Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 43

سورة يس

وَ اِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡہُمۡ فَلَا صَرِیۡخَ لَہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡقَذُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾

And if We should will, We could drown them; then no one responding to a cry would there be for them, nor would they be saved

اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے ۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ وہ بچائے جائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ ... And if We will, We shall drown them, means, those who are on board the ships. ... فَلَ صَرِيخَ لَهُمْ ... and there will be no shout for them, means, there will be no one to save them from their predicament. ... وَلاَ هُمْ يُنقَذُونَ nor will they be saved. means, from what has befallen them.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٢] سمندر میں غرقابی کا حسرتناک منظر :۔ سمندر میں انسان کے کشتی پر سوار ہو کر سفر کرنے کے منظر کو قرآن نے متعدد مقامات پر اپنی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے اگر کسی نے سمندری سفر کیا ہو تو وہی اس منظر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ سمندر کے عین درمیان جہاز چل رہا ہے اوپر دیکھیں تو صرف نیلا آسمان نظر آتا ہے کوئی پرندہ تک نظر نہیں آتا، نیچے دیکھیں تو حد نگاہ تک سیاہ پانی نظر آتا ہے۔ پھر جب سمندر کی موجیں اور تیز ہوائیں جہاز کو ڈگمگا دیتی ہیں تو ہر مسافر سہما سہما نظر آنے لگتا ہے۔ نزدیک کوئی خشکی نہیں، کوئی بستی نہیں جہاز میں سوار تمام مسافروں کی زندگی کا انجام بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ ایک شدید جھٹکا لگے جو جہاز کو الٹ دے تو تمام مسافروں کی لاشیں سمندر کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ کر دم لیں یا کسی آبی جانور کا لقمہ بن جائیں اور اس حال میں جان دیں کہ ان کے لواحقین کو خبر تک بھی نہ ہوسکے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ : یعنی یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے پانی میں بحری جہاز اٹھانے کی خوبی رکھی اور انسان کو کشتیاں اور جہاز بنانے کا سلیقہ سکھایا، پھر ہمارا ہی احسان ہے کہ ہم انھیں سلامتی کے ساتھ منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں، پھر نہ کوئی ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ وہ خود اپنے آپ کو غرق ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَہُمْ وَلَا ہُمْ يُنْقَذُوْنَ۝ ٤٣ۙ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] ، وقال : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] ، وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] ، ويُنْشِئُ النَّشْأَةَالْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] فهذه كلُّها في الإيجاد المختصِّ بالله، وقوله تعالی: أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] فَلِتشبيه إيجادِ النَّارِ المستخرَجة بإيجادِ الإنسانِ ، وقوله : أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] أي : يُرَبَّى تربيةً کتربيةِ النِّسَاء، وقرئ : يَنْشَأُ «1» أي : يَتَرَبَّى. ( ن ش ء) النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن میں ہے : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے ۔ نشافلان کے معنی کے بچہ کے جوان ہونے کے ہیں ۔ اور نوجوان کو ناشی کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] کچھ نہیں کہ رات کا اٹھنا دنفس بہیمی کی سخت پامال کرتا ہے ۔ میں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں ۔ اسی سے نشاء السحاب کا محاورہ ہے جس کے معنی فضا میں بادل کے رونما ہونے اور آہستہ آہستہ بڑھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے َ : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے ۔ الانشاء ۔ ( افعال ) اس کے معنی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں ۔ عموما یہ لفظ زندہ چیز ۔۔ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] وہ خدا ہی جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ اور تمہاری کان اور آنکھیں اور دل بنائے ۔ نیز فرمایا : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] وہ تم کو خوب جانتا ہے جسب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی ۔ وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں ۔ ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا ويُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا ۔ ان تمام آیات میں انسشاء بمعنی ایجاد استعمال ہوا ہے جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] بھلا دیکھو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ۔ میں آگ کا درخت اگانے پر بطور تشبیہ انشاء کا لفظ بولا گیا ہے اور آیت کریمہ ) أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] کیا وہ جوز یور میں پرورش پائے ۔ میں ینشا کے معنی تربیت پانے کے ہیں نفی عورت جو زبور میں تربیت ۔ ایک قرآت میں ينشاء ہے یعنی پھلے پھولے ۔ غرق الغَرَقُ : الرّسوب في الماء وفي البلاء، وغَرِقَ فلان يَغْرَقُ غَرَقاً ، وأَغْرَقَهُ. قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔ صرخ : يه لفظ مفردات القرآن سے نهيں ملا الصَّرْخَةُ : الصَّيْحَةُ الشَّدِيدَةُ عِنْدَ الْفَزَعِ أَو الْمُصِيبَةِ. وَقِيلَ الصُّراخُ الصَّوْتُ الشَّدِيدُ مَا كَانَ؛ صَرَخَ يصرُخُ صُراخاً. وَمِنْ أَمثالهم : كانَتْ كَصَرْخَةِ الحُبْلى؛ للأَمر يفجَؤُك . وَالصَّارِخُ وَالصَّرِيخُ : الْمُسْتَغِيثُ. وَفِي الْمَثَلِ : عَبْدٌ صَريخُهُ أَمَةٌ أَي نَاصِرُهُ أَذل مِنْهُ وأَضعف؛ وَقِيلَ : الصَّارِخُ الْمُسْتَغِيثُ وَالْمُصْرِخُ الْمُغِيثُ ، ؛ وَقِيلَ : الصَّارِخُ الْمُسْتَغِيثُ وَالصَّارِخُ الْمُغِيثُ؛ قَالَ الأَزهري : وَلَمْ أَسمع لِغَيْرِ الأَصمعي فِي الصَّارِخِ أَن يَكُونَ بِمَعْنَى الْمُغِيثِ. قَالَ : وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ عَلَى أَن الصارخ المستغیث، والمصرخ المغیث، وَالْمُسْتَصْرِخَ الْمُسْتَغِيثُ أَيضاً. وَرَوَى شَمِرٌ عَنْ أَبي حَاتِمٍ أَنه قَالَ : الِاسْتِصْرَاخُ الِاسْتِغَاثَةُ ، والاستصراخ الْإِغَاثَةُ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ : أَنه اسْتَصْرَخَ عَلَى امرأَته صَفِيَّةَ اسْتِصْرَاخَ الْحَيِّ عَلَى الْمَيِّتِ أَي اسْتَعَانَ بِهِ لِيَقُومَ بشأْن الْمَيِّتِ فَيُعِينَهُمْ عَلَى ذَلِكَ ، وَالصُّرَاخُ صَوْتُ اسْتِغَاثَتِهِمْ؛ قَالَ ابْنُ الأَثير : اسْتُصْرِخ الإِنسان إِذا أَتاه الصَّارِخُ ، وَهُوَ الصَّوْتُ يُعْلِمُهُ بأَمر حَادِثٍ لِيَسْتَعِينَ بِهِ عَلَيْهِ ، أَو يَنْعَى لَهُ مَيْتًا . واسْتَصْرَخْتُهُ إِذا حَمَلْتَهُ عَلَى الصُّرَاخِ. وَفِي التَّنْزِيلِ : مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَما أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَ . والصریخُ : الْمُغِيثُ ، وَالصَّرِيخُ الْمُسْتَغِيثُ أَيضاً ، مِنَ الأَضداد؛ قَالَ أَبو الْهَيْثَمِ : مَعْنَاهُ مَا أَنا بِمُغِيثِكُمْ. قَالَ : وَالصَّرِيخُ الصَّارِخُ ، وَهُوَ الْمُغِيثُ مِثْلُ قَدِيرٍ وَقَادِرٍ. واصْطَرَخَ القَومُ وَتَصَارَخُوا وَاسْتَصْرَخُوا : اسْتَغَاثُوا . وَالِاصْطِرَاخُ : التَّصَارُخُ ، افْتِعَالٌ. وَالتَّصَرُّخُ : تَكَلُّفُ الصُّرَاخِ. وَيُقَالُ : التَّصَرُّخُ بِهِ حُمْقٌ أَي بِالْعُطَاسِ. وَالْمُسْتَصْرِخُ : الْمُسْتَغِيثُ؛ تَقُولُ مِنْهُ : اسْتَصْرَخَنِي فأَصرخته . والصَّريخُ : صوتُ الْمُسْتَصْرِخِ. وَيُقَالُ : صَرَخَ فُلَانٌ يصرخُ صُرَاخًا إِذا استغاث فقال : وا غوثاهْ وا صَرْخَتاهْ قَالَ : وَالصَّرِيخُ يَكُونُ فَعَيْلًا بِمَعْنَى مُفعِل مِثْلَ نَذِيرٍ بِمَعْنَى مُنْذِرٍ وَسَمِيعٍ بِمَعْنَى مُسْمِعٍ؛ ( لسان العرب) یصطرخون۔ مضارع جمع مذکر غائب اصطراخ ( افتعال) مصدر افتعال کی تا کو طا سے بدلا گیا ہے وہ چیخیں گے ۔ وہ چلائیں گے ۔ وہ فریاد کریں گے۔ اور جگہ قرآن مجید ہے فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ (28:18) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے۔ اور وان نشا نغرقہم فلا صریخ لہم (36:43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پس ان کا کوئی فریادرس نہ ہو۔ ( انوار البیان) نقذ الإِنْقَاذُ : التَّخْلِيصُ من وَرْطَةٍ. قال تعالی: وَكُنْتُمْ عَلى شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْها [ آل عمران/ 103] والنَّقْذُ : ما أَنْقَذْتَهُ ، وفَرَسٌ نَقِيذٌ: مأخوذٌ من قومٍ آخرین كأنه أُنْقِذَ منهم، وجمْعُه نَقَائِذُ. ( ن ق ذ) الانقاذ کسی خطرہ یا ہلاکت سے خلاصی دینا قرآن پاک میں ہے : ۔ وَكُنْتُمْ عَلى شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْها[ آل عمران/ 103] اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچالیا ۔ النقذ بمعنی چھڑا یا ہوا فر س نقیذ دشمن کے ہاتھ سے چھینا ہوا گھوڑا گویا وہ ان سے بچایا گیا ہے نقا ئذ ضعف والضَّعْفُ قد يكون في النّفس، وفي البدن، وفي الحال، وقیل : الضَّعْفُ والضُّعْفُ لغتان . قال تعالی: وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] ( ض ع ف ) الضعف اور الضعف رائے کی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے اور بدن اور حالت کی کمزوری پر بھی اور اس میں ضعف اور ضعف ( ولغت ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفاً [ الأنفال/ 66] اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کس قدر کمزور ی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٣۔ ٤٤) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو سمندر میں غرق کردیں اور پھر غرق ہونے سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہو اور نہ یہ ڈوبنے سے بچائے جائیں مگر یہ ہماری مہربانی ہے کہ ہم انہیں غرق ہونے سے بچا لیتے ہیں اور ایک مقررہ وقت تک یعنی ان کو موت اور ہلاکت تک فائدہ دینا منظور ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٣ { وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَہُمْ وَلَا ہُمْ یُنْقَذُوْنَ } ” اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں ‘ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ ہی وہ چھڑائے جائیں گے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:43) وان نشا نغرقہم واو عاطفہ ہے ان شرطیہ نشا مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ جمع متکلم ۔ اور اگر ہم چاہیں ۔ شیء ومشیۃ مصدر (باب فتح) ۔ نغرقہم نغرق مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) صیغہ جمع متکلم۔ اغراق (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو ہم غرق کردیں۔ فلا۔ برفا برائے عطف وتقیب لا نفی جنس کے لئے ہے۔ صریخ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ صرخ یصرخ (نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی فریاد کرنا۔ چلانا۔ مدد کے لئے پکارنا کے ہیں۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ پس وہ کوئی فریاد نہ کرسکیں گے۔ اور اگر یہ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے تو یہ اضداد میں سے ہے اور اس کے معنی ہوں گے فریاد رس (فریاد کو پہنچنے والا) یا فریاد دی ، (فریاد کرنے والا) اس کی جمع صرخاء ہے۔ فلا صریخ لہم۔ پس ان کے لئے کوئی فریاد سننے والا یا فریاد رس نہ ہوگا۔ ولاہم ینقذون۔ وائو عاطفہ ۔ لا ینقذون مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب، ہم ضمیر جمع مذکر غائب کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔ اور نہ ہی وہ (ڈوبنے سے ) بچائے جائیں گے۔ ینقذون انقاذ (افعال) مصدر سے ہے بمعنی خطرہ ، یا ہلاکت سے خلاصی پانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا۔ (3:102) اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وان نشا ۔۔۔۔۔ الٰی حین (36: 44) ” ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ گہرے سمندروں میں کشتی کی حقیقت وہی ہوتی ہے جس طرح طوفان میں ایک پر کی ہوتی ہے ۔ جس قدر بھی کشتی بھاری اور بڑی ہو ، اور چاہے وہ بہت ہی اعلیٰ سائنسی اصولوں کے مطابق بنی ہو۔ اگر ان کشتیوں کے ساتھ اللہ کی رحمت اور شفقت نہ ہو تو وہ رات یا دن کے کسی بھی لمحے میں تباہ ہوجائیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے سمندروں کا سفر چھوٹے بجرے میں ہواہویا بڑے بحری جہاز میں۔۔۔۔ وہ سمندر کی ہولناکی کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ سمندر کی طاقتور لہروں کے مقابلے میں انسانی بچاؤ کی تدابیر کس قدر معمولی ہوتی ہیں ۔ اس لیے ایسے لوگ اللہ کی رحمت کی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم کائنات میں عالم طبیعت کے طوفانوں اور انقلابات کے مقابلے میں صرف اللہ کی رحمت ہے جس نے سرکش طبیعی قوتوں کی لگام تھام رکھی ہے ۔ زمین و آسمان میں اللہ کے دست قدرت کے سوا اور کوئی تمہیں ہے جس نے سب چیزوں کو تھام رکھا ہے ۔ یہاتک کہ قیام قیامت کا وقت آپہنچے جس طرح اللہ حکیم وخبیر نے اس کے لیے وقت مقرر کیا ہے ۔ ومتاعا الٰی حین (36: 44) ” پھر وقت خاص تک متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ لیکن ان واضح ترین نشا نیوں کے باوجود لوگ غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ہیں ۔ ان کی نظر ان نشانیوں پر نہیں پڑتی ۔ اور ان کے دل بیدار نہیں ہوتے اور وہ نگار اور تمسخرانہ انداز کو نہیں چھوڑتے ۔ اور بس انہوں نے یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو بس اسے لے ہی آؤ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مزید فرمایا کہ یہ لوگ جو جہازوں اور کشتیوں میں امن وامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں، یہ امن وامان سے رکھنا اور ڈوبنے سے حفاظت کرنا ہمارا ہی انعام ہے۔ (وَاِِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَہُمْ ) (اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر انہیں کوئی فریاد رس نہ ملے) (وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ) (اور نہ انہیں خلاصی دی جائے) (اِِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِِلٰی حِیْنٍ ) (مگر یہ کہ ہماری مہربانی ہوجائے اور ایک وقت معین تک انہیں فائدہ دینا منظور ہو) اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے محفوظ فرماتا ہے اور وقت معین تک فائدہ پہنچاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو جو غرق سے بچا سکے اور نہ یہ موت سے خلاصی حاصل کرسکیں۔