Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 25

سورة فاطر

وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۲۵﴾

And if they deny you - then already have those before them denied. Their messengers came to them with clear proofs and written ordinances and with the enlightening Scripture.

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا تھا ان کے پاس بھی ان کے پیغبر معجزے اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ جَاءتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ ... And if they deny you, those before them also denied. Their Messengers came to them with clear signs, means, clear miracles and definitive proofs. ... وَبِالزُّبُرِ ... and with the Scriptures, means, the Books. ... وَبِالْكِتَابِ الْمُنِيرِ and with the Book giving light. means, clear and obvious.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

25۔ 1 تاکہ کوئی قوم یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو ایمان اور کفر کا پتہ ہی نہیں اس لئے ہمارے پاس کوئی پیغمبر بھی نہیں آیا بنا بریں اللہ نے ہر امت میں نبی بھیجا۔ جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا ولکل قوم ھاد۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣١] بینات کا لفظ معجزات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ایسے دلائل کے لیے بھی جن سے نبی اپنی نبوت کو ثابت کرسکے۔ صحیفے بمعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل احکام جو عام طور پر پندونصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے۔ تورات کے نزول سے پہلے سب انبیاء پر صحائف ہی نازل ہوتے رہے۔ حتیٰ کہ موسیٰ پر بھی تورات کے نزول سے پیشتر صحیفے ہی نازل ہوتے رہے اور کتاب منیر سے مراد وہ مفصل کتب الٰہیہ ہیں جو زندگی کے ہر پہلو میں انسان کو روشنی مہیا کرتی ہیں۔ اور یہ چار ہیں۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید تسلی دی ہے۔ یعنی اگر یہ لوگ تجھے جھٹلا دیں تو غم یا افسوس کی ضرورت نہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں کے پاس بھی کئی رسول آئے اور آپ سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ : یہاں ایک سوال ہے کہ ” اَلْکِتَابُ الْمُنِیْرُ “ ” اَلزُّبُرُ “ میں بھی داخل ہے اور ” اَلْبَیِّنَاتُ “ میں بھی، تو پھر عطف ڈال کر اسے الگ کیوں ذکر کیا گیا ؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب دیا کہ تینوں الفاظ اگرچہ ایک چیز پر صادق آتے ہیں مگر عطف اس لیے ڈالا گیا ہے کہ تینوں سے الگ الگ مفہوم مراد لیا گیا ہے، چناچہ ” اَلْبَیِّنَاتُ “ سے مراد معجزات ہیں، ” اَلزُّبُرُ “ سے مراد وہ کتابیں ہیں جو وعظ و نصیحت پر مشتمل ہیں اور ” اَلْکِتَابُ الْمُنِیْرُ “ سے مراد وہ کتابیں ہیں جن میں شریعت کے احکام تھے، جیسا کہ تورات وغیرہ۔ (شوکانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝ ٠ۚ جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ۝ ٢٥ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] ، وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] ، ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] ، قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ، قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ، وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] ، وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] ، فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] ، وقال : شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] . ويقال : آية مُبَيَّنَة اعتبارا بمن بيّنها، وآية مُبَيِّنَة اعتبارا بنفسها، وآیات مبيّنات ومبيّنات . والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «2» ، وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ( ب ی ن ) البین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں اور بینہ کے معنی کسی چیز کو ظاہر اور واضح کردینے کے قرآن میں ہے ۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح ( کاملہ ) کیا تھا ۔ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] چناچہ ان کے ( ویران ) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے ۔ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ہدایت صاف طور پر ظاہر ( اور ) گمراہی سے الگ ہوچکی ہو ۔ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دیں ۔ وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کررہے ہو تم کو سمجھا دوں وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادت ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] ( روزوں کا مہنہ ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( وال وال ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے ۔ اور بیان کرنے والے کے اعتبار ہے آیت کو مبینۃ نجہ کہا جاتا ہے کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔ البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا ۔ زبر الزُّبْرَةُ : قطعة عظیمة من الحدید، جمعه زُبَرٌ ، قال : آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] ، وقد يقال : الزُّبْرَةُ من الشّعر، جمعه زُبُرٌ ، واستعیر للمجزّإ، قال : فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُراً [ المؤمنون/ 53] ، أي : صاروا فيه أحزابا . وزَبَرْتُ الکتاب : کتبته کتابة غلیظة، وكلّ کتاب غلیظ الکتابة يقال له : زَبُورٌ ، وخصّ الزَّبُورُ بالکتاب المنزّل علی داود عليه السلام، قال : وَآتَيْنا داوُدَ زَبُوراً [ النساء/ 163] ، وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] ، وقرئ زبورا «1» بضم الزاي، وذلک جمع زَبُورٍ ، کقولهم في جمع ظریف : ظروف، أو يكون جمع زِبْرٍ «2» ، وزِبْرٌ مصدر سمّي به کالکتاب، ثم جمع علی زُبُرٍ ، كما جمع کتاب علی كتب، وقیل : بل الزَّبُورُ كلّ کتاب يصعب الوقوف عليه من الکتب الإلهيّة، قال : وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ [ الشعراء/ 196] ، وقال : وَالزُّبُرِ وَالْكِتابِ الْمُنِيرِ [ آل عمران/ 184] ، أَمْ لَكُمْ بَراءَةٌ فِي الزُّبُرِ [ القمر/ 43] ، وقال بعضهم : الزَّبُورُ : اسم للکتاب المقصور علی الحکم العقليّة دون الأحكام الشّرعيّة، والکتاب : لما يتضمّن الأحكام والحکم، ويدلّ علی ذلك أنّ زبور داود عليه السلام لا يتضمّن شيئا من الأحكام . وزِئْبُرُ الثّوب معروف «1» ، والْأَزْبَرُ : ما ضخم زُبْرَةُ كاهله، ومنه قيل : هاج زَبْرَؤُهُ ، لمن يغضب «2» . ( زب ر) الزبرۃ لوہے کی کڑی کو کہتے ہیں اور اس کی جمع زبر آتی ہے قرآن میں ہے :۔ آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96]( اچھا ) لوہے کی سلیں ہم کو لادو ۔ اور کبھی زبرۃ کا لفظ بالوں کے گچھا پر بولا جاتا ہے اس کی جمع ، ، زبر ، ، آتی ہے اور استعارہ کے طور پر پارہ پارہ کی ہوئی چیز کو زبر کہاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُراً [ المؤمنون/ 53] پھر لوگوں نے آپس میں پھوٹ کرکے اپنا ( اپنا ) دین جدا جدا کرلیا ۔ زبرت الکتاب میں نے کتاب کو موٹے خط میں لکھا اور ہر وہ کتاب جو جلی اور گاڑھے خط میں لکھی ہوئی ہو اسے زبور کہاجاتا ہے لیکن عرف میں زبور کا لفظ اس آسمانی کتاب کے لئے مخصوص ہوچکا ہے ۔ جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَآتَيْنا داوُدَ زَبُوراً [ النساء/ 163] اور ہم نے داود (علیہ السلام) کو زبور عطا کی ۔ وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] اور ہم نے نصیحت ( کی کتاب یعنی توراۃ ) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا ۔ اس میں ایک قرات زبور ( بضمہ زاء ) بھی ہے ۔ جو یا تو زبور بفتحہ زا کی جمع ہے جیسے طریف جمع ظرورف آجاتی ہے اور یا زبر ( بکسر ہ زا) کی جمع ہے ۔ اور زبد گو اصل میں مصدر ہے لیکن بطور استعارہ اس کا اطاق کتاب پر ہوتا ہے جیسا کہ خود کتاب کا لفظ ہے کہ اصل میں مصدر ہے ۔ لیکن بطور اسم کے استعمال ہوتا ہے پھر جس طرح کتاب کی جمع کتب آتی ہے اسطرح زبر کی جمع زبد آجاتی ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ زبور کتب الہیہ میں سے ہر اس کتاب کو کہتے ہیں جس پر واقفیت دشوار ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ [ الشعراء/ 196] اس میں شک نہیں کہ یہ ( یعنی اس کی پیشین گوئی ) اگلے پیغمبروں کی کتابوں میں موجود ہے ۔ وَالزُّبُرِ وَالْكِتابِ الْمُنِيرِ [ آل عمران/ 184] اور صحیفے اور روشن کتاب لائے تھے ۔ أَمْ لَكُمْ بَراءَةٌ فِي الزُّبُرِ [ القمر/ 43] یا تمہارے لئے صحیفوں میں معافی ( لکھی ہوئی ) ہے ۔ اور بعض کا قول ہے کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو صرف حکم عقلیہ پر مشتمل ہو اور اس میں احکام شرعیہ نہ ہوں ۔ اور الکتاب ہر اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو احکام حکم دونوں پر مشتمل ہو ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبور میں کوئی حکم شرعی نہیں ہے ۔ زئبرالثوب کپڑے کارواں ۔ اسی سے کہاجاتا ہے ھاج زئبرہ وہ غصہ سے بھڑک اٹھا ۔ اور بڑے کندھوں والے شخص کو ازبر کہاجاتا ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو منیر وتخصیص الشّمس بالضّوء، والقمر بالنّور من حيث إنّ الضّوء أخصّ من النّور، قال : وَقَمَراً مُنِيراً [ الفرقان/ 61] أي : ذا نور . ومما هو عامّ فيهم اور نور حسبی کے متعلق فرمایا : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جسنے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ یہاں خاص کر سورج کو ضیاء اور قمر کو نور کہنے کیوجہ یہ ہے کہ ضوء نور سے اخص ہے ۔ وَقَمَراً مُنِيراً [ الفرقان/ 61] اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا ۔ یعنی روشنی بنایا ۔ اور بعض آیات میں نور عام معنی ہیں استعمال ہوا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور محمد اگر قریش آپ کو جھٹلائیں تو جو لوگ آپ کی قوم سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور وہ پیغمبر ان کے پاس اوامرو نواہی معجزات اور پہلے صحیفوں کی خبر اور حلال و حرام کو واضح کردینے والی کتاب لے کر آئے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥ { وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ” اور اگر یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلائیں تو جھٹلا چکے ہیں وہ لوگ بھی جو ان سے پہلے تھے۔ “ { جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ } ” ان کے پاس آئے تھے ان کے رسول ( علیہ السلام) واضح نشانیاں ‘ صحیفے اور روشن کتابیں لے کر۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بہت سے انبیاء و رسل (علیہ السلام) کو ان کی قومیں جھٹلا چکی ہیں ‘ حالانکہ وہ ان کے پاس بہت واضح معجزات ‘ صحیفے اور کتابیں لے کر آئے تھے۔ سورة الاعلیٰ کی آخری آیت میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحائف کا ذکر ہے جبکہ تین الہامی کتابوں (تورات ‘ زبور اور انجیل) کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

46 Clear proofs": Proofs which clearly testified that they were Allah's Messengers. 47 "Scriptures" probably consisted of good counsels and moral precepts and "the Book" comprised a complete code of the law.

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :46 یعنی ایسے دلائل جو اس بات کی صاف شہادت دیتے تھے کہ وہ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :47 صحیفوں اور کتاب میں غالباً یہ فرق ہے کہ صحیفے زیادہ تر نصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے ، اور کتاب ایک پوری شریعت لے کر آتی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:25) ان یکذبوک۔ میں ان شرطیہ ہے۔ یکذبوا۔ اصل میں یکذبون تھا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب بوجہ عمل ان نون اعرابی گرگیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ یہاں خطاب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ اور ضمیر فاعل کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ اگر یہ لوگ (کفار مکہ) آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ اس کے بعد جواب شرط محذوف ہے۔ ای فاصبر کما صبرا الانبیاء من قبلک۔ آپ صبر کریں جس طرح آپ سے پہلے انبیا (علیہم السلام ) نے صبر کیا۔ فقد کذب الذین من قبلہم۔ میں الذین من قبلہم فاعل ہے کذب کا۔ اور قبلہم (مضاف مضاف الیہ) میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو لوگ ان (کفار مکہ سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں (اپنے وقت کے پیغمبروں کی) ۔ یہ جملہ صبر کرنے پر دلیل کے طور پر لایا گیا ہے ! جاء تہم رسلہم بالبینت و بالزبر والکتب المنیر۔ یہ جملہ سابقہ کا حال ہے۔ حالانکہ ان کے پاس رسول روشن دلیلیں، آسمانی صحیفے اور نورانی کتاب لے کر آئے تھے۔ البینت۔ کھلی کھلی اور روشن دلیلیں ۔ بینۃ کی جمع۔ الزبر۔ زبور کی جمع کتابیں۔ اور اق۔ آسمانی صحیفے ۔ الکتاب المنیر۔ روشن کتاب۔ جیسے توریت ، انجیل زبور۔ یعنی ہر پیغمبر الگ الگ معجزہ اور کتاب کے ساتھ آیا۔ نکیر۔ اصل میں نکیری تھا۔ (پس کیسا ہوا) میرا عذاب۔ الم تر۔ میں ہمزہ استفہام کا ہے لم تر۔ مضارع نفی حجد بلم صیغہ واحد مذکر حاضر تر۔ اصل میں تری تھا۔ لم کے آنے سے آخر میں حرف علت ساقط ہوگیا۔ رؤیۃ مصدر (باب فتح) دیکھنا۔ الم تر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ کیا تمہیں نہیں معلوم۔ یہاں خطاب عام ہے۔ یعنی ہر فرد بشر سے ہے۔ فاخرجنا بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ماء کی طرف راجع ہے۔ اخرجنا۔ ہم نے نکالا۔ ہم نے پیدا کیا۔ یہاں التفات ضمائر ہے۔ صیغہ غائب سے صیغہ متکلم کی طرف التفات۔ کسی کام کو بکمال قدرت و حکمت کرنے کے اظہار کے لئے ہے۔ پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے سے پیدا کئے۔۔ ثمرات مختلفا الوانھا۔ ثمرات مفعول ہے اخرجنا کا۔ مختلفا اسم فاعل۔ واحد مذکر حاضر۔ بحالت نصب۔ مختلف ۔ جدا جدا ۔ طرح طرح گوناگوں۔ بو قلموں ۔ اختلاف مصدر (باب افتعال) الوانھا۔ الوان۔ لون کی جمع ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (جس کا مرجع ثمرات ہے) مضاف الیہ۔ مختلفا الوانھا دونوں مل کر ثمرات کی صفت ہیں۔ ثمرات مختلفا الوانھا۔ پھل جو اپنی اجناس میں مختلف ہیں۔ مثلاً انار، سیب انگور زیتون وغیرہ یا پھل جو اپنی رنگت میں مختلف ہیں۔ مثلاً زرد، سبز، سرخ وغیرہ۔ اور یہ چند روچند تنوع خالق حقیقی کی کمال صناعی و حکمت کا مظہر ہے۔ ومن الجبال۔ ای ومن الجبال مکتلف الوانھا۔ اور (اسی طرح) پہاڑوں کے بھی مختلف رنگ ہیں۔ جدد۔ اس کے مختلف معانی آئے ہیں ! (1) یہ جدۃ کی جمع ہے جس کے معنی کھلے راستے کے ہیں۔ لہٰذا جدد بمعنی راستے گھاٹیاں۔ جادۃ (جواد جمع) بڑا رستہ ، شارع عام (2) ذات خطوط مختلفۃ الالوان۔ مختلف رنگوں کی دھاریوں والے۔ (3) جدد بمعنی قطع (ٹکڑے) قطعے، حصے، جددتہ میں نے اس کے ٹکڑے کر دئیے۔ ومن الجبال جدد۔ اور پہاڑوں کی (مختلف الالوان) گھاٹیاں۔ یا راستے۔ یا پہاڑوں کے مختلف قطعے یا حصے جو بیض (ابیض بیضاء سے صفت مشبہ کا صیغہ جمع مذکرومؤنث ہے) سفید ہیں اور حمر (احمر حمراء کی جمع ہے ) سرخ ہیں۔ اور غرابیب سود نہایت سیاہ رنگوں کے ہیں۔ غرابیب سود۔ غریب کی جمع ہے اور سود اسود (مذکر) سوداء (مؤنث) بمعنی سیاہ رنگ والا۔ یا سیاہ رنگ والی۔ کی جمع ہے بروزن افعل فعلا فعلن۔ موجودہ حالت میں (یعنی ترکیب غرابیب سود ) غرابیب سود کی صفت نہیں ہے۔ عربی میں کسی رنگ کی تاکیدی صفت کو موصوف سے پہلے ذکر نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا اس کی مختلف توضیحات کی گئی ہیں۔ (1) اصل میں یہ سود غرابیب تھا۔ سود موصوف غرابیب صفت۔ استعمال میں الٹ کر غرابیب سود کردیا گیا۔ اصغر فاقع (خالص زرد) کی طرح اسود غربیب کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر اسود کی تاکیدی صفت ذکر کرنی ہوتی ہے تو غربیب کو اسود کے بعد لاتے ہیں۔ (2) اصل میں سود غرابیب سود تھا۔ صفت سے قبل موکد کو مضمر (محذوف) رکھا گیا۔ صفت کے بعد سود موکد مضمر کی تفسیر ہے اور یہ زیادتی تاکید کے لئے کیا گیا ہے۔ اور مولانا ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں ! جلال الدین محلی نے کہا۔ اسود غربیب کثیر الاستعمال ہے۔ اور غربیب اسود کا استعمال کم ہے، میں کہتا ہوں۔ یہ قلیل الاستعمال اس وقت جب سیاہی کی مزید تاکید مقصود ہو۔ (3) موصوف مؤکد کو محذوف کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ( جیسا کہ اوپر نمبر 2 میں مذکور ہوا) بلکہ یہ نوع کلام عربی میں التقدیم والتاخیر کہلاتی ہے لہٰذا غرابیب سود بمعنی سود غرابیب ہے نہایت سیاہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 صحیفوں سے مراد غالباً وہ کتابیں ہیں جو زیادہ تر نصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل تھیں۔ جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے صحیفے اور چمکتی کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں شرعی احکام کا ذکر تھا جیسے توراۃ۔ واللہ اعلم۔ ( شوکانی) مطلب یہ ہے کہ اگر تیری قوم تجھ کو جھٹلائے تو اس پر غمگین نہ ہو، اس لئے کہ یہ مصیبت کچھ خاص تجھی پر نہیں ہے تیرے ساتھیوں کے ساتھ بھی یہی کام ہوتا ہے حالانکہ ان میں سے کسی کو معجزات، کسی کو صحیفے اور کسی کو روشن کتاب دیکر بھیجا گیا تھا مگر وہ صبر کرتے رہے اور انجام کار جھٹلانے والے سخت عذاب میں پکڑے گئے اور تجھ کو یہ تمام چیزیں ایک ساتھ دیکر بھیجا گیا۔ ( فوائد سلیفہ تبصرف) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : توحید و رسالت کا پیغام واضح ہوجانے کے باوجود اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ واقعہ صرف آپ کے ساتھ ہی پیش نہیں آیا۔ آپ سے پہلے لوگوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس قدر محنت اور دلسوزی کے ساتھ لوگوں کو سمجھاتے۔ لوگ اسے قبول کرنے کی بجائے اتنی سختی کے ساتھ مخالفت کا اظہار کرتے۔ اس صورت حال پر دل گرفتہ ہونا انسانی فطرت کا تقاضا ہے جس بنا پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افسردہ خاطر ہوجاتے۔ قرآن مجید میں آپ کی ڈھارس اور تسلی کے لیے کئی انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک انداز یہ بھی ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو حد سے زیادہ دل گر فتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بھی منکرین حق نے تکذیب کا رویہ اختیار کیا تھا۔ حالانکہ یہ رسول بڑے بڑے معجزات، بھر پور دلائل، صحیفے اور روشن کتاب دے کر بھیجے گئے تھے۔ لیکن حق کا انکار کرنے والوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان کی دعوت کو مسترد کیا۔ جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کی سخت گرفت کی اور انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کیا۔ اہل علم نے کتاب سے مراد تورات لی ہے جو نزول قرآن سے پہلے آسمانی کتابوں میں سب سے واضح اور مدلّل کتاب ہے۔ مسائل ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا تھا۔ ٢۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) معجزات واضح، دلائل، اور روشن کتابوں کے ساتھ مبعوث کیے گئے تھے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو ان کے انکار اور استکبار کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وان یکذبوک فقد ۔۔۔ بالکتب المنیر (35: 25) ” اب اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب کے کر آئے تھے “۔ بینات سے مراد مختلف قسم کے دلائل ہیں۔ معجزات بھی دلائل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معجزات طلب کرتے تھے اور تحدی دیتے تھے۔ الزبر سے مراد متفرق صحیفے ، رسائل اور پمفلٹ ہیں ، جن میں نصیحتیں ، ہدایات اور تکالیف و فرائض ہوتے تھے۔ کتاب منیر سے مراد مطابق قول راجح حضرت موسیٰ کی کتاب تورات ہے۔ لیکن ان کی امت نے کتب الہیہ کی تکذیب کی۔ ہمیشہ اکثر اقوام نے رسولوں اور ان کی ہدایات اور کتابوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ لہٰذا معاملہ جدید نہیں ہے۔ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہونے والا سلوک کوئی منفرد سلوک نہیں ہے۔ یہ تو ایک معمول بہ طرز عمل ہے۔ لیکن ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں اور جھوٹ آپ کی طرف منسوب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ بھی یقینا تکذیب کا ارتکاب کرچکے ہیں اور اپنے زمانے کے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر نشانیاں یعنی معجزے اور صحیفے یعنی چھوٹی کتابیں اور اوراق اور روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔ یعنی پہلوں کا بھی طرز عمل یہی رہا ہے کہ اپنے اپنے زمانے کے نبیوں کو جھوٹا بناتے رہے ہیں حالانکہ انبیاء ہر قسم کے دلائل اور چھوٹی کتابیں اور بڑی بڑی روشن کتابیں لے کر آئے تھے لیکن باوجود اس کے ان امتوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کو جھوٹا ہی بتاتے رہے۔