Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 11

سورة الصافات

فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَہُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ ﴿۱۱﴾

Then inquire of them, [O Muhammad], "Are they a stronger [or more difficult] creation or those [others] We have created?" Indeed, We created men from sticky clay.

ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا ( ان کا ) جنہیں ہم نے ( ان کے علاوہ ) پیدا کیا ؟ ہم نے ( انسانوں ) کو لیسدار مٹی سے پیدا کیا ہے؟ ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Certainty of Life after Death Allah says: فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَا ... Then ask them: "Are they harder to create, or those whom We have created!" Allah says: `Ask these people, those who deny the resurrection, which is harder to create? Are they more difficult to create or the heavens, the earth, the angels, devils, the mighty creatures -- everything in between them!' Ibn Mas`ud said that they admitted that these things were harder to create than they were. If this is the case, then why do they deny the resurrection, when they see things that are greater than that which they deny? As Allah says: لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْـثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind; yet, most of mankind know not. (40:57) Then Allah explains that they were created from something weak, as He says: ... إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لاَّزِبٍ Verily, We created them of a sticky clay. Mujahid, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak said, "This is the useful kind of mud which sticks to itself." Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, and Ikrimah said, "It is sticky and useful." Qatadah said, "It is that which sticks to the hand." بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے ؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت ام من عددنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں ۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی ۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی ۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں ۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آجاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے ۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آجائیں ہم تو اس کے قائل نہیں ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہدو کہ ہاں تم یقینا دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے ۔ تم ہو کیا چیز اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو ، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں ۔ فرماتا ہے ( کل اتوہ داخرین ) ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے ۔ ایک آیت میں ہے ( وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60؀ۧ ) 40-غافر:60 ) میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جنہم میں جائیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جسے تم مشکل سمجھتے ہو ، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ اہوال و احوال قیامت کو دیکھنے لگے گا ۔ واللہ اعلم

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 یعنی ہم نے جو زمین ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سے زیادہ سخت اور مشکل ہے ؟ یقینا نہیں۔ 11۔ 2 یعنی ان کے باپ آدم (علیہ السلام) کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا بعید کیوں سمجھتے ہیں درآں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جبکہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل و اتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧] مٹی کی مختلف حالتیں جن سے آدم کا پتلا بنایا گیا & ڈارون کے نظریہ کا ابطال :۔ مٹی کو جن سات مختلف حالتوں سے گزار کر انسان کو پیدا کیا گیا ان کی تفصیل یہ ہے (١) تراب بمعنی خشک مٹی (٤٠: ٦٧) (٢) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین (٧١: ١٧) (٣) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا (٦: ٢) (٤) طین لازب معنی لیسدار یا چپکدار مٹی (٣٧: ١١) (٥) حماٍ مسنون بمعنی بدبودار کیچڑ (١٥: ٢٦) (٦) صلصال بمعنی ٹھیکرا یعنی حرارت سے پکائی ہوئی مٹی (١٥: ٢٦) (٧) صلصال کا لفخار بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری (٥٥: ١٤) یہ مٹی یا زمین کی مختلف شکلیں ہیں۔ کسی وقت مٹی میں پانی کی آمیزش کی گئی تو بعد میں حرارت کے ذریعہ پانی کو خشک کردیا گیا۔ قرآن نے مختلف مقامات پر ان مختلف حالتوں میں سے کسی بھی ایک یا دو حالتوں کا ذکر کردیا ہے۔ اور جس حالت کا بھی نام لیا جائے وہ سب درست ہے۔ اس بیان سے ڈارون کا نظریہ ارتقاء کا رد ہوجاتا ہے جس کی رو سے انسان نباتات اور حیوانات کی منزلوں سے گزر کر وجود میں آیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو سات مختلف حالتیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب جمادات یا مٹی میں ہی پوری ہوجاتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو مزید باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جو عظیم الجثہ اور محیرالعقول مخلوقات پیدا کرچکا ہے اس کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اس کی تخلیق اس کے لئے کچھ مشکل ہو اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی ہی کی سات مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ پھر وہ مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائے گا۔ تو کیا جس نے مٹی کی اتنی حالتوں سے گزار کر انسان کو پہلے پیدا کیا تھا اب دوبارہ مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا نہ کرسکے گا ؟ (ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی تفصیل کے لئے دیکھئے ١٥: ٢٩، حاشیہ ١٩)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا : کفار آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے جواب میں دو دلیلیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ اس سے پہلے ہم جو کچھ پیدا کرچکے ہیں، جن کا اس سورت میں ذکر ہے، یعنی آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق، صافات، زاجرات، تالیات، فرشتے، شیاطین اور ستارے وغیرہ، انھیں پیدا کرنا مشکل ہے یا ان لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا ؟ ظاہر ہے اتنی عظیم مخلوقات کے مقابلے میں انسان بےچارے کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہ کرسکے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) [ المؤمن : ٥٧ ] ” یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یٰس (٨١) ۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے (جو مٹی اور پانی کے ملنے سے بنتا ہے) اور یہ مر کر پھر مٹی ہوجائیں گے۔ تو جب پہلی دفعہ ہم نے انھیں مٹی سے پیدا کرلیا تو اسی مٹی سے ہم انھیں دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتے، جب کہ اس سے پہلے ہم ایک مرتبہ انھیں پیدا کر بھی چکے ہیں ! ؟ (دیکھیے حج : ٥) اور ہر عقل مند جانتا ہے کہ دوسری مرتبہ بنانا پہلی مرتبہ سے آسان ہوتا ہے، یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے سورة روم میں بیان کرتے ہوئے فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ) [ الروم : ٢٧ ] ” اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary After having proved the belief in the Oneness of Allah, described in the present eight verses is the belief in the &Akhirah or Hereafter along with an answer to doubts entertained by disbelievers about it. First of all, a rational proof has been given in support of the possibility of human resurrection in the very initial verse cited above. In gist, it refers to the huge heavenly bodies of the universe mentioned in previous verses, and points out to the obvious weakness of human beings as compared to them. Now when disbelievers do recognize that such great objects of creation as angels, Moon, stars, Sun and the meteors, were created by Allah Ta’ ala through His infinite power, how could it become difficult for Him to make a weak creation like human beings die and then come alive once again? It is being said that the way they were fashioned in the beginning with sticky clay followed by a blowing of spirit in them, similarly, when they will have died and become dust, even then, Allah Ta’ ala will give them life once again. As for the statement: (Certainly, We did create them from sticky clay - 37:11), either it means that their forefather, Sayyidna Adam (علیہ السلام) was created with clay, or it is also possible that it means every human being. Therefore, if seen with a little deliberation, water-based clay is the essence of every human being cyclically. Human creation is from sperm, sperm from blood and blood from food. The essence of food, no matter in which form, is vegetation and vegetation comes from the combination of clay and water. Anyway, the first verse (11) provides a rational proof of the belief in the &Akhirah or Hereafter. This has been posed in the form of a question beamed right at them: Who is more difficult in the process of creation? You? Or, are the many objects of creation We have mentioned more difficult to create? Therefore, no elaborate explanation was considered necessary. It was deemed sufficient to allude to it through a hint by saying - &Certainly, We did create them with sticky clay.& After that, in the five verses that follow it, described there is the reaction the disbelievers show on hearing the proofs in support of the Hereafter. The proofs of the belief in the Hereafter presented before disbelievers were of two kinds: (1) Rational proofs as given in the first verse. (2) Reported proofs, that is, they were shown miracles in support of the veracity of the mission of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as prophet and messenger of Allah asserting that he was, as such, from Allah and a prophet of Allah can never lie. He receives the authority of what he says from the heavens. And when he is telling us that the last day of Qiyamah will come, there will be a Resurrection and human beings will account for their deeds, then, this information given by him is definitely true, and it must be accepted as true.

خلاصہ تفسیر (جب دلائل توحید سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ان عظیم الشان مخلوقات میں ایسے ایسے عظیم تصرفات پر قادر ہیں اور یہ ساری عظیم مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں) تو آپ ان (آخرت کا انکار کرنے والوں) سے پوچھئے کہ یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا ہماری پیدا کی ہوئی یہ چیزیں (جن کا ابھی ذکر ہوا ؟ حقیقت یہی ہے کہ یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں، کیونکہ) ہم نے ان لوگوں کو (تو آدم کی تخلیق کے وقت اسی معمولی، چکنی مٹی سے پیدا کیا ہے، (جس میں نہ کچھ قوت ہے نہ سختی اور انسان جو اس سے بنا ہے وہ بھی زیادہ قوی اور سخت نہیں ہے اب سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم ایسی قوی اور سخت مخلوقات کو عدم سے وجود میں لانے پر قادر ہیں تو انسان جیسی ضعیف مخلوق کو ایک بار موت دے کر دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قدرت نہ ہوگی ؟ مگر ایسی واضح دلیل کے باوجود یہ لوگ آخرت کے امکان کے قائل نہیں ہوئے) بلکہ (اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ) آپ تو (ان کے انکار سے) تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ (انکار سے بڑھ کر آخرت کے عقیدے سے) تمسخر کرتے ہیں اور جب ان کو (دلائل عقلیہ سے) سمجھایا جاتا ہے تو یہ سمجھتے نہیں اور جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں (جو آپ کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ان کو دکھایا جاتا ہے جس سے عقیدہ آخرت ثابت کیا جائے) تو (خود) اس کی ہنسی اڑاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ (کیونکہ اگر یہ معجزہ ہو تو اس سے آپ کی نبوت ثابت ہوجائے گی اور آپ کو نبی ماننے کے بعد آپ کا بیان کردہ عقیدہ آخرت بھی ماننا پڑے گا، حالانکہ ہم آخرت کا عقیدہ نہیں مان سکتے، کیونکہ) بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے، تو کیا ہم (پھر) زندہ کئے جائیں گے، اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ ہوں گے) آپ کہہ دیجئے کہ ہاں (ضرور زندہ ہوں گے) اور تم ذلیل بھی ہوگے۔ معارف ومسائل عقیدہ توحید کو ثابت کرنے کے بعد ان آٹھ آیتوں میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے، اور اسی سے متعلق مشرکین کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ سب سے پہلی آیت میں انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان پر عقلی دلیل پیش کی گئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کے جن عظیم اجسام کا ذکر پچھلی آیتوں میں کیا گیا ہے، انسان تو ان کے مقابلہ میں بہت کمزور مخلوق ہے جب تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے، چاند، ستارے، سورج اور شہاب ثاقب جیسی مخلوقات اپنی قدرت سے پیدا فرمائی ہیں، تو اس کے لئے انسان جیسی کمزور مخلوق کو موت دے کر دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے ؟ جس طرح تمہیں ابتداء میں چپکتی ہوئی مٹی سے بنا کر تم میں روح پھونک دی تھی، اسی طرح جب تم مر کر دوبارہ خاک ہوجاؤ گے اس وقت پھر اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی عطا کر دے گا۔ اور یہ جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” ہم نے انہیں چپکتی مٹی سے پیدا کیا “ اس سے مطلب یا تو یہ ہے کہ ان کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ہر انسان ہو۔ اس لئے اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر انسان کی اصل پانی ملی ہوئی مٹی ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ انسان نطفہ سے پیدا ہوتا ہے، نطفہ خون سے بنتا ہے، خون غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا خواہ کسی شکل میں ہو اس کی اصل نباتات ہیں اور نباتات مٹی اور پانی سے پیدا ہوتے ہیں۔ بہر صورت پہلی آیت عقیدہ آخرت کی عقلی دلیل پر مشتمل ہے، اور اسے خود انہی سے یہ سوال کر کے شروع کیا گیا ہے کہ تم زیادہ سخت مخلوق ہو یا جن مخلوقات کا ذکر ہم نے کیا ہے، وہ زیادہ سخت ہیں ؟ جواب ظاہر تھا کہ وہی مخلوقات زیادہ سخت ہیں، اس لئے اس کی تصریح کرنے کی بجائے اس کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کردیا گیا ہے کہ ” ہم نے تو انہیں چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے “ اس کے بعد کی پانچ آیتوں میں اس ردعمل کا بیان کیا گیا ہے جو آخرت کے دلائل سن کر مشرکین ظاہر کرتے ہیں۔ مشرکین کے سامنے عقیدہ آخرت کے جو دلائل بیان کئے جاتے تھے وہ دو قسم کے تھے۔ ایک تو عقلی دلائل، جیسے پہلی آیت میں بیان کیا گیا، دوسرے نقلی دلائل یعنی ان کو معجزے دکھا کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کا بیان کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ آپ اللہ کے نبی ہیں، نبی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا، اس کے پاس آسمانی خبریں آتی ہیں، جب آپ یہ خبر دے رہے ہیں کہ قیامت آئے گی، حشر ونشر و گا، انسانوں سے حساب و کتاب لیا جائے گا تو یہ خبر یقینا سچی ہے، اسے مان لینا چاہئے جہاں تک عقلی دلائل پر مشرکین کے ردعمل کا تعلق ہے، اس کے بارے میں ارشاد ہے :

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاسْتَفْتِہِمْ اَہُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا۝ ٠ ۭ اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ۝ ١١ استفتا الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال : اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي بکذا . قال : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127] ، فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] ، استفتا اور کسی مشکل مسلہ کے جواب کو فتیا وفتوی کہا جاتا ہے ۔ استفتاہ کے معنی فتوی طلب کرنے اور افتاہ ( افعال ) کے معنی فتی دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127]( اے پیغمبر ) لوگ تم سے ( یتیم ) عورتوں کے بارے میں فتوی طلب کرتے ہیں کہدو کہ خدا تم کو ان کے ( ساتھ نکاح کرنے کے ) معاملے میں فتوی اجازت دیتا ہے فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] تو ان سے پوچھو۔ شد الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء : قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ، ( ش دد ) الشد یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] اور ان کے مفاصل کو مضبوط بنایا ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے طين الطِّينُ : التّراب والماء المختلط، وقد يسمّى بذلک وإن زال عنه قوّة الماء قال تعالی: مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] ، يقال : طِنْتُ كذا، وطَيَّنْتُهُ. قال تعالی: خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] ، وقوله تعالی: فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] . ( ط ی ن ) الطین ۔ پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے اور طنت کذا وطینتہ کے معنی دیوار وغیرہ کو گارے سے لینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] چپکنے والی مٹی سے ۔ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] اور اسے مٹی سے بنایا ۔ فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] ہامان امیر لئے گارے کو آگ لگو اکر اینٹیں تیار کرواؤ لزب اللَّازِبُ : الثابت الشّديد الثّبوت . قال تعالی: مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] ، ويعبّر باللّازب عن الواجب، فيقال : ضربة لازب، واللَّزْبَةُ السّنة الجدبة الشّديدة، وجمعها : اللَّزَبَاتُ. ( ل ز ب ) اللازب ۔ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی مقام پر شدت سے ثبت ہوجائے اور چمٹ جائے قرآن میں ہے : مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] چپکتے گارے س ( بنایا ) اور کبھی لازب بمعنی واجب بھی آتا ہے جیسا کہ کسی چیز کے لازم اور ضروری ہونے کو بیان کرنے کے لئے ضربۃ لازب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ اللزیۃ ۔ سخت قحط سالی اس کی جمع لذیات آتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

تو آپ ان مکہ والوں سے پوچھیے کہ یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا ہماری پیدا کی ہوئی چیزیں یعنی فرشتے ہم نے ان لوگوں کو تو ابتدا خلق آدم میں چکنی مٹی سے پیدا کیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَہُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا } ” تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا وہ کچھ جو ہم نے پیدا کیا ہے ! “ یہ کفار و مشرکین کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد ان کا پھر سے زندہ ہوجانا کیسے ممکن ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھیں کہ تم جیسے انسانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اس وسیع و عریض کائنات کو بنانا ؟ اور یہ کہ جس اللہ نے یہ کائنات پیدا کی ہے ‘ اس کے اندر سورج اور چاند کا نظام بنایا ہے ‘ سیاروں ‘ ستاروں اور کہکشائوں کی دنیائیں آباد کی ہیں ‘ کیا تم اس اللہ کے بارے میں خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں پھر سے پیدا نہیں کرسکے گا ! { اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ } ” ان کو تو ہم نے پیدا کیا ہے ایک لیس دار گارے سے۔ “ یعنی وہ ایسا گارا تھا جس میں عمل تخمیر (fermentation) کی وجہ سے چپچپاہٹ اور لیس پیدا ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ انسان کے مادہ تخلیق کے بارے میں قرآن نے مختلف مقامات پر تُراب (مٹی) ‘ طِین (گارا) ‘ طِینٍ لاَّزِب (لیس دار گارا) ‘ صَلصالٍ مِّن حماٍ مسنون (سڑاند والا گارا) اور صلصالٍ کا لفخّار (ٹھیکری جیسی کھنکھناتی ہوئی مٹی) کے الفاظ کا ذکر کیا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : الحجر : ٢٦ کی تشریح) ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 This is an answer to the suspicions of the disbelievers of Makkah, which they presented about the Hereafter. They thought that the Hereafter was not possible, for it is impossible that the dead men should be recreated. In answer to it, Allah presents arguments for the possibility of the Hereafter and asks: "If you think that the recreation of the dead men is a very difficult task which We do not have the power to accomplish, do you think it is easy to create the earth and the heavens and the countless things that they contain? Why don't you use your common sense ? Do you think that God for Whom it was not at all difficult to create this great Universe and Who has created you in the first instance, will not have the power to create you once again ?" 9 That is, "Man is not a difficult thing to make. He has been created from clay, and can again be created from the same clay." "Created man of sticky clay" means that the first man was created directly from the clay and then his race was perpetuated by means of the sperm-drop. It also means that every man has been 'created from the sticky clay, for the whole substance of man's body is obtained from the earth. The sperm-drop of which he is created, is a product of the food, and all the substances which make up his physical being, from the time he is conceived till his death, are also supplied by the food. The source of the food, whether animal flesh or vegetable, is ultimately the same earth which, in combination with water produces corn and vegetables and fruit to become food for man, and nourish the animals, which supply milk and flesh for the use of man. Thus, the basis of the argument is: Man could not be living today if the earth and clay had not become the source of life for him. And if it is possible today to create life in it, as your own existence is a clear and definite pointer to this possibility, why should it be impossible to bring about your re-creation from the same earth tomorrow ?

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :8 یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے ، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے ۔ اس کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان ، اور یہ بے شمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا ، اور جو خود تم کو ایک دفعہ پیدا کر چکا ہے ، اس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری دوبارہ تخلیق سے وہ عاجز ہے ۔ سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :9 یعنی یہ انسان کوئی بڑی چیز تو نہیں ہے ۔ مٹی سے بنایا گیا ہے اور پھر اسی مٹی سے بنایا جا سکتا ہے ۔ لیس دار گارے سے انسان کی پیدائش کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اول کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی اور پھر آگے نسل انسانی اسی پہلے انسان کے نطفے سے وجود میں آئی ۔ اور یہ بھی ہے کہ ہر انسان لیس دار گارے سے بنا ہے ۔ اس لیے کہ انسان کا سارا مادہ وجود زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ جس نطفے سے وہ پیدا ہوا ہے وہ غذا ہی سے بنتا ہے ، اور استقرار حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی پوری ہستی جن اجزاء سے مرکب ہوتی ہے وہ سب بھی غذا ہی سے فراہم ہوتے ہیں ۔ یہ غذا خواہ حیوانی ہو یا نباتی ، آخر کار اس کا ماخذ وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ مل کر اس قابل ہوتی ہے کہ انسان کی خوراک کے لیے غلے اور ترکاریاں اور پھل نکالے ، اور ان حیوانات کو پرورش کرے جن کا دودھ اور گوشت انسان کھاتا ہے ۔ پس بنائے استدلال یہ ہے کہ یہ مٹی اگر حیات قبول کرنے کے لائق نہ تھی تو تم آج کیسے زندہ موجود ہو؟ اگر اس میں زندگی پیدا کیے جانے کا آج امکان ہے ، جیسا کہ تمہارا موجود ہونا خود اس کے امکان کو صریح طور پر ثابت کر رہا ہے ، تو کل دوبارہ اسی مٹی سے تمہاری پیدائش کیوں ممکن نہ ہو گی ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یعنی آسمان، زمین اور چاند ستاروں کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل ہے، جب اﷲ تعالیٰ ان مشکل مخلوقات کو عدم سے وجود میں لے آئے، تو گارے سے بنے ہوئے اِنسان کو ایک مرتبہ موت دے کر دوبارہ پیدا کردینا اُس کے لئے کیا مشکل ہے؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١۔ ٢٣ اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی ١ ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن ان کے باپ آدم کے پتلے کی مٹی اس طرح لی گئی ہے جس میں سب بنی آدم کے پتلوں کی مٹی کی خاصیت رکھی گئی ہے پھر جس صاحب قدرت نے اس طرح کی عقل سے باہر خاصیت کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دی اس کو ہر ایک مردہ کی مٹی سے پتلہ کا بنا دینا اور اس میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے۔ دنیا کے جنگل دریا ان لوگوں کے اختیار میں نہیں۔ اسی کو ہر ایک مردہ کی مٹی سے پتلہ کا بنا دینا اور اس میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے۔ دنیا کے جنگل دریا ان لوگوں کے اختیار میں نہیں۔ اسی سبب سے ان لوگوں کو مردہ کی رواں دواں مٹی کا جمع ہوجانا دشوار نظر آتا ہے اللہ کے اختیار و علم اور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا اور اس کے حکم کا تابع ہے اس لئے مردہ کی مٹی جہاں ہوگی۔ اس کے حکم سے فوراً جمع ہوجاوے گی۔ صحیح ٢ ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) اور ابو سعید (رض) خدری کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں۔ کہ ایک شخص نے اپنی لاش کے جلا دینے اور آدھی مٹی کو دریا میں بہا دینے اور آدھی کو ہوا میں اڑا دینے کی وصیت کی تھی۔ اس شخص کے مرجانے کے بعد وصیت کے موافق عمل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ سے اس شخص کی مٹی کے جمع ہونے کا حکم دیا۔ اور وہ مٹی جمع ہوئی۔ اور اس کا پتلہ بنایا گیا۔ اس حدیث سے مردہ کی رواں دواں مٹی کے جمع ہو جان کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ مٹی میں جب پانی ملایا جائے تو وہ چپکنے لگتی ہے۔ اسی واسطے آدمی (علیہ السلام) کے پتلہ کے گارے کو چپکتا ہوا گارا فرمایا۔ اب آگے فرمایا ان لوگوں کو حشر کا قائم ہونا تفصیل سے سمجھایا جاتا ہے۔ اور یہ لوگ نہیں مانتے ہیں۔ اس پر اے رسول اللہ کے تم کو ان لوگوں کے حال پر تعجب ہوتا ہے۔ لیکن تعجب کی کچھ بات نہیں ہے یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو بغیر سوچے سمجھے مسخرا پن کر کے اور معجزہ کو جادو بتلا کر ٹال دیتے ہیں۔ اس لئے ان کے دل پر قرآن کی نصیحت کا اور معجزہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ پھر فرمایا اپنی قدیمی عادت کے موافق یہ لوگ اپنے اور اپنے بڑوں کے دوبارہ زندہ ہوجانے کا انکار کریں تو ان سے فقط اتنا ہی کہہ دیا جائے کہ وہاں تم اور تمہارے بڑے حشر کے دن بڑی ذلت سے دوبارہ زندہ کئے جاؤگے۔ صحیح ١ ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس (رض) بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نافرمان لوگ جب قبروں سے اٹھیں گے تو فرشتے منہ کے بل گھسیٹ کر انہیں میدان محشر میں لے جاویں گے ان لوگوں کے ذلت سے دوبارہ زندہ ہونے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ پھر فرمایا کہ اب تو یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں مگر دوسرے صور کی آواز سنتے ہی دوبارہ زندہ ہو کر تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے گا۔ اور مل کر یہ کہنے لگیں گے کہ بڑی کمبختی یہ سزا و جزا کا دن تو آنکھوں کے سامنے آگیا۔ اللہ کے فرشتے اور اچھے لوگ ان نافرمانوں کو جواب دیویں گے کہ ہاں یہ وہی نیک و بد کے فیصلہ کا دن ہے۔ جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔ اس کے بعد حساب و کتاب ہو کر بت پرستوں سورج پر ستوں وغیرہ کی جماعتیں بنائی جا کر ان جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کے راستہ سے لگا دیا جاوے گا۔ حضرت عبد (رض) اللہ بن عباس کے صحیح قول کے موافق : احشر والدین ظلموا وازوجھم کی تیر۔ یہی ہے کہ ہر ایک قسم کے نافرمانوں کی الگ الگ جماعتیں بنائی جاویں گی۔ صحیح ٢ ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے۔ کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا۔ اور کون جنت میں داخل ہونے کے قابل۔ اس حدیث کی آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ علم الٰہی میں دوزخی ٹھہر چکے تھے وہ مرتے دم تک اییسی ہی باتیں کرتے رہے۔ جیسی باتوں کا ذکر آیتوں میں ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں جنت کے قابل قرار پا چکے تھے۔ وہ آخر کو اس کثرت سے راہ رست پر آئے کہ مکہ کے ہر ایک گھر میں اسلام پھیل گیا۔ (١ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة بقرہ ص ٤٠ ١ ج ٢) (٢ ؎ صحیح بخاری ص ٤٩٥ ج ١۔ و ص ١١١٨ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة فرقان ص ٧٠١ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ ص ٩٧٧ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:11) فاستفتہم۔ استفت۔ استفتاء (استفعال) سے فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ الاستفتاء کے معنی الاستخبار عن امر حدث۔ کسی نئے امر کے متعلق خبر دریافت کرنا۔ نوجوان کو فتی اس کی نئی نئی جوانی کے لحاظ سے کہتے ہیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔ خطاب یہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ تو ان سے پوچھ ۔ ف فصیحت کا ہے اور تعقیب کا بھی ہوسکتا ہے۔ اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ سخت۔ زیادہ مضبوط۔ زیادہ مشکل۔ خلقا۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ یعنی ازوجہ پیدائش۔ بطور پیدائش۔ ام من خلقنا۔ ام حرف عطف ہے بمعنی یا۔ من موصولہ ہے خلقنا اس کا صلہ یا وہ (دوسری مخلوق ) جس کو ہم نے پیدا کیا ہے از قسم ملائکہ۔ جن ۔ آسمان ، زمین ۔ وما بینہما۔ سورج۔ چاند ۔ ستارے۔ وغیرہ۔ انا خلقنہم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔ طین لازب۔ موصوف وصفت۔ طین پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاوقد لی یا ھامان علی الطین (28:38) اے ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگا کر (اینٹیں) پکادو۔ لازب اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی مقام پر شدت سے ثبت ہوجائے اور چمٹ جائے۔ لازب۔ لزب لزوب (باب کرم، نصر ضرب) سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ بمعنی چپکنے والا۔ لیسدار۔ لازم ، جم جانے والا۔ طین لازب۔ لیسدار گارا۔ چپکنی مٹی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اور ظاہر ہے کہ جو خدا اتنی عظیم الشان اور لا تعداد مخلوقات کو وجود میں لاسکتا ہے اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ زندگی بخشتا کچھ مشکل نہیں ہوسکتا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 11 تا 26 : استفت ( تو پوچھ) لازب ( چپکنے والا) یستخرون ( وہ ہنسی میں اڑا دیتے ہیں) تراب ( مٹی) عظام (عظم) (ہڈیاں) داخرون (ذلیل و خوار ہونے والے) زجرۃ ( للکار ، زبردست آواز) یویلنا (اے ہماری بد نصیبی) احشروا ( تم جمع کرو) ازواج ( زوج) (جوڑے ، ساتھی) وقفوا (انہیں ٹھہرائو ، روکو) مسئولون ( پوچھے گئے) لا تنا ضرون (تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرو گے) مستسلمون (سر جھکانے والے ، سپرد کردینے والے) تشریح : آیت نمبر 11 تا 26 :۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا تھا کہ لوگ ! تم سب کا معبود صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے ان سب کا مالک ہے۔ اس نے اتنے زبردست نظام کو اپنے دست قدرت سے بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ جب وہ چاہے گا اس نظام کائنات کو ختم کر کے ایک اور جہان تعمیر فرمادے گا جس میں ابتدائے کائنات سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے تمام لوگوں کو ان کے مر جانے کے بعد دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور میدان حشر میں ہر ایک سے اس کی زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب کتاب کیا جائے گا ۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کئے جانے کا ذکر کرتے تو منکرین نہ صرف اس کا انکار کرتے بلکہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے تمام اجزا مٹی میں مل جائیں گے اور ہمارے اور ہمارے باپ دادا کے جسم کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان تمام انسانی اجزاء کو جمع کر کے پھر سے ایک جیتا جاگتا انسان بنا دیاجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ذران ان سے یہ پوچھئے کہ جس ذات نے آسمان ، زمین ، چاند ، سورج ، ستاروں اور خود تمہیں وجود بخشا ہے کیا اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ وہ تم جیسی کمزور اور بہت چھوٹی سی مخلوق کو دوبارہ نہ پیدا کرسکے ؟ فرمایا کہ ہم نے انسان کو پہلی مرتبہ ایک چپکتی مٹی ( گارے) سے پیدا کیا ہے جس میں زمین کے تمام اجزاء شامل ہیں وہ اگر انسان کے مرنے کے بعد بکھر جائیں گے تو ان اجزاء کو جمع کر کے اور تربیت دے کر دوبارہ انسان کو پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ تو دین اسلام کی سچائیوں کو نہایت خلوص ، محبت ، لگن اور سادگی سے بیان کر کے اس تعجب میں ہیں کہ لوگ اتنی صاف اور آسان باتوں کو کیوں نہیں سمجھتے اور جب ان منکرین کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ سمجھنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ جب آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب تم سب پر موت کو طاری کر کے دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور بد عملوں کو میدان حشر میں ہر طرح کی ذلت و رسوائی سے واسطہ پڑے گا جس سے وہ بچ نہیں سکتے۔ فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا تو وہ ایک ہیبت ناک آواز ہوگی جس کی وجہ سے وہ گرتے پڑتے بھاگتے نظر آئیں گے اور وہ کہہ اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بد نصیبی یہ تو فیصلے کا دن آگیا ہے فرمایا جائے گا کہ ہاں یہ وہی فیصلے اور انصاف کا دن ہے جس سے ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ تمہیں آگاہ اور خبردار کیا تھا ۔ مگر تم اس کا زندگی بھر انکار کرتے رہے اور جھٹلاتے رہے۔ فرمایا جائے گا کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی میں لگے ہوئے تھے ان کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو آج جمع کر کے جہنم کی طرف دھکیل دو ۔ راستہ دکھا دو لیکن ذرا ٹھہرو پہلے ان سے یہ پوچھا جائے گا کہ آج تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو۔ تم تو دنیا میں ہر وقت ایک دوسرے کا ساتھ دیا کرتے تھے آج کیا ہوگیا ہے کہ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہو ۔ فرمایا کہ وہ اس کا جواب تو کیا دیں گے شرمندگی کے مارے اپنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔ آیات کے سلسلے میں چند وضاحتیں ٭انسان کو ایک چپکتی مٹی یعنی گارے سے پیدا کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسانی وجود میں تمام وہ ذرات موجود ہیں جو زمین پر پائے جاتے ہیں ۔ ان ہی اجزاء سے انسان کا وجود قائم کیا گیا ہے اللہ کی یہ قدرت ہے کہ وہ ان کے بکھرے ہوئے اجزاء کو جمع کر کے پھر سے انسان کو وہی شکل و صورت دے گا جو اس کی شکل و صورت دنیا میں تھی ۔ ٭پہلے صور پھونکا جائے گا تو ساری دنیا ، اس میں بسنے والی مخلوق اور چیزیں سب کی سب ختم ہوجائیں گی لیکن جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو جو جہاں پر دب کر ختم ہوچکا ہوگا اور ان کی قبریں بن چکی ہوں گی وہ ان سے اٹھ کر پروردگار کی طرف دوڑتا چلا جائے گا ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب آپ کے ذریعہ کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ کفار اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگو ! یہ معجزہ نہیں ہے بلکہ کھلا ہوا جادو ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معجزات عطاء کئے گئے تھے جس کی تفصیلات سے احادیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن دوسری طرف قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب بھی کفار نے کسی معجزے کا مطالبہ کیا ہے تو فرما دیا گیا کہ اگر معجزہ دکھا بھی دیا جائے تو کیا معجزہ کا مطالبہ کرنے والے ایمان لے آئیں گے ؟ ان آیات کو سامنے رکھ کر کچھ نادانوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سرے سے کوئی معجزہ دیا ہی نہیں گیا بلکہ قرآن کریم کو ایک معجزہ بنا کر عطاء کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سیکڑوں معجزات عطاء کئے گئے ہیں جن کو دیکھنے والے ایک دو نہیں ہزاروں صحابہ کرام (رض) ہیں جنہوں نے معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور نقل کیا ہے بلا شبہ قرآن کریم سب سے بڑا معجزہ ہے جس کے سامنے ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہنے والے خود ہی گونگے ہو کر رہ گئے تھے۔ فرق یہ ہے کہ اللہ کا ایک قانون ہے کہ اگر کوئی قوم کسی معجزہ کا مطالبہ کرتی ہے اور پھر اس معجزہ کو دیکھ کر اس پر ایمان نہ لائے تو اس قوم پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے۔ بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی نافرمان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ اللہ کو معلوم تھا کہ جس کو ایمان لانا ہے اس کو کسی معجزہ کی ضرورت نہیں اور جو معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں چونکہ آپ کی امت آخری امت ہے اس لئے اللہ نے کفار کے مطالبہ پر کوئی معجزہ نہیں دکھایا کیونکہ اگر وہ اس معجزے کو دیکھتے اور اس پر ایمان نہ لاتے تو ان کو تباہ کردیا جاتا اور یہ اللہ کی مصلحت کے خلاف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکڑوں معجزات ظاہر ہوئے ہیں مگر کفار کے مطالبے پر کوئی معجزہ نہیں دکھایا گیا تا کہ یہ آخری امت محفوظ رہے۔ ٭انسان جن چیزوں کو اپنا معبود بنا لیتا ہے دنیا کی حد تک تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کے سارے کام ان بےجان اور جھوٹے معبودوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں اور ایسے ہم مزاج لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مدد گار بھی بن جاتے ہیں ۔ لیکن جب یہ قیامت کے دن میدان حشر میں پہنچیں گے تب ساری حقیقت کھل جائے گی کہ وہ زندگی پھر جن سہاروں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ غلط تھے اور اس طرح اپنے کئے پر وہ میدان حشر میں ذلت و رسوائی سے دو چار ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ واقع میں یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ 7۔ غرض جب مخلوقات قویہ صلبہ کے ابتداء خلق پر ہم قادر ہیں تو مخلوق ضعیف کے اعادہ پر قدرت کیوں نہ ہوگی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔ اے انسان ذرا سوچ کہ تجھے صرف چپکنے والے گارے سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسانوں کی ابتدا آدم (علیہ السلام) سے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ ستاروں کا ذکر فرما کر بات مزید کھول دی ہے کہ جو رب لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں بڑے بڑے ستارے پیدا کرتا اور انہیں شہاب ثاقب کی صورت میں گراتا اور ختم کرتا رہتا ہے کیا اسے انسان جیسی ناچیز شے کو پیدا کرنا مشکل ہے ؟۔ ” کیا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ! لوگوں کے دوبارہ پیدا کرنے سے بڑا کام نہیں ہے ؟ ظاہر ہے کہ انسان کو پیدا کرنا زمین و آسمانوں، ستاروں اور سیّاروں سے پیدا کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن بہت سے لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے۔ “ (المومن : ٥٧) یاد رہے کہ ہر روز لاکھوں کی تعداد میں ستارے معرض وجود میں آتے ہیں اور مٹتے رہتے ہیں۔ جنہیں فلکیات کا علم رکھنے والے سائنسدان بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کافر اس حقیقت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب انہیں بعث بعد الموت کے دلائل دیئے جاتے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادو گر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کیا ہم مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو پھر زندہ کیا جائے گا۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں بتادیں کہ ہاں صرف زندہ ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں ذلیل کرکے اٹھایا جائے گا۔ مسائل ١۔ زمین و آسمانوں کی تخلیق سے کہیں بڑھ کر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آسان ہے۔ ٢۔ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں انہیں ذلیل کرکے اٹھایا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن دوبارہ زندہ ہونے کے عقلی اور مشاہدتی دلائل : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٧٣) ٢۔ عزیر (علیہ السلام) کو سو سال کے بعد زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٥٩) ٣۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٦٠) ٤۔ اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : ٢٥) ٥۔ عیسیٰ نے اللہ کے حکم سے مردہ زندہ کیا : (المائدۃ : ١١٠) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : ٢٤٣) ٧۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : ٥١) ٨۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : ٥٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاستفتھم اھم ۔۔۔۔۔ اباؤنا الاولون (11 – 17) ذرا ان سے پوچھو کہ تم مانتے ہو کہ ملائکہ ، سماوات ، زمین ، ان کے درمیان فضائیں ، شیاطین ، ستارے اور شہاب ثاقب سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ تو کیا تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا اللہ کے ان جہانوں کی تخلیق ؟ اس سوال کے بعد ان کے جواب کا انتظار ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ جواب تو ظاہر ہے ۔ یہ سوال تو محض سرزنش کے لیے کیا گیا ہے اور ان کی غباوت پر تعجب کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے۔ اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ لوگ حددرجہ غافل اور حیران کن حد تک نافہم نہیں۔ چناچہ ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی جاتی ہے کہ آغاز میں تمہیں ایک لیس دار گارے سے بنایا گیا ہے۔ اور یہ گارا اسی زمین سے لیا گیا ہے۔ جو خلائق میں سے ایک ہے۔ انا خلقنھم من طین لازب (37: 11) ” ہم نے انہیں لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا یہ لوگ پیدائش کے اعتبار سے کوئی زیادہ دشوار نہیں ہیں اور نہ ان کی تخلیق مشکل ہے۔ لہٰذا ان کا موقف عجیب ہے کہ اپنی حماقتوں کو نہیں سمجھتے۔ الٹا اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ ان کو بعث بعد الموت کی جواب دہی سے ڈرایا جاتا ہے اور یہ اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ ان کی یہی حماقت ہے جس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعجب ہوتا ہے اور یہ لوگ ہیں کہ اپنی روش پر چل رہے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

معجزات کا استہزاء کرنے والوں اور وقوع قیامت کے منکرین کی تردید اور ان کے لیے وعید شدید ان آیات میں اثبات توحید بھی ہے اور اثبات معاد بھی ہے اور منکرین کے استعجاب کی تردید بھی۔ اول تو یہ فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ یہ لوگ یعنی منکرین بعث بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا دوسری چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ان کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، ظاہر ہے کہ وہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ جب انسان یہ جانتا ہے کہ مجھ سے زیادہ مضبوط اور سخت چیزیں موجود ہیں تو پھر دوبارہ اپنے پیدا کیے جانے کا کیسے انکار کرتا ہے ؟ (اِِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لاَّزِبٍ ) (بےشک ہم نے انہیں چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے) جو چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس میں نہ کچھ قوت ہے نہ صلابت ہے اس کو خود غور کرنا چاہیے کہ جب اتنی بڑی بڑی سخت مخلوق کو رب العالمین جل مجدہٗ نے پیدا فرمایا تو مجھ جیسے ضعیف کو پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے، مجھے پہلے بھی اسی نے پیدا کیا ہے اور موت کے بعد دوبارہ بھی وہی پیدا فرمائے گا۔ (قال صاحب الروح : احتجاج علیھم فی امر البعث بان الطین اللازب الذی خلقوا منہ فی ضمن خلق ابیھم ادم (علیہ السلام) تراب فمن این استنکزوا ان یخلقوا منہ مرۃ ثانیۃ) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بعث بعد الموت کے مسئلہ پر مشرکین کے خلاف دلیل ہے اس طرح کہ چپکتی مٹی جس سے وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے واسطہ سے پیدا کیے گئے وہ مٹی ہی ہے لہٰذا اب اگر وہ دوبارہ مٹی سے اٹھائے جائیں تو اس پر نکیر کی ان کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ فاستفتہم الخ :۔ یہ مشرکین کے لیے زجر ہے جو توحید کے ساتھ ساتھ حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے۔ فرمایا ان سے پوچھو تو کہ ان کی پیدائش مشکل ہے یا ان کے علاوہ دوسری مخلوقات کی۔ مثلاً فرشتے، آسمان، زمین، ستارے وغیرہ۔ انا خلقنہم من طین لازب۔ ان کو تو ہم چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے اور ان کی پیدائش فرشتوں اور زمین و آسمان کی پیدائش کے مقابلے میں بہت معمولی بات ہے تو جو ذات پاک ایسی اہم اور غیر معمولی مخلوقات کو پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ ومن قدر علی خلق ھذہ الاشیاء قدر علی خلق مالا یعتد بہ بالاضافۃ الیہا (بیضاوی) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) اے پیغمبراب آپ ان کافروں سے دریافت کیجئے کہ ازروائے پیدائش ان لوگوں کا پیدا کرنا زیادہ سخت ہے یا ان مذکورہ چیزوں کا جن کو ہم نے پیدا کیا ہے بلاشبہ ہم نے ان کو ایک چپکتے گارے سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کا اور تاروں کا اور سورج اور ملا اعلیٰ کے فرشتوں کا پیدا کرنا زیادہ سخت یا بنی نوع انسان کا پیدا کرنا کچھ سخت کام ہے جن کو ہم نے ایک چپکتی ہوئی مٹی اور گارے سے پیدا کیا ہے جن میں کوئی صلابت نہیں حالانکہ دوسری مخلوق زیادہ صلابت ہے جس ہم نے ان کو بنایا اور پیدا کیا ہے تو ان کا بنا لینا ہم کو کیا دشوار ہے جو ذات اقدس ایک بڑی سے بڑی مخلوق پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے اس کو ایک ضعیف الخلقت مٹی کے کھلونے کو دوبارا بنا لینا کیا مشکل ہے۔