The Saying of the Disbelievers about the Prophets, and its refutation
Allah tells;
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ايَاتُنَا بَيِّنَاتٍ
...
And when Our Clear Verses are recited to them,
Allah tells us that the disbeliever deserve to be severely punished by Him, because when His clear Verses were recited to them, and they heard them fresh from the lips of His Messenger, they said:
...
قَالُوا مَا هَذَا إِلاَّ رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ابَاوُكُمْ
...
They say: "This is naught but a man who wishes to hinder you from that which your fathers used to worship."
meaning, that the religion of their fathers was the truth and that what the Messenger brought to them was false -- may the curse of Allah be upon them and their fathers!
...
وَقَالُوا مَا هَذَا إِلاَّ إِفْكٌ مُّفْتَرًى
...
And they say: "This is nothing but an invented lie."
referring to the Qur'an.
...
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءهُمْ إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
And those who disbelieve say of the truth when it has come to them: "This is nothing but evident magic!"
Allah says:
وَمَا اتَيْنَاهُم مِّن كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا وَمَا أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِن نَّذِيرٍ
کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے؟
کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنتے ہیں ، قبول کرنا ، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف ، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں ، بالکل ظاہر ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے ۔ اس لئے انہیں مدتوں سے متنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے زیادہ مطیع اور پابند ہو جاتے ۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے ، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں ۔ وہ قوت و طاقت ، مال و متاع ، اسباب دنیوی ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے ۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے ، نہ اولاد اور کنبے قبییل کام آئے ۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا ۔ برباد کر دیئے گئے جیسے فرمایا ( وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً 26ۧ ) 46- الأحقاف:26 ) یعنی ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی ۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے ، دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا ۔ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے ۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے ، جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے ۔ تم غور کر لو! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا ؟