Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 48

سورة يس

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾

And they say, "When is this promise, if you should be truthful?"

وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا ، سچے ہو تو بتلاؤ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelievers thought that the Day of Resurrection would never come to pass Allah tells, وَيَقُولُونَ ... And they say: Allah tells us how the disbelievers thought that the Day of Resurrection would never come to pass, as they said: ... مَتَى هَذَا الْوَعْدُ ... "When will this promise be fulfilled..." يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ بِهَا Those who believe not therein seek to hasten it. (42:18) ... إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ if you are truthful." Allah says: مَا يَنظُرُونَ إِلاَّ صَيْحَةً وَاحِدَةً تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی ۔ کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے ۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے ، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا ۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہو جائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کر دیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے کچھ کہہ سن سکے ، کوئی وصیت اور نصیحت کر سکے اور نہ ہی انہیں اپنے گھروں کو واپس جانے کی طاقت رہے گی ۔ اس آیت کے متعلق بہت سے آثار و احادیث ہیں جنہیں ہم دوسری جگہ وارد کر چکے ہیں ۔ اس پہلے نفخہ کے بعد دوسرا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب مر جائیں گے ، کل جہان فنا ہو جائے گا ، بجز اس ہمیشگی والے اللہ عزوجل کے جسے فنا نہیں ۔ اس کے بعد پھر جی اٹھنے کا نفخہ ہو گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ : کفار چونکہ قیامت کو نہیں مانتے تھے، اس لیے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر تم قیامت لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا، یہ بتاؤ کہ وہ کب آئے گی ؟ اس سے ان کا مقصود تاریخ معلوم ہونے پر اس کی تیاری نہ تھا، بلکہ محض جھٹلانا اور مذاق اڑانا تھا کہ جب وہ فوراً قیامت نہ لاسکیں گے تو ہم کہیں گے قیامت وغیرہ کچھ نہیں۔ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : یہ الفاظ ابھارنے کے لیے اور جھوٹا ثابت کرنے میں زور پیدا کرنے کے لیے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور یہ (کافر) لوگ (پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین سے بطور انکار) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (قیامت کا جو اوپر آیت میں مذکور ہے اور ویسے بھی اکثر اس کی خبر دیا کرتے ہو وہ) کب ہوگا اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو (تو بتلاؤ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ جو بار بار پوچھ رہے ہیں تو گویا) یہ لوگ بس ایک آواز سخت (یعنی نفخہ اولیٰ ) کے منتظر ہیں جو ان کو (یعنی مطلق کفار کو) آپکڑے گی اور وہ سب (اس وقت) باہم (عام معمول کے مطابق اپنے معاملات میں) لڑ جھگڑ رہے ہوں گے سو (اس آواز کے ساتھ معاً اس طرح فنا ہوجائیں گے) نہ تو وصیت کرنے کی فرصت ہوگی، اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاسکیں گے (بلکہ جو جس حال میں ہوگا مر کر رہ جائے گا) اور (پھر دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو وہ سب یکایک قبروں سے (نکل نکل کر) اپنے رب کی طرف (یعنی جہاں حساب ہوگا) جلدی جلدی چلنے لگیں گے (اور وہاں کی ہول وہیبت دیکھ کر) کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ہم کو ہماری قبروں سے کس نے اٹھا دیا (کہ یہاں کی نسبت سے تو وہاں ہی راحت میں تھے، فرشتے جواب دیں گے کہ) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا رحمان نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبر سچ کہتے تھے (مگر تم نے نہ مانا تھا، آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) وہ (نفخہ ثانیہ صور کا) بس ایک زور کی آواز ہوگی (جیسے نفخہ اولیٰ بھی صحیحہ واحدہ تھا، کما قال تعالیٰ ما ینظرون الا صیحة واحدة، اسی طرح یہ بھی ایک آواز ہوگی) جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کردیئے جائیں گے (پہلے موقف کی طرف چلنا مذکور تھا اور یہاں پہنچ جانا اور یہ چلنا اور پہنچنا جبراً و قہراً ہوگا۔ قرآن کریم کے الفاظ محضرون اور (آیت) جاءت کل نفس معہا سائق۔ سے معلوم ہوتا ہے) پھر اس دن کسی شخص پر ذرا ظلم نہ ہوگا اور تم کو بس انہی کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم (دنیا میں کفر وغیرہ) کیا کرتے تھے (یہ تو اہل جہنم کا حال ہوا اور) اہل جنت (کا حال یہ ہے کہ وہ) بیشک اس روز اپنے مشغلوں میں خوش دل ہوں گے وہ اور ان کی بیبیاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (اور) ان کے لئے وہاں (ہر طرح کے) میوے ہوں گے اور جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا (اور) ان کو پروردگار مہربان کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا (یعنی حق تعالیٰ فرمائیں گے السلام علیکم یا اھل الجنة، رواہ ابن ماجہ) اور (آگے پھر تتمہ ہے قصہ اصحاب جہنم کا کہ ان کو موقف میں حکم ہوگا کہ) اے (کفر کے ارتکاب کرنیوالے) مجرمو آج (اہل ایمان سے) الگ ہوجاؤ (کیونکہ ان کو جنت میں بھیجنا ہے اور تم کو دوزخ میں اور اس وقت ان سے ملامت کے طور پر یہ فرمایا جائے گا) کہ اے اولاد آدم (اور اسی طرح جنات سے بھی خطاب ہوگا، دل علیہ قولہ تعالیٰ یمعشر الجن والانس الخ) کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور یہ کہ میری (ہی) عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے (مراد عبادت سے اطاعت مطلقہ ہے وہذا کقولہ تعالیٰ (آیت) لا تتبعوا خطوات الشیطن ولا یفتننکم الشیطن) اور (نیز تم کو شیطان کی نسبت یہ بات بھی معلوم کرائی تھی کہ) وہ تم میں (یعنی تمہاری بنی نوع میں) ایک کثیر مخلوق کو گمراہ کرچکا (ہے جن کی گمراہی کا وبال بھی پچھلی کافر قوموں کے واقعات عذاب کے سلسلے میں بتلا دیا گیا تھا) سو کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے تھے (کہ اگر ہم اس کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوجاویں گے تو ہم بھی اس طرح مستحق عذاب ہوں گے تو (اب) یہ جہنم ہے جس کا تم سے (کفر کی تقدیر پر) وعدہ کیا جایا کرتا تھا۔ آج اپنے کفر کے بدلے اس میں داخل ہو۔ آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے (جس سے یہ جھوٹے عذر پیش نہ کرسکیں، جیسا شروع شروع میں کہیں گے (آیت) واللہ ربنا ماکنا مشرکین) اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے جو کچھ یہ لوگ کیا کرتے تھے، (یہ عذاب تو آخرت میں ہوگا) اور اگر ہم چاہتے تو (دنیا ہی میں ان کے کفر کی سزا میں) ان کی آنکھوں کو ملیا میٹ کردیتے (خواہ آنکھ کی بینائی کو یا خود آنکھ کے عضو ہی کو) پھر یہ راستے کی طرف (چلنے کے لئے) دوڑتے پھرتے سو ان کو کہاں نظر آتا (جیسا قوم لوط پر ایسا ہی عذاب آیا تھا، کما قال تعالیٰ فطمسنا) اور (اس سے بڑھ کر) اگر ہم چاہتے تو (ان کی سزائے کفر میں) ان کی صورتیں بدل ڈالتے (جیسا پہلے بعضے لوگ بندر اور خنزیر ہوگئے) اس حالت سے کہ یہ جہاں ہیں وہیں رہ جاتے (یعنی مسخ کے ساتھ یہ بھی ہوتا کہ ان کو جانور بنا دیتے اور جانور بھی اپاہج جو اپنی جگہ سے نہ ہل سکیں) جس سے یہ لوگ نہ آگے کو چل سکتے ہیں اور نہ پیچھے کو لوٹ سکتے ہیں اور (اس کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہئے کہ آنکھوں کا طمس اور صورتوں کا مسخ کیسے ہوجاتا ؟ دیکھو اس کی ایک نظیر پر ہماری قدرت شاہد ہے کہ) ہم جس کی زیادہ عمر کردیتے ہیں (یعنی بہت بوڑھا کردیتے ہیں) تو اس کو طبعی حالت میں الٹا کردیتے ہیں (طبعی حالت سے مراد عقل و شعور اور سننے دیکھنے وغیرہ کی قوتیں اور قوت ہاضمہ، نامیہ وغیرہ اور رنگ و روغن و حسن جمال ہیں، اور الٹا کرنے سے مراد ہے ان کا انقلاب اور تغیر حالات اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف، اچھے سے برے کی طرف، پس طمس و مسخ بھی ایک قسم کا تغیر ہے کامل سے ناقص کی طرف) سو کیا (اس حالت کو دیکھ کر بھی) وہ لوگ نہیں سمجھتے (کہ جب ایک تغیر پر قدرت ہے تو دوسری پر بھی ہے، بلکہ قدرت کی نسبت تو جمیع ممکنات کے ساتھ مساوی ہے گو ان میں تناظر و تماثل بھی نہ ہو سو ان لوگوں کو اس پر نظر کر کے ڈرنا اور کفر کو ترک کردینا چاہئے)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ ٤٨ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ متی مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ، ( م ت ی ) متی ۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا ) وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور یہ کفار مکہ رسول اکرم سے کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم اپنے اس دعوی میں کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے سچے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨ { وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ” اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ‘ اگر تم لوگ سچے ہو ! “ یہاں وعدے سے قیامت کا وعدہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور عذاب آنے کا وعدہ بھی۔ یعنی آپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ایمان نہ لانے کی پاداش میں ہم پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا۔ چناچہ ہم آپ کی دعوت کا انکار تو کرچکے ہیں ‘ اب وہ عذاب ہم پر آخر کب آئے گا ؟ یا اگر قیامت کے بارے میں آپ کا دعویٰ سچا ہے تو ذرا یہ بھی بتادیں کہ قیامت آخر کب برپا ہوگی ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44 After Tauhid the other question about which a dispute was raging between the Holy Prophet and the disbelievers was the question of the Hereafter. Rational arguments about this have been given in the end of the discourse. Here, before giving the arguments, the Hereafter has been depicted with all its horrors so that the people should know that what they are refusing to believe in cannot be averted by their denial, but they have to meet and experience it one day inevitably. 45 The question did not mean that they wanted to know the exact date of the coming of the Hereafter, and if, for instance, they were told that it would take place on such and such a date in such and such a month and year, their doubts would have been removed and they would have believed in it. Such questions, in fact, were put as a challenge only for the sake of argument. What they meant to say was that there would be no Resurrection whatever, as if to say, "You are threatening us with Resurrection without rhyme or reason. " That is why in reply it has not been said that Resurrection will take place on such and such a day, but that it shall come and shall be accompanied by such and such honors."

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :44 توحید کے بعد دوسرا مسئلہ جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار کے درمیان نزاع برپا تھی وہ آخرت کا مسئلہ تھا ۔ اس کے متعلق عقلی دلائل تو آگے چل کر خاتمہ کلام پر دیے گئے ہیں ۔ مگر دلائل دینے سے پہلے یہاں اس مسئلے کو لے کر عالم آخرت کا ایک عبرتناک نقشہ ان کے سامنے کھینچا گیا ہے تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ جس چیز کا وہ انکار کر رہے ہیں وہ ان کے انکار سے ٹلنے والی نہیں ہے بلکہ لا محالہ ایک روز ان حالات سے انہیں دوچار ہونا ہے ۔ سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :45 اس سوال کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ لوگ فی الواقع قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے ، اور اگر مثلاً ان کو یہ بتا دیا جاتا کہ وہ فلاں سنہ میں فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو پیش آئے گی تو ان کا شک رفع ہو جاتا اور وہ اسے مان لیتے ۔ دراصل اس طرح کے سوالات وہ محض کج بحثی کے لیے چیلنج کے انداز میں کرتے تھے اور ان کا مدعا یہ کہنا تھا کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی ہے ، تم خواہ مخواہ ہمیں اس کے ڈراوے دیتے ہو ۔ اسی بنا پر ان کے جواب میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قیامت فلاں روز آئے گی ، بلکہ انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ آئے گی اور اس شان سے آئے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٨ تا ٥٢۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف ہونگے جس طرح آج مصروف ہیں کہ یکایک ایک آواز سخت آن کر تمام دنیا فنا ہوجاوے گی صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ (رض) ١ ؎ کی اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) و بن عاص کی روایت سے جو تفسیر اس پہلے صور کی آئی ہے (١ ؎ مشکوۃ باب الملاحم فصل اول) اس کا حاصل یہ ہے کہ بازار میں کپڑے کے تھان دکاندار خریداروں کو کھول کھول دکھار ہے ہوں گے حوضوں اور نہروں کی مرمت کھیتیوں اور باغوں میں پانی پہنچانے کی غرض سے ہو رہی ہوگی اپنے جانوروں کا دودھ لوگ دو ہتے ہوں گے کچھ لوگ کھانا کھانے بیٹھے ہوں گے اتنے میں وہ کپڑے کا تھان کھلا کا کھلا رہ جائے گا ہاتھ کا نوالہ ہاتھ میں رہے گا اور منہ کا منہ میں دوھا ہوا دودھ اور مرمت کئے ہوے حوض اور نہریں یہ سب کچھ یوں یہی پڑا رہے گا کہ یکایک پہلے صور کی آواز سے سب مخلوق اس طرح فنا ہوجاوے گی کہ نہ کوئی اپنے مال کی کسی کو کچھ وصیت کرسکے گا نہ گھر کے باہر گیا ہوا شخص پھر کر گھر آسکے گا اس کے بعد چالیس برس تک تمام دنیا ویران پڑی رہے گی پھر دوسرا صور پھونکا جاوے گا جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے کہ اس دوسرے صور کی آواز سے سب جی اٹھیں گے اور اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کے لیے قبروں سے نکل کر چل نکلیں گے۔ اس دوسرے صور کا نام نفخۃ البعث ہے دونوں صور کے مابین کے چالیس برس کے زمانہ میں عذاب قبر موقوف ہوجاوے گا اور عذاب قبر والے لوگوں کو ایک غنودگی سی آجائے گی اسی واسطے جب یہ لوگ دوسرے صور کی آواز سے جاگ اٹھیں گے تو اپنی قبروں کو اپنی خوابگاہ قرار دے کر یہ کہویں گے کہ افسوس ہم کو ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھادیا نیدار لوگ جواب دیں گے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے جس وعدہ کو تم لوگ دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے آج وہ اللہ کے وعدہ کا حشر کا دن ہے حساب و کتاب کے لیے سب لوگ قبروں سے اٹھائے گئے ہیں تفسیر عبدالرحمن بن زید میں ہے کہ پہلے کافر لوگ یہ کہیں گے کہ ہم کو ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھادیا پھر اپنی بات کا آپ ہی یہ جواب دیویں گے کہ شائد آج وہ دن ہے جس کو حشر کا دن اللہ کے رسول نے دنیا میں جتلایا تھا اور تفسیر حسن بصری (رح) میں ہے کہ کافروں کی بات کا یہ جواب فرشتے دیویں گے لیکن سورة روم میں خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وقال الذین اوتوا العلم والایمان لقد لبثتم فی کتاب اللہ قال یوم البعث فھذا یوم المعث جس کا حاصل مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا اور آگے بھی آتا ہے کہ منکرین حشر کی اس بات کا جواب دیندار لوگ دیویں گے اس واسطے یہی قول صحیح اور قرآن شریف کے مضمون کے موافق ہے کہ کافروں کی اس بات کا جواب دیندار لوگ دیویں گے پھر فرمایا کہ دوسرے صور کی فقط ایک ہی آواز ان لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے کے لیے ایسا گہرا تقاضا ہے کہ اس آواز کے ساتھ ہی یہ سب اللہ تعالیٰ کے روبرو پکڑے ہوئے آجاویں گے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:48) ھذا الوعد۔ یہ وعدہ ۔ یعنی یہ قیامت کے آنے کا وعدہ۔ ان کنتم صدقین۔ ان شرطیہ ہے ای ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین کوئی دلیل لائو اگر تم سچے ہو کہ قیامت ضرور آئے گی

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر مضمون توحید اور اس کے ساتھ ترہیب عذاب آخرت سے اجمالا مذکور تھا۔ اب احوال آخرت کسی قدر تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں، اور اس کے اخیر میں لو نشاء لطمسنا سے احتمال عذاب دنیا سے تہدید ہے جس سے مابین ایدیکم کی ایک گونہ شرح ہوگئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بخیل اور گمراہ شخص آخرت کے بارے میں شک کرتا ہے۔ مال کی محبت ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو انسان میں بخل پیدا ہوجاتا ہے۔ بخیل انسان عملاً قیامت کا منکر ہوتا ہے مکہ کے اکثر سردار قیامت کے منکر تھے جس وجہ سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بار بار سوال کرتے کہ جس قیامت کا ہمارے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس وعدے کے بارے میں بتلاؤ کہ وہ کون سے سال، کس مہینے اور کس دن پورا ہوگا ؟ سورۃ الاعراف کی آیت ١٨٧ میں کفار کے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کب نازل ہوگی ؟ ان سے فرمائیں ! اس کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ وہ اپنے وقت پر ہر صورت برپا ہوگی۔ البتہ یاد رکھو کہ جب برپا ہوگی تو اچانک آجائے گی اور وہ زمین و آسمان پر اس طرح بھاری ہوگی کہ وہ اس کے وارد ہونے کا بوجھ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اس مقام پر کفار کے سوال کا صرف اتنا جواب دیا ہے کہ جب قیامت کا پہلا نفخہ پھونکا جائے گا تو اس قدر اچانک ہوگا کہ تم آپس میں دنیا کے معاملات میں بحث و تکرار کررہے ہو گے تو قیامت برپا ہوجائے گی۔ کسی شخص کو اپنی اولاد کو وصیت کرنے کا موقعہ نہیں مل سکے گا اور اپنے گھر سے باہر ہونے والا شخص اپنے گھر نہ پلٹ سکے گا تو قیامت اسے دبوچ لے گی۔ ہر انسان کی فطری کمزوری اور خواہش ہوتی ہے کہ اسے گھر میں موت آئے اور وہ اپنی اولاد کو کوئی نہ کوئی نصیحت کرجائے۔ اگر گھر سے باہر ہو تو وہ مصیبت کے وقت جلد از جلد گھر پلٹنا چاہتا ہے۔ لیکن قیامت کے دن کسی کو کسی حال میں مہلت نہیں مل سکے گی۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لاَ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآہَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، فَذَلِکَ حینَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلاَنِ ثَوْبَہُمَا بَیْنَہُمَا فَلاَ یَتَبَایَعَانِہِ وَلاَ یَطْوِیَانِہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہِ فَلاَ یَطْعَمُہُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَہْوَ یَلِیطُ حَوْضَہُ فَلاَ یَسْقِی فیہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أُکْلَتَہُ إِلَی فیہِ فَلاَ یَطْعَمُہَا)[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر تمام کے تمام لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت ان کو ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جو اس سے قبل ایمان نہ لایا اور نہ اس نے نیک اعمال کیے۔ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلایا ہوگا دکاندار کپڑے کو بیچ اور سمیٹ نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ دودھ دوہنے والادودھ پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ حوض پروارد ہونے والا پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ انسان منہ میں ڈالا ہوا لقمہ کھا نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ مسائل ١۔ منکرین حق قیامت برپا ہونے سے پہلے حق بات تسلیم نہیں کریں گے۔ ٢۔ قیامت کے دن کوئی شخص کسی کو وصیّت کرنے کی مہلت نہیں پائے گا۔ ٣۔ قیامت کے دن اپنے گھر سے باہر ہونے والا شخص گھر نہیں پلٹ سکے گا کہ قیامت کا زلزلہ اسے مار ڈالے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کا اچانک برپا ہونا اور اس کی ہولناکیاں : ١۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : ١) ٢۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعۃ : ١) ٣۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : ١) ٤۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : ١٨٧) ٥۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : ٤) ٦۔ قیامت کے دن پہاڑ اون کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : ٥) ٧۔ زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ ( الواقعہ : ٤) ٨۔ قیامت کے دن لوگ مدہوش ہونگے حالانکہ انہوں نے شراب نہیں پی ہوگی۔ ( الحج : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویقولون متی۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ اللہ نے قیامت کے واقع ہونے کے لیے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ انسانوں کی جلد بازی یا مطالبے کی وجہ سے وقت سے پہلے نہیں آسکتا۔ اور اگر لوگ یہ امید کریں کہ وہ اپنے مقررہ وقت سے ذرا اوپر کرکے واقع ہوگا تو یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک ہر شے ایک مقدار کے مطابق ہے۔ اور ہر واقعہ اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔ تمام واقعات اپنے وقت پر ہوتے ہیں جس طرح اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ ازل میں کر رکھا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق کر رکھا ہے۔ اس دنیا کا ہر واقعہ اپنے وقت پر نظام قضا و قدر کے مطابق قضا و قدر کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے ان سوالات اور خلجانات کا جواب کیا ہے تو وہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جب قیامت ہوگی تو اس کی کیفیت یہ ہوگی۔ رہی یہ بات کہ یہ کب ہوگی تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منکرین بعث کا قول اور ان کی تردید توحید کے دلائل اور منکرین کے اعراض کا بیان فرمانے کے بعد وقوع قیامت کے یقینی ہونے کا اور منکرین کے استبعاد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو) یعنی تم جو یوں کہتے ہو کہ قیامت آئے گی ہمارے خیال میں یہ تمہاری باتیں ہی باتیں ہیں آتی ہوتی تو کب کی آچکی ہوتی، اس کے واقع ہونے کی جو تم خبر دے رہے ہو اگر تم اس خبر میں سچے ہو تو وقت طے کردو کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، یہ بات کہنے سے ان کا مقصود وقوع قیامت کا انکار کرنا تھا، اس انکار کو انہوں نے استفہام انکاری کے پیرایہ میں بیان کیا، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (مَا یَنظُرُوْنَ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ) یہ لوگ جو قیامت کا انکار کر رہے ہیں ان کے انکار کرنے سے قیامت کا آنا رک نہیں جائے گا، بس یہ لوگ ایک چیخ کے انتظار میں ہیں جو انہیں پکڑ لے گی اور اس وقت یہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے اس وقت جو جہاں ہوگا وہیں دھرا رہ جائے گا اور وہیں مرجائے گا، اس وقت نہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ سکیں گے۔ (یہ نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار صور پھونکنے کے وقت ہوگا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

32:۔ ویقولون الخ :۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اور اس کے ضمن میں شکوی ہے۔ مشرکین کہتے ہیں یہ قیامت والا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کے وقوع کا صحیح صحیح وقت بتاؤ ؟ ما ینظرون الخ، یہ ان کے سوال کا جواب ہے کہ قیامت قائم ہونے کا معین وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور اللہ کی حکمت بالغہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کے معین وقت کو پوشیدہ رکھا جائے اور اس کا وقوع اچانک ہو، چناچہ جس چیز کا وہ انتظار کر رہے ہیں وہ اچانک ایک ہولناک چیخ کی صورت میں ظاہر ہوگی جو اچانک سب کو پکڑ لے گی جبکہ وہ دنیا کے جھگڑوں میں مصروف ہوں گے۔ فلا یستطیعون الخ، اس ہولناک آواز کے بعد سب فورًا ہی مرجائیں گے اور انہیں اتنی بھی مہلت نہ مل سکے گی کہ وہ کوئی وصیت ہی کرسکے یا اپنے گھروں ہی کو لوٹ سکیں۔ صیحۃ واحدۃ سے نفخہ اولی مراد ہے جس سے ہر جاندار موت کی نیند سو جائے گا۔ وھی النفخۃ الاولی فی السور التی یموت بہا اھل الارض (روح ج 23 ص 31) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(48) اور یہ منکرین قیامت کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ یعنی آخر یہ قیامت کب واقع ہوگی اور ہمارے عذاب کا وعدہ کب ظہور پذیر ہوگا۔