Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 115

سورة الصافات

وَ نَجَّیۡنٰہُمَا وَ قَوۡمَہُمَا مِنَ الۡکَرۡبِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۱۵﴾ۚ

And We saved them and their people from the great affliction,

اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دےدی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَنَصَرْنَاهُمْ فَكَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

115۔ 1 یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم وستم سے نجات۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَنَجَّيْنٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ : بہت بڑی مصیبت سے مراد فرعون کی غلامی، لڑکوں کا قتل اور عورتوں کا باقی رکھنا ہے۔ علاوہ ازیں سمندر میں غرق ہونے سے نجات بھی کرب عظیم سے نجات ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَنَجَّيْنٰہُمَا وَقَوْمَہُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ۝ ١١٥ۚ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] كرب الكَرْبُ : الغمّ الشّديد . قال تعالی: فَنَجَّيْناهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ [ الأنبیاء/ 76] . والکُرْبَةُ کا لغمّة، وأصل ذلک من : كَرْبِ الأرض، وهو قَلْبُها بالحفر، فالغمّ يثير النّفس إثارة ذلك، وقیل في مَثَلٍ : الكِرَابُ علی البقر «1» ، ولیس ذلک من قولهم : ( الکلاب علی البقر) في شيء . ويصحّ أن يكون الكَرْبُ من : كَرَبَتِ الشمس : إذا دنت للمغیب . وقولهم : إناء كَرْبَانُ ، أي : قریب . نحو : قَرْبانَ ، أي : قریب من الملء، أو من الكَرَبِ ، وهو عقد غلیظ في رشا الدّلو، وقد يوصف الغمّ بأنه عقدة علی القلب، يقال : أَكْرَبْتُ الدّلوَ.( ک ر ب ) الکرب ۔ کے ہم معنی سخت غم کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَنَجَّيْناهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ [ الأنبیاء/ 76] تو ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی ۔ اور کر بۃ عمۃ کی طرح ہے یہ اصل میں کرب الارض سے مشتق ہے جس کے معنی زمین میں قلبہ رانی کے ہیں ۔ اور غم سے بھی چونکہ طبیعت الٹ پلٹ جاتی ہے ۔ اس لئے اسے کرب کہاجاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ الکراب علی البقر یعنی ہر آدمی کو اس کا کام کرنے دو اور یہ الکلاب علی ا لبقر کے قبیل سے نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کر اب ( سخت غم ) کر بت الشمس سے ماخوذ ہو ۔ جس کے معنی ہیں سورج غروب ہونا کے قریب ہوگیا ۔ اور اناء کر بان میں کر بان بمعنی قربان ہے ۔ یعنی تقریبا بھرا ہوا برتن اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کرب ( غم ) الکرب سے مشتق ہو جس کے معنی سخت گرہ کے ہیں جو ڈول کے ساتھ رسی میں لگی رہتی ہے ۔ اور تم بھی دل پ ربمنزلہ گرہ کے بیٹھ جاتا ہے ۔ اس لئے اسے کرب کہاجاتا ہو ۔ اکربت الدلول ڈول کے دستہ میں چھوٹی سی رسی باندھنا ۔ عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنو ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٥{ وَنَجَّیْنٰہُمَا وَقَوْمَہُمَا مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ } ” اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک کرب عظیم سے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

69 "A great distress": the distress in which they were involved at the hands of Pharaoh and his people

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :69 یعنی اس شدید مصیبت سے جس میں وہ فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:115) من الکرب العظیم۔ موصوف وصفت بہت بڑی مصیبت ، بہت سخت تکلیف۔ عظیم غم۔ کرب عظیم سے وہ تکلیفیں اور ایذائیں مراد ہیں جو فرعون ان کو دیا کرتا تھا۔ بعض کے نزدیک غرق ہونے سے محفوظ رکھنا مراد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 مراد ہے غلامی کی وہ حالت جس میں وہ فرعون اور اسکی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ وہ غم ان کو تکلیف پہنچنا تھا فرعون کی جانب سے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

52:۔ و نجنہما الخ : یہ اور اس کا مابعد عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے کیونکہ ان آیتوں میں خاص انعامات کا ذکر ہے۔ یہ ایک دنیوی انعام تھا کہ اللہ نے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کے مظالم سے نجات دی۔ و نصرنھم الخ، یہ بھی اللہ کا ایک انعام ہے۔ ہم نے ان کی مدد کی اور قوم فرعون پر ان کو غلبہ عطا فرمایا۔ واتینہما الکتاب المستبین الخ، یہ دینی انعمات کا ذکر ہے۔ ہم نے ان کو ایک واضح اور مفصل کتاب (تورات) عطا فرمائی۔ اور اس کتاب کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔ وترکنا علیہما الخ۔ تا۔ من عبادنا المومنین۔ اس کی تفسیر گذر چکی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(115) منجملہ ان احسانات کے یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت اور بڑے غم سے نجات دی یعنی فرعون کو ایذاء رسانی اور اس کی غلامی سے نجات دی یا غرق ہوجانے کا اندیشہ تھا جب سمندر اور فرعون کی فوجوں کے مابین گھر گئے تھے اس وقت غرق سے بچالیا۔