Surat Saba

Surah: 34

Verse: 5

سورة سبأ

وَ الَّذِیۡنَ سَعَوۡ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿۵﴾

But those who strive against Our verses [seeking] to cause failure - for them will be a painful punishment of foul nature.

اور ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی جنہوں نے کوشش کی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي ايَاتِنَا مُعَاجِزِينَ ... That He may recompense those who believe and do righteous good deeds. Those, theirs is forgiveness and generous provision. But those who strive against Our Ayat to frustrate them, meaning, those who try to turn others away from the path of Allah and who disbelieve His Messengers, ... أُوْلَيِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ those, for them will be a severe painful torment. This means, He will bestow His favor upon the blessed, who are the believers, and will punish the doomed, who are the disbelievers. This is like the Ayah: لااَ يَسْتَوِى أَصْحَـبُ النَّارِ وَأَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَأيِزُونَ Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise. It is the dwellers of Paradise that will be successful. (59:20) أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ Shall We treat those who believe and do righteous good deeds like those who cause mischief on the earth Or shall We treat those who have Taqwa as the evildoers. (38:28)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی ہماری ان آیتوں کے بطلان اور تکذیب کی جو ہم نے پیغمبروں پر نازل کیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم ان کی گرفت سے عاجز ہونگے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد ہم مٹی میں مل جائیں گے تو ہم کس طرح دوبارہ زندہ ہو کر کسی کے سامنے اپنے کیے دھرے کی جواب دہی کریں گے ؟ ان کا یہ سمجھنا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مواخذہ کرنے پر قادر ہی نہیں ہوگا، اس لئے قیامت کا خوف ہمیں کیوں ہو ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٨] یعنی ایسی سازشوں اور کوششوں میں اپنی ساری عمر گزار دی کہ کہیں اسلام کو غلبہ اور سربلندی حاصل نہ ہوجائے۔ یا اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے عقیدہ آخرت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے اور انھیں ان کے ناپاک ارادوں کے عوض عذاب بھی اسی قسم کا دیا جائے گا۔ سابقہ آیات میں ایمانداروں کے لئے رزق کریم اور مغفرت دونوں کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصائب و مشکلات اور فقر و فاقہ میں زندگی گزارنے والے مومنوں کو عزت کی روزی بھی ملے گی اور مغفرت بھی ہوگی اور جن ایمانداروں کو ابتلاء کا دور دیکھنا ہی نہیں پڑا ان کی بھی مغفرت ضرور ہوجائے گی۔ اسی طرح جن کافروں کا جرم صرف کفر تک ہی محدود رہا اور انہوں نے مخالفانہ اور معاندانہ سرگرمیوں اور سازشوں میں حصہ نہیں لیا انھیں صرف جہنم کا عذاب ہوگا۔ جو ناپاک قسم کا اور ذلیل و خوار کرنے والا نہ ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ ۔۔ : ” رجز “ کا معنی ہے ” أَسْوَأُ الْعَذَابِ “ (بد ترین عذاب) یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے عاجز کردیں اور نیچا دکھا دیں، کبھی انھیں جادو کہتے ہیں، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کے افسانے، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، ان کے لیے بدترین قسم کے عذاب کی سزا ہے، جو نہایت المناک ہے۔ مراد جہنم ہے، جس سے زیادہ بری اور درد ناک سزا کوئی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

And in contrast to them stand: الَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا (5) i.e. those who made efforts to find faults with Our verses and tried to stop people from believing in them. The word: مُعَاجِزِينَ which appears immediately after the verse cited above means that this effort by them was as if they would render Us helpless in seizing them and would thus go scot-free from having to be present on the last day of Qiyamah. The sentence that follows immediately after: أُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّن رِّ‌جْزٍ أَلِيم ; means that these people shall receive punishment, a severe punishment that will be painful.

اور ان کے مقابل (آیت) الذین سعوافی ایتنا، یعنی وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات پر اعتراض کئے اور لوگوں کو ان کے ماننے سے روکنے کی کوشش کی۔ معجزین یعنی ان کی یہ کوشش گویا اس لئے تھی کہ وہ ہمیں گرفت سے عاجز کردیں گے اور قیامت کی حاضری سے چھوٹ جائیں گے۔ (آیت) اولئک لہم عذاب من رجز الیم، یعنی ایسے لوگوں کے لئے عذاب ہوگا رجز الیم کا جس کے معنی سخت عذاب کے ہیں جو دردناک ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِــيْمٌ۝ ٥ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأكثر ما يستعمل السَّعْيُ في الأفعال المحمودة، قال الشاعر : 234- إن أجز علقمة بن سعد سعيه ... لا أجزه ببلاء يوم واحد «3» وقال تعالی: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] ، أي : أدرک ما سعی في طلبه، وخصّ المشي فيما بين الصّفا والمروة بالسعي، وخصّت السّعاية بالنمیمة، وبأخذ الصّدقة، وبکسب المکاتب لعتق رقبته، والمساعاة بالفجور، والمسعاة بطلب المکرمة، قال تعالی: وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] ، أي : اجتهدوا في أن يظهروا لنا عجزا فيما أنزلناه من الآیات . ( س ع ی ) السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ عدو ( سرپٹ دوڑ ) سے کم درجہ ( کی رفتار ) ہے ( مجازا ) کسی اچھے یا برے کام کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ۔ نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8]( بلکہ ) ان کا نور ( ایمان ) ان کے آگے ۔۔۔۔۔۔ چل رہا ہوگا ۔ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] اور ملک میں فساد کرنے کو ڈوڑتے بھریں ۔ وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں ( فتنہ انگریزی کرنے کے لئے ) دوڑتا پھرتا ہے ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی ۔ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے ۔ وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] تو اس کی کوشش رائگاں نی جائے گی لیکن اکثر طور پر سعی کا لفظ افعال محمود میں استعمال ہوتا ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) 228 ) ان جز علقمہ بن سیف سعیہ لا اجزہ ببلاء یوم واحد اگر میں علقمہ بن سیف کو اس کی مساعی کا بدلہ دوں تو ایک دن کے حسن کردار کا بدلہ نہیں دے سکتا اور قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] جب ان کے ساتھ دوڑ نے کی عمر کو پہنچا ۔ یعنی اس عمر کو پہنچ گیا کہ کام کاج میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے اور مناسب حج میں سعی کا لفظ صفا اور مردہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہوچکا ہے اور سعاد یۃ کے معنی خاص کر چغلی کھانے اور صد قہ وصول کرنے کے آتے ہیں اور مکاتب غلام کے اپنے آپ کو آزاد کردانے کے لئے مال کمائے پر بھی سعایۃ کا لفظ بولا جاتا ہے مسا عا ۃ کا لفظ فسق و محور اور مسعادۃ کا لفظ اچھے کاموں کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں اپنے زعم باطل میں ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی میں سعی کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے ہماری نازل کر آیات میں ہمارے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے پوری طاقت صرف کر دالی ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ عجز والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ رجز أصل الرِّجْزِ : الاضطراب، ومنه قيل : رَجَزَ البعیرُ رَجَزاً ، فهو أَرْجَزُ ، وناقة رَجْزَاءُ : إذا تقارب خطوها واضطرب لضعف فيها، وشبّه الرّجز به لتقارب أجزائه وتصوّر رِجْزٍ في اللسان عند إنشاده، ويقال لنحوه من الشّعر أُرْجُوزَةٌ وأَرَاجِيزُ ، ورَجَزَ فلان وارْتَجَزَ إذا عمل ذلك، أو أنشد، وهو رَاجِزٌ ورَجَّازٌ ورِجَّازَةٌ. وقوله : عَذابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ [ سبأ/ 5] ، فَالرِّجْزُ هاهنا کالزّلزلة، وقال تعالی: إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلى أَهْلِ هذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِنَ السَّماءِ [ العنکبوت/ 34] ، وقوله : وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] ، قيل : هو صنم، وقیل : هو كناية عن الذّنب، فسمّاه بالمآل کتسمية النّدى شحما . وقوله : وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّماءِ ماءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطانِ [ الأنفال/ 11] ، والشّيطان عبارة عن الشّهوة علی ما بيّن في بابه . وقیل : بل أراد برجز الشّيطان : ما يدعو إليه من الکفر والبهتان والفساد . والرِّجَازَةُ : کساء يجعل فيه أحجار فيعلّق علی أحد جانبي الهودج إذا مال وذلک لما يتصوّر فيه من حرکته، واضطرابه . ( ر ج ز ) الرجز اس کے اصل معنی اضطراب کے ہیں اور اسی سے رجز البعیر ہے جس کے معنی ضعف کے سبب چلتے وقت اونٹ کی ٹانگوں کے کپکپائی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے ہیں ایسے اونٹ کو ارجز اور ناقہ کو رجزاء کہا جاتا ہے اور شعر کے ایک بحر کا نام بھی رجز ہے جس میں شعر پڑھنے سے زبان میں اضطراب سا معلوم ہوتا ہے اور جو قصیدہ اس بحر میں کہا جائے اسے ارجوزۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع اراجیز آتی ہے اور رجز فلان وارتجز کے معنی بحر رجز پر شعر بنانے يا ارجوه پڑہنے کے ہیں اور رجز گو شاعر کو راجز ، رجاز اور رجازۃ کہا جاتا ہے ۔ اور آیت : ۔ عَذابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ [ سبأ/ 5]( ان کیلئے ) عذاب دردناک کی سزا ہے ۔ میں لفظ رجز زلزلہ کی طرح عذاب سے کنایہ ہے ۔ اور فرمایا : ۔ إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلى أَهْلِ هذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِنَ السَّماءِ [ العنکبوت/ 34] ہم ان پر ایک آسمانی آفت نازل کرنے والے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] اور نجاست سے الگ رہو ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رجز سے بت مراد ہیں ۔ بعض نے اس سے ہر وہ عمل مراد لیا ہے جس کا نتیجہ عذاب ہو اور گناہ کو بھی مآل کے لحاظ سے عذاب کہا جاسکتا ہے جیسے ندی بمعنی شحم آجاتا ہے اور آیت : ۔ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّماءِ ماءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطانِ [ الأنفال/ 11] اور آسمانوں سے تم پر پانی برسا رہا تھا تاکہ اس کے ذریعہ سے تم کو پاک کرے اور شیطانی گندگی کو تم سے دور کرے ۔ میں رجز الشیطان سے مراد خواہشات نفسانی ہیں جیسا کہ اس کے محل میں بیان کیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے کفر بہتان طرازی فساد انگیزی وغیرہا گناہ مراد ہیں جن کی کہ شیطان ترغیب دیتا ہے ۔ رجازۃ وہ کمبل جس میں پتھر وغیرہ باندھ کر اونٹ کے ہودہ کا توازن قائم رکھنے کیلئے ایک طرف باندھ دیتے ہیں اس میں بھی حرکت و اضطراب کے معنی ملحوظ ہیں ۔ ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جن لوگوں نے رسول اکرم اور قرآن کریم کو جھٹلایا تھا وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ { وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ} ” اور جو لوگ ہماری آیات کو شکست دینے کے لیے کوشاں رہے ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 The above was an argument for the possibility of the Hereafter: this is an argument for its need ard necessity. It means: A time must come when the wicked should be requited for their wickedness and the righteous rewarded for their righteousness. Reason wants and justice demands that a worker of goodness should be rewarded and a worker of evil punished. Now when you see that in the present worldly life neither is an evildoer fully requited for his evil nor a worker of goodness for his goodness, rather there are opposite results of evil and goodness in most cases, you should admit that this necessary demand of both reason and justice must be fulfilled at some time in the future. Resurrection and the Hereafter will be the same time. It is not its coming but its not coming which is contrary to reason and against justice. In this connection, another point becomes evident from the preceding verses. They tell that the result of faith and righteous acts is forgiveness and a bounteous provision, and for those who strive and act antagonistically in order to discredit and defeat Allah's Religion, there will be a torment of the worst kind. This makes it manifest that he who believes sincerely will not be deprived of forgiveness even though he may not get a bounteous provision owing to some flaw or weakness in his deeds. And the one who is a disbeliever but who dces not adopt an attitude of enmity and antagonism towards the true Faith, will not be able to avoid the torment but he will be saved from the worst torment.

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :8 اوپر آخرت کے امکان کی دلیل تھی ، اور یہ اس کے وجوب کی دلیل ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا وقت ضرور آنا ہی چاہیے جب ظالموں کو ان کے ظلم کا اور صالحوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیا جائے ۔ عقل یہ چاہتی ہے اور انصاف یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو نیکی کرے اسے انعام ملے اور جو بدی کرے وہ سزا پائے ۔ اب اگر تم دیکھتے ہو کہ دنیا کی موجودگی میں نہ ہر بد کو اس کی بدی کا اور نہ ہر نیک کو اس کی نیکی کا پورا بدلہ ملتا ہے ، بلکہ بسا اوقات بدی اور نیکی کے الٹے نتائج بھی نکل آتے ہیں ، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ عقل اور انصاف کا یہ لازمی تقاضا کسی وقت ضرور پورا ہونا چاہیے ۔ قیامت اور آخرت اسی وقت کا نام ہے ۔ اس کا آنا نہیں بلکہ نہ آنا عقل کے خلاف اور انصاف سے بعید ہے ۔ اس سلسلہ میں ایک اور نکتہ بھی اوپر کی آیات سے واضح ہوتا ہے ۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کا نتیجہ مغفرت اور رزق کریم ہے ۔ اور جو لوگ خدا کے دین کو نیچا دکھانے کے لیے معاندانہ جدوجہد کریں ان کے لیے بدترین قسم کا عذاب ہے ۔ اس سے خود بخود یہ ظاہر ہو گیا کہ جو شخص سچے دل سے ایمان لائے گا اس کے عمل میں اگر کچھ خرابی بھی ہو تو وہ رزق کریم چاہے نہ پائے مگر مغفرت سے محروم نہ رہے گا اور جو شخص کافر تو ہو مگر دین حق کے مقابلے میں عناد و مخالفت کی روش بھی اختیار نہ کرے وہ عذاب سے تو نہ بچے گا مگر بد ترین عذاب اس کے لیے نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥‘ ٦۔ اوپر نیک لوگوں کا اور ان کی نیکیوں کی جزا کا ذکر فرمایا کر اب بدلوگوں کا اور ان کی سزا کا ذکر فرمایا کہ لوح محفوظ میں جس طرح نیکیوں کی جزا کا حال لکھا ہوا ہے اسی طرح یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے کی کوشش کی اور ان کو شعر اور جادو کہا تاکہ ان آیتوں سے لوگوں کو روکیں اور اسی طرح رسول کو شاعر اور جادو گر کہہ کر جھٹلایا ان بدبختوں کے واسطے بلا کی مار ہے دکھ دینے والی رجز کے معنی بری طرح کے عذاب کے ہیں ‘ اب آگے فرمایا لوح محفوظ میں قیامت کا آنا جہاں لکھا ہے اور نیک وبد کی جزا وسزا کا حال لکھا ہے وہاں قیامت کے آنے کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے کہ علم الٰہی کے موافق جن لوگوں نے قرآن کی نصیحت سے عقبے کی بہبودی کی سمجھ حاصل کرلی ہے وہ اس قرآن کی نصیحت سے روکنے والوں کا کہنا نہیں مانیں گے جس کا نتیجہ ان کے حق میں یہ ہوگا کہ قیامت کے دن وہ قرآن کی ہدایت اور جزا وسزا کی صداقت کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور دنیا میں قرآن کی نصیحت پر جو انہوں نے عمل کیا تھا وہاں عقبے میں وہ لوگ اس کی قدر کریں گے ‘ حاصل کلام یہ ہے ‘ کہ جو لوگ دنیا میں قرآن کی نصیحت پر چلنے سے روکنے والوں کے کہنے میں نہیں آئے تو وہ اپنی ثابت قدمی کا نتجیہ قیامت کے دن آنکھوں سے دیکھ لیں گے ‘ سورة والصفت میں آوے گا کہ بعضے جنتی ؁ نپے دنیا کے بہکانے والوں کو دوزخ میں دیکھ کر اپنی دنیا کی ثابت قدمی اور بہکانے والوں کہ بہکانے میں نہ آنے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے والصافات کی وہ آیتیں گویا اس آخری آیت کی تفسیر ہیں ‘ سورة حم سجدہ میں آوے گا کہ مشرکین مکہ قرآن کی نصیحت کے وقت پکار پکار کر باتیں کرتے تھے اور کبھی شعر خوانی شروع کردیتے تھے تاکہ قرآن کی نصیحت نہ سنیں اس قصہ سے معاجزین کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے گمان میں قرآن کی نصیحت کے پھیلانے میں پورا خلل ڈالتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں جانے کے قابل اسی طرح صحیح بخاری کے حوالہ سے عمران بن حصین (رض) کی حدیث کئی ١ ؎ جگہ گزر چکی ہے (١ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر۔ ) جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق جو شخص دوزخ میں جانے کے قابل ہے وہ اپنی نافرمانی سے کسی طرح بازنہ آوے گا ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ تفسیر قرار پائی کہ اللہ سچا ہے اللہ کا علم غیب سچا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق جو نیک وبد کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھا تھا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق جو نیک وبد کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے بوح محفوظ میں لکھا تھا دنیا کے پیدا ہونے کے بعد اس کا ظہور ہو رہا ہے کہ کوئی بہکانے والوں کے بہکانے سے نہیں بہکتا اور کوئی خود بھی بہکا ہوا ہے اور دوسروں کے بہکانے میں بھی کوشش کرتا ہے اب اس طرح قیامت کے دن کا ہر شخص کا انجام بھی علم الٰہی کے موافق سب کی آنکھوں کے سامنے آجاویگا العزیز الیدا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ایسے معبود کی وحدانیت کا راستہ بتلاتا ہے جو نافرمانوں سے بدلا لینے میں زبردست اور فرمانبرداروں کے ساتھ احسان کرنے میں لائق تعریف ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:5) سعوا۔ ماضی جمع مذکر غائب سعی (باب فتح) مصدر ۔ بمعنی کام کرنا۔ چلنا دوڑنا۔ مشی سریع۔ تیز روی۔ بمعنی حال وہ دوڑتے ہیں۔ یعنی کوشش کرتے ہیں۔ معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر معاجز واحد۔ معاجزۃ (مفاعلۃ) مصدر مقابلہ کر کے اپنے حریف کو عاجز کردینا۔ ہرا دینا۔ سعوا فی ایتنا معجزین (جو لوگ) ہماری آیات کے بارہ میں (ہمیں) ہرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واعلموا انکم غیر معجزی اللہ (9:2) اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے۔ بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے۔ رجز عقوبت، عذاب، بلا، سزا۔ الرجز کے اصل معنی اضطراب کے ہیں محاورہ ہے ارتجزت السماء بالرعد آسمان بجلی کی کڑک سے کانپ اٹھا اور کہتے ہیں رعد مر تجز۔ کپکپا دینے والی ، لرزا دینے والی گرج۔ پس رجز وہ عذاب کہ جن پر اترے وہ اس کی سختی سے کانپ اٹھیں۔ عذاب الیم من رجز، درد ناک عذاب کہ معتوب اس کی سختی سے کانپ اٹھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی قیامت کا آنا اس لئے ضروری ہے کہ نیک و بد اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے، کیونکہ اس دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں بعض نیک آدمی عمر بھر تکالیف میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض بد کردار لذت و عیش میں بسر کرتے ہیں، اور یہاں ان کے اعمال کے نتائج کا ظہور نہیں ہوتا، لہٰذا جزاء، سزا کے لئے کسی دن کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس زندگی کی حیثیت کھلونے سے زیادہ نہ رہے گی اور یہ اللہ تعالیٰ کے حکیم و خیبر ہونے کے منافی ہے۔ ( کبیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ آیات قرآنیہ کی تکذیب پر یہ سزا ہونا ہی چاہئے، کیونکہ اول تو قرآن فی نفسہ امر حق منزل من اللہ ہے، اور ایسے امر حق کی تکذیب خود حق تعالیٰ کی تکذیب ہے، اس پر جتنی سزاہو بجا ہے، دوسرے قرآن راہ راست مرضی عنداللہ کی تعلیم و ہدایت کرتا ہے، جو شخص اس کو نہ مانے گا وہ راہ راست سے قصدا دور رہے گا، نہ اس کو عقائد حقہ کا پتہ لگے گا، نہ اعمال صالحہ کا اور یہی طریقہ تھا نجات کا، پس طریق نجات سے قصدا دور رہنے پر سزا ہونا بےجا نہیں ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مَعٰجِزِیْنَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ) (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں عاجز کرنے کی کوشش کی ان لوگوں کے لیے سختی والا درد ناک عذاب ہے) اس میں ان لوگوں کی سزا کا تذکرہ فرمایا ہے جو اہل ایمان کے مخالف ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلا کر باطل کردیں یعنی قیامت کے وقوع کو نہ مانیں اور قیامت کی خبر دینے والے (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہرا دیں۔ قیامت قائم ہو کر جس طرح اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کو مغفرت اور رزق کریم کا انعام ملے گا اسی طرح منکرین کو درد ناک عذاب ہوگا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کی غایت جزا اور سزا دینے کے لیے ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اور جو لوگ ہم کو عاجز کرنے اور ہمارے ہرانے کو ہماری آیتوں کیخلاف دوڑے دوڑے پھرے تو یہ لوگ وہ ہیں جن کو سخت قسم کا دردناک عذاب ہونے والا ہے۔ یعنی قیامت قائم ہوگی تاکہ دین حق پر ایمان لانے اور نیک اعمال کی پابندی کرنیوالوں کو اور ان کی کارکردگی کا صلہ عطا کیا جائے اور جو لوگ ہماری آیات کا رد اور ابطال کرنے کی کوشش اور دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو کہیں بھاگ کر عاجز کردیں گے اور ہم کو ہرا دیں گے تو ان کو ان کے کئے کی پاداش میں بری قسم کا دردناک عذاب کیا جائے۔ کسی نے کہا ہماری آیتوں کے ابطال کیلئے کوشش کی پیغمبر کے ہرانے کو ہم نے صاحب مدراک کے قول کی بنا پر ترجمہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا رد کرنے میں اس لئے کوشش کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو زچ اور اس کو عاجز کردیں گے۔ (واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت اس واسطے آنی ضروری ہے۔