Commentary After having proved the belief in the Oneness of Allah, described in the present eight verses is the belief in the &Akhirah or Hereafter along with an answer to doubts entertained by disbelievers about it. First of all, a rational proof has been given in support of the possibility of human resurrection in the very initial verse cited above. In gist, it refers to the huge heavenly bodies of the universe mentioned in previous verses, and points out to the obvious weakness of human beings as compared to them. Now when disbelievers do recognize that such great objects of creation as angels, Moon, stars, Sun and the meteors, were created by Allah Ta’ ala through His infinite power, how could it become difficult for Him to make a weak creation like human beings die and then come alive once again? It is being said that the way they were fashioned in the beginning with sticky clay followed by a blowing of spirit in them, similarly, when they will have died and become dust, even then, Allah Ta’ ala will give them life once again. As for the statement: (Certainly, We did create them from sticky clay - 37:11), either it means that their forefather, Sayyidna Adam (علیہ السلام) was created with clay, or it is also possible that it means every human being. Therefore, if seen with a little deliberation, water-based clay is the essence of every human being cyclically. Human creation is from sperm, sperm from blood and blood from food. The essence of food, no matter in which form, is vegetation and vegetation comes from the combination of clay and water. Anyway, the first verse (11) provides a rational proof of the belief in the &Akhirah or Hereafter. This has been posed in the form of a question beamed right at them: Who is more difficult in the process of creation? You? Or, are the many objects of creation We have mentioned more difficult to create? Therefore, no elaborate explanation was considered necessary. It was deemed sufficient to allude to it through a hint by saying - &Certainly, We did create them with sticky clay.& After that, in the five verses that follow it, described there is the reaction the disbelievers show on hearing the proofs in support of the Hereafter. The proofs of the belief in the Hereafter presented before disbelievers were of two kinds: (1) Rational proofs as given in the first verse. (2) Reported proofs, that is, they were shown miracles in support of the veracity of the mission of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as prophet and messenger of Allah asserting that he was, as such, from Allah and a prophet of Allah can never lie. He receives the authority of what he says from the heavens. And when he is telling us that the last day of Qiyamah will come, there will be a Resurrection and human beings will account for their deeds, then, this information given by him is definitely true, and it must be accepted as true.
خلاصہ تفسیر (جب دلائل توحید سے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ان عظیم الشان مخلوقات میں ایسے ایسے عظیم تصرفات پر قادر ہیں اور یہ ساری عظیم مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں) تو آپ ان (آخرت کا انکار کرنے والوں) سے پوچھئے کہ یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا ہماری پیدا کی ہوئی یہ چیزیں (جن کا ابھی ذکر ہوا ؟ حقیقت یہی ہے کہ یہی چیزیں زیادہ سخت ہیں، کیونکہ) ہم نے ان لوگوں کو (تو آدم کی تخلیق کے وقت اسی معمولی، چکنی مٹی سے پیدا کیا ہے، (جس میں نہ کچھ قوت ہے نہ سختی اور انسان جو اس سے بنا ہے وہ بھی زیادہ قوی اور سخت نہیں ہے اب سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم ایسی قوی اور سخت مخلوقات کو عدم سے وجود میں لانے پر قادر ہیں تو انسان جیسی ضعیف مخلوق کو ایک بار موت دے کر دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قدرت نہ ہوگی ؟ مگر ایسی واضح دلیل کے باوجود یہ لوگ آخرت کے امکان کے قائل نہیں ہوئے) بلکہ (اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ) آپ تو (ان کے انکار سے) تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ (انکار سے بڑھ کر آخرت کے عقیدے سے) تمسخر کرتے ہیں اور جب ان کو (دلائل عقلیہ سے) سمجھایا جاتا ہے تو یہ سمجھتے نہیں اور جب یہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں (جو آپ کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ان کو دکھایا جاتا ہے جس سے عقیدہ آخرت ثابت کیا جائے) تو (خود) اس کی ہنسی اڑاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ (کیونکہ اگر یہ معجزہ ہو تو اس سے آپ کی نبوت ثابت ہوجائے گی اور آپ کو نبی ماننے کے بعد آپ کا بیان کردہ عقیدہ آخرت بھی ماننا پڑے گا، حالانکہ ہم آخرت کا عقیدہ نہیں مان سکتے، کیونکہ) بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے، تو کیا ہم (پھر) زندہ کئے جائیں گے، اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ ہوں گے) آپ کہہ دیجئے کہ ہاں (ضرور زندہ ہوں گے) اور تم ذلیل بھی ہوگے۔ معارف ومسائل عقیدہ توحید کو ثابت کرنے کے بعد ان آٹھ آیتوں میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے، اور اسی سے متعلق مشرکین کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ سب سے پہلی آیت میں انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان پر عقلی دلیل پیش کی گئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کے جن عظیم اجسام کا ذکر پچھلی آیتوں میں کیا گیا ہے، انسان تو ان کے مقابلہ میں بہت کمزور مخلوق ہے جب تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے، چاند، ستارے، سورج اور شہاب ثاقب جیسی مخلوقات اپنی قدرت سے پیدا فرمائی ہیں، تو اس کے لئے انسان جیسی کمزور مخلوق کو موت دے کر دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے ؟ جس طرح تمہیں ابتداء میں چپکتی ہوئی مٹی سے بنا کر تم میں روح پھونک دی تھی، اسی طرح جب تم مر کر دوبارہ خاک ہوجاؤ گے اس وقت پھر اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی عطا کر دے گا۔ اور یہ جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” ہم نے انہیں چپکتی مٹی سے پیدا کیا “ اس سے مطلب یا تو یہ ہے کہ ان کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ہر انسان ہو۔ اس لئے اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر انسان کی اصل پانی ملی ہوئی مٹی ہوتی ہے، وہ اس طرح کہ انسان نطفہ سے پیدا ہوتا ہے، نطفہ خون سے بنتا ہے، خون غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا خواہ کسی شکل میں ہو اس کی اصل نباتات ہیں اور نباتات مٹی اور پانی سے پیدا ہوتے ہیں۔ بہر صورت پہلی آیت عقیدہ آخرت کی عقلی دلیل پر مشتمل ہے، اور اسے خود انہی سے یہ سوال کر کے شروع کیا گیا ہے کہ تم زیادہ سخت مخلوق ہو یا جن مخلوقات کا ذکر ہم نے کیا ہے، وہ زیادہ سخت ہیں ؟ جواب ظاہر تھا کہ وہی مخلوقات زیادہ سخت ہیں، اس لئے اس کی تصریح کرنے کی بجائے اس کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کردیا گیا ہے کہ ” ہم نے تو انہیں چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے “ اس کے بعد کی پانچ آیتوں میں اس ردعمل کا بیان کیا گیا ہے جو آخرت کے دلائل سن کر مشرکین ظاہر کرتے ہیں۔ مشرکین کے سامنے عقیدہ آخرت کے جو دلائل بیان کئے جاتے تھے وہ دو قسم کے تھے۔ ایک تو عقلی دلائل، جیسے پہلی آیت میں بیان کیا گیا، دوسرے نقلی دلائل یعنی ان کو معجزے دکھا کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کا بیان کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ آپ اللہ کے نبی ہیں، نبی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا، اس کے پاس آسمانی خبریں آتی ہیں، جب آپ یہ خبر دے رہے ہیں کہ قیامت آئے گی، حشر ونشر و گا، انسانوں سے حساب و کتاب لیا جائے گا تو یہ خبر یقینا سچی ہے، اسے مان لینا چاہئے جہاں تک عقلی دلائل پر مشرکین کے ردعمل کا تعلق ہے، اس کے بارے میں ارشاد ہے :