Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 77

سورة يس

اَوَ لَمۡ یَرَ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰہُ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۷﴾

Does man not consider that We created him from a [mere] sperm-drop - then at once he is a clear adversary?

کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Denial of Life after Death, and the Refutation of this Idea Mujahid, Ikrimah, Urwah bin Az-Zubayr, As-Suddi and Qatadah said, "Ubayy bin Khalaf, may Allah curse him, came to the Messenger of Allah with a dry bone in his hand, which he was crumbling and scattering in the air, saying, `O Muhammad! Are you claiming that Allah will resurrect this.' He said: نَعَمْ يُمِيتُكَ اللهُ تَعَالَى ثُمَّ يَبْعَثُكَ ثُمَّ يَحْشُرُكَ إِلَى النَّار Yes, Allah, may He be exalted, will cause you to die, then He will resurrect you and will gather you into the Fire." Then these Ayat at the end of Surah Ya Sin were revealed: أَوَلَمْ يَرَ الاِْنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ ... Does not man see that We have created him from Nutfah. -- until the end of the Surah. Ibn Abi Hatim recorded that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Al-`As bin Wa'il took a bone from the bed of a valley and crumbled it in his hand, then he said to the Messenger of Allah: `Will Allah bring this back to life after it has disintegrated.' The Messenger of Allah said: نَعَمْ يُمِيتُكَ اللهُ ثُمَّ يُحْيِيكَ ثُمَّ يُدْخِلُكَ جَهَنَّم Yes, Allah will cause you to die, then He will bring you back to life, then He will make you enter Hell. Then the Ayat at the end of Surah Ya Sin were revealed." This was recorded by Ibn Jarir from Sa`id bin Jubayr. Whether these Ayat were revealed about Ubayy bin Khalaf or Al-`As bin Wa'il, or both of them, they apply to all those who deny the resurrection after death. The definite article "Al" in أَوَلَمْ يَرَ الاِْنسَانُ (Does not man (Al-Insan) see...) is generic, applying to all those who deny the Resurrection. ... أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ that We have created him from Nutfah. Yet behold he (stands forth) as an open opponent. means, the one who is denying the resurrection, cannot see that the One Who initiated creation can recreate it. For Allah initiated the creation of man from semen of despised fluid, creating him from something insignificant, weak and despised, as Allah says: أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّأءٍ مَّهِينٍ فَجَعَلْنَـهُ فِى قَرَارٍ مَّكِينٍ إِلَى قَدَرٍ مَّعْلُومٍ Did We not create you from a despised water? Then We placed it in a place of safety, for a known period. (77:20-22) إِنَّا خَلَقْنَا الاِنسَـنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ Verily, We have created man from Nutfah. (76:2) which means, from a mixture of different fluids. The One Who created man from this weak Nutfah is not unable to recreate him after his death. Imam Ahmad recorded in his Musnad that Bishr bin Jahhash said, "One day the Messenger of Allah spat in his hand and put his finger on it, then the Messenger of Allah said: قَالَ اللهُ تَعَالَى ابْنَ ادَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ حَتْى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْكَ وَلِلَْرْضِ مِنْكَ وَيِيدٌ فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتْى إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ Allah, may He be exalted, says: "Son of Adam, how can you outrun Me when I have created you from something like this, and when I have fashioned you and formed you, you walk in your cloak on the earth and it groans beneath your tread. You accumulate and do not spend until the death rattle reaches your throat, then you say, `I want to give in charity,' but it is too late for charity."" It was also recorded by Ibn Majah. Allah says: وَضَرَبَ لَنَا مَثَلً وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ

موت کے بعد زندگی ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا آپ کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کردے گا پھر زندہ کردے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہوگا ۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں ۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا ۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا ۔ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام ۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں ۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کردیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے ( اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20؀ۙ ) 77- المرسلات:20 ) اور جیسے ( اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ڰ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا Ą۝ ) 76- الإنسان:2 ) ، وغیرہ ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کرسکتا ہے؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کردیا اور تو ذرا کس بل والا ہو گیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کردیا ، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں ، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا ۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کردیا ۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا ۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی ۔ اس کے جواب میں کہدو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا ۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے ۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کرکے میری لاش کو جلا کر خاک کر دینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا ، چنانچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کرکے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے ، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اپنے کانوں سے سنی ۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے ، ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا ۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کردیا اسی طرح ہوا نے بھی ۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کردیا گیا ۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے ، ہیت کو وہ منقلب کر سکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے ، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی ؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے ۔ چنانچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٦٩] انسان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے جو بےجان چیزوں سے بنا تھا۔ پھر اللہ نے اس میں روح پھونکی تو نہ صرف یہ کہ وہ دوسرے جانداروں کی طرح چلنے پھرنے، کھانے پینے اور پرورش پانے لگا بلکہ اس میں عقل و فہم، قوت استنباط، بحث و استدلال اور تقریر و خطابت کی وہ قابلتیں پیدا ہوگئیں جو دوسرے کسی جاندار کو حاصل نہ تھیں۔ اور جب وہ اس منزل پر پہنچ گیا تو اپنے خالق کے بارے میں کئی طرح کی بحثیں اور جھگڑے اٹھا کھڑے کئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ : یہاں سے سورت کے آخر تک کفار کے اس انکار کا دلیل کے ساتھ جواب ہے جو وہ قیامت کا مذاق اڑانے کے لیے سوال کی صورت میں کرتے تھے کہ ” مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ “ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ یعنی قیامت وغیرہ کچھ نہیں، نہ ہی کوئی مر کر زندہ ہوسکتا ہے۔ ” اَوَلَمْ يَرَ “ (اور کیا انسان نے نہیں دیکھا) سے مراد ہے ” أَوَلَمْ یَعْلَمْ “ (اور کیا انسان کو معلوم نہیں) ۔ کیونکہ کسی بھی شخص نے اپنا نطفے سے پیدا ہونا آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ : ” نُّطْفَةٍ “ ” نَطَفَ یَنْطُفُ “ (ن، ض) ٹپکنا، اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، معمولی اور حقیر قطرہ، یعنی کیا انسان کو معلوم نہیں کہ ہم نے انسان کو ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا ہے ؟ بسر بن جحاش القرشی (رض) بیان کرتے ہیں : ( بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فِيْ کَفِّہِ ، ثُمَّ وَضَعَ أُصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ وَقَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنّٰی تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ مِثْلِ ہٰذِہِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُکَ ہٰذِہِ ، وَأَشَارَ إِلٰی حَلْقِہِ ، قُلْتَ أَتَصَدَّقُ ، وَأَنّٰی أَوَان الصَّدَقَۃِ ؟ ) [ ابن ماجہ، الوصایا، باب النھي عن الإمساک۔۔ : ٢٧٠٧، قال البوصیري صحیح وقال الألباني حسن ] ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلی پر تھوکا، پھر اپنی شہادت کی انگلی اس پر رکھی اور فرمایا : ” اللہ عز و جل فرماتا ہے، اے ابن آدم ! تو مجھے کیسے عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے اور جب تیری جان یہاں پہنچ جاتی ہے (اور آپ نے حلق کی طرف اشارہ فرمایا) تو کہتا ہے، میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The last five verses of Surah Ya Sin were revealed in the background of a particular event. This event has been attributed to Ubayy Ibn Khalaf in some narrations, and to &As ibn Wa&il in some others. And there is no improbability in that such an event came to pass with both of them. The first narration was reported by al-Baihaqi in Shu` abul-&Iman, and the other reported by Ibn Abi Haatim from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) says that &As Ibn Wa&il picked up a bone from the sandy and pebble-strewn valley of Makkah and after breaking it with his hands rubbed it into a handful of bone meal and then said to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، |"Will Allah revive this bone you are seeing in my hands?|" The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"Yes, Allah Ta’ ala will put you to death, then bring you back to life and then He will put you in Hell.|" (Ibn Kathir) The expression: خَصِيمٌ مُّبِينٌ (an open adversary) in verse 77 means that this man was created from a lowly drop, yet he has the audacity to challenge Allah, and refuse to accept His power.

معارف و مسائل (آیت) اولم یرالانسان انا خلقنہ من نطفة۔ سورة یٰسین کی یہ آخری پانچ آیتیں ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں جو بعض روایات میں ابی بن خلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور بعض میں عاص بن وائل کی طرف۔ اور اس میں بھی کوئی بعد نہیں کہ دونوں سے ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔ پہلی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں اور دوسری روایت ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ عاص بن وائل نے بطحاء مکہ سے ایک بوسیدہ ہڈی اٹھائی اور اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ کر ریزہ ریزہ کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ کیا اللہ اس ہڈی کو زندہ کرے گا، جس کا حال یہ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا پھر تجھ کو جہنم میں داخل کرے گا۔ (ابن کثیر) خصم مبین، یعنی یہ نطفہ حقیر سے پیدا کیا ہوا انسان کیسا کھل کر مقابلہ پر آنے لگا کہ اللہ کی قدرت کا انکار کر رہا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَخَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۝ ٧٧ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے نطف النُّطْفَةُ : الماءُ الصافي، ويُعَبَّرُ بها عن ماء الرَّجُل . قال تعالی: ثُمَّ جَعَلْناهُ نُطْفَةً فِي قَرارٍ مَكِينٍ [ المؤمنون/ 13] ، وقال : مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ [ الإنسان/ 2] ، أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى [ القیامة/ 37] ويُكَنَّى عن اللُّؤْلُؤَةِ بالنَّطَفَة، ومنه : صَبِيٌّ مُنَطَّفٌ: إذا کان في أُذُنِهِ لُؤْلُؤَةٌ ، والنَّطَفُ : اللُّؤْلُؤ . الواحدةُ : نُطْفَةٌ ، ولیلة نَطُوفٌ: يجيء فيها المطرُ حتی الصباح، والنَّاطِفُ : السائلُ من المائعات، ومنه : النَّاطِفُ المعروفُ ، وفلانٌ مَنْطِفُ المعروف، وفلان يَنْطِفُ بسُوء کذلک کقولک : يُنَدِّي به . ( ن ط ف ) النطفۃ ۔ ضمہ نون اصل میں تو آب صافی کو کہتے ہیں مگر اس سے مرد کی منی مراد لی جاتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ ثُمَّ جَعَلْناهُ نُطْفَةً فِي قَرارٍ مَكِينٍ [ المؤمنون/ 13] پھر اس کو ایک مضبوط اور محفوظ جگہ ہیں نطفہ بنا کر رکھا ۔ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ [ الإنسان/ 2] نطفہ مخلوط سے أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنى [ القیامة/ 37] کیا وہ منی کا جور رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا ۔ اور کنایۃ کے طور پر موتی کو بھی نطمۃ کہا جاتا ہے اسی سے صبی منطف ہے یعنی وہ لڑکا جس نے کانوں میں موتی پہنے ہوئے ہوں ۔ النطف کے معنی ڈول کے ہیں اس کا واحد بھی نطفۃ ہی آتا ہے اور لیلۃ نطوف کے معنی بر سات کی رات کے ہیں جس میں صبح تک متواتر بارش ہوتی رہے ۔ الناطف سیال چیز کو کہتے ہیں اسی سے ناطف بمعنی شکر ینہ ہے اور فلان منطف المعروف کے معنی ہیں فلاں اچھی شہرت کا مالک ہے اور فلان ینطف بسوء کے معنی برائی کے ساتھ آلودہ ہونے کے ہیں جیسا کہ فلان یندی بہ کا محاورہ ہے ۔ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ خصم الخَصْمُ مصدر خَصَمْتُهُ ، أي : نازعته خَصْماً ، يقال : خاصمته وخَصَمْتُهُ مُخَاصَمَةً وخِصَاماً ، قال تعالی: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] ، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] ، ثم سمّي المُخَاصِم خصما، واستعمل للواحد والجمع، وربّما ثنّي، وأصل المُخَاصَمَة : أن يتعلّق كلّ واحد بخصم الآخر، أي جانبه وأن يجذب کلّ واحد خصم الجوالق من جانب، وروي : ( نسیته في خصم فراشي) «1» والجمع خُصُوم وأخصام، وقوله : خَصْمانِ اخْتَصَمُوا [ الحج/ 19] ، أي : فریقان، ولذلک قال : اخْتَصَمُوا وقال : لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ، وقال : وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ، والخَصِيمُ : الكثير المخاصمة، قال : هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] ، والخَصِمُ : المختصّ بالخصومة، قال : بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] . ( خ ص م ) الخصم ۔ یہ خصمتہ کا مصدر ہے جس کے معنی جھگڑنے کے ہیں کہاجاتا ہے خصمتہ وخاصمتہ مخاصمۃ وخصاما کسی سے جھگڑا کر نا قرآن میں ہے :۔ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] اور وہ حالانکہ سخت جھگڑا لو ہے ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] اور جھگڑنے کے وقت بات نہ کرسکے ۔ اور مخاصم کو خصم کہا جات ہے ، اور خصم کا لفظ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی تثنیہ بھی آجاتا ہے۔ اصل میں خصم کے معنی کنارہ کے ہیں ۔ اور مخاصمت کے معنی ایک دوسرے سے کو کنارہ سے پکڑنے کے ہیں ۔ اور بوری کو کونے سے پکڑکر کھینچنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے :۔ (114) نسی تھا فی خصم فراشی کہ میں اسے اپنے بسترہ کے کونے میں بھول آیا ہوں خصم کی جمع خصوم واخصام آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ اخْتَصَمُوا[ الحج/ 19] دوفریق جھگڑتے ہیں ۔ میں خصما ن سے دو فریق مراد ہیں اسی لئے اختصموا آیا ہے ۔ الاختصام ( افتعال ) ایک دوسرے سے جھگڑنا ۔ قرآن میں ہے :۔ لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ہمارے حضور رد کد نہ کرو ۔ وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ۔۔۔۔ وہ آپس میں جھگڑیں گے ۔ الخصیم ۔ جھگڑا لو بہت زیادہ جھگڑا کرنے والا جیسے فرمایا :۔ هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] مگر وہ ( اس بارے میں ) علانیہ جھگڑنے لگا ۔ الخصم سخٹ جھگڑالو جس کا شیوہ ہ جھگڑنا ہو ۔ قرآن میں ہے :َ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] حقیقت یہ ہے ۔ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑا لو، لو ۔ مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا ابی بن خلف کو معلوم نہیں کہ ہم نے اس کو ایک حقیر بدبودار نطفہ سے پیدا کیا ہے اور پھر وہ کھلم کھلا باطل کی حمایت میں اعتراضات کرنے لگا۔ شان نزول : اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ (الخ) امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ عاص بن عائل رسول اللہ کی خدمت میں ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا پھر اسے چورا چورا کر کے کہنے لگا کہ اے محمد کیا ایسی ہڈیاں بوسیدہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کی جائیں گی آپ نے فرمایا ہاں یہی ہڈیاں زندہ کی جائیں گی اور تمہیں موت دی جائے گی اور پھر دوبارہ تمہیں زندہ کیا جائے گا اور پھر تمہیں دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ اس پر اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ (الخ) سے آخری سورت تک یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد، عکرمہ، عروہ بن زبیر اور اسدی کے طریقہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے باقی ان روایتوں میں عاص بن وائل کی بجائے ابی بن خلف نام کا ذکر کیا گیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٧ { اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ} ” تو کیا انسان نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اسے بنایا ہے ایک قطرہ سے ‘ تو اب یہ بن گیا ہے کھلا جھگڑنے والا ! “ اب اس کی دیدہ دلیری کا یہ عالم َہے کہ یہ ہماری آیات پر اعتراض کرتا ہے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کج بحثی کرتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

64 Here the disbelievers' question cited in verse 48 above, is being answered by reason and argument. The question, "When will the threat of Resurrection be carried out?" had not been asked with a view to find out the exact date of the coming of the Hereafter. But they asked it because they thought it was impossible, rather irrational, that human beings would be raised back to life after death. That is why, in reply to their question, arguments are being given for the possibility of the Hereafter. According to the traditions related by Ibn 'Abbas, Qatadah and Said bin Jubair, one of the chiefs of Makkah, on this occasion, came up with a rotten bone of a dead person, from the graveyard. He broke and crushed it into pieces before the Holy Prophet and acattering its particles in the air, said.-"O Muhammad, you say that the dead will be raised back to life. Tell us who will give life to these decayed and rotten bones?" The answer was given immediately in the form of these verses. 65 That is, "We caused the sperm-drop which contained nothing but the basic germ of life to develop to an extent that it started moving and eating like the animals. Furthermore, it has developed such powers of intellect and reasoning and disputation and speech, which arc not possessed by any animal; so mu ch so that now he dares stand up as an adversary before his Creator !"

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :64 اب کفار کے اس سوال کا استدلالی جواب دیا جا رہا ہے جو آیت 48 میں نقل کیا گیا تھا ۔ ان کا یہ سوال کہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہو گی کچھ اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے ، بلکہ اس بنا پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کے دوبارہ اٹھائے جانے کو بعید از امکان ، بلکہ بعید از عقل سمجھتے تھے ۔ اسی لیے ان کے سوال کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل ارشاد ہو رہے ہیں ۔ ابن عباس ، قتادہ اور سعید بن جُبیر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر کفار مکہ کے سرداروں میں سے ایک شخص قبرستان سے کسی مردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آگیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے توڑ کر اور اس کے منتشر اجزا ہوا میں اڑا کر آپ سے کہا ، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم کہتے ہو کہ مردے پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ بتاؤ ، ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ اس کا جواب فوراً ان آیات کی صورت میں دیا گیا ۔ سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :65 یعنی وہ نطفہ جس میں محض ایک ابتدائی جرثومہ حیات کے سوا کچھ نہ تھا ، اس کو ترقی دے کر ہم نے اس حد تک پہنچایا کہ وہ نہ صرف جانوروں کی طرح چلنے پھرنے اور کھانے پینے لگا ، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس میں شعور و تعقُّل اور بحث و استدلال اور تقریر و خطابت کی وہ قابلیتیں پیدا ہو گئیں جو کسی حیوان کو نصیب نہیں ہیں ، حتٰی کہ اب وہ اپنے خالق کے بھی منہ آنے لگا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٧ تا ٧٩۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ١ ؎ سے جس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے ٢ ؎ جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ (١ ؎ تفسیر ابن مثیر ٥٨١ ج ٣) (٢ ؎ الدر المنثور ص ٢٦٩ ج ٥) ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص مشرک عاص بن وائل ایک روز ایک بوسیدہ ہڈی کو لے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس ہڈی کو مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑانے اور کہنے لگا اسی کو خدا پھر پیدا کرے گا آپ نے فرمایا ہاں یہی حالت تیری ہوجانے کے بعد اللہ تجھ کو پھر پیدا کرے گا اور پھر تجھ کو دوزخ میں دھکیل دے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی دوسری روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں اور تفسیر سدی میں مجاہد اور عکرمہ وغیرہ سے جو ہے ‘ اس میں بجائے عاص بن وائل کے ابی بن خلف کا نام ہے لیکن حاکم نے پہلی روایت کی صحت بیان کی ہے اس لیے وہی روایت قوی معلوم ہوتی ہے اور تفسیر ابن جریر میں عبداللہ بن ابی کا نام جو لیا ہے اس پر حافظ عماد الدین ابن کثیر نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس مکی سورت میں عبداللہ بن ابی مدینہ کے منافق کا ذکر کیوں کر ہوسکتا ہے اس اعتراض کے بعد حافظ ابن کثیر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ خواہ کوئی بھی مشرک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ہو لیکن آیت کل حشر کے منکروں کے حق میں عام ہے۔ حشر کے منکر لوگوں کی بڑی غلطی سے ہے کہ وہ لوگ اللہ کی قدرت کو انسانی قدرت اور طاقت پر قیاس کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حشر کی باتیں باتیں جس طرح قدرت انسانی سے باہر ہیں اسی طرح قدرت الٰہی سے بھی وہ باتیں باہر ہوں گی اس غلط قیاس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ پانی جیسی پتلی اور بےجان چیز منی سے اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کردیا کیا یہ آدمی کی قدرت سے باہر نہیں ہے پھر جب اللہ تعالیٰ نے منی سے آدمی کو پیدا کردیا تو یہ لوگ قدرت انسانی پر اللہ کی قدرت کا غلط قیاس کیوں کرتے ہیں کیا اللہ کی قدرت یاد کرنے کے لیے اپنی پیدائش ان لوگوں کو یاد نہیں اگرچہ لاکھ ہا کروڑ ہا چیزیں اللہ کی قدرت سے پیدا ہو کر ایسے دنیا میں موجود ہیں جو قدرت انسانی سے بالکل باہر ہیں لیکن انسان ان سب کو چھوڑ کر اگر فقط اپنی ہی پیدائش پر غور کرے تو اس کو یقین ہوجاوے گا کہ اللہ کی قدرت کا قیاس انسانی قدرت پر کرنا بالکل غلط ہے ساری آیت کی تفسیر اور اسی غلط قیاس کی غلطی ثابت کرنے کی صراحت میں ناقابل اعتراض سند سے ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں جو روایتیں ٣ ؎ ہیں (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ایضا) ان روایتوں کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رواز اپنی ہتھیلی پر تھوکا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ اس طرح کی پتلی چیز سے آدمی پیدا کیا گیا ہے اور باوجود اپنی پیدائش کے آنکھوں کے سامنے ہونے کے پھر آدمی خاک سے دوسری دفعہ پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر گنتا ہے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی بڑی روایت ہے اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان نے مجھ کو جھٹلایا اور اس کو یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ مجھ کو جھٹلاتا ہے اور اس کا لانا یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے انسان کو پیدا کردیا پھر وہ دوسری دفعہ پیدا کرنے سے انکار کرتا ہے اور مجھ کو جھٹلاتا ہے یہ نہیں جانتا کہ جیسا پہلی دفعہ اس کا پیدا کرنا ہے ویسا ہی دوسری دفعہ کا ہے جس طرح عاص بن وائل اور اس کے ساتھی مشرکین مکہ نے جسمانی حشر کو خلاف عقل کہا ہے یہی خیال یونانی فلسفی لوگوں کا ہے اگرچہ فلسفہ یونانی کی کتابیں خلفائے عباسیہ کی فرمایش سے عربی زبان میں ترجمہ کی گئی ہیں اس سے پہلے کتابی طور پر عرب کے لوگ علم فلسفہ سے نا آشنا تھے لیکن مشرکین مکہ پارسیوں سے ملتے جلتے رہتے تھے اسی میل جول میں انہوں نے پارسیول سے جسمانی حشر کا انکار سکھا ہے سورة الا نفال میں نضر بن حارث کا قصہ گزر چکا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ اور پارسیوں کا میل جول تھا اور یونانیوں کی طرح پارسیوں میں بھی علم فلسفہ کا بڑا زور تھا چناچہ بعض تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ جب سکندر رومی نے پارسیوں کے بادشاہ دارا پر غلبہ پایا تو اس وقت سکندر دارا کے کتب خانہ میں سے علم فلسفہ کی بہت سی کتابیں یونان لایا ‘ یہ سکندر وہ ذوالقرنین سکندر نہیں ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے کیوں کہ سکندر ذوالقرنین کا زمانہ اور ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ایک تھا۔ یہ دوسرا سکندر رومی عیسیٰ (علیہ السلام) سے تین سو برس کے قریب پہلے تھا۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب یونانی لوگ بت پرستی چھوڑ کر عیسائی ہوگئے پھر رفتہ رفتہ عیسائیوں میں بھی علم فلسفہ آگیا۔ اس دوسرے سکندر کا وزیر ارسطالیس تھا ارسطالیس کے علم فلسفہ کی کتابیں یونان سے منگوائیں اور چند شخصوں سے ان کا ترجمہ زبان عربی میں کرایا لیکن ان ترجموں میں اختلاف تھا اسی واسطے ٣٨٩ ھ میں خر اس ان کے امیر منصور بن نوح سامانی نے ابو نصر فارابی سے فرمایش کر کے ان ترجموں کو درست کرایا اسی سبب سے فارابی کو معلم ثانی کہتے ہیں۔ فارابی کی تالیفات مسودہ کی حالت میں رہیں پھیلی نہیں اس کے بعد محمود غزنوی کے بیٹے امبر مسعود بن محمود کی فرمائش سے ٤٢٢ ھ میں ایمر مسعود کے وزیر شیخ ابوعلی سینا نے فارابی کے مسودہ سے مدد لے کر شفا ‘ اشارات ‘ عیون الحکمۃ وغیرہ کتابیں تالیف کیں جن کی باتیں اب تک پڑھائی جاتی ہیں۔ شیخ نے اپنی کتاب اشارات کے آخر میں لکھ دیا ہے کہ یہ فلسفہ کی کتابیں اسلامی نہیں ہیں بلکہ یونانی کتابوں کا ترجمہ ہے یہ تو ظاہر ہے کہ علم فلسفہ کا معلم اول ارسطو بت پرست تھا اسی کی تالیف کی بنا پر فارابی اور شیخ کی تالیفات ہیں اس واسطے جس طرح اوپر گزرا شیخ نے اپنی کتاب اشارات کے آخر میں لکھ دیا ہے کہ فلسفہ کی کتابیں اسلامی نہیں ہیں بلکہ یونانی کتابوں کا ترجمہ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ کے معتقدوں میں سے جو لوگ شریعت کے مسائل کو کلام شیخ کا تابع کرنا چاہتے ہیں وہ گویا تشرع کی باتوں کو بت پر ستوں کی بانوں کے تابع کرتے ہیں۔ فلسفہ کے معنے عقلی حکمت کی محبت پیدا کرنے والی باتیں ہیں عقلی حکمت میں منطق طبعیات ‘ ہندسہ ‘ ہیت چند علم ہیں جن کی تفصیلی کے بیان کی ضرورت نہیں لیکن اس عقلی حکمت میں ایک باب الٰہیات کا ہے جس میں یہ فلسفی لوگ اللہ کے صفات ‘ حشر ‘ جنت دوزخ وغیرہ ایسی شرعی باتوں میں عقلی بحث کرتے ہیں حالت کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں کی ہیں جو بذریعہ وحی کے انبیاء کو بتائی گئی ہیں محض عقل سے صحیح طور پر ان کو کوئی نہیں جان سکتا اس واسطے علمائے اسلام ن الہیات میں ارسطو کی بہت سی غلطیاں ثابت کی ہیں۔ اگرچہ علم فلفسہ کی کچھ کتابیں خالدبن یزید بن معاویہ کے زمانہ میں بھی یونان سے آئی ہیں جن کا ترجمہ عبداللہ بن مقفع وغیرہ نے عربی میں کیا ہے لیکن خالد بن یزید کا شمار خلفائے بنی امیہ میں نہیں ہے اس لیے مشہور یہی بات ہے کہ خلفائے عباسیہ میں سے مامون رشید کے زمانہ میں علم فلسفہ کی کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا گیا حاصل کلام یہ ہے کہ حافظ ابن کثیر کے قول کے موافق دہریہ مشرکین مکہ پارسی یونانی ان سب جسمانی حشر کے منکروں کے حق میں آیت عام ہے اور حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ ایک بوند پانی سے جس صاحب قدرت نے ان جسمانی حشر کے منکروں کو پیدا کردیا جس کا یہ لوگ کسی طرح انکار نہیں کرسکتے وہی صاحب قدرت بوسیدہ یڈیوں کی خاک سے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح ان کے پتلے بناوے گا اور جس طرح ماں کے پیٹ میں نطفہ کے ہر ایک پتلے میں روح پھونکی جاتی ہے اسی طرح بوسیدہ ہڈیوں کے ہر ایک پتلے میں روح پھونک دی جاوے گی اور اس کے بعد جب انکی تمام عمر کی نیکیوں بدیوں کا حساب ہوگا تو اس وقت ان کا جسمانی حشر کا یہ انکار ان کو بہت آفت میں ڈالے گا۔ ان لوگوں کو اپنی عقل پر بڑا بھروسہ ہے ان عقل کے بندوں کو اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب پہلی پیدائش کے دریافت میں عقل کے پر چلتے ہیں تو دوسری پیدائش کا حال معلوم کرنے میں عقل کی بلند پروازی کیا چل سکتی ہے۔ عاص بن وائل نے یہ جو کہا تھا من یحییٰ العظام کو فرمایا وضرب لنامثلا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کم عقل شخص اللہ کی قدرت کے آگے انسان کی قدرت کی مثال بیان کرتا ہے اور گویا یہ کہتا ہے کہ اس بوسیدہ ہڈی کو جب کوئی انسان زندگی کی حالت پر نہیں لاسکتا تو یہ کلام کیوں کر سچا ہوسکتا ہے کہ یہ بوسیدہ ہڈی پھر دوبارہ زندگی کی حالت میں آوے گی۔ اس عقلی حجت کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب کی جو قدرت اس کم عقل نے پہلی پیدایش میں آنکھوں سے دیکھ لی وہی قدرت الٰہی اس اس کو مرنے کے بعد دوسری پیدائش میں آنکھوں سے دیکھنی ہوگی۔ ترمٓذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث صحیح گزر چکی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی کی اسی کی تاثیر سے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی نیک مزاج کوئی بدمزاج صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) اور ابوسعید خدری (رض) کی روایتیں بھی گزر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے خوف سے ایک شخص نے یہ وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر آدھی مٹی ہوا میں اڑادی جاوے اور آدھی دریا میں بہا دی جاوے اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کے موافق عمل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا کو اس کی مٹی کو حاضر کرنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق وہ مٹی حاضر ہوگئی اور حکم الٰہی کے موافق اس مٹی کا پتلا بنا اور اس پتلے میں روح پھونکی گئی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے پوچھا کہ تو نے ایسی وصیت کیوں کی تھی اس شخص نے جواب دیا اللہ تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے یہ کام تیرے خوف سے کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرمائی ‘ ان حدیثوں کو و ھو بکل خلق علیم کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق تمام زمین کی مٹی سے پتلا بنایا کہ اس وقت اسی طرح کے پتلے کی ضرورت تھی اور حشر کی ضرورت کہ موافق ہر ایک مردہ کی مٹی کا پتلا بنے گا اور اس وصیت والے شخص کی میں کی طرح جنگل میں دریا میں غرض ہر ایک مردہ کی مٹی جہاں ہوں گی وہ ضرورت کے وقت حکم الٰہی سے فورا حاضر ہوجاوے گی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:77) اولم یر : میں ہمزہ استفہام انکاری ہے اور تعجب کے لئے ہے۔ وائو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ مقدرہ پر ہے۔ ای الم یتفکر الانسان ولم یعلم انا خلقنہ من نطفۃ۔ کیا انسان نے غور نہیں کیا اور نہیں جانا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ فاذا ھو : فاء تعقیب کا ہے اور اذا مفاجاتیہ ہے۔ سو وہ یکایک۔ خصم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بہت جھگڑا کرنے والا۔ کثیر المخاصمت، سخت جھگڑالو۔ اس کی جمع اخصام۔ خصمائ۔ خصمان ہے۔ مبین۔ اسم فاعل واحد مذکر، کھلا، صریح۔ ظاہر۔ ظاہر کرنے والا۔ ابانۃ (افعال) مصدر۔ بین مادہ ابواب : افعال (ابانۃ) تفعیل (تبیین) تفعل (تبین) سے لازم ومتعدی ہر دو طرح مستعمل ہے۔ یعنی ظاہر ہونا۔ ظاہر کرنا۔ فاذا ھو خصیم مبین (یعنی ہم نے اسے ایک حقیر بدبودار قطرہ منی سے پیدا کیا۔ (اور اب یہ اپنی وقعت کو یک لخت بھول کر) ایک صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی ہمارے مقابلہ پر اتر آیا اور ہمارے بارے میں جو بات دل میں آئی بےتکان اور بےخوف و خطر کہہ ڈالی

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہی نہیں جھگڑتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی جھگڑا کرتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ کیا انسان اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتا کہ ہم نے اسے ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے اور پھر انسان اپنے رب سے ہی جھگڑا کرنے پر اترآتا ہے۔ اس میں بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخصوص انداز میں تسلی دی گئی ہے کہ غور فرمائیں کہ یہ لوگ صرف آپ سے ہی جھگڑا نہیں کرتے بلکہ اپنے خالق کے ساتھ بھی جھگڑا کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے انسان کو کئی بار اس کی تخلیق کے بارے میں توجہ دلائی ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ کیا اس کی تخلیق میں کسی اور کا عمل دخل ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین انسان کی تخلیق کا ذریعہ بنائے گئے ہیں لیکن کتنے جوڑے ہیں جو صحت مند ہونے اور زندگی بھر ازدواجی عمل کرنے کے باوجود اولاد سے محروم رہتے ہیں۔ یہی حقیقت انسان کی سمجھ میں آجائے تو وہ غیروں کی بجائے رب کا بندہ بن سکتا ہے۔ مگر مشرک کی حالت یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کی بجائے یہ عقیدہ رکھتا اور کہتا ہے کہ فلاں بزرگ اولاد دینے یا دلوانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اگر اسے سمجھایا جائے تو وہ اپنے شرکیہ عقیدہ کے بارے میں بحث و تکرار کرتا ہے اور جن کو وہ خدا کی خدائی میں شریک سمجھتا ہے ان کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ ایسا ہی طرز عمل ان لوگوں کا ہے جو آخرت کو جی اٹھنے کا یقین نہیں رکھتے۔ مکہ کے لوگوں کی غالب اکثریت کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے اور اس کے بعد اس نے زندہ نہیں ہونا اور نہ ہی اسے کوئی زندہ کرسکتا ہے۔ کیونکہ انسان مٹی سے بنا تھا اور وہ مرنے کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنے والا ایک شخص رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور ایک گلی سڑی ہڈی کو اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے کہا کہ اے محمد ! اس مٹی کو کس طرح انسان کی شکل میں زندہ کیا جائے گا اس کے تکرار کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان ہمارے سامنے بوسیدہ ہڈی کی مثال پیش کرتا ہے۔ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی پیدائش بھول گیا ہے اگر اسے اپنی پیدائش یاد ہوتی تو یہ ہمارے سامنے یہ مثال ہرگز پیش نہ کرتا۔ (قَالَ قَتَادَۃُ (رض) جَاءَ أُبَیٌّ بْنُ خَلْفٍ إِلٰی رَسُو (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَفِیْ یَدِہٖ عَظْمٌ رَمِیْمٌ وَہُوَ یُفَتِّتُہٗ وَیُذْرِیْہِ فِیْ الْہَوَاءِ وَہُوَ یَقُوْل یَا مُحَمَّدُ ، اأتَزْعَمُ اأنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ ہٰذَا ؟ فَقَالَ نَعَمْ ، یُمِیْتُکَ اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ یَبْعَثُکَ ، ثُمَّ یَحْشُرُکَ إِلٰی النَّاِروَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ یٰس (أَوَلَمْ یَرَ الإنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُطْفَۃٍ ) ، إِلٰی آخِرِہُنَّ )[ تفسیر ابن کثیر، سورة یٰسٓ ] ” حضرت قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابی بن خلف نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا۔ ہڈی کو مسلا اور ہوا میں اڑا کر کہنے لگا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کرلے گا۔ آپ نے جواب دیاہاں ایسا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تجھے فوت کرے گا پھر زندہ کرے گا پھر وہ تجھے جہنّم کی طرف لے جائے گا۔ اس پر سورة یٰسکی آخری آیات نازل ہوئیں۔ “ مسائل ١۔ مشرک اپنی تخلیق کو بھول کر اپنے رب کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے۔ ٢۔ آخرت کا منکر بوسیدہ ہڈی کے ذریعے سمجھتا ہے کہ اسے کوئی زندہ کرنے والا نہیں۔ ٣۔ آخرت کا انکار کرنے والا حقیقت میں اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مردوں کو ضرور زندہ کرے گا : ١۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : ٥١) ٢۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : ٥٥) ٣۔ اللہ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : ٤) ٤۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : ١١) ٥۔ کیا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قدرت نہیں ؟ کہ وہ مردوں کو زندہ فرمائے۔ (القیامۃ : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس آخری سبق کا یہ تیسرا حصہ ہے ۔ اس میں حشر ونشر کے مسئلہ کو لیا گیا ہے ۔ اولم یرالانسان ۔۔۔۔۔ لہ کن فیکون (77-82) اس حصے میں بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ انسان کو خود اپنے وجود اور اپنی ذات کی طرف دیکھنا چاہئے ۔ اس کی تخلیق کا آغاز کس طرح ہوا ، وہ کس طرح بڑا ہوا اور سن بلوغ کو پہنچا۔ یہ سب مراحل جو اس کی زندگی میں طے ہوئے وہ اس کی نظر وں میں ہیں ۔ وہ دیکھتارہا ہے ۔ کیا اس سے وہ کوئی سبق اور نصیحت نہیں لے رہا ہے ۔ کیا خود انسانی زندگی تخلیق وتشکیل سے وہ یہ سبق نہیں اخذاکر سکتا کہ اللہ کے لیے دوبارہ اٹھا نا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر چہ وہ مٹ جائے اور اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں ۔ اولم یر ۔۔۔۔۔ خصیم مبین (36: 77) ” کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ نطفہ کیا چیز ہے جس کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ انسان کا اصل قریب ہے ۔ یہ ایک حقیر پانی سے مرکب ہے ، یہ کوئی ٹھوس چیز ہے اور نہ اس کی کوئی قیمت ہے ۔ یہ ایک پانی ہے جس میں ہزارہا خل سے ہوتے ہیں ۔ ان ہزار ہا خلیوں میں سے صرف ایک جنین بنتا ہے ۔ اور یہ ایک جنین پھر انسان بنتا ہے ۔ یہ پھر اپنے رب اور خالق کے ساتھ گستاخانہ باتیں کرتا ہے۔ رب کی مخالفت کرتا ہے اور اپنے خالق سے برہان و دلیل کا مطالبہ کرتا ہے ۔ حالا ن کہ وہ خالق قدیر ہی ہے جس نے اس قدر حقیر چیز سے انسان کو بنایا اور ” خصیم مبین “ اور صریح جھگڑالوبن گیا ۔ ذراغور تو کیا جائے کہ یہ انسان کی اسے کیا بن گیا ۔ ذرا اس کے آغاز اور انجام پر غور کیا جائے ۔ کیا اس قدرت ” قادرہ “ کے سامنے یہ کوئی مشکل کام ہے کہ وہ اجزائے جسم کو دوبارہ یکجا کردے۔ اگر چہ وہ مرمٹنے کے بعد زمین میں بکھر گئے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

انسان قیامت کا منکر ہے، وہ اپنی خلقت کو بھول گیا وقوع قیامت اور بعث اور حشر نشر کا جو لوگ انکار کیا کرتے تھے ان میں سے ایک شخص عاص بن وائل بھی تھا، یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک گلی سڑی ہڈی لے کر آیا، اور اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے چورا چورا کیا اور کہنے لگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب میں اس ہڈی کو اپنے ہاتھ سے پھینک دوں تو کیا اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ اسے زندہ فرما دے گا پھر تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ فرمائے گا پھر تجھے دوزخ کی آگ میں داخل کرے گا۔ اس پر (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنْسَانُ ) سے لے کر ختم سورة تک آیات نازل ہوئیں جس شخص سے یہ باتیں ہوئی تھیں اس کے بارے میں دیگر اقوال بھی ہیں جو روح المعانی جلد ٢٣: ص ٥٣ میں مذکور ہیں۔ ارشاد فرمایا کیا انسان کو معلوم نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ منی سے پیدا کیا ؟ اس کو تو وہ جانتا ہے مانتا ہے، جب نطفہ منی سے اسے پیدا کرسکتے ہیں تو بوسیدہ ہڈیوں کو مرکب کرکے ان میں جان کیوں نہیں ڈال سکتے ؟ قیامت اور حشر نشر کی سچی خبر جو حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) نے دی اس کی تصدیق کرنے کی بجائے انسان بڑا جھگڑالو بن گیا اور ایسا جھگڑالو بنا کہ واضح طور پر وقوع قیامت اور موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے لگا، جب اسے اپنے مبدء فطرت کا علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ذلیل پانی سے پیدا فرمایا ہے تو اسے جھگڑنے اور یہ بات کہنے کا کیا مقام ہے کہ میں بوسیدہ ہڈیوں سے کیسے پیدا کیا جاؤں گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47:۔ اولم یر الانسان الخ : یہ زجر و شکوی ہے انسان یہ نہیں سوچتا کہ ہم نے اس کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا ہے۔ لیکن سوچنے کے بجائے بڑا ہو کر ہمارا مد مقابل بن گیا اور جھگڑنے لگا اور دوبارہ زندہ کرنے پر ہماری قدرت کے لیے عجیب و غریب مثالیں بیان کرنے لگا۔ مثلاً کہتا ہے بھلا ان بوسیدہ اور خاک در خاک شدہ ہڈیوں کو وہ کس طرح زندہ کرے گا۔ گویا ہماری قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرنے لگا۔ لیکن اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہ وہ بالکل معدوم تھا اور اسے ہم نے پیدا کرلیا (ضرب لنا مثلا) امرا عجیبا و ھو نفی القدرۃ علی احیاء الموتی وتشبیہہ بخلقہ بوصفہ بالعجز عنہ (بیضاوی) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(77) کیا انسان یہ نہیں جانتا کہ ہم نے اس کو ایک حقیر نطفے اور بوند سے پیدا کیا۔ پھر ناگہاں وہ ایک علانیہ جھگڑا کرنے والا بن گیا۔ یعنی قیامت کا منکر انسان اس بات پر غور نہیں کرتا ک وہ ایک حقیر بوند سے پیدا کیا گیا ہے اور باوجود حقارت اور دنائت کے حضرت ٭ کرتا ہے اور اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر اعتراض کرتا ہے اور علانیہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مقابلہ کرتا اور بعثت کی تکذیب کرتا ہے۔