Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 23

سورة فاطر

اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِیۡرٌ ﴿۲۳﴾

You, [O Muhammad], are not but a warner.

آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

You are only a warner. means, all you have to do is to convey the Message and warn them, and Allah leaves astray whomsoever He wills and guides whomsoever He wills.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ ہدایت اور ضلالت یہ اللہ کے اختیار میں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ : یعنی تیرا کام لوگوں کو خبردار کرنے اور اللہ کے عذاب سے ڈرانے سے زیادہ کچھ نہیں، انھیں ہدایت دینا اور ان کے دل میں ایمان اتار دینا تیرا کام نہیں، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے تو ان کے ایمان نہ لانے پر اس قدر دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ۝ ٢٣ النذیر والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذیر النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ { اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں ہیں مگر صرف خبردار کرنے والے ! “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام تو بس لوگوں کو خبردار کردینا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی ہوش میں نہیں آتا اور اپنی گمراہیوں میں بھٹکتا رہتا ہے تو اس کی کوئی ذمہ داری آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44 That is, "Your only duty is to warn the people and nothing else. If even after this a person dces not come to his senses, and remains lost in his deviations, you are not to blame for that, for you have not been entrusted with the duty of making the blind to see and the deaf to hear. "

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:23) الاموات۔ المیت کی جمع ہے مردے۔ مراد جاہل لوگ۔ یسمع۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اسماع مصدر۔ (باب افعال) وہ سناتا ہے۔ وہ سنا کر دل میں بٹھا دیتا ہے۔ مسمع۔ اسم فاعل بحالت جر۔ واحد مذکر ۔ سنانے والا۔ من فی القبور۔ وہ جو قبروں کے اندر ہیں۔ کفر پر جمے رہنے والوں کو مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور مردے بھی وہ جو قبروں کے اندر ہوں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خبردار کرنے والا رہا ہدایت کرنا اور راہ راست پر لانا تو یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلا تذھب نفسک علیھم حسرت (35: 8) ” پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر حسرت کرکے اپنے آپ کو گھلا نہ دیں “۔ اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا۔ وہ تعداد میں تو بہت زیادہ تھے کیونکہ ہر امت اور ہر قوم کے لیے رسول بھیجا جاتا رہا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ ان انت الخ : آپ کو ہم نے دین حق اور پیغام توحید دے کر اور بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کا کام پیغام حق پہنچانا۔ ماننے والوں کو خوشخبری دینا اور منکرین کو عذاب سے ڈرانا ہے۔ منوانا آپ کا کام نہیں۔ اسی طرح ہر امت میں ڈرانے والے ہوئے ہیں۔ وان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے۔ اگر مشرکین عرب ضد وعناد سے آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور دعوت توحید کو نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں۔ گذشتہ قوموں نے بھی اپنے پیغمبروں کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) معجزات، صحیفے اور کتابیں لے کر آئے لیکن انہوں نے پھر بھی نہ مانا من الامم العاتیۃ فلا تحزن من تکذیب ھؤلاء ایاک (روح ج 22 ص 188) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(23) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا صرف آپ کا یہی کام ہے آپ کسی کے قبول کرنے نہ کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس لئے آپ کو لوگوں کے ایمان نہ لانے پر افسوس نہ کرنا چاہیے۔