Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 79

سورة يس

قُلۡ یُحۡیِیۡہَا الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَہَاۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلۡقٍ عَلِیۡمُۨ ﴿ۙ۷۹﴾

Say, "He will give them life who produced them the first time; and He is, of all creation, Knowing."

آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Say: "He will give life to them Who created them for the first time! And He is the All-Knower of every creation!" meaning, He knows about the bones in all areas and regions of the earth, where they have gone when they disintegrated and dispersed. Imam Ahmad recorded that Rib`i said: ""Uqbah bin `Amr said to Hudhayfah, may Allah be pleased with him, `Will you not tell us what you heard from the Messenger of Allah?' He said, `I heard him say: إِنَّ رَجُلً حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَلَمَّا أَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ أَوْصَى أَهْلَهُ إِذَا أَنَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا كَثِيرًا جَزْلاً ثُمَّ أَوْقِدُوا فِيهِ نَارًا حَتْى إِذَا أَكَلَتْ لَحْمِي وَخَلَصَتْ إِلَى عَظْمِي فَامْتُحِشْتُ فَخُذُوهَا فَدُقُّوهَا فَذَرُّوهَا فِي الْيَمِّ فَفَعَلُوا فَجَمَعَهُ اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ فَغَفَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَه Death approached a man and when there was no longer any hope for him, he said to his family, "When I die, gather a lot of firewood, then set it ablaze until my flesh is consumed and it reaches my bones and they become brittle. Then take them and grind them, and scatter them in the sea." So they did that, but Allah gathered him together and said to him: "Why did you do that?" He said, "Because I feared You." So Allah forgave him.' Uqbah bin `Amr said, `I heard him say that, and the man was a gravedigger."' Many versions of this Hadith were recorded in the Two Sahihs. One of these versions mentions that he commanded his sons to burn him and then grind his remains into small pieces, and then scatter half of them on land and half of them on the sea on a windy day. So they did that, then Allah commanded the sea to gather together whatever remains were in it, and He commanded the land to do likewise, then he said to him, "Be!", and he was a man, standing. Allah said to him. "What made you do what you did?" He said, "The fear of You, and You know best." Straight away He forgave him. Allah says: الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الاَْخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

79۔ 1 یعنی جو اللہ تعالیٰ انسان کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کرتا ہے، وہ دوبارہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ اسکی قدرت احیائے موتی کا ایک واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے مرتے وقت وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جلا کر اس کی آدھی راکھ سمندر میں اور آدھی راکھ تیز ہوا والے دن خشکی میں اڑا دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ساری راکھ جمع کرکے اسے زندہ فرمایا اور اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف سے۔ چناچہ اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٧١] اللہ کی تخلیق کے مختلف طریقے :۔ یعنی ایک بیج سے تناور درخت بنا کھڑا کرنے کی صورت اور ہے۔ بےجان غذاؤں سے نطفہ اور نطفہ سے حیوانات اور انسان کو پیدا کر دکھانے کی صورت اور ہے۔ اور کسی مردہ انسان کے گلے سڑے اجزاء کو ملا کر اکٹھا کرکے ان کو زندہ کھڑا کردینے کی صورت اور ہے۔ غرضیکہ کائنات میں تخلیق کئی صورتوں سے ہو رہی ہے اور اللہ چونکہ خود ہر چیز کا خالق ہے۔ لہذا وہ ان سب طریقوں اور صورتوں کو پوری طرح جانتا ہے اور انسان جو ان صورتوں میں کوئی ایک صورت بھی نہیں جانتا نہ جان سکتا ہے وہ اپنے خیال اور اپنی محدود عقل کے مطابق ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ : یعنی جس نے ان ہڈیوں کو اس وقت پیدا کرلیا جب ان کا وجود ہی نہ تھا، پھر ان میں جان ڈال دی، وہی انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، کیونکہ دوبارہ بنانا تو زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اگرچہ اس قادر مطلق کے لیے پہلی مرتبہ بنانا اور دوبارہ بنانا یکساں آسان ہے۔ دیکھیے سورة روم (٢٧) ۔ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ : ” خَلْقٍ “ مصدر بھی ہوسکتا ہے، یعنی ” ہر طرح کا پیدا کرنا “ اور اسم مفعول بمعنی مخلوق بھی، یعنی ” ہر ہر مخلوق “ پہلا معنی ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ ہر چیز کے متعلق خوب جانتا ہے کہ اسے کس طرح پیدا کرنا ہے، پھر یہ بھی کہ اسے پہلی دفعہ کیسے پیدا کرنا ہے اور دوبارہ کیسے بنانا ہے، لہٰذا اس کے لیے بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ دوسرا معنی ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ ہر ہر مخلوق کو جانتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور اس کے فنا ہونے کے بعد اس کے ذرات کہاں کہاں ہیں، سو وہ ہر ذرے کو اس کی جگہ سے جمع کر کے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( کَانَ رَجُلٌ یُسْرِفُ عَلٰی نَفْسِہِ ، فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِیْہِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُوْنِيْ ثُمَّ اطْحَنُوْنِيْ ثُمَّ ذَرُّوْنِيْ فِی الرِّیْحِ ، فَوَ اللّٰہِ ! لَءِنْ قَدَرَ اللّٰہُ عَلَيَّ لَیُعَذِّبَنِّيْ عَذَابًا مَا عَذَّبَہُ أَحَدًا فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِہِ ذٰلِکَ ، فَأَمَرَ اللّٰہُ الْأَرْضَ ، فَقَالَ اجْمَعِيْ مَا فِیْکِ مِنْہُ فَفَعَلَتْ فَإِذَا ہُوَ قَاءِمٌ، فَقَالَ مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ یَا رَبِّ ! خَشْیَتُکَ فَغَفَرَ لَہُ ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : ٣٤٨١ ] ” ایک آدمی اپنی جان پر زیادتی کرتا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا، اس نے اپنے بیٹوں سے کہا، جب میں فوت ہوجاؤں، مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیسنا، پھر مجھے ہوا میں اڑا دینا، کیونکہ قسم ہے اللہ کی ! اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہیں دیا۔ تو جب وہ فوت ہوگیا، اس کے ساتھ ایسے ہی کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا، فرمایا، تجھ میں اس کا جو کچھ ہے جمع کر دے، اس نے ایسے ہی کیا تو وہ اسی وقت کھڑا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تجھے اس طرح کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ “ اس نے کہا : ” اے میرے رب ! تیرے خوف نے۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ يُحْيِيْہَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ۝ ٠ ۭ وَہُوَبِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ۝ ٧٩ۙ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] ، وقال : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] ، وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] ، ويُنْشِئُ النَّشْأَةَالْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] فهذه كلُّها في الإيجاد المختصِّ بالله، وقوله تعالی: أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] فَلِتشبيه إيجادِ النَّارِ المستخرَجة بإيجادِ الإنسانِ ، وقوله : أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] أي : يُرَبَّى تربيةً کتربيةِ النِّسَاء، وقرئ : يَنْشَأُ «1» أي : يَتَرَبَّى. ( ن ش ء) النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن میں ہے : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے ۔ نشافلان کے معنی کے بچہ کے جوان ہونے کے ہیں ۔ اور نوجوان کو ناشی کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] کچھ نہیں کہ رات کا اٹھنا دنفس بہیمی کی سخت پامال کرتا ہے ۔ میں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں ۔ اسی سے نشاء السحاب کا محاورہ ہے جس کے معنی فضا میں بادل کے رونما ہونے اور آہستہ آہستہ بڑھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے َ : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے ۔ الانشاء ۔ ( افعال ) اس کے معنی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں ۔ عموما یہ لفظ زندہ چیز ۔۔ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] وہ خدا ہی جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ اور تمہاری کان اور آنکھیں اور دل بنائے ۔ نیز فرمایا : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] وہ تم کو خوب جانتا ہے جسب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی ۔ وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں ۔ ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا ويُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا ۔ ان تمام آیات میں انسشاء بمعنی ایجاد استعمال ہوا ہے جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] بھلا دیکھو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ۔ میں آگ کا درخت اگانے پر بطور تشبیہ انشاء کا لفظ بولا گیا ہے اور آیت کریمہ ) أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] کیا وہ جوز یور میں پرورش پائے ۔ میں ینشا کے معنی تربیت پانے کے ہیں نفی عورت جو زبور میں تربیت ۔ ایک قرآت میں ينشاء ہے یعنی پھلے پھولے مَرَّةً مَرَّةً ومرّتين، كفَعْلَة وفَعْلَتين، وذلک لجزء من الزمان . قال : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] ، وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] ، إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] ، سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ، وقوله : ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] . مرۃ ( فعلۃ ) ایک بار مرتان ض ( تثنیہ ) دو بار قرآن میں ہے : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] اور انہوں نے تم سے پہلی بار ( عہد شکنی کی ) ابتداء کی ۔إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] اگر آپ ان کے لئے ستربار بخشیں طلب فرمائیں ۔ إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر رضامند ہوگئے ۔ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے ۔ ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] تین دفعہ ( یعنی تین اوقات ہیں ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ اس کو جواب دے دیجیے کہ وہ ذات زندہ کرے گی جس نے پہلی بار ان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے اور وہ ہر ایک چیز سے پیدا کرنا جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٩ { قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ “ اس اعتراض کے جواب میں یہ دلیل قرآن حکیم میں متعدد بار بیان فرمائی گئی ہے جسے معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا ابتدائی طور پر پیدا کرنا ‘ یا کسی بھی کام کا پہلی مرتبہ انجام دینا ‘ اس کا اعادہ کرنے کے مقابلے میں بظاہر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تو جس ہستی نے پہلی دفعہ انسان کو بنایا ہے اس کے لیے اسے دوبارہ بنانا بھلا کیونکر مشکل ہوگا ! { وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ } ” اور وہ ہر مخلوق کا مکمل علم رکھنے والا ہے۔ “ کون کہاں دفن ہوا ‘ کس کے جسم کے کون کون سے اجزاء کس کس حالت میں کہاں کہاں منتشر ہوئے ‘ یہ سب معلومات اللہ تعالیٰ کے علم قدیم اور علم کامل کے اندر محفوظ ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:79) قل : ای قل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کہئے یا جواب دیجئے۔ یحییھا۔ یحییٰ مضارع واحد مذکر غائب احیاء (افعال) مصدر، وہ زندگی دیتا ہے ۔ وہ زندہ کردیتا ہے۔ وہ جان ڈال دیتا ہے۔ ھا ضمیر واحد مذکر غائب اس کا مرجع العظام ہے۔ وہ زندہ کر دے گا ان ہڈیوں کو۔ انشاھا۔ انشا ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع بھی العظام ہے (جس نے) ان کو پیدا کیا تھا۔ اول مرۃ۔ مضاف مضاف الیہ۔ پہلی بار۔ پہلی مرتبہ۔ مرۃ ایک بار۔ اس کی جمع مرار ومرات ہے۔ وھو، میں وائو حالیہ ہے۔ کل خلق مضاف مضاف الیہ (کل حرف جار باء کی وجہ سے مجرور ہے) خلق بمعنی مخلوق ۔ کل خلق۔ ہر قسم کی مخلوق، تمام مخلوقات۔ وھو بکل خلق علیم وہ سب طرح پیدا کرتا خوب جانتا ہے۔ یعنی مخلوقات کی تفصیل اور کیفیت تخلیق کو خوب جانتا ہے ۔ اور اجسام کے منتشر ومتفرق اجزا کے اصول، مواقع اور امتیاز کے طریقوں اور سابق کے طرز پر ان کو باہم جوڑنے اور گذشتہ اعراض اور قوتون کو لوٹا کر لانے یا از سر نو پیدا کرنے سے بخوب واقف ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ اَنشَاَھَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (آپ جواب میں فرما دیجیے کہ ان ہڈیوں کو وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا فرمایا) (وَّھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ) (اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے) اس میں منکرین کا یہ اشکال دور کردیا کہ ہڈیاں گل جائیں گی ان کے ریزے کہاں کہاں پہنچے ہوں گے پھر کیسے جمع کیے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ جس نے پیدا کیا تھا اسے سب پتہ ہے کہ کون سی چیز کہاں ہے، اسے اس کا علم ہے کہ کون سا ذرہ کہاں پہنچا اور کس جگہ میں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48:۔ قل یحییہا الخ : یہ جواب شکوی ہے اور ساتھ ہی بعث و نشور (قیامت) پر عقلی دلیل بھی ہے فرما دیجئے، بوسیدہ ہڈیوں میں از سر نو وہی جان ڈالے گا جس نے ان کو پہلے نیست سے ہست کیا اور وہ ہر مخلوق کو جانتا ہے ہر مردے کے متفرق اور بکھرے ہوئے اجزاء اسے معلوم ہیں اور بدن میں ہر جز کا مقام بھی اسے معلوم ہے یعلم جل و علا بجمیع الاجزاء المتفتۃ المتبددۃ لکل شخص من الاشخاص اصولہا و فروعہا واوضاع بعضہا من بعض من الاتصال والانفصال والاجتماع والفتراق فیعید کلا من ذلک علی الخط السابق مع القری التی کانت قبل (روح ج 23 ص 55) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(79) اے پیغمبر آپ فرما دیجئے ان ہڈیوں کو وہی زندہ کر دے گا جس نے ان ہڈیوں کو پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ ہر قسم کا بنانا اور پیدا کرنا جانتا ہے۔