Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 41

سورة فاطر

اِنَّ اللّٰہَ یُمۡسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ ۚ وَ لَئِنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَکَہُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۱﴾

Indeed, Allah holds the heavens and the earth, lest they cease. And if they should cease, no one could hold them [in place] after Him. Indeed, He is Forbearing and Forgiving.

یقینی بات ہے کہ اللہ تعالٰی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں اور اگر وہ ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا وہ حلیم غفور ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ أَن تَزُولاَ ... Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they should move away from their places, means, lest they should shift from where they are. This is like the Ayat: وَيُمْسِكُ السَّمَأءَ أَن تَقَعَ عَلَى الاٌّرْضِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ He withholds the heaven from falling on the earth except by His leave. (22:65) and, وَمِنْ ءَايَـتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَأءُ وَالاٌّرْضُ بِأَمْرِهِ And among His signs is that the heaven and the earth stand by His command. (30:25) ... وَلَيِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ... and if they were to move away from their places, there is not one that could grasp them after Him. means, no one can make them stay and preserve them except Him. He is Ever Most Forbearing and Oft-Forgiving because He sees His servants disbelieving in Him and disobeying Him, yet He is patient and gives them time, He waits and does not hasten the punishment, and He conceals the faults of others and forgives them. He says: ... إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا Truly, He is Ever Most Forbearing, Oft-Forgiving.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت وصنعت کا بیان ہے بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ان کے شرک اقتضاء ہے کہ آسمان و زمین اپنی حالت پر برقرار نہ رہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں جیسے آیت تکاد السموات۔۔ مریم) کا مفہوم ہے۔ 41۔ 2 یعنی یہ اللہ کے کمال قدرت کے ساتھ اس کی کمال مہربانی بھی ہے کہ وہ آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں اپنی جگہ سے ہلنے اور ڈولنے نہیں دیتا ہے ورنہ پلک جھپکتے میں دنیا کا نظام تباہ ہوجائے کیونکہ اگر وہ انہیں تھامے نہ رکھے اور انہیں اپنی جگہ سے پھیر دے تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان کو تھام لے۔ اللہ نے اپنے اس احسان اور نشانی کا تذکرہ دوسرے مقامات پر بھی فرمایا ہے۔ (وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 22 ۔ الحج :65) ۔ اسی نے آسمان کو زمین پر گرنے سے روکا ہوا ہے مگر جب اس کا حکم ہوگا " اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں "۔ 41۔ 3 اتنی قدرتوں کے باوجود وہ حلیم ہے اپنے بندوں کو دیکھتا ہے کہ وہ کفر و شرک اور نافرمانی کر رہے ہیں پھر بھی وہ ان کی گرفت میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ڈھیل دیتا ہے اور غفور بھی ہے کوئی تائب ہو کر اس کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے توبہ واستغفار و ندامت کا اظہار کرتا ہے وہ معاف فرما دیتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٦] آسمانوں اور زمین کے الفاظ بول کر قرآن کریم بالعموم اس سے پورا نظام کائنات مراد لیتا ہے اور یہ اس قدر پیچیدہ نظام ہے جو سائنس کے آئے دن کے انکشافات اور ایجادات کے باوجود انسان کے لئے محیر العقول بنا پڑا ہے۔ کہ آیا یہ سب سیارے فضا میں پوری تیزی کے ساتھ گھومنے کے باوجود کس طرح اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ کوئی سیارہ ایک دوسرے پر گر نہیں پڑتا کہیں ٹکراتا بھی نہیں۔ اس کی رفتار میں بھی فرق نہیں آتا۔ وہ اپنے رخ اور سمت میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو انسان کو اس اعتراف پر مجبور کردیتی ہے کہ اس نظام کو بنانے والی، جاری رکھنے والی اور کنٹرول کرنے والی ہستی انتہا درجہ کی دانشور، مدبر اور صاحب اقتدار اور اختیار ہو۔ جس کی حکمت بالغہ کے تحت اس قدر گرانڈیل اور عظیم الجثہ کرے فضائے کائنات میں تیرتے پھرتے ہیں۔ [ ٤٧] وہ ہستی اس قدر صاحب قوت، اقتدار اور انختیار رکھنے کے باوجود بردبار ہے۔ جو اس کے اختیارات کو دوسروں میں بانٹنے والوں کو فوراً تباہ نہیں کردیتا۔ اور اپنے باغیوں، منکروں اور نافرمانوں سے درگزر کئے جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ڬ ۔۔ : یعنی تمہارے بنائے ہوئے شریکوں کا تو یہ حال ہے کہ نہ انھوں نے زمین یا اس کی کوئی چیز پیدا کی، نہ آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، وہ بےچارے تو اپنا آپ بھی نہیں سنبھال سکتے، جب کہ اللہ جل شانہ وہ ہے جس نے ساری کائنات پیدا فرمائی اور وہی اس کا نظام چلا رہا ہے۔ اسی نے اتنے عظیم آسمانوں کو اور زمین کو ان کی اپنی اپنی جگہ تھام رکھا ہے کہ کسی زلزلے یا حادثے سے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوتے اور اگر یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو اس کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھام سکے۔ اگر تم کہتے ہو کہ تمہارے شریک پیدا تو نہیں کرسکتے، نہ آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے مگر وہ گرتے ہوؤں کو تھام لیتے ہیں تو تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے۔ گرتے ہوؤں کو تھامنا بھی اسی کا کام ہے جس نے ہر چیز کو اس کی جگہ تھام رکھا ہے۔ ۭاِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا : یعنی تمہارے مشرکانہ اقوال و افعال تو اتنے خوفناک عذاب کے طالب ہیں کہ ان کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ تم پر ڈھے کر گرپڑیں، جیسا کہ فرمایا : (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا) [ مریم : ٩٠، ٩١ ] ” آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گرپڑیں کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا۔ “ مگر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے، کیونکہ وہ بیحد بردبار ہے، اس لیے مہلت پر مہلت دیے جا رہا ہے، بیحد بخشنے والا ہے، جو اس کے حلم سے فائدہ اٹھا کر توبہ کرے اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ آیت کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ مشرک اپنے شرک اور نافرمانی کی وجہ سے اس کے مستحق ہوچکے ہیں کہ ان پر آسمان گرا کر اور زمین شق کرکے انھیں تباہ و برباد کردیا جائے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم و مغفرت کی وجہ سے آسمانوں کو اور زمین کو تھامے ہوئے ہے اور اگر یہ اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو اس کے سوا کوئی طاقت نہیں جو انھیں تھام سکے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the expression: إِنَّ اللَّـهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ (Undoubtedly, Allah holds back the heavens and the earth - 35:41), the &holding& of the heavens or the skies does not mean that their movement was stopped. Instead, it means holding them from moving askance - as the word: أَن تَزُولَا (an tazula: from leaving their existing state,) bears it out. Therefore, in this verse, there exists no supporting evidence on either side as to the skies move or they are static.

ان اللہ یمسک السموٰت، آسمانوں کو روکنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی حرکت بند کردی بلکہ مراد اپنی جگہ سے ہٹ جانا اور ٹل جانا ہے، جیسا کہ لفظ ان تزولا اس پر شاہد ہے اس لئے اس آیت میں آسمان کے متحرک یا ساکن ہونے میں سے کسی جانب پر کوئی دلیل نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا۝ ٠ۥۚ وَلَىِٕنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَكَـہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِہٖ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا۝ ٤١ مسك إمساک الشیء : التعلّق به وحفظه . قال تعالی: فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقال : وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] ، أي : يحفظها، واستمسَكْتُ بالشیء : إذا تحرّيت الإمساک . قال تعالی: فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] ، وقال : أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] ، ويقال : تمَسَّكْتُ به ومسکت به، قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] . يقال : أَمْسَكْتُ عنه كذا، أي : منعته . قال : هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] ، وكنّي عن البخل بالإمساک . والمُسْكَةُ من الطعام والشراب : ما يُمْسِكُ الرّمقَ ، والمَسَكُ : الذَّبْلُ المشدود علی المعصم، والمَسْكُ : الجِلْدُ الممسکُ للبدن . ( م س ک ) امسک الشئی کے منعی کسی چیز سے چمٹ جانا اور اس کی حفاطت کرنا کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] پھر ( عورت کو ) یا تو بطریق شاہستہ نکاح میں رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھور دینا ہے ۔ وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] اور وہ آسمان کو تھا مے رہتا ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ۔ استمسکت اشئی کے معنی کسی چیز کو پکڑنے اور تھامنے کا ارداہ کرنا کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اسے مضبوط پکرے رہو ۔ أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے ( سند ) پکڑتے ہیں ۔ محاورہ ہے : ۔ کیس چیز کو پکڑنا اور تھام لینا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] اور کافر عورتوں کی ناموس قبضے میں نہ رکھو ( یعنی کفار کو واپس دے دو ۔ امسکت عنہ کذا کسی سے کوئی چیز روک لینا قرآن میں ہے : ۔ هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] تو وہ اس کی مہر بانی کو روک سکتے ہیں ۔ اور کنایہ کے طور پر امساک بمعنی بخل بھی آتا ہے اور مسلۃ من الطعام واشراب اس قدر کھانے یا پینے کو کہتے ہیں جس سے سد رہق ہوسکے ۔ المسک ( چوڑا ) ہاتھی دانت کا بنا ہوا زبور جو عورتیں کلائی میں پہنتی ہیں المسک کھال جو بدن کے دھا نچہ کو تھا مے رہتی ہے ۔ زال زَالَ الشیء يَزُولُ زَوَالًا : فارق طریقته جانحا عنه، وقیل : أَزَلْتُهُ ، وزَوَّلْتُهُ ، قال : إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا [ فاطر/ 41] زول زال الشئ یزول زوالا کسی چیز کا اپنا صحیح رخ چھوڑ کر ایک جانب مائل ہونا ( اپنی جگہ سے ہٹ کر جانا اور ازلتہ وزولتہ کے معنی ہیں ایک جانب مائل کردینا ۔ کسی چیز کو اس کو اس کی جگہ سے ہٹا دینا ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا [ فاطر/ 41] حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم «5» ، ولیس الحلم في الحقیقة هو العقل، لکن فسّروه بذلک لکونه من مسبّبات العقل «6» ، وقد حَلُمَ «7» وحَلَّمَهُ العقل وتَحَلَّمَ ، وأَحْلَمَتِ المرأة : ولدت أولادا حلماء «8» ، قال اللہ تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] ، وقوله تعالی: فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ [ الصافات/ 101] ، أي : وجدت فيه قوّة الحلم، وقوله عزّ وجل : وَإِذا بَلَغَ الْأَطْفالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ [ النور/ 59] ، أي : زمان البلوغ، وسمي الحلم لکون صاحبه جدیرا بالحلم، ويقال : حَلَمَ «1» في نومه يَحْلُمُ حُلْماً وحُلَماً ، وقیل : حُلُماً نحو : ربع، وتَحَلَّمَ واحتلم، وحَلَمْتُ به في نومي، أي : رأيته في المنام، قال اللہ تعالی: قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] ، والحَلَمَة : القراد الکبير، قيل : سمیت بذلک لتصوّرها بصورة ذي حلم، لکثرة هدوئها، فأمّا حَلَمَة الثدي فتشبيها بالحلمة من القراد في الهيئة، بدلالة تسمیتها بالقراد في قول الشاعر : 125- كأنّ قرادي زوره طبعتهما ... بطین من الجولان کتّاب أعجمي «2» وحَلِمَ الجلد : وقعت فيه الحلمة، وحَلَّمْتُ البعیر : نزعت عنه الحلمة، ثم يقال : حَلَّمْتُ فلانا : إذا داریته ليسكن وتتمکّن منه تمكّنک من البعیر إذا سكّنته بنزع القراد عنه «3» . ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ کیا عقلیں ان کو ۔۔۔ سکھاتی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ احلام سے عقیں مراد ہیں اصل میں ھلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے حلم بردبار ہونا ۔ عقل نے اسے برد بار رہنا دیا ۔ عورت کا حلیم بچے جننا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ [ الصافات/ 101] تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اس غلام ہیں قوت برداشت ۔۔۔۔۔۔ تھی اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا بَلَغَ الْأَطْفالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ [ النور/ 59] اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں & میں حلم کے معنی سن بلوغت کے ہیں اور سن بلوغت کو حلم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس عمر میں طور عقل وتمیز آجاتی ہے کہا جاتا ہے ۔ حلم ( ن ) فی نومہ خواب دیکھنا مصدر حلم اور حلم مثل ربع بھی کہا گیا ہے ۔ اور ۔ یہی معنی تحلم واحتلم کے ہیں ۔ حلمت بہ فی نومی ۔ میں نے اسے خواب میں دیکھا ۔ قرآن میں ہے : ۔ قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔ الحلمۃ بڑی چیچڑی ۔ کیونکہ وہ ایک جگہ پر جمے رہنے کی وجہ سے حلیم نظر آتی ہے اور سر پستان کو حلمۃ الثدی کہنا محض ہیت میں چیچڑی کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اس مجاز کی دلیل یہ ہے کہ سر پستان کو قراد بھی کہہ دیتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) اس کے سینے پر پستانوں کے نشانات اسطرح خوشمنا نظر اتے ہیں کہ گویا کسی کاتب لے مٹی کی مہریں لگادیں ہیں چمڑے کو کیڑا الگ جانا ۔ حلمت البعیر میں نے اونٹ سے خیچڑ نکالے حلمت فلانا کسی پر قدرت حاصل کے لئے اس کے ساتھ مدارات سے پیش آنا تاکہ وہ مطمئن رہے جیسا کہ اونٹ سے چیچڑ دور کرنے سے اسے سکون اور راحت محسوس ہوتا ہے اور انسان اس پر پوری طرح قدرت پالیتا ہے غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ کہیں وہ یہود و نصاری کی باتیں سن کر کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں وہ اپنی اس موجودہ حالت کو چھوڑ نہ دیں ار اگر بالفرض وہ اپنی حالت موجودہ کو چھوڑ بھی دیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا وہ یہود و نصاری کی باتوں پر تحمل والا ہے جو ان میں سے توبہ کرے تو اس کے حق میں غفور ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١{ اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا } ” یقینا اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ وہ (اپنے راستے سے) ہٹ نہ جائیں۔ “ { وَلَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْم بَعْدِہٖ } ” اور اگر وہ ہٹ جائیں تو کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے اس کے بعد ! “ { اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا } ” یقینا وہ بہت بردبار ‘ بہت بخشنے والا ہے۔ “ یہی وجہ ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی لوگوں کی غلطیوں پر فوراً پکڑ نہیں کرتا اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

69 That is, "This limitless universe is being sustained by Allah alone. No angel, or jinn, or prophet, or saint can sustain it. Not to speak of sustaining the universe these helpless creatures do not even have the power to Sustain their own selves. Each one of them is entirely dependent on Allah Almighty for his birth and survival every moment. To think that any one of them has any share in the attributes and powers of Divinity is sheer folly and deception. " 70 That is, "It is Allah's Clemency and Forbearance that He is not seizing the culprits immediately in punishment in spite of All kinds of disobedience which are being shown towards Him "

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :69 یعنی یہ اتھاہ کائنات اللہ تعالیٰ کے قائم رکھنے سے قائم ہے ۔ کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی اس کو سنبھالے ہوئے نہیں ہے ۔ کائنات کو سنبھالنا تو درکنار ، یہ بے بس بندے تو اپنے وجود کے سنبھالنے پر بھی قادر نہیں ۔ ہر ایک اپنی پیدائش اور اپنے بقاء کے لیے ہر آن اللہ جل شانہ کا محتاج ہے ۔ ان میں سے کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ خدائی کی صفات اور اختیارات میں اس کا کوئی حصہ ہے خالص حماقت اور فریب خوردگی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :70 یعنی یہ سراسر اللہ کا حِلم اور اس کی چشم پوشی ہے کہ اتنی بڑی گستاخیاں اس کی جناب میں کی جا رہی ہیں اور پھر بھی وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤١۔ یہاں ابوہریرہ (رض) یک روایت سے بعضی تفسیروں ١ ؎ میں ایک حدیث نقل کی ہے (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٢٥٤ ج ٥) کہ حضرت موسیٰ کے دل میں ایک دفعہ یہ خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ بھی کبھی سوتا ہے یا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے دو آئینے حضرت موسیٰ اپنے ہاتھ میں رکھیں پھر حضرت موسیٰ کے اونگھ جانے سے وہ ایک آئینہ دوسرے پر گرا اور دونوں آئینے ٹوٹ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یوں کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ سوتا تو زمین و آسمان کیوں کر قائم رہتے حافظ ابن کثیر ٢ ؎ اور اور مفسروں نے اس اثر کی صحت پر اعتراض کیا ہے (٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٦١ ج ٣۔ ) اور اس کو بنی اسرائیل کی روایت قرار دیا ہے لیکن ابویعلی موصلی نے اپنی مسند میں اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور دار قطنی اور بیہقی نے اسمآء وصات میں اور خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں چند سند سے موقوف اور مرفوع طور پر اس حدیث کو روایت کیا ہے جس سے اس کی اصل پانی جاتی ہے اسی واسطے بیہقی نے لکھا ہے کہ اس قصہ کی روایت معتبر معلوم ہوتی ٣ ؎ ہے (٣ ؎ امام بیہقی نے ایک قول ذکر کیا ہے جس میں ہے کہ یہ سوال اسرائیلیوں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کیا تھا اس کے بعد ” بیہق لکھتے ہیں ھذا اشبہ ان کون ھوالمحفوظ “ (تفسیر الدر المنثور ص ٢٥٥ ج ٥) آیت کی اس ٹکڑے میں بھی مشرکین مکہ کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ ان لوگوں کے شرک کے سبب سے اگر اللہ تعالیٰ ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیوے یا زمین میں ان کو دھنسادیوے تو مکہ کے قحط میں انہوں نے اپنے بتوں کی جو بےاختیاری دیکھی ہے ان کی وہی بےاختیاری ہر حال میں موجود ہے لیکن یہ اللہ کی بردباری ہے کہ اس نے باوجود ان لوگوں کے شرک کے دنیا کے ہر طرح کے انتظام کو قائم رکھا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک ٤ ؎ جگہ گزر چیک ہے (٤ ؎ مشکوۃ ص ١٣ کتاب الایمان۔ (ع ‘ ح) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بردباری ہے کہ لوگ شرک کرتے ہیں اور وہ ان کے صحت کے اور رزق کے انتظام میں کچھ خلل ڈالنا نہیں چاہتا ‘ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:41) یمسک مضارع واحد مذکر غائب امساک (افعال) مصدر۔ وہ روکتا ہے وہ تھامتا ہے۔ وہ روکے ہوئے ہے، وہ تھامے ہوئے ہے۔ ان تزولا۔ ان مصدریہ ہے تزولا مضارع تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر (باب نصر) کسی چیز کا اپنا صحیح رخ چھوڑ کر ایک جانب مائل ہوجانا۔ اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔ کہ وہ دونوں ( سموت والارض) اپنے مقام سے ہٹ جائیں۔ تزولا اصل میں تزولان تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لتزول منہ الجبال (14:46) کہ اس سے پہاڑ ہی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ۔ زالتا۔ ماضی تثنیہ مؤنث غائب زوال مصدر سے ان زالتا۔ اگر وہ دونوں اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ یا ہٹ جائیں یا ہٹنے لگیں۔ ان امسکھما۔ ان نافیہ ہے ای ما امسکھما (کوئی) ان دونوں کو (پھر) تھام نہیں سکتا۔ سنبھالا دے نہیں سکتا۔ من احد۔ میں من زائدہ ہے نفی کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے یعنی کوئی بھی۔ بعدہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب یا اللہ کی طرف راجع ہے یا الزوال کی طرف۔ ای بعد زوالھما۔ (ان دونوں یعنی زمین و آسمان کے ) اپنی سے ہٹ جانے کے بعد یا امسا کہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی خدا وند تعالیٰ کے تھامنے کے علاوہ اور کوئی اسے تھام نہیں سکے گا۔ بعد کا لفظ یہاں بجز یا علاوہ کے معنی میں آیا ہے۔ حلیما۔ حلم والا۔ بردبار ۔ تحمل والا۔ حلم سے جس کے معنی جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنے کے ہیں بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حلیما وہ حلیم ہے کیونکہ شرک جیسی کھلی ہوئی اور انتہائی گستاخی پر بھی فورا سزا نہیں دیتا۔ غفورا کیونکہ اگر یہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں تو اب بھی وہ معاف کرنے کو تیار ہے ۔ حلیما غفورا منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ان کے معبودوں سے خلق وقدرت کی نفی کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان فرمایا۔ یعنی جس طرح یہ حقیقت ہے کہ آسمان و زمین کا بنانے والا صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی ان کا بنانے والا اور اس نظام کو چلانے والا نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کو اپنی قدرت سے تھامے ہوئے ہے۔ کوئی دوسرا ان کے تھامنے اور ان کا نظام چلانے میں اس کا شریک نہیں ہے۔4 یعنی اللہ تعالیٰ کا حلم اور اس کی مغفرت نہ ہوتی تو بندوں کا کفر و عصیان ( خصوصاً شرک) اس بات کا متقاضی ہے کہ آسمان و زمین اپنی جگہ پر قائم نہ رہیں جیسے فرمایا (تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض و تخر الجبال ھدا ان دعوا اللرحمن ولدا) (مریم : 9، 91) یا مطلب یہ ہے کہ مشرکین اپنے شرک و عصیان کی وجہ سے اس امر کے مستحق ہوچکے ہیں کہ آسمان کو گرا کر ان کو تباہ و برباد کردیا جائے اور زمین ویرانہ بن جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم و مغفرت کی وجہ سے ان کو تھامے ہوئے ہے۔ اگر یہ اپنی جگہ سے ٹلا گئے تو کوئی طاقت نہیں جو ان کو تھام سکے۔ ( کبیر وغیرہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق میں شریک ہونا تو درکنار، ان کے قائم رکھنے میں بھی کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور وہی انہیں تھامے ہوئے ہے۔ تاکہ اپنے مقام سے ہلنے نہ پائیں اگر وہ اپنی جگہ سے ہل جائیں تو پھر کون ہے جو انہیں اسی جگہ پر لے آئے ؟ آسمان کو تھامنا تو درکنار، پوری دنیا کے حکمران اور عوام مل کر زمین کو ہلنے یعنی زلزلہ سے نہیں بچا سکتے۔ زلزلہ سے بچانا تو دور کی بات ہے ارضیات کے سائنسدان یہ پتہ نہیں چلا سکے کہ زمین میں کہاں اور کب زلزلہ واقع ہوگا۔ تاریخ انسانی میں کتنی بار زلزلہ آیا جس نے چند لمحوں کے اندر نہ صرف انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا بلکہ اس علاقے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اب تک نہ ہوا ہے اور نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی زلزلوں کو روک سکے اس کی قوت وقدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دے رکھا ہے۔ جس وجہ سے انسان زمین و آسمانوں کے خالق اور مالک کو بھول کر اس کی مخلوق میں سے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیتا ہے۔ ظلم اور سرکشی کی حد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا مشرک انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتا ہے اور جن قبروں اور مورتیوں کو اپنے ہاتھ سے بناتا ہے۔ انہیں کے سامنے جھکتا ہے اور دنیا میں ایسے جاہل اور ظالم بھی ہیں جو اپنے مقابلے میں حقیر مخلوق سانپ، بچھو اور اس سے بھی کم تر مخلوق کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ زمین کی چھاتی اور آسمان کے سائے تلے ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے باوجود کفر، شرک اور ظلم پر لوگوں کو فی الفور نہیں پکڑتا وہ مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ انسان اپنے گناہوں سے تائب ہوجائے۔ یا پھر گناہ کرنے میں اسے کوئی حسرت نہ رہے یہ مہلت اس لیے بھی دی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عظیم حوصلے والا، بہت ہی زیادہ معاف کرنے والا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ (رض) قَالَ قَال النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُول اللَّہُ شَتَمَنِی ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِی، وَتَکَذَّبَنِی وَمَا یَنْبَغِی لَہُ ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِی کَمَا بَدَأَنِی) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ )] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں۔ وہ میری تکذیب کرتا ہے اور یہ بھی اسے زیب نہیں دیتا۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میں نے اولاد بنا رکھی ہے۔ اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کیا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کو تھامے ہوئے ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو حرکت دے تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ٣۔ یقیناً اللہ تعالیٰ عظیم حوصلے والا اور بڑا ہی معاف کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کی حفاظت : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : ١١٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ (البقرۃ : ٢٩) ٣۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : ٢٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑ بنائے تاکہ زمین ہل نہ سکے۔ (فاطر : ٤١) ٥۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : ٢٢) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا۔ ( الرعد : ٢) ٧۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : ٥٤) ٨۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں گے تو اللہ ہی کا نام لیں گے۔ (لقمان : ٢٥) ٩۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا “ اللہ “ ہے کیا اس کے ساتھ کوئی اور برسانے والا ہے ؟ (النمل : ٦٠) ١٠۔ تیرا رب ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (سبا : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان اللہ یمسک ۔۔۔۔ حلیما غفورا (41) “۔ ذرا اس آسمان پر نگاہ ڈالو ، ذرا زمین کو دیکھو اور ان لاتعداد اربوں اجرام فلکی کو دیکھو جو اس لا انتہا فضا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ تمام کے تمام اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں جو اپنے افلاک میں پھر رہے ہیں۔ اپنے مدارات میں مقرر ، پھر ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ نہ ان کی رفتار میں کوئی خلل آتا ہے نہ مدار سے نکل سکتے ہیں ، نہ ان کی رفتار سست ہوسکتی ہے ، اور نہ تیز ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کو اس طرح اپنے مقام پر ٹھہرانے کے لیے کوئی ستون نہیں لگا ہوا اور نہ یہ مضبوط رسیوں سے باندھے ہوئے ہیں۔ کسی چیز کا بظاہر ان پر کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس عظیم مخلوق کو دیکھتے ہو جو اربوں کھربوں کی تعداد سے زیادہ ہے اور جو نہایت ہی عجیب و غریب ہے۔ ایک عقلمند انسان کی آنکھیں ضرور کھل جانی چاہئیں کہ اس کے پیچھے ایک نہایت طاقتور الٰہ العالمین کا دست قدرت کام کر رہا ہے ، جس نے اس عظیم کارخانے کو تھام رکھا ہے۔ اگر آسمانوں کے یہ ستارے اور زمین اپنی جگہ سے ٹل جائیں اور بےترتیبی سے ادھر ادھر بکھر جائیں تو ان کو کوئی پھر سے مرتب نہیں کرسکتا۔ یہ ہے وہ وقت جب قیامت برپا ہوجائے گی اور اس جہان کے خاتمہ کے لیے قرآن نے اسی نظام کے اختلال کو علامت قرار دیا ہے جہاں پہاڑ اور ستارے روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے اور اس نظام کائنات کی ہر شے دوسری سے ٹکرا جائے گی۔ یہ وہ مقرر وقت ہے جس میں تمام لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا اور دنیا میں جس نے جو عمل کیا اس کا محاسبہ ہوگا۔ دنیا کا انجام عالم آخرت پر ہوگا اور یہ دوسرا جہان اپنے مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے اس دنیا سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ زمین و آسمان کو تھامے رکھنے پر یہ تبصرہ ہوتا ہے۔ انہ کان حلیما غفورا (35: 41) ” اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے “۔ وہ حلیم ہے۔ لوگوں کو مہلت دیتا ہے ، وہ ان کی بدعملی کی وجہ سے اس جہان کو ختم نہیں کرتا اور اجل مقرر سے قبل ہی ان سے حساب و کتاب لینا نہیں شروع کردیتا۔ لوگوں کو تو بہ کا بھی موقعہ دیتا ہے ، قیامت کی تیاری کی مہلت بھی دیتا ہے اور غفور اس طرح ہے کہ لوگوں نے جو جو جرائم کیے سب پر مواخذہ نہیں کرتا بلکہ اللہ لوگوں کی برائیوں کے ایک بڑے حصے سے درگزر فرماتا ہے۔ جب بھی اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھے تو ان کی مغفرت کردیتا ہے۔ یہ ایک ہدایت ہے جو لوگوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اس موقع اور ضرورت کو غنیمت سمجھیں اور اگر یہ فرصت گنوادی تو یہ واپس نہ آئے گی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اللہ جل شانہٗ کی قوت قاہرہ ایک اور طریقہ پر بیان فرمائی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے، ان کی جو جگہ مقرر ہے وہاں سے نہیں ٹل سکتے (اپنے محور ہی میں رہتے ہیں) اور اگر بالفرض اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ دیں تو اس کے علاوہ کوئی ان کو تھام نہیں سکتا، آسمان و زمین اسی کی مخلوق ہیں، اسی نے ان کی جگہ مقرر فرمائی ہے، کسی کو ان میں ذرا سے تصرف کا بھی اختیار نہیں ہے وہی ان کی حفاظت فرماتا ہے ہی ان کا مالک ہے، ان میں جو چیزیں ہیں وہ ان کا بھی خالق ومالک ہے پھر اس کے علاوہ دوسرا کوئی مستحق عبادت کیسے ہوسکتا ہے۔ (اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا) (بےشک وہ حلیم ہے (عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا) غفور بھی ہے) سب کچھ معاف کرنے والا ہے۔ آسمان و زمین کے تھامنے کی تشریح میں یہ جو عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان کی جگہ مقرر فرما دی ہے اس کے علاوہ دوسری جگہ منتقل نہیں ہوسکتے، اس معنی کو لینے سے آسمان اور زمین کی حرکت کے بارے میں کوئی اشکال نہیں رہتا وہ اسی جگہ میں رہتے ہوئے حرکت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہے دونوں حرکت کرتے ہوں یا ایک متحرک ہو (حسب ما یقول اصحاب الفلسفۃ القدیمۃ والجدیدۃ) بہرحال اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حد میں رہتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

40:۔ ان اللہ الخ : یہ توحید پر گیارہویں عقلی دلیل ہے زمین و آسمان کو اللہ تعالیٰ ہی نے تھام رکھا ہے اور وہ اپنی جگہ ادہر ادہر نہیں ہٹ سکتے۔ اگر بفرض محال وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو اللہ کے سوا کوئی انہیں تھامنے والا نہیں اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور کارساز نہیں ہوسکتے۔ لما بین ان الہتہم لا تقدر علی خلق شیء من السموات والارض بین ان خالقہما و ممسکھما ھو اللہ فلا یوجد حارث الا بایجادہ ولا یبقی الا ببقائہ (قرطبی ج 14 ص 306) ۔ انہ کان حلیما غفورا۔ وہ ایسا برد بار ہے کہ مشرکین کو فورًا نہیں پکڑتا اور ایسا مہربان ہے کہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیتا ہے یہ دلیل پہلی دلیل سے متعلق ہے اس میں فرمایا تھا کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اس دلیل میں فرمایا کہ زمین و آسمان کو تھامنے والا بھی وہی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو اس بات سے تھام رکھا ہے کہ وہ اپنے مرکز سے کہیں ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ بالفرض اپنے مرکز سے ٹل جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا ان آسمان و زمین کو نہ کوئی تھام سکتا ہے اور نہ کوئی ان کو روک سکتا ہے بیشک وہ اللہ تعالیٰ بڑا بردبار علیم اور بڑی مغفرت و بخشش کرنیوالا ہے۔ یعنی یہ نظام عالم جو حضرت حق تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے اس کو درہم برہم کرنے سے اسی نے روک رکھا ہے اگر خدانخواستہ درہم برہم ہوجائے تو خدا تعالیٰ کے بعد اس نظام عالم کو کوئی روک ہی نہیں سکتا۔ تمام مخلوق فنا ہوجائے گی جس طرح قیامت کے دن ہوگا۔ لیکن چونکہ وہ حلیم ہے اس لئے مہلت دیئے جاتا ہے اور اس مہلت اور امہال سے کوئی فائدہ اٹھا کر گناہوں سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہوجائے تو وہ بخش بھی دیتا ہے۔ چونکہ وہ غفور ہے۔ حدیث میں آتا ہے جو سو کر اٹھا اور اس نے یہ کلمات کہے الحمدللہ الذی ردانی نفسی بعد موتھا ولم یم تھا فی منا مھا الحمد للہ الذی یمسک السماء والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا ویمسک السمآء ان تقع علی الارض الا باذنہ ان اللہ بالناس لرئوف رحیم۔ یہ شخص اگر بچھونے پر سے گر کر مرجائے گا تو شہید ہوگا اور اگر اٹھ کر نماز پڑھے گا تو نماز پڑھے گا۔ (درمنشور)