Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 26

سورة فاطر

ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۲۶﴾٪  15

Then I seized the ones who disbelieved, and how [terrible] was My reproach.

پھر میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو میرا عذاب کیسا ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِينَ كَفَرُوا ... Then I took hold of those who disbelieved, means, `despite all of this, they denied the Messengers and the Message they brought, so I seized them, i.e., with My punishment.' ... فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ and how terrible was My denial! means, how great and intense and terrible do you think My punishment was? And Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

26۔ 1 یعنی کیسے سخت عذاب کے ساتھ میں نے ان کی گرفت کی اور انہیں تباہ و برباد کردیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے بعد آپ کی نافرمانی کرنے والوں اور ایمان نہ لانے والوں کو دھمکی اور ڈانٹ کے لیے فرمایا کہ پھر ان رسولوں پر ایمان نہ لانے والوں کو میں نے پکڑ لیا، تو میرا عذاب کیسا تھا ؟ اسی طرح اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہ لائے تو میرا عذاب ان سے بھی کچھ دور نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ۝ ٢٦ۧ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ نكر الإِنْكَارُ : ضِدُّ العِرْفَانِ. يقال : أَنْكَرْتُ كذا، ونَكَرْتُ ، وأصلُه أن يَرِدَ علی القَلْبِ ما لا يتصوَّره، وذلک ضَرْبٌ من الجَهْلِ. قال تعالی: فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] وقد يُستعمَلُ ذلک فيما يُنْكَرُ باللّسانِ ، وسَبَبُ الإِنْكَارِ باللّسانِ هو الإِنْكَارُ بالقلبِ لکن ربّما يُنْكِرُ اللّسانُ الشیءَ وصورتُه في القلب حاصلةٌ ، ويكون في ذلک کاذباً. وعلی ذلک قوله تعالی: يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] ، فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ( ن ک ر ) الانکار ضد عرفان اور انکرت کذا کے معنی کسی چیز کی عدم معرفت کے ہیں اس کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو لہذا یہ ایک درجہ جہالت ہی ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہین جاتے ( یعنی وہ کھانا نہین کھاتے ۔ تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا ۔ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے ۔ اور کبھی یہ دل سے انکار کرنے پر بولا جاتا ہے اور انکار لسانی کا اصل سبب گو انکار قلب ہی ہوتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات انسان ایسی چیز کا بھی انکار کردیتا ہے جسے دل میں ٹھیک سمجھتا ہے ۔ ایسے انکار کو کذب کہتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ۔ يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر واقف ہوکر ان سے انکار کرتے ہیں ۔ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [ المؤمنون/ 69] اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو آپ دیکھیے کہ جب وہ ایمان نہ لائے تو میں نے عذاب سے ان کو کیسا تہ وبالا کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦ { ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ } ” پھر میں نے پکڑ لیا ان کو جنہوں نے کفر کیا ‘ تو (دیکھ لو) کیسی رہی میری سزا ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ثم اخذت الذین کفروا (35: 26) ” پھر جن لوگوں نے ظلم کیا میں نے ان کو پکڑا “۔ اور ذرا دیکھو یہ پکڑ کیسی تھی۔ فکیف کان نکیر (35: 26) ” دیکھو لو ، میری سزا کیسی سخت تھی “۔ اللہ کی پکڑ بہت سخت تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ نے ان کو ہلاک کرکے رکھ دیا۔ لہٰذا جو لوگ اس راہ پر گامزن ہیں ، انہیں ذرا ڈرانا چاہئے کہ ان کا انجام ایسا ہی نہ ہوجائے۔ یہ ہے قرآنی ٹچ جس کے ساتھ یہ سبق مکمل ہوتا ہے۔ اب ہم ایک دوسری وادی کے لیے رخت سفر باندھتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ ثم اخذت الخ : یہ تخویف دنیوی ہے جب اقوام سابقہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو دنیا ہی میں دردناک عذاب میں مبتلا کردیا۔ مشرکین مکہ اگر اسی طرح تکذیب و انکار پر قائم رہے تو ان کا بھی یہی حشر ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(26) پھر آخر کار میں نے ان دین حق کے منکروں کو پکڑ لیا اور ان کی گرفت کی۔ سو دیکھ لو میرے انکار کا نتیجہ ان کے حق میں کیسا ہوا اور میرا عذاب کیسا ہوا۔ یعنی آخر ان کی گرفت کی گئی اور سب کو ہلاک کردیا گیا۔ نواں پاک کروں ٭ آئینہ ٭ نیا بدز سنگ آئینہ ان کے دل آئینہ تھے جو صاف ہوسکتے ان کے دل پتھر ہوچکے تھے جس کو آئینہ بنانا ناممکن ہوگیا۔