, has taken the same approach by first adding &the believers& in parenthesis while explaining this verse. Another difference between these two verses pointed to by some commentators is that mentioned in the first verse was the distribution of sustenance between different human beings, that is, Allah Ta’ ala gives more of wealth and property to some, and less to some others - all in His wisdom and in the light of universal considerations. And in this verse, only one person and his different states have been mentioned, that is, this one person has, at times, more with him, then, comes another time and the same person has much less as well. The word: لَہ (lahu: for him) which appears in this verse after: یَقدِر (yaqdiru: straitens) releases an indication in this direction. This approach too leaves no discordance behind. Rather, the first verse turns out as relating to different individuals and the present verse, to different states of one single person. The sentence: وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ (And whatever thing you spend, He replaces it. And He is the best of the sustainers.) in verse 39 literally means: &For anything that you spend, Allah Ta’ ala gives you a return from His unseen treasures - at times, within this world and at times, in the Hereafter and at times, in both.& In things happening around us, we see that water comes down from above, animals and humans use it freely, needs of farms and forests are satiated, and no sooner does that supply of water gets used up, than another supply descends to replenish it. Similar is the case of wells dug for water that, no matter how much water is spent out of these, it stands replenished by nature from other sources of water beneath the bed. Man eats up his food leaving the impression that he has finished it, but Allah Ta’ ala provides him with other food in its absence. Physical exercise burns out calories of food and other workings of nature turn it into energy. In short, whatever man spends out in this world, it is the customary practice of Allah Ta’ ala that He would replace it with something else similar to it. Something happening contrary to this, as an exceptional case, - either to punish one, or for the sake of some other creational consideration - will not be deemed as contrary to this customary Divine practice. According to a Hadith of Sayyidna Abu Hurairah (رض) in Sahih of Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Everyday when people rise to see another morning, two angels descend from the heavens and pray: اللَّھُم اَعطِ منفقاً خَلفاً واعط ممسکاً تلفق (0 Allah, bless the one who spends [ out of what You gave him or her ] with its return, and let the one who withholds [ what You gave him or her ] find it wasted.|" And according to another Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Allah Ta’ ala has told me: You spend on people, I shall spend on you.|" There is no promise of a return for spending that is not in accordance with the Shari&ah Says a Hadith of Sayyidna Jabir (رض) see that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Good deed is sadaqah (an act of charity in the way of Allah). When someone spends on himself or his children and family, that spending too falls under sadaqah. It brings thawab (reward from Allah). And one who spends to protect his integrity and honor, this too is sadaqah. And whoever spends whatever he does in obedience to the command of Allah, He has taken it upon Himself that He will give him its return - except that which is spent in (wasteful, extra to need) building or sinful activity, for there is no promise of a return for it.|" After hearing this Hadith from Sayyidna Jabir (رض) ، his disciple, Ibn al-Munkadir asked him: &What is the meaning of spending to protect one&s honor?& He said, &There may be a person about whom one apprehends that, should he not give him something, he would go about maligning him in all sorts of ways. In this case, giving to such a person is in order to save one&s honor.& (Reported by ad-Darqutni, Qurtubi) With the decrease in the use of something, its production also decreases The hint embedded in this verse also tells us that as long as the things of use provided by Allah Ta’ ala for consumption of human beings and animals keep being consumed, these keep being replaced by Him constantly. The rule seems to be that the more the consumption of something, the more its production. The multiple uses made of domestic animals like goats, sheep and cows put them high on the list of consumption. They are slaughtered. Their meat is eaten. Then, they are also slaughtered under Islamic legal requirements, such as, the Qurbani قُربَانِی or sacrifice, and in Kaffarat (plural of kaffarah or expiation) and jinayat (faults, offences against religious prohibitions). The more they are consumed, the more increased becomes their frequency of production from Allah Ta’ ala. This is common experience everywhere. The number of these animals, despite being under the knife all the time, remains the highest in the world. The number of dogs and cats is not that high, although the reproduction of dogs and cats should obviously be much more as they produce four or five puppies and kittens in a single pregnancy. A cow or goat delivers two calves or kids at the most. Cows and goats keep being slaughtered all the time. Dogs and cats are (generally) not touched by anyone. But, as far as common observations goes, it cannot be denied that the number of cows, sheep and goats comparatively exceeds the number of dogs and cats. Since the time restrictions have been placed on the slaughter of cows in India, the production of cows has gone down there in that very ratio. Otherwise, every village and every home would have been full of cows that stayed spared from being slaughtered. Once the Arabs tapered down their use of camels for riding and transport purposes, the usual increase in the populations of their camels has also gone down. Incidentally, what has been said here also helps remove that atheistic doubt usually dished out with reference to the Islamic injunctions of sacrifice saying that it is likely to affect the economy of Muslims adversely.

خلاصہ تفسیر آپ (مومنین سے) یہ فرما دیجئے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہے تنگی دیتا ہے اور (خرچ میں امساک اور بخل سے رزق بڑھ نہیں سکتا، اور شریعت کے مطابق خرچ کرنے سے گھٹ نہیں سکتا، اس لئے تم مال سے دل نہ لگاؤ بلکہ جہاں جہاں اللہ کے حقوق اور اپنے عیال کے حقوق اور فقراء و مساکین وغیرہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے بےدھڑک خرچ کرتے رہو، کہ اس سے رزق مقسوم ومقدر میں تو کسی کمی کا ضرر نہ ہوگا اور آخرت میں اس سے نفع حاصل ہوگا، کیونکہ) جو چیز تم (حکم خداوندی کے مواقع میں) خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کا (آخرت میں تو ضرور اور اکثر دنیا میں بھی) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ معارف ومسائل یہ آیت تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ اوپر گزری ہے (قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر) یہاں بظاہر یہی مضمون مکرر آیا ہے مگر ایک فرق کے ساتھ کہ اس جگہ من یشاء کے بعد من عبادہ اور یقدر کے بعد لہ کا اضافہ ہے۔ من عبادہ کے لفظ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ حکم اپنے مخصوص بندوں یعنی مومنین کے لئے ارشاد ہوا ہے، اور مقصود اس سے یہ ہے کہ ایمان والے مال کی محبت میں ایسے نہ لگیں کہ اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے حقوق و مواقع میں خرچ کرنے سے دل تنگ ہونے لگیں، اور اس سے پہلی جو آیت اسی مضمون کی آئی ہے اس کا خطاب کفار و مشرکین کو تھا جو دنیا کے مال واولاد پر فخر کرتے اور ان کو اپنی آخرت کی فلاح کی دلیل بناتے تھے۔ اس طرح مخاطب اور مقصود کلام کے اعتبار سے تکرار نہ رہا، خلاصہ تفسیر میں جو شروع آیت کی تفسیر میں مومنین کا لفظ بڑھایا ہے یہ اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ اور بعض حضرات نے ان دونوں آیتوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ پہلی آیت میں تو مختلف انسانوں میں تقسیم رزق کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مصالح عالم کے پیش نظر کسی کو مال زیادہ کسی کو کم دیتے ہیں، اور اس آیت میں ایک ہی شخص کے مختلف احوال کا ذکر ہے کہ ایک شخص کو کبھی مال کی فراخی اور وسعت عطا ہوتی ہے، کبھی اس کو تنگی اور تنگ دستی بھی پیش آتی ہے۔ لفظ لہ، جو آیت میں یقدر کے بعد آیا ہے اس میں اس طرح اشارہ نکلتا ہے اس تقریر کے مطابق بھی تکرار نہ رہا بلکہ پہلی آیت مختلف افراد کے متعلق اور یہ آیت ایک ہی فرد کے مختلف احوال کے متعلق ہوگئی۔ وماانفقتم من شئی فہو یخلفہ۔ اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے خزانہ غیب سے تمہیں اس کا بدل دے دیتے ہیں، کبھی دنیا میں اور کبھی آخرت میں اور کبھی دونوں میں۔ کائنات عالم کی تمام چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے انسان اور جانور اس کو بےدھڑک خرچ کرتے رہتے ہیں، کھیتوں اور درختوں کو سیراب کرتے ہیں وہ پانی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا اس کی جگہ اور نازل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح زمین سے کنواں کھود کر جو پانی نکالا جاتا ہے اس کو جتنا نکال کر خرچ کرتے ہیں اس کی جگہ دوسرا پانی قدرت کی طرف سے جمع ہوجاتا ہے، انسان غذا کھا کر بظاہر ختم کرلیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسری غذا مہیا کردیتے ہیں، بدل کی نقل و حرکت اور محنت سے جو اجزاء تحلیل ہوجاتے ہیں ان کی جگہ دوسرے اجزاء بدل ما یتحلل بن جاتے ہیں۔ غرض انسان دنیا میں جو چیز خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی عام عادت یہ ہے کہ اس کے قائم مقام اس جیسی دوسری چیز دے دیتے ہیں، کبھی کسی کو سزا دینے کے لئے یا کسی دوسری تکوینی مصلحت سے اس کے خلاف ہوجانا اس ضابطہ آلہیہ کے منافی نہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر روز جب لوگ صبح میں داخل ہوتے ہیں، دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں اللہم اعط منفقا خلفا واعط ممسکاً تلفا، ” یعنی یا اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور بخل کرنے والے کا مال ضائع کر دے “ اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں پر خرچ کریں میں آپ پر خرچ کروں گا۔ جو خرچ شریعت کے مطابق نہ ہو اس کے بدل کا وعدہ نہیں : حضرت جابر (رض) کی حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نیک کام صدقہ ہے، اور کوئی آدمی جو اپنے نفس یا اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ کے حکم میں ہے موجب ثواب ہے، اور جو شخص کچھ خرچ کر کے اپنی آبرو بچائے وہ بھی صدقہ ہے اور جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق کچھ خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ اس کا بدل اس کو دے گا، مگر وہ خرچ جو (فضول زائد از ضرورت) تعمیر میں یا کسی گناہ کے کام میں کیا ہو اس کے بدل کا وعدہ نہیں۔ حضرت جابر کے شاگرد ابن المنکدر نے یہ حدیث سن کر ان سے پوچھا کہ آبرو بچانے کے لئے خرچ کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس شخص کے متعلق یہ خیال ہو کہ نہیں دیں گے تو عیب جوئی کرے گا، برا کہتا پھرے گا یا بدگوئی کرے گا اس کو اپنی آبرو بچانے کے لئے دینا مراد ہے۔ (رواہ الدار قطنی، قرطبی) جس چیز کا خرچ گھٹ جاتا ہے اس کی پیداوار بھی گھٹ جاتی ہے : اس آیت کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیائے صرف انسان اور حیوانات کے لئے پیدا فرمائی ہیں، جب تک وہ خرچ ہوتی رہتی ہیں ان کا بدل منجانب اللہ پیدا ہوتا رہتا ہے، جس چیز کا خرچ زیادہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار بھی بڑھا دیتے ہیں۔ جانوروں میں بکرے اور گائے کا سب سے زیادہ خرچ ہے کہ ان کو ذبح کر کے گوشت کھایا جاتا ہے، اور شرعی قربانیوں اور کفارات وجنایات میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ جتنے زیادہ کام آتے ہیں اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ اس کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں جس کا ہر جگہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بکروں کی تعداد ہر وقت چھری کے نیچے رہنے کے باوجود دنیا میں زیادہ ہے، کتے بلی کی تعداد اتنی نہیں، حالانکہ کتے بلی کی نسل بظاہر زیادہ ہونی چاہئے کہ وہ ایک ہی پیٹ سے چار پانچ بچے تک پیدا کرتے ہیں، گائے بکری زیادہ سے زیادہ دو بچے دیتی ہے، گائے بکری ہر وقت ذبح ہوتی رہتی ہے، کتے، بلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، مگر پھر یہ مشاہدہ ناقابل انکار ہے کہ دنیا میں گائے اور بکروں کی تعداد بہ نسبت کتے بلی کے زیادہ ہے۔ جب سے ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی ہے اس وقت سے وہاں گائے کی پیداوار اسی نسبت سے گھٹ گئی ہے، ورنہ ہر بستی اور ہر گھر گایوں سے بھرا ہوا ہوتا جو ذبح نہ ہونے کے سبب بچی رہیں۔ عرب نے جب سے سواری اور باربرادری میں اونٹوں سے کام لینا کم کردیا وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی، اس سے اس ملحدانہ شب کا ازالہ ہوگیا جو احکام قربانی کے مقابلہ میں اقتصادی اور معاشی تنگی کا اندیشہ پیش کر کے کیا جاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَيَقْدِرُ لَہٗ۝ ٠ ۭ وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَہُوَيُخْلِفُہٗ۝ ٠ ۚ وَہُوَخَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۝ ٣٩ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ بسط بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ، ( ب س ط ) بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے بسط لثوب ( اس نے کپڑا پھیلایا ) اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلائی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فراش بنایا ۔ اور بساط کے معنی وسیع زمین کے ہیں اور بسیط الارض کے معنی ہیں کھلی اور کشادہ زمین ۔ ایک گروہ کے نزدیک بسیط کا لفظ بطور استعارہ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جس میں ترکیب و تالیف اور نظم متصور نہ ہوسکے ۔ اور بسط کبھی بمقابلہ قبض آتا ہے ۔ جیسے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] خدا ہی روزی کو تنگ کرتا ہے اور ( وہی اسے ) کشادہ کرتا ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ قدر ( تنگي) وقَدَرْتُ عليه الشیء : ضيّقته، كأنما جعلته بقدر بخلاف ما وصف بغیر حساب . قال تعالی: وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] ، أي : ضيّق عليه، وقال : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] ، وقال : فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] ، أي : لن نضيّق عليه، وقرئ : ( لن نُقَدِّرَ عليه) «3» ، ومن هذا المعنی اشتقّ الْأَقْدَرُ ، أي : القصیرُ العنق . وفرس أَقْدَرُ : يضع حافر رجله موضع حافر يده، وقوله : وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ [ الأنعام/ 91] ، أي : ما عرفوا کنهه تنبيها أنه كيف يمكنهم أن يدرکوا کنهه، وهذا وصفه اور قدرت علیہ الشئی کے معنی کسی پر تنگی کردینے کے ہیں گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی ہے اس کے بالمقابل بغیر حساب ( یعنی بےاندازہ ) آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] اور جس کے رزق میں تنگی ہو ۔ یعنی جس پر اس کی روزی تنگ کردی گئی ہو ۔ نیز فرمایا : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] خدا جس پر جاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ۔ فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] اور خیال کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے اور ایک قرآت میں لن نقدر علیہ سے اور اسی سے لفظ اقدر مشتق ہے جس کے معنی کوتاہ گردن آدمی کے ہیں اوراقدر اس گھوڑے کو بھی کہتے ہیں جس کے دوڑتے وقت پچھلے پاؤں ٹھیک اس جگہ پڑیں جہاں اگلے پاؤں پڑے تھے ۔ اور آیت کریمہ وما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ [ الأنعام/ 91] ان لوگوں نے خدا کی قدرشناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ۔ یعنی لوگ اس کی حقیقت کو نہیں پاسکے اور پھر اس امر پر تنبیہ کی ہے کہ وہ اس کی کنہہ کا ادارک بھی کیسے کرسکتے ہیں نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] ( ن ف ق ) نفق ( ن ) س الشئی کے منعی کسی چیز کے ختم ہونے یا چلے جانے کے ہیں ۔ اور چلے جانے کی مختلف صورتیں ہیں ( 1 ) خوب فروخت ہونے سے جیسے نفق البیع ( سامان کا ) خوب فروخت ہونا اسی سے نفاق الایتیم ہے جس کے معنی بیوہ عورت سے نکاح کے طلب گاروں کا بکثرت ہونا کے ہیں ۔ نفق القوم بازار کا پر رونق ہونا ۔ ( 2 ) بذیعہ مرجانے کے جیسے نفقت الدابۃ نفوقا جانور کا مرجانا ۔ ( 3 ) بذریعہ فنا ہوجانے کے جیسے نفقت الدراھم درواہم خرچ ہوگئے ۔ انفق تھا ان کو خرچ کردیا ۔ الا نفاق کے معنی مال وغیرہ صرف کرنا کے ہیں اور یہ کبھی واجب ہوتا ہے ۔ اور کبھی مستحب اور مال اور غیر مال یعنی علم وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرلو ۔ یخلفہ۔ مضارع واحد مذکر غائب اخلاف ( افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب وہ اس کو بدل دے گا۔ وہ اس کا معاوضہ دے گا۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرا رب جسے چاہے آزمائش کے طور پر کھلا رزق دیتا ہے اور جس کو چاہے تنگی سے دیتا ہے۔ اور جو چیز تم اللہ تعالیٰ کے رستہ میں صرف کرو گے تو وہ ضرور اس کا بھی دنیا میں مال اور آخرت میں ثواب کے ذریعے سے بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩ { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَہٗ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہیے کہ یقینا میرا ربّ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور (جسے چاہتا ہے ) اس کے لیے تنگ کردیتا ہے۔ “ { وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ } ” اور جو کچھ بھی تم لوگ خرچ کرتے ہو تو وہ اسے لوٹا دیتا ہے۔ “ یعنی اللہ کی رضا کے لیے جو مال خرچ کیا جاتا ہے ایک تو اس کا اجر آخرت میں ملے گا جو دس گنا سے سات سو گنا تک ہوگا ‘ بلکہ قرآن میں اس سے بھی زیادہ کی بشارت ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اس کا بدل عطا فرماتا ہے۔ چناچہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہوئے انسان کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے اور دل میں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اس کا نقد معاوضہ بھی عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے رزق کے نئے نئے مواقع پیدا فرماتا ہے اور ان کے وسائل میں خصوصی برکتیں نازل فرماتا ہے۔ { وَہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ } ” اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

59 The repetition of this theme is meant to impress this: The abundance or restriction of the provisions is connected with Allah's will, not with His pleasure and approval. Under the will of Allah every good or evil person is receiving his provision. Both those who believe in Him and those who do not believe are getting their provisions. Neither is abundance of the provisions a proof that one is Allah's favourite servant nor is its restriction a sign that one is under His wrath. Under His will a wicked and dishonest person prospers, although wickedness and dishonesty are disliked by Allah. On the contrary, under the same Divine will a truthful and honest man suffers losses and undergoes hardships although these qualities arc liked by Allah. Hence, the person who regards the material gains and benefits as the criterion for the good and evil is grossly mistaken. The real criterion is Allah's pleasure and approval which is attained through the moral qualities liked and approved by Him. With these qualities if a person gets -the worldly blessings as well it will certainly be Allah's bounty for which he should be grateful to Him. But if from the moral point of view a person is Allah's rebel and is disobedient to Him and in spite of that is being favoured with worldly blessings, it would mean that he is preparing himself for a strict accountability and a most severe punishment. 60 Sustainer, Creator, Inventor, Donor and many other such attributes are in actual fact the attributes of Allah, but are metaphorically applied to men also. For example, about a person we may say, °He provided a job for so-and-so, or he made or invented such and such a thing, or he made a gift to so-and-so. " Accordingly, Allah has used the word Khair ar Raziqin (the Best of Providers) for Himself. It means to impress the fact that Allah is the best of Providers among aII those about whom you think that they are in any way connected with arranging the provisions.

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :59 اس مضمون کو بتکرار بیان کرنے سے مقصود اس بات پر زور دینا ہے کہ رزق کی کمی و بیشی اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اس کی رضا سے ۔ مشیت الہٰی کے تحت اچھے اور برے ہر طرح کے انسانوں کو رزق مل رہا ہے ۔ خدا کا اقرار کرنے والے بھی رزق پا رہے ہیں اور اس کا انکار کرنے والے بھی ۔ نہ رزق کی فراوانی اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی خدا کا پسندیدہ بندہ ہے ، اور نہ اس کی تنگی اس امر کی علامت ہے کہ آدمی اس کا مغضوب ہے ۔ مشیت کے تحت ایک ظالم اور بے ایمان آدمی پھلتا پھولتا ہے ، حالانکہ ظلم اور بے ایمانی خدا کو پسند نہیں ہے ۔ اور اس کے برعکس مشیت ہی کے تحت ایک سچا اور ایمان دار آدمی نقصان اٹھاتا اور تکلیفیں سہتا ہے ، حالانکہ یہ صفات خدا کو پسند ہیں ۔ لہٰذا وہ شخص گمراہ ہے جو مادی فوائد و منافع کو خیر و شر کا پیمانہ قرار دیتا ہے ۔ اصل چیز خدا کی رضا ہے اور وہ ان اخلاقی اوصاف سے حاصل ہوتی ہے جو خدا کو محبوب ہیں ۔ ان اوصاف کے ساتھ اگر کسی کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہوں تو یہ بلاشبہ خدا کا فضل ہے جس پر شکر ادا کرنا چاہیے ۔ لیکن اگر ایک شخص اخلاقی اوصاف کے لحاظ سے خدا کا باغی و نافرمان بندہ ہو اور اس کے ساتھ دنیا کی نعمتوں سے نوازا جا رہا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سخت باز پرس اور بدترین عذاب کے لیے تیار ہو رہا ہے ۔ سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :60 رازق ، صانع ، موجِد ، مُعطی اور ایسی ہی دوسری بہت سی صفات ایسی ہیں جو اصل میں تو اللہ تعالیٰ ہی کی صفات ہیں مگر مجازاً بندوں کی طرف بھی منسوب ہو جاتی ہیں ۔ مثلاً ہم ایک شخص کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے فلاں شخص کے روزگار کا بندوبست کر دیا ، یا اس نے یہ عطیہ دیا ، یا اس نے فلاں چیز بنائی یا ایجاد کی ۔ اسی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خیر الرازقین کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔ یعنی جن جن کے متعلق تم گمان رکھتے ہو کہ وہ روزی دینے والے ہیں ان سب سے بہتر روزی دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:39) ما انفقتم۔ میں ما شرطیہ ہے من شیء میں من بیانیہ ہے اور جملہ فھو یخلفہ جواب شرط۔ اور جو چیز تم خرچ کرتے ہو وہ اس کی جگہ اور دے دیتا ہے ۔ یخلفہ۔ مضارع واحد مذکر غائب اخلاف (افعال) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب وہ اس کو بدل دے گا۔ وہ اس کا معاوضہ دے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی رزق کی تنگی اور فراخی، عزت اور بےعزتی کا معیار نہیں ہے بلکہ اس کا معیار ایمان اور عمل صالح ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا مطیع اور فرمانبردار ہو اور اسے دنیا میں قناعت اور بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ ( ابن کثیر)6 خرچ سے مراد ایسا خرچ ہے جس میں نہ اسراف ہو اور نہ بخل۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (انفق یا ابن ادم انفق علیک) بندے خرچ کر، ہیں تجھ پر خرچ کرونگا۔ دوسری حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر روز صبح کے وقت دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے۔ (اللھم اطفسکا تلفا) اور دوسرا کہتا ہے ( اللھم اعط منفقا خلفا) کہ اے اللہ بخل کرنے والے کے مال کو ہلاک کر اور خرچ کرنے والے کو اسکا بدل عطا فرما۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (انفق بلا لا ولا تخش من ذی العرش اقلالا ) (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 39 تا 45 یخلف : کسی چیز کے بعد دیتا ہے تتلی : تلاوت کی گئی یصد : وہ روکتا ہے افک : جھوٹ مفتری : گھڑا ہوا۔ بنا یا ہوا یدرسون : وہ پڑھتے ہیں بلغوا : وہ پہنچے معشار : دسواں حصہ نکر : عذاب تشریح آیت نمبر 39 تا 45 اللہ تعالیٰ عزت و سر بلندی اور قربت و نجات ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس کی وہ قدر کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے جو احکامات نازل کئے گئے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ مال و دولت کی کثرت اور کمی کو ایک آزمائش سمجھتے ہیں اللہ کے نزدیک یہی کامیاب اور با امر لوگ ہیں لیکن جو لوگ نا شکری کرتے ہوئے کفر و شرک کی روش اختیار کرتے ہیں وہ دنیا والوں کی نظر میں کتنے ہی کامیاب کیوں نہ سمجھے جاتے ہوں وہ اللہ کے نزدیک ناکام لوگ ہیں ۔ جن کو آخرت میں سوائے ناکامی اور حسرت کے کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا ۔ لہذا ایمان والوں کا اس بات پر یقین کامل ہوتا ہے کہ رزق کی وسعت یا رزق کی تنگی سب اللہ کی طرف سے ہے ۔ اگر وہ تنگی کے باوجود اللہ کی راہوں میں خرچ کریں گے تو ان کو پورا پورا بدلہ دیاجائے گا کیونکہ اللہ ہی وہ ہے جو بہترین رزق عطا کرنے والا ہے ۔ شیطان جو انسان کا ازلی اور کھلا ہوا دشمن ہے وہ لو گوں کو گمراہی کے راستے پر ڈالنے کے دو طریقے اختیار کرتا ہے سب سے پہلے تو لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اگر وہ اللہ کا قرب چاہتے ہیں تو و ہ ( نعوذ باللہ ) اللہ کی بیٹوں یعنی فرشتوں کی عبادت و بندگی کریں اسی میں ان کی کامیابی ہے۔ تاریخی انسانی گواہ ہے کہ شیطان کے جال مین پھنس جانے والے نادانوں نے فرشتوں کے بت بنا کر ان کو معبود کا درجہ دیا تھا اور ان کی عبادت و بندگی شروع کردی تھی۔ جو فرشتے اللہ کے حکم سے بارش برسانے پر مقرر کئے گئے تھے ان کو رزن اور بارش کو دیوتا ، جو فرشتے ہواؤں اور فضاؤں پر متعین تھے ان کو ہواؤں اور فضاؤں کا دیوی دیوتا مان کر ان کے سامنے سر جھکانا اور ان کو مشکل کشا ماننا شروع کردیا ۔ جنانچہ قیامت کے دن فرشتوں کے سامنے جھکنے والوں ، ان کو اپنا سفارشی ماننے والوں اور ان کی عبادت و بندگی کرنے والوں کو بےنقاب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے سوال فرمائیں گے کہ کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ وہ تمہیں اپنا معبود اور سفارشی سمجھ کر تمہاری عبادت و بندگی کریں ؟ فرشتے نہایت ادب و احترام سے عرض کریں گے الہی ! آپ کی ذات اس عیب سے پاک ہے کہ آپ کی شان معبود اور سفارشی سمجھ کر تمہاری عبادت و بندگی کریں ؟ فرشتے نہایت ادب واحترام سے عرض کریں گے الہی ! آپ کی ذات اس عجیب سے پاک ہے کہ آپ کی شان معبود یت میں کسی کو شریک یا برابر کا سمجھا جائے۔ ہمارا ایسے لوگوں سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہے۔ ہم تو آپ کے فرماں بردار بندے اور غلام ہیں ہم اس بات کا کیسے دعوی کرسکتے ہیں کہ آپ کو چھوڑا کر وہ ہمیں اپنا معبود سمجھیں ۔ ہمارے سامنے سر جھکائیں اور ہماری اطاعت ، عبادات اور بندگی کریں۔ اصل یہ لوگ ہمارا نا م لے کر شیطان کی عبادت کرتے تھے جس نے ان کے ذہنوں اور دلوں میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ وہ اللہ کی عبادت و بندگی کو چھوڑا کر اس کے عاجز و بےبس بندوں کو اپنا معبود اور مشکل کشا مان لیں گے تو وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ فرشتوں کے اس صاف، واضح اور ٹوک جواب کے بعد اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہ کسی کو نفع پہنچا سکتا اور نہ نقصان پہنچانے کے قوت رکھتا ہے۔ تم نے جن ہستیوں کو یا فرشتوں کو اپنا معبود اور مشکل کشا مان رکا ہے وہ اس کے سامنے محتاج اور عاجز بندے ہیں جو اپنی مر ضی اور خوشی اپنے لب بھی نہیں ہلا سکتے اور کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ چونکہ تم نے کفر اور شرک اختیار کیا ہے اس لئے اب تمہیں جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ اور اس مشکل وقت میں کوئی تمہارا ساتھ نہ دے سکے گا۔ (2) شیطان کے گمراہ کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب عام لوگوں کے سامنے اللہ کی صاف اور واضح آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان پر ایمان لانے کے بجائے الٹی سیدھی اور فضول باتوں پر اتر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگو ! اس شخص (حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں میں مت آنا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ وہ معبود جن کی تمہارے باپ اور دادا عبادت و بندگی کرتے آئے ہیں ان سے تمہیں روک دے۔ وہ یہاں تک کہہ ڈالتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ جس قرآن کو اللہ کا کلام کہتا ہے وہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ جب عام لوگ ان کے مکروہ اور بےبنیاد پروپیگنڈہ کے باوجود قرآن کریم کی سچائیوں کو دل سے قبول کرکے آگے بڑھتے تو کہنے لگتے کہ یہ قرآن ایک جادو ہے یا جادو کی کتاب ہے جس نے لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں جادو کے زیر اثر کہہ رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی لچر اور فضول باتوں کی بجائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان پر اتاری گئی آیات کو ایک نعمت کو طور پر قدر کرنا چاہیے تھی کیونکہ جس طرح بنی اسرائیل کو ان کی ہدایت کے لئے کتابیں دی گئی تھیں سیکڑوں سال سے جزیرہ نمائے عرب والوں کو نہیں دی گئی تھیں جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے اور اسی طرح صدیوں سے ان کے پاس کوئی ڈرانے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والا نبی اور رسول آیا۔ ان کفار مکہ کو ان نعمتوں کی دل سے قدر کرانا چاہیے تھی کیونکہ جس طرح بنی اسرائیل کو ان کی ہدایت کے لئے کتابیں دی گئی تھیں سیکڑوں سال سے جزیرہ نمائے عرب والوں کو نہیں دی گئی تھیں جن کو وہ پڑھتے پڑھاتے اور اسی طرح صدیوں سے نہ ان کے پاس کوئی ڈرانے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والا نبی اور رسول آیا۔ ان کفار مکہ کو ان نعمتوں کی دل سے قدر کرنا چاہیے تھی کیونکہ اسی میں ان کی فلاح اور کامیابیکا راز پوشیدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ والے جو اپنی چھوٹی چھوٹی سرداریوں اور معمولی سے مال دولت پر فخر کرتے ہیں انہیں ان گوگوں کے حالات کا علم نہیں آیا جب ان خوش حال قوموں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا تو اللہ کا زبردست قہر نازل ہوا ۔ ان کے مال دولت اور ترقیات ان کے عذاب سے نہ بچا سکیں اور وہ دنیا سے اس طرح مٹ گئے کہ آج ان کی زند گیا قصہ اور کہانی بن کر رہ گئیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ مال و دولت اور دنیاوی اسباب کوئی فخر کی چیز نہیں ہیں کیونکہ یہ تو اللہ کے نظام کا ایک حصہ ہیں ۔ وہ کسی کو خوب مال و دولت اور راحت و سکون کے اسباب سے نواز دیتا ہے اور کسی کو فقر و فاقہ کی زندگی دے دیتا ہے بعض لوگ مال و دولت کو جہنم کے انگار بنا لیتے ہیں اور بعض لوگ ہر حال میں اللہ کے بندوں پر خرچ کرکے اس بات کی امید اور توقع رکھتے ہیں کہ ہم اللہ کے بندوں پر جتنا بھی خرچ کریں گے اس سے دلی سکون وا طمینان اور خوشی و مسرت کی دولت ہاتھ آئے گی اور اللہ ایسا بہترین رزق عطا کرنے والا مہر بان آقا ہے کہ وہ اس کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرماتا ہے۔ ایک مومن کو اس بات پر یقین کامل ہوتا ہے کہ اللہ ہی سب کی مشکلوں کو آسان بنانے والا ہے اس کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں ہے اس نے اپنی ذات سے مانگنے کے طریقے خود ہی بتا دیئے ہیں لہذا اس سے مانگنے کے لئے مختلف واسطوں اور وسیلوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جب آدمی اللہ سے براہ راست مانگنے کے بجائے وسیلوں کے چکر میں پڑجاتا ہے تو وہ اور اس کی آئندہ نسلیں سب کچھ بھول کر ان وسیلوں ہی کو معبود کا درجہ دے دیتے ہیں جس طرح کفا رم کہ بتوں اور فرشتوں کو اللہ سے مانگنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ البتہ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی آدمی اس طرح اللہ سے مانگتا ہے کہ ” اے اللہ فلاں بزرگ جو تیرے نیک اور متقی بندے تھے آپ نے جس طرح ان پر کرم فر مایا تھا اسی طرح میرے اوپر بھی عنایت فر مادیجئے۔ اس طرح کا وسیلہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسی طرح دعا کرنے کو لازمی نہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے بغیر دعا کرنے سے اس کی دعا قبول نہ ہوگی۔ کیونکہ تمام انبیاء کرام اور اللہ کے نیک بندے صرف اللہ ہی سے مانگتے تھے ۔ ہمیں بھی یہی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے بھی اس بات کی اچھی طرح وضاحت کردی گئی ہے کہ جزیرہ العرب کے رہنے والوں کو اگرچہ مختلف انبیاء کرام کی تعلیمات تو پہنچتی تھیں لیکن جس طرح بنی اسرائیل کو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کتابیں دی گئیں تھیں اس طرح عرب والوں کو براہ راست کوئی کتاب نہ دی گئی تھی۔ نیز اسی طرح سینکڑوں سا ل سے ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی نبی اور رسول نہ آیا تھا۔ کفاری مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ تمہارا کتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمہیں اللہ نے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید جو آخری کتاب ہے وہ نعمت کے طور پر عطا کی ہے انہیں اس کی قدر کرنا چاہیے۔ وہ ایسے عظیم المرتبت نبی ہیں جن پر کائنات کا ذکر ذرہ ناز کرتا ہے عرب والوں کو ان کی قدر کرتے ہوئے ایمان لانا چاہیے اسی میں ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بہت زبردست اور طاقت ورقو میں گذری ہیں جو اپنی دولت اور بلند وبالا بلڈنگوں اور اپنے تہذیب و تمدن پر ناز کیا کرتی تھیں لیکن انہوں نے نافرمانی کی بھی حد کردی تھی ان کو انبیاء کرام کے ذریعہ ہر طرح آگاہ اور خبر دار کیا گیا لیکن جب وہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور کفر شرک کے طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوئے تو ان پر اللہ کا فیصلہ آگیا۔ اللہ نے ان کی بستیوں اور ان کے تہذیب و تمدن کو اس طرح تباہ کردیا کہ آج ان کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کو نہ ماننے والے عرب جن کو گذشتہ قوموں کا دسواں حصہ بھی نہیں دیا گیا اگر وہ اسی طرح نافرمانی میں لگے رہے تو ان کا انجام بھی گذشتہ قوموں سے مختلف نہ ہوگا کیونکہ جب اللہ کے رسول اور اس کی تعلیمات کو جھٹلایا جاتا ہے تو پھر اللہ کے فیصلے اور قہر سے بچنا ممکن نہیں ہوتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اس صورت میں امساک سے رزق بڑھ نہیں سکتا، اور انفاق سے حسب الشرع سے گھٹ نہیں سکتا، پس مال سے زیادہ تعلق مت رکھو، بلکہ جہاں جہاں حقوق اللہ و حقوق العیال و حقوق الفقراء وغیرہا میں خرچ کرنے کا حکم ہے بےدھڑک خرچ کرتے رہو کہ اس سے رزق مقسوم میں تو کمی کا ضرر نہ ہوگا اور آخرت کا نفع ہوگا۔ 5۔ رازقین جمع لانا اس اعتبار سے ہے کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے ہاتھ سے دیتے دلاتے ہیں ان کو مجازا رازق قرار دے دیا گیا، اور چونکہ اللہ تعالیٰ رازق حقیقی ہے اس لئے اس کا خیر الرازقین ہونا ظاہر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بےدین مالداروں کا انجام بتلانے کے بعد اب پھر مال کی حقیقت بتلائی جارہی ہے۔ دنیا پرست لوگوں کے دلوں میں یہ بات سما جاتی ہے کہ مال و اسباب اور اقتدار ہماری محنت اور ذہانت کا نتیجہ ہے یہ لوگ اس غلط فہمی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں کہ کسی کو مال اور اقتدار کا ملنا اللہ تعالیٰ کی رضا کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جسے چاہے رزق کشادہ عطا فرمائے اور جس کا چاہے رزق تنگ کر دے یہ اس کی اپنی حکمت ہے کہ دنیا میں اقتدار اور اسباب اکثر ان لوگوں کے پاس رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور اس کے بندوں پر ظلم کرنے والے تھے اور ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اپنے رب سے ڈر ڈر کر زندگی گزار نے والے ہوتے ہیں نہ صرف اکثر ان کی گزران تنگ ہوتی ہے بلکہ ہمیشہ ظالموں کے ظلم کا شکار رہتے ہیں۔ ظالموں کے رزق کو بڑھانا اور نیک لوگوں کا رزق کم رکھنا یہ منعم حقیقی کی مشیّت پر منحصر ہے۔ وہ جس کا چاہے رزق کم کرے اور جس کا چاہے بڑھاتا چلا جائے یہ اس کی مرضی ہے اس میں کسی کا عمل دخل نہیں اور نہ ہی اس کے ہاں یہ کسی کے اچھا اور برا ہونے کا معیار ہے۔ البتہ جو نیک لوگ اس کی رضا کے لیے خرچ کریں گے وہ اس کا بدلہ پائیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہترین رزق دینے والا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے شرف قبولیت بخشتے ہیں۔ پھر اس کو اس طرح بڑھاتے ہیں جس طرح کہ تم اپنے بچھڑے کی پرورش کرکے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔[ رواہ البخاری : باب الصَّدَقَۃِ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ ]

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل ان ربی یبسط ۔۔۔۔۔۔ خیر الرزقین (29) ” یہ سبق ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جس میں وہ تمام لوگ فرشتوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، جو فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قیامت کے عذاب سے ڈرو تو وہ کہتے تھے کہاں ہے قیامت ، لاؤ۔ ان سے کہا جائے گا اب چکھو اس عذاب کو جس کے متعلق تمہیں جلدی تھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ ) (الآیۃ) اس میں اہل ایمان کو فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی ترغیب بھی ہے اور جو کچھ للہ فی اللہ خرچ کریں گے اس کا بدلہ دئیے جانے کا وعدہ بھی ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بہت کچھ ملتا ہے، دنیا میں بھی صلہ دیا جاتا ہے اور آخرت میں تو بہت زیادہ دیا جائے گا۔ (وَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے) حقیقی رازق تو وہی ہے، عربی کے محاورات میں غیر اللہ کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے کہتے ہیں کہ (رزق الامیر الجندی) اسی لیے مفسرین نے (خیر الرازقین) کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ رزق پہنچانے والوں میں وہ سب سے بہتر ہے۔ (قال صاحب روح و معنی الرازقین الموصلین للرزق والموھبین لہ فیطلق الرزاق حقیقۃ اللّٰہ عزوجل وعلیٰ غیرہ ویشعر بذلک) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب بھی صبح ہوتی ہے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک کہتا ہے (اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا) (اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کے بعد اور مال دے) اور دوسرا کہتا ہے (اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا) (اے اللہ روک رکھنے والے کا مال تلف فرما دے۔ ) (رواہ البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ ص ١٦٤) نیز حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ صدقہ کرنے سے کبھی مال میں کمی نہیں ہوتی، اور جس کسی بندے نے کسی کو معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی عزت بڑھا دے گا، اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع اختیار کرے گا تو اللہ اس کو بلند فرمائے گا۔ (رواہ مسلم ص ٣٢١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

41:۔ قل ان ربی الخ : یہ تیسری عقلی دلیل کا اعادہ ہے۔ وما انفقتم الخ : رزق کی فراخی اور تنگی چونکہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس کا بدل عطا فرمائے گا دنیا میں یا آخرت میں یا ہر دو سرا میں۔ ای یعطیکم خلفہ و بدلہ وذلک البدل اما فی الدنیا وا ما فی الاخرۃ (قرطبی ج 14 ص 306) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(39) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو فراخ اور کشادہ کردیتا ہے اور جس کی روزی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور نپی تلی روزی دیتا ہے اور تم جو چیز بھی خیرات کرو گے اللہ تعالیٰ تم کو اس کا عوض اور بدلا عنایت فرمائے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ یعنی روزی کی فراخی اور تنگی حضرت حق تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔ روزی کی تنگی اور فراخی کا تعلق حق و باطل سے نہیں ہے بلکہ اس کی حکمت اور مصلحت دوسری ہے جو مسلمان ایسے مواقع میں خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا حضرت حق کو پسندیدہ ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اس مال کا صلہ عطا فرماتا ہے یعنی دنیا میں یا آخرت میں وہ سب روزی دینے والوں سے بہتر روزی دینے والا ہے یعنی اگر یہاں کوئی مجازی طور پر کسی کو کچھ دیتا بھی ہے تو وہ بھی حق تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے دیتا ہے۔ اس لئے وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔