Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 42

سورة يس

وَ خَلَقۡنَا لَہُمۡ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ مَا یَرۡکَبُوۡنَ ﴿۴۲﴾

And We created for them from the likes of it that which they ride.

اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And We have created for them of the like thereunto, on which they ride. Al-`Awfi said, narrating from Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, "This means the camel, for it is the ship of the land on which they carry goods and on which they ride." Ibn Jarir recorded that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Do you know what the Ayah: وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ (And We have created for them of the like thereunto, on which they ride), refers to" We said, "No." He said, "This refers to the ships which were made after the ship of Nuh, peace be upon him, which was similar to it." This was also the view of Abu Malik, Ad-Dahhak, Qatadah, Abu Salih and As-Suddi, that the Ayah وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ (And We have created for them of the like thereunto, on which they ride), refers to ships.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 اس سے مراد ایسی سواریاں ہیں جو کشتی کی طرح انسانوں اور سامان تجارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی چیزیں آگئیں۔ جیسے ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریلیں، بسیں، کاریں اور دیگر نقل و حمل کی اشیاء۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤١] من مثلہ سے مراد یہ بھی لی جاسکتی ہے کہ سیدنا نوح کی کشتی جیسی کشتی بنانا انسان نے سیکھ لیا جس کی تعلیم اللہ نے دی تھی۔ اس لحاظ سے سیدنا نوح ہی کشتی یا جہاز کے موجد ہیں اور یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے کہ کشتی جیسی کوئی اور چیز یا چیزیں بھی پیدا کیں اور اس سے مراد وہ تمام سواریاں لی جاسکتی ہیں جو سمندر یا خشکی یا فضا میں چلتی ہیں اور انسان ان پر سوار ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے انسان کو کشتی بنانے کا علم نہ تھا۔ نوح (علیہ السلام) کی بنائی ہوئی کشتی کے ذریعے سے طوفان سے بچ نکلنے والوں نے بحری سفر کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا جو عام کشتیوں سے باد بانی جہازوں تک پہنچا، پھر انجن والے جہاز ایجاد ہوئے، جن کا سلسلہ ایٹمی ایندھن سے چلنے والے طیارہ بردار جہازوں اور آبدوزوں تک جا پہنچا ہے۔ آگے دیکھیے کیا کچھ ایجاد ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم نے ان کے لیے کشتی کی طرح اور سواریاں بھی پیدا کی ہیں، مثلاً اونٹ جو صحرا کا جہاز کہلاتا ہے، اسی طرح موٹر، ریل اور ہوائی جہاز وغیرہ۔ اگرچہ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے، مگر اگلی آیت میں غرق کے ذکر کی وجہ سے ” مِّنْ مِّثْلِهٖ “ سے مراد ایسی سواریاں لینا بہتر ہے جو سمندری سفر میں کام آتی ہیں، جن میں ہوائی جہاز بھی شامل ہیں۔ نو ایجاد سواریوں کا پیشگی ذکر سورة نحل (٨) میں ملاحظہ فرمائیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

No wonder if the Qur&an is alluding to the aeroplane! But, it is obvious that the Qur&an has not specifically named a camel or some other particular mode of conveyance at this place. This includes every such means of transportation that carries people and their baggage, accompanied or unaccompanied, right up to their desired destination. In our time, the invention of aeroplanes has made it amply clear that aeroplanes are the greatest substantiation of the Qur&anic statement: مِّن مِّثْلِهِ (mim-mithlihi: things similar to it). Then, its similarity with boat or ship is strongly supportive of it, because the way the ship of the sea sails on the surface of the water, and the mass of water does not make it drown, similarly, the airplane sails or flies over the bed of air and it does not throw it down. No wonder if the Qur&an may have left the statement: مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْ‌كَبُونَ (mim-mithlihi ma yarkabun: things similar to it that they ride) ambiguous, so that all modes of conveyance and transportation that continue to be invented right through the last Day of Qiyamah get to be included therein. And Allah knows best.

قرآن میں ہوائی جہاز کا ذکر : مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے اس جگہ اونٹ یا کسی خاص سواری کا نام نہیں لیا، بلکہ مبہم چھوڑا ہے، جس میں ہر ایسی سواری داخل ہے جو انسان اور اس کے اسباب و سامان کو زیادہ سے زیادہ اٹھا کر منزل مقصود پر پہنچا دے۔ اس زمانے کی نئی ایجاد ہوائی جہازوں نے یہ واضح کردیا کہ من مثلہ کا سب سے بڑا مصداق ہوائی جہاز ہیں، اور کشتی کے ساتھ اس کی تمثیل بھی اس کی زیادہ موید ہے، کہ جس طرح پانی کا جہاز پانی پر تیرتا ہے پانی اس کو غرق نہیں کرتا، ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے ہوا اس کو نیچے نہیں گراتی، اور عجب نہیں کہ قرآن حکیم نے اسی لئے من مثلہ ما یرکبون کو مبہم رکھا ہو تاکہ قیامت تک ایجاد ہونے والی سب سواریاں اس میں شامل ہوجائیں۔ واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا يَرْكَبُوْنَ۝ ٤٢ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں ۔ ركب الرُّكُوبُ في الأصل : كون الإنسان علی ظهر حيوان، وقد يستعمل في السّفينة، والرَّاكِبُ اختصّ في التّعارف بممتطي البعیر، وجمعه رَكْبٌ ، ورُكْبَانٌ ، ورُكُوبٌ ، واختصّ الرِّكَابُ بالمرکوب، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] ، فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ ) رک ب ) الرکوب کے اصل معنی حیوان کی پیٹھ پر سوار ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] تاکہ ان سے سواری کا کام لو اور ( سواری کے علاوہ یہ چیزیں ) موجب زینت ( بھی ) ہیں ۔ مگر کبھی کشتی وغیرہ سواری ہونے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ [ العنکبوت/ 65] پھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور حضرت نوح کی کشتی ہی جیسی چیزیں یعنی اونٹ اور دیگر سواریاں پیدا کیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ { وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ } ” اور ہم نے ان کے لیے اسی طرح کی اور چیزیں بھی پیدا کردیں جن پر یہ لوگ سواری کرتے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

39 This indicates that the first vessel ever to be made in the world was the one made by the Prophet Noah. Before that time man did not know any method of crossing the rivers and the seas. This method was first of all taught by Allah to the Prophet Noah, and when some servants, of Allah were rescued in it from the Flood, their future generations started making boats and ships for their sea journeys.

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :39 اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ تاریخ میں پہلی کشتی جو بنی وہ حضرت نوح علیہ السلام والی کشتی تھی ۔ اس سے پہلے انسان کو دریاؤں اور سمندروں کے عبور کرنے کا کوئی طریقہ معلوم نہ تھا ۔ اس طریقے کی تعلیم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو دی ۔ اور جب ان کی بنائی ہوئی کشتی پر سوار ہو کر اللہ کے کچھ بندے طوفان سے بچ نکلے تو آئندہ ان کی نسل نے بحری سفروں کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ ( آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:42) من مثلہ۔ من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے اور تبعیضیہ بھی۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الفلک ہے مثل۔ مانند، اسی طرح کے، اس جیسے، یعنی کشتی کی طرح کے کشتی کی مانند۔ شکل وساخت کے لحاظ سے یا استعمال کے لحاظ سے مثلاً بحری جہاز ، پرانی ونئی قسم کے ۔ بادبانوں سے چلنے والے یا انجنوں سے چلنے والے۔ پانی میں چلنے والے یا ہوا میں اڑنے والے۔ ہوائی جہاز وغیرہ یا خشکی پر چلنے والے موٹر۔ ریل گاڑی وغیرہ۔ من مثلہ سے مراد کل ما یرکب۔ ہر وہ چیز جان دار یا بےجان ، تیرنے والی اڑنے والی، زمین پر چلنے والی جو ساری یا سامان کی نقل و حرکت کے کام آسکے۔ ما یرکبون ” ما “ موصولہ ہے یرکبون مضارع جمع مذکر غائب۔ جن پر وہ سوار ہوتے ہیں :۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اس سے مراد وہ بحری جہاز ہیں جو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے جہاز کے بعد بنائے گئے یا جہاز کے علاوہ دوسری سواری کی چیزیں مراد ہیں جیسے اونٹ، ریل گاڑی وغیرہ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(42) اور ہم نے کشتی ہی کی طرح کی اور چیزیں بھی ان کے لئے پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ یعنی ان کو بحری اور بری سفر کی آسانیاں دیں کہ ان کی اولاد کشتی میں جو مسافروں سے بھری ہوتی ہے سفر کرتی پھرتی ہے اور تجارت کرتی ہے۔ بری سفر کے لئے ان کو گھوڑے اور اونٹ دیئے جن پر سوار ہو کر یہ جنگل کا سفر کرتے ہیں اور زندگی کے منافع حاصل کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ کشتی سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی مراد ہے جس میں اہل عرب کے آبائو اجداد سوار ہو کر بچے تھے۔ ذریۃ کا لفظ اضداد میں سے جس طرح اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اسی طرح آبائو اجداد پر بولا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! ان کے بزرگوں پر احسان ہوا یا ان کی اولاد پر ہوتا ہے دونوں حالتوں میں قدرت خداوندی کی کشتی ایک نشانی ہے کہ اتنے بڑے وزن کو پانی کی سطح پر لے کر چلتی ہے اور آج کل جہاز رانی میں جو ترقی ہوئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اس کی وجہ سے تجارت کو جو فروغ ہوا ہے وہ ظاہر ہے۔