Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 27

سورة فاطر

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہَا ؕ وَ مِنَ الۡجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیۡضٌ وَّ حُمۡرٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہَا وَ غَرَابِیۡبُ سُوۡدٌ ﴿۲۷﴾

Do you not see that Allah sends down rain from the sky, and We produce thereby fruits of varying colors? And in the mountains are tracts, white and red of varying shades and [some] extremely black.

کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالٰی نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتو ں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Perfect Power of Allah Allah says; أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا ... See you not that Allah sends down water from the sky, and We produce therewith fruits of various colors, Allah tells us of His complete and perfect power of creation. He tells us how He makes different kinds of things from one thing, which is the water that He sends down from the heaven. From water He brings forth fruits of various colors, yellow, red, green, white and other colors, as we can see in the immense variety of their colors, tastes and scents. This is like another Ayah where Allah says: وَفِى الاٌّرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَـوِرَتٌ وَجَنَّـتٌ مِّنْ أَعْنَـبٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَنٌ وَغَيْرُ صِنْوَنٍ يُسْقَى بِمَأءٍ وَحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِى الاٍّكُلِ إِنَّ فِى ذلِكَ لايَـتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ And in the earth are neighbouring tracts, and gardens of vines, and green crops, and date palms, growing into two or three from a single stem root, or otherwise, watered with the same water; yet some of them We make more excellent than others to eat. Verily, in these things there are Ayat for the people who understand. (13:4) ... وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا ... and among the mountains are Judad, white and red, of varying colors, means, He created the mountains like this, with different colors, as we also see that there are indeed white and red mountains, and in some of them there are streaks which are also of varying colors. Ibn Abbas said Al-Judad means pathways. This was also the view of Abu Malik, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi. ... وَغَرَابِيبُ سُودٌ and (others) Gharabib black. And there are some mountains which are very black. Ikrimah said, "Al-Gharabib means mountains which are high and black. This was also the view of Abu Malik, Ata' Al-Khurasani and Qatadah. Ibn Jarir said, "When the Arabs describe something as being very black, they say Ghirbib."

رب کی قدرتیں ۔ رب کی قدرتوں کے کمالات دیکھو کہ ایک ہی قسم کی چیزوں میں گوناگوں نمونے نظر آتے ہیں ۔ ایک پانی آسمان سے اترتا ہے اور اسی سے مختلف قسم کے رنگ برنگے پھل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ سرخ سبز سفید وغیرہ ۔ اسی طرح ہر ایک کی خوشبو الگ الگ ہر ایک کا ذائقہ جداگانہ جیسے اور آیت میں ( وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ Ć۝ ) 13- الرعد:4 ) ، یعنی کہیں انگور ہے ، کہیں کھجور ہے ، کہیں کھیتی ہے وغیرہ اسی طرح پہاڑوں کی پیدائش بھی قسم قسم کی ہے کوئی سفید ہے کوئی سرخ ہے کوئی کالا ہے ۔ کسی میں راستے اور گھاٹیاں ہیں ۔ کوئی لمبا ہے کوئی ناہموار ہے ، ان بےجان چیزوں کے بعد جاندار چیزوں پر نظر ڈالو ۔ انسانوں کو جانوروں کو چوپایوں کو دیکھو ان میں بھی قدرت کی وضع وضع کی گلکاریاں پاؤ گے ۔ بربرحبشی طماطم بالکل سیاہ فام ہوتے ہیں ۔ مقالیہ رومی بالکل سفید رنگ عرب درمیانہ ہندی ان کے قریب قریب ۔ چنانچہ اور آیت میں ہے ( وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ 22؀ ) 30- الروم:22 ) تمہاری بول چال کا اختلاف تمہاری رنگتوں کا اختلاف بھی ایک عالم کے لئے تو قدرت کی کامل نشانی ہے ۔ اسی طرح چوپائے اور دیگر حیوانات کے رنگ روپ بھی علیحدہ علیحدہ ہیں ۔ بلکہ ایک ہی قسم کے جانوروں میں ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں ۔ بلکہ ایک ہی جانور کے جسم پر کئی کئی قسم کے رنگ ہوتے ہیں ۔ سبحان اللہ سب سے اچھا خالق اللہ کیسی کچھ برکتوں والا ہے ۔ مسند بزار میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے سوال کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ رنگ آمیزی بھی کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ایسا رنگ رنگتا ہے جو کبھی ہلکا نہ پڑے ۔ سرخ زرد اور سفید ۔ یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے ۔ اس کے بعد ہی فرمایا کہ جتنا کچھ خوف اللہ سے کرنا چاہئے اتنا خوف تو اس سے صرف علماء ہی کرتے ہیں کیونکہ وہ جاننے بوجھنے والے ہوتے ہیں ۔ حقیقتاً جو شخص جو قدر اللہ کی ذات سے متعلق معلومات زیادہ رکھے گا اسی قدر اس عظیم قدیر علیم اللہ کی عظمت وہیبت اس کے دل میں بڑھے گی اور اسی قدر اس کی خشیت اس کے دل میں زیادہ ہو گی ۔ جو جانے گا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ قدم قدم پر اس سے ڈرتا رہے گا ۔ اللہ کے ساتھ سچا علم اسے حاصل ہے جو اس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہرائے اس کے حلال کئے ہوئے کو حلال اور اس کے حرام بتائے کاموں کو حرام جانے اس کے فرمان پر یقین کرے اس کی نصیحت کی نگہبانی کرے اس کی ملاقات کو برحق جانے اپنے اعمال کے حساب کو سچ سمجھے ۔ خشیت ایک قوت ہوتی ہے جو بندے کے اور اللہ کی نافرمانی کے درمیان حائل ہو جاتی ہے عالم کہتے ہی اسے ہیں جو در پردہ بھی اللہ سے ڈرتا رہے اور اللہ کی رضا اور پسند کو چاہے رغبت کرے اور اس کی ناراضگی کے کاموں سے نفرت رکھے ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں باتوں کی زبادتی کا نام علم نہیں علم نام ہے بہ کثرت اللہ سے ڈرنے کا ۔ حضرت امام مالک کا قول ہے کہ کثرت روایات کا نام علم نہیں علم تو ایک نور ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے ۔ حضرت احد بن صالح مصری فرماتے ہیں علم کثرت روایات کا نام نہیں بلکہ علم اس کا جس کی تابعداری اللہ کی طرف سے فرض ہے یعنی کتاب و سنت اور جو اصحاب اور ائمہ سے پہنچا ہو وہ روایت سے ہی حاصل ہوتا ہے ۔ نور جو بندے کے آگے آگے ہوتا ہے وہ علم کو اور اس کے مطلب کو سمجھ لیتا ہے ۔ مروی ہے کہ علماء کی تین قسمیں ہیں عالم باللہ ، عالم بامر اللہ اور عالم باللہ وبامر اللہ عالم باللہ ، عالم بامر اللہ نہیں اور عالم با مر اللہ عالم باللہ نہیں ۔ ہاں عالم باللہ و بامر اللہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو اور حدود فرائض کو جانتا ہو ۔ عالم باللہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو لیکن حدود فرائض کو نہ جانتا ہو ۔ عالم بامر اللہ وہ ہے جو حدود فرائض کو تو جانتا ہو لیکن اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 یعنی جس طرح مومن اور کافر، صالح اور فاسد دونوں قسم کے لوگ ہیں، اسی طرح دیگر مخلوقات میں بھی فرق اور اختلاف ہے، مثلًا پھولوں کے رنگ بھی مختلف ہیں اور ذائقے لذت اور خوشبو میں بھی ایک دوسرے سے مختلف۔ حتٰی کہ ایک ایک پھل کے بھی کئی کئی رنگ بھی مختلف اور ذائقے اور خوشبو اور لذت میں بھی ایک دوسرے سے مختلف جیسے کھجور ہے، انگور ہے، سیب اور دیگر بعض پھل ہیں۔ 27۔ 2 اسی طرح پہاڑ اور اس کے حصے یا راستے اور خطوط مختلف رنگوں کے ہیں، سفید، سرخ اور بہت گہرے، سیاہ راستہ یا لکیر۔ غَرَابِیْب، غَرِیْب، ُ کی جمع ہے (سیاہ) کی جمع ہے۔ جب سیاہ رنگ کے گہرے پن کو ظاہر کرتا ہو تو اس کے ساتھ غربیب کا الفاظ استعمال کیا جاتا ہے؛ اسود غربیب، جس کے معنی ہوتے ہیں، بہت گہرا سیاہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٢] ہر قسم کی مخلوق میں تنوع بھی ہے فوائد بھی اور خوبصورتی بھی :۔ یہ دو آیات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی طرف ہر انسان کی توجہ مبذول کراتی ہیں۔ یعنی زمین ایک ہے پانی ایک ہے، ہوا ایک ہے۔ لیکن نباتات جو اگتی ہے ان کی شکلیں مختلف رنگ مختلف اور پھول ہیں تو خوشبوئیں مختلف ہوتی ہیں۔ گلاب کے پھول کی رنگت، ساخت اور خوشبو، لالہ کے پھول سے مختلف ہے اسی طرح چنبیلی کے پھول & نیلوفر اور سورج مکھی کے پھول بھی آپس میں مختلف ہیں۔ پھر ایک ہی پھول میں کئی رنگوں کی آمیزش کچھ ایسی خوبصورتی سے ترکیب دی گئی ہے جو فوراً دل کو موہ لیتی ہے اور اگر پھل پیدا ہوتے ہیں تو انگور کی شکل، رنگ، ذائقہ، اور خواص اور ہوں گے۔ سیب کے اور کھجور کے اور آم کے اور۔ پھر مثلاً آم ہی کو یا کھجور کو لیجئے۔ اس جنس کی آگے بیشمار انواع ہیں۔ اور ہر نوع میں ایسی امتیازی خصوصیات موجود ہیں کہ انسان یہ معلوم کرلیتا ہے کہ یہ کھجور یا آم فلاں قسم سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر یہ تنوع صرف پھولوں، پھلوں اور سبزیوں میں نہیں بلکہ جمادات کی طرف دیکھو تو وہاں بھی اللہ کی یہ قدرت کار فرما نظر آئے گی کہیں خشک کالے مٹیالے اور سیاہ پہاڑ ہیں۔ کہیں پہاڑوں پر بلند وبالا درخت اور سبزہ اگ کر نہایت خوشما منظر پیش کر رہا ہے۔ کہیں نمک کا پہاڑ ہے کہیں سنگ مرمر کا پہاڑ ہے۔ پھر ایک ہی پہاڑ میں کہیں سیاہ دھاریاں دور تک چلی گئی ہیں۔ کہیں سپید ہیں اور کہیں سرخ۔ اب جانداروں کی طرف آئیے تو یہاں بھی ہم یہی منظر دیکھتے ہیں۔ مویشیوں میں سے ایک جنس کے کئی کئی رنگ ہیں انسانوں کا بھی یہی حال ہے کچھ گورے ہیں کچھ سفید ہیں کچھ سرخ ہیں کچھ کالے اور کچھ سانولے ہیں۔ حالانکہ ان کی پیدائش اور ترکیب کے اجزاء و عناصر پر غور کیا جائے تو وہ سب یکساں ہی ہوتے ہیں اس کے باوجود ہر جنس میں اللہ تعالیٰ نے اتنے لاتعداد نئے سے نئے ڈیزائن تیار کردیئے ہیں جنہیں دیکھ کر ہی عقل دنگ رہ جاتی ہے یہ یکسانیت میں اختلافات اور اختلافات میں یکسانیت، یہ مختلف رنگ اور ان رنگوں کا حسین امتزاج ان میں توازن و تناسب اور ان سب باتوں کے باوجود ان سب چیزوں میں انسان کے لئے خوشنمائی اور دلفریبی پھر ان میں سے ہر چیز کا انسان کے لئے مفید اور کارآمد ہونا کیا یہ سب چیزیں کسی عظیم مدبر اور حکیم صناع کی طرف رہنمائی نہیں کرتیں ؟ کیا یہ سب باتیں اتفاقات کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہیں ؟ خ علم صرف وہ مفید ہے جس سے اللہ کا خوف پیدا ہو اور حقیقی عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرتا بھی ہو :۔ ایک باشعور انسان جب ان باتوں میں غور کرتا ہے تو اس صانع حقیقی کی عظمت اس کے دل میں جاگزیں ہوتی جاتی ہے۔ اسے اس ہستی سے محبت ہوجاتی ہے۔ جو اتنی قدرتوں کی مالک ہے پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے میں اسے مزا آنے لگتا ہے اور یہی وہ نتیجہ ہے جسے قرآن ان الفاط میں پیش کرتا ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف عالم لوگ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں && اور اس جملہ سے کئی باتیں مستفاد ہوتی ہیں مثلاً ۔ ١۔ جتنا بھی ان مظاہر قدرت میں غور و فکر کیا جائے گا اتنی اس سے اللہ کی معرفت پیدا ہوگی اور اتنی ہی اللہ کی خشیت پیدا ہوگی۔ ٢۔ علوم کی بھی تین قسمیں ہیں ایک وہ علم جس سے اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے یہ علم کا اعلیٰ درجہ ہے۔ خواہ ایسا شخص اصطلاحی معنوں میں پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو۔ دوسرے وہ علوم ہیں جو خشیت تو پیدا نہیں کرتے تاہم انسانیت کے لئے مفید ہیں جیسے حساب اور مختلف زبانوں کا علم ان پر بھی علم کا اطلاق ہوسکتا ہے اور جو علم اللہ سے دور کردے وہ علم نہیں بلکہ ضلالت ہے۔ ٣۔ کیا علماء سے مراد سائنٹسٹ ہیں ؟ ہر شخص اللہ کی آیات میں غور کرنے کے بعد ایک ہی نتیجہ پر نہیں پہنچتا مثلاً پرویز صاحب انہی آیات کا نتیجہ یہ پیش کرتے ہیں کہ && ان آیات میں نباتات، جمادات اور حیوانات کا ذکر ہے اور یہی چیزیں علم سائنس کی بڑی بڑی شاخیں ہیں لہذا ان علوم کے ماہر ہی حقیقتاً && عالم && ہیں۔ جنہیں آج کی اصطلاح میں سائنٹسٹ کہا جاتا ہے۔ && (اسباب زوال امت ص ٩٥) اب ان حضرات سے سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالم یا سائنٹسٹ حضرات اللہ سے ڈرتے بھی ہیں ؟ اصل شرط تو خشیۃ اللّٰہ ہے نہ کہ ان علوم میں مہارت۔ اگر وہ ڈرتے بھی ہیں تو پھر وہ فی الواقع عالم ہیں۔ ورنہ نہیں۔ ٤۔ اس آیت میں لفظ علماء سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی مراد نہیں ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ و کلام کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہلاتے ہیں وہ اس آیت کے مصداق صرف اس صورت میں ہوں گے جبکہ ان کے اندر اللہ کی خشیت موجود ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ ۔۔ : یعنی اس کائنات میں اشیاء کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے، جیسا کہ میٹھے دریا اور نمکین سمندر، نابینا اور بینا لوگ، اندھیرے اور روشنی، سایہ اور لُو، مردہ اور زندہ، مومن اور کافر کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اب نباتات و جمادات کی بوقلمونی اور رنگا رنگی پر غور کرو، اگر ایک صانع حکیم کی کاریگری نہ ہوتی تو کائنات میں یہ رنگا رنگی کبھی نہ ہوتی۔ یہ اندھے، بہرے اور شعور سے عاری مادے کا کام نہیں، بلکہ اس قادر مطلق کا کام ہے جس نے اس اختلاف کو اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ ” اَلَمْ تَرَ “ کا لفظی معنی ہے ” کیا تو نے نہیں دیکھا ؟ “ یہ کلمہ بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے اس بات کا علم ہو، اس وقت یہ تعجب کے اظہار کے لیے ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے علم نہیں ہوتا۔ اس وقت مقصود اسے بتانا اور اسے تعجب میں ڈالنا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ اس دوسرے مفہوم میں ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے، گویا جس شخص نے ایک چیز نہیں دیکھی اسے دیکھنے والے شخص کی طرح قرار دے کر اس سے بات کی جاتی ہے، اس لحاظ سے کہ یہ ایسی چیز ہے جس سے تمہارا لاعلم ہونا مناسب ہی نہیں، پھر اس سے اس شخص کی طرح بات کی جاتی ہے جس نے اسے دیکھا ہو اور اسے اچھی طرح جانتا ہو۔ آیت میں ” اَلَمْ تَرَ “ کا معنی ” أَلَمْ تَعْلَمْ “ ہے، کیا تو نے نہیں جانا، یعنی یقیناً تم جانتے ہو۔ (ملخص از آلوسی) یعنی اے مرد عاقل ! یقیناً تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بہت سا پانی اتارا (” مَاۗءً “ کی تنوین تکثیر کے لیے ہے) پھر اس کے ساتھ زمین سے بہت سے پھل اگائے، جن کے رنگ، شکلیں، اقسام اور ذائقے مختلف ہیں۔ کوئی سرخ ہے، کوئی زرد، کوئی سبز، کوئی میٹھا، کوئی کھٹا اور کوئی اس کے علاوہ، حالانکہ سب ایک ہی زمین سے پیدا ہوئے اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ) [ الرعد : ٤ ] ” اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ “ ” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً “ میں اللہ تعالیٰ نے پانی اتارنے میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر ” فَاَخْرَجْنَا بِهٖ “ میں اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کیا ہے، اسے ” التفات “ کہتے ہیں۔ اس سے مقصود زمین سے اتنی مختلف چیزیں اگانے میں اپنی کمال قدرت کو نمایاں کرنا ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے سرانجام دیا ہے۔ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ۔۔ : ” جُدَدٌۢ“ ” جُدَّۃٌ“ کی جمع ہے، اس کا معنی راستہ اور لکیر ہے۔ مراد پہاڑوں میں مختلف رنگوں کی دھاریاں اور قطعے ہیں۔ ” سُوْدٌ“ ” أَسْوَدُ “ کی جمع ہے۔ ” غَرَابِيْبُ “ جمع ہے ” غِرْبِیْبٌ“ کی۔ جب کسی چیز کو زیادہ سیاہ کہنا ہو تو ” أَسْوَدُ “ کی تاکید کے طور پر یہ لفظ آتا ہے، یعنی ” أَسْوَدُ غِرْبِیْبٌ“ جیسا کہ اردو میں ” کالا سیاہ “ یا ” کالا بھجنگا “ کہا جاتا ہے۔ یہاں آیات کے فواصل کی مناسبت سے ” غرَابِیْبُ “ کو پہلے کردیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونوں میں سے ایک اور نمونے کا ذکر ہے، فرمایا ہماری قدرت ہی کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں میں مختلف رنگوں کے قطعے ہیں، کوئی سفید ہیں، کوئی سرخ اور کوئی کالے سیاہ اور کوئی کسی اور رنگ کے، کسی کی کوئی شکل ہے کسی کی کوئی اور، کوئی چھوٹا ہے کوئی بڑا، کوئی پتھر کا ہے کوئی مٹی کا، کوئی سنگ مرمر کا ہے کوئی نمک کا اور کوئی کسی اور چیز کا۔ ” غَرَابِيْبُ سُوْدٌ“ میں ایک مزید اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پہلے تو نباتات و جمادات کے رنگ مختلف ہیں، پھر ہر رنگ میں مزید اختلاف ہے، کوئی کالا ہے، کوئی اس سے زیادہ کالا اور کوئی کالا سیاہ۔ انسانوں کے سروں کے بالوں کی سیاہی کو ہی دیکھ لو کہ ایک شخص کے سر کے بالوں کی سیاہی دوسرے کے سر کے بالوں کی سیاہی سے مختلف ہے۔ دیکھتے جاؤ اور تعجب کرتے جاؤ کہ اس قادر مطلق کے کارخانۂ حکمت کی رنگا رنگی کی کوئی حد ہے کہ اس نے آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی کو دوسرے انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی سے الگ بنایا ہے اور اس کے ہاتھوں کی لکیروں اور آنکھ کی پتلی بلکہ جسم کی ہر چیز کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ ہر درخت کے سبز رنگ کو دوسرے کے سبز رنگ سے الگ بنایا ہے، اس کے ہر پتے کی لکیریں دوسرے پتے سے الگ ہیں۔ ہر پھل مثلاً آم، جامن اور کھجور کو دوسرے سے الگ تو بنایا ہی ہے، پھر ہر پھل کے اندر اتنا تنوع رکھ دیا ہے کہ آم اور کھجور وغیرہ کی گٹھلی سے پیدا ہونے والا پھل پہلے درخت کے پھل سے الگ قسم کا ہے، جس کی گٹھلی سے وہ پیدا ہوا ہے، جیسا کہ ہر انسان اپنے ماں باپ سے الگ رنگ اور الگ شکل و صورت کا ہے۔ غرض ہر چیز کا رنگ الگ ہے اور اس رنگ مثلاً سفید یا سرخ یا زرد یا سیاہ میں سے ہر سفید، سرخ، زرد اور سیاہ کی سفیدی، سرخی، زردی اور سیاہی دوسرے سے مختلف ہے، یہی حال اس کے ذائقے کا ہے۔ (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْن) [ المؤمنون : ١٤ ] ” سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Sequence of the Verses Some early commentators have said that these verses return to the subject of Tauhid, Oneness of Allah or pure monotheism supported by proofs of Divine power and mastery in nature. Some others have said that described in the previous verses were different states of people along with examples, such as: وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ‌ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ‌ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُ‌ورُ‌. (And the blind and the sighted are not equal, (35:19) nor darkness and light, nor shade and heat of the sun - 35:19-20). What is being said here further clarifies that mutual difference in Divine creations is something inherent. It exists even in organic and inorganic substances, in fact, it is present not only in shapes and colors, but in traits and temperaments as well. A subtle grammatical point The Holy Qur&an has mentioned different colors of fruits at the first place in Verse 27, and of the mountains at the second place. But the grammatic style is different in both places. With regard to fruits the difference of colors is mentioned by an adverbial phrase (translated above as & having different cobblers&, while in the case of mountains, it has been expressed by an adjectival phrase (translated above as & of different cobblers&. According to the Arabic grammar, an adjective normally refers to the permanent quality of a thing, while an adverb may refer to a quality or condition that is subject to change. Keeping this in view, there may be a hint here to the effect that the difference of colors in fruits does not remain constant in a single state, rather keeps changing after brief intervals. On the contrary, there are the colors of human beings and other life forms. These are generally fast and abiding, and do not change. And in case of mountains, used there was the word: جُدَدٌ (judad). This is the plural form of: جُدَّہ (juddah) the well-recognized meaning of which is that of a mini pathway also known as: جادہ (jadah). Some respected elders have taken juddah in the sense of a tract, patch or segment that, in both situations, denotes parts of the mountains being different in colors. Out of these, white was mentioned first while black, last. In between, along with the mention of red, the expression: مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا (of different colors) was introduced. This could be releasing a hint that, in reality, the colors in this world are no more than two - white and black. The rest of the colors in the spectrum emerge by compounding different degrees of white and black.

خلاصہ تفسیر (اے مخاطب) کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے (پانی) کے ذریعہ مختلف رنگتوں کے پھل لگائے (خواہ اس طرح کہ ان کی انواع و اقسام ہی الگ الگ ہوں یا ایک ہی نوع اور ایک ہی قسم کے پھل مختلف رنگتوں کے ہوں) اور (اسی طرح) پہاڑوں کے بھی مختلف حصے ہیں (بعضے) سفید اور (بعضے) سرخ کہ (پھر خود) ان (سفید وسرخ کی) بھی رنگتیں مختلف ہیں (بعض بہت سفید اور بہت سرخ، بعض ہلکے سفید اور ہلکے سرخ) اور (بعض نہ سفید نہ سرخ بلکہ) بہت گہرے سیاہ اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں، (بعض اوقات اختلاف اقسام واصناف کے ساتھ یہ اختلاف رنگ ہوتا ہے، اور بعض اوقات ایک ہی قسم میں مختلف رنگ ہوتے ہیں، تو یہ جو لوگ دلائل قدرت میں غور کرتے ہیں، ان کو خدا تعالیٰ کی عظمت کا علم ہوتا ہے، اور) خدا سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (اس کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں (اگر علم عظمت کا محض اعتقادی اور عقلی ہے تو یہ خشیت بھی اعتقادی عقلی ہی رہے گی اور اگر علم عظمت درجہ حال تک پہنچ گیا ہے تو خشیت بھی درجہ حال کی ہوگی کہ اس کے خلاف سے طبعی نفرت و تکلیف ہونے لگے گی) واقعی اللہ تعالیٰ (سے ڈرنا فی نفسہ بھی ضروری ہے کیونکہ وہ) زبردست ہے، (کہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اپنے مطلب کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ وہ ڈرنے والوں کے گناہوں کا) بڑا بخشنے والا ہے۔ معارف ومسائل ربط آیات : بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان آیات میں عود ہے مضمون توحید کی طرف جس کو دلائل قدرت سے مدلل کیا گیا ہے۔ اور بعض نے فرمایا ہے کہ سابقہ آیات میں لوگوں کے احوال کا مختلف ہونا اور اس کی تمثیلات بیان فرمائی ہیں، (آیت) وما یستوی الا عمیٰ والبصیر ولا الظلمت ولا النور ولا الظل ولا الحرور، یہ اسی کا مزید بیان و توضیح ہے کہ مخلوقات آلٰہیہ میں باہمی تفاوت ایک خلقی اور طبعی امر ہے، اور نباتات و جمادات تک میں موجود ہے، اور یہ اختلاف صرف صورت اور لون ہی میں نہیں بلکہ طائع میں بھی ہے۔ ثمرات مختلفاً الوانہا، ثمرات میں اختلاف الوان کو ترکیب نحوی کے اعتبار سے حال بنا کر مختلفاً منصوب ذکر فرمایا ہے۔ اور آگے پہاڑوں میں رنگتوں کا اختلاف اسی طرح انسانوں اور چوپایوں وغیرہ میں یہ اختلاف بصورت صفت بیان فرمایا ہے۔ اسی لئے مختلف مرفوع لایا گیا۔ اس میں یہ اشارہ ہوسکتا ہے کہ ثمرات کا اختلاف الوان تو ایک حال پر نہیں، وہ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بدلتا رہتا ہے، بخلاف پہاڑوں کے اور انسانوں اور جانوروں کے کہ ان کے جو رنگ ہیں وہ عموماً قائم رہنے والے ہیں بدلتے نہیں۔ اور پہاڑوں میں جدد فرمایا، یہ جدہ کی جمع ہے، جس کے معروف معنی اس چھوٹے سے راستہ کے ہیں جس کو جادہ بھی کہا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے جدہ بمعنے قطعہ وحصہ قرار دیا ہے مطلب دونوں صورتوں میں پہاڑوں کے اجزاء کا مختلف الوان ہونا ہے، جن میں سب سے پہلے سفید کا اور آخر میں سیاہ کا ذکر فرمایا، درمیان میں احمر یعنی سرخ کے ذکر کے ساتھ مختلف الوانہ فرمایا اس میں اس طرف اشارہ نکل سکتا ہے کہ اصل رنگ دنیا میں دو ہی ہیں، سفید، سیاہ اور باقی رنگ اسی سفیدی اور سیاہی کے مختلف درجوں سے مرکب ہو کر بنتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۝ ٠ ۚ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہَا۝ ٠ ۭ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ۝ ٢٧ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان کی آبادی ماء اصل میں موہ ہے کیونکہ اس کی جمع امراۃ اور میاہ آتی ہے ۔ اور تصغیر مویۃ پھر ہا کو حزف کر کے واؤ کو الف سے تبدیل کرلیا گیا ہے خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ ثمر الثَّمَرُ اسم لكلّ ما يتطعم من أحمال الشجر، الواحدة ثَمَرَة، والجمع : ثِمَار وثَمَرَات، کقوله تعالی: أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] ( ث م ر ) الثمر اصل میں درخت کے ان اجزاء کو کہتے ہیں جن کو کھایا جاسکے اس کا واحد ثمرۃ اور جمع ثمار وثمرات آتی ہے قرآن میں ہے :۔ أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] اور آسمان سے مبینہ پرسا کر تمہارے کھانے کے لئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کیے ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ لون اللَّوْنُ معروف، وينطوي علی الأبيض والأسود وما يركّب منهما، ويقال : تَلَوَّنَ : إذا اکتسی لونا غير اللّون الذي کان له . قال تعالی: وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها [ فاطر/ 27] ، وقوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فإشارة إلى أنواع الألوان واختلاف الصّور التي يختصّ كلّ واحد بهيئة غير هيئة صاحبه، وسحناء غير سحنائه مع کثرة عددهم، وذلک تنبيه علی سعة قدرته . ويعبّر بِالْأَلْوَانِ عن الأجناس والأنواع . يقال : فلان أتى بالألوان من الأحادیث، وتناول کذا ألوانا من الطّعام . ( ل و ن ) اللون ۔ کے معنی رنگ کے ہیں اور یہ سیاہ سفید اور ان دونوں سے مرکب یعنی ہر قسم کے رنگ پر بولا جاتا ہے ۔ تلون کے معنی رنگ بدلنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها[ فاطر/ 27] اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کی دھار یاں ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف الوادع و اقسام کے رنگوں اور شکلوں کے مختلف ہونے کی طرف اشارہ ہے اور باوجود اس قدر تعداد کے ہر انسان اپنی ہیئت کذائی اور رنگت میں دوسرے سے ممتاز کذابی اور رنگت میں دوسرے سے ممتاز نظر آتا ہے ۔ اس سے خدا کی وسیع قدرت پر تنبیہ کی گئی ۔ اور کبھی الوان سے کسی چیز کے لوادع و اقسام مراد ہوتے ہیں چناچہ محاورہ ہے اس نے رنگا رنگ کی باتیں کیں اور الوان من الطعام سے مراد ہیں قسم قسم کے کھانے ۔ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا |" ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ جد الجَدُّ : قطع الأرض المستوية، ومنه : جَدَّ في سيره يَجِدُّ جَدّاً ، وکذلک جَدَّ في أمره وأَجَدَّ : صار ذا جِدٍّ ، وتصور من : جَدَدْتُ الأرض : القطع المجرد، فقیل : جددت الثوب إذا قطعته علی وجه الإصلاح، وثوب جدید : أصله المقطوع، ثم جعل لکل ما أحدث إنشاؤه، قال تعالی: بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ [ ق/ 15] ، إشارة إلى النشأة الثانية، وذلک قولهم : أَإِذا مِتْنا وَكُنَّا تُراباً ذلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ [ ق/ 3] ، وقوبل الجدید بالخلق لما کان المقصود بالجدید القریب العهد بالقطع من الثوب، ومنه قيل للیل والنهار : الجَدِيدَان والأَجَدَّان «1» ، قال تعالی: وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ [ فاطر/ 27] ، جمع جُدَّة، أي : طریقة ظاهرة، من قولهم : طریق مَجْدُود، أي : مسلوک مقطوع ومنه : جَادَّة الطریق، والجَدُود والجِدَّاء من الضأن : التي انقطع لبنها . وجُدَّ ثدي أمه علی طریق الشتم وسمي الفیض الإلهي جَدّاً ، قال تعالی: وَأَنَّهُ تَعالی جَدُّ رَبِّنا [ الجن/ 3] ، أي : فيضه، وقیل : عظمته، وهو يرجع إلى الأوّل، وإضافته إليه علی سبیل اختصاصه بملکه، وسمي ما جعل اللہ للإنسان من الحظوظ الدنیوية جَدّاً ، وهو البخت، فقیل : جُدِدْتُ وحُظِظْتُ وقوله عليه السلام : «لا ينفع ذا الجَدِّ منک الجَدُّ» أي : لا يتوصل إلى ثواب اللہ تعالیٰ في الآخرة بالجدّ ، وإنّما ذلک بالجدّ في الطاعة، وهذا هو الذي أنبأ عنه قوله تعالی: مَنْ كانَ يُرِيدُ الْعاجِلَةَ عَجَّلْنا لَهُ فِيها ما نشاء لِمَنْ نُرِيدُ [ الإسراء/ 18] ، وَمَنْ أَرادَ الْآخِرَةَ وَسَعى لَها سَعْيَها وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وإلى ذلك أشار بقوله : يَوْمَ لا يَنْفَعُ مالٌ وَلا بَنُونَ [ الشعراء/ 88] . والجَدُّ : أبو الأب وأبو الأم . وقیل : معنی «لا ينفع ذا الجدّ» : لا ينفع أحدا نسبه وأبوّته، فکما نفی نفع البنین في قوله : يَوْمَ لا يَنْفَعُ مالٌ وَلا بَنُونَ [ الشعراء/ 88] ، کذلک نفی نفع الأبوّة في هذا الحدیث . ( ج د د ) الجد ( مصدر رض ) کے اصل معنی ہمورار زمین پر چلنے کے ہیں ۔ اسی سے جد فی سیرہ ہے جس کے معنی تیز ردی کے ہیں اور جب کوئی شخص اپنے معاملات میں محنت اور جا نفشاتی سے کام کرے تو کہا جاتا ہے جد فی امرہ اور اجد ( افعال ) کے معنی صاحب جد ہونے کے ہیں اور جددت الارض سے کسی چیز کو کا ٹتے کا معنی لیا جاتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے جددتۃ ( میں نے درست کرنے کے لئے اسے کا تا ) اور ثواب جدید کے اصل؛ معنی قطع کئے ہوئے کپڑا کے ہیں اور چونکہ جس کپڑے کو کاٹا جاتا ہے وہ عموما نیا ہوتا ہے اس لئے ہر نئی چیز کو جدید جہا جانے لگا ہے اس بنا پر ایت : ۔ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ [ ق/ 15] میں خلق جدید سے نشاۃ ثانیہ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ نئے سرے سے پیدا ہونا مراد ہے کیونکہ کفار اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے ۔ أَإِذا مِتْنا وَكُنَّا تُراباً ذلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ [ ق/ 3] بھلا جب ہم مرگئے اور متی ہوگئے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ یہ زندہ ہونا عقلیہ ہے ) بعید ہی اور جدید دنیا ) خلق یعنی پرانا کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اس اعتبار سے رات دن کو عبدید ان اور اجدان کہا جاتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ [ فاطر/ 27] اور پہاڑوں میں سفید رنگ کے قطعات ہیں میں جدد کا واھد جدۃ ہے کس کے معنی کھلے راستہ کے ہیں اور یہ طریق مجژود کے محاورہ سے ماخوذ ہے یعنی وہ راستہ جس پر چلا جائے اسی سے جا دۃ الطریق ہے جس کے معنی شاہراہ یا ہموار اور راستہ کے درمیانی حصہ کے ہیں جس پر عام طور پر آمد ورفت ہوتی رہتی ہے ) الجدود والجداء خشک تھنوں والی بھیڑ بکری اور سب وشتم کے طور پر کہا جاتا ہے ۔ جد ثدی امہ اس کی ماں کے پستان خشک ہوجائیں اور جد کا لفظ فیظ الہی پر معنی بولا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَأَنَّهُ تَعالی جَدُّ رَبِّنا [ الجن/ 3] اور یہ کہ ہماری پروردگار کا فیضان بہت بڑا ہے ۔ میں جد بمعنی فیض الہی ہی کے ہے ۔ بعض کے نزدیک اس کے معنی عظمت کے ہیں لیکن اس کا مرجع بھی معنی والی کی طرف ہی ہے اور اللہ تعالے کی طرف اس کی اضافت اختصاص ملک کے طریق سے ہے اور حظوظ دینوی جو اللہ تعالے انسان کو بخشتا ہے پر بھی جد کا لفظ بولا جاتا ہے جس کے معنی بخت ونصیب کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے جددت وحظظت خوش قسمت اور صاحب نصیب ہوگیا اور حدیث کے معنی یہ ہیں کہ دنیاوی مال وجاہ سے آخرت میں ثواب حاصل نہیں ہوسکے گا بلکہ آخروی ثواب کے حصول کا ذریعہ صرف طاعت الہی ہے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ مَنْ كانَ يُرِيدُ الْعاجِلَةَ عَجَّلْنا لَهُ فِيها ما نشاء لِمَنْ نُرِيدُ [ الإسراء/ 18] کے بعد فرمایا : ۔ وَمَنْ أَرادَ الْآخِرَةَ وَسَعى لَها سَعْيَها وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] اور جو شخص آخرت کا خواستکا ر ہو اور اور اس میں اتنی کوشش کرے ۔ جتنی اسے لائق ہے اور وہ مؤمن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے ۔ نیز اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ يَوْمَ لا يَنْفَعُ مالٌ وَلا بَنُونَ [ الشعراء/ 88] . جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے گا اور نہ بیٹے ۔ الجد ( ایضا ) دادا ۔ نانا ۔ بعض نے کہا ہے کہ لا ینفع ذالجد کے معنی یہ ہی کے اسے آبائی نسب فائدہ نہیں دے گا اور جس طرح کہ آیت : يَوْمَ لا يَنْفَعُ مالٌ وَلا بَنُونَ [ الشعراء/ 88] ہیں اولاد کے فائدہ بخش ہونے کی نفی کی ہے اسی طرح حدیث میں اباؤ اجداد کے نفع بخش ہونے کی نفی کی گئی ہے ۔ بيض البَيَاضُ في الألوان : ضدّ السواد، يقال : ابْيَضَّ يَبْيَضُّ ابْيِضَاضاً وبَيَاضاً ، فهو مُبْيَضٌّ وأَبْيَضُ. قال عزّ وجل : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذابَ بِما كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . والأَبْيَض : عرق سمّي به لکونه أبيض، ولمّا کان البیاض أفضل لون عندهم كما قيل : البیاض أفضل، والسواد أهول، والحمرة أجمل، والصفرة أشكل، عبّر به عن الفضل والکرم بالبیاض، حتی قيل لمن لم يتدنس بمعاب : هو أبيض اللون . وقوله تعالی: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ [ آل عمران/ 106] ، فابیضاض الوجوه عبارة عن المسرّة، واسودادها عن الغم، وعلی ذلک وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا [ النحل/ 58] ، وعلی نحو الابیضاض قوله تعالی: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] ، وقوله : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ضاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ [ عبس/ 38- 39] . وقیل : أمّك بيضاء من قضاعة«1» وعلی ذلک قوله تعالی: بَيْضاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ [ الصافات/ 46] ، وسمّي البَيْض لبیاضه، الواحدة : بَيْضَة، وكنّي عن المرأة بالبیضة تشبيها بها في اللون، وکونها مصونة تحت الجناح . وبیضة البلد يقال في المدح والذم، أمّا المدح فلمن کان مصونا من بين أهل البلد ورئيسا فيهم، وعلی ذلک قول الشاعر : کانت قریش بيضة فتفلّقت ... فالمحّ خالصه لعبد مناف وأمّا الذم فلمن کان ذلیلا معرّضا لمن يتناوله كبيضة متروکة بالبلد، أي : العراء والمفازة . وبَيْضَتَا الرجل سمّيتا بذلک تشبيها بها في الهيئة والبیاض، يقال : بَاضَتِ الدجاجة، وباض کذا، أي : تمكّن . قال الشاعر : بداء من ذوات الضغن يأوي ... صدورهم فعشش ثمّ باض وبَاضَ الحَرُّ : تمكّن، وبَاضَتْ يد المرأة : إذا ورمت ورما علی هيئة البیض، ويقال : دجاجة بَيُوض، ودجاج بُيُض ( ب ی ض ) البیاض سفیدی ۔ یہ سواد کی ضد ہے ۔ کہا جاتا ہے ابیض ، ، ابیضاضا وبیاض فھو مبیض ۔ قرآن میں ہے ؛۔ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ جسدن بہت سے منہ سفید ہونگے اور بہت سے منہ سیاہ ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . اور جن کے منہ سفید ہوں گے ۔ اور ابیض ایک رگ کا نام بھی ہے جو سفید رنگ ہونے کی وجہ سے ابیض کہلاتی ہے ۔۔ اہل عرب کے ہاں چونکہ سفید رنگ تمام رنگوں میں بہتر خیال کیا جاتا ہے جیسے کہا گیا ہے البیاض افضل والسواد اھول والحمرۃ اجمل والصفرۃ اشکل اس لئے بیاض بول کر فضل وکرم مراد لیا جاتا ہے اور جو شخص ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اسے ابیض الوجہ کہا جاتا ہے اس بنا پر آیت مذکورہ میں ابیاض الوجوہ سے مسرت اور اسود الوجوہ سے تم مراد ہوگا جیسے دوسری جگہ فرمایا ؛۔ وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا [ النحل/ 58] حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی ( کے پیدا ہونے ) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ ( غم کے سبب ) کالا پڑجاتا ہے ۔ اور جیسے ابیاض الوجوہ خوشی سے کنایہ ہوتا ہے اسی طرح آیت ؛۔ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] اس روز بہت سے منہ رونق وار ہوں گے اور آیت ؛۔ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ضاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ [ عبس/ 38- 39] اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہونگے خوش اور مسرور نظر آئیں گے ۔ میں بھی نضرۃ اور اسفار سے مراد مسرت ہی ہوگی ۔ شاعر نے کہا ہے ( منسرح ) (72) امت بیضاء من قضاعۃ یعنی تم عفیف اور سخٰ سردار ہو ۔ اسی معنی میں فرمایا ؛۔ بَيْضاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ [ الصافات/ 46] جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے سراسر ) لذت ہوگئی ۔ البیض یہ بیضۃ کی جمع ہے اور انڈے کے سفید ہونے کی وجہ اسے بیضۃ کہا جاتا ہے ۔ انڈا سفید اور پروں کے نیچے محفوظ رہتا ہے اس لئے تشبیہ کے طور بیضۃ بول کر خوبصورت عورت مراد لی جاتی ہے۔ بیضۃ البلد یہ لفظ تعریف اور مذمت کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب کلمہ تعریفی ہو تو اس سے رئیس شہر مراد ہوتا ہے ۔ اسی بناپر شاعر نے کہا ہے :۔ ( کامل ) (73) کانت قریش بیضۃ فتفلقت فالمخ خالصہ لعبدمناف قریش ایک انڈے کی مثل تھے ۔ جو ٹوٹا تو عبد مناف کے حصہ میں خالص مخ آئی ۔ اور جب مذمت کے لئے استعمال ہو تو اس سے ذلیل آدمی مراد لیا جاتا ہے جسے جنگل میں پڑے ہوئے انڈے کی طرح ہر ایک توڑ سکتا ہے اور شکل ورنگ میں مشابہت کی وجہ سے خصیتین کو بیضا الرجل کہا جاتا ہے ۔ باضت الدجاجۃ مرغی کا انڈے دینا ۔ باض کذا کسی جگہ پر متمکن ہونا ۔ شاعر نے کہا ہے (74) بدامن ذوات الضغن یآوی صدورھم فعش ثم باضا باض الحر گرمی سخت ہونا ۔ باضت یدا لمرءۃ عورت کے ہاتھ پر انڈے کی طرح درم ہونا ۔ دجاجۃ بیوض انڈے دینے والی مرغی ج بیض ۔ حمر الحِمَار : الحیوان المعروف، وجمعه حَمِير وأَحْمِرَة وحُمُر، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ [ النحل/ 8] ، ويعبّر عن الجاهل بذلک، کقوله تعالی: كَمَثَلِ الْحِمارِ يَحْمِلُ أَسْفاراً [ الجمعة/ 5] ، وقال تعالی: كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ [ المدثر/ 50] ، وحمار قبّان : دويّبة، والحِمَارَان : حجران يجفّف عليهما الأقط «5» ، شبّه بالحمار في الهيئة، والمُحَمَّر : الفرس الهجين المشبّه بلادته ببلادة الحمار . والحُمْرَة في الألوان، وقیل : ( الأحمر والأسود) «1» للعجم والعرب اعتبارا بغالب ألوانهم، وربما قيل : حمراء العجان «2» ، والأحمران : اللحم والخمر «3» ، اعتبارا بلونيهما، والموت الأحمر أصله فيما يراق فيه الدم، وسنة حَمْرَاء : جدبة، للحمرة العارضة في الجوّ منها، وکذلک حَمَّارَة «4» القیظ : لشدّة حرّها، وقیل : وِطَاءَة حَمْرَاء : إذا کانت جدیدة، ووطاءة دهماء : دارسة . ( ح م ر ) الحمام ( گدھا ) اس کی حمر وحمیر واحمرتہ آتی ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ [ النحل/ 8] اور گھوڑے خچر اور گدھے ۔ کبھی حمار کے لفظ سے جاہل اور بےعلم آدمی بھی مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ كَمَثَلِ الْحِمارِ يَحْمِلُ أَسْفاراً [ الجمعة/ 5] ان کی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں ۔ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ [ المدثر/ 50] گویا گدھے ہیں جو بدک جاتے ہیں ۔ حمار قبان ایک قسم کا کیڑا ( جسے فارسی میں خرک کہا جاتا ہے ) الجمار ( ان دو پتھر جن پر پنیر خشک کیا جاتا ہے ہیئت میں حمار سے تشبیہ کے طور پر کہا جاتا ہے اور گدھے کے ساتھ جلاوت میں تشبیہ دیکر و غلی نسلی کے گھوڑے کو بھی المحمر کہا جاتا ہے الحمرۃ سرخی ۔ الاحمر الاسود ( عرب ) وعجم ( اس میں عمومی رنگت کا لحاظ کیا گیا ہے ) اور کبھی حمراء العجان ( کنایہ ازعجم ) بھی کہا جاتا ہے ۔ الاحمران ۔ گوشت اور شراب الموت الاحمر سخت موت ، وہ موت جو قبل راقع ہو سنۃ حمراء قحط سالی کیونکر اس میں فضا کا رنگ سرخ نظر آتا ہے اسی بنا پر سخت گرمی کو حمرۃ القیط کہا جاتا ہے ۔ وطاءۃ حمراء قدم کا تازہ نشان س کے بالمقابل مٹے ہوئے نسان کو وطاءۃ دھماء بولتے ہیں ۔ غرب الْغَرْبُ : غيبوبة الشّمس، يقال : غَرَبَتْ تَغْرُبُ غَرْباً وغُرُوباً ، ومَغْرِبُ الشّمس ومُغَيْرِبَانُهَا . قال تعالی: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] ، رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] ، بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، وقد تقدّم الکلام في ذكرهما مثنّيين ومجموعین «4» ، وقال : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] ، وقال : حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] ، وقیل لكلّ متباعد : غَرِيبٌ ، ولكلّ شيء فيما بين جنسه عدیم النّظير : غَرِيبٌ ، وعلی هذا قوله عليه الصلاة والسلام : «بدأ الإسلام غَرِيباً وسیعود کما بدأ» «5» وقیل : العلماء غُرَبَاءُ ، لقلّتهم فيما بين الجهّال، والغُرَابُ سمّي لکونه مبعدا في الذّهاب . قال تعالی: فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] ، وغَارِبُ السّنام لبعده عن المنال، وغَرْبُ السّيف لِغُرُوبِهِ في الضّريبة «6» ، وهو مصدر في معنی الفاعل، وشبّه به حدّ اللّسان کتشبيه اللّسان بالسّيف، فقیل : فلان غَرْبُ اللّسان، وسمّي الدّلو غَرْباً لتصوّر بعدها في البئر، وأَغْرَبَ الساقي : تناول الْغَرْبَ ، والْغَرْبُ : الذّهب «1» لکونه غَرِيباً فيما بين الجواهر الأرضيّة، ومنه : سهم غَرْبٌ: لا يدری من رماه . ومنه : نظر غَرْبٌ: ليس بقاصد، و، الْغَرَبُ : شجر لا يثمر لتباعده من الثّمرات، وعنقاء مُغْرِبٌ ، وصف بذلک لأنه يقال : کان طيرا تناول جارية فَأَغْرَبَ «2» بها . يقال عنقاء مُغْرِبٌ ، وعنقاء مُغْرِبٍ بالإضافة . والْغُرَابَانِ : نقرتان عند صلوي العجز تشبيها بِالْغُرَابِ في الهيئة، والْمُغْرِبُ : الأبيض الأشفار، كأنّما أَغْرَبَتْ عينُهُ في ذلک البیاض . وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] ، قيل : جَمْعُ غِرْبِيبٍ ، وهو المُشْبِهُ لِلْغُرَابِ في السّواد کقولک : أسود کحلک الْغُرَابِ. ( غ رب ) الغرب ( ن ) سورج کا غائب ہوجانا غربت نغرب غربا وغروبا سورج غروب ہوگیا اور مغرب الشمس ومغیر بانھا ( مصغر ) کے معنی آفتاب غروب ہونے کی جگہ یا وقت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] وہی ) مشرق اور مٖغرب کا مالک ہے ۔ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] وہی دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے ۔ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ ان کے تثنیہ اور جمع لانے کے بحث پہلے گذر چکی ہے ۔ نیز فرمایا : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] کہ نہ مشرق کی طرف سے اور نہ مغرب کی طرف ۔ حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے جگہ پہنچا ۔ اور ہر اجنبی کو غریب کہاجاتا ہے اور جو چیز اپنی ہم جنس چیزوں میں بےنظیر اور انوکھی ہوا سے بھی غریب کہہ دیتے ہیں ۔ اسی معنی میں آنحضرت نے فرمایا (58) الاسلام بدء غریبا وسعود کمابدء کہ اسلام ابتداء میں غریب تھا اور آخر زمانہ میں پھر پہلے کی طرح ہوجائے گا اور جہلا کی کثرت اور اہل علم کی قلت کی وجہ سے علماء کو غرباء کہا گیا ہے ۔ اور کوے کو غراب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ بھی دور تک چلا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کو ابھیجا جو زمین کریدٹے لگا ۔ اور غارب السنام کے معنی کو ہاں کو بلندی کے ہیں کیونکہ ( بلندی کی وجہ سے ) اس تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے اور غرب السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں کیونکہ تلوار بھی جسے ماری جائے اس میں چھپ جاتی ہے لہذا ی مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ پھر جس طرح زبان کو تلوار کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے اسی طرح زبان کی تیزی کو بھی تلوار کی تیزی کے ساتھ تشبیہ دے کر فلان غرب اللسان ( فلاں تیز زبان ہے ) کہاجاتا ہے اور کنوئیں میں بعد مسافت کے معنی کا تصور کرکے ڈول کو بھی غرب کہہ دیا جاتا ہے اور اغرب الساقی کے معنی ہیں پانی پلانے والے ڈول پکڑا اور غرب کے معنی سونا بھی آتے ہیں کیونکہ یہ بھی دوسری معدنیات سے قیمتی ہوتا ہے اور اسی سے سھم غرب کا محاورہ ہے یعنی دہ تیر جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ کدھر سے آیا ہے ۔ اور بلا ارادہ کسی طرف دیکھنے کو نظر غرب کہاجاتا ہے اور غرب کا لفظ بےپھل درخت پر بھی بولا جاتا ہے گویا وہ ثمرات سے دور ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ عنقاء جانور ایک لڑکی کو اٹھا کر دوردروازلے گیا تھا ۔ اس وقت سے اس کا نام عنقاء مغرب اوعنقاء مغرب ( اضافت کے ساتھ ) پڑگیا ۔ الغرابان سرینوں کے اوپر دونوں جانب کے گڑھے جو ہیت میں کوے کی طرح معلوم ہوتے ہیں ۔ المغرب گھوڑا جس کا کر انہ ، چشم سفید ہو کیونکہ اس کی آنکھ اس سفیدی میں عجیب و غریب نظر آتی ہے ۔ اور آ یت کریمہ : وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] کہ غرابیب کا واحد غربیب ہے اور اس کے معنی کوئے کی طرح بہت زیادہ سیاہ کے ہیں جس طرح کہ اسود کحلک العراب کا محاورہ ہے ۔ ( یعنی صفت تاکیدی ہے اور اس میں قلب پایا جاتا ہے اصل میں سود غرابیب ہے ۔ سود السَّوَادُ : اللّون المضادّ للبیاض، يقال : اسْوَدَّ واسْوَادَّ ، قال : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ [ آل عمران/ 106] فابیضاض الوجوه عبارة عن المسرّة، واسْوِدَادُهَا عبارة عن المساءة، ونحوه : وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ [ النحل/ 58] ، وحمل بعضهم الابیضاض والاسوداد علی المحسوس، والأوّل أولی، لأنّ ذلک حاصل لهم سُوداً کانوا في الدّنيا أو بيضا، وعلی ذلک دلّ قوله في البیاض : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] ، وقوله : وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ باسِرَةٌ [ القیامة/ 24] ، وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْها غَبَرَةٌ تَرْهَقُها قَتَرَةٌ [ عبس/ 40- 41] ، وقال : وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عاصِمٍ كَأَنَّما أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعاً مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِماً [يونس/ 27] ، وعلی هذا النحو ما روي «أنّ المؤمنین يحشرون غرّا محجّلين من آثار الوضوء» «1» ، ويعبّر بِالسَّوَادِ عن الشّخص المرئيّ من بعید، وعن سواد العین، قال بعضهم : لا يفارق سوادي سواده، أي : عيني شخصه، ويعبّر به عن الجماعة الكثيرة، نحو قولهم : ( عليكم بالسّواد الأعظم) «2» ، ( س و د ) السواد ( ضد بیاض ) سیاہ رنگ کو کہتے ہیں اور اسود ( افعلال ) واسواد ( افعیلال ) کے معنی کسی چیز کے سیاہ ہونے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ [ آل عمران/ 106] جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ ۔ تو چہروں کے سفید ہونے سے اظہار مسرت اور سیاہ ہونے سے اظہار غم مراد ہے ایطرح آیت : وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ [ النحل/ 58] حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی ( کے پیدا ہونے ) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا منہ ( غم کے سبب ) کالا پڑجاتا ہے اور ( اس کے دل کو دیکھو تو ) وہ اندرہی خاک ہوجاتا ہے ۔ وہ بھی مسودا سے بھی مغموم ہونا ہی مراد ہے ۔ بعض نے آیت ۔ تبیض الخ میں حسی سفیدی اور سیاہی کے معنی مراد لئے ہیں ۔ لکین پہلا معنی زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ چیز تو قیامت کے دن اعمال کے اعتبار سے حاصل ہوگی عام اس سے کہ وہ دینا میں سیاہ فام ہوں یا سفید فام اور اسی سفیدی اور سیاہی کو دوسری آیات میں یوں فرمایا ہے : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] اس دن بہت سے منہ رونق دارہوں گے وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ باسِرَةٌ [ القیامة/ 24] اور بہت سے منہ اس روز اداس ہوں گے ۔ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْها غَبَرَةٌ تَرْهَقُها قَتَرَةٌ [ عبس/ 40- 41] اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑرہی ہوگی ( اور ) سیاہی چڑھ رہی ہوگی ۔ وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عاصِمٍ كَأَنَّما أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعاً مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِماً [يونس/ 27] اور ان کے منہ پر ذلت چھائے گی اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا ان کے مونہوں ( سیاہی ) کا یہ عالم ہوگا کہ ان ہر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں ۔ اسی طرح مومنین کے متعلق حدیث میں آیا ہے یحشرون غرا محجلین من آثار الوضوء کہ قیامت کے دن آثار وضو سے ان کے پاتھ پاؤں اور چہرے چمک رہے ہوں گے ۔ اور دور سے جو چیز نظر پڑے اسے بھی سواد کہا جاتا ہے اسی طرح آنکھ کی سیاہی کو بھی سوادلعین سے تعبیر کرلیتے ہیں جیسا کہ کسی نے کہا ہے لایفارق سوادی سوادہ میری آنکھ اس کے شخص سے جدا نہیں ہوتی اور بڑی جماعت کو بھی سواد کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ مروی ہے : مسلمانوں کی بڑی جماعت کا ساتھ نہ چھوڑو ( نہ اس سے علیدگی اختیار کرو )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے مخاطب کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بارش برسائی پھر ہم نے اس پانی سے مختلف اقسام کے تلخ اور شیریں پھل پیدا کیے اسی طرح پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں اور پھلوں کی رنگتوں کی طرح کچھ سفید ہیں اور کچھ سرخ اور کچھ بہت گہرے سیاہ ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً } ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی ؟ “ { فَاَخْرَجْنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہَا } ” پھر ہم نے نکالے اس سے پھل جن کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ! “ { وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌم بِیْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ} ” اور پہاڑوں میں بھی دھاریاں ہیں سفید اور سرخ ‘ ان کے مختلف رنگ ہیں اور کو وں جیسے سیاہ بھی۔ “ پہاڑوں کے اندر مختلف رنگوں کی دھاریاں (layers) اور چٹانیں کا غان کے راستے میں بہت نظر آتی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٧‘ ٢٨۔ یہ ایک اور نشانی قدرت کی بیان فرمائی کہ ایک ہی پانی کے اثر سے سب میوے پیدا ہوت ہیں لیکن جس میو کا رنگ اللہ تعالیٰ نے شرخ ٹھہرا دیا ہے اس کو پانی اپنے اثر سے بسز نہیں کرسکتا اور سبز سرخ نہیں ہوسکتا اس طرح پہاڑوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے رنگ برنگ کا پیدا کیا ہے اور ان میں رنگ برنگ کی گھاٹیاں رکھی ہیں یہی حال انسان چار پایوں اور کیڑے پتنگوں کا ہے پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی ان قدتوں کو دیکھ کر وہی گوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ جن میں یہ سب قدرتیں ہیں وہ نافرمان لوگوں کی گرفت کرلینے میں پڑا زبردست ہے اور فرما نبرداروں کے گناہوں کے بخش دینے میں بڑا غفور رحیم ہے۔ ایک رنگ کی چیز پر دوسرے رنگ کے کچھ خط پڑے ہوئے ہوں تو ان کو جدد کہنے ہیں اسی واسطے اکثر سلف نے جدد کے معنی پہاڑ کی گھاٹیوں کے کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی قدرت سے پہاڑوں کا رنگ کچھ اور ہے اور گھاٹیوں کا رنگ کچھ اور ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں سے انسان اللہ تعالیٰ کو تو عقل سے پہچان سکتا ہے لیکن اس کی مرضی نامرضی کے کام بغیر شریف کے معلوم نہیں ہو کستے اسی واسطے قرآن شریف میں قدرت کی نشانیوں کا اور احکام شریعت کا ساتھ کے ساتھ تذکرہ فرمایا گیا ہے ‘ تبارک الذی میں آوے گا کہ جب قیامت کے دن لوگوں کی جماعتوں کی جماعتیں دوزخ میں ڈالی جاویں گی تو دوزخ کے داروغہ فرشتے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا اللہ کے رسولوں نے تم کو آج کے دن کی آفت سے نہیں ڈرایا وہ لوگ جواب دیں گے لوکنا نسمع ونعقل ماکنافی اصحاب السعیر اس کا مطلب یہی ہے کہ اگر ہم انبیاء کی نصیحت کو کانوں سے سنتے اور قدرت کی نشانیوں کے سمجھنے میں عقل سے کام لیتے تو آج اس آفت میں گرفتار نہ ہونے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ ١ ؎ سے انس بن مالک (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (١ ؎ مشکوۃ ص ٢٧۔ ) جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بہ نسبت امت کے لوگوں کے اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا ہوں ‘ یہ حدیث انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انبیاء کا علم دین امت کے لوگوں سے بڑا ہوتا ہے اس لیے ان کے دل میں اللہ کا خوف بھی امت کے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے اب امت کے لوگوں میں سے علم دین میں جیسا جس کا مرتبہ ہوگا اس کے دل میں اتنا ہی اللہ کا خوف ہوگا صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں زید (رض) بن ارقم سے روایت ٢ ؎ ہے (٢ ؎ مشکوۃ ص ٢١٦۔ ٢١٧ باب الاستعاذہ۔ ) جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے (١) وہ علم جس سے دین کا کچھ نفع نہ ہو (٢) دل جس میں اللہ کا خوف نہ ہو (٣) آدمی کے دل کی وہ حرص جو کبھی پوری نہ ہو (٤) وہ دعاء جو قبول نہ ہو “ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس عالم کے دل میں اللہ کا خوف نہیں اسکا علم کسی کام کا نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے کوئی کالا کسی کا ناک ستواں ہے تو کسی دوسرے کی چپٹی قد کاٹھ عقل و شعور اور رنگ روپ ہر شے جداگانہ عطا فرما دی یہ اس کی تخلیق کا کمال ہے۔ اسی طرح سے یہ سب باتیں اس کی عظمت شان پہ گواہی دے رہی ہیں مگر کوئی یہ بات جانے بھی کہ اللہ کی خشیت تو اسی کو نصیب ہوگی جو یہ سب جانتا ہوگا یعنی عالم ہوگا۔ قرآن کسے عالم کہتا ہے : قرآن حکیم کے مطابق محض لکھنا پڑھنا آتا ہو یا بہت سی کتابیں پڑھ لینے سے کوئی عالم نہ ہوجائے گا کہ علم کا حاصل ہے اپنی خشیت اور اللہ کی عظمت کا احساس و ادراک جس درجہ کا یہ ادراک ہوگا اسی درجہ کی خشیت نصیب ہوگی اور اللہ کے جس بندے میں جتنی خشیت الہی ہوگی اتنا ہی وہ عالم ہے خشیت دل کا فعل ہے اور اس کا اظہار کردار اور اعمال سے ہوتا ہے مفسرین کرام نے یہاں بہت لمبی بحث لکھی ہے مگر اس کا حاصل یہی ہے۔ اللہ کریم سب پر غالب ہے وہ چاہے تو کسی کو دم مارنے کی فرصت نہ دے مگر وہ بخشنے والا ہے اور درگزر فرماتا ہے۔ آگے خشیت الہی کا اظہار کیسے ہوتا ہے اس کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ تلاوت قرآن کرتے ہیں۔ قرآن حکیم ضابطہ حیات ہے اور اسے سمجھنا ضروری اس پر عمل کرنا مقصد حیات لیکن اگر معانی نہ بھی آتے ہوں تو بھی تلاوت قرآن بجائے خود ایک نیک عمل ہے جو خشیت پیدا کرتا ہے اور دل میں جب خشیت پیدا ہو تو اسے کتابوں کے سوا بھی علم نصیب ہونے لگتا ہے۔ عبادات میں کمر بستہ ہوجاتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور رزق میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں علانیہ بھی اور چھپ چھپا کر بھی۔ علانیہ اور خفیہ نیک کام کرنا : علماء کی رائے میں فرائض و واجبات اور سنن وغیرہ کا اعلانیہ کرنا بہتر ہے اور نوافل کا پوشیدہ ایسے ہی فرض صدقہ یعنی زکوۃ کا ظاہراً ادا کرنا بہتر ہے اور نفلی صدقات کا خفیہ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو امیدوار کرم ہیں کہ ان کے نیک اعمال ایسی تجارت کی مانند ہیں جس میں خسارے کا امکان نہ ہو۔ نیکی کرکے نجات یقینی نہیں امید کرم ضرور ہوسکتی ہے : نیک اعمال پہ گھمنڈ نہ کیا جائے کہ محض نیکی نجات کے لیے کافی نہیں کہ اس کی توفیق بھی تو اللہ کریم نے ہی دی ہاں اس کی رحمت بخشش کا سبب ہے جس کی امید قوی ہے کہ یہ اسی کی رحمت تھی جو توفیق عمل ملی تو اپنے کرم سے نجات بھی فرما دے گا بلکہ انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اعمال بد کا بدلہ تو دے گا ہی۔ کریم ایسا ہے کہ اسے کئی گنا بڑھا دے گا کہ بخشنا تو اس کی صفت ہے ہی وہ قدر دان بھی زبردست ہے۔ بندہ اپنی حیثیت کے مطابق ہی عمل کرسکتا ہے مگر اللہ تو اپنی شان کے مطابق عطا فرمائے گا۔ کیا یہ کم احسان ہے کہ آپ پر ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی جو ایک شک و شبہ سے بالا اور حق ہے اور اپنے سے پہلے نازل ہونے والی کتب میں ارشاد کردہ حقائق کی تصدیق کرتی ہے کہ آسمانی کتب کے حق ہونے اور انبیاء و رسل کی صداقت پہ یہ دلیل بھی بہت بڑی ہے کہ سینکڑوں ہزاروں سالوں بعد جب کوئی نئی کتاب نازل ہوئی تو اس نے وہی حقائق بیان فرمائے جو پہلی کتب نے بیان فرمائے تھے جیسے تمام تر تعلیمات گم اور انبیاء کے ارشادات لوگوں کو بھول چکے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو ذات باری ، فرشتے ، آخرت کے بارے وہی ارشاد فرمایا جو پہلے انبیاء کی تعلیمات تھیں اور قرآن کریم نے وہی حقائق ارشاد فرمائے جو پہلے نازل ہوئے تھے رائی برابر غلطی لگی نہ اختلاف ہوا۔ اور اللہ تو یقیناً اپنے بندوں کے حال اور ان کی ضروریات سے واقف اور آگاہ ہے اور ہر شے اس کے روبرو ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طفیل ہم نے اپنے پسندیدہ اور منتخب بندوں کو اس کا وارث بنا دیا۔ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور قرآن پر ایمان وہی لاسکتا ہے جسے اللہ نے اس کام کے لیے چن لیا ہو۔ بحیثیت مخلوق اور پھر بحیثیت انسان ہی اس کے احسان بیحد و بیشمار تھے کہ مسلمان ہونے کی توفیق ارزاں فرما کر اس نے احسانات کی حد کردی اور علماء تفسیر کے نزدیک مسلمان کتنا بھی گناہگار ہو اگر ایمان ضائع نہ کرے اور مرتد ہو کر نہ مرے تو یقینا نجات پا لے گا خواہ کتنی مصیبت کے بعد ہی پائے مگر پا لے گا کہ اللہ کا پسندیدہ بندہ تو ہے۔ اتنے احسانات کے باوجود مسلمانوں میں ایسے ہیں جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں یعنی اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کا حال درمیانہ ہے کہ خطا بھی کرتے ہیں اور معذرت بھی۔ غلطی بھی کرتے ہیں اور نیکی بھی اور کچھ ایسے بندے ہیں جو اللہ کے حکم سے نیکی میں بہت آگے بڑھ جاتے ہیں اور یہ نیکی میں آگے بڑھنے کی توفیق ہونا اللہ کریم کی طرف سے بہت ہی بیشمار کرم کی بات ہے کہ یہ نیک اعمال بظارہر دشوار بھی ہوں تو نتیجے کے اعتبار سے قرب الہی اور اللہ کی رضامندی کی دلیل ہیں اور ایسے لوگ تو جنت عدن میں پہنچیں گے جہاں سونے کے کنگن اور جواہرات نیز جنت کی ریشم کا بنا ہوا لباس نصیب ہوگا یعنی ان کے بہت بڑے ٹھاٹھ باٹھ ہوں گے اور پھر ہمیشہ کے لیے بےفکر نہ تھکان نہ بیماری نہ کوئی دکھ یا تکلیف اور نہ کسی پریشانی کا کوئی خطرہ تو کہہ اٹھیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ فرما دیا بیشک ہمارا پروردگار بہت بڑی بخشش کا مالک بھی ہے اور بہت بڑا اجر دینے والا بھی۔ جس نے ہمیں ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ فرما دیا بیشک ہمارا پروردگار بہت بڑی بخشش کا مالک بھی ہے اور بہت بڑا اجر دینے والا بھی۔ جس نے ہمیں ایسے شاندار گھر میں ٹھہرایا ہے کہ جہاں نہ تو محنت و مشقت کی کوئی بات ہے نہ کسی طرح کی تھکن۔ انسان تو ایک طرح کے کھانے ایک جیسے لباس اور موسم تک سے تھک جاتا ہے جب کہ جنت کی نعمتوں کی لذت میں ہر آن اضافہ ہوتا رہے گا تو کسی بھی طرح کی تھکن کا سوال نہ رہا۔ مفسرین کرام کے مطابق گناہگاروں کو بھی سخت رنج و غم کے بعد نجات نصیب ہوجائے گی اور معتدل اور درمیان والوں کو آسان حساب کے بعد جبکہ مقربین کو انعام ہی انعام نصیب ہوگا تو یوں سب یہی کلمات کہیں گے اور سب جنت میں پہنچیں گے۔ انشاء اللہ۔ جن لوگوں نے کفر کی راہ اپنائی وہ جہنم میں تو جائیں گے یہ بھی سن لیں کہ وہاں انہیں کبھی موت بھی نہ آئے گی نہ کبھی داخلے کے بعد ان کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی ہمیشہ ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے اگرچہ وہ بھی چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں ایک بار اس سے نجات عطا فرما اور پھر سے دار عمل میں بھیج کہ ہم بھی تیری اطاعت کا حق ادا کرکے یہاں میدان حشر میں پھر سے آئیں تو ارشاد ہوگا کیا تمہیں عمر اور موقع دیا نہ گیا تھا۔ مکلف ہونے کے لیے عمر شرط ہے : کہ مکلف شرعی ہونے کے لیے بلوغت شرط ہے اور یہاں عمر سے مراد بلوغت کی حد ہے کہ انسان کی عقل کامل ہوجاتی ہے اور اپنے بھلے برے کو سمجھنے کی اہلیت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر عمر عقل اور شعور کے ساتھ تمہارے پاس نبی بھیجے جنہوں نے بروقت اس برے انجام کی خبر بھی دی سو جس نے مان لیا اور اپنی اصلاح کرلی درست اور تم نے نہیں کی تو اب بھگتو کہ ظالموں کو ہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں اور کوئی ان کی مدد بھی نہیں کرسکتا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ جدد ( جدۃ) ( راستے) بیض (سفید) حمر (سرخ) غرابیب (بےانتہا سیاہ) سود (سیاہ ، تاریک) دواب ( جانور) لن تبور ( ہرگز نقصان نہ ہوگا) شکور ( قدر دان ، قدر کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 :۔ گزشتہ آیات سے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اگر انسان کائنات میں بکھری ہوئی نعمتوں میں غور و فکر اور تدبر سے کام لے تو وہ اس خالق ومالک کو پہچان سکتا ہے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ آسمان سے جب بارش برستی ہے تو زمین میں ایک ترو تازگی پیدا ہوجاتی ہے، کھیت لہلہانے لگتے ہیں ، درختوں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے، سبزہ ، سبزی ، پھل اور طرح طرح کے میوے اگنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرف متوجہ فرما رہے ہیں کہ ایک ہی زمین اور ایک ہی آب و ہوا لیکن درخت اور پھل کس قدر الگ الگ ہیں کہ ان کی خوشبو اور رنگ جداگانہ ہیں ۔ اونچے اور بلند وبالا پہاڑوں کے سلسلہ پر غور کیا جائے کہ وہ اپنے اندر کتنے خزانوں کو چھپائے ہوئے ہیں ۔ پہاڑوں میں ایسے راستے بنا دیئے گئے ہیں جن سے مال و اسباب کا لانالیجانا اور آنا جانا کتنا آسان ہے۔ یہ پہاڑ ایسے پتھروں سے بنا دیئے گئے ہیں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں کوئی سفید ، کوئی سرخ ، کوئی گہرے رنگے کا اور کوئی ہلکے رنگ کا کوئی بالکل سیاہ پتھر ۔ فرمایا کہ ذرا اس پر تو غور کرو کہ اس نے چٹانوں اور طرح طرح کے پتھر کس خوبصورتی سے بنائے ہیں ۔ اگر کوئی ان چیزوں کو دیکھ کر بھی اس پر اللہ پر ایمان نہیں لاتا جس نے ان تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے تو اس کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا کہ صرف نباتات اور جمادات تک ہی اس کی قدرت محدد نہیں ہے بلکہ خود آدمی کے وجود کے اندر کتنی نشانیاں موجود ہیں مثلاً ایک ہی گھرانہ ، اس کا ماحول ایک جیسا ، ایک ہی ماں اور باپ لیکن اولادوں میں کس قدر مختلف ذہن و فکر والے بچے ہوتے ہیں جن کے خیالات ، جذبات اور انداز ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ اسی طرح چوپائے ، جانور ، کیڑے ، مکوڑے یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں لیکن کس قدر جدا جدا ہیں سب کی ضروریات اور حاجات مختلف ہیں ۔ فرمایا ان باتوں پر وہی غور و فکر کرتے ہیں جو علم و فکر رکھنے والے علماء ہیں ۔ یہ علماء کون ہیں ؟ فرمایا کہ غور و فکر اور تدبر کرنے والے علماء وہ ہیں جو اللہ کی کتاب کی آیات کی تلاوت کرتے ، نماز قائم کرتے اور اللہ نے ان کی جو کچھ دیا ہے اس کو علانیہ یا چھپ کر ہر طرح اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت پر یقین رکھتے ہیں جس میں گھاٹے اور نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا یعنی جو لوگ آخرت کی زندگی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں وہ اللہ سے ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں نفع ہی نفع ہے نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ۔ فرمایا کہ ان جیسے لوگوں کو ان کی محنت کا پورا پورا صلہ اور بدلہ ملے گا ۔ فرمایا کہ اگر نیک نیتی سے کئے جانے والے کاموں میں بھول چک ہوجائے تو اللہ ان کی خطاؤں کو ان کے نیک اعمال کے بدلے میں معاف فرما دے گا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : توحید کا انکار کرنے اور حق بات کو ٹھکرانے والوں کو غوروفکر کی دعوت۔ کیا توحید کا انکار اور حق بات کو ٹھکرانے والے اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح آسمان سے بارش برساتا ہے پھر اس کے ذریعے مختلف قسم کے پھل پیدا کرتا ہے جن کے رنگ آپس میں نہیں ملتے۔ اسی ذات نے پہاڑ پیدا کیے جن میں سفید، سرخ اور نہایت ہی کالے رنگ کے پہاڑ ہوتے ہیں۔ اسی ذات نے انسانوں، جانوروں اور چوپاؤں کے مختلف رنگ اور جسم بنائے جو اس کی قدرت کا پتہ دیتے ہیں۔ لوگوں میں وہی لوگ اپنے رب سے زیادہ ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کام پر غالب اور بخشنے والا ہے۔ سورۃ الرّعدکی آیت ٣، ٤ میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر پھل کے جوڑے پیدا کیے اور زمین کو مختلف قطعات میں تقسیم فرمایا ہے جو اپنے مزاج کے مطابق مختلف قسم کے پھل پیدا کرتی ہے۔ حالانکہ ان کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے لیکن انگور اور کھجور رنگ اور ذائقہ کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کسی قدر مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑ ہیں جو مختلف رنگ لیے ہوئے ہیں۔ بعض پتھر قیمت کے اعتبار سے اس قدربیش بہا ہیں کہ غریب آدمی ان کے حصول کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے رنگ اور مزاج کی طرف توجہ کریں تو انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ ایک ہی ماں باپ کی اولاد شکل و صورت، عادات اور خصائل کے اعتبار سے آپس میں مختلف ہوتے ہیں یہی صورت حال چوپایوں اور جانوروں میں پائی جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم مظاہر ہیں جن کا ادراک وہی لوگ کرپاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی علم سے سرفراز فرمایا ہو۔ حقیقی علم سے مراد وہ معرفت ہے جس کے سبب انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ ایسے شخص سے بتقاضأ بشریت کوتاہی سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمانے والا ہے۔ ان آیات میں لوگوں کے مزاج کی نشاندہی کی گئی ہے بارش اور نباتات کا ذکر فرما کر ثابت کیا ہے کہ بارش کا پانی تو ایک ہی ہوتا مگر اس کے ذریعے اگنے والی نباتات مختلف ہوتی ہیں۔ یہی معاملہ ہدایت کا ہے ہدایت تو ایک ہے مگر اس کے رد عمل مختلف ہوتے ہیں کچھ لوگ اس سے صراط مستقیم پاتے ہیں اور کچھ مزید گمراہ ہوجاتے ہیں۔ اس بات کو مزید سمجھنے کے لیے پہاڑوں پر غور فرمائیں کچھ سخت ہوتے اور کچھ نرم کچھ کالے ہوتے اور کچھ سفید جس طرح پہاڑوں کے رنگ مختلف اور ان میں نرم اور سخت ہوتے ہیں اسی طرح ہدایت کے مقابلے میں لوگوں کے مزاج اور ردّعمل مختلف ہوتے ہیں۔ البتہ جو لوگ حقیقی علم رکھتے ہیں وہ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ (عَنْ سُفْیَانَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِکَعْب مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ بِمَا یَعْلَمُون قالَ فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ ؟ قَال الطَّمَعُ )[ رواہ الدارمی : باب صِیَانَۃِ الْعِلْمِ ] ” حضرت سفیان (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت کعب احبار (رض) سے استفسار کیا کہ حقیقی عالم کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا وہ لوگ جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ کون سی چیز علماء کے دلوں سے علم کو نکال دے گی۔ کعب (رض) نے جواب دیا لالچ۔ “ تفسیر بالقرآن حقیقی علم کا تقاضا اور اس کے فضائل : ١۔ اس بات کا علم حاصل کریں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ (محمد : ١٩) ٢۔ کیا علم والا اور علم نہ رکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں۔ (الزمر : ٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ علم کی بنیاد پر لوگوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 203 ایک نظر میں یہ سبق اس کائنات کی کتاب اور اللہ کی کتاب کے ایک اقتباس پر مشتمل ہے۔ کتاب کائنات کا مطالعہ اور اس کے خوبصورت اور عجیب صحائف پر ایک نظر ہے جو مختلف اقسام اور مختلف موضوعات سے متعلق ہیں۔ جن کے پھل قسما قسم ہیں ، جس کے پہاڑ رنگا رنگ ہیں۔ جن کے انسان ، حیوان اور زمین پر چلنے والے جانور مختلف النوع اور مختلف الاشکال ہیں۔ اس خوبصورت کائنات کا یہ عجیب مطالعہ بہت ہی دلچسپ ہے اور پوری کائنات اس کا موضوع ہے۔ پھر اللہ کی کتاب منزل کا مطالعہ اور اس کے اندر جو تعلیمات ہیں اور جو سچائیاں ہیں اور جو اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتی ہے پھر امت مسلمہ کا سابقہ امتوں کا وارث بنایا جانا اور وارثوں کے درجے اور اہل ایمان کے لیے جو عفو و مغفرت اور انعامات تیار کیے گئے ہیں ۔ جنتوں کے مناظر اور جہنم کے مناظر اور کافروں کے حالات ، اور آخر میں یہ قرار داد کہ یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہوتا ہے درس نمبر 203 تشریح آیات 27 ۔۔۔ تا۔۔۔ 38 الم تر ان اللہ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ عزیز غفور (27 – 28) ” “ یہ اس کائنات کی ایک جھلک ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ کتاب اللہ کا سرچشمہ اور کتاب کائنات کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس جھلکی میں پوری زمین کو دکھا دیا گیا ہے اور پوری زمین کے رنگ ڈھنگ ظاہر کیے گئے ہیں۔ پھلوں کے رنگ و اقسام ، پہاڑوں کے رنگ اور ان کی انواع ، لوگوں کے رنگ اور شکلیں ، حیوانات اور مویشیوں کی اقسام و انواع ، چند الفاظ کے اندر پوری زمین کے خدوخال ضبط کر دئیے گئے ہیں جس میں زندہ اور غیر زندہ سب چیزوں کو لپیٹ لیا گیا ہے ۔ چند الفاظ کے اندر خداوند قدوس کی اس نمائش کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جو بہت ہی دلکش ہے اور یہ دلکشیاں پوری زمین پر پھیلی ہوئی ہیں۔ آغاز میں ہم دیکھتے ہیں کہ بارشیں ہو رہی ہیں۔ اور ان بارشوں کے نتیجے میں اس زمین پر رنگا رنگ پھل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں چونکہ مختلف رنگوں کی نمائش مقصود ہے اس لیے پھلوں کے ذکر کے بجائے ان کے رنگ دکھائے جاتے ہیں۔ فاخرجنا بہ ثمرت مختلفا الوانھا (35: 27) ” اور پھر اس کے ذریعے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں “۔ پھلوں کے رنگ بھی درحقیقت ایک عظیم نمائش گاہ ہے اور اس میں رنگوں کی جو اسکیم ہے ، اس کا کوئی حصہ ، دنیا کے تمام نقاش مل کر بھی تیار نہیں کرسکتے۔ ایک قسم کے پھلوں کا رنگ دوسری اقسام سے مختلف ہے۔ بلکہ ایک قسم کے پھلوں میں بھی مختلف رنگ ہیں اور ایک قسم کا رنگ دوسروں سے مختلف ہے۔ اور ہر دانے کا رنگ بھی دوسروں سے مختلف ہے۔ اور پھلوں کے رنگ کے بعد پھر پہاڑوں کے رنگ ، اور پھلوں کے رنگوں اور پہاڑوں کے رنگوں کے درمیان بظاہر کوئی ربط نظر نہیں آتا لیکن اگر حقیقی مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو ایک قدرتی ربط موجود ہے۔ پہاڑوں کے رنگوں اور پھلوں کے رنگوں کے درمیان ایک قسم کا ربط موجود ہے۔ بلکہ پتھروں اور پہاڑوں کے رنگ بھی بعض اوقات پھلوں کے رنگوں جیسے ہوتے ہیں۔ ومن الجبال جدد۔۔۔۔۔ وغرابیب سود (35: 27) ” پہاڑوں میں سفید ، سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں “۔ جدد کے معنی راستے اور شاخیں ہیں یعنی دھاریاں۔ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ ” جدد بیض “ کا رنگ بھی مختلف ہے اسی طرح ” جدد حمر “ کا رنگ بھی مختلف ہے۔ یعنی ہر قسم یعنی سفید و سرخ کا رنگ بھی مختلف ہے اور بعض دھاریاں شدید درجے کی سیاہ ہیں۔ یہاں اس بات کی طرف توجہ دی جاتی ہے کہ ایک رنگ کے پتھر مثلاً سرخ وسفید پھر آپس میں مختلف ہیں۔ پہاڑوں اور پتھروں کے یہ مختلف رنگ ، پھلوں کے مختلف رنگوں کے بعد ذکر ہوئے۔ اس سے انسان کے دل میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور ذوق جمال تیز ہوجاتا ہے۔ یوں یہاں جمال اور خوبصورتی کو بھی تجریدی آرٹ کی شکل میں پیش کیا گیا جو بیک وقت پتھروں میں بھی ذوق نظر کے لیے دامن کش ہے اور پھلوں میں بھی ذوق نظر کو کھینچتا ہے جبکہ پھلوں میں اور پتھروں میں بظاہر کوئی نسبت نہیں ہے۔ لیکن تجریدی ذوق جمال ہر جگہ خوبصورتی کو دیکھ لیتا ہے اور قرآن کی یہ خصوصیت قابل التفات ہے۔ پھر لوگوں کے رنگ ؟ یہ انسانوں کے عام رنگوں تک محدود نہیں ، بلکہ ایک رنگ کے مختلف لوگوں کے رنگ اور ہر ایک کی بناوٹ کے درمیان فرق ہے بلکہ دو لوام بھائی بھی رنگ میں مختلف ہوتے ہیں۔ انسانوں سے آگے پھر پرندوں ، چرندوں اور درندوں کے رنگ ، دابہ ہر حیوان کو کہا جاتا ہے جو زمین پر چلتا ہے۔ انعام اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکریوں کے لیے آتا ہے۔ دواب کے لفظ کے بعد انعام کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ انسان ان سے زیادہ مانوس ہے۔ ان کے رنگوں کی اسکیم بھی پھلوں اور پتھروں کی طرح حیران کن ہے۔ اس کائنات کے رنگوں کا یہ البم عجیب و غریب ہے۔ قرآن کریم اس کی ورق گردانی کرتا ہے اور انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ چشم بینا کے ساتھ رنگوں کی اس کائناتی اسکیم پر غور کرے۔ صرف اہل علم اور اہل ذوق ہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اہل علم ہی حکمت اور قدرت خداوندی کو پاکر اللہ کی عظمت کا خیال کرکے اس سے ڈرسکتے ہیں۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا (35: 28) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں “۔ کتاب کائنات کے جو اوراق قرآن مجید نے الٹے ہیں وہ اس کے بہت کم اوراق ہیں اور علماء دراصل اس کائنات پر غور کرتے رہتے ہیں ۔ اس لیے علماء ہی دراصل اللہ کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی صفتوں کے آثار سے زیادہ واقف ہوتے ہیں اور اللہ کی معرفت کا ادراک اس کی قدرت کے آثار سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ اللہ کی تخلیق کے عجائبات کو دیکھ کر اس کی عظمت کا شعور رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ سے صحیح معنوں میں ڈرتے ہیں۔ وہ اس کی حقیقی بندگی اس کے خوف کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اللہ کے بارے میں ان علمائے کائنات کا شعور مہمل اور پیچیدہ شعور نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے بارے میں ان کو گہری معرفت حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے یہ صفحات اللہ کی کتاب کا نمونہ ہیں جبکہ رنگ اور دوسرے کائناتی عجائبات اس کائنات کا نمونہ ہیں اور ان کی حقیقت دراصل علمائے کائنات ہی مانتے ہیں ۔ وہ لوگ جو حقیقی علم کتاب رکھتے ہیں اور جو حقیقی تکوینی علم بھی رکھتے ہیں۔ جو اللہ کی معرفت براہ راست رکھتے ہیں۔ ایسا علم جو ان کے دل کا شعور ہو اور جس کے ذریعہ ان کا دل متحرک ہو۔ جس کے ذریعہ وہ اس کائنات کے خوبصورت رنگوں کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ، اور ان سے خوشی حاصل کرسکتے ہیں اور اللہ کی قدرت کاملہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس کائنات کی تشکیل و تخلیق میں حسن و جمال کا عنصر اصل مقصود ہے اور اس حسن کا کمال یہ ہے کہ ہر چیز اپنے فرائض منصبی اپنے طبیعی جمال اور حسن کے واسطے سے ادا کرتی ہے۔ یہ پھول اپنے حسن و جمال اور اپنی نہایت ہی اچھی خوشبو کی وجہ سے شہد کی مکھیوں اور پروانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مکھیوں اور پروانوں کی ڈیوٹی پھولوں کے حوالے سے یہ ہے کہ یہ مادہ اور نر پھولوں کے درمیان ملاپ کرائیں تاکہ پودوں کے ساتھ پھل لگیں۔ یوں یہ پھول اپنی خوبصورتی اور حسن و جمال کے ذریعے یہ کام کرواتے ہیں۔ مادہ اور نر کے درمیان حسن و جمال ایک دوسرے کے لیے باعث کشش ہوتا ہے اور اس طرح دو صنفیں اپنا اپنا فریضہ منصبی اور طبیعی ادا کرتے ہیں۔ یوں تمام اشیاء فریضہ طبیعی حسن و جمال کے ذریعے سر انجام دیتی ہیں۔ پس جمال اس کائنات کی اسکیم میں مقصود بالذات ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتاب کائنات کے حسن و جمال کے اظہار کیلئے کتاب الٰہی جابجا انسانی نظر کیلئے دامن کش ہے۔ ان اللہ عزیز غفور (35: 28) ” بیشک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ زبردست ہے جس نے یہ اشیاء پیدا کیں اور وہ جزاء و سزا بھی دے سکتا ہے۔ وہ غفور ہے اور جو لوگ اس کی اطاعت اور خوف و خشیت میں تقصیر کرتے ہیں وہ ان کو معاف کرتا ہے۔ نیز جو لوگ اللہ کی صنعت کے عجائبات میں غور نہیں کرتے وہ ان کو بھی معاف کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بارش کے منافع، نیک بندوں کی صفات اور ان کا اجر و ثواب یہ متعدد آیات ہیں، پہلی دو آیتوں میں بعض علوی اور بعض سفلی انعامات کا تذکرہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ شانہٗ کی قدرت قاہرہ پر دلالت کرتے ہیں۔ اول تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا، اس پانی کے جہاں بہت سے فائدے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے درخت نکال دئیے، پھر ان درختوں پر پھل لگا دئیے، ان پھلوں کے اقسام بھی بہت ہیں اور الوان یعنی رنگ بھی، مزے بھی مختلف ہیں اور ہر قسم میں مختلف قسمیں ہیں۔ اور دوسری بات یہ بتائی کہ پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں، ان کے رنگ بھی مختلف ہیں بعض سفید ہیں اور بعض بالکل سیاہ ہیں پہاڑوں سے بنی آدم کو مختلف قسم کے منافع حاصل ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے (جُدَدٌ) کی تفسیر معلوم کی گئی تو فرمایا کہ اس سے پہاڑوں کے راستے مراد ہیں، بنی آدم پہاڑوں پر چڑھتے ہیں، ان کے راستوں میں سفر کرتے ہیں، منافع حاصل کرتے ہیں۔ غرابیب جمع ہے غربیب کی، جو بہت زیادہ سیاہ ہو عربی میں اسے (غِرْبِیْب) کہا جاتا ہے، اور (سُوْدٌ) (اَسْوَدُ ) کی جمع ہے جو سیاہ کے معنی میں آتا ہے، دونوں لفظوں کو ملا کر مبالغہ کا معنی پیدا ہوجاتا ہے، اسی لیے اوپر گہرے سیاہ رنگ والے کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ (قال صاحب الرُّوح وکثر فی کلامھم اتباع للاسود علی انہ صفۃ لہ اوتاکید لفظی فقالا اسود غربیب کما قالوا بیض یفق واصفر فاقع واحمرقانٍ ) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں عرب کے کلام میں الاسود کے ساتھ غربیب کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے اس طرح کہ غربیب اسود کی صفت بنتا ہے یا تاکید لفظی چناچہ کہتے ہیں اسود غربیب جیسا کہ کہا جاتا ہے ” بیض یفق “ بہت ہی سفید اور ” اصفر فاقع “ زرد خالص اور ” احمرقان “ بہت ہی سرخ۔ ) بارش اور پھلوں اور پہاڑوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ انسانوں میں اور چوپایوں میں اور جانوروں میں بھی مختلف اقسام کی چیزیں ہیں، ان کی اقسام بھی مختلف ہیں اور انواع بھی اور رنگتیں بھی، اس سب میں اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا مظاہرہ بھی ہے اور انسانوں پر انعامات بھی ہیں، انسان جانوروں سے اور جانور انسانوں سے مستفید اور متمتع ہوتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ الم تر ان اللہ الخ : یہ توحید پر نویں عقلی دلیل ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی نشانیاں ہیں کہ وہ آسمان سے مینہ برسا کر زمین سے رنگا رنگ پھل اور میوے پیدا فرماتا ہے۔ ایک ہی پہاڑ میں مختلف رنگوں کے پتھر اس نے محض اپنی قدرت سے پیدا کیے کوئی سفید، کوئی سرخ اور کوئی نہایت ہی سیاہ۔ جدد، جدۃ کی جمع ہے یعنی ٹکڑا اور خط۔ غرابیب، غربیب کی جمع ہے۔ سخت سیاہ یہ اکثر اسود کا تابع واقع ہوتا ہے اس لیے کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں تھا۔ سود غرابیب (کالے سیاہ) ، فی الکلام تقدیم و تاخیر والمعنی و من الجبال سود غرابیب (قرطبی ج 14 ص 343) ۔ ومن الناس الخ : اسی طرح انسانوں چوپایوں اور مویشیوں کو بھی مختلف رنگوں میں پیدا کیا۔ یہ اس کے کمال قدرت و صنعت اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی کو غائبانہ پکارو۔ تقریر بوحدانیتہ تعالیٰ بادلۃ سماویۃ وارضیۃ الخ (روح ج 22 ص 188 وبحر جل د 7 ص 311)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) اے مخاطب کیا تو نے یہ بات نہیں دیکھی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا پھر اس پانی سے ہم نے گوناگوں اور مختلف رنگ کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے بھی مختلف حصے اور ٹکڑے ہیں کچھ سفید اور کچھ سرخ پھر یہ سفید و سرخ رنگ آپس میں مختلف اور اترتے چڑھتے رنگ ہیں اور بعض بجائے سفید و سرخ کے گہرے سیاہ ہیں۔