Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 44

سورة فاطر

اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَ کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعۡجِزَہٗ مِنۡ شَیۡءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَلِیۡمًا قَدِیۡرًا ﴿۴۴﴾

Have they not traveled through the land and observed how was the end of those before them? And they were greater than them in power. But Allah is not to be caused failure by anything in the heavens or on the earth. Indeed, He is ever Knowing and Competent.

اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا؟ حالانکہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے ، اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرا دے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ۔ وہ بڑے علم والا ، بڑی قدرت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Remember the Bad Consequences of disbelieving in the Prophets Allah says: أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الاَْرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِي الاَْرْضِ ... Have they not traveled in the land, and seen what was the end of those before them -- though they were superior to them in power! Allah is not such that anything in the heavens or in the earth escapes Him. Allah says: `say, O Muhammad, to these people who disbelieve the Message you have brought: travel in the land and see what was the punishment of those who disbelieved the Messengers, how Allah destroyed them completely, and a similar (end awaits) the disbelievers. See how their homes were emptied of them and how they lost everything after living in luxury and being so numerous and so well equipped, and having so much wealth and so many children. All of that was of no avail to them and could not protect them in the slightest from the punishment of Allah when the command of the Lord came. Nothing is impossible for Him when He wants it to happen in the heavens or on earth.' ... إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا Verily, He is All-Knowing, All-Able. means, He knows all that exists and is able to do all things. The Wisdom behind delaying the Punishment Then Allah says:

عبرت ناک مناظر سے سبق لو ۔ حکم ہوتا ہے کہ ان منکروں سے فرما دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں تو سہی کہ ان جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا ۔ ان کی نعمتیں چھن گئیں ، ان کے محلات اجاڑ دیئے گئے ، ان کی طاقت تنہا ہو گئی ، ان کے مال تباہ کر دیئے گئے ، ان کی اولادیں ہلاک کر دی گئیں ، اللہ کے عذاب ان پر سے کسی طرح نہ ٹلے ۔ آئی ہوئی مصیبت کو وہ نہ ہٹا سکے ، نوچ لئے گئے ، تباہ و برباد کر دیئے گئے ، کچھ کام نہ آیا ، کوئی فائدہ کسی سے نہ پہنچا ۔ اللہ کو کوئی ہرا نہیں سکتا ، اسے کوئی امر عاجز نہیں کر سکتا ، اس کا کوئی ارادہ کامیابی سے جدا نہیں ، اس کا کوئی حکم کسی سے ٹل نہیں سکتا ۔ وہ تمام کائنات کا عالم ہے وہ تمام کاموں پر قادر ہے ۔ اگر وہ اپنے بندوں کے تمام گناہوں پر پکڑ کرتا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے ہلاک ہو جاتے ۔ جانور اور رزق تک برباد ہو جاتے ۔ جانوروں کو ان کے گھونسلوں اور بھٹوں میں بھی عذاب پہنچ جاتا ۔ زمین پر کوئی جانور باقی نہ بچتا ۔ لیکن اب ڈھیل دیئے ہوئے ہے عذابوں کو موخر کئے ہوئے ہے وقت آ رہا ہے کہ قیامت قائم ہو جائے اور حساب کتاب شروع ہو جائے ۔ اطاعت کا بدلہ اور ثواب ملے ۔ نافرمانی کا عذاب اور اس پر سزا ہو ۔ اجل آنے کے بعد پھر تاخیر نہیں ملنے کی ۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے اور وہبخوبی دیھنے الا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥١] اگر قریش مکہ نے پہلی قوموں کے کھنڈرات کو پہلے اس نظر سے نہیں دیکھا تو اب جاکر دیکھ لیں۔ ان کے کھنڈرات سے بھی یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ لوگ اپنے اپنے وقتوں میں شان و شوکت، قوت و دبدبہ اور عیش و عشرت میں ان قریش مکہ سے کہیں بڑھ کر تھے۔ پھر جب انہوں نے یہ سرکشی کی روش اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کچل کے رکھ دیا۔ اس وقت اللہ کے مقابلہ میں نہ ان کی شان و شوکت کسی کام آئی اور نہ قوت و دبدبہ۔ پھر کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اپنی اس معاندانہ روش اور خفیہ سازشوں سے اللہ کے دین کی راہ روک سکو گے ؟ تم اس کی گرفت سے کیسے بچ سکو گے جب کہ وہ تمہاری ایک ایک حرکت کو جانتا بھی ہے اور تمہیں سزا دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْض۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة روم کی آیت (٩) کی تفسیر۔ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعْجِزَهٗ مِنْ شَيْءٍ ۔۔ : یعنی آسمان و زمین یعنی ساری کائنات میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتی کہ وہ اسے پکڑ نہ سکے، یا پکڑنے کے بعد وہ اس کی گرفت سے نکل کر بھاگ جائے۔ اِنَّهٗ كَانَ عَلِــيْمًا قَدِيْرًا : کیونکہ وہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا ہے اور ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی چیز اسے عاجز کر دے، وہ اسے اس لیے نہ پکڑ سکے کہ اسے پتا ہی نہ چلے کہ وہ کہاں ہے، یا اسے معلوم تو ہو مگر وہ اسے پکڑنے کی طاقت نہ رکھے۔ ہمیشہ کا معنی ” کَانَ “ کا لفظ ادا کر رہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَكَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً۝ ٠ ۭ وَمَا كَانَ اللہُ لِيُعْجِزَہٗ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ۝ ٠ۭ اِنَّہٗ كَانَ عَلِــيْمًا قَدِيْرًا۝ ٤٤ سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ عاقب والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ، ( ع ق ب ) العاقب اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ قوی القُوَّةُ تستعمل تارة في معنی القدرة نحو قوله تعالی: خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] ( ق وو ) القوۃ یہ کبھی قدرت کے معنی میں اسرعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ خُذُوا ما آتَيْناكُمْ بِقُوَّةٍ [ البقرة/ 63] اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی اس کو زور سے پکڑے رہو ۔ عجز والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا ان کفار مکہ نے سفر نہیں کیا کہ یہ دیکھتے بھالتے کہ جو منکر ان سے پہلے ہوئے ہیں ان کا رسولوں کو جھٹلانے پر کیا انجام ہوا حالانکہ وہ جسمانی اور مالی قوت میں ان سے زیادہ تھے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کو ہرا دے اور وہ تمام مخلوق سے واقف اور ان پر قدرت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤{ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ” کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں ‘ پس یہ دیکھتے کہ کیسا ہوا انجام ان کا جو ان سے پہلے تھے “ { وَکَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً } ” حالانکہ وہ طاقت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے ! “ { وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ” اور اللہ کی شان ایسی نہیں کہ اسے کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں عاجز کرسکے۔ “ { اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا } ” یقینا وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ‘ ہرچیز پر قادر ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٤‘ ٤٥۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ کا دستور بدلنے اور ٹلنے والا نہیں اگر یہ لوگ پہلے کے سرکشوں کے قدم بقدم چلیں گے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان سے پہلے کے سرکشوں کا ہوا ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ تجارت پیشہ ہیں اکثر شام کے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں کیا ان کو اس راستہ میں پہلے کے سرکشوں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں جو ان سے قوت میں مال واولاد میں ہر طرح بڑھ کر تھے لکنس ان کی سرکشی کے سبب سے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرنا چاہا تو اللہ کی قدرت کے آگے ان کو قوت مالداری کوئی چیز بھی ان کو آفت سے نہ بچاسکی پھر فرمایا باوجود طرح طرح کی سرکشی کے یہ لوگ آفت سے اب تک اس واسطے بچے ہوئے ہیں کہ عادت الٰہی میں ایسے لوگوں کی پکڑ جلدی نہیں ہے کیوں کہ وہ ہر ایک بداعمالی پر لوگوں کو جلدی پکڑے تو زمین پر کوئی جاندار ہلاکت سے نہ بچ سکے کس لیے کہ علم اس کا وسیع ہے جس سے فرما نبردار اور سرکش نافرمان سب بندے اس کا نگاہ میں ہیں سب کے دلوں تک کا حال اس کو خوب معلوم ہے قدرت اس کی زبردست ہے کہ پہلے کے بڑی بڑی سرکش قوموں کو کو جس عذاب سے اس نے چاہا ایک دم میں ہلاک کردیا لیکن اس کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اور عادت الٰہی یہ ہے کہ وقت مقررہ سے پہلے وہ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ ان نافرمان لوگوں کو مہلت کے زمانہ میں راہ راست پر آنے کو پورا موقع ملے جو سرکش لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی اور نافرمانی سے باز نہیں آتے تو وقت مقررہ پر ان کو ایسے سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ بالکل ہلاک ہوجاتے ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے نافرمانی لوگوں کو مہلت دیتا ہے اگر مہلت کے زمانہ میں وہ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو پھر ان کو بالکل ہلاک کردیتا ہے ‘ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے کیوں کہ آیت اور حدیث کے ملانے سے آیت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ ١ ؎ سے انس بن مالک (رض) کی روایت گزر چکی ہے (١ ؎ قریب ہی یہ حوالہ بھی گزر چکا ہے۔ ) کہ بدر کی لڑائی کے وقت مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکش دنیا میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ قریش میں کے سرکشوں کو اللہ تعالیٰ نے بارہ تیرہ برس کی مہلت دی اور اس مہلت کے زمانہ میں قرآن کی بہت سی آیتیں ان کی فہمائش کے لیے نازل فرمائیں پہلے سرکشوں کے اجڑ جانے کی حالت انہیں یاد دلائی لیکن جب یہ لوگ کسی طرح اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو آخر دونوں جہاں کی ذلت اٹھائی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:44) اولم یسیروا میں ہمزہ استفہامیہ ہے وائو عاطفہ ہے تقدیر کلام ہے اقعدوا ولم یسیروا۔ مضارع نفی حجد بلم (مضارع مجزوم بوجہ عمل لم) کیا وہ زمین میں چلے پھر نہیں۔ یہاں ضمیر فاعل مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے اور زمین سے مراد ممالک شام، یمن عراق، وغیرہ ہیں۔ جہاں ان کا اکثر گذر ہوا کرتا تھا۔” ینظروا فاء ناصبہ ہے مضارع پر بہ تقدیر ان داخل ہوا کرتی ہے “۔ عاقبۃ۔ انجام۔ الذین من قبلہم جو (لوگ) ان سے پہلے ہوئے ہیں مراد قوم عاد، ثمود، اہل بابل وکلدانیہ۔ قبطیان مصر وغیرہ ہیں۔ ھم ضمیر کا مرجع مشرکین مکہ ہیں۔ ما کان اللہ۔ اللہ ایسا نہیں ہے۔ ای لیس من شانہ۔ اس کی شان کے شایاں نہیں ہے۔ لیعجزہ۔ لام تاکید نفی کے لئے ہے۔ یعجز مضارع واحد مذکر غائب ضمیر فاعل کا مرجع شیء ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے اللہ کی شان کے شایان نہیں ہے کہ اسے کوئی عاجز کر دے۔ یعنی اس کو کوئی کام اپنی مرضی و حکمت کے مطابق کرنے سے معذور کر دے۔ من شیء کوئی چیز بھی۔ ای شیئ۔ من استغراق کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان نہیں کہ کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں اسے ہرا سکے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی وہ اسے ہونے کا حکم دے یا کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرے اور وہ نازل نہ ہو۔ 1 کوئی چیز اس سے سے پوشیدہ یا کوئی کام اس کیلئے دشوار نہیں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ پس علم سے اپنے ہر ارادہ کے نافذ کرنے کا طریقہ جانتا ہے اور قدرت سے اس کو نافذ کرسکتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد اور حقائق جاننے کے باوجود اہل مکہ آپ کے خلاف مکروفریب کر رہے تھے اس لیے انہیں تاریخ کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے ایک بار پھر سمجھایا گیا ہے۔ دنیا میں عبرت و بصیرت حاصل کرنے کے ذرائع میں ایک بہت بڑا ذریعہ تاریخ عالم پڑھنا اور اس پر غور کرنا ہے۔ جس سے آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ پہلی اقوام کا کردار کیا تھا اور ان کا انجام کیا نکلا ؟ اسی لیے قرآن مجید کئی مرتبہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا اور فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے برے کردار کے برے انجام کے بارے میں شک ہے تو دنیا کی تاریخ پڑھو اور اس کا جغرافیہ دیکھو ! یقیناً تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جو لوگ تم سے پہلے نیست و نابود کیے گئے ان کا کردار اور انجام کیا ہوا ؟ مکر کرنے والے اپنی جاہ و حشمت اور مال و دولت پر بڑے نازاں تھے۔ اس لیے آپ کے مخالفوں کو باربار انتباہ کیا گیا ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ تم سے پہلے ذلت کے گھاٹ اترنے والی قومیں کس قدر قوت و سطوت کی مالک تھیں۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا تو وہ سسکیاں لے لے کر اپنی جانیں جان آفریں کے حوالے کررہے تھے اس وقت کوئی ان کو چھڑا نے اور بچانے والا نہ تھا۔ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ مہلت دیئے ہوئے ہے تو یہ اس کی کرم نوازی اور مشیت کا تقاضا ہے۔ لیکن جب وہ کسی فرد اور قوم کو ذلّت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر زمینوں اور آسمانوں میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بےبس کرنے والا نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ سب کچھ جاننے والا اور اپنے فیصلے نافذ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اولم یسیروا۔۔۔۔۔ علیما قدیرا (44) ” اس زمین میں سیر کھلی آنکھوں اور بیدار دل و دماغ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اس میں گزشتہ اقوام کے واقعات بھی پیش نظر رہنے چاہئیں کہ وہ کیا کرتے تھے اور ان کا انجام کیا ہوا۔ زمین کے واقعات و حادثات سے انسانی شعور اور دل میں خدا کا خوف اور عبرت آموز اشارات کا بیٹھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار یہ ہدایت کی گئی ہے کہ زمین میں پھرو اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانوں کا مطالعہ کرو ، ہلاک شدہ اقوام کے شب و روز دیکھو ! جن کا نام و نشان اس زمین سے مٹا دیا گیا۔ ان سے عبرت حاصل کرو اور ان دلوں کو جگاؤ جن کا علم نہیں ہے۔ اگر علم ہے تو ان کے اندر احساس نہیں ہے اور اگر احساس ہے تو وہ عبرت نہیں لیتے۔ ان مردہ دلوں میں سنن الہیہ کا کوئی شعور نہیں ہے اور وہ تاریخی واقعات کی تعبیر سنن الہیہ کی روشنی میں نہیں کرتے۔ حالانکہ انسان اور حیوان کے اندر فرق ہی صرف یہ ہے کہ انسان واقعات کی تعبیر و تشریح اصولوں کی روشنی میں کرتا ہے جبکہ حیوان حالات ، واقعات ، اصولوں اور قواعد اور سنن الہیہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچتا ، نہ وہ کسی واقعہ سے احکام و نتائج اخذ کرتا ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ تمام بنی نوع انسان سنن الہیہ اور نوامیس فطرت کے سامنے یکساں ہوتے ہیں۔ اس تاریخی سفر میں قرآن کریم ناظرین کو تاریخ کی ہلاک شدہ اقوام کے کھنڈرات کے دہانے کھڑا کرکے ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ یہ لوگ نہایت قوت اور شوکت والے تھے اور ان کو ان کی یہ قوت اور شوکت بچانہ سکی ، لہٰذا تمام قوتوں سے برتر قوت موجود ہے ۔ وہ قوت جس کے مقابل کی کوئی قوت نہیں ہے اور نہ اس کو کوئی قوت عاجز کرسکتی ہے۔ یہ قوت ان لوگوں کو اسی طرح پکڑ سکتی ہے جس طرح سابقہ اقوام کو اس نے پکڑا۔ وما کان۔۔۔۔۔ فی الارض (35: 44) ” اور اللہ کو کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں ہے ، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں “ اور اس پر یہ تبصرہ آتا ہے جو اس کی تفسیر کرتا ہے اور دلیل پیش کرتا ہے۔ انہ کان علیما قدیرا (35: 44) ” وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ سب سے آخر میں سورة کا خاتمہ آتا ہے جس میں اللہ کی مہربانیاں اور معافیاں اور درگزر کا اظہار بھی کیا جاتا ہے اور اللہ کی قدرت اور قوت کا احساس بھی دلایا جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ لوگوں کو جو مہلت دئیے جا رہا ہے وہ اس لیے دے رہا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہے اور اللہ حساب و کتاب میں نرم رویہ اختیار کرتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

زمین میں چل پھر کر دیکھتے ہیں پھر بھی سابقہ امتوں کے انجام سے عبرت حاصل نہیں کرتے، لوگوں کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مواخذہ فرماتا تو زمین کی پشت پر کسی کو بھی نہ چھوڑتا مکہ والے تجارت کے لیے شام کے اسفار میں جایا کرتے تھے راستہ میں قوم ثمود کی برباد شدہ بستیاں پڑتی تھیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم بستی (سدوم) کے پاس سے بھی گزر ہوتا تھا اس لیے انہیں یاد دہانی فرمائی، اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے پہلے تھے، یعنی جن قوموں پر عذاب آیا اور ہلاک کیے گئے ان کا حال انہیں معلوم ہے ؟ ان کی آبادیوں کے نشان دیکھتے ہوئے گزرتے ہیں پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے، اور عبرت کے لیے مزید بات یہ ہے کہ وہ لوگ ان سے قوت میں بڑھے ہوئے تھے جب وہ ہلاک کردئیے گئے تو ان کی تو حیثیت ہی کیا ہے۔ (وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ ) اور اللہ تعالیٰ کو پوری پوری قدرت ہے جو چاہے کرے اور جسے چاہے عذاب دے، آسمانوں اور زمین میں اسے کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔ (اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا) (بلاشبہ وہ بڑے علم والا ہے بڑی قدرت والا ہے) کوئی شخص یا کوئی جماعت یہ نہ سمجھے کہ اسے ہمارے کرتوتوں کا علم نہیں ہے اور یہ بھی نہ سمجھے کہ وہ عذاب دینے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اس کی گرفت سے بچ کر کوئی کہیں نہیں جاسکتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

44:۔ اولم یسیروا الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ ماقبل کی تنویر و تفصیل ہے۔ یعنی اگر وہ ہماری سنت جاریہ کا مشاہدہ کرنا چاہیں تو زمین میں چل پھر کر گذشتہ سرکش قوموں کی تباہ شدہ بستیوں کو دیکھیں وہ لوگ قوت و شوکت میں ان سے بڑھ کر تھے۔ لیکن جب انہوں نے ہمارے پیغمبروں کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ کیونکہ زمین و آسمان میں کوئی بھی اس پر غالب نہیں اور کوئی اس سے قوی تر نہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ وہ معاندوں اور سرکشوں کو جانتا بھی ہے اور ان کو پکڑنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(44) کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں چلیں پھریں تو دیکھیں کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کار کیونکر ہوا اور کیسا ہوا یعنی تکذیب کی وجہ سے ان کا آخری انجام کیا ہوا حالانکہ وہ گزشتہ لوگ قوت اور زور میں ان کفار مکہ سے زیادہ تھے اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ اس کو آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی عاجز اور بےبس کرسکے اور تھکا سکے۔ بلاشبہ وہ کمال علم اور کمال قدرت کا مالک ہے۔ یعنی ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ گزشتہ قوموں کا اس تکذیب اور پیغمبروں کی نافرمانی کے باعث کیا انجام ہوا حالانکہ وہ قوت و طاقت میں ان کفار مکہ سے بہت زیادہ زور آور تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے بچ بھی کس طرح سکتے تھے اور بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز کیسے کرسکتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ اس کو آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی اس کو نہ تھکا سکتی نہ بھاگ کر ہرا سکتی ہے کیونکہ اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں کہ کوئی اس سے چھپ جائے اور وہ قدرت والا ہے سب کچھ کرسکتا ہے اس سے کوئی بھاگ کر کہاں جاسکتا ہے اور کتنا ہی کوئی زور آور ہو اس کا مقابلہ کس طرح کرسکتا ہے۔