Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 18

سورة يس

قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرۡنَا بِکُمۡ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہُوۡا لَنَرۡجُمَنَّکُمۡ وَ لَیَمَسَّنَّکُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸﴾

They said, "Indeed, we consider you a bad omen. If you do not desist, we will surely stone you, and there will surely touch you, from us, a painful punishment."

انہوں نے کہا کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں ۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کر دیں گے اور تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells, قَالُوا ... They (people) said: i.e. the people of the city said to them, ... إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ... For us, we see an evil omen from you; meaning, `we do not see in your faces any sign of good for our lives.' Qatadah said, "They were saying, `if something bad befalls us, it will be because of you."' Mujahid said, "They were saying: People like you never enter a town, but its people are punished." ... لَيِن لَّمْ تَنتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ ... if you cease not, we will surely stone you, Qatadah said, "By throwing stones at you." ... وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ and a painful torment will touch you from us. means, a severe punishment.

انبیاء و رسل سے کافروں کا رویہ ٭ ان کافروں نے ان رسولوں سے کا کہ تمہارے آنے سے ہمیں کوئی برکت و خیریت تو ملی نہیں ۔ بلکہ اور برائی اور بدی پہنچی ۔ تم ہو ہی بدشگون اور تم جہاں جاؤ گے بلائیں برسیں گی ۔ سنو اگر تم اپنے اس طریقے سے باز نہ آئے اور یہی کہتے رہے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے ۔ اور سخت المناک سزائیں دیں گے رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو ۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں ۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔ یہی بات فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی ۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی توکہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے ۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا تو حضرت موسی اور مومنوں کی بدشگونی پر اسے محمول کرتے ۔ جس کے جواب میں جناب باری نے فرمایا یعنی ان کی مصیبتوں کی وجہ ان کے بد اعمال ہیں جن کا وبال ہماری جانب سے انہیں پہنچ رہا ہے ۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی سے یہی کہا تھا اور یہی جواب پایا تھا ۔ خود جناب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی کہا گیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے یعنی اگر ان کافروں کو کوئی نفع ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے تہ کہدیجیے کہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے ۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ ان سے یہ بات بھی نہیں سمجھی جاتی؟ پھر فرماتا ہے کہ صرف اس وجہ سے کہ ہم نے تمہیں نصیحت کی ، تمہاری خیر خواہی کی ، تمہیں بھلی راہ سمجھائی ۔ تمہیں اللہ کی توحید کی طرف رہنمائی کی تمہیں اخلاص و عبادت کے طریقے سکھائے تم ہمیں منحوس سمجھنے لگے؟ اور ہمیں اس طرح ڈرانے دھمکانے لگے؟ اور خوفزدہ کرنے لگے؟ اور مقابلہ پر اتر آئے؟ حقیقت یہ ہے کہ تم فضول خرچ لوگ ہو ۔ حدود الہیہ سے تجاوز کر جاتے ہو ۔ ہمیں دیکھو کہ ہم تمہاری بھلائی چاہیں ۔ تمہیں دیکھو کہ تم ہم سے برائی سمجھو ۔ بتاؤ تو بھلا یہ کوئی انصاف کی بات ہے؟ افسوس تم انصاف کے دائرے سے نکل گئے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 ممکن ہے کچھ لوگ ایمان لے آئے ہوں اور ان کی وجہ سے قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ہو، جس کو انہوں نے رسولوں کی نَعْوذ باللّٰہِ نحوست قرار دیا۔ یا بارش کا سلسلہ موقوف رہا ہو تو وہ سمجھے ہوں کہ یہ ان رسولوں کی نحوست ہے۔ نَعْوذ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ، جیسے آج کل بھی بد نہاد اور دین و شریعت سے بےبہرہ لوگ، اہل ایمان وتقوی کو ہی، منحوس، سمجھتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ١٨] انبیاء کی دعوت پر کافروں کو کیا مصیبت پڑتی ہے ؟ منکرین حق کو جھنجھوڑنے کے لئے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ چھوٹے موٹے عذاب یا سختیاں بطور تنبیہ نازل ہوا کرتی ہیں۔ اور اگر ایسا کوئی عذاب نہ بھی آئے تو بھی ایک بات کا وقوع پذیر ہونا یقینی ہے۔ نبی جب دعوت دیتا ہے تو کچھ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ اس طرح دو فریق بن جاتے ہیں جن کی آپس میں ٹھن جاتی ہے۔ ایک آدمی اگر ایماندار ہے تو اس کے رشتہ دار کافر ہوتے ہیں۔ منکرین حق کے لئے یہ ایک الگ مصیبت بن جاتی ہے۔ بہرحال عذاب کی صورت ہو یا ایسی تفریق کی، منکرین حق اس کا الزام رسولوں پر دھرتے اور کہتے تھے کہ جب سے تم آئے ہو ہمیں یہ مصیبت پڑگئی ہے اور یہ تمہاری ہی نحوست کا نتیجہ ہے۔ ورنہ پہلے سب مل جل کر اچھے خاصے آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ [ ١٩] کافر قوم کی دھمکی :۔ ان لوگوں نے اپنے رسولوں کو محض ایسی دھمکی ہی دی تھی جب کہ کفار مکہ نے کئی بار آپ کو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی جان سے مار ڈالنے کی کوششیں اور سازشیں کی تھیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ : جب بستی والے دلیل کے ساتھ جواب نہ دے سکے تو دھمکی پر اتر آئے، جیسا کہ فرعون اور دوسرے متکبروں کا شیوہ رہا ہے۔ کہنے لگے، اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہمارے ہاتھوں درد ناک سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔ ” تَــطَيَّرْنَا “ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نمل (٤٧) اور سورة اعراف (١٣١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The word: تَطَيَّرْ‌ (tatayyur) in verse 18: قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْ‌نَا بِكُمْ (We take you as a bad omen for us.) means the seeing of an evil omen in someone or taking someone to be wretched. It is being said here that the people of this town did not listen to these blessed souls sent to them and chided them as being wretched or carriers of misfortune. It appears in some narrations that a famine had overtaken this town, because the people of the town had curtly turned down the good counsel of the messengers. That is why the people of the town called them wretched, or maybe they were hurt in some other way. So, as is the common habit of disbelievers, they would hasten to attribute any distress that afflicts them to prophets and the righteous who are nothing but their guides and benefactors. Hence, in this case too, they lost no time and attributed their own wretchedness to these blessed elders. This happens to be similar to what has been said in the Qur&an about the people of Sayyidna Musa (علیہ السلام) فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَـٰذِهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُ‌وا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ (So when something good come to them they said, |"This is our right|". And if they suffered from something evil, they ascribed it as an ill omen to Musa and those with him - 7:131). Similarly, the people of Sayyidna Salih (علیہ السلام) said to him: اطَّيَّرْ‌نَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ (They said, |"we regard you and those with you as a sign of bad omen|". - 27:47).

(آیت) قالوا انا تطیرنا بکم، تطیر کے معنی بدفالی لینے اور کسی کو منحوس سمجھنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اس شہر کے لوگوں نے اللہ کے ان فرستادوں کی بات نہ مانی اور یہ کہنے لگے کہ تم لوگ منحوس ہو۔ بعض روایات میں ہے کہ ان کی نافرمانی اور رسولوں کی بات نہ ماننے کے سبب اس بستی میں قحط پڑگیا تھا، اس لئے بستی والوں نے ان کو منحوس کہا، یا اور کوئی تکلیف پہنچی ہوگی تو جیسے کفار کی عام عادت یہی ہے کہ کوئی مصیبت آئے تو اس کو ہدایت کرنے والے انبیاء و صلحاء کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں، اس کو بھی ان حضرات کی طرف منسوب کردیا جیسا کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قرآن میں ہے : فاذا جاءتہم الحسنة قالوا لنا ھذہ وان تصبہم سیۃ یطیروا بموسیٰ ومن معہ، اسی طرح قوم صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا (آیت) تطیرنا بک وبمن معک۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْٓا اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ۝ ٠ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَہُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ۝ ١٨ طير ( فال) ، وتَطيَّرَ فلانٌ ، واطَّيَّرَ أصله التّفاؤل بالطَّيْرِ ثمّ يستعمل في كلّ ما يتفاء ل به ويتشاءم، قالُوا : إِنَّا تَطَيَّرْنا بِكُمْ [يس/ 18] ، ولذلک قيل : «لا طَيْرَ إلا طَيْرُكَ «1» » ، وقال تعالی: إِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا[ الأعراف/ 131] ، أي : يتشاء موا به، أَلا إِنَّما طائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ [ الأعراف/ 131] ، أي : شؤمهم : ما قد أعدّ اللہ لهم بسوء أعمالهم . وعلی ذلک قوله : قالُوا اطَّيَّرْنا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ قالَ طائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ [ النمل/ 47] ، قالُوا طائِرُكُمْ مَعَكُمْ [يس/ 19] ، وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ [ الإسراء/ 13] ، أي : عمله الذي طَارَ عنه من خيرٍ وشرٍّ ، ويقال : تَطَايَرُوا : إذا أسرعوا، ويقال :إذا تفرّقوا «2» ، قال الشاعر : 303 ۔ طَارُوا إليه زَرَافَاتٍ ووُحْدَاناً وفجرٌ مُسْتَطِيرٌ ، أي : فاشٍ. قال تعالی: وَيَخافُونَ يَوْماً كانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيراً [ الإنسان/ 7] ، وغبارٌ مُسْتَطَارٌ ، خولف بين بنائهما فتصوّر الفجر بصورة الفاعل، فقیل : مُسْتَطِيرٌ ، والغبارُ بصورة المفعول، فقیل : مُسْتَطَارٌ وفرسٌ مُطَارٌ للسّريع، ولحدید الفؤاد، وخذ ما طَارَ من شَعْر رأسك، أي : ما انتشر حتی كأنه طَارَ. تطیر فلان واطیر اس کے اصل معنی تو کسی پرندہ سے شگون لینے کے ہیں پھر یہ ہر اس چیز کے متعلق استعمال ہونے لگا ہے ۔ جس سے برا شگون لیا جائے اور اسے منحوس سمجھا جائے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا تَطَيَّرْنا بِكُمْ [يس/ 18] ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں ۔ اسی لئے کہا گیا ہے لا طیر الا طیرک کہ نہیں ہے نحوست مگر تیری طرف سے ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا[ الأعراف/ 131] اگر سختی پہنچتی ہے تو بد شگونی لیتے ہیں ۔ یعنی موسٰی (علیہ السلام) کو باعث نحوست سمجھتے ہیں چناچہ ان کے جواب میں فرمایا أَلا إِنَّما طائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ [ الأعراف/ 131] یعنی یہ ان کی بد اعمالیوں کی سزا ہے جو اللہ کے ہاں سے مل رہی ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : ۔ قالُوا اطَّيَّرْنا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ قالَ طائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ [ النمل/ 47] وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھیوں کو ہم بد شگون خیال کرتے ہیں ( صالح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ تمہاری بد شگوفی خدا کی طرف سے ہے ۔ قالُوا طائِرُكُمْ مَعَكُمْ [يس/ 19] انہوں نے کہا ہے کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَكُلَّ إِنسانٍ أَلْزَمْناهُ طائِرَهُ فِي عُنُقِهِ [ الإسراء/ 13] اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے ۔ میں انسان اعمال کو طائر کہا گیا ہے ( کیونکہ عمل کے سر زد ہوجانے کے بعد انسان کو یہ اختیار نہیں رہتا کہ اسے واپس لے گویا وہ ( اس کے ہاتھوں سے اڑجا تا ہے تطائر وا وہ نہایت تیزی سی گئے منتشر ہوگئے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے طاردو الیہ ذرافات ووحدانا تو جماعتیں بن کر اور اکیلے اکیلے اس کی طرف اڑتے چلے جاتے ہیں ۔ فجر مستطیر منتشر ہونے والی صبح قرآن میں ہے : ۔ وَيَخافُونَ يَوْماً كانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيراً [ الإنسان/ 7] اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں ۔ غبار مستطار بلند اور منتشر ہونے والا غبار فجر کو فاعل تصور کر کے اس کے متعلق مستطیر اسم فاعل کا صیغہ استعمال کرتے ہیں اور غبار کو مفعول تصور کر کے مستطار کہتے ہیں ۔ فرس مطار ہوشیار اور تیزرو گھوڑا ۔ خذ ماطا ر من شعر راسک یعنی اپنے سر کے پرا گندہ اور لمبے بال کاٹ ڈالو ۔ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ رجم الرِّجَامُ : الحجارة، والرَّجْمُ : الرّمي بالرِّجَامِ. يقال : رُجِمَ فهو مَرْجُومٌ ، قال تعالی: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] ، أي : المقتولین أقبح قتلة، وقال : وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْناكَ [هود/ 91] ، إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] ، ويستعار الرّجم للرّمي بالظّنّ ، والتّوهّم، وللشّتم والطّرد، نحو قوله تعالی: رَجْماً بِالْغَيْبِ وما هو عنها بالحدیث المرجّم «7» وقوله تعالی: لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] ، أي : لأقولنّ فيك ما تكره والشّيطان الرَّجِيمُ : المطرود عن الخیرات، وعن منازل الملإ الأعلی. قال تعالی: فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] ، وقال تعالی: فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] ، وقال في الشّهب : رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ( ر ج م ) الرجام ۔ پتھر اسی سے الرجیم ہے جس کے معنی سنگسار کرنا کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے رجمۃ ۔ اسے سنگسار کیا اور جسے سنگسار کیا گیا ہوا سے مرجوم کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ [ الشعراء/ 116] کہ تم ضرور سنگسار کردیئے جاؤ گے ۔ إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] کیونکہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری خبر پائیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے ۔ پھر استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ جھوٹے گمان تو ہم ، سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے رَجْماً بِالْغَيْب یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل کے تکے چلاتے ہیں ۔ (176) ، ، وماھو عنھا بالحدیث المرکم ، ، اور لڑائی کے متعلق یہ بات محض انداز سے نہیں ہے ۔ اور شیطان کو رجیم اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ خیرات اور ملائم اعلیٰ کے مراتب سے راندہ ہوا ہے قرآن میں ہے :۔ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيمِ [ النحل/ 98] تو شیطان مردود کے وسواس سے خدا کی پناہ مانگ لیاکرو ۔ فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ [ الحجر/ 34] تو بہشت سے نکل جا کہ راندہ درگاہ ہے ۔ اور شھب ( ستاروں ) کو رجوم کہا گیا ہے قرآن میں ہے :۔ رُجُوماً لِلشَّياطِينِ [ الملک/ 5] ان کی شیاطین کے لئے ایک طرح کا زوبنایا ہے ۔ رجمۃ ورجمۃ ۔ قبر کا پتھر جو بطور نشان اس پر نصب کیا جاتا ہے ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ لوگ رسولوں سے کہنے لگے کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم اپنی تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں قتل کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے قتل کی سخت تکلیف پہنچے گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ { قَالُوْٓا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ } ” انہوں نے کہا کہ ہمیں تم سے نحوست کا اندیشہ ہے۔ “ یعنی ہم تمہیں اپنے لیے فالِ بد سمجھتے ہیں۔ تم نے آکر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع کردی ہیں ان کی وجہ سے ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی نحوست کہیں ہم پر نہ پڑجائے اور اس کی پاداش میں کہیں ہم خدا کی گرفت میں نہ آجائیں۔ { لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہُوْا لَنَرْجُمَنَّکُمْ } ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کردیں گے “ { وَلَیَمَسَّنَّکُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ” اور تمہیں ضرور پہنچے گی ہماری طرف سے دردناک سزا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 What they meant was: "You are an evil omen for us. Our gods have become angry with us on account of what you have been saying against them. Now whatever calamity is befalling us is only because of you." Precisely the same thing used to be said by the disbelievers and the hypocrites of Arabia concerning the Holy Prophet: °If they suffer a loss, they say: this is because of you." (AnNisa': 77). That is why at several places in the Qur'an these people have been told that in the ancient times also people used to say such things of ignorance in regard to their Prophets. The people of Thamud said to their Prophet: "We regard you and your companions as a sign of bad omen." (An-Naml: 47). And the same was the attitude of the people of Pharaoh: "Whenever a good time came, they would say: This is but our due, and when there was a hard time, they would ascribe their calamities to Moses and his companions. " (Al-A'raf: 130).

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :14 اس سے ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ تم ہمارے لیے منحوس ہو ، تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع کی ہیں ان کی وجہ سے دیوتا ہم سے ناراض ہو گئے ہیں ، اور اب جو آفت بھی ہم پر نازل ہو رہی ہے وہ تمہاری بدولت ہی ہو رہی ہے ۔ ٹھیک یہی باتیں عرب کے کفار و منافقین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا کرتے تھے ۔ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ، اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہاری بدولت ہے ( النساء:77 ) ۔ اسی لیے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ ایسی ہی جاہلانہ باتیں قدیم زمانے کے لوگ بھی اپنے انبیاء کے متعلق کہتے رہے ہیں ۔ قوم ثمود اپنے نبی سے کہتی تھی اِطَّیَّرْنَا بِکَ وَ بِمَنْ مَّعَکَ ، ہم نے تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس پایا ہے ۔ ( النمل : 47 ) اور یہی رویہ فرعون کی قوم کا بھی تھا کہ فَاِذَا جَآءَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُوْا بِمُوسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ ۔ جب ان پر اچھی حالت آتی تو کہتے کہ یہ ہماری خوش نصیبی ہے ، اور اگر کوئی مصیبت ان پر آ پڑتی تو اسے موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے ( الا عراف: 130 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: بعض روایات میں ہے کہ ان حضرات کے بستی میں تشریف لانے اور دین حق کی دعوت دینے کے بعد جب بستی کے لوگوں نے نافرمانی پر کمر باندھے رکھی تو ان پر تنبیہ کے طور پر قحط مسلط کردیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے ایک تازیانہ سمجھنے کے بجائے الٹا اسے ان حضرات کی نحوست قرار دیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان حضرات کی دعوت کے نتیجے میں جو بحث مباحثہ شروع ہوا ہو، اسی کو انہوں نے نحوست سے تعبیر کیا ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:18) قالوا۔ یعنی اہل قریہ۔ بستی والوں نے کہا۔ تطیرنا۔ ماضی جمع متکلم تطیر (تفعیل) سے ہم نے برا شگون لیا۔ ہم نے منحوس جانا۔ تطیر فلان واطیر۔ کے اصل معنی تو کسی پرندہ سے شگون لینے کے ہیں۔ پھر یہ ہر چیز کے متعلق استعمال ہونے لگا۔ جس سے برا شگون لیا جائے اور اسے منحوس سمجھا جائے۔ انا تطیرنا بکم ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ طائر بمعنی نحوست ۔ مثلاً قالوا طائرکم معکم (36:19) انہوں (رسولوں) نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ لئن۔ لام تاکید اور ان حرف شرط سے مرکب ہے۔ لم تنتھوا۔ مضارع نفی حجد بلم۔ بلم کے آنے سے نون اعرابی آخر سے ساقط ہوگیا ہے۔ انتھاء (افتعال) مصدر۔ اگر تم باز نہ آئے ۔ اگر تم باز نہیں آئو گے۔ لنرجمنکم۔ لام جواب شرط کے لئے ہے نرجمن مضارع بانون تاکید ثقیلہ صیغہ جمع متکلم ۔ رجم ورجوم مصدر (باب نصر) ہم ضرور ضرور تم کو سنگسار کردیں گے۔ الرجام پتھر۔ الرجم سنگسار کرنا۔ مرجوم جس کو سنگسار کیا گیا ہو جیسے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے لتکونن من المرجومین (26:116) کہ تم ضرور ضرور سنگسار کر دئیے جائوگے۔ استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ۔ جھوٹے گمان۔ تو ہم، سب وشتم اور کسی کو دھتکار دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جھوٹے گمان کے معنی میں ہے رجما بالغیب (18:22) یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں اور دھتکار دینے کے معنی میں ہے :۔ فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم (16:98) تو شیطان مردود کے وسواس سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔ فاخرج منھا فانک رجیم (38:77) تو بہشت سے نکل جا کہ راندہ درگاہ ہے۔ قرآن مجید میں شہب (ستاروں ) کو رجوم کہا گیا ہے رجوما للشاطین (67:5) شیاطین کو مارنے کا آلہ۔ ولیمسنکم۔ وائو عاطفہ ہے لام جواب شرط کے لئے ہے یا تاکید کے لئے۔ یمسن مضارع بانون تاکید ثقیلہ ۔ مس مصدر (باب سمع) وہ ضرور پہنچے گا (ہمارے طرف سے درد ناک عذاب)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یہ بھی اسی قسم کی بات ہے جو کفار مکہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہی ( سورة نساء : 77) اور جو قوم ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہی ( نمل : 47) اور جو فرعون کی قوم والے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ (اعراف : 3)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ مطلب یہ ہوگا کہ تمام لوگوں میں ایک فتنہ ڈال دیا، جس سے مضرتیں پہنچ رہی ہیں، یہ نحوست ہے، اور اس نحوست کے سبب تم ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی اور الزام۔ بدبخت لوگوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے انبیائے کرام اور مصلح حضرات کو طعن وتشنیع اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی کچھ اس شہر کے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ قوم انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہنے لگی کہ جب سے تم ہمارے شہر میں آئے ہو اس وقت سے لے کر ہم مسائل اور مصائب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو ہم ہر صورت تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تمہیں اذیت ناک سزا دیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا کہ جن مسائل اور مصائب سے تم دوچار ہو یہ تمہارے اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔ مگر افسوس ! تم سمجھنے اور سدھرنے کی بجائے ہمیں سنگسار کرنے کی سوچتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم شرافت کی تمام حدوں کو پھلانگ چکے ہو۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا یہ منطقی نتیجہ ہوتا ہے کہ جو قوم اپنے نبی کی نافرمانی پر تل جائے اسے آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں بھی اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کے مقدر میں تباہی لکھی ہوتی ہے وہ اپنی اصلاح کی بجائے بگاڑ میں آگے ہی بڑھا کرتے ہیں اور اصلاح کرنے والوں کو اپنے انجام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ہر پیغمبر کے ساتھ اس کی قوم کے فجار اور سرکش لوگوں نے یہی روّیہ اختیار کیا تھا۔ جہاں تک بد شگونی اور بری فال نکالنے کا تعلق ہے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ ایک طرف انسان کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ اعصابی اور ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ ( لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ) [ الترغیب و الترہیب ]ِ ” جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے ‘ کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ایسے ہی کوئی خود جادو کرئے یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی ہے۔ “ کیا کوئی چیز منحوس ہوسکتی ہے ؟ (وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا عَدْوٰی وَلَا طِےْرَۃَ وَ لَا ھَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْاَسَدِ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب الْجُذَامِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ کوئی بھی بیماری متعدی نہیں۔ بد شگونی بھی نہیں ہے۔ نہ الوبد روح ہے اور نہ صفر کا مہینہ نحوست والا ہے اور کوڑھی شخص سے اس طرح بھاگوجس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ “ مسائل ١۔ مشرکین اور کفار انبیائے کرام (علیہ السلام) کو منحوس قرار دیتے تھے۔ ٢۔ انسان کو اپنے برے اعمال کی کچھ نہ کچھ سزا دنیا میں بھگتنا پڑتی ہے۔ ٣۔ سرکش اور نافرمان لوگ ہمیشہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ تفسیر بالقرآن نافرمان قوم کا اپنے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ رویہ : ١۔ کفار کہتے تھے کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (ابراہیم : ١٠) ٢۔ کفار نے انبیاء سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : ١٣) ٣۔ حضرت نوح کو قوم کے سرداروں نے کہا تو تو ہمارے جیسا ہی ایک آدمی ہے اور تیری پیروی کرنے والے بھی ادنیٰ لوگ ہیں۔ (ھود : ٢٧) ٤۔ حضرت موسیٰ کو فرعون نے کہا کیا تم اپنے جادو سے ہمیں ہماری زمین سے نکالنا چاہتے ہو۔ (طٰہٰ : ٥٧ ) ٥۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو قتل کیا گیا۔ ( البقرۃ : ٨٧) ٦۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر آل فرعون نے منحوس ہونے کا الزام لگایا۔ (الاعراف : ١٣١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قالوا انا تطیرنا۔۔۔۔۔ عذاب الیم (36: 18 “۔ تم منحوس لوگ ہو ، تمہاری وجہ سے ہم پر مصبیت آگئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہاری دعوت کہ وجہ سے ہماری بستی میں شرو فساد پھیل جائے گا۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم خاموش نہ رہ سکیں گے۔ اور ہمارے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ تم اس طرح دعوت دیتے چلے جاؤ۔ لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب الیم (36: 18) ” اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ یوں باطل نے اپنی برہمی کا اظہار کردیا اور ہدایت دینے والوں کو دھمکی دے دی اور پر امن کلمہ حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور فکر و خیال اور انداز گفتگو میں بدمستی کا اظہار کیا۔ لیکن رسولوں کا فیضہ تو یہ ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں وہ اپنی راہ پر چلتے رہیں۔ اس لیے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:۔ قالوا انا الخ : جب مشرکین سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو گھٹیا باتوں پر اتر آئے اور اللہ تعالیٰ نے بطور ابتلاء اور امتحان کچھ عرصہ کے لیے بارش روک دی تو کافر کہنے لگے یہ تمہاری نحوست کا اثر ہے (عیاذا باللہ) کہ بارش نہیں ہوتی اس لیے تم اپنی تبلیغ بند کردو۔ اگر تم اس سے باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور دردناک سزا دیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) گائوں کے لوگوں نے کہا ہم نے تو تم کو منحوس پایا اور ہم نے تم سے شگون بد لیا اور ہم نے تم کو نامبارک دیکھا اگر تم اپنے دعویٰ سے باز نہ آئو گے اور اپنی اس دعوت توحید کو بند نہ کرو گے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے عبرتناک سزا ملے گی اور تم کو ہمارے ہاتھوں سخت تکلیف پہنچے گی۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں قحط کے آثار نمایاں تھے اس بنا پر گائوں والوں نے ان کو منحوس کہا یا اس بنا پر کہا کہ تمہاری وجہ سے ہم میں اختلاف پیدا ہوگیا یہ تمہاری نحوست ہے۔