Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 21

سورة فاطر

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الۡحَرُوۡرُ ﴿ۚ۲۱﴾

Nor are the shade and the heat,

اور نہ چھاؤں اور نہ دھوپ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 یہ ثواب و عتاب یا جنت و دوزخ کی تمثیل ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٧] بینا اور نابینا کون لوگ ہیں ؟ یعنی ایک شخص اس طرح دل کا اندھا بنا ہوا ہے کہ کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں میں غور کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ دوسرا شخص انہی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور عجائبات قدرت میں غور کرنے کے بعد اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار ہوجاتا ہے اور بےاختیار اللہ کی حمد و ثنا اس کی زبان پر آجاتی ہے۔ تو کیا یہ دونوں ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟ یا ایک شخص جہالت کی تاریکیوں میں مسلسل آگے بڑھتا جارہا ہے اور دوسرا علم کی روشنی میں محتاط رہ کر اپنا سفر زندگی جاری رکھتا ہے کیا یہ دونوں ایک جیسے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں اپنے اپنے طرز زندگی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں تو ان کا انجام بھی ایک دوسرے کے برعکس ہی ہونا چاہئے یعنی جس طرح ٹھنڈی چھاؤں اور چلچلاتی دھوپ ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح علم کی روشنی میں سفر کرنے والے کو ٹھنڈی چھاؤں والی اور دوسری نعمتوں والی جنت نصیب ہوگی۔ اور جہالت کے اندھیروں میں آگے بڑھنے والا یک لخت جہنم کے کنارے جا پہنچے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ : ” الْحَــرُوْرُ “ سخت گرم ہوا، لُو۔ یہ ثواب اور عذاب یعنی جنت و جہنم کی مثال ہے کہ جنت سایہ ہے اور جہنم لُو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ۝ ٢١ۚ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ حر الحرارة ضدّ البرودة، وذلک ضربان : - حرارة عارضة في الهواء من الأجسام المحميّة، کحرارة الشمس والنار . - وحرارة عارضة في البدن من الطبیعة، کحرارة المحموم . يقال : حَرَّ يومُنا والریح يَحِرُّ حرّاً وحرارةوحُرَّ يومنا فهو محرور، وکذا : حرّ الرّجل، قال تعالی: لا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ : نارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا[ التوبة/ 81] ، والحَرور : الریح الحارّة، قال تعالی: وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ [ فاطر/ 21] ، واستحرّ القیظ : اشتدّ حرّه، والحَرَر : يبس عارض في الکبد من العطش . ( ح رر ) الحرارۃ یہ برودۃ کی ضد ہے اور حرارت دوقسم پر ہے ( ا) وہ حرارت جو گرم اجسام سے نکل کر ہوا میں پھیل جاتی ہے جیسے سورج اور آگ کی گرمی (2) وہ حرارت جو عوارض طبیعہ سے بدن میں پیدا ہوجاتی ہے ۔ جیسے محموم ( بخار زدہ ) کے بدن کا گرم ہونا کہا جاتا ہے ۔ حر ( س ) حرارۃ الیوم اوالریح دن یا ہوا گرم ہوگئی ۔ ایسے دن کو محرورُ کہا جاتا ہے اسی طرح حررجل کا محاورہ ہے قرآن میں ہے : لا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ : نارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا[ التوبة/ 81] کہ گرمی میں مت نکلنا ( ان سے ) کہہ دو کہ دوذخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے ۔ الحرور گرم ہوا ۔ لو ۔ ارشاد : وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ [ فاطر/ 21] اور نہ ایسا یہ اور نہ دھوپ کی تپش ۔ استحر القیظ گرمی سخت ہوگئی ۔ الحررُ یبوست جو شدت پیاس کی وجہ سے جگر میں پیدا ہوجاتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ { وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ } ” اور نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہوسکتے ہیں) ۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:21) الظل۔ سایہ، چھائوں، دھوپ کی ضد ہے مراد جنت و ثواب۔ الحرور۔ دھوپ کی تپش۔ لو۔ گرم ہوا۔ مراد یہاں دوزخ اور عذاب ہے۔ الحرور۔ اسم ہے اور مصدر بھی۔ حرارۃ بھی مصدر ہے۔ حر مادہ ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی ان لوگوں سے کیا توقع رکھی جائے کہ ان کا ادراک مثل ادراک مومنین کی طرح یہ بھی حق کو قبول کرلیں۔ اور قبول حق کے ثمرات دینی میں بھی یہ لوگ شریک ہوجاویں، کیونکہ مومنین کی مثلا ادراک حق میں بصیر کی سی ہے، اور ان کی مثال عدم ادراک حق میں اعمی کی سی ہے، اور اسی طرح مومن نے ادراک حق کے ذریعہ سے جس طریق ہدایت کو اختیار کیا ہے اس طریق حق کی مثال نور کی سی ہے اور کافر نے عدم ادراک حق سے جس طریقہ کو اختیار کیا ہے اس کی مثال ظلمت کی سی ہے، اور اسی طرح جو ثمرہ جنت وغیرہ اس طریق حق پر مرتب ہوگا، اس کی مثال ظل بارد کی سی ہے، اور جو ثمرہ جہنم وغیرہ طریق باطل پر مرتب ہوگا اس کی مثال جلتی دھوپ کی سی ہے۔ پس نہ ان کا اور مومنین کا ادراک برابر ہوا اور نہ ان کا طریقہ اور نہ اس طریقہ کا ثمرہ۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اور نہ سایہ اور دھوپ دونوں برابر ہیں۔