The Denial of Life after Death, and the Refutation of this Idea
Mujahid, Ikrimah, Urwah bin Az-Zubayr, As-Suddi and Qatadah said,
"Ubayy bin Khalaf, may Allah curse him, came to the Messenger of Allah with a dry bone in his hand, which he was crumbling and scattering in the air, saying, `O Muhammad! Are you claiming that Allah will resurrect this.'
He said:
نَعَمْ يُمِيتُكَ اللهُ تَعَالَى ثُمَّ يَبْعَثُكَ ثُمَّ يَحْشُرُكَ إِلَى النَّار
Yes, Allah, may He be exalted, will cause you to die, then He will resurrect you and will gather you into the Fire."
Then these Ayat at the end of Surah Ya Sin were revealed:
أَوَلَمْ يَرَ الاِْنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ
...
Does not man see that We have created him from Nutfah. -- until the end of the Surah.
Ibn Abi Hatim recorded that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said,
"Al-`As bin Wa'il took a bone from the bed of a valley and crumbled it in his hand, then he said to the Messenger of Allah: `Will Allah bring this back to life after it has disintegrated.'
The Messenger of Allah said:
نَعَمْ يُمِيتُكَ اللهُ ثُمَّ يُحْيِيكَ ثُمَّ يُدْخِلُكَ جَهَنَّم
Yes, Allah will cause you to die, then He will bring you back to life, then He will make you enter Hell.
Then the Ayat at the end of Surah Ya Sin were revealed."
This was recorded by Ibn Jarir from Sa`id bin Jubayr.
Whether these Ayat were revealed about Ubayy bin Khalaf or Al-`As bin Wa'il, or both of them, they apply to all those who deny the resurrection after death. The definite article "Al" in
أَوَلَمْ يَرَ الاِْنسَانُ
(Does not man (Al-Insan) see...) is generic, applying to all those who deny the Resurrection.
...
أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ
that We have created him from Nutfah. Yet behold he (stands forth) as an open opponent.
means, the one who is denying the resurrection, cannot see that the One Who initiated creation can recreate it. For Allah initiated the creation of man from semen of despised fluid, creating him from something insignificant, weak and despised, as Allah says:
أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّأءٍ مَّهِينٍ
فَجَعَلْنَـهُ فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ
إِلَى قَدَرٍ مَّعْلُومٍ
Did We not create you from a despised water? Then We placed it in a place of safety, for a known period. (77:20-22)
إِنَّا خَلَقْنَا الاِنسَـنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ
Verily, We have created man from Nutfah. (76:2)
which means, from a mixture of different fluids. The One Who created man from this weak Nutfah is not unable to recreate him after his death.
Imam Ahmad recorded in his Musnad that Bishr bin Jahhash said,
"One day the Messenger of Allah spat in his hand and put his finger on it, then the Messenger of Allah said:
قَالَ اللهُ تَعَالَى
ابْنَ ادَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ حَتْى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْكَ وَلِلَْرْضِ مِنْكَ وَيِيدٌ فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتْى إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ
Allah, may He be exalted, says:
"Son of Adam, how can you outrun Me when I have created you from something like this, and when I have fashioned you and formed you, you walk in your cloak on the earth and it groans beneath your tread. You accumulate and do not spend until the death rattle reaches your throat, then you say, `I want to give in charity,' but it is too late for charity.""
It was also recorded by Ibn Majah.
Allah says:
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلً وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ
موت کے بعد زندگی
ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا ۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں ۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا ۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا ۔ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام ۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں ۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کردیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے ( اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20ۙ ) 77- المرسلات:20 ) اور جیسے ( اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا Ą ) 76- الإنسان:2 ) ، وغیرہ ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کرسکتا ہے؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کردیا اور تو ذرا کس بل والا ہو گیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کردیا ، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں ، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا ۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کردیا ۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا ۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی ۔ اس کے جواب میں کہدو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا ۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے ۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کرکے میری لاش کو جلا کر خاک کر دینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا ، چنانچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کرکے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے ، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی ۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے ، ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا ۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کردیا اسی طرح ہوا نے بھی ۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کردیا گیا ۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے ، ہیت کو وہ منقلب کر سکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے ، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی ؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے ۔ چنانچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے ۔