Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 81

سورة يس

اَوَ لَیۡسَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یَّخۡلُقَ مِثۡلَہُمۡ ؕ؃ بَلٰی ٭ وَ ہُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۱﴾

Is not He who created the heavens and the earth Able to create the likes of them? Yes, [it is so]; and He is the Knowing Creator.

جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کیا وہ ان جیسوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں ، بیشک قادر ہے ۔ اور تو وہی پیدا کرنے والا دانا ( بینا ) ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah points out His great Might and Power in that He created the Seven Heavens with all their stars and planets, and the Seven Earths with everything in them. He tells us to find the proof that He will recreate our bodies in His creation of these mighty things. This is like the Ayah: لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind. (40:57) And Allah says here: أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُم ... Is not He Who created the heavens and the earth, able to create the like of them! meaning, the like of mankind. So, He will recreate them as He created them in the first place. Ibn Jarir said, "This Ayah is like the Ayah: أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْىِ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ Do they not see that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation, is able to give life to the dead! Yes, He surely is able to do all things. (46:33)" And Allah says here: ... بَلَى وَهُوَ الْخَلَّقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْيًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ

اللہ ہر چیز پر قادر ۔ اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا ۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا ۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے ، جیسے فرمایا ( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀ ) 40-غافر:57 ) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے ، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کردیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے گا ؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقینا انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا ۔ جس نے ابتدا پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے ( اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀ ) 46- الأحقاف:33 ) ، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنادیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا ، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے ۔ ساتھ ہی دانا ، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے ۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے ۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو ، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کردوں ۔ میں جواد ہوں ، میں ماجد ہوں ، میں واجد ہوں ۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے ۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہدیتا ہوں کہ ہو جاوہ ہوجاتی ہے ۔ ہر برائی سے اس حی وقیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے ، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں ۔ وہ سب کا خالق ہے ، وہی اصلی حاکم ہے ، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا ۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے ۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے؟ اور فرمان ہے ( تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ Ǻ۝ۙ ) 67- الملك:1 ) پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت ۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے ۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے ۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں کھڑا ہوگیا آپ نے سات لمبی سورتیں ( یعنی پونے دس پارے ) سات رکعت میں پڑھیں سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ یہ پڑھتے تھے ( الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ ) پھر آپ کا رکوع ایام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہوگئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں ( ابوداؤد وغیرہ ) انہی حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی ( اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ ) پھر پوری سورہ بقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لربی الحمد پڑھتے رہے ۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے ۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے ۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورہ بقرہ سورہ آل عمران سورہ نساء اور سورہ مائدہ کی تلاوت کی ۔ حضرت شعبہ کو شک ہے کہ سورہ مائدہ کہا یا سورہ انعام ؟ نسائی وغیرہ میں ہے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ نے سورہ بقرہ کی تلاوت فرمائی ، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے ( سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ ) پھر آپ نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا ۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورہ آل عمران پڑھی ۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

81۔ 1 یعنی انسانوں جیسے مطلب انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا جس طرح انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، آسمان و زمین کی پیدائش سے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر استدلال ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ ) (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 46 ۔ الاحقاف :33) ' آسمان و زمین کی پیدائش (لوگوں کے نزدیک) انسانوں کی پیدائش سے زیادہ مشکل کام ہے '۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٧٣] درختوں کے فائدے اور آگ کا حصول :۔ آسمانوں اور زمین جیسی عظیم مخلوق کو بھی دیکھ لو اور اپنے آپ پر بھی نظر ڈال کر دیکھ لو کہ ان کے مقابلہ میں تمہاری یا تم جیسوں کی کیا حیثیت اور حقیقت ہے ؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے تو کیا تمہیں ہی وہ دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا حالانکہ وہ تخلیق کے تمام طریقوں کو خوب جانتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ : یہ دوبارہ زندگی کی تیسری دلیل ہے کہ آسمان اور زمین کو دیکھو، ان میں اللہ تعالیٰ نے جو عجیب و غریب اور عظیم الشّان چیزیں رکھی ہیں، انھیں دیکھو اور ان کے مقابلے میں انسان کو دیکھو، کیا اس عظیم آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اس ضعیف البنیان انسان کو پہلے یا دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دیا، کیوں نہیں ! وہ خلّاق بھی ہے اور علیم بھی۔ جب اس میں صفت خلق اور صفت علم پورے کمال کے ساتھ جمع ہیں تو پھر کون سا مردہ ہے جو وہ زندہ نہ کرسکے ؟ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو انسان کے دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر کئی مقامات پر نہایت زوردار انداز میں بیان فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ ) [ المؤمن : ٥٧ ] ” یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے۔ “ اور فرمایا : (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) [ الأحقاف : ٣٣ ] ” اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ؟ کیوں نہیں ! یقیناً وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ “ اور فرمایا : (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا ) [ النازعات : ٢٧ ] ” کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ۝ ٠ ۭ ۬ بَلٰى۝ ٠۝ ٠ ۤوَہُوَالْخَلّٰقُ الْعَلِـيْمُ۝ ٨١ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ قادر الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي ينتفي عنه العجز من کلّ وجه . ( ق د ر ) القدرۃ ( قدرت) اگر یہ انسان کی صنعت ہو تو اس سے مراد وہ قوت ہوتی ہے جس سے انسان کوئی کام کرسکتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے قادرہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عاجز نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی معنوی طور پر قدرت کا ملہ کے ساتھ متصف نہیں ہوسکتی اگرچہ لفظی طور پر ان کیطرف نسبت ہوسکتی ہے اس لئے انسان کو مطلقا ھو قادر کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ تقیید کے ساتھ ھوقادر علی کذا کہاجائیگا لہذا اللہ کے سوا ہر چیز قدرت اور عجز دونوں کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ایسی ہے جو ہر لحاظ سے عجز سے پاک ہے مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر نہ کریں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کیا آسمانوں و زمین کا خالق انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں یقینا وہ اس چیز پر قادر ہے وہ بڑا پیدا کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨١ { اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ } ” تو کیا جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ‘ وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسی مخلوق دوبارہ پیدا کر دے ! “ یہاں پر یَخْلُقَ مِثْلَہُمْکے الفاظ میں ایک اہم مضمون بیان ہوا ہے جو اس آیت کے علاوہ بھی قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا تو ہم میں سے ہر ایک کو بعینہٖ دنیا والا جسم نہیں دیا جائے گا بلکہ ” اس جیسا “ جسم دیا جائے گا۔ اس کی عقلی توجیہہ یہ ہے کہ انسان کا جسم تو اس کی زندگی میں بھی مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس میں مسلسل تغیرات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ کھال سمیت جسم کے تمام اعضاء کے خلیات اور خون کے سرخ وسفید خلیات مسلسل ختم ہوتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے نئے خلیات بنتے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرا جو جسم دس سال پہلے تھا وہ آج ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ بالکل ایک نیا جسم بن چکا ہے۔ اسی طرح آج میرا جو جسم ہے چند سال بعد اس کی یہ ہیئت تبدیل ہوجائے گی۔ گویا بچپن میں جسم کی جو کیفیت ہوتی ہے ‘ جوانی تک پہنچتے پہنچتے وہ کیفیت بالکل بدل جاتی ہے ‘ جبکہ بڑھاپے کی عمر میں جوانی والے جسم کی ہیئت بھی مکمل طور پر تبدیل ہوجاتی ہے۔ بہر حال ہر انسان کو دوبارہ اٹھنے پر جو جسم دیا جائے گا وہ بعینہٖ دنیا والا جسم نہیں ہوگا ‘ بلکہ ” اس جیسا “ جسم ہوگا اور اس کی شکل کی سی شکل ہوگی۔ دنیا کی زندگی میں جس جسم سے اس نے نیک یا برے اعمال کمائے ہوں گے ‘ اسی طرح کے جسم کے ساتھ اسے ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک فرمان بھی اس کے لیے دلیل فراہم کرتا ہے جو بالعموم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوش طبعی کی مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دفعہ ایک بوڑھی خاتون حاضر ہوئی اور اپنے لیے جنت کی دعا کی درخواست کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا : ” اے اُمّ فلاں ! جنت میں بوڑھی عورتیں تو داخل نہیں ہوں گی “۔ اس پر وہ سادہ لوح خاتون رنجیدہ ہو کر رونے لگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دیکھا تو اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : (اَنَّ الْعَجُوْزَ لَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّۃَ عَجُوْزًا بَلْ یُنْشِئُھَا اللّٰہُ خَلْقًا آخَرَ ، فَتَدْخُلُھَا شَابَّـۃً بِکْرًا) ” بوڑھی عورتیں بڑھاپے کی حالت میں ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک اور ہی اٹھان پر اٹھائے گا ‘ پس تم نوجوان کنواری بن کر جنت میں داخل ہوگی “۔ اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خاتون کو یہ آیات پڑھ کر سنائیں : { اِنَّــآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْکَارًا عُرُبًا اَتْرَابًا ۔ } (الواقعۃ) ” ان کو ہم ایک خاص اٹھان پر اٹھائیں گے ‘ اور ان کو باکرہ بنائیں گے ‘ محبت کرنے والی ‘ ہم عمر۔ “ (١) { بَلٰیق وَہُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ } ” کیوں نہیں ! جبکہ وہ تو بہت تخلیق فرمانے والا ‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:81) اولیس الذی۔۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے وائو عاطفہ ہے جملہ مابعد کا عطف جملہ مقدرہ ما قبل پر ہے :۔ ای الیس الذی انشاھا اول مرۃ ولیس الذی جعل لکم من الشجر الاخضر نارا ولیس الذی خلق السموت والارض۔ مثلہم۔ ان جیسا۔ ان کی طرح۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب منکرین حشر کی طرف راجع ہے۔ مراد یہ ہے کہ جس ذات عالی صفات نے آسمانوں اور زمین کو جن کا حبثہ وجسامت جن کی عظمت وشان، جن کی گہرائیاں اور وسعتیں بےحدو حساب ہیں۔ پیدا کیا۔ وہ ان جیسی حقیر بےوقعت اور کمتر مخلوق کو (دوبارہ) پیدا نہیں کرسکتا۔ بلی۔ ہاں۔ الف اس میں اصل ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تانیث کے لئے ہے کیونکہ اس کا امالہ ہوتا ہے (امالہ۔ مائل کرنا۔ (میل مادہ) علم صرف کی اصطلاح میں فتحہ کو کسرہ کی طرف اور الف کو یاء کی جانب بہت زیادہ مائل کرنا ادا کرنا مثلاً بلی کو بلے یا کو کھینچ کر پڑھئے جیسے مجرھا میں۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے۔ (1) ایک تو نفی ما قبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافر لوگ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ! تو کہہ دے کیوں نہیں۔ قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (2) دوسرے یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہو جیسے الیس زید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں) اور جواب میں کہا جائے بلی۔ یا استفہام تو بیخی ہو جیسے ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:3 ۔ 4) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی ) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ؟ کیوں نہیں (ضرور کریں گے) بلکہ ہم قدرت رکھتے ہیں کہ اس کا پور پور درست کردیں۔ (لغات القرآن) ۔ آیت ہذا میں بلی انہیں معنی میں آیا ہے۔ الخلق۔ خلق سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بڑا خالق۔ ایک مخلوق کے بعد دوسری مخلوق پیدا کرنے والا۔ العلیم۔ علم سے بروزن فعیل۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔ اصل علم کو جاننے والا۔ تمام ممکنات کو خوب جاننے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اولیس الذی۔۔۔۔۔ الخلق العلیم (36: 81) ” کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کردیا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے کیوں نہیں ! جبکہ وہ ماہر خلاق ہے “۔ آسمان اور زمین اور یہ وسیع کائنات تو ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں اور اس میں لاکھوں ملین اجناس و اصناف مخلوقات موجود ہیں ، بعض اس قدر باریک کہ ہم ان کے حجم ہی کو نہیں پکڑ سکتے۔ نہ ہم ان کی حقیقت کو پاسکتے ہیں ۔ اور ان کے بارے میں آج تک ہم بہت کم جانتے ہیں۔ یہ زمین اس سورج کے کہکشاں میں سے ایک چھوٹا سا تابع سیارہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں۔ اس میں ہم سورج کی روشنی اور حرارت سے رہتے ہیں اور ہمارا یہ سورج جس کہکشاں کے تابع ہے ، اس کے اندر ایک کروڑ ستاروں میں سے سورج ایک ہے جس سے ہماری قریب کی یہ دنیا بنتی ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس جہاں میں کئی اور کہکشاں ہیں۔ اور کئی ایسی دنیا ئیں ہیں جس طرح ہماری قریب کی دنیا ہے۔ ماہرین فلکیات ابھی تک ایک کروڑ کہکشاؤں تک شمار کرسکتے ہیں اور یہ شمار انہوں نے اپنی محدود طاقت والی دوربینوں سے کیا ہے ۔ اور وہ اس انتظار میں ہیں کہ کئی اور کہکشاں دریافت ہوں گے جب طاقتور رصدگاہیں اور بہت ہی دور تک دکھانے والی دوربینیں بنا دی جائیں گی۔ ہماری اس کہکشاں اور اس سے قریب ترین کہکشاں کے درمیان فاصلہ کتنا ہے ؟ سات لاکھ پچاس ہزار نوری سال کا فاصلہ ہے۔ اور ایک نوری سال کا فاصلہ کیا ہوتا ہے یعنی 26 ملین میل۔ کہتے ہیں کہ طبعی مواد کا ایک عظیم ڈھیر یا گور تھا اور اس کے بکھرنے سے یہ سورج بنے ہیں۔ یہ ہے اللہ کی وسیع کائنات اور اس کی وسیع کرسی اور اس کے بارے میں ہمارے حقیر اور محدود معلومات۔ یہ سورج جن کو گنا نہیں جاسکتا ان میں سے ہر ایک کا ایک مدار یا آسمان اور فلک ہے جس کے اندر یہ سورج چلتا ہے اور ان سورجوں میں سے ہر سورج کے اپنے تابع اجرام ہیں جن کے اپنے اپنے مدار ہیں۔ وہ ان مداروں میں اپنے اپنے سورجوں کے گرد گھومتے ہیں۔ جس طرح ہماری زمین ہمارے سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ تمام گھومنے والے اربوں سورج اور چاند اور ستارے نہایت ہی دقیق اور متعین رفتار کے ساتھ چلتے ہیں اور کبھی اپنی رفتار اور مدار کو نہیں بدلتے۔ ایک لمحہ کے لیے نہیں رکتے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کائنات کے تمام مجموعے جو اس وقت ان فضاؤں میں تیر رہے ہیں ، سب باہم متصادم ہوجائیں اور یہ تمام نظام درہم برہم ہوجائے۔ یہ فضا جس میں اربوں اجرام فلکی چکر لگا رہے ہیں اور جن کی تعداد بھی ابھی تک معلوم نہیں ، یوں ہیں جس طرح چھوٹے چھوٹے ذرے ہیں۔ نہ ان کی تصویر کشی ہو سکتی ہے اور نہ یہ دائرہ تصور میں آسکتے ہیں۔ یہ اس قدر وسیع و عریض کائنات کے حصے ہیں جس کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ اولیس الذی۔۔۔۔ یخلق مثلھم (36: 81) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے “۔ لوگوں کی تخلیق تو ایک معمولی بات ہے جبکہ یہ کائنات بہت ہی وسیع اور عظیم ہے۔ بلی وھو الخلق العلیم (36: 81) ” ہاں وہ ماہر خلاق ہے “۔ اللہ نے یہ سب چیزیں پیدا کیں وہ ان کے علاوہ اور چیزوں کو بھی پیدا کرسکتا ہے اور بغیر کسی تکلیف اور محنت کے۔ اللہ کے لیے چھوٹی یا بڑی چیز کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد انسانوں کو دوبارہ پیدا فرمانے کی ایک اور دلیل ذکر فرمائی اور سوال کے پیرایہ میں فرمایا (اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ) (جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان کے جیسے پیدا فرما دے) (بَلٰی وَھُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ ) (ہاں وہ قادر ہے اور وہ بڑا پیدا کرنے والا ہے) جس ذات پاک نے اتنے بڑے بڑے آسمان بنا دئیے، اتنی بڑی زمین بنا دی اس کے بارے میں یہ کہنا کہ جب ہم مرجائیں گے تو وہ ہمیں کیسے پیدا کرے گا، یہ سوال سراسر حماقت ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

50:۔ اولیس الخ :۔ جس قادر و توانا اور قیوم و دانا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرلیا۔ کیا وہ انسانوں کو دوبارہ اپنی پہلو شکلوں پر پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں ! ضرور پیدا کرسکتا ہے جبکہ وہ ساری کائنات کا خالق اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ انما امرہ الخ : اس کے لیے کسی چیز کا پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں، بلکہ نہایت ہی آسان ہے۔ وہ جب کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے ارادہ کرتے ہی وہ چیز خلعت وجود پہن لیتی ہے اسی طرح انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے لیے صرف اس کا ارادہ کافی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(81) اور کیا جس اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیدا کردے۔ بیشک وہ ضرور قادر ہے اور وہی ہے اصل بنانے والا سب جاننے والا۔ یعنی جس اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین جیسی بڑی بڑی مخلوق کو بنادیا اور ان کو فنا کرنے کے بعد پھر پیدا کردے گا۔ کیا وہ اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ انسان جو آسمان و زمین کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اس کو موت کے بعد دوبارہ پھر پیدا کر دے بیشک وہ قادر ہے۔ وہ بہت بڑا بنانے والا اور پیدا کرنے والا اور سب کو جاننے والا اور ہر ایک کے حال سے آگاہ ہے۔