Allah tells,
قَالُوا
...
They (people) said:
i.e. the people of the city said to them,
...
إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ
...
For us, we see an evil omen from you;
meaning, `we do not see in your faces any sign of good for our lives.'
Qatadah said,
"They were saying, `if something bad befalls us, it will be because of you."'
Mujahid said,
"They were saying: People like you never enter a town, but its people are punished."
...
لَيِن لَّمْ تَنتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ
...
if you cease not, we will surely stone you,
Qatadah said,
"By throwing stones at you."
...
وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ
and a painful torment will touch you from us.
means, a severe punishment.
انبیاء و رسل سے کافروں کا رویہ ٭
ان کافروں نے ان رسولوں سے کا کہ تمہارے آنے سے ہمیں کوئی برکت و خیریت تو ملی نہیں ۔ بلکہ اور برائی اور بدی پہنچی ۔ تم ہو ہی بدشگون اور تم جہاں جاؤ گے بلائیں برسیں گی ۔ سنو اگر تم اپنے اس طریقے سے باز نہ آئے اور یہی کہتے رہے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے ۔ اور سخت المناک سزائیں دیں گے رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو ۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں ۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔ یہی بات فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی ۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی توکہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے ۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا تو حضرت موسی اور مومنوں کی بدشگونی پر اسے محمول کرتے ۔ جس کے جواب میں جناب باری نے فرمایا یعنی ان کی مصیبتوں کی وجہ ان کے بد اعمال ہیں جن کا وبال ہماری جانب سے انہیں پہنچ رہا ہے ۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی سے یہی کہا تھا اور یہی جواب پایا تھا ۔ خود جناب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی کہا گیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے یعنی اگر ان کافروں کو کوئی نفع ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے تہ کہدیجیے کہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے ۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ ان سے یہ بات بھی نہیں سمجھی جاتی؟ پھر فرماتا ہے کہ صرف اس وجہ سے کہ ہم نے تمہیں نصیحت کی ، تمہاری خیر خواہی کی ، تمہیں بھلی راہ سمجھائی ۔ تمہیں اللہ کی توحید کی طرف رہنمائی کی تمہیں اخلاص و عبادت کے طریقے سکھائے تم ہمیں منحوس سمجھنے لگے؟ اور ہمیں اس طرح ڈرانے دھمکانے لگے؟ اور خوفزدہ کرنے لگے؟ اور مقابلہ پر اتر آئے؟ حقیقت یہ ہے کہ تم فضول خرچ لوگ ہو ۔ حدود الہیہ سے تجاوز کر جاتے ہو ۔ ہمیں دیکھو کہ ہم تمہاری بھلائی چاہیں ۔ تمہیں دیکھو کہ تم ہم سے برائی سمجھو ۔ بتاؤ تو بھلا یہ کوئی انصاف کی بات ہے؟ افسوس تم انصاف کے دائرے سے نکل گئے ۔