Surat Saba

Surah: 34

Verse: 40

سورة سبأ

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿۴۰﴾

And [mention] the Day when He will gather them all and then say to the angels, "Did these [people] used to worship you?"

اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Angels will disown Their Worshippers on the Day of Resurrection Allah tells, وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَيِكَةِ ... And (remember) the Day when He will gather them all together, then He will say to the angels: Allah tells us that on the Day of Resurrection, He will rebuke the idolators before all of creation. He will ask the angels whom the idolators used to worship, claiming that their idols were in the form of these angels and that they could bring them nearer to Allah. He will ask the angels: ... أَهَوُلاَء إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ Was it you that these people used to worship? meaning, `did you command them to worship you!' Allah says in Surah Al-Furqan: أَءَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِى هَـوُلاَءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ Was it you who misled these My servants or did they (themselves) stray from the (right) path? (25:17) And He will say to `Isa, peace be upon him: أَءَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَـنَكَ مَا يَكُونُ لِى أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ Did you say unto men: "Worship me and my mother as two gods besides Allah,' He will say: "Glory be to You! It was not for me to say what I had no right (to say)." (5:116)

مشرکین سے سوال ۔ مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کیلئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہو گا ۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں ۔ سوال ہو گا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ جیسے سورہ فرقان میں ہے ( ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ 17؀ۭ ) 25- الفرقان:17 ) یعنی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا ؟ یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہی سوال ہو گا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا ؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزا وار نہ تھا ، اسے میں کیسے کہدیتا ؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برات ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے تیرا کوئی شریک ہو ۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں ۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے ۔ شیطانوں نے ہی ان کے لئے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کر دیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا ۔ جیسے فرمان باری ہے ( اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا ١١٧؁ۙ ) 4- النسآء:117 ) یعنی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں ۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے ، پس جن جن سے تم مشرکو! لو ( امید ) لگائے ہوئے تھے ، ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا ۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہو جائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں ۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

40۔ 1 یہ مشرکوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا، جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھے گا ' کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں (مریم) کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا ؟ ' (وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ) 5 ۔ المائدہ :116) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے ' یا اللہ تو پاک ہے، جس کا مجھے حق نہیں تھا، وہ بات میں کیوں کر کہہ سکتا تھا ؟ ' اسی طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں سے بھی پوچھے گا جیساہ سورة الفرقان (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ ) 25 ۔ الفرقان :17) میں بھی گزرا۔ کہ کیا یہ تمہارے کہنے پر تمہاری عبادت کرتے تھے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦٢] مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے ادوار کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں یا ان قبروں کو پوجتے ہیں۔ بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والا پہلے سرج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسمہ بناتے ہیں۔ پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسمہ کے ساتھ سورج کی روح کا بروقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسمہ کو پوجتے ہیں تو یہ دراصل اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین کے اس طرح کی کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے۔ پھر یہ مجسمے مظاہر قدرت کے ہی نہیں بلکہ بعض صفات کے بھی ہوتے تھے۔ اور ان صفات کو بھی سیاروں سے منسوب کردیا جاتا تھا۔ مثلاً فلاں علم کی دیوی، فلاں دولت کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر کچھ مشرک فرشتوں کے خیالی مجسمے بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ مشرکین عرب کی ایک کثیر تعداد ایسی ہی تھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اور لات و منات اور عزیٰ کے مجسمے بنا کر ان کی عبادت کرتے تو سمجھتے یہی تھے کہ ہم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ارواح ان مجسموں یا بتوں سے وابستہ رہتی ہیں۔ اسی طرح قبر پرست بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم اس قبر کے پرستار نہیں بلکہ ہماری سب نیاز مندیاں اور نذریں نیازیں تو صاحب قبر کے لئے ہیں۔ جس کی روح اس کی قبر کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔ ان تمام معبودوں سے چونکہ فرشتے ہی برتر مخلوق ہیں۔ لہذا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو شرمندہ کرنے اور انہیں حسرت دلانے کے لئے انہی سے سوال کرے گا کہ یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے ؟ کیا تم نے انہیں ایسا کہا تھا کہ تمہاری عبادت کیا کریں ؟ یا کچھ اس قسم کی آرزو تم نے کی تھی ؟ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں کے علاوہ دوسرے معبودوں سے بھی ایسا سوال کرے گا اور حضرت عیسیٰ سے متعلق ایسا سوال تو بالتفصیل اور بالصراحت قرآن میں مذکور ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ۔۔ : اس کا عطف ” وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ “ پر ہے۔ پہلے مستکبرین کے مستضعفین سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کی بری حالت کا نقشہ کھینچا ہے، اب فرشتوں کے ان سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کے ذلیل و خوار اور بےیارو مددگار ہونے کا ذکر فرمایا۔ 3 مفسر عبدالرحمان کیلانی (رض) لکھتے ہیں : ” مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے دور کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں، یا ان قبروں کو پوجتے ہیں، بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والے پہلے سورج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں، پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسّمہ بناتے ہیں، پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسّمے کے ساتھ سورج کی روح کا ہر وقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسّمے کو پوجتے ہیں تو دراصل یہ اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین نے اس طرح کی کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے، پھر یہ مجسّمے مظاہر قدرت ہی کے نہیں بلکہ بعض صفات کے بھی ہوتے تھے اور ان صفات کو بھی سیاروں سے منسوب کردیا جاتا تھا۔ مثلاً فلاں علم کی دیوی، فلاں دولت کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ، پھر کچھ مشرک فرشتوں کے خیالی مجسّمے بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ مشرکین عرب کی ایک کثیر تعداد ایسی ہی تھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور لات، منات اور عزیٰ کے مجسّمے بنا کر ان کی عبادت کرتے، تو سمجھتے یہی تھے کہ ہم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ارواح ان مجسّموں یا بتوں سے وابستہ رہتی ہیں۔ اسی طرح قبر پرست بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم اس قبر کے پرستار نہیں، بلکہ ہماری سب نیاز مندیاں اور نذریں نیازیں تو صاحب قبر کے لیے ہیں، جس کی روح اس کی قبر کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔ ان تمام معبودوں سے چونکہ فرشتے ہی برتر مخلوق ہیں، لہٰذا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو شرمندہ کرنے اور انھیں حسرت دلانے کے لیے انھی سے سوال کرے گا کہ یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے ؟ کیا تم نے انھیں ایسا کہا تھا کہ تمہاری عبادت کیا کریں، یا کچھ اس قسم کی آرزو تم نے کی تھی ؟ اور یہ سوال اگرچہ فرشتوں سے ہوگا مگر مقصد ان کی پوجا کرنے والوں کو رسوا اور لاجواب کرنا ہوگا۔ “ 3 قیامت کے روز یہ سوال فرشتوں ہی سے نہیں ہوگا بلکہ ان تمام ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت ہوتی تھی۔ سورة فرقان میں ہے : (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ ) [ الفرقان : ١٧ ] ” اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے ؟ “ اور سورة مائدہ میں ہے : (وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ ) [ المائدۃ : ١١٦ ] ” اور جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور (وہ دن قابل ذکر ہے) جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو (میدان قیامت میں) جمع فرمائے گا، پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے (ملائکہ سے یہ سوال مشرکین کو لاجواب کرنے کے لئے ہوگا، جو ملائکہ اور غیر الملائکہ کو اس خیال سے پوجتے تھے کہ یہ راضی ہو کر ہماری شفاعت کریں گے، جیسے ایک آیت میں اس طرح کا سوال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کیا گیا ہے، (آیت) أانت قلت للناس۔ مطلب سوال کا یہ ہے کہ کیا تمہاری رضا سے تمہاری عبادت کیا کرتے تھے، ونیز جواب میں بھی اسی قید کا قرینہ ہے جیسا ترجمہ جواب سے معلوم ہوگا) وہ (اول حق تعالیٰ کا شریک سے بالاتر اور پاک ہونا ظاہر کرنے کے لئے) عرض کریں گے کہ آپ (شریک سے) پاک ہیں (یہ جواب سے پہلے اس لئے کہا گیا کہ ان کی طرف جو نسبت الیٰ الشریک کی حکایت کی گئی ہے اس سے گھبرا کر پہلے یہ جملے عرض کئے پھر آگے اس سوال کا جواب یہ دیں گے کہ) ہمارا تو (محض) آپ سے تعلق ہے نہ کہ ان سے (اس سے رضا اور امر دونوں کی نفی ہوگئی۔ یعنی نہ ہم نے ان سے کہا نہ ہم ان کے فعل سے راضی ہم تو آپ کے مطیع ہیں جو چیز آپ کو ناپسند ہے مثل شرک وغیرہ اس سے ہم بھی ناخوش ہیں، جب اس شرک میں نہ ہمارا امر ہے نہ رضا تو فی الواقع یہ ہماری عبادت نہ کرتے تھے) بلکہ یہ لوگ شیاطین کو پوجا کرتے تھے (کیونکہ شیاطین ہی اس کی ترغیب بھی دیتے تھے اور اس سے راضی بھی تھے اس لئے وہی ان کے معبود ہوئے۔ کیونکہ عبادت مستلزم ہے اطاعت مطلقہ کو کہ اس کے سامنے اور کسی کی اطاعت نہ کرے، اسی طرح ایسی اطاعت مطلقہ مستلزم ہے عبادت کو پس جب ہماری طرف سے امر و رضا متحقق نہیں تو ہماری اطاعت نہ ہوئی، اور جب شیاطین کی اطاعت مطلقہ کی تو عبادت بھی درحقیقت انہی کی ہوئی، گو یہ لوگ اس کا نام کچھ ہی رکھیں، عبادت ملائکہ کہیں یا بتوں کی عبادت مگر واقع میں وہ عبادت شیاطین ہی کی ہے اور جیسا تقریر مذکور سے ان لوگوں کا عابد شیاطین ہونا لازم آیا اسی طرح ان میں اکثر لوگ (التزاماً بھی) انہی (شیاطین) کے معتقد تھے (یعنی قصداً بھی بہت سے ان کو پوجتے تھے، جیسے سورة جن کی آیت میں ہے (آیت) وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن وغیر ذلک من الآیات) سو (کافروں سے کہا جائے گا کہ جن سے تم امیدیں رکھتے تھے) آج (خود ان کی اس برات سے بھی اور ان کے عجز وبے بسی سے بھی تمہارے گمان کے خلاف یہ حالت ظاہر ہوئی کہ) تم (مجموع عابدین و معبودین) میں سے نہ کوئی کسی کو نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نقصان پہنچانے کا (مطلب تو یہ ہے کہ یہ معبودین تم کو نفع نہیں پہنچا سکتے، مگر مبالغہ کے لئے بعضکم لبعض سے تعبیر فرمایا تاکہ اس ابہام سے دونوں کی برابری اس امر میں ثابت ہوجائے کہ جیسے تم عاجز ہو وہ بھی عاجز ہیں اور ضرر کا ذکر تعمیم عجز کے لئے ہے اس سے کلام اور بھی موکد ہوگیا) اور (اس وقت) ہم ظالموں (یعنی کافروں) سے کہیں گے کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ يَحْشُرُہُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اَہٰٓؤُلَاۗءِ اِيَّاكُمْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ۝ ٤٠ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جس روز اللہ تعالیٰ بنو ملیح اور فرشتوں کو جمع فرمائے گ پھر فرشتوں سے ارشاد ہوگا کیا یہ لوگ تمہارے حکم سے تمہاری عبادت کیا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٠ { وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰٓؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ } ” اور جس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو ‘ پھر فرشتوں سے فرمائے گا : کیا یہ لوگ تمہیں پوجا کرتے تھے ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

61 Since the earliest times the polytheists in every age have been looking upon the angels as gods and goddesses and carving their idols and worshipping them. One has been regarded as the god of rain, another of lightning and another of wind; one is the goddess of wealth, another of knowledge and another of life and death. About this Allah says that on the Day of Resurrection the angels will be asked: °Were you being worshipped as deities by these people?" This question is not meant merely to find out the truth, but to ask, "Did you approve of their worship? Did you tell the people that you were their deities, so they should worship you? Or, did you wish that the people should do obeisance to you?" This question will not only be asked of the angels but of aII those beings who have been worshipped as gods in the world. In Surah AI-Furqan it has been said: "On that Day (Allah) will gather all these people together as well as their deities, whom they worship beside Allah. Then he will ask them, 'Did you mislead these servants of Mine, or did they themselves go astray?' " (V. 17).

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :61 قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور کے مشرکین فرشتوں کو دیوی اور دیوتا قرار دے کر ان کے بت بناتے اور ان کی پرستش کرتے رہے ہیں ۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی بجلی کا اور کوئی ہوا کا ۔ کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی علم کی اور کوئی موت و ہلاکت کی ۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ قیامت کے روز ان فرشتوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم ہی ان لوگوں کے معبود بنے ہوئے تھے؟ اس سوال کا مطلب محض دریافت حال نہیں ہے بلکہ اس میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ کیا تم ان کی اس عبادت سے راضی تھے؟ کیا تم نے یہ کہا تھا کہ لوگو ہم تمہارے معبود ہیں ، تم ہماری پوجا کیا کرو؟ یا تم نے یہ چاہا کہ یہ لوگ تمہاری پوجا کریں؟ قیامت میں یہ سوال صرف فرشتوں ہی سے نہیں بلکہ تمام ان ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت کی گئی ہے ۔ چنانچہ سورہ فرقان میں ارشاد ہوا ہے : وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعبُدُوْن مِنْ دُوْنِ اللہِ فَیَقُوْلُءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤُلَآءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ ۔ ( آیت 17 ) جس روز اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اور ان ہستیوں کو جن کی یہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں جمع کریگا ، پھر پوچھے گا کہ تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٠ تا ٤٢۔ اوپر گزر چکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگوں میں کا ایک گروہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا اس اعتقاد سے کیا کرتا تھا کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشت اپنی پوجا کرنے والوں کی شفاعت بارگاہ الٰہی میں کر کے انہیں عذاب دوزخ سے بچالیں گے اس کے جواب میں فرمایا کہ جس دن ان فرشتہ پر ستوں کو سب مخلوقات کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ان کے قائل کرنے کے لیے فرشتوں سے خفگی کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری مورتوں کی دنیا میں پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے فرشتے یہ بات سن کر عرض کریں گے یا اللہ تو اس سے پاک ہے کہ تیرے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہو تو ہمارا کارساز ہے اور ہم تیرے بندے ہیں تو خوب جانتا ہے کہ ان لوگوں کے دل میں شیطان نے ہمارے نزدیک کو پوجنے کا وسوسہ ڈال دیا تھا ہماری مرضی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے ‘ فرشتوں کے اس سچے جواب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان فرشتہ پرستوں کو فرتوں کی شفاعت سے ناامید کرنے کے لیے فرمائے گا کہ آج کے دن کا نفع نقصان عذاب وثواب سب اسی کے ہاتھ ہے اس کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا اس ارشاد کے بعد سزاو جزا کے جھٹلانے والوں کو دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھنے کا حکم ہوجائے گا ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ١ ؎ ہے (١ ؎ مشکوۃ باب الحب فی اللہ ومن اللہ فصل اول۔ ) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیک کاموں کے سبب سے جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت ہوتی ہی تو اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) سب آسمانوں کے فرشتوں کو اس کی خبر کردیتے ہیں جس سے آسمان کے فرشتے ایسے لوگوں کی محبت کا دم بھرنے لگتے ہیں اور ان کے لیے دعا خیر کیا کرتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم ١ ؎ میں بھی ہے اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ برے کاموں کے سبب سے جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے غصہ کی نظر ہوتی ہے اس کی اطلاع بھی سب فرشتوں کو ہوجاتی ہے جس سے سب فرشت ایسے لوگوں سے بیزار رہتے ہیں ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ قیامت کے دن جس سوال و جواب کا ذکر آیتوں میں ہے اگرچہ اس سوال و جواب سے پہلے اللہ کے فرشتے ان فرشتہ پرست لوگوں سے بیزار اور ان کو برا جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کی بھی فرشتوں کی یہ بیزاری خوب معلوم تھی لیکن فقط اس فرشتہ پرست فرتے کے ذلیل کرنے کے لیے یہ سوال و جواب اس دن ہوگا تا کہ اس فرشتہ پرست فرقہ کو معلوم ہوجائے کہ جن فرشتوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجا کرتے وہ فرشتے اللہ کو اپنا کار ساز اور اپنے آپ کو اللہ کا بندہ جانتے اور اس شرک سے نہایت درجہ بیزار تھے یہ سوال و جواب ایسا ہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ اس دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پو (رح) چھے گا کہ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ وہ تم کو اور تمہاری ماں کو معبود ٹھہراویں اور حضرت اس سوال کا وہ جواب دیں گے جس کا ذکر سورة مائدہ میں گزرا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:40) یوم۔ ای اذکر یوم۔ فعل مضمر کا مفعول ہے یاد کر وہ دن۔ یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب حشر مصدر (باب نصر) وہ جمع کرے گا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب یہاں ہم ضمیر کا مرجع المستکبرین۔ المستضعفین اور ما کانوا یعبدون من دون اللہ ہے۔ یعنی متکبر لوگ (جو لوگوں کر گمراہ کیا کرتے تھے) ادنی لوگ (جو اپنی کم فہمی یا کمزوری سے بڑوں کہے پر گمراہ ہوگئے تھے ) اور وہ جن کی اللہ کے سوا یہ دونوں فریق پوجا کیا کرتے تھے ۔ (اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کردیں گے ) ۔ اھؤلاء میں ہمزہ استفہام کا ہے۔ ھؤلاء اسم اشارہ جمع یہ سب لوگ۔ وہی لوگ جن کے لئے آیت سابقہ میں ہم آیا ہے۔ ایاکم۔ تم سب کو۔ جمع مذکر حاضر کی ضمیر منصوب منفصل۔ یہاں خطاب فرشتوں سے ہے۔ (اے فرشتو) کیا یہ سب لوگ (متکبرین ۔ ادنی۔ اور وہ جن کی اللہ کے سوا پہلے دونوں فریق عبادت کیا کرتے تھے) تمہاری پوجا کیا کرتے تھے ؟ کانوا یعبدون۔ میں ضمیر فاعل جمع مذکر ھؤلاء کی طرف راجع ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ ہم تمہارے معبود ہیں، تم ہماری عبادی کیا کرو ؟ اور کیا تم اس سے خوش تھے کہ وہ تمہاری پوجا کریں ؟ قیامت کے روز یہ سوال فرشتوں ہی سے نہیں ہوگا بلکہ ان تمام ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت ہوتی تھی۔ سورة فرقان میں ہے ( ویوم یحشر ھم وما یعبدون من دون اللہ فیقول انتم اضللتھم عبادی ام ھم ضلوا السبیل) جس روز انہیں اور ان کے باطل معبودوں کو جمع کرے گا اور ان سے فرمائے گا کہ کیا تم نے ان لوگوں کو گمراہ کیا یا وہ خود گمراہ ہوئے۔ ( آیت 17) اور سورة مائدہ میں ہے ( واذا قال اللہ یعیسی ابن مریم انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ) اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) ! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟ (آیت 116) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں مال کو کفر و شرک کا ایک سبب قرار دیا ہے جس پر اترا کر لوگ کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد مال کا انجام ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی نیکو کار مخیرحضرات کا تذکرہ فرمایا کہ وہ جو خرچ کرتے ہیں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب ان مشرکوں کا عقیدہ اور انجام ذکر کیا جاتا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین میں ہمیشہ سے ایک طبقہ ایسا رہا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتا اور ان سے مدد طلب کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ قیامت کے دن ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ ایسے لوگوں کے سامنے ملائکہ کو کھڑے کر کے سوال کیا جائے گا کہ بتلاؤ یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے اور تمہارا ان کے ساتھ کیا واسطہ تھا ؟ ملائکہ دست بستہ ہو کر عرض کریں گے کہ بار الٰہا آپ تو ہر قسم کے شرک سے پاک اور مبرّا ہیں جہاں تک ہمارا معاملہ ہے۔ ہمارا مشرکوں سے کیا واسطہ، ہمارے مالک تو آپ ہیں یہ لوگ ہمارے نام پر جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور انکاجنات پر ہی ایمان تھا۔ ملائکہ کی برأت کے بعد رب ذو الجلال اعلان فرمائیں گے کہ آج تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نفع اور نقصان دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اس کے بعد حکم صادر ہوگا کہ انہیں جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ جہنم کو جھٹلایا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ ملائکہ کو ” اللہ “ کی بیٹیاں قرار دینے اور ان کی عبادت کرنے والے صرف مکہ اور عرب کے مشرک ہی نہ تھے بلکہ آج بھی جاپان، فرانس اور دیگر ممالک میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی عبادت کرتے اور ان سے مدد مانگتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن ملائکہ ہمارے سفارشی ہوں گے۔ (کَانُوْا إِذَا نَزَلُوْا الْوَادِیَ قَالُوْا نَعُوْذُ بِسِیِّدِ ہٰذَا الْوَادِیْ مِنْ شرِّ مَا فِیْہِ ، فَتَقُوْلُ الْجِنُّ م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا نَمْلکُِ لَکُمْ وَلَا لِاأنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعاً )[ تفسیر الطبری : تفسیر سورة الجن ] ” عرب لوگ جاہلیت میں جب کسی جنگل یا وادی میں سفر کرتے تو آوازیں دیتے کہ ہم اس جنگل کی چیزوں کے شر سے سردار جن سے پناہ مانگتے ہیں۔ جن آگے سے جواب دیتے کہ ہم نہ تمہارے اور نہ اپنے نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ مشرکوں میں ایک طبقہ ہمیشہ سے ملائکہ اور جنّات کی عبادت کرتا آرہا ہے۔ ٢۔ قیامت کے دن ملائکہ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کی برأت کریں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک اور مبرّا ہے۔ ٤۔ مشرکوں کو جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا اور آخرت میں کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن ملائکہ کی حالت : ١۔ قیامت کے دن تمام فرشتے اور جبرائیل (علیہ السلام) اپنے رب کے روبرو قطار میں کھڑے ہوں گے۔ (النباء : ٣٨) ٢۔ قیامت کے دن فرشتے صف بنا کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (الفجر : ٢٢) ٣۔ قیامت کے دن فرشتے جنتیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے انہیں جنت میں داخل کریں گے۔ (الرعد : ٢٣، ٢٤) ٤۔ قیامت کے دن ملائکہ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کا انکار کردیں گے۔ (سبا : ٤١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42) ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔ بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔ یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔ فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ و یوم یحشرھم الخ : یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جنہوں نے فرشتوں کو سفارشی اور کارساز سمجھ رکھا ہے۔ قیامت کے دن جب عابدین و معبودین کو جمع کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا، کیا یہ (فرشتوں کے پجاریوں کی طرف اشارہ ہے) دنیا میں تمہاری عبادت کیا کرتے تھے اور حاجات میں تمہیں پکارا کرتے تھے ؟ ، قالوا سبحنک الخ : فرشتے جواب میں عرض کریں گے۔ بارے الٰہا ! تو تو ہر قسم کے شریک سے پاک ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان ولایت و موالات کا کوئی تعلق نہیں تو ہی ہمارا ولی و ناصر ہے ای انت الذی توالیہ من دونھم لا موالاۃ بیننا و بینہم (روح ج 22 ص 151) ۔ سبحنک ننزھک عن ان یکون غیرک معبودا وانت معبودنا و معبود کل شیء (کبیر ج 7 ص 22) ۔ بل کانوا الخ : حقیقت میں یہ لوگ جنات کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہیں کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے جنوں کے کارساز ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے۔ قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنات کی عبادت کرتے تھے۔ جنات کبھی ان کے سامنے ظاہر بھی ہوجاتے تو وہ سمجھتے یہ فرشتے ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ان حیا یقال لہم بنو ملیح من خزاعۃ کانوا یعبدون الجن و یزعمون ان الجن تراءی لہم وانہم ملائکۃ وانہم بنات اللہ الخ (قرطبی ج 14 ص 309) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(40) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو میدان قیامت میں جمع فرمائے گا پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے اور تم کو پوجتے تھے۔ یعنی کیا تمہاری رضامندی اور تمہاری اجازت سے تم کو پوجتے تھے کیونکہ اکثر مشرکین فرشتوں کو روحانی قوت سمجھ کر پوجتے تھے بعض کواکب پرست فرشتوں کو ستاروں کی روح سمجھ کر پوجتے تھے۔ حق تعالیٰ کے اس سوال پر فرشتے عرض کریں گے۔