Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 10

سورة فاطر

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ جَمِیۡعًا ؕ اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَمۡکُرُوۡنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ مَکۡرُ اُولٰٓئِکَ ہُوَ یَبُوۡرُ ﴿۱۰﴾

Whoever desires honor [through power] - then to Allah belongs all honor. To Him ascends good speech, and righteous work raises it. But they who plot evil deeds will have a severe punishment, and the plotting of those - it will perish.

جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالٰی ہی کی ساری عزت ہےتمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے جو لوگ برائیوں کے داؤں گھات میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت تر عذاب ہے اور ان کا یہ مکر برباد ہو جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ... Whosoever desires Al-`Izzah then to Allah belongs all Al-`Izzah. means, whoever desires honor, power and glory in this world and the next, let him be obedient towards Allah, may He be exalted. This will help him reach his goal, for Allah is the Sovereign of this world and the Hereafter, and to Him belong all honor, power and glory. This is like the Ayat: الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِ الْمُوْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ للَّهِ جَمِيعاً Those who take disbelievers for protectors instead of believers, do they seek Al-`Izzah with them? Verily, then to Allah belongs all honor, power and glory. (4:139) وَلاَ يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ للَّهِ جَمِيعاً And let not their speech grieve you, for all Al-`Izzah belongs to Allah. (10:65) وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوْمِنِينَ وَلَـكِنَّ الْمُنَـفِقِينَ لاَ يَعْلَمُونَ But Al-`Izzah belongs to Allah, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites know not. (63:8) Mujahid said: مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ (Whosoever desires Al-`Izzah) means, by worshipping idols, فَإِنَّ العِزَّةَ للَّهِ جَمِيعاً (then to Allah belongs Al-`Izzah). مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا Whosoever desires Al-`Izzah then to Allah belongs Al-`Izzah. means, let him seek honor, power and glory through obeying Allah, may He be glorified. Righteous Deeds ascend to Allah Allah says, ... إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ ... To Him ascend the good words, means, words of remembrance, recitation of Qur'an, and supplications. This was the view of more than one of the Salaf. Ibn Jarir recorded that Al-Mukhariq bin Sulaym said that "Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him, said to them, "If we tell you a Hadith, we will bring you proof of it from the Book of Allah. When the Muslim servants says, `Glory and praise be to Allah, there is no god worthy of worship except Allah, Allah is Most Great and blessed be Allah,' an angel takes these words and puts them under his wing, then he ascends with them to the heaven. He does not take them past any group of angels but they seek forgiveness for the one who said them, until he brings them before Allah, may He be glorified." Then Abdullah, may Allah be pleased with him, recited: ... إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ... To Him ascend the good words, and the righteous deeds exalt it." Imam Ahmad recorded that An-Nu`man bin Bashir, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah said: الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ مِنْ جَلَلِ اللهِ مِنْ تَسْبِيحِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَهْلِيلِهِ يَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ يَذْكُرْنَ بِصَاحِبِهِنَّ أَلاَ يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لاَ يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِه Those who remember Allah and glory Allah by saying, `Glory be to Allah, Allah is most Great, all praise is due to Allah and La ilaha illallah, these words go around the Throne buzzing like bees, mentioning those who said them. Would one of you not like to have something with Allah mentioning him." This was also recorded by Ibn Majah. ... وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ... and the righteous deeds exalt it. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The good word is the remembrance of Allah, may He be exalted, which is taken up to Allah, and the righteous deed is the performance of obligatory duties. Whoever remembers Allah when doing an obligatory duty, his deed carries his remembrance of Allah and takes it up to Allah, may He be exalted. Whoever remembers Allah and does not perform the obligatory duties, his words will be rejected, as will his deed." ... وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّيَاتِ ... but those who plot evils, Mujahid, Said bin Jubayr and Shahr bin Hawshab said, This refers to those who show off by their actions, i.e., they deceive the people by giving the impression that they are obeying Allah, when in fact they are hated by Allah for showing off. Allah says: ... لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُوْلَيِكَ هُوَ يَبُورُ theirs will be severe torment. And the plotting of such will perish. meaning, it will fail and vanish, for their reality is apparent from up close to those who have insight and wisdom. No one conceals a secret but Allah will cause it to become known, on his face or by a slip of the tongue, or He will cause the person to wear it like a cloak (so that everyone will see it). If it is good, then the consequences will be good, and if it is bad, then the consequences will be bad. The person who shows off cannot continue to deceive anyone but the fool, but the believers who have insight are not deceived by that; from up close, they soon discover it. And nothing at all can be hidden from the Knower of the Unseen (Allah). Allah is the Creator and Knower of the Unseen Allah tells;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 یعنی جو چاہتا ہے کہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت ملے، تو وہ اللہ کی اطاعت کرے اس سے اسے یہ مقصود حاصل ہوجائے گا اس لیے کہ دنیا وآخرت کا مالک اللہ ہی ہے ساری عزتیں اسی کے پاس ہیں وہ جس کو عزت دے، وہی عزیز ہوگا جس کو وہ ذلیل کردے، اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی۔ 10۔ 2 اَ لْکَلِمُ ، کَلِمَہ، ُ ایک جمع ہے، ستھرے کلمات سے مراد اللہ کی تسبیح وتحمید، تلاوت ہے، چڑھتے ہیں کا مطلب، قبول کرنا ہے۔ یا فرشتوں کا انہیں لے کر آسمانوں پر چڑھنا تاکہ اللہ انہیں جزا دے۔ 10۔ 3 خفیہ طریقے سے کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کو مکر کہتے ہیں کفر و شرک کا ارتکاب بھی مکر ہے اس طرح اللہ کے راستے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے نبی کے خلاف قتل وغیرہ کی جو سازشیں کفار مکہ کرتے تھے وہ بھی مکر ہے، ریاکاری بھی مکر ہے۔ 10۔ 4 یعنی ان کا مکر بھی برباد ہوگا اور اس کا وبال انہی پر پڑے گا جو اس کا ارتکاب کرتے ہیں، جیسے فرمایا (وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ ) 35 ۔ فاطر :43)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ١٤] مشرکین مکہ کی حرم کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو یہ سارا بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ انہیں یہ سمجھایا جارہا ہے کہ یہ عزت بھی تمہیں کعبہ کے متولی اور پاسبان ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔ اور کعبہ کو حرم بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ تم اور تمہارے معبودوں میں یہ طاقت نہیں تھی کہ تم مکہ کو حرم بناسکتے۔ اب اگر تم کعبہ کے مالک ہی کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ہو تو سوچ لو تمہاری یہ عزت کیسے برقرار رہ سکتی ہے ؟ عزت تو صرف اسے ملے گی جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو کیونکہ تمام تر عزت کا سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تم لوگ اس کے دشمن بن کر کبھی عزت نہ پا سکو گے۔ [ ١٥] پاکیزہ کلمہ اور اعمال صالحہ کا باہمی تعلق :۔ پاکیزہ کلمات اور پاکیزہ اعمال دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اور دونوں ایک دوسرے کے مؤید اور مددگار ہیں۔ پاکیزہ کلمات یا اقوال اللہ کی طرف اس وقت چڑھتے ہیں جب کہ ان کی تائید اعمال صالحہ سے بھی ہو رہی ہو۔ اور اگر عمل پاکیزہ اقوال کے خلاف ہو تو یہ پاکیزہ اقوال بھی نہ اوپر چڑھ سکتے ہیں نہ اللہ کے ہاں مقبول ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح اعمال صالحہ بھی اسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتے ہیں جبکہ ان کی بنیاد پاکیزہ اقوال یا درست عقیدہ پر ہو۔ اگر عقیدہ درست نہ ہوگا تو ایسے اعمال بھی نہ اوپر چڑھیں گے اور نہ ہی مقبولیت کا درجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ پاکیزہ کلمات میں سب سے پہلے نمبر پر تو کلمہ طیبہ ہے جس میں شرک کا پورا رد موجود ہے اور توحید خالص کا اقرار ہے۔ پھر اللہ کا ذکر، دعا، قرآن کی تلاوت وغیرہ آخرت وغیرہ سے متعلق ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ کلمات اللہ کی طرف بلند ضرور ہوتے ہیں مگر اس شرط پر کہ انہیں اعمال صالحہ یا ان اقوال پاکیزہ کے مطابق افعال کی تائید بھی حاصل ہو۔ یہی صورت اعمال صالحہ کی ہے ان کی مقبولیت کی شرط یہ ہے کہ ان کی بنیاد اقوال پاکیزہ پر اٹھی ہو۔ [ ١٦] کفار مکہ کی چال کیسے ان پر الٹ پڑی ؟ برُی چالوں سے مراد کفار کی ہر وہ تدبیر ہے جس سے اسلام کی راہ روکی جاسکتی ہو۔ اور کفار مکہ کی تو ساری زندگی ہی بری چالوں میں گزری تھی۔ تاآنکہ مکہ فتح ہوگیا اور کفر کی کمر ہی ٹوٹ گئی۔ ویسے تو کفار مکہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا خاتمہ کرنے کی بھی کئی کوششیں کرچکے تھے تاہم ان سب سے زیادہ خطرناک چال وہ تھی جو دارالندوہ میں ابو جہل نے پیش کی تھی اور جس پر شیطان بھی خوش ہوگیا تھا۔ کہ واقعی یہ چال بڑے بلند درجہ کی چال ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة انفال کی آیت نمبر ٣٠ کا حاشیہ) اور یہی تدبیر ان کافروں کی ہلاکت کا باعث یوں بنی کہ ان کی اس سازش کے فوراً بعد اللہ نے اپنے پیغمبر کو صحیح وسالم نکال کر مدینہ میں آباد کیا۔ کفار نے بدلہ لینے کی ٹھانی تو جنگ بدر کے مقام پر اللہ نے انہیں شکست فاش سے دوچار کردیا۔ ان کے ستر بڑے بڑے سرغنے قتل ہوگئے۔ جنہیں نہایت ذلت کے ساتھ قلیب بدر میں پھینک دیا گیا۔ اور اتنے ہی آدمی قید ہوگئے تو ان کے سب کس بل نکل گئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

۝ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ۭ: عزت کا معنی غلبہ ہے، جیسا کہ فرمایا : ( وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ ) [ ص : ٢٣ ] ” اور اس نے بات کرنے میں مجھ پر بہت سختی کی۔ “ اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، پہلی جو سب سے واضح ہے، یہ ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اسے عزت و غلبہ حاصل ہو تو اسے جان لینا چاہیے کہ عزت سب کی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) [ آل عمران : ٢٦ ] ” کہہ دے اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کردیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ “ اس میں ان کفار و مشرکین اور بعض نام نہاد مسلمانوں کا رد ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تاکہ وہ ان کے لیے عزت اور غلبے کا باعث بنیں، فرمایا : (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا) [ مریم : ٨١، ٨٢ ] ” اور انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے، تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت ہوں۔ ہرگز ایسا نہ ہوگا، عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور ان کے خلاف مد مقابل ہوں گے۔ “ اور ان ضعیف الایمان اور منافق قسم کے لوگوں کا بھی رد ہے جو کفار سے دوستی کرتے ہیں، تاکہ دنیا میں باعزت اور غالب ہو کر زندگی بسر کرسکیں، جیسا کہ فرمایا : (بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْـمَۨا الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا) [ النساء : ١٣٨، ١٣٩ ] ” منافقوں کو خوش خبری دے دے کہ ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔ وہ جو کافروں کو مومنوں کے سوا دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں ؟ تو بیشک عزت سب اللہ کے لیے ہے۔ “ یعنی جو شخص جاننا چاہتا ہے کہ عزت و غلبے کا مالک کون ہے، وہ جان لے کہ عزت و غلبہ سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اب جو بھی عزت و غلبہ چاہتا ہو وہ اس سے طلب کرے، کیونکہ جس کسی کو بھی عزت ملی ہے یا ملے گی اسی سے ملی ہے اور اسی سے ملے گی۔ الیہ یصعد الکلم الطیب : ” الکلم “ ” کَلِمَۃٌ“ کی جمع نہیں، ورنہ ” یصعد “ کے بجائے ” تَصْعَدُ “ کا لفظ آتا اور اس کی صفت مؤنث آتی، بلکہ یہ اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر بولا جاتا ہے۔ جب اس کا ایک فرد بیان کرنا مقصود ہو تو اس کے ساتھ ” تاء “ لگا دیتے ہیں، جیسے ” تَمْرٌ“ کھجور، ایک ہو یا بہت سی ہوں، لیکن اگر ایک کھجور کہنا ہو تو ” تَمْرَۃٌ“ کہا جائے گا۔ 3 اس میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کے ذریعے سے عزت حاصل ہوتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح۔ 4 ” الکلم الطیب “ (پاکیزہ بات) سے مراد بعض نے کلمہ توحید ” لا الٰہ الا اللہ “ لیا ہے، مگر لفظ عام ہے، اس میں کلمہ اسلام کے ساتھ ذکر، دعا، تلاوت قرآن، تعلیم، تربیت اور دعوت سبھی شامل ہیں، یعنی ہر پاکیزہ بات اسی کی طرف چڑھتی ہے اور وہی اسے قبول کرتا اور بلندی عطا کرتا ہے۔ ناپاک اور خبیث باتیں عروج حاصل کر ہی نہیں سکتیں۔ 5 والعمل الصالح یرفعہ : اس کی تفسیر میں بھی تین احتمال ہیں، پہلا یہ کہ ” ہٗ “ ضمیر سے مراد کلم الطیب ہے، یعنی عمل صالح کلم الطیب (پاکیزہ بات) کو بلند کرتا ہے۔ کوئی کلمہ اپنی جگہ کتنا پاکیزہ ہو قبول اسی وقت ہوتا ہے جب اس کے ساتھ عمل بھی نیک ہو، یعنی عمل کا نیک ہونا کلم الطیب کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔ نیک عمل وہ ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو اور سنت کے مطابق ہو۔ دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت۔ دوسرا یہ کہ ” یَرْفَعُ “ کا فاعل ” الکلم الطیب “ کی ضمیر ہو اور ” ہٗ “ کی ضمیر سے مراد عمل صالح ہو، یعنی پاکیزہ بات عمل صالح کو بلند کرتی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ کلم الطیب سے مراد ” لا الہ الا اللہ “ ہو، یعنی ایمان اور کلمہ توحید کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں، جیسا کہ فرمایا : ( من عمل صالحامن ذکر او انثی و ھو مومن فلنحیینہ حیاۃ طیبۃ ) [ النحل : ٩٧ ] ” جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی۔ “ اور تیسرا احتمال یہ ہے کہ ” یَرْفَعُ “ میں فاعل کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جو بھی عمل صالح ہے اللہ اس کو بلند کرتا ہے، یعنی اسے قبول کرتا اور اس کی جزا عطا کرتا ہے۔ یہ تینوں معنی یہاں مراد ہوسکتے ہیں اور تینوں درست ہیں۔ شاہ عبد القادر (رح) نے ارادۂ عزت، صعود کلم طیب اور رفع عمل صالح کی باہمی مناسبت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : ” یعنی عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، تمہارے ذکر اور بھلے کام چڑھتے جاتے ہیں جب اپنی حد کو پہنچیں گے تب بدی پر غلبہ (حاصل) کریں گے، کفر دفع ہوگا (اور) اسلام کو عزت (نصیب) ہوگی۔ “ 6 والذین یمکرون السیئات لھم عذاب شدید : مکر کا معنی ہے خفیہ تدبیر، وہ اچھی ہو یا بری، اکثر مذموم تدبیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ” یمکرون السیئات “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو کلم الطیب کے بجائے باطل اور خبیث باتیں لے کر اٹھتے ہیں اور مکاریوں اور چالاکیوں سے انھیں غالب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اس کے اولین مصداق وہ لوگ ہیں جنھوں نے دار الندوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قید یا قتل یا جلا وطن کرنے کا منصوبہ بنایا۔ دیکھیے سورة انفال (٣٠) ان کے علاوہ وہ سب لوگ اس میں داخل ہیں جو اسلام کے خلاف سازشیں کر کے اس پر غلبے کی کوشش کرتے ہیں۔ 6 ومکر اولٰئک ھو یبور : یعنی انھی کی تدبیر ناکام و نامراد ہوگی، اللہ کی تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوگی، جیسا کہ فرمایا : ( و مکروا و مکر اللہ واللہ خیر الماکرین ) [ آل عمران : ٥٤ ] ” اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔ “ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازش کرنے والے اس میں کامیاب نہ ہوئے، بلکہ بدر میں ہلاک ہوئے، پھر باقی فتح مکہ میں مغلوب ہوئے۔ مزید دیکھیے سورة فاطر (٤٣) ، طور (٤٢) ، رعد (٤٢) اور سورة انعام (١٢٤، ١٢٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In verse 10, it was said: إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْ‌فَعُهُ (Towards Him, ascends the pure word, and the righteous deed uplifts it). Immediately earlier to this, it was declared that the person seeking honor and power should understand that these matters are not controlled by anyone other than Allah. As for those who have taken certain things as objects of worship or have taken some people as friends in the hope of being honored by them, they cannot give honor to anyone. Given in the present verse, there is a method of acquiring the gifts of grace and honor from Allah Ta’ ala. It has two parts: (1) Good word (that is, the kalimah of tauhid: la ilaha il-lal-lah) and the knowledge of the being and attributes of Allah. (2) Good deed, that is, to believe by heart and then act in accordance with its dictates under the Shari` ah. Shah ` Abdul Qadir (رح) has said in Mudih-ul-Qur&an that this prescription of becoming a recipient of honor is perfectly true and tested, however, the condition is that one remains constant in remembering Allah and doing good deeds. When this constancy reaches an appointed limit, Allah Ta’ ala blesses the doer of these with an everlasting and unparalleled honor both in this world and in the world to come. These two parts have been expressed in the cited verse by saying that good word ascends towards Allah and reaches Him while good deed uplifts it and makes it reach Him. In the grammatical arrangement of: الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْ‌فَعُهُ the good deed uplifts it) there are certain probabilities. The meanings of the sentence change in terms of each such probability. Authorities in Tafsir have explained it in line with the respective probabilities that they have deemed to be appropriate by them. According to the first probability, the subjective pronoun in: يَرْ‌فَعُهُ (uplifts) should be taken as reverting to: ... (the good deed) and the objective pronoun (it) to: ... (good word) meaning: &good words ascend to Allah, but the thing through which they are made to ascend are good deeds (as in the khulasa-e-Tafsir of Maulana Ashraf Ali Thanavi (رح)). The majority of Tafsir authorities - Sayyidna Ibn ` Abbas, Ibn Jubayr, Hasan al-Basri, Mujahid, Dahhak, Shahr Ibn Hawshab and others - have opted for this very approach. And the sense of ascending to and being helped to ascend is being accepted in the sight of Allah, therefore, the gist of the sentence would be that good word, be it the kalimah of tauhid or others words of the remembrance and glorification of Allah, nothing of it gets to be acceptable with Allah without good deed. Here, the confirmation by heart is an integral part of good deed the most important part of which is the belief by heart in His Oneness. This belief by heart is a necessary condition for the acceptance of deeds in the absolute sense. Without it, neither the Kalimah: لا إله إلا اللہ (la ilaha il-lal-lah) nor any other Dhikr of Allah is acceptable. Then, there are the other parts of good deed, such as, prayers and fasting and abstinence from forbidden and reprehensible things. Though, the acceptability of the &good word’, that is, the kalimah of tauhid does not depend on such good deeds, yet these deeds too are conditions to a perfect acceptability of the &good words&. If a person simply does not have faith, and its confirmation, in his heart, then, no matter how many times he repeats the words of the cardinal statement of one&s Islam (Kalimah Tauhid: la ilaha il-lal-lah) and remains engaged with dhikr and Tasbih of Allah, he will not deserve the least of acceptability in the sight of Allah. In contrast, there is the case of the other person who does have faith and its confirmation, but fails to do other good deeds or falls short in them, then, his saying of the kalimah of tauhid and the doing of the dhikr of Allah will, though, not go to waste totally, however, its benefit will be restricted to delivering him from the everlasting punishment. The consequence will be that he will go through a certain punishment for some time that will be in proportion to his abandonment of duty and the shortcoming. In a Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said, &Allah Ta’ ala does not accept any word without deed, and any word and deed without the intention, and any word, deed and intention without compatibility with sunnah (as said and done by him).& (Qurtubi) This tells us that correspondence with sunnah is the condition of perfect acceptability. Even if the word, the deed and the intention, all these, are also correct but the mode and method of conduct is not in accordance with sunnah, then, one cannot become a recipient of perfect acceptability with Allah. Some commentators suggest another syntactical arrangement in respect of this sentence. According to them, the subjective pronoun in: يَرْ‌فَعُهُ (uplifts) reverts to: ضَمِر فَاعِل good word) and the objective pronoun (i.e.&it& ) to: کلم طیّب ( good deed). Thus, the meaning of the sentence become totally different from that of the earlier, that is, &good word& which is the dhikr of Allah, makes &good deed& ascend and makes it rise higher up, that is, makes it worthy of being accepted. The outcome would then be that a person who does good deeds, and along with it, also does his dhikr of Allah abundantly, then, this dhikr of Allah embellishes his deed and makes it acceptable.

معارف ومسائل (آیت) الیہ یصعد الکلم الطییب والعمل الصالح یرفعہ، اس سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جو شخص عزت و قوت کا طلب گار ہو تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔ جن چیزوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے یا جن سے عزت کی توقع پر دوستی کر رکھی ہے وہ کسی کو عزت نہیں دے سکتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے عزت و قوت حاصل کرنے کا طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے دو اجزاء ہیں، ایک کلم طیب، یعنی کلمہ توحید اور اللہ کی ذات وصفات کا علم دوسرے عمل صالح یعنی دل سے ایمان لانا پھر اس کے مقضنی کے موافق تابع شریعت عمل کرنا۔ حضرت شاہ عبدالقادر نے موضع القرآن میں فرمایا کہ حصول عزت کا یہ نسخہ بالکل صحیح و مجرب ہے، شرط یہ ہے کہ ذکر اللہ اور عمل صالح پر مداومت ہو، یہ مداومت ایک حد مقرر پر پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کرنے والے کو وہ لازوال عزت دینا و آخرت میں نصیب فرماتے ہیں جس کی نظیر نہیں۔ آیت مذکورہ میں ان دونوں جزاؤں کی تعبیر ان الفاظ سے کی گئی ہے کہ اچھا کلام اللہ کی طرف چڑھتا اور پہنچتا ہے اور عمل صالح اس کو اٹھاتا ہے اور پہنچاتا ہے۔ العمل الصالح یرفعہ کی ترکیب نحوی میں چند احتمال ہیں، ہر احتمال کے اعتبار سے جملے کے معنی الگ ہوجاتے ہیں۔ ائمہ تفسیر نے ان احتمالوں کے مطابق تفسیر اپنی اپنی صواب دید کے مطباق کی ہے۔ پہلا احتمال تو وہی ہے جس کے مطابق خلاصہ تفسیر میں ترجمہ کیا گیا ہے کہ یرفعہ کی ضمیر فاعل عمل صالح کی طرف راجع ہو اور ضمیر مفعول کلم طیب کی طرف اور معنی یہ ہوں کہ کلم طیب اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتے ہیں مگر ان کے چڑھانے کا ذریعہ عمل صالح ہوتا ہے۔ جمہور ائمہ تفسیر ابن عباس، حسن بصری، ابن جبیر، مجاہد ضحاک، شہر بن جوشب وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور اللہ کی طرف چڑھنے اور چڑھانے سے مراد اللہ کے نزدیک مقبول ہونا ہے۔ اس لئے خلاصہ اس جملے کا یہ ہوگا کہ کلم طیب خواہ کلمہ توحید ہو یا دوسرے اذکار تسبیح وتحمید وغیرہ ان میں سے کوئی چیز بغیر عمل صالح کے عند اللہ مقبول نہیں ہوتی۔ اس میں عمل صالح کا اہم جز، تصدیق قلبی ہے یعنی دل سے اللہ پر اور اس کی توحید پر ایمان لانا یہ تو مطلقاً قبولیت اعمال کی شرط لازم ہے، اس کے بغیر نہ کلمہ لا الہ الا اللہ مقبول ہے نہ کوئی دوسرا ذکر۔ اور عمل صالح کے دوسرے اجزاء نماز، روزہ وغیرہ اعمال صالحہ اور محرمات و مکروہات سے پرہیز ہے۔ یہ اگرچہ مطلقاً قبولیت کی شرط نہیں، مگر قبولیت نامہ کی شرط یہ اعمال بھی ہیں۔ تو اگر ایک شخص دل میں ایمان و تصدیق ہی نہیں رکھتا تو وہ کتنا بھی زبان سے کلمہ توحید پڑھے اور تسبیح وتحمید کرے اللہ کے نزدیک اس کو کوئی حصہ قبولیت کا حاصل نہ ہوگا اور جو تصدیق و ایمان تو رکھتا ہے مگر دوسرے اعمال صالحہ نہیں کرتا یا ان میں کوتاہی کرتا ہے اس کا ذکر اللہ اور کلمہ توحید بالکل ضائع تو نہیں ہوگا صرف اتنا کام دے گا کہ ہمیشہ کے عذاب سے اس کو نجات مل جائے گی، مگر مکمل قبولیت اس کو حاصل نہیں ہوگی جس کا یہ اثر ہوگا کہ بقدر اپنے ترک عمل کے اور کوتاہی کے عذاب بھگتے گا۔ ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قول کو بغیر عمل کے اور کسی قول و عمل کو بغیر نیت کے اور کسی قول و عمل اور نیت کو بغیر مطابقت سنت کے قبول نہیں کرتا۔ (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ مکمل قبولیت کی شرط سنت کے مطابق ہونا ہے، اگر قول بھی عمل بھی اور نیت بھی، یہ سب درست بھی ہوں مگر طریقہ عمل سنت کے مطابق نہ ہو تو قبولیت نامہ حاصل نہیں ہوگی۔ اور بعض مفسرین نے اس جملہ کی ترکیب نحوی یہ قرار دی ہے کہ یرفعہ کی ضمیر فاعل کلم طیب کی طرف اور ضمیر مفعول عمل صالح کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں معنی جملہ کے پہلے سے بالکل مختلف یہ ہوگئے کہ کلم طیب یعنی ذکر اللہ عمل صالح کو چڑھاتا اور اٹھاتا ہے، یعنی قابل قبول بناتا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوگا کہ جو شخص عمل صالح کے ساتھ ذکر اللہ بھی بکثرت کرتا ہے تو یہ ذکر اللہ اس کے عمل کو مزین اور قابل قبول بنا دیتا ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح صرف کلمہ توحید اور تسبیحات بغیر عمل صالح کے کافی نہیں اسی طرح عمل صالح اور امر و نواہی کی پابندی بھی بغیر کثرت ذکر اللہ کے بےرونق رہتی ہے، ذکر اللہ کی کثرت ہی اعمال صالحہ کو مزین کر کے قابل قبول بناتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِيْعًا۝ ٠ ۭ اِلَيْہِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ۝ ٠ ۭ وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ السَّـيِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ۝ ٠ ۭ وَمَكْرُ اُولٰۗىِٕكَ ہُوَيَبُوْرُ۝ ١٠ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عزت تو سب خدا ہی کی ہے ۔ صعد الصُّعُودُ : الذّهاب في المکان العالي، والصَّعُودُ والحَدُورُ لمکان الصُّعُودِ والانحدار، وهما بالذّات واحد، وإنّما يختلفان بحسب الاعتبار بمن يمرّ فيهما، فمتی کان المارّ صَاعِداً يقال لمکانه : صَعُودٌ ، وإذا کان منحدرا يقال لمکانه : حَدُور، والصَّعَدُ والصَّعِيدُ والصَّعُودُ في الأصل واحدٌ ، لكنِ الصَّعُودُ والصَّعَدُ يقال للعَقَبَةِ ، ويستعار لكلّ شاقٍّ. قال تعالی: وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذاباً صَعَداً [ الجن/ 17] ، أي : شاقّا، وقال : سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ، أي : عقبة شاقّة، والصَّعِيدُ يقال لوجه الأرض، قال : فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً [ النساء/ 43] ، وقال بعضهم : الصَّعِيدُ يقال للغبار الذي يَصْعَدُ من الصُّعُودِ «1» ، ولهذا لا بدّ للمتیمّم أن يعلق بيده غبار، وقوله : كَأَنَّما يَصَّعَّدُ فِي السَّماءِ [ الأنعام/ 125] ، أي : يَتَصَعَّدُ. وأما الْإِصْعَادُ فقد قيل : هو الإبعاد في الأرض، سواء کان ذلک في صُعُودٍ أو حدور . وأصله من الصُّعُودُ ، وهو الذّهاب إلى الأمكنة المرتفعة، کالخروج من البصرة إلى نجد، وإلى الحجاز، ثم استعمل في الإبعاد وإن لم يكن فيه اعتبار الصُّعُودِ ، کقولهم : تعال، فإنّه في الأصل دعاء إلى العلوّ صار أمرا بالمجیء، سواء کان إلى أعلی، أو إلى أسفل . قال تعالی: إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلى أَحَدٍ [ آل عمران/ 153] ، وقیل : لم يقصد بقوله إِذْ تُصْعِدُونَ إلى الإبعاد في الأرض وإنّما أشار به إلى علوّهم فيما تحرّوه وأتوه، کقولک : أبعدت في كذا، وارتقیت فيه كلّ مرتقی، وكأنه قال : إذ بعدتم في استشعار الخوف، والاستمرار علی الهزيمة . واستعیر الصُّعُودُ لما يصل من العبد إلى الله، كما استعیر النّزول لما يصل من اللہ إلى العبد، فقال سبحانه : إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [ فاطر/ 10] ، وقوله : يَسْلُكْهُ عَذاباً صَعَداً [ الجن/ 17] ، أي : شاقّا، يقال : تَصَعَّدَنِي كذا، أي : شَقَّ علَيَّ. قال عُمَرُ : ما تَصَعَّدَنِي أمرٌ ما تَصَعَّدَنِي خِطبةُ النّكاحِ «2» . ( ص ع د ) الصعود کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں ایک ہی جگہ کو اوپر چڑھنے کے لحاظ سے صعود اور نیچے اترنے کے لحاظ سے حدودکہاجاتا ہے کہا جاتا ہے اصل میں صعد وصعید وصعود وصعد کا لفظ عقبہ یعنی کھا ٹی پر بولا جاتا ہے اور استعارہ کے طور پر ہر دشوار اور گراں امر کو صعد کہہ دیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذاباً صَعَداً [ الجن/ 17] اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیریگا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرلیگا سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ہم اسے صعود پر چڑہائیں گے ۔ اور صعید کا لفظ وجہ الارض یعنی زمین کے بالائی حصہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً [ النساء/ 43] تو پاک مٹی لو اور بعض نے کہا ہے کہ صعید اس گرد غیار کو کہتے ہیں جو اوپر چڑھ جاتا ہے لہذا نماز کے تیمم کے لئے ضروری ہے کہ گرد و غبار سے ہاتھ آلودہ ہوجائیں اور آیت کریمہ : ۔ كَأَنَّما يَصَّعَّدُ فِي السَّماءِ [ الأنعام/ 125] گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے ۔ میں یصعد اصل میں یتصعد ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں ۔ الاصعاد ( افعال ) بقول بعض اس کے معنی زمین میں دور تک چلے جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ جانا بلندی کیطرف ہو یا پستی کی طرف گو اس کے اصل معنی بلندجگہوں کی طرف جانا کے ہیں ۔ مثلابصرہ سے بخد یا حجازی کی طرف جانا بعد ہ صرف دور نکل جانے پر اصعاد کا لفط بولا جانے لگا ہے جیسا کہ تعال کہ اس کے اصل معنی علو بلندی کی طرف بلانے کے ہیں اس کے بعد صرف آنے کے معنی میں بطور امر استعمال ہونے لگا ہے عام اس سے وہ آنا بالائی کی طرف ہو یا پستی کی طرف قرآن میں ہے : ۔ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلى أَحَدٍ [ آل عمران/ 153] جب تم لوگ دور نکلے جارہے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں اصعاد سے دور نکل جانا مراد ہے ۔ بلکہ اشارہ ہے کہ انہوں نے بھاگنے میں علو اختیار کیا یعنی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جیسے محاورہ ہے : ۔ ابعدت فی کذا وار تقیت فیہ کل مرتقی یعنی میں نے اس میں انتہائی کوشش کی لہذا آیت کے معنی یہ ہیں کہ تم نے دشمن کا خوف محسوس کرنے اور لگاتار ہزیمت کھانے میں انتہا کردی اور استعارہ کے طور پر صعود کا لفظ انسانی اعمال کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے جو خدا تک پہنچتے ہیں جیسا کہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان تک پہنچتی ہے اسے نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ [ فاطر/ 10] اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ :۔ يَسْلُكْهُ عَذاباً صَعَداً [ الجن/ 17] وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کریگا ۔ میں صعدا کے معنی شاق یعنی سخت کے ہیں اور یہ تصعدفی کذا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کیس امر کے دشوار اور مشکل ہونے کے ہیں ۔ چناچہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ( 4 ) ما تصعد لی امر ماتصعدنی خطبۃ النکاح کے مجھے کوئی چیز خطبہ نکاح سے زیادہ دشوار محسوس نہیں ہوتی ۔ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے : سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا شدید والشِّدَّةُ تستعمل في العقد، وفي البدن، وفي قوی النّفس، وفي العذاب، قال : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] ، عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ، يعني : جبریل عليه السلام، وقال تعالی: عَلَيْها مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] ، وقال : بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، فَأَلْقِياهُ فِي الْعَذابِ الشَّدِيدِ [ ق/ 26] . والشَّدِيدُ والْمُتَشَدِّدُ : البخیل . قال تعالی: وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ [ العادیات/ 8] . ( ش دد ) الشد اور شدۃ کا لفظ عہد ، بدن قوائے نفس اور عذاب سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً [ فاطر/ 44] وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے ۔ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى[ النجم/ 5] ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا ؛نہایت قوت والے سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ غِلاظٌ شِدادٌ [ التحریم/ 6] تندخواہ اور سخت مزاج ( فرشتے) بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ بور البَوَار : فرط الکساد، ولمّا کان فرط الکساد يؤدّي إلى الفساد۔ كما قيل : كسد حتی فسد۔ عبّر بالبوار عن الهلاك، يقال : بَارَ الشیء يَبُورُ بَوَاراً وبَوْراً ، قال عزّ وجل : تِجارَةً لَنْ تَبُورَ [ فاطر/ 29] ، وَمَكْرُ أُولئِكَ هُوَ يَبُورُ [ فاطر/ 10] ، وروي : «نعوذ بالله من بوار الأيّم» ، وقال عزّ وجل : وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دارَ الْبَوارِ [إبراهيم/ 28] ، ويقال : رجل حائر بَائِر، وقوم حور بُور . وقال عزّ وجل : حَتَّى نَسُوا الذِّكْرَ وَكانُوا قَوْماً بُوراً [ الفرقان/ 18] ، أي : هلكى، جمع : بَائِر . البوار ( ن ) اصل میں بارالشئ بیور ( ، بورا وبورا کے معنی کسی چیز کے بہت زیادہ مندا پڑنے کے ہیں اور چونکہ کسی چیز کی کساد بازاری اس کے فساد کا باعث ہوتی ہے جیسا کہ کہا جانا ہے کسد حتیٰ فسد اس لئے بوار بمعنی ہلاکت استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ تِجارَةً لَنْ تَبُورَ [ فاطر/ 29] اس تجارت ( کے فائدے ) کے جو کبھی تباہ نہیں ہوگی ۔ وَمَكْرُ أُولئِكَ هُوَ يَبُورُ [ فاطر/ 10] اور ان کا مکرنا بود ہوجائیگا ۔ ایک روایت میں ہے (43) نعوذ باللہ من بوارالایم کہ ہم بیوہ کے مندا پن سے پناہ مانگتے ہیں یعنی یہ کہ اس کے لیے کہیں سے پیغام نکاح نہ آئے ۔ وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دارَ الْبَوارِ [إبراهيم/ 28] اور اپنی قوم کو تباہی کے گھرا تارا ۔ رجل جائر بائر مرد سر گشتہ خود رائے ۔ جمع کے لئے حور بور کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ ؛۔ حَتَّى نَسُوا الذِّكْرَ وَكانُوا قَوْماً بُوراً [ الفرقان/ 18] یہاں تک کہ وہ تیری یا د کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے ۔ میں بوبائر کے جمع ہے بعض نے کہا ہے کہ بور مصدر ہے اور واحد و جمع دونوں کی صفت واقع ہوتا ہے جیسے ۔ رجل بورو قوم بور

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

اگر نمازی کے آگے سے کتا، گدھا گزر جائے تو نماز قطع نہیں ہوتی عکرمہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے سامنے ذکر ہوا کہ اگر نمازی کے آگے سے کتا یا گدھا گزر جائے تو اس کی نماز کو قطع کردیتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے یہ سن کر آیت تلاوت کی (الیہ یصعد اکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ۔ اسی کی طرف اچھا کلام بلند ہوتا ہے اور عمل صالح اس کی بلند کرتا ہے ) اور فرمایا : ” اسے کون سی چیز قطع کرسکتی ہے۔ “ سالم نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ پاکیزہ کلام کو عمل صالح بلند کرتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ عزت قدرت و طاقت کس کے لیے ہے تو سمجھ لے کہ تمام تر عزت بالذات اور قدرت اللہ ہی کو حاصل ہے۔ اچھا کلام یعنی کلمہ طیبہ اسی تک پہنچتا ہے اور وہ اس کو قبول کرتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر رہے ہیں یا یہ کہ جو دار الندوہ میں بڑی بڑی تدابیر کر رہے ہیں کہ رسول اکرم کو یا تو معاذ اللہ قید کرلیں یا آپ کو اس بستی سے نکال دیں یا سب ملکر آپ کو شہید کردیں۔ ان لوگوں یعنی ابو جہل وغیرہ کو سخت ترین عذاب ہوگا اور ان کا یہ مکر و فریب تباہ و برباد ہوجائے گا اور کہا گیا کہ یہ آیت سود خوروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ { مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا } ” جو کوئی عزت کا طالب ہے تو (وہ جان لے کہ) عزت سب کی سب اللہ کے پاس ہے۔ “ جو شخص اللہ کے جتنا قریب ہوگا اسی قدر وہ سزا وار عزت اور صاحب ِتوقیر ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ سے جتنا دور ہوگا اسی قدر وہ ذلیل ہوگا ‘ چاہے دنیا میں وہ بظاہر کتنا ہی با عزت اور صاحب ثروت ہو۔ سورة المنافقون میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا : { وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ } ” اور عزت تو اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اور مومنین کے لیے ‘ لیکن منافقین (یہ بات) نہیں جانتے۔ “ { اِلَـیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ } ” اسی کی طرف اٹھتی ہیں اچھی باتیں “ ہر اچھی بات ‘ ہر اچھا نظریہ ‘ اچھا خیال ‘ دعوت ِحسنہ اور موعظہ حسنہ گویا ” کلمہ طیبہ “ ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ” الْکَلِمُ الطَّیِّبُ “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا ذکر ‘ دعا ‘ تلاوتِ قرآن اور علم و نصیحت کی باتیں ہیں۔ چناچہ ” ایمان “ بھی کلمہ طیبہ ہے۔ ظاہر ہے اگر کہیں کسی خیال یا نظریہ کا اظہار کیا جائے گا تو لامحالہ اس کا اظہار ایک ” کلمہ “ ہی کی شکل میں پیش کرنا ممکن ہوگا۔ بہر حال ہر کلمہ طیبہ (پاکیزہ بات) میں ترفع ّ (اوپر اٹھنے) کی خداد ادصلاحیت موجود ہوتی ہے اور یوں ہر کلمہ طیبہ اللہ کے حضور پیش ہوتا ہے ‘ لیکن ترفع کی اس صلاحیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے محنت اور کوشش کی بھی ضرورت ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا : { وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ } ” اور عمل ِصالح اسے اوپر اٹھاتا ہے۔ “ یعنی ایمان ‘ یقین ‘ اچھے خیالات ‘ اچھے نظریات اور اچھے عزائم اکیلے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں گے جب تک ان کے ساتھ محنت اور تگ و دو نہیں ہوگی۔ گویا حقیقی کامیابی کے لیے ایمان اور عمل صالح دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ { وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ} ” اور جو لوگ بری سازشیں کر رہے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہوگی۔ “ { وَمَکْرُ اُولٰٓئِکَ ہُوَ یَبُوْرُ } ” اور ان کی سازشیں ناکام ہو کر رہ جائیں گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 It should be noted that whatever the chiefs of the Quraish were doing against the Holy Prophet, they were doing it for the sake of their honour and dignity. They thought that if the Holy Prophet succeeded in his mission, their greatness and glory would fade away, their influence would die out and their honour among the Arabs would be ruined. At this it is being said: "The honour that you have attained for yourselves by your disbelief in and rebellion against Allah. is a false honour, which is destined to be mined. The taste and enduring honour, which can never suffer debasement, can be attained only through service of Allah. If you turn sincerely and faithfully to Him, you will attain it; and if you turn away from Him you are bound to live an abject, wretched life. " 21 This is the real means of attaining the honour. In the sight of Allah the false, vicious and mischievous can never rise and flourish. In His sight only such a word can rise and flourish; which is taste and pure and based on the truth, and in which a righteous creed and a correct point of view may have been expressed and presented. Then the thing which makes the pure word rise and prosper is the action which conforms to it. Wherever the word is pure but the action opposed to it, the purity of the word suffers a blemish. The mere extravagant rise of the tongue does not exalt a word: the power of the righteous action is needed to exalt and raise it high. Here. one should also note that the Qur'an presents the righteous word and the righteous action as inter-dependent. No action can be righteous merely on the basis of its external and apparent form unless it has a righteous creed behind it. And no righteous creed can be reliable unless it is supported and confirmed by a person's action. For instance, if a person says that he regards AIlah, the One. alone as his Deity, but worships others than Allah in practical life, his action belies his word. If a person says that he regards the wine as unlawful but drinks, his mere word can neither be acceptable to the people nor deserve approval in the sight of Allah. 22 Those who plot evil": Those who propagate false and evil words by means of cunning tricks, deceit and deceptive reasoning, and do not feel any hesitation in employing any device, however mean and depraved, to furstrate and defeat cite word of the truth.

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :20 یہ بات ملحوظ رہے کہ قریش کے سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں جو کچھ بھی کر رہے تھے اپنی عزت اور اپنے وقار کی خاطر کر رہے تھے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات چل گئی تو ہماری بڑائی ختم ہو جائے گی ، ہمارا اثر و رسوخ مٹ جائے گا اور ہماری جو عزت سارے عرب میں بنی ہوئی ہے وہ خاک میں مل جائے گی ۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ خدا سے کفر و بغاوت کر کے جو عزت تم نے بنا رکھی ہے ، یہ تو ایک جھوٹی عزت ہے جس کے لیے خاک ہی میں ملنا مقدر ہے حقیقی عزت اور پائدار عزت جو دنیا سے لے کر عقبیٰ تک کبھی ذلت آشنا نہیں ہو سکتی ، صرف خدا کی بندگی میں ہی میسر آسکتی ہے ۔ اس کے ہو جاؤ گے تو وہ تمہیں مل جائے گی ۔ اور اس سے منہ موڑو گے تو ذلیل و خوار ہو کر رہو گے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :21 یہ ہے عزت حاصل کرنے کا اصل ذریعہ ۔ اللہ کے ہاں جھوٹے اور خبیث اور مفسدانہ اقوال کو کبھی عروج نصیب نہیں ہوتا ۔ اس کے ہاں تو صرف وہ قول عروج پاتا ہے جو سچا ہو ، پاکیزہ ہو ، حقیقت پر مبنی ہو ، اور جس میں نیک نیتی کے ساتھ ایک صالح عقیدے اور ایک صحیح طرز فکر کی ترجمانی کی گئی ہو ۔ پھر جو چیز ایک پاکیزہ کلمے کو عروج کی طرف لے جاتی ہے وہ قول کے مطابق عمل ہے ۔ جہاں قول بڑا پاکیزہ ہو مگر عمل اس کے خلاف ہو وہاں قول کی پاکیزگی ٹھٹھر کر رہ جاتی ہے ۔ محض زبان کے پھاگ اڑانے سے کوئی کلمہ بلند نہیں ہوتا ۔ اسے عروج پر پہنچانے کے لیے عمل صالح کا زور درکار ہوتا ہے ۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید قول صالح اور عمل صالح کو لازم و ملزوم کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ۔ کوئی عمل محض اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے صالح نہیں ہو سکتا جب تک اس کی پشت پر عقیدہ صالحہ نہ ہو ۔ اور کوئی عقیدہ صالحہ ایسی حالت میں معتبر نہیں ہو سکتا جب تک کہ آدمی کا عمل اس کی تائید و تصدیق نہ کر رہا ہو ۔ ایک شخص اگر زبان سے کہتا ہے کہ میں صرف اللہ وحدہ لا شریک کو معبود مانتا ہوں ، مگر عملاً وہ غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اس کا یہ عمل اس کے قول کی تکذیب کر دیتا ہے ۔ ایک شخص زبان سے کہتا ہے کہ میں شراب کو حرام مانتا ہوں ، مگر عملاً وہ شراب پیتا ہے تو اس کا محض قول نہ خلق کی نگاہ میں مقبول ہو سکتا ہے نہ خدا کے ہاں اسے کوئی قبولیت نصیب ہو سکتی ہے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :22 یعنی باطل اور خبیث کلمے لے کر اٹھتے ہیں ، ان کو چالاکیوں سے ، فریب کاریوں سے اور نظر فریب استدلالوں سے فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں ، اور ان کے مقابلے میں کلمہ حق کو نیچا دکھانے کے لیے کوئی بری سے بری تدبیر استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: پاکیزہ کلمے سے مراد وہ کلمہ ہے جس کے ذریعے انسان ایمان کا اقرار کرتا ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دوسرے کلمات بھی داخل ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کے چڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوتے ہیں۔ اور نیک عمل کے اس کلمے کو اوپر اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کلمے کی پوری مقبولیت نیک عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) مجاہد عکرمہ اور مفسرین متقدمین نے جو اس آیت کے معنے بیان کئے ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ عمل نیک سے مراد وہ عمل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے جیسے نماز روزہ حج زکوۃ اور کلمات پاکیزہ سے مقصود نفلی ذکر الٰہی ہے جیسے تلاوت قرآن تسبیح تہلیل دعاء جو شخص فرض عبادت کے ادا کرنے کے بعد یہ نفلی ذکر الٰہی کرے گا اس کے فرض عمل اس کے نفل ذکر الٰہی کو اس رتبہ کو پہنچاویں گے کہ وہ نفلی ذکر آسمان پر چڑھ جاوے گا اور آسمان پر چڑھنے سے یہ مطلب ہے کہ وہ نفلی ذکر اللہ کی جناب میں قبول ہوجاوے گا اور و شخص بدون فرض عبادت ادا کرنے کے کوئی نفلی ذکر الٰہی کرے گا اس کا وہ نفلی ذکر ہرگز قبول نہ ہوگا طبرانی بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے اس معنے کو روایت کیا ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ١ ؎ ہے اور علی ابن ابی طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے یہی معنے روایت ٢ ؎ کئے ہیں (١ ؎ فتح البیان ص ٧٠٦ ج ٣۔ ) (٢ ؎ تفسیر ابن کثرا ص ٥٤٩ ج ٣۔ ) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایتوں میں علی بن ابی طلحہ کی سند وہی قابل قدرسند ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ امام احمد فرمایا کرتے تھے مدینہ سے مصر تک کے سفر میں اس سند سے ایک روایت بھی جس شخص کے ہاتھ آوے تو گویا اس نے وہ روایت مفت پائی اور یہی سند ہے جس کو امام بخاری نے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں جگہ جگہ اختیار کیا ہے حاصل یہ ہے کر بعضے مفسروں نے علاوہ اس معنے کے اور معنے جو اس آیت کے بیان کئے ہیں ان سب معنوں سے یہ معنے زیادہ صحیح ہیں اور نیک عمل کے آسمان پر چڑھنے کی کیفیت اور حالت اسی بیہق اور حاکم کی روایت ٣ ؎ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے یوں بیان فرمائی ہے (٣ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٤٥ ج ٥‘) کہ سبحان اللہ یا اور کوئی نیک کلمہ آدمی کے منہ سے نکلے تو فورا وہ فرشتے جو نیک کلموں کے ثواب کے لکھنے پر مقرر ہیں ان کلموں کو آسمان پر لے جاتے ہیں اور جس آسمان کے فرشتے اس کو دیکھتے ہیں اس نیک شخص کے لیے مغفرت کی دعاء کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ کلمات نیک اور عمل نیک اللہ تعالیٰ کیدر کہ میں پہنچ جاتے ہیں معتبر سند سے مستدرک حاکم اور ابن ماجہ میں نعمان بن بشیر (رض) سے جو روایتیں ٤ ؎ ہیں (٤ ؎ الترغیب والترہیب ص ٤٣٢ ج ٢۔ باب الترغیب فی التسبیح والتہلیل والتحمید الخ۔ ) ان کا حاصل یہ ہے کہ جب وہ نیک کلمات اللہ تعالیٰ کی درگاہ تک پہنچتے ہیں تو عرش کے گرد پھرتے ہیں اور شہد کی مکھی کی طرح بھن بھناتے ہیں اور جس شخص کے منہ سے وہ کلمات نکلے ہیں اس کا ذکر خدا تعالیٰ کے دربار میں آتا ہے اس لیے ہر انسان کو شوق چاہئے کہ اس کا ذکر ہمیشہ خدا کے دربار میں آیا کرے یہ تو نیک کلموں اور نیک عملوں کا آسمان پر چڑھنے کا حال ہوا اب رہا ان کا ثواب اس کا حال ہوا اب رہا ان کا ثواب اس کا حال حضرت ابوہریرہ (رض) کی صحیحین کی حدیث میں گذر چکا ہے کہ جب آدمی دین میں خوب پکا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر نیکی کا ثواب دس گنہ سے لے کر سات کی حدیث میں گذر چکا ہے کہ جب آدمی دین میں خوب پکا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر نیک کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو تک لکھا جاتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ رات کے لوگوں کے نیک عمل دن سے پہلے اور دن کے رات سے پہلے آسمان پر چرڑھ کر اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوجاتے ہیں یہ حدیث آیت کے ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہمیشہ رات دن کے لوگوں کے عمل آسمان پر چڑھتے اور اللہ تعالیٰ کے روبرو دو وقت پیش ہوتے رہنے ہیں۔ ریأ کی قباحت مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ میکرون سے ریا کار آدمی مراد ہیں جو اپنے عملوں کے ادا کرنے میں یہ مکر کرتے ہیں کہ لوگوں پر تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کی عبادت کر رہے ہیں حالانکہ ریا کے سبب سے ان کے کام خدا کے نزدیک بہت ناپسند ہیں اس واسطے فرمایا کہ ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر عنقریب ظاہر ہوجائے گا کہ دنیا میں سمجھ والے ایماندار لوگوں پر ان کا فریب کھل جاوے گا اور اللہ تو عالم الغیب ہے دنیا اور آخرت میں کوئی چیز اس پر پوشیدہ نہیں ہے ‘ اس لیے اس کی بارگاہ میں بد نیتی کے ایسے کھوئے عملوں کا کچھ اجر نہیں ہے مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی صحیح روایت ١ ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١١٠ ج ٣ تفسیر آخری آیت سورة الکہف۔ ) کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعضے ایسے نیک عملوں کو نامقبول فرما کر اعمال ناموں سے سے نکال ڈالنے کا حکم دے گا کہ جن عملوں میں نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتوں کو بھی بڑائی معلوم نہ ہوگی ‘ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ جن عملوں میں ظاہر کسی شرک یا بدعت کا میل ہوگا ان عملوں کی برائی نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتوں سے چھپی نہیں رہ سکیہ اس لیے ایسے عملوں کی برائی صاف صاف نامہ اعمال میں لکھی ہوگی اور ایسے عمل اس دن ضرور نامقبول ٹھہر کر اکارت جائیں گے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ لوگوں کے نیک عمل آسمان پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوتے ہیں جس کا نتیجہ قیامت کے دن یہ ہوگا کہ جو عمل قواعد شرع کے موافق صحیح اور خالص نیت سے ہوں گے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے اوپر کی حدیث کے موافق ان کا اجردس سے لے کر سات سودرجہ تک دیا جائے گا اور جو عمل ایسے نہ ہوں گے وہ بالکل رائگاں جائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:10) العزۃ ۔ عزت۔ غلبہ، بزرگی۔ عز یعز ضرب کا مصدر بھی ہے اور بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔ یصعد۔ مضارع واحد مذکر غائب صعود باب سمع سے مصدر وہ چڑھتا ہے۔ وہ پہنچتا ہے۔ مراد یہاں قبول ہوتا ہے۔ یا یہ کہ فرشتے اسے لے اوپر عرش کی طرف چڑھتے ہیں ۔ الکلم الطیب موصوف وصفت۔ پاکیزہ کلام ۔ مراد ذکر الٰہی۔ یرفعہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع العمل الصالح ہے۔ وہ اس کو بلند کرتا ہے رفع (با فتح) مصدر۔ یرفع میں ضمیر فاعل کا مرجع کون ہے ؟ اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) یرفع میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے مطلب یہ کہ جو عمل صالح خالصۃ اللہ کے لئے کیا جائے اللہ اس کو اوپر اٹھا لیتا ہے یعنی قبول فرما لینا ہے۔ (2) ضمیر فاعل عمل صالح کی طرف راجع ہے اس صورت میں ہ کا مرجع الکلم الطیب (پاکیزہ کلام ) ہوگا (الکلم کا لفظ مفرد ہے جمع نہیں۔ جنس مراد ہے) اور مطلب یہ ہوگا کہ پاکیزہ کلام عمل صالح کو اوپر پہنچاتا ہے یعنی مقبول بنا دیتا ہے۔ یمکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب مکر (باب نصر) مصدر۔ وہ چالیں چلتے ہیں۔ السیئات۔ ای المکرات السیئات۔ بری چالیں۔ مکر بری تدبیر۔ پوشیدہ فریب۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اللہ تعالیٰ کا دھوکہ فریب۔ یا مکر کی سزا دینا مراد ہے۔ اولئک کا اشارہ الذین یمکرون السیئات کی طرف ہے۔ یبور واحد مذکر غائب فعل مضارع۔ بور۔ بوار مصدر (باب نصر) وہ ہلاک ہوجائے گا یا تباہ ہوجائے گا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکانوا قوما بورا (25:18) اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ لوگ تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 پھر تم اس سے انکار کیونکر کرتے ہو حالانکہ مردہ زمین کو زندہ ہوتے اپنی آنکھوں سے ہمیشہ دیکھتے ہو ؟ ابوزین عقیلی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا :” اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا ؟ “ فرمایا :” کیا تم نے کوئی ایسی زمین نہیں دیکھی جس سے تم پہلی دفعہ گزرے تو وہ اجاڑ پڑی تھی اور دوبارہ گزرے تو وہ سبزہ سے لہلہا رہی تھی ؟ “ میں نے عرض کیا ” جی ہاں “ فرمایا ” اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ ( قرطبی) ۔ حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو عرش کے نیچے سے ایک خاص قسم کی بارش ہوگی جس کا پانی پڑتے ہی مردے اس طرح جی اٹھیں گے جیسے ظاہری بارش سے دانہ زمین سے اگ آتا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔14 لہٰذا اسی سے عزت مانگنی چاہیے۔ کفار بتوں کی عبادت کرتے کہ ان کے لئے عزت کا باعث بنیں۔ ( سورة مریم، آیت 81) اور بعض ضعف الایمان اور منافق قسم کے مسلمان کفار سے دوستی کرتے کہ دنیا میں با عزت زندگی بسر کرسکیں۔ ( سورة نساء آیت 139) فرمایا کہ اگر عزت چاہتے ہو تو اسی کی اطاعت اور عبادت کر کے عزت طلب کرو، کیونکہ ہر قسم کی عزت اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ عزت ایسی ہے جس کی ساتھ ذلت نہیں ہے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)15 یعنی اس کے ہاں قبول ہوتا ہے۔ ( فالصعود کنایۃ عن القبول) پاکیزہ کلمہ سے مراد کلمہ توحید ( لا الہ اللہ) بھی ہے اور ہر وہ بات جو پاکیزہ ہو جیسے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر یعنی تسبیح وتحمید اور ذکر الٰہی ( قرطبی وغیرہ)16 یعنی کوئی کلمہ چاہے اپنی جگہ پاکیزہ ہو لیکن قبول اسی وقت ہوتا ہے جب اسکے ساتھ عمل بھی نیک ہو۔ مطلب یہ ہے کہ عمل کا نیک ہونا ” پاکیزہ کلمات “ کی قبولیت کیلئے شرط ہے جیسا کہ بعض آثار سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور نیک عمل سے مراد وہ عمل ہے جو کتاب و سنت کے مطابق ہو اور اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہی گئی ہو نہ کہ کسی اور کی، بعض مفسرین (رح) نے ” برفعہ “ میں ” یرفع “ کی فعیر پاکیزہ کلموں کیلئے اور ” ہ “ کی ضمیر عمل صالح کیلئے قرار دیتے ہوئے یہ معنی کہے ہیں کہ ” پاکیزہ کلمہ نیک عمل کو بلند کرتا ہے “۔ گویا اللہ تعالیٰ کے ہاں درجہ قبولیت پانے کیلئے پاکیزہ کلمہ اور نیک عمل لازم و ملزم ہیں “۔ ( شوکانی) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں !” یعنی عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے تمہارے ذکر او بھلے کام چڑھتے جاتے ہیں جب اپنی حد کو پہنچیں گے تببری پر غلبہ حاصل کریں گے کفر دفع ہوگا ( اور) اسلام کو عزت نصیب ہوگی “۔ 1 چناچہ ایک مرتبہ ” دارالندوہ “ میں بیٹھ کر انہوں نے یہ خفیہ سکیم بنائی کہ ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی اٹھے اور سب مل کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یک ہارگی حملہ کریں پھر انہوں نے اس کو عملی جامعہ پہنانے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچا لیا اور سکیم بنانے والے خود ذلیل و خوار ہوئے اور ان کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے۔ بعض نے اس سے ریا کار لوگ مراد لئے ہیں۔ ( قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس لئے اس کو چاہئے کہ اللہ سے عزت حاصل کرے۔ 4۔ اچھے کلام میں کلمہ توحید اور تمام اذکار الہیہ اور اچھے کام میں تصدیق قلبی اور جمیع اعمال صالحہ ظاہرہ و باطنہ داخل ہیں، اور رفع عام ہے نفس قبول و قبول تام کو۔ 5۔ یہ موجب ان کی ذلت کا ہوگا، اور ان کے آلہہ مزعومہ ان کو خاک عزت نہ دے سکیں گے۔ بلکہ بالعکس خود وہ ان کے خلاف ہوجائیں گے۔ 6۔ یعنی ان تدبیروں میں ان کو کامیابی نہ ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ اسلام کو مٹانا چاہتے تھے خود ہی مٹ گئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اسی طرح ہی عزت اور ذلّت کا مالک ہے۔ انسان کا وقار اوراقبال اسی میں ہے کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کا عقیدہ اپنے ذہن میں ہر دم تازہ اور قائم رکھے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ جس انسان کا آخرت کے بارے میں عقیدہ اٹھ جاتا ہے وہ بےہودہ اور برے کاموں میں عزت تلاش کرتا ہے۔ یہی سوچ اور روّیہ اہل مکہ کا تھا وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے اس نبی کی دعوت تسلیم کرلی تو لوگوں کی نظروں میں ہمارا وقار ختم ہوجائے گا۔ اسی کے پیش نظر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے درپے رہتے تھے۔ انہیں اور ان کے حوالے سے دنیا بھر کے لوگوں کو یہ عقیدہ بتلایا اور سمجھایا جارہا ہے کہ عزت ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو ایک خاک نشین کو آسمان کی بلندیوں سے ہمکنار کردے اور چاہے تو بادشاہ کو اس کے برے اعمال کی وجہ سے ذلت سے دوچار کر دے۔ وہ عزت اور ذلّت دینے پر پوری طرح قادر ہے۔ اسی کی طرف پاکیزہ کلمات اور صالح اعمال اٹھائے جاتے ہیں جو انسان کی حقیقی عزت اور دائمی اقبال کا زینہ ہیں۔ جو شخص پاکیزہ خیالات، اچھے کلمات، اعلیٰ اخلاق اور صالح کردار کا حامل ہوتا ہے وہی اس کی بارگاہ میں عزت پاتا ہے۔ جو لوگ دین حنیف کے مقابلے میں بری تدبیریں کرتے ہیں نا صرف ان کے مکروفریب نا کام ہوجائیں گے بلکہ انہیں شدید عذاب سے بھی دوچار کیا جائے گا۔ کلمہ طیبہ سے مراد عقیدہ توحید ہے۔ جس بنا پر آدمی ذہنی پستی سے نکل کر فکر و کردار کی بلندی حاصل کرتا ہے۔ وہ کسی کی تکریم اس لیے نہیں کرتا کہ اس سے مجھے عزت ملے گی۔ اس کا ایمان ہوتا ہے کہ عزت اور ذلّت صرف ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں تک ” حق “ کے خلاف مکرو فریب کرنے والوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ذلیل کردیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مکروفریب کو پسند نہیں کرتا اور آخرت میں مکروفریب کرنے والوں کو شدید عذاب دیا جائے گا۔ (عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَلاَ یَتْرُکُ اللَّہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَہُ اللَّہُ ہَذَا الدِّینَ بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیلٍ عِزًّا یُعِزُّ اللَّہُ بِہِ الإِسْلاَمَ وَذُلاًّ یُذِلُّ اللَّہُ بِہِ الْکُفْرَوَکَانَ تَمِیمٌ الدَّارِیُّ یَقُولُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِی لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِراً الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْیَۃُ ) [ رواہ احمد : مسند تمیم دارمی ] ” حضرت تمیم داری (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا دین اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات کا اندہیرا اور دن کا اجالا پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کچے پکے مکان کو نہیں چھوڑے گا مگر دین کو وہاں داخل فرمائے گا۔ معزز کو عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلیل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ معزز کو دین اسلام کے ساتھ عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلت کفر سے ملے گی۔ حضرت تمیم داری (رض) کہا کرتے تھے میں اپنے گھروالوں میں سے انہیں پہچانتا ہوں جو دین کی وجہ سے معزز ہوئے اور بھلائی حاصل کی۔ اور جو کافر تھے ان پر ذلت، حقارت مسلط کردی گئی اور وہ جزیہ دینے پر مجبور ہوئے۔ “ مسائل ١۔ ہر قسم کی عزت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ٢۔ مکّار لوگوں کے مکر و فریب بالآخر نا کام ہوجاتے ہیں۔ ٣۔ عقیدہ توحید اور صالح کردار کے سبب ہی انسان حقیقی عزت پاسکتا ہے۔ ٤۔ دین کے خلاف مکروفریب کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ شدید ترین عذاب دے گا۔ تفسیر بالقرآن مکرو فریب کی ناکامیاں : ١۔ ان کے مکر کا انجام دیکھیں ہم نے مکر کرنے والوں اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النّمل : ٥١) ٢۔ عنقریب جرائم اور مکر و فریب کرنے والوں کو اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (الانعام : ١٢٤) ٣۔ ان سے پہلے لوگ بھی مکر و فریب کرچکے ہیں۔ اللہ کے مقابلہ میں کسی کی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ (الرّعد : ٤٢) ٤۔ عیسائیوں نے تدبیر کی اللہ نے وہ تدبیر انہی پر لوٹا دی اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (آل عمران : ٥٤) ٥۔ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازش کی اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش ناکام بنا دی۔ (الانفال : ٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

من کان یرید العزۃ ۔۔۔۔۔ اولئک ھو یبور (10) ” “۔ شاید مردہ زمین میں اٹھنے والی نباتاتی زندگی اور کلمہ طیبہ اور عمل صالح کے درمیان ربط یہ ہے کہ دونوں میں پاکیزہ زندگی اور قدر مشرک ہے۔ نباتات کی بھی طیب زندگی ہے اور عمل صالح اور کلمہ طیبہ بھی پاک زندگی ہے۔ اور ان کے درمیان ربط اور تعلق وہی ہے جس کی طرف سورة ابراہیم کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات کے مزاج اور اسلامی زندگی کے مزاج کی یکسائی سورة ابراہیم میں فرمایا : الم ترکیف ضرب اللہ ۔۔۔۔۔ مالھا من قرار (24 – 26) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اس سے سبق لیں اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھنکا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے “۔ یہ ایک حقیقی مشابہت ہے جو ایک پاک کلمہ اور پاک درخت کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ دونوں کے اندر حیات اور برہنہ موجود ہے۔ ایک کلمہ اور نظریہ بھی نشوونما پاتا ہے اور بار آور ہوتا ہے اور ایک درخت بھی نشوونما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ دونوں کی ایک ہی مثال ہے۔ مشرکین اس لیے شرک کرتے تھے کہ مکہ کے اندر ان کا جو دینی مقام تھا ، وہ برقرار رہے۔ محض عقیدے اور نظریہ کی وجہ سے وہ دوسرے قبائل سے برتر تسلیم کیے جاتے تھے۔ پھر ان کو مالی مفادات بھی حاصل تھے۔ مثلاً ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اس وجہ سے وہ پرشوکت اور پر قوت تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔ ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا ” اگر تمہارے ساتھ ہدایت کے تابع ہوجائیں تو ہمیں ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا۔ لہٰذا اللہ فرماتے ہیں : من کان یرید العزۃ فللہ العزۃ جمیعا (35: 10) ” جو کوئی عزت چاہتا ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے “۔ یہ حقیقت جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو اس انسان کی قدریں اور حسن و قبح کے اصول بدل جاتے ہیں۔ ان قدروں کے حصول کے ذرائع اور منصوبے ہی بدل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عزت سب کی سب اللہ کیلئے ہے اور عزت کا کوئی حصہ بھی اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ اگر کوئی عزت چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ ہاں عزت طلب کرے گا تو وہاں لازما جائے گا اور اسے عزت ضرور ملے گی اور اگر کسی اور دروازے پر عزت تلاش کرے گا تو خوار ہوگا اس لیے کہ ۔ فان العزۃ فللہ جمیعا ” عزت تو سب کی سب اللہ کے ہاں ہے “۔ قریش اپنے بت پرستانہ عقیدے کی وجہ سے لوگوں سے عزت چاہتے تھے۔ وہ لوگوں کے علی الرغم ہدایت قبول کرنے سے ڈرتے تھے حالانکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو دعوت دیتے ہیں وہ ہدایت ہے۔ وہ اس لیے ڈرتے تھے کہ ان کے مقام و مرتبہ میں فرق نہ آجائے۔ جن عوام اور قبائل سے وہ ڈرتے تھے ان کے پاس عزت کا کوئی سرچشمہ ہی نہ تھا۔ وہ عزت کے مالک ہی نہ تھے۔ عزت کا مالک تو اللہ ہے۔ فان العزۃ فللہ جمیعا ” بیشک عزت اللہ کی ہے “۔ اگر قریش قوی تھے تو قوت کا مصدر بھی اللہ ہی ہے۔ لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ عزت اور قوت اور شوکت اپنے اصلی مصدر سے لیں ، لوگوں سے نہ لیں۔ یہ لوگ تو خود عزت کے طالب ، محتاج اور کمزور ہیں۔ اسلامی نظریہ حیات کے حقائق میں سے یہ اولین حقیقت ہے ۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ اگر کسی کے ذہن میں بیٹھ جائے تو اس کی قدریں بدل کر رکھ دیتی ہے۔ حسن و قبح کے پیمانے بدل دیتی ہے۔ اقوام کے فیصلے اور ان کی تقدیریں بدل دیتی ہے۔ ان کا منہاج زندگی اور طرز عمل بدل جاتا ہے۔ وہ اپنے اسباب و وسائل بدل دیتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم صرف اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں اور پھر پوری دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیں۔ پھر ہم دنیا میں نہایت معزز ، پروقار اور مستقل مقام و مرتبہ پائیں گے۔ اقوام عالم میں ہمارا وزن ہوگا۔ یہی ہے عزت و وقار کا طریقہ ۔ ایک مسلمان کیلئے اس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ جب کسی دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو وہ دل پھر کسی جبار وقہار کے سامنے نہیں جھکتا۔ وہ کسی تندوتیز طوفان سے بھی نہیں ڈرتا۔ کوئی عظیم حادثہ بھی اس کے عزائم کو ختم نہیں کرسکتا۔ کوئی صورت حال اور کوئی حکومت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ کوئی مملکت اور کوئی مصلحت اسے متاثر نہیں کرسکتی۔ اس کرہ ارض کی قوتوں میں سے کوئی قوت اسے نہیں جھکا سکتی اور کیوں ایسا ہو سکے ؟ جب کہ ہر قسم کی قوت کا سرچشمہ اللہ کے پاس ہے اور اس کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ یہ وجہ ہے کہ یہاں کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا ذکر ہوتا ہے۔ الیہ یصعد۔۔۔۔۔ الصالح یرفعہ (35: 10) ” اس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ پاکیزہ قول ہے اور عمل صالح اس کو اوپر اٹھاتا ہے “۔ اس عظیم حقیقت کے ذکر کے بعد اس تبصرے کا ایک خاص مفہوم اور اشارہ ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اگر کوئی عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے ذرائع کیا ہیں ؟ وہ ہیں قول طیب اور عمل صالح۔ قول طیب سیدھا اللہ کی طرف بلند ہوتا ہے اور عمل صالح اللہ کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔ یوں اللہ عمل صالح کو مکرم بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قول طیب اور عمل صالح کے مالک ہمیشہ سربلند اور معزز اور مکرم ہوتے ہیں اور ان کو عزت عطا ہوتی ہے۔ صحیح عزت وہ ہوتی ہے جو قبل اس کے کہ اس دنیا میں وہ نمودار ہو یا اس کے آثار نمودار ہوں ایک شخص کے قلب میں بیٹھی ہے۔ جب یہ حقیقت کسی دل میں بیٹھ جائے تو ایسا شخص ذات اور سرنگونی کے تمام اسباب کے دائرے سے باہر نکل آتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جب کسی کے دل میں بیٹھ جائے تو سب سے پہلے تو وہ خود اپنے نفس امارہ پر قابو پا لیتا ہے۔ یہ سب سے پہلے اپنی سفلی خواہشات کو کنڑول کرلیتا ہے۔ جب کوئی انسان ان انسانی کمزوریوں پر قابو پالے تو پھر اس کو ذلیل کرنے اور تابع کرنے کا کوئی سبب ہی نہیں رہتا۔ لوگوں کو جو چیز ڈلیل کرکے رکھ دیتی ہے وہ ان کی خواہشات اور رغبات ہوتی ہیں ۔ ڈر اور لالچ ہوتا ہے اور جو شخص ان کمزوریوں پر غالب آجاتے وہ گویا تمام انسانوں پر غالب آگیا۔ اور وہ یہ حقیقی عزت ہے جس کے ذریعے انسان سربلند ، قوی اور نڈر ہوجاتا ہے۔ عزت یہ نہیں ہے کہ انسان حق کے ساتھ معاند ہو ، خود سر ہو اور باغی ہو اور باطل کو بلند کرنے کی سعی کرتا ہو نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ کوئی فاسق و فاجر ہوجائے ، اللہ کا باغی اور نافرمان ہوجائے اور نہایت ہی جبر اور اصرار کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرے اور نہ قوت اس بات کا نام ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی آزادانہ شہوت رانی اور بےحیائی کا رویہ اختیار کرے۔ نہ قوت یہ ہے کہ کوئی بغیر کسی اصول اور ضابطے کے طاقت کا استعمال کرے اور انصاف اور اصلاح کے مقاصد کے بغیر دھکڑ شروع کر دے۔ ہرگز نہیں ، بلکہ قوت یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پالے۔ انسان ذلت اور غلامی کا مقابلہ کرے ، اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہ جھکے اور صرف اللہ ہی کے سامنے عاجزی اور خشوع کرے ، اللہ کا خوف کرے ، اس سے ڈرے ، خوشی اور غم دونوں حالتوں میں اللہ سے ڈرے۔ جب کوئی ایسی قوت حاصل کرلے تو پھر اس کی پیشانی بلند ہوگی اور ایسا انسان ہر اس بات کا مقابلہ کرسکے گا جسے اس کا ضمیر پسند نہ کرتا ہو۔ اور ایسا انسان اللہ کی رضا کے سوا کسی اور چیز کو خاطر میں نہ لائے گا۔ یہ ہے کلمہ طیبہ اور عمل صالح کا مقام۔ عزت کے حوالے سے اور سیاق کلام میں بات کی مناسبت اور ربط کے حوالے سے۔ اس کے بعد صفحہ بالمقابل کی تکمیل یوں کی جاتی ہے۔ والذین یمکرون ۔۔۔۔۔۔ ھو یبور (35: 10) ” رہے وہ لوگ جو بیہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر خود ہی غارت ہونے والا ہے “۔ یمکرون کے اندر تدبیر کے معنی بھی شامل ہیں لیکن یہاں مکر بمعنی سازش اور چال اس لیے استعمال ہوا ہے کہ اس کا اکثر استعمال برے معنوں ہی میں ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے عذاب شدید ہے اور یہ عذاب تو ان کے لیے مقدر ہے کہ ان کی یہ چال بازیاں غارت جائیں گی ، نہ قائم رہیں گی اور نہ ان کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔ یہ ” بور “ کے ہے اور ” بور “ اور ” بوران “ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ آیت سابقہ میں چونکہ اشارہ زمین کی آبادی اور پھل دینے کے معنی کی طرف تھا ، یہاں اس کے بالمقابل بوران کا لفظ لایا گیا ہے جس میں پھل ضائع ہوجانے کے معنی ہیں۔ جو لوگ یہ چال بازیاں کرتے ہیں وہ جھوٹی عزت حاصل کرنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ سوسائٹی میں عام لوگوں کی نظروں میں ، وہ معزز ہوں۔ بظاہر وہ بڑے لوگ اور صاحب عزت ہوں اور قوت والے نظر آئیں۔ یہاں عزت ذرا وسیع مفہوم میں ہے لیکن ہر بری تدبیر جس میں قول طیب نہ ہو اور عمل صالح نہ ہو ، اس کا مدبر کبھی بھی معزز ، پروقار اور صاحب قوت نہیں ہوتا۔ اگرچہ بعض اوقات وہ ایک مختصر وقت کے لیے اپنا عرب جما لیتا ہے لیکن آخر کار وہ ہلاکت کی طرف جاتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اور اللہ اپنے وعدوں سے کبھی الٹ نہیں کرتا۔ ہاں وہ ہر مکار کو قدرت مہلت ضرور دیتا ہے لیکن جب وقت آتا ہے تو یہ تمام مکاریاں غارت چلی جاتی ہیں۔ اب انسان کی پہلی زندگی اور پہلی پیدائش کا ایک منظر ، اس سے قبل کے منظر میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک خشک زمین کو پانی کے ذریعہ کس طرح زندہ اور سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے۔ انسان کی پیدائش میں اس کے زمانہ حمل مادر اور پھر اس کی طویل عمر یا قصیر عمل۔ یہ سب چیزیں اللہ کے علم اور منصوبے کے مطابق ہوتی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ساری عزت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، کلمات طیبات اس کی طرف جاتے ہیں اسے بندوں کی عمروں میں کمی بیشی کا علم ہے لوگ دنیا میں عزت چاہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بڑے بن کر رہیں اور اس کے ذریعہ دنیاوی مصائب اور مشکلات سے بھی بچنا چاہتے ہیں، اس بارے میں غیر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور مخلوق کو راضی کرنے کے لیے ایسے اعمال کرتے ہیں جن سے خالق کائنات جل شانہٗ راضی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : (فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا) یعنی جسے عزت چاہیے تو وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے، وہ عزیز ہے اور ساری عزت اسی کے لیے ہے اپنی مخلوق میں جس کو چاہے عزت دے سکتا ہے اور جس کی عزت چاہے کم کرسکتا ہے اور ختم کرسکتا ہے، لہٰذا اللہ ہی کی فرمانبرداری کرے اور اسی سے سب کچھ مانگے۔ بعض حضرات نے لفظ (الْعِزَّۃَ ) کا ترجمہ (غَلَبَۃٌ) سے کیا ہے، یہ بھی درست ہے اور حقیقت میں اللہ ہی سب پر غالب ہے اور جسے چاہے غلبہ دے سکتا ہے۔ ایک مرتبہ منافقین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں چلے گئے وہاں آپس میں کہنے لگے (لِءَنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّمِنْھَا الْاَذَلَّ ) (اگر ہم مدینہ واپس ہوگئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال دے گا) مطلب یہ تھا کہ ہم پردیسی مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلِلَّہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (اور اللہ ہی کے لیے عزت ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے، اور لیکن منافقین نہیں جانتے) سورة النساء میں فرمایا ہے (بَشِّرِ الْمُتٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمَانِ الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیَیْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا) (منافقین کو خوشخبری سنا دیجیے اس امر کی کہ ان کے واسطے بڑی درد ناک سزا ہے جن کی حالت یہ ہے کہ کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر، کیا ان کے پاس معزز رہنا چاہتے ہیں سو اعزاز تو سارا اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ ) ان آیات میں ان سب لوگوں کو تنبیہ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو راضی کرنے کے لیے حکومت اور سیاست اور معیشت، خوراک، پوشاک، وضع قطع اور شکل و صورت میں کافروں کی مشابہت اور ان کے طور طریق اختیار کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے ہم باعزت سمجھے جائیں گے، حالانکہ عزت ایمان اور اعمال صالحہ میں ہے اور ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ جسے چاہے گا عزت دے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں کوئی عزت نہیں ہے، دنیا میں اگر کسی کافر، فاسق کو کوئی عزت حاصل ہے تو بےحقیقت ہے، اور ذرا سی ہے، اور ذرا سی دیر کے لیے ہے۔ پھر فرمایا : (اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ ) (اور اچھے کلمات اس کی طرف پہنچتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو قبول فرماتا ہے، اچھے کلمات کلمہ توحید اور تمام اذکار الٰہیہ کو شامل ہیں۔ (وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ) (اور نیک عمل انہیں بلند کردیتا ہے) نیک عمل سے اعمال صالحہ ظاہرہ باطنہ مراد ہیں، تصدیق قلبی یعنی ایمان تو ہر عمل کے مقبول ہونے کی شرط ہی ہے دوسرے اعمال صالحہ کو بھی کلمات طیبات کی مقبولیت میں دخل ہے، اور جن لوگوں کے اعمال و اذکار عند اللہ مقبول ہوتے ہیں حقیقی عزت انہیں کو ملتی ہے۔ (وَ الَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ) (اور جو لوگ بری تدبیریں کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے) اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتے تھے اور آپ کی دعوت کو روکنے کے لیے مشورے کرتے تھے، ایک مرتبہ وہ لوگ جمع ہو کر یہ مشورہ کرنے لگے کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ آپ کو قید کردیا جائے یا قتل کردیا جائے یا مکہ معظمہ سے نکال دیا جائے جسے سورة انفال کی آیت کریمہ (وَ اِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ ) میں بیان فرمایا ہے۔ (وَمَکْرُ اُولٰٓءِکَ ھُوَ یَبُوْرُ ) (اور ان لوگوں کی تدبیریں برباد ہوں گی) چناچہ ایسا ہی ہوا، آپ کے خلاف تدبیریں کرنے والے غزوۂ بدر میں مقتول ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مستقل یہ تکوینی قانون بنا دیا (وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّءُ الاَّ بِاَھْلِہٖ ) (اور بری تدبیروں کا وبال انہیں لوگوں پر پڑتا ہے جو ایسی تدبیریں کرتے ہیں) ہر صاحب عقل و فہم کو یہ نکتہ سمجھ لینا چاہیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖف 14:۔ من کان یرید الخ : یہ ایک شبہ کا جواب ہے یعنی اگر تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ ان معبودانِ باطلہ کی پرستش اور پکار سے تمہیں عزت حاصل ہوگی۔ تو یہ خیال دل سے نکال دو ، عزت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اور اسی کی عبادت اور خدمت سے ملتی ہے۔ اس لیے تم حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے واتخذوا من دون اللہ الہۃ لیکونوا لھم عزا۔ کلا سیکفرون بعبادتہم ویکونون علیہم ضدا (مریم) ۔ 15:۔ الیہ یصعد الخ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی کلمات طیبات کو قبول فرماتا ہ۔ الکلم الطیب سے کلمہ توحید اور صفات باری تعالیٰ مراد ہیں۔ التوحید والتحمید و ذکر اللہ و یہ کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل صالح کو قبول فرماتا ہے۔ ٖف 16:۔ والذین یمکرون الخ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ دین اسلام کو مٹانے کے لیے اور پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں کے خلا برے منصوبے اور پروگرام بناتے رہتے ہیں ان کے لیے سخت ترین سزا مقرر ہے اور ان کا ہر مکر و فریب اور منصوبہ ناکام اور بیکار ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) جو شخص عزت حاصل کرنا چاہے تو ہر قسم کی تمام تر عزت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے۔ پاکیزہ کلام اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں چڑھتا ہے اور عمل صالح اور نیک کام اس پاکیزہ کلام کو اٹھاتا اور بلند کرتا ہے اور وہ لوگ جو بری تدبیریں اور برے دائوں کرتے رہتے ہیں ان کیلئے سخت سزا اور سخت عذاب ہے اور ان لوگوں کے یہ دائوں اور بری تدبیریں سب نابود و برباد ہوجائیں گی اور ان کا دائوں نقصان اور خسارہ کا ہے۔ دین حق کے منکروں کو یہ گھمنڈ تھا کہ ہمارے معبود دنیا میں اور خصوصاً آخرت میں ہمارے شفیع ہوں گے۔ اور ہماری عزت اور سربلندی کے یہی معبود ان باطلہ ضامن ہیں۔ حضرت حق جل مجدہ نے اس غلط خیال کا رد فرمایا کہ عزت مطلقہ اور بالذات اسی اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اگر دوسرے کو کوئی عزت ملتی ہے اور تعزز حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کی عنایت اور فضل سے میسر ہوتا ہے۔ عزت کا اصلی اور بالذات مالک وہی ہے اور دوسروں کو جو تعزز حاصل ہوتا ہے وہ بالواسطہ ہوتا ہے۔ جیسا سورة منافقون میں انشاء اللہ آجائے گا۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ بالعرض محتاج ہوتا ہے بالذات کا تو سب حق تعالیٰ کے حصول عزت میں محتاج ہوئے۔ آگے فرمایا کلام پاکیزہ یعنی ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن اور دعائیں وغیرہ سب اس کی بارگاہ میں چڑھتی ہیں اور وہی ان کو قبول فرماتا ہے۔ گویا اذکار کا ذاتی اقتضا اوپر چڑھنا ہے اس کلام کے ساتھ نیک اعمال بھی ہوں تو اذکار کو سہارا مل جاتا ہے۔ عمل صالح سے مراد تمام نیک کام خواہ ظاہری ہوں یا باطنی بلکہ تصدیق قلبی کو بھی شامل ہیں اگر اذکار الٰہیہ کے ساتھ یہ چیزیں بھی ہوں تو ان کو اور بلندی یعنی قبولیت تامہ حاصل ہوجاتی ہے۔ بعض حضرات نے یرفعہ کی ضمیر سے یہ مطلب لیا ہے کہ عمل صالح اللہ تعالیٰ خود بلند فرماتا۔ بعضوں نے کہا پاکیزہ کلام کو اچھا اور نیک کام بلند کرتا ہے۔ حضرات مفسرین نے کئی طرح معنی کئے ہیں ایک قرأت والعمل کے لام کو فتح کے ساتھ بھی ہے۔ اس تقدیر کے معنی یہ ہیں کہ پاکیزہ کلام نیک عمل کو بلند کرتا ہے اور معراج قبول کو پہنچاتا ہے۔ بہرحال ! پہلے معنی جو ہم نے بیان کئے وہ راجح معلوم ہوتے ہیں اور بات بھی یہی ہے کہ اذکار طیبہ تو اگر کسی فاسق کے منہ سے نکلیں تو وہ بھی اوپر چڑھتے ہیں لیکن عمل صالح بھی اگر ہوں تو قبولیت کی امید زیادہ ہے یہ مقبولیت ایمان خالص کے ساتھ وابستہ ہے اور جو لوگ ہر وقت اسلام اور پیغمبر اسلامی کیخلاف ریشہ دوانیاں کرتے رہتے ہیں تو ان کے مکروفریب اور بری قسم کی ریشہ دوانیاں سب نیست و نابود ہوجائیں گی اور ان کے مکروفریب کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور بہت نقصان پہنچے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عزت اللہ کے ہاتھ ہے تمہارے ذکر اور بھلے کام چڑھتے جاتے ہیں جب اپنی حد کو پہنچیں گے تب بدی پر غلبہ کریں گے۔ کفر دفع ہوگا اسلام کو عزت ہوگی یعنی ہر ایک کام سہج سہج ہوتا ہے جیسے آدمی کا بننا۔