Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 4

سورة فاطر

وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۴﴾

And if they deny you, [O Muhammad] - already were messengers denied before you. And to Allah are returned [all] matters.

اور اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی جھٹلائے جا چکے ہیں ۔ تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جا تےہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Consolation in the fact that the previous Messengers were denied, and a reminder of the Resurrection Allah says: وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ ... And if they deny you, so were Messengers denied before you. Allah says: `Even if these idolators who associate others with Allah disbelieve in you, O Muhammad, and go against the Message of Tawhid that you have brought, you have an example in the Messengers who came before you.' They also brought a clear Message to their people and told them to worship Allah alone, but their people denied them and went against them. ... وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الامُورُ And to Allah return all matters (for decision). means, `We will requite them for that in full.' Then Allah says:

مایوسی کی ممانعت ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ کے زمانے کے کفار آپ کی مخالفت کریں اور آپ کی بتائی ہوئی توحید اور خود آپ کی سچی رسالت کو جھٹلائیں ۔ تو آپ شکستہ دل نہ ہو جایا کریں ۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ۔ سب کاموں کا مرجمع اللہ کی طرف ہے ۔ وہ سب کو ان کے تمام کاموں کے بدلا دے گا اور سزا جزا سب کچھ ہو گی ، لوگو قیامت کا دن حق ہے وہ یقیناً آنے والا ہے وہ وعدہ اٹل ہے ۔ وہاں کی نعمتوں کے بدلے یہاں کے فانی عیش پر الجھ نہ جاؤ ۔ دنیا کی ظاہری عیش کہیں تمہیں وہاں کی حقیقی خوشی سے محروم نہ کر دے ۔ اسی طرح شیطان مکار سے بھی ہوشیار رہنا ۔ اس کے چلتے پھرتے جادو میں نہ پھنس جانا ۔ اس کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اللہ رسول کے حق کلام کو نہ چھوڑ بیٹھنا ۔ سورہ لقمان کے آخر میں بھی یہی فرمایا ہے ۔ پس غرور یعنی دھوکے باز یہاں شیطان کو کہا گیا ہے ۔ جب مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان قیامت کے دن دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں دروازہ ہو گا ۔ جس کے اندرونی حصے میں رحمت ہو گی اور ظاہری حصے میں عذاب ہو گا اس وقت منافقین مومنین سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہ تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ساتھ تو تھے لیکن تم نے تو اپنے تئیں فتنے میں ڈال دیا تھا اور سوچتے ہی رہے شک شبہ دور ہی نہ کیا خواہشوں کو پورا کرنے میں ڈوبے رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور دھوکے باز شیطان نے تمہیں بہلا وے میں ہی رکھا ۔ اس آیت میں بھی شیطان کو غرور کہا گیا ہے ، پھر شیطانی دشمنی کو بیان کیا کہ وہ تو تمہیں مطلع کر کے تمہاری دشمنی اور بربادی کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے ۔ پھر تم کیوں اس کی باتوں میں آجاتے ہو؟ اور اس کے دھوکے میں پھنس جاتے ہو؟ اس کی اور اس کی فوج کی تو عین تمنا ہے کہ وہ تمہیں بھی اپنے ساتھ گھسیٹ کر جہنم میں لے جائے ۔ اللہ تعالیٰ قوی و عزیز سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں شیطان کا دشمن ہی رکھے اور اس کے مکر سے ہمیں محفوظ رکھے اور اپنی کتاب اور اپنے نبی کی سنتوں کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور دعاؤں کا قبول فرمانے والا ہے ۔ جسطرح اس آیت میں شیطان کی دشمنی کا بیان کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سورہ کہف کی آیت ( وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ ۭ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا 50؀ ) 18- الكهف:50 ) میں بھی اس کی دشمنی کا ذکر ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلا کر کہاں جائیں گے ؟ بالآخر تمام معاملات کا فیصلہ تو ہمیں نے کرنا ہے، اس لئے اگر یہ باز نہ آئے، تو ان کو بھی ہلاک کرنا ہمارے لئے مشکل نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٧] یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اکثر مکی سورتوں میں آیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ تیرا سالہ مکی دور میں کفار مکہ ڈٹ کر آپ کی مخالفت کرتے رہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے اوچھے سے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے۔ ایذائیں بھی پہنچائیں، تکذیب بھی کرتے رہے۔ تمسخر بھی اڑاتے رہے۔ جبکہ مسلمانوں کو صرف یہ حکم تھا کہ یہ سب باتیں صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کرتے جائیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار پیغمبراسلام اور مسلمانوں کی تسلی اور حوصلہ افزائی کے لئے ایسے جملے نازل کرتا رہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ حق و باطل کی کشمکش میں پہلے بھی رسولوں سے ایسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے اور کسی بھی بات کا فیصلہ اور انجام ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ سب کاموں کا انجام اور فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا اطمینان رکھئے اور اللہ پر توکل کیجئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ ۭ : توحید کے بعد رسالت کا ذکر ہے۔ ” وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ “ میں واؤ عطف دلیل ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے، جس کا مفہوم یہ ہے : ” فَإِنْ یُصَدِّقُوْکَ فَقَدْ فَازُوْا لِأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا “ یعنی اگر یہ آپ کی تصدیق کریں تو یہ کامیاب ہیں، کیونکہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ ‘ : شرط ہے، اس کی جزا محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے : ” وَإِنْ یُکَذِّبُوْکَ فَتَأَسَّ بالرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ “ یعنی اگر یہ آپ کو جھٹلا دیں تو آپ اپنے سے پہلے رسولوں کے حالات سے تسلی حاصل کریں، کیونکہ آپ سے پہلے کئی رسول جھٹلائے گئے اور انھوں نے قوم کے جھٹلانے پر صبر کیا۔ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے اور جھٹلانے والوں کے لیے وعید کہ رسولوں کو پہلے جھٹلانے والے لوگوں کی طرح یہ لوگ بھی برباد ہوں گے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر پہلے رسولوں کا حوالہ دے کر آپ کو تسلی دی گئی، جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34؀) [ الأنعام : ٣٤ ] ” اور بلاشبہ یقیناً تجھ سے پہلے کئی رسول جھٹلائے گئے تو انھوں نے اس پر صبر کیا کہ وہ جھٹلائے گئے اور ایذا دیے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور کوئی اللہ کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور بلاشبہ یقیناً تیرے پاس ان رسولوں کی کچھ خبریں آئی ہیں۔ “ اور دیکھیے سورة حٰم السجدہ (٤٣) ۔ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْر : یعنی یہ لوگ آپ کو جھٹلا کر آخر کہاں جائیں گے، تمام معاملات آخر پیش تو ہمارے سامنے ہی ہوں گے اور ہم نے ہی ان کا فیصلہ کرنا ہے۔ توحید و رسالت کے ساتھ آخرت کا ذکر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر یہ لوگ (دوبارہ توحید و رسالت وغیرہ) آپ کو جھٹلائیں تو (آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں (ایک تو اس سے تسلی حاصل کیجئے) اور (دوسری بات یہ کہ) سب امور اللہ ہی کے روبرو پیش کئے جاویں گے (وہ خود سب سے سمجھ لے گا آپ کیوں فکر میں پڑے۔ آگے عام لوگوں کو خطاب ہے کہ) اے لوگو (الی اللہ ترجع الامور) جس میں قیامت کی خبر ہے اس کو سن کر تعجب واستبعاد مت کرنا) اللہ تعالیٰ کا (یہ) وعدہ ضرور سچا ہے، سو ایسا نہ ہو کہ یہ (دنیوی زندگی تم کو دھوکہ میں ڈالے رکھے (کہ اس میں منہمک ہو کر اس یوم موعود سے غافل (ہو) اور ایسا نہ ہو کہ تم کو دھوکہ باز شیطان اللہ سے دھوکہ میں ڈال دے (کہ تم اس کے اس بہکانے میں نہ آجاؤ کہ اللہ تعالیٰ تم کو عذاب نہ دے گا جیسا کہ کہا کرتے تھے (آیت) ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنے اور) یہ شیطان (جس کے دھوکہ کا اوپر ذکر ہے) بیشک تمہارا دشمن ہے سو تم اس کو (اپنا) دشمن (ہی) سمجھتے رہو وہ تو اپنے گروہ کو (یعنی اپنے متعبین کو) محض اس لئے (باطل کی طرف) بلاتا ہے تاکہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہوجاویں (پس) جو لوگ کافر ہوگئے (اور اس کی دعوت و غرور میں پھنس گئے) ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے (اور اس کی دعوت و غرور میں نہیں پھنسے) ان کے لئے (معاصی کی) بخشش اور (ایمان و عمل صالح پر) بڑا اجر ہے (اور جب کافر کا انجام شدید اور مؤمن کا انجام مغفرت و اجر کبیر ہے) تو کیا (دونوں مساوی ہو سکتے ہیں یعنی) ایسا شخص جس کو اس کا عمل بد اچھا کر کے دکھلایا گیا، پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا (اور ایسا شخص جو برے کو برا سمجھتا ہے کہیں برابر ہو سکتے ہیں ؟ پہلے شخص سے مراد کافر ہے جو اغواء شیطان سے باطل کو حق اور مضر کو نافع سمجھتا ہے اور دوسرے شخص سے مراد مومن ہے جو اتباع انبیاء و مخالفت شیطان سے باطل کو باطل حق کو حق ضار کو ضار، نافع کو نافع جانتا ہے۔ یعنی دونوں برابر کہاں ہوئے بلکہ ایک جہنمی اور دوسرا جنتی ہے۔ پس شیطان کے دھوکہ میں آنے والے اور اس کو دشمن سمجھنے والوں میں یہ تفاوت ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں لا یغرنکم اور ان الشیطن لکم عدو اور اگر اس پر تعجب ہو کہ عاقل آدمی بد کو نیک کیسے سمجھ لیتا ہے سو (اس کی وجہ یہ ہی کہ) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے (اس کی عقل الٹی ہوجاتی) اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے (اس کا ادراک صحیح رہتا ہے، پھر جب ہدایت و ضلال کا اصل مدار مشیت ہے تو ان پر افسوس کر کے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے (یعنی کچھ افسوس نہ کیجئے صبر سے بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کے کاموں کی خبر ہے ( وقت پر ان سے سمجھ لے گا۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ۝ ٠ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۝ ٤ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله» وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها «2» ، وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر «5» ، مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حیھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اگر قریش آپ کو جھٹلائیں تو آپ کی قوم سے پہلے بھی دوسری قوموں نے جھٹلایا تھا اور بالآخر تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ { وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ } ” اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں ( علیہ السلام) کو جھٹلایا گیا ہے۔ “ { وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ } ” اور (بالآخر) تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 "If they ...liar": `If they do not believe that there is no one worthy of worship but Allah, and accuse you of having made a false claim to Prophethood." 9 That is, "It is not for the people to give the verdict that whomsoever they call a liar should in actual fact become a liar. The judgement rests with Allah. He shall in the end decide who was the liar, and shall bring the real liars to their evil end."

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :8 یعنی تمہاری اس بات کو نہیں مانتے کہ اللہ کے سوا عبادت کا مستحق کوئی نہیں ہے ، اور تم پر یہ الزام رکھتے ہیں کہ تم نبوت کا ایک جھوٹا دعویٰ لے کر کھڑے ہو گئے ہو ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :9 یعنی فیصلہ لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ جسے وہ جھوٹا کہہ دیں وہ حقیقت میں جھوٹا ہو جائے فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ آخر کار بتا دے گا کہ جھوٹا کون تھا اور جو حقیقت میں جھوٹے ہیں انہیں ان کا انجام بھی دکھا دے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:4) ترجع۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب، وہ پھیری جاتی ہے وہ لوٹائی جاتی ہے رجع (باب ضرب) سے مصدر۔ فعل متعدی۔ فعل لازم کا مصدر رجوع ہے۔ الی اللہ ترجع الامور۔ آخر کار تمام امور کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یہ اس لئے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے انبیا ( علیہ السلام) کو اسوہ بنائیں اور اپنے زمانہ کے کافروں کی تکذیب سے کبیدہ خاطر نہ ہوں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید کی وجہ سے ہی لوگوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور توحید کی وجہ سے ہی مشرکین مکہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا ہونے کا الزام دیا۔ اعلان توحید سے پہلے اہل مکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” الصّادق “ اور ” الامین “ القاب کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے۔ لیکن جونہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توحید کی دعوت کا آغاز فرمایا تو وہ لوگ نہ صرف آپ کے مخالف ہوئے بلکہ انہوں نے آپ کو جھوٹا قرار دیا۔ جس پر آپ کا رنجیدہ ہونا فطری بات تھی۔ حقیقت بتلانے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا لہٰذا گھبرانے اور افسردہ خاطرہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہر کسی نے لوٹ کر اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ ان الفاظ میں آخرت کا عقیدہ سمجھاتے ہوئے ایک انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ دنیا میں جو چاہو کرلو بالآخر تم نے ہمارے حضور حاضر ہونا ہے۔ سورۃ الانعام آیت ٣٣ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح تسلی دی گئی کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی ہرزہ سرائی آپ کو پریشان کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظالم آپ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ سورة الانعام آیت ٣٤ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتلا کر تسلی دی گئی کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے لیکن انہوں نے اس تکذیب پر صبر کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آپہنچی۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے رب کے ارشادات تبدیل نہیں ہوا کرتے یقیناً آپ کے پاس پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے حالات پہنچ چکے ہیں۔ (عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ إِنِّی لَقَاءِمٌ بِسُوْقِ الْمَجَازِ إِذْ اأقْبَلَ رَجُلٌ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ لَہٗ وَہُوَ یَقُوْلُ یٰاَ یُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا، وَرَجُلٌ یَتْبَعُہٗ یَرْمِیْہِ بالْحِجَارَۃِ یَقُوْلُ یٰاَ یُّہَا النَّاسُ إِنَّہٗ کَذَّابٌ فَلَا تُصَدِّقُوْہٗ ، فَقُلْتُ مَنْ ہٰذَا ؟ قَالَ ہٰذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِیْ ہَاشِمٍ الَّذِیْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ، قَالَ فَقُلْتُ مَنْ ہٰذَا الَّذِیْ یَفْعَلُ بِہٖ ہٰذَا ؟ قَالَ ہٰذَا عَمُّہٗ عَبْدُ الْعُزّٰی )[ رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ : باب قدوم طارق بن عبداللہ وأ صحابہ علی النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وقول المرأۃ التی کانت معہم فی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” طارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے مجاز نامی بازار میں کھڑا تھا جب ایک آدمی بازار میں داخل ہوا اور وہ جبّہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ کہہ رہا تھا اے لوگو ! اس بات کا اقرار کرلو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ فلاح پا جاؤ گے۔ دوسرا آدمی اس کے پیچھے پیچھے اسے پتھر مار رہا تھا اور کہہ رہا تھا لوگو ! اس جھوٹے کی بات کو نہ مانوں میں نے پوچھا یہ کون ؟ ہے اس نے کہا یہ بنی ہاشم کا ایک فرد ہے جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتا ہے میں نے کہا جو اس کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے وہ کون ہے ؟ اس نے کہا یہ اس کا چچا عبدالعزیّٰ ہے۔ (ابو لہب) “ مسائل ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان سے پہلے انبیاء کو جھٹلایا گیا۔ ٢۔ بالآخر ہر کام کا انجام اللہ کے ہاں پیش ہوتا ہے تفسیر بالقرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں کا سلوک : ١۔ اگر انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے۔ (آل عمران : ١٨٤) ٢۔ آپ کو اگر انہوں نے جھٹلادیا ہے آپ فرما دیں میرے لیے میرے عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ (یونس : ٤١) ٣۔ اگر انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام : ١٤٧) ٤۔ اگر انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو جھٹلائے گئے ان سے پہلے حضرت نوح اور دوسرے انبیاء۔ (الحج : ٤٢) ٥۔ جو لوگ جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ : ٣٩) ٦۔ قوم نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ (العنکبوت : ٣٧) ٧۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گذرتے تھے تو وہ ان سے مذاق کرتے۔ (ہود : ٣٨) ٨۔ یہ لوگ آپ سے مذاق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (التوبۃ : ٧٩) ٩۔ جب وہ ہماری نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصّٰفٰت : ١٤) ١٠۔ جب بھی ان کے پاس رسول آیا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ (الحجر : ١١) ١١۔ جب بھی ان کے پاس آپ سے پہلے رسول آئے تو انہوں نے انہیں جادو گر اور مجنوں قرار دیا۔ (الذّاریات : ٥٢) ١٢۔ لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جب بھی رسول آئے تو انہوں نے ان کے ساتھ استہزاء کیا۔ (یٰس : ٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 200 ایک نظر میں پہلا سبق کائنات کے نہایت ہی بنیادی تین حقائق پر تھا ۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کا خالق اور موجد اللہ وحدہ ہے ۔ رحمت کا حزانہ اسی کے پاس ہے اور رازق بھی وہی وحدہ ہے ۔ اس دوسرے سبق میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ان لوگوں کی تکذیب اور انکار سے پر یشان نہ ہوں ۔ ان کا اور ان کے ردعمل کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں اور لوگوں سے زوردار اور بلند آواز کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اللہ کا وعدۂ قیامت بر حق ہے اور شیطان سے خبردار رہیں کیو ن کہ اس کا مشن ہی یہ ہے کہ تمہیں ان عظیم حقائق سے بدراہ کرے۔ تمام لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ جو ایمان لائیں گے ان کا صلہ کیا ہوگا اور جو شیطان کے دھوکے میں آجائیں گے ان کا انجام کیا ہوگا۔ آخر میں دوبارہ حضور اکرم ؐ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو پریشان کرکے اپنی جان نہ کھلائیں ۔ ہدایت وضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ لوگوں کی صنعت کا ریوں کے بدلے ان کو ملتی ہو اور اللہ ان کے کارناموں سے واقف ہے ۔ درس نمبر 200 تشریح آیات 4 ۔۔۔ تا۔۔۔ 8 وان یکذبول ۔۔۔۔۔۔ ترجع الامور (4) “۔ یہ عظیم حقائق بالکل واضح ہیں ۔ اگر پھر بھی یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں تو آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ کیا آپ سے پہلے رسول نہیں آتے رہے ۔ فقد کذبت رسل من قبلک (35: 4) ” تم سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں “۔ تمام امور اللہ کے لیے ہیں اور تمام معاملات کے فیصلے اللہ کی طرف جاتے ہیں۔ تبلیغ وتکذیب تو ایک روٹین کام ہے ۔ یہ اللہ نے اسباب مقرر کیے ہیں ۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور انجام کی تدبیر وہ جس طرح چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ لوگوں کو دوسری آواز یہ دی جاتی ہے کہ خبر دار !

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد توحید اور رسالت کے منکرین سے خطاب فرمایا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے کہ قیامت قائم ہوگی اور ایمان اور کفر کا بدلہ دیا جائے گا یہ وعدہ حق ہے اور پورا ہو کر رہے گا، تمہیں دنیا والی زندگی دھوکہ میں نہ ڈالے (جس کا ہرا بھرا ہونا تمہیں اپنی طرف کھینچتا ہے اور آخرت کے ماننے سے اور آخرت میں نفع دینے والے کاموں سے روکتا ہے) ایک طرف تو دنیا کی سرسبزی ہے دوسری طرف شیطان تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے چوکنے اور ہوشیار رہو، وہ تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو، وہ تمہیں دھوکہ نہ دے، اس کے دھوکہ دینے کے جتنے طریقے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دھوکہ دیتا ہے اور یہ سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے، ابھی تو بہت بڑی زندگی پڑی ہے رنگ رلیوں میں رہو اور بدمستیاں کرو، آخر میں توبہ کرلینا، حالانکہ بندہ کو یہ معلوم نہیں کہ کتنی زندگی باقی ہے، موت اچانک آجاتی ہے اور بغیر ایمان کے اور بغیر توبہ کے مرجاتے ہیں، شیطان دشمن ہے اگر ہم نے اس کی بات مانی تو وہ پٹک دے گا، دشمن کو دشمن ہی سمجھتے رہیں، وہ ہر وقت دشمنی میں لگا ہوا ہے، اپنی جماعت کو دوزخ ہی کی طرف بلاتا ہے اور اپنا بناتا ہے لہٰذا انسانوں کو بہت ہی بیدار مغزی کے ساتھ زندگی گزارنا لازم ہے۔ اس کے بعد اہل کفر کا عذاب اور اہل ایمان کا ثواب بیان فرمایا، ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ میں مشغول ہوئے ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ ان یکذبوک الخ : یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلیہ ہے۔ اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں اور ضد وعناد میں آکر نہیں مانتے تو آپ اس سے دل گیر نہ ہوں۔ اس سے آپ کی سچائی میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اس دور کے مشرکین نے بھی یہی سلوک کیا تھا۔ اس لیے آپ ان کی تکذیب کی پرواہ نہ کریں اور اپنا فریضہ تبلیغ ادا کیے جائیں۔ اور ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اور یہ دین حق کے منکر آپ کی تکذیب کریں اور آپ کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں تو آپ سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب کی جا چکی ہے اور آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں اور سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پھیرے جائیں گے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے ساتھ منکروں کا ہمیشہ سے یہی شیوہ چلا آتا ہے جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بھی اپنے اپنے رسولوں کو جھوٹا بتاتے تھے اسی طرح یہ کفار قریش آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اس سے آپ کو گھبرانا نہیں چاہیئے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کاموں کی بازگشت ہے۔ جہاں رسولوں کو ان کی مظلومیت کا صلہ ملے گا اور ظالموں کو تکذیب کی جزا دی جائے گی۔ آیت کا آخری حصہ وعد اور وعید دونوں کو شامل ہے۔